Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأنبياء والتاريخ

Prophets & History

4507 hadiths

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8706

8706 - أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر محمد بن أحمد بن مكرم القاضي ببغداد نا الحسن بن علي بن شبيب قال : سمعت أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت سفيان بن عيينة يقول : شكا إبراهيم عليه السلام إلى ربه ما يلقى من رداءة خلق سارة فأوحى الله أليه يا إبراهيم البسها على ما كان فيها ما لم تجد عليها حرمة في دينها

ہمیں خبر دی ابوعلی روذ باری نے ان کو ابو بکر محمد بن احمد بن مکرم قاضی نے بغداد میں ان کو حسن بن علی بن شبیب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا احمد بن ابوالحواری سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان بن عیینہ سے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کی بارگاہ میں شکایت کی بی بی سارہ کے ردی اخلاق کی اللہ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ اے ابراہیم پردہ پوشی کرنا اس حالت و عادت پر جو اس میں ہے جب تک تو اس کے دین کے معاملے میں کسی حرام کام کو نہ پائے ۔

سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← اَحْمَدُ بْنُ اَبِی الْحَوَارِیِّ ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ، ← أبو بكر محمد بن أحمد بن مكرم القاضي ببغداد ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8706

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7476

7476 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا موسى بن إسماعيل بن إسحاق القاضي نا محمد بن أحمد بن البراء نا عبد المنعم بن إدريس نا عبد الصمد بن معقل عن وهب بن منبه عن ابن عباس قال : قال موسى عليه السلام يا رب أمهلت فرعون أربع مائة سنة و هو يقول أنا ربكم الأعلى و يكذب بآياتك و يجحد رسلك فأوحى الله عز و جل إليه إنه كان حسن الخلق سهل الحجاب فأحببت أن أكافئه

ہمیں خبردی ابوعبداللہ حافظ نے ان کوموسیٰ بن اسماعیل بن اسحٰق قاضی نے ان کومحمد بن احمد بن براء نے انکو عبد المنعم بن ادریس نے ان کو عبد الصمد بن معقل نے ان کو وہب بن منبہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ موسی ٰعلیہ السلام نے کہا اے میرے رب آپ نے فرعون کو چار سو سال مہلت دیئے رکھی حالانکہ وہ یہ کہتار ہا۔ انا ربکم الاعلی ٰ میں ہی تمہارا سب سے بلند اور عمد ہ رب ہوں ۔ اور وہ تیری آیات کی تکذیب کرتا رہا اور تیرے رسولوں کا انکار کرتا رہا۔ اللہ عز وجل نے موسی ٰعلیہ السلام کی طرف وحی کی فرعون کے اخلاق اچھے تھے سہل الحجاب تھا کہ سب ان کو آسانی سے مل سکتے تھے اس لئے میں نے یہ پسند کیا تھا کہ میں اس کو اس بات کا بدلہ دے دوں ۔

موسى يا رب أمهلت فرعون أربع مائة سنة و هو ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ، ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7476

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما ورد من التشديد في الظلم · حديث 7480

7480 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا دعلج بن أحمد نا محمد بن يونس نا عبد الله بن داود نا الأعمش عن مجاهد قال : مر نوح عليه السلام بالأسد فضربه برجله فخمشه الأسد فبات ساهرا فشكا نوح ذلك إلى الله عز و جل فأوحى الله إليه أني لا أحب الظلم

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو دعلج بن احمد نے ان کو محمد بن یونس نے ان کو عبد اللہ بن داؤد نے ان کو اعمش نے ان کو مجاہد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ السلام ایک شیر کے پاس سے گذرے اور اس کو اپنے پیر سے ٹھوکر ماری جس کے نتیجے میں شیر نے ان کی ناک کی ہڈی توڑی انہوں نے رات بھر بے آرامی سے جاگ کر گزاری پھر نوح علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں شکایت کی تو اللہ تعالی ٰنے ان کی طرف وحی بھیجی کہ بے شک میں ظلم کو پسند نہیں کرتا۔

مُجَاهِدٍ ← الْاَعْمَشِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُونُسَ ← دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the stated emphasis on injustice · Hadith 7480

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية السلام و كيفية الرد · حديث 8869

8869 - روينا في الحديث الثابت عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم في خلق آدم عليه السلام قال فلما خلقه قال اذهب فسلم على أولئك النفر و هم نفر من الملائكة جلوس فاستمع ما يحيونك فإنها تحيتك و تحية ذريتك قال : فذهب فقال السلام عليكم فقالوا و عليك السلام و رحمة الله قال : فزاده و رحمة الله أخبرناه أبو الحسين بن بشران قال : أنا إسماعيل بن محمد الصفار قال : نا أحمد بن منصور قال : عبد الرزاق قال : أنا معمر عن همام بن منبه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم فذكره و الحديث مخرج في الصحيحين و هو مذكور بتمامه في كتاب الأسماء و الصفات

ہم نے روایت کی ہے حدیث ثابت میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بارے میں ۔ کہتے ہیں کہ اللہ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا کیا تو فرمایا کہ جائیے اور سلام کیجئے اس جماعت کووہ فرشتوں کی جماعت تھی جو کہ بیٹھے ہوئے تھے ۔ اور آپ سنیئے کہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں بے شک وہ تیرا سلام ہے اور تیری اولاد کا سلام ہے ۔ کہتے ہیں کہ حضرت آدم گئے اور جا کر کہا السلام علیکم انہوں نے جواب دیا وعلیک السلام ورحمۃ اللہ لہذا اس نے بھی اس میں ورحمۃ اللہ کا اضافہ کر لیا۔ ہمیں اس کی خبر دی ابوالحسین بن بشران نے وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ہے اسماعیل بن صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے وہ کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی ہے ہمام بن منبہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس انہوں نے اس کا ذکر کیا۔ اور حدیث منقول ہے بخاری مسلم میں اور وہ مکمل طور پر جو مروی ہے وہ کتاب الاسماء والصفات میں ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← رُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › A chapter on how to peace and how to respond · Hadith 8869

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10458

10458 - و أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا الحسين بن صفوان ثنا عبد الله بن أبي الدنيا ثنا إسحاق بن إبراهيم أنا أبو داود الحفري عن سفيان بن سعيد قال : كان عيسى عليه السلام يقول : حب الدنيا أصل كل خطيئة و المال فيه داء كبير قالوا و ما داؤه قال : لا يسلم من الفخر و لا الخيلاء قالوا فإن سلم يشغله إصلاحه عن ذكر الله عز و جل

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو حسین بن صفوان نے ان کو عبد اللہ بن الدنیا نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو ابوداؤد خضری نے ان کو سفیان بن سعید نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے تھے۔ دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے۔ اور مال جو ہے اس میں بڑی بیماری ہے لوگوں نے پوچھا کہ مال کی بیماری کیا ہے فرمایا ہے کہ فخر کرنے اور اترانے سے سلامتی نہیں نہیں رہ سکتا لوگوں نے پوچھا کہ اگرسلامتی سے رہ جائے تو ؟ فرمایا کہ پھر اس کو درست کرنا اس شخص کو ذکر اللہ سے غافل کر دیتا ہے۔

الله عز و جل ← فإن سلم يشغله إصلاحه ← لا يسلم من الفخر و لا الخيلاء ← و ما داؤه ← حب الدنيا أصل كل خطيئة و المال فيه داء كبير ← كان عيسى ← سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ← أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10458

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10527

10527 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا إسماعيل بن إسحاق أبو بكر السراج ثنا الحسن بن حماد سجادة ثنا عمرو بن هاشم عن جويبر و أخبرنا أبو يعلى حمزة بن عبد العزيز بن محمد الصيدلاني ثنا محمد بن حيان بن حمدويه أبو بكر الجبائي ثنا محمد بن منده ثنا سهل بن عثمان العسكري ثنا أبو مالك الجنبي عن جويبر عن الضحاك عن ابن عباس : عن النبي صلى الله عليه و سلم أن الله تبارك و تعالى ناجى موسى عليه السلام فكان فيما ناجاه أن قال : يا موسى لم يتصنع المتصنعون بمثل الزهد في الدنيا و لم يتقرب المتقربون بمثل الورع عما حرمت عليهم و لم يتعبد المتعبدون بمثل البكاء من خشيتي فقال موسى عليه السلام : يا رب و يا إله البرية كلها و يا مالك يوم الدين و يا ذا الجلال و الإكرام ماذا أعددت لهم و ماذا جزيتهم قال : أما الزاهدون في الدنيا فإني امنحهم جنتي يتبوأون منها حيث شاءوا و أما الورعون عما حرمت عليهم فإذا كان يوم القيامة لم يبق عبد إلا ناقشته الحساب و فتشت عما في يديه إلا الورعون فإني استحييهم و أجلهم و أكرمهم و أدخلهم الجنة بغير حساب و أما الباكون من خشيتي فأولئك لهم الرفيق الأعلى لا يشاركهم فيه أحد لفظ حديث ابن عبدان

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو اسماعیل بن اسحاق ابو بکر سراج نے ان کو حسن بن حماد سجادہ نے ان کو عمرو بن ہاشم نے جو یبر سے۔ اور ہمیں خبر دی ابو یعلی حمزہ بن عبد العزیز بن محمد صید لانی نے ان کو محمد بن حیان حمدویہ نے ان کو ابو بکر جبائی نے ان کو محمد بن مندہ نے ان کو سہل بن عثمان عسکری نے ان کو ابو مالک جنبی نے جو یبر سے اس نے ضحاک سے اس نے ابن عباس سے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے سرگوشی کی اس سر گوشی میں یہ تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے موسیٰ تصنع اور بناوٹ کرنے والوں نے دنیا میں زہد جیسی کوئی تصنع اور بناوٹ نہیں کیا۔ اللہ کا قرب ڈھونڈھنے والوں نے ورع و پر ہیزگاری جیسا تقرب حاصل نہیں کیا ان چیزوں سے پر ہیز جوان پر حرام ہیں ۔ اور عابدوں نے میرے خوف سے رونے جیسی کوئی عبادت نہیں کی تو موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی اے میرے رب اسے ساری مخلوق کےمعبود و مشکل کشا اور اے روز جزا کے مالک اجلال و بزرگی والے آپ نے ان کے لئے کیا کیا تیار کر رکھا ہے اور آپ نے ان کو کیا جزا دی ہے۔ بہر حال زاہد لوگ جو دنیا میں ہیں، میں نے ان کو اپنی جنت عطیہ کی ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس میں جگہ پکڑیں گے جہاں سے چاہیں گے ۔ بہر حال پر ہیز گار جوان امور سے پر ہیز کریں جو ان پر حرام ہے۔ تو جب قیامت کا دن ہوگا کوئی بندہ باقی نہیں رہے گا مگر میں اس سے مناقشہ کروں گا حساب لوں گا اور ان کے ہاتھ میں جو کچھ ہے اس کی تفتیش کروں گا مگر پرہیز گاروں سے نہیں کروں گا میں شرم و حیا کرتا ہوں۔ اور ان کو مہات دیتا ہوں اور ان کو عزت دوں گا اور ان کو جنت میں داخل کروں گا۔ بہر حال جو لوگ میرے خوف سے رونے والے ہیں وہی لوگ ہیں جن کے لئے رفیق اعلیٰ ہے ان کے ساتھ اس مقام میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہوگا۔ ابن عبدان کی حدیث کے الفاظ ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الضَّحَّاكُ، ← جُوَيْبِرٍ ← أَبُو مَالِكٍ الْجَنْبِيُّ ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَسْكَرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْدَهْ، ← محمد بن حيان بن حمدويه أبو بكر الجبائي ← أبو يعلى حمزة بن عبد العزيز بن محمد الصيدلاني ← جويبر و ← عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ ← الْحَسَنُ بْنُ حَمَّادٍ سَجَّادَةُ، ← إسماعيل بن إسحاق أبو بكر السراج ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَانَ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10527

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10748

10748 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله الصفار أنا أبو بكر بن أبي الدنيا نا إسحاق بن إبراهيم نا يحيى بن اليمان عن شعيب بن إسحاق قال : قيل لعيسى عليه السلام : لو اتخذت بيتا قال : يكيفينا خلقان من كان قبلنا

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبد اللہ صفار نے ان کو ابو بکر بن ابوالد نیا نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کویحییٰ بن یمان نے ان کو شعیب بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام سے کہا گیا اگر آپ اپنے لئے کوئی گھر بنا لیں تو بہتر ہوگا۔ انہوں نے فرمایا ہم سے پہلے جو لوگ گذرے ہیں ان کے پرانے ہمارے لئے کافی ہیں۔

يكيفينا خلقان من كان قبلنا ← قيل لعيسى لو اتخذت بيتا ← شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاقَ، ← يحيى بن اليمان ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10748

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10749

10749 - قال : و أنا أبو بكر حدثني عبد الرحمن بن صالح نا محمد بن فضيل الرقي عن عطاء بن السائب عن ميسرة قال : ما بنى عيسى عليه السلام بيتا فقيل له : ألا تبني قال : : لا أترك بعدي شيئا من الدنيا أذكر به

فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر دی ابو بکر نے ان کو حدیث بیان کی عبد الرحمٰن بن صالح نے ان کو محمد بن بن فضیل نے ان کو عطاء بن سائب نے میسر ہ سے وہ کہتے ہیں کہ عیسی ٰبن مریم علیہ السلام نے کوئی گھر نہیں بنایا تھا ان سے کسی نے کہا کیا آپ گھر نہیں بناتے ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں اپنے بعد دنیا میں سے کوئی چیز نہیں چھوڑ نا چاہتا جس کے ساتھ میں یاد کیا جاؤں۔

لا أترك بعدي شيئا من الدنيا أذكر به ← ما بنى عيسى بيتا فقيل له ألا تبني ← مَيْسَرَةَ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← محمد بن فضيل الرقي ← عبد الرحمن بن صالح ← أَبُو بَکْرٍ ← و،

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10749

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل ـ في ذم بناء ما لا يحتاج إليه من القصور و الدور · حديث 10771

10771 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس هو الأصم نا الحسن بن مكرم نا أبو النضر نا أبو خيثمة نا أبو إسحاق الهمداني عن نوف قال : كان سرير عوج الذي قتله موسى عليه السلام كان طول سريره ثمانمائة ذراع و عرضه أربعمائة ذراع و كان موسى عشرة أذرع و عصاه عشرة أذرع و وثبته حين وثب عشرة أذرع فضربه فأصاب كعبه فخر على نيل مصر فجسره الناس عاما يمرون على صلبه و أضلاعه

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو حسن بن مکرم نے ان کو ابو النضر نے ان کو ابو خثیمہ نے ان کو ابو اسحٰق ہمدانی نے ان کو نوف نے وہ کہتے ہیں کہ سریر عوج نامی شخص جس کو موسیٰ علیہ السلام نے قتل کر دیا تھا۔ اس کی چار پائی کی لمبائی آٹھ سو ہاتھ تھی اور ان کی چوڑائی چارسو ہاتھ تھی۔ اور موسیٰ علیہ السلام دس ہاتھ لمبے تھے اور ان کا عصا اور لاٹھی دس ہاتھ لمبی تھی۔ اور ان کا اچھلنا اور چھلانگ لگا نا بھی دس ہاتھ ہوتی تھی۔ جب وہ چھلانگ لگاتے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان کو مارا تو ان کا ڈنڈا عوج (کافر) کے ملنے تک پہنچا تھا لہٰذ اوہ نیل مصر میں گھر گیا اور لوگوں نے ایک سال تک اس کو پل بنادیا تھا لوگ اس کی پشت پر اور پسلیوں پر گزرتے رہے۔

نوف ← أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَبُو النَّضْرِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › Chapter - In defamation of building what is not needed in terms of palaces and houses · Hadith 10771

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل من هذا الباب مجانبة الفسقة و المبتدعة و من لا يعينك على طاعة الله عز و جل · حديث 9459

9460 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا عثمان بن أحمد نا الحسن بن عمرو سمعت بشر بن الحارث يقول : قال الله عز و جل لموسى : أو أوحى الله إلى موسى عليه السلام يا موسى لا تخاصم أهل الأهواء فيلقون في قلبك شيئا فيرديك فيسخط الله عليك

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو عثمان بن احمد نے ان کو حسن بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے شنا بشر بن حارث سے وہ کہتے ہیں کہ اللہتعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا تھا ۔ یا موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی تھی اے موسیٰ اہل بدعات کے ساتھ مت جھگڑا کرنا ورنہ وہ تیرے دل میں کوئی چیز ڈال دیںگے وہ آپ کو بے دین بنا دیں گے جس سے اللہ تعالیٰ تم پر ناراغ ہو گا۔

بِشْرُ بْنُ الْحَارِثِ ← الْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو، ← عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter of this section avoids immorality and innovation, and those who do not help you to obey God Almighty · Hadith 9459

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ فصل من هذا الباب مجانبة الفسقة و المبتدعة و من لا يعينك على طاعة الله عز و جل · حديث 9461

9462 - قال : و نا محمد بن إسحاق نا ابن أبي طالب أنا أبو داود عن أياس بن دغفل القيسي سمعت عطاء يقول : بلغني أن فيما أنزل الله عز و جل على موسى عليه السلام لا تجالسوا أهل الأهواء فيحدثوا في قلبك ما لم يكن

فرمایا کہ ہمیں خبر دی ہے محمد بن اسحٰق نے ان کو ابن ابو الطیب نے ان کو ابو داؤد نے ایاس بن دغفل قیسی سے وہ کہتے ہیں کہ میں ے سنا عطاء سے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر جو وحی کی تھی یہ بات بھی تھی کہ تم لوگ اہل ہواء (اہل بدعت ) کے ساتھ نہ بیٹھو کیونکہ وہ تمہارے دل میں وہ بات پیدا کر دیں گے جو نہیں تھی ۔

عَطَاءٍ، ← إِيَاسِ بْنِ دَغْفَلٍ الْقَيْسِيِّ ← أَبُو دَاوُدَ، ← ابن أبي طالب ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← و،

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › Chapter of this section avoids immorality and innovation, and those who do not help you to obey God Almighty · Hadith 9461

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 483

482 - أخبرنا أبو سعيد الشعيبي أنا أبو الفضل نصر بن محمد الصوفي قال : سمعت إبراهيم بن شيبان يقول سمعت أبا عبد الله المغربي يقول : تفكر إبراهيم عليه الصلاة و السلام ليلة من الليلة في شأن آدم عليه السلام قال : يا رب خلقته و نفخت فيه من روحك و أسجدت له ملائكتك ثم بذنب واحد ملأت أفواه الناس حتى يقولون : { و عصى آدم ربه فغوى } قال : فأوحى الله أن يا إبراهيم أما علمت أن مخالفة الحبيب على الحبيب شديدة

ہمیں خبر دی ابو سعید شعیبی نے ان کو ابو الفضل نصر بن محمد صوفی نے انہوں نے سنا ابراہیم بن شیبان سے انہوں نے ابو عبداللہ مغربی سے کہتے ہیں ۔ کہ ایک رات حضرت ابراہیم علیہ السلام پوری رات حضرت آدم علیہ السلام کی شان کی بابت غور فرماتے ہیں اور عرض کرنے لگے اے میرے پروردگار آپ نے خود ہی اسے پیدا فرمایا۔ اور آپ ہی نے اس میں اپنی روح پھونکی۔ اور آپ نے ہی اس کو اپنے فرشتوں سے سجدہ کروایا۔ پھر آپ نے صرف ایک ہی غلطی کی وجہ سے لوگوں کے منہ پھروا دئیے یہاں تک کہ وہ کہتے ہیں: "وعصیٰ ادم ربہ فغوی (طٰہٰ 121) نا فرمانی کی آدم نے اپنے ر کی پس وہ بھٹک گیا۔ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی کہ اے ابراہیم کیا آپ کو معلوم نہیں ہے کہ محبوب کی مخالف محبوب کے خلاف شدید ہوتی ہے اور سخت ہوتی ہے۔

أبا عبد الله المغربي ← إبراهيم بن شيبان ← أبو الفضل نصر بن محمد الصوفي ← أبو سعيد الشعيبي

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 483

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ معاني المحبة ـ · حديث 484

483 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنبا دعلج بن أحمد ثنا مخول بن محمد ثنا إبراهيم بن سعيد الجوهري ثنا إسماعيل بن عبد الكريم ثنا عبد الصمد بن معقل عن وهب قال : أوحى الله عز و جل إلى داود عليه السلام : يا داود ارفع رأسك فقد غفرت لك غير أنه ليس عندي ذلك الود الذي كان

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسین بن بشران نے، ان کو دعلج بن احمد نے ان کو مخول بن محمد نے ان کو ابراہیم بن سعید جوہری نے ان کو اسماعیل بن عبدالکریم نے ان کو عبدالصمد بن معقل نے، ان کو وھب نے انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی اے داؤد اپنا سر اٹھا میں نے تجھے بخش دیا ہے سوائے اس کے کہ میرے پاس وہ محبت نہیں ہے جو تھی۔

وَھْبٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ← مخول بن محمد ← أبو الحسين بن بشران أنبأ دعلج بن أحمد

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › The meanings of love · Hadith 484

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4413

4413 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو الحسين إسحاق بن أحمد الكازي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا عبد الرحمن نا جابر بن زيد عن المغيرة بن عقبة قال : قال داود عليه السلام يا رب هل بات أحد من خلقك الليلة أطول ذكرا لك مني فأوحى الله إليه نعم الضفدع و أنزل الله عز و جل : { اعملوا آل داود شكرا وقليل من عبادي الشكور } قال رب كيف أطق شكرك و أنت الذي تنعم علي ثم ترزقني على النعمة الشكر ثم تزيدني نعمة بعد نعمة فالنعمة منك يا رب و الشكر منك و كيف أطيق شكرك ؟ قال : الآن عرفتني يا داود حق معرفتي

ہمیں خبر دی ابوالحسین بن بشران نے ان کو ابوالحسین اسحاق بن احمد کازی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو عبدالرحمٰن نے ان کو جابر بن زید نے ان کو مغیرہ بن عقبہ نے وہ کہتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ میں سوال کیا تھا کہ اے رب کیا تیری مخلوقات میں سے کسی نے ایسی رات گذاری ہے کہ اس نے تیرا ذکر مجھ سے زیادہ طویل کیا ہو۔ پھر اللہ نے اس کی طرف وحی کی کہ ہاں ینڈک نے تجھ سے طویل ذکر کیا۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اعملوا ال داؤد شکر اُوقلیل من عبادی الشکور۔ عمل کرواے آل داؤد شکر کرنے کا اور میری بندوں میں سے شکر گذار کم ہیں۔ داؤد علیہ السلام نے عرض کیا اے میرے رب میں شکر کی کیسے استطاعت رکھ سکتا ہوں تم تو مجھ پر انعام کرتے ہو پھر تم نعمت پر شکر کی روز توفیق دیتے ہو پھر تم میرے اوپر نعمت پر نعمت کا اضافہ کئے چلے جاتے ہو (ایک کا شکر ہوا تو نہیں کہ دوسری پھر تیسری پھر لامتناہی نعمتوں کا تسلسل جاری ہے) پھر نعمت بھی تیری طرف سے آتی ہے اور اس پر شکر کی طاقت بھی تیری طرف آتی ہے جو کہ خود بذاتہ نعمت ہے پھر میں کیسے تیرا شکر کرنے کی طاقت رکھ سکتا ہوں اللہ نے فرمایا اے داؤد ابھی تم نے مجھے پہچانا ہے جیسے میری معرفت کا حق ہے۔

المغيرة بن عقبة ← جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أبو الحسين إسحاق بن أحمد الكازي ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4413

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4414

4414 - أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن عبد الله الخرقي ببغداد أنا أحمد بن سلمان الفقيه نا عبد الله بن أبي الدنيا نا إسماعيل بن إبراهيم بن بسام نا صالح المري عن أبي عمران الجوني عن أبي الخلد قال : قرأت في مسئلة داود عليه السلام أنه قال : أي رب كيف لي أن أشكرك إلا بنعمتك قال : فأتاه الوحي أن يا داود أليس تعلم أن الذي بك من النعم مني ؟ قال : بلى يا رب قال : فإني أرضى بذلك منك شكرا

ہمیں خبر دی ہے ابوالقاسم عبدالرحمٰن بن عبداللہ خرقی نے بغداد میں ان کو احمد بن سلمان فقیہ نے ان کو عبداللہ بن ابوالدنیا نے ان کو اسماعیل بن ابراہیم بن بسام نے ان کو صالح مری نے ان کو ابوعمران جونی نے ان کو ابوالخلد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے پڑھا ہے داؤد علیہ السلام کے سوال کے بارے میں کہ انہوں نے کہا اے میرے رب کیسے ممکن ہے میرے لئے کہ میں تیرا شکر کروں سوائے تیری (توفیق والی) نعمت کے۔ کہتے ہیں کہ ان کے پاس وحی آئی تھی کہ اے داؤد کیاتم یہ نہیں جانتے کہ تیرے پاس جو نعمتیں ہیں وہ میری طرف سے دی ہوئی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں جانتاہوں اے رب۔ اللہ نے فرمایا کہ بے شک اس بات پر بطور شکر کے تم سے میں راضی ہو گیا ہوں۔

في مسئلة داود ← أَبِي الخلد، ← أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ← صالح المري ← إسماعيل بن إبراهيم بن بسام ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي الدُّنْيَا، ← أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبد الله الخرقي

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4414

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4415

4415 - و بهذا الإسناد عن أبي الخلد قال : قرأت في مسئلة موسى عليه السلام أنه قال : كيف لي أن أشكرك و أصغر نعمة وضعتها عندي من نعمك لا يجازي بها عملي كله قال : فأتاه الوحي أن يا موسى الآن شكرتني

اسی مذکوره اسناد کے ساتھ ابوالخلد سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے موسیٰ علیہ السلام کے سوال پڑھا تھا کہ انہوں نے کہا میرے لئے یہ کیسے ممکن ہے کہ میں تیرا شکر کروں حالانکہ تیری چھوٹی سے چھوٹی نعمت جو آپ نے مجھ پر رکھی ہے اپنی نعمتوں میں سے میرے سارے اعمال اس کا بدل نہیں بن سکتے۔ کہتے ہیں کہ ان کے پاس وحی آ گئی کہ اے موسیٰ اب تم نے میرا شکر کر لیا ہے۔

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4415

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4416

4416 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو بكر بن بالويه نا محمد بن يونس القرشي نا روح بن عبادة حدثني عبد الله بن لاحق عن ابن شهاب قال : قال داود عليه السلام الحمد الله كما ينبغي لكرم وجهك و عز جلاله فأوحى الله إليه أنك أتعبت الحفظة يا داود

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر بن بالویہ نے ان کو محمد بن یونس قرشی نے ان کو روح بن عبادہ نے ان کو عبداللہ بن لاحق نے ان کو ابن شہاب نے وہ کہتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام نے کہا۔ الحمدللّٰه الذي كما ينبغي لكرم وجهک و عز جلاله. تمام خوبیاں اللہ کے لئے ہیں جیسے تیری ذات کی عزت اور تیرے جلال کے غلبے کے شایان شان ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی فرمائی کہ اے داؤد آپ نے محافظ فرشتوں کو مشقت میں ڈال دیا ہے (یعنی اس کلام کی شان اور اجر و ثواب لکھ لکھ کر مشکل میں پڑ گئے ہیں۔)

ابْنِ شِهَابٍ، ← عبد الله بن لاحق ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← محمد بن يونس القرشي ← أَبُو بَكْرِ بْنُ بَالَوَيْهِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4416

شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4418

4418 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان نا أحمد بن عبيد نا محمد بن عثمان بن أبي شيبة نا عبد الحميد بن صالح أبو صالح نا محمد بن أبان عن أبي إسحاق عن سعيد بن جبير عن ابن عباس عن أبي بن كعب : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أوحى الله إلى موسى عليه السلام أن ذكرهم بأيام الله و أيامه نعمة

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو محمد بن عثمان بن ابوشیبہ نے ان کو عبدالحمید بن صالح ابوصالح نے ان کو محمد بن ابان نے ان کو ابواسحاق نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے ان کو ابن کعب نے ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ۔ اللہ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ ڈرا تو ان کو ایام اللہ سے (اللہ کے دنوں سے) اور اس کے ایام نعمت ہیں۔

أوحى الله إلى موسى أن ذكرهم بأيام الله و أيامه نعمة ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَالِحٍ أَبُو صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ: ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4418

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 658

657 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا محمد بن عبيد الله أبي داود ثنا المقرئ عبد الله بن يزيد ثنا أبو صخر المدني حميد بن زياد أن عبد الله بن عبد الرحمن بن عبد الله بن عمر أخبره أن سالم بن عبد الله أخبره أن أبا أيوب رضي الله عنه أخبره : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم ليلة أسري به مر على سيدنا إبراهيم عليه السلام فقال إبراهيم لجبرائيل عليه السلام : من هذا ؟ قال : هذا محمد فقال إبراهيم : يا محمد مر أمتك فليكثروا من غراس الجنة فإن تربتها طيبة و أرضها واسعة قال محمد لإبراهيم : و ما غراس الجنة ؟ قال : لا حول و لا قوة إلا بالله كذا قال

ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن بن بشران نے ، ان کو اسماعیل بن صفار نے ان کو محمد بن عبید اللہ ابو داؤد نے ، ان کو المقر ی عبداللہ بن یزید نے ، ان کو ابو صخر مدنی حمید بن زیادہ نے یہ کہ عبداللہ بن عبدالرحمٰن عبداللہ بن عمر نے اس کو خبر دی ہے اس کو سالم بن عبداللہ نے، ان کو ابو ایوب نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شب معراج میں سیدنا ابراہیم علیہ السلام پر گذرے ۔ ابراہیم علیہ السلام نے جبرائیل علیہ اسلام سےپوچھا کہ یہ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نےفرمایا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اپنی امت کو حکم دیجئے کہ وہ جنت میں شجر کار اور پودے لگانے کی کثرت کریں۔ اس لئے کہ جنت کی مٹی بڑی پاکیزہ ہے، جنت کی زمین بڑی فراخ ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےحضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا کہ جنت کی شجر کاری یا کاشت کاری کیا چیز ہے؟ انہوں نےفرمایا کہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنا ۔ ایسے ہی فرمایا ۔

أبو صخر المدني حميد بن زياد ← الْمُقْرِئُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ← محمد بن عبيد الله أبي داود ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 658

شعب الإيمان · العاشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدامة ذكر الله عز و جل · حديث 659

658 - أخبرنا أبو الحسن بن بشران أنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السماك ثنا عبد الله بن أبي سعيد ثنا خالد بن خداش ثنا عبد الله بن وهب عن أبي صخر أن عبد الله بن عبد الرحمن مولى سالم حدثه قال : أرسلني سالم إلى محمد بن كعب القرظي : أحب أن تلقاني عند زاوية القبر فالتقيا فقال له سالم : الباقيات الصالحات ؟ فقال له محمد بن كعب : سبحان الله و الحمد لله و لا إله الله و الله أكبر و لا حول و لا قوة إلا بالله فقال له سالم : متى زدت فيها لا حول و لا قوة إلا بالله ؟ فقال : ما زلت أقولها فراجعه مرتين أو ثلاثا كل ذلك يقول : ما زلت أقولها قال : فأثبت فإن أبا أيوب الأنصاري رضي الله عنه حدثني قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لما أسري بي مررت بإبراهيم عليه السلام فقال لجبريل عليه السلام : من هذا ؟ قال : محمد صلى الله عليه و سلم فرحب بي و سلم علي و قال : مر أمتك يكثروا من غراس الجنة فإن تربيتها طيبة و أرضها واسعة قال قلت : و ما غراس الجنة ؟ قال : لا حول و لا قوة إلا بالله أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان ثنا أحمد بن عبيد الصفار ثنا عبد الله بن محمد بن أبي الدنيا ثنا خالد بن خداش فذكره بإسناده نحوه و قد ذكر البخاري في التاريخ اختلافهما في ذلك

ہمیں خبر دی ہےابو الحسن بن بشران نے، ان کو ابو عمر عثمان بن احمد بن سماک نے ا ن کو عبداللہ بن ابو سعید نے ، ان کو خالد بن خداش نے ، ان کو عبداللہ بن وھب نے ، ان کو ابو صخرہ نے یہ کہ عبداللہ بن عبدالرحمٰن مولیٰ سالم نے ان کو حدیث بیان کی ہے ، فرماتے ہیں کہ مجھے سلام نے محمد بن کعب قرضی کے پاس بھیجا (یہ کہہ کر کہ) میں چاہتاہوں کہ وہ مجھے قبرشریف کے کونے کے پاس ملیں ۔ جب دونوں کی ملاقات ہوئی تو سالم نے ان سے کہا ۔ باقیات الصالحات کیا ہیں ؟ محمد بن کعب نے اس سےکہا کہ: سبحان اللہ والحمد اللہ ۔ والا الٰہ الا اللہ و اللہ اکبر ۔ ولا حول والا قوۃ الا باللہ ۔ تو سالم نے ان سے کہا اس میں آپ نے لا حول ولا قوۃ الا بااللہ کا اضافہ کب سےکر لیا ہے؟ انہوںنے جواب دیا کہ میں ہمیشہ سے اس کو کہتا آیا ہوں ۔ دوتین بار انہوں نے اس بات پر سوال و جواب کیا ۔ ہر دفعہ وہ کہتے رہےکہ میں ہمیشہ سےیہ کہتا آیا ہوں ۔ وہ بولے بس میں ثابت کروں گا کہ حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے حدیث بیان کی ہے ۔ فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتےسنا ہےکہ جب مجھے شب معراج میں سیر کرائی گئی میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کےپاس سےگذرا تو انہوں نے جبرئیل علیہ السلام سےپوچھا کہ یہ کون ہے؟ اس نے بتایا کہ یہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں ۔ انہوں نے مجھےخوش آمدید کہا او رمجھ پر سلام کہا اور فرمایا کہ اپنی امت کو حکم دیجئے کہ وہ جنت میں درخت لگانےکی کثرت کریں ۔ اس کی مٹی پاکیزہ ہے اور اس کی زمین وسیع ہے ۔ فرماتے ہیں کہ میں نے پوچھا جنت میں درخت لگانا کیسے ہوگا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : لاحول ولا قوۃ الا باللہ ۔ اور ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نےکہ احمد بن عبید صفار نے ان کو خبر دی ہے اور ان کو عبداللہ بن محمد بن ابو دنیا نے ، ان کو خالد بن خداش نے ، پھر اس کو ذکر کیا انہوں نے اپنی اسناد کےساتھ اسی مذکور کی مثل اور تحقیق بخاری نے اپنی تاریخ میں اس کو ذکر کیا ہے اور اس میں ان دونوں کا اختلاف ذکر کیا ہے۔

Shuab ul Iman · Tenth of the people of faith › Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty · Hadith 659

chevron_left Previous
1…212223…226
Next chevron_right