شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8706
8706 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن مكرم القاضي ببغداد نا الحسن بن علي بن شبيب قال : سمعت أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت سفيان بن عيينة يقول : شكا إبراهيم عليه السلام إلى ربه ما يلقى من رداءة خلق سارة فأوحى الله أليه يا إبراهيم البسها على ما كان فيها ما لم تجد عليها حرمة في دينها
ہمیں خبر دی ابوعلی روذ باری نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن مکرم قاضی نے بغداد میں ان کو حسن بن علی بن شبیب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا احمد بن ابوالحواری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان بن عیینہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کی بارگاہ میں شکایت کی بی بی سارہ کے ردی اخلاق کی اللہ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ اے ابراہیم پردہ پوشی کرنا اس حالت و عادت پر جو اس میں ہے جب تک تو اس کے دین کے معاملے میں کسی حرام کام کو نہ پائے ۔
سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن مكرم القاضي ببغداد ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ
Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8706
