Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأنبياء والتاريخ

Prophets & History

4507 hadiths

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3999

3999 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو منصور النضروي نا أحمد بن نجدة نا سعيد بن منصور ثنا جرير عن منصور عن مجاهد : في قوله : { و أذن في الناس بالحج } قال : لما فرغ إبراهيم عليه السلام من بناء البيت فقيل له ناد في الناس بالحج فقال : كيف أقول يا رب ؟ قال : قل يا أيها الناس استجيبوا لربكم فقالها فوقرت في قلب كل مؤمن

ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو منصور نضروی نے ان کو احمد بن نجدہ نے ان کو سعید بن منصور نے ان کو جریر بن منصور نے ان کو مجاہد نے اللہ نے اس قول کے بارے میں ۔ واذن فی الناس بالحج ۔ اعلان کر دیں لوگوں میں حج کا وہ کہتے ہیں جب ابراہیم علیہ السلام تعمیر کر چکے بیت اللہ کو تو ان سے کہا گیا کہ آپ اعلان کر دیجئے لوگوں میں حج کا ۔ انہوں نے کہا اے رب میں کیسے کہوں ؟ اللہ نے فرمایا کہ یوں کہو ۔ اے لوگو اپنے رب کی بات مانو ۔چنانچہ انہوں نے ایسے کہا تو ہر مؤمن کے دل میں یہ بات بیٹھ گئی ۔

كَيْفَ أَقُولُ يَا رَبِّ؟، ← لَمَّا فَرَغَ إِبْرَاهِيمُ مِنْ بِنَاءِ الْبَيْتِ، فَقِيلَ لَهُ: نَادِ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ، ← مجاهد في قوله و أذن في الناس بالحج ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ ← أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Hadith of the Kaaba and the Grand Mosque and the entire Haram · Hadith 3999

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 4000

4000 - قال : و نا سعيد نا سفيان عن ابن أبي نجيح عن مجاهد قال : لما فرغ إبراهيم عليه السلام أمر أن يؤذن في الناس فقام على المقام فقال : يا عباد الله أجيبوا فأجابوه لبيك اللهم لبيك فمن حج فهو ممن أجاب دعوة إبراهيم عليه السلام و روينا من وجه آخر عن ابن عباس في كتاب السنن و غيره

وہ کہتے ہیں کہ ہمیں خبر دی سعید نے ان کو سفیان نے ان کو ابن ابو نجیح نے ان کو مجاہد نے انہوں نے کہا کہ جب ابراہیم علیہ السلام تعمیر سے فارغ ہوگئے تو حکم دئیے گئے کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں لہذا وہ مقام ابراہیم پر کھڑے ہو ئے اور بولے اے اللہ کے بندو اللہ کی بات کا جواب دو ۔ چنانچہ سب نے اس کا جواب دیا لبیک اللھم لبیک ، جو شخص حج کرتا ہے پس وہ ان میں سے ہوتا ہے جس نے ابراہیم علیہ السلام کی پکار کا جواب دیا تھا ۔ اور ہم نے ایک اور طریق سے روایت کیا ہے ابن عباس سے کتاب السنن وغیرہ میں ۔

لما فرغ إبراهيم أمر ← مُجَاهِدٍ ← ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ← سُفْيَانَ، ← سَعِيدٌ، ← و،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Hadith of the Kaaba and the Grand Mosque and the entire Haram · Hadith 4000

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فصل في الإحرام و التلبية و رفع الصوت بها · حديث 4023

4023 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة نا أبو محمد عبد الله بن أحمد بن سعد الحافظ نا أبو عبد الله محمد بن إبراهيم بن سعيد بن موسى بن عبد الرحمن العبدي اليوشنجي نا أحمد بن حنبل نا هشيم أنا داود عن أبي العالية عن ابن عباس قال : مر رسول الله صلى الله عليه و سلم بوادي الأزرق فقال : أي وادي هذا ؟ فقالوا : وادي الأزرق قال : كأني انظر إلى موسى بن عمران هابط من الثنية له جؤار إلى الله عز و جل بالتلبية ثم أتى على ثنية هرشي فقال : أي ثنية هذه ؟ قالوا : ثنية هرشي قال : كأني أنظر إلى يونس بن متى على ناقة حمراء جعدة عليها جبة صوف خطام ناقته خلبة و هو يلبي قال هيثم يعني ليف قال أبو عبد الله : و معنى التلبية إذا قال الملبي لبيك اللهم لبيك إنما هو جواب من الملبي لقوله حين نادى إبراهيم عليه السلام بالحج عن أمر الله عز و جل بقوله : { و أذن في الناس بالحج } و يروى أن من حج فهو ممن أجاب إبراهيم عليه السلام في أصلاب الرجال و بطون الأمهات فأجابوه بلبيك اللهم لبيك فكانت شعار تلك الإجابة من كل حاج و معتمر فصارت جوابا

ہمیں خبر دی ہے ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابو محمد عبداللہ بن احمد نے سعید حافظ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن ابراہیم بن سعید بن موسیٰ بن عبدالرحمن عبدی بوشنجی نے ان کو احمد بن حنبل نے ان کو ہیثم نے ان کو داؤد نے ان کو ابو العالیہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم وادی ازرق سے گذرے تو پوچھا کہ یہ کون سی وادی ہے ؟ صحابہ نے کہ وادی ازرق ہے فرمایا ایسے لگ رہا ہے حضرت موسیٰ بن عمران کو دیکھ رہا ہوں جو گھاٹی سے اتر رہے ہیں اور وہ اللہ کی بار گاہ میں شور بلند کئے ہوئے ہیں تلبیہ کا اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم گھاٹی ہر شئی پر آئے تو پوچھا کہ یہ کون گھاٹی ہے ؟ صحابہ نے بتایا یہ ثنیہ ہر شئی ہے فرمایا ایسے لگا جیسے حضرت یونس بن متیٰ کو دیکھا سرض اونٹنی پر جس کے گگھونگھرالے بال ہیں سوار ہیں انہوں نے اون کا جبہ زیب تن کر رکھا ہے ان کو اونٹنی کی مہار خلبہ کھجور کی مونج ہے اور وہ تلبیہ پڑھ رہے ہیں ۔ ہیثم نے کہا کہ لیث نے ۔ ابو عبداللہ نے کہا تلبیہ کا معنی کہ جب تمبیہ کہنے والا کہے لبیک اللہم لبیک ۔ تو بے شک وہ تلبیہ کہنے والے کی طرف سے جواب ہوتا ہے اسی قول کا جب ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے حج کی آواز لگائی تھی ۔واذن فی الناس بالحج "لوگوں میں حج کا اعلان کر دو " اور روایت کیا گیا ہے کہ جس نے بھی حج کیا وہ ان میں سے ہے جس نے ابراہیم کی پکار کا جواب دیا تھا ۔ مردوں کی پیٹھوں میں اور ماؤں کے رحؐوں میں ۔ ان سب نے اس کو جواب دیا تھا لبیک اللہم لبیک کے ساتھ پس تھا شعار اور پہچان اس اجابت کی ہر حج کرنے اور عمرہ کرنے والے کی طرف سے تو یہ جواب بن گیا ہے ۔

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Chapter on the Ihram and Talbiyah and raising the voice in it · Hadith 4023

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ فضيلة الحجر الأسود و المقام و الاستسلام و الطواف بالبيت و السعي بين الصفا و المروة · حديث 4064

4064 - و روينا في بدء السعي بين الصفا و المروة عن سعيد بن جبير عن ابن عباس : أن إبراهيم عليه السلام جاء بأم إسماعيل و ابنها إسماعيل عليه السلام و هي ترضعه فوضعها عند البيت و ليس بمكة يومئذ أحد و ليس بها ماء و وضع عندهما جرابا فيه تمر و سقاء فيه ماء ثم قفا منطلقا فتبعته أم إسماعيل و قالت : يا إبراهيم أين تذهب و تتركنا بهذا الوادي الذي ليس فيه أنيس و لا شيء قالت : ذلك ثلاث مرات و جعل لا يلتفت فقالت له الله آمرك بهذا قال : نعم قالت : نعم إذا لا يضيعنا ثم رجعت و انطلق إبراهيم حتى إذا كان عند البيت استقبل بوجهه البيت ثم دعا بهذه الدعوات و رفع يده و قال : { ربنا إني أسكنت من ذريتي بواد غير ذي زرع عند بيتك المحرم } فجعلت أم إسماعيل ترضع إسماعيل و تشرب مرة من ذلك الماء حتى إذا نفذ ما في السقاء عطشت و عطش ابنها و جاع و جعلت تنظر إليه يلتوي أو قال يتلبط فانطلقت كراهية أن تنظر إليه فوجدت الصفا أقرب جبل في الأرض يليها فقامت عليه ثم استقبلت الوادي تنظر هل ترى أحدا فلم تر أحدا فهبطت من الصفا حتى إذا بلغت الوادي رفعت طرف درعها و سعت سعي الإنسان المجهود حتى إذا جاوزت الوادي ثم أتت المروة فقامت عليها فنظرت هل ترى أحدا فلم تر أحدا ففعلت ذلك سبع مرات قال النبي صلى الله عليه و سلم : فذلك سعي الناس بينهما فلما أشرفت على المروة سمعت صوتا فقالت : صه تريد نفسها ثم سمعت أيضا فسمعت فقال : قد أسمعت إن كان عندك غراث فإذا هي بالملك عند موضع زمزم يبحث بعقبة أو قال : بجناحه حتى ظهر الماء فجعلت تحوطه و جعلت تغرف الماء في سقائها و هي تقوم بقدر ما تغرف قال ابن عباس : فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يرحم الله أم إسماعيل لو تركت زمزم أو قال لو لم تغرف من الماء لكانت زمزم عينا معينا فشربت و أرضعت ولدها وقال لها الملك لا تخافي من الضيعة فإن ها هنا بيت الله يبنيه هذا الغلام و أبوه و إن الله لا يضيع أهله و ذكر الحديث بطوله في بناء البيت و غيره و قد ذكرناه في الخامس من دلائل النبوة

اور ہم نے روایت کی ہے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے کی ابتداء سعید بن جبیر سے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل اور ان کی والدہ ام اسماعیل کو لے کر آئے تھے وہ اسماعیل کو دودھ پلاتی تھیں ان کو بیت اللہ کے پاس ٹھہرا دیا تھا اس وقت مکہ میں کوئی بھی نہیں تا اور نہ ہی وہاں پانی تھا ان کے پاس ایک کھجوروں کی تھیلی رکھی اور پانی کا ایک مشکیزہ رکھا پھر واپس الٹے لوٹے پاؤں لوٹ گئے ام اسماعیل ان کے پیچھے گئی اور بولی اے ابراہیم آپ ہمیں چھوڑ کر کہاں جاتے ہیں ؟ ہمیں اس وادی میں تنہا چھوڑ کر کہ جہاں کوئی انسان نہیں اور کوئی شئی نہیں ۔ تین بار اس نے یہی الفاظ دہرائے مگر انہوں نے پیچھے پلٹ کر بھی نہ دیکھا پھر کہنے لگیں کہ کیا اللہ نے آپ کو اسی بات حکم دیا ہے انہوں نے جواب دیا جی ہاں ۔ ام اسماعیل بولی ہاں ٹھیک ہے پھر وہ ہمیں ضائع نہیں کرے گا واپس لوٹ آئی ۔اورابراہیم علیہ السلام چلے حتٰی کہ جب بیت اللہ کے پاس تھے تو بیت اللہ کی بنیادوں اور انسانوں کی طرف منہ کر کے یہ دعائیں مانگیں اور ہاتھ اٹھا لیا ۔اب انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم ایلخ ۔اے میرے رب بے شک میں نےٹھہرایا ہے اپنی اولاد کو ایسی وادی میں جس میں نہ آبادی نہ کھیتی تیرے عزت والے گھر کے پاس ۔تا آخر تک دعائیں کی جو سورۃ ابراہیم میں مذکور ہیں ۔ام اسماعیل بچے کو دودھ پلاتی رہی اور پانی اور کھجور پر گذارہ کرتی رہی ۔ حتیٰ کہ ایک دن مشکیزے کا پانی ختم ہو گیا اور وہ شدید پیاسی ہو گئی اور بچہ بھی اور بھوکا بھی ماں جب پیاسے بچے کو دیکھتی تو تڑپ جاتی مگر کیا کرتی وہ خود بھی بھوک پیاس سے نڈھال ہو رہی تھی پانی کی تلاش میں قریب ترین پہاڑی جو نظر آئی وہ صفا کی پہاڑی تھی جلدی سے اس پر چڑھ کر دیکھنے لگی وادی میں کہ کوئی نظر آتا ہے مفر اس میں کوئی بھی نظر نہ آیا تو جلدی سے صفا سے اتری جب نیچے وادی میں پینچی اور میض کا دامن اٹھا کر دوڑی جیسی مصیبت زدہ انسان دوڑتا ہے ۔ جب وادی عبور کر گئی تو مروہ تک پہنچ گئیں لہذا اس کے اوپر جا کھڑی ہوئی نظر ماری کہ کوئی نظر آجائے مگر کوئی بھی نظر نہ آیا ۔ اس پریشان حال اللہ کی بندی نے سات مرتبہ ایسا کیا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا ۔ پس یہی سعی ہے لوگوں کی صفا مروہ کے درمیان ۔ آخری بار جب مروہ چڑھی تو اس نے آواز سنی اور بولی رک جا ( اپنے ایک کو بولی ) پھر توجہ سے سنی تو واقعی آواز آ رہی تھی ۔ اس نے خوب کان لگایا تو ۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ تیرے پاس فریاد سننے والا ہے ۔ پس اچانک وہ فرشتہ تھا زم زم کی جگہ جو اپنی ایڑیاں اپنے پر کے ساتھ زمین کھود رہا تھا اس نے اتنی کھودی کہ پانی ظاہر ہو گیا ۔ ام اسماعیل اس کو روکنے لگی اور چلو بھر بھر کے اپنے مشکیزے میں بھرنے لگی اور وہ پانی اور فوارے مارنے لگا جس قدر اس نے چلو بھرے ابن عباس نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا ۔ اللہ ام اسماعیل کو رحم کرے اگر وہ زم زم کو چھوڑ دیتی یا یوں کہا تھا کہ اگر وہ چلو نہ بھرتی پانی میں سے تو زم زم بیتا ہوا چشمہ بن جاتا ۔ اس نے پیا اور اپنے بچے کو پلایا ۔ اور فرشتے نے اس کہا تم ضائع ہونے کی فکر نہ کرنا یہاں پر اللہ کا گھر ہے یہ لڑکا ( جو تیری گود میں ہے ) اس کو بنائے گا ۔ اور ا کا والد بھی ۔ اور اللہ تعالیٰ یہاں کے رہنے والوں کو ضا ئع نہیں کرے گا ۔ اور حدیث ذکر کی اپنے طول سمیت بیت کی تعمیر کے بارے میں اور علاوہ اس کے بھی اور ہم نے اس کو ذکر کیا دلائل النبوہ کے پانچویں نمبر پر ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← و روينا في بدء السعي بين الصفا و المروة

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › The virtue of the Black Stone, the Maqam, the surrender, the circumambulation of the house and the pursuit between Safa and Marwa · Hadith 4064

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4075

4075 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد نا تمتام نا أبو حذيفة نا سفيان عن ابن أبي ليلى عن ابن أبي ملكية عن عبد الله بن عمرو قال : أفاض جبريل عليه السلام بإبراهيم عليه السلام فصلى بمنى الظهر و العصر و المغرب و العشاء و الصبح ثم غدا به من منى إلى عرفة فصلى به الصلاتين الظهر و العصر ثم وقف به حتى غابت الشمس ثم دفع به حتى أتى المزدلفة فنزل به فبات فصلى الصبح كأعجل ما يصلي أحد من المسلمين ثم وقف به كأبطأ ما يصلي أحد من المسلمين ثم دفع به إلى منى فرمى ثم ذبح فأوحى الله عز و جل إلى محمد صلى الله عليه و سلم { ثم أوحينا إليك أن اتبع ملة إبراهيم حنيفا و ما كان من المشركين } هذا هو المحفوظ موقوف

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو بو حذیفہ نے ان کو سفیان نے ان کو ابن ابو لیلیٰ نے ان کو ابن ابو ملیکہ نے ان کو عبداللہ بن عمر نے انہوں نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ چلے تھے اور ان کو منیٰ میں ظہر اور عصر پڑھوائی تھی اور مغرب و عشاء اور فجر پھر ان کو منیٰ سے عرفات لے گئے تھے وہاں اس نے دو نمازیں ظہر اور عصر پڑھئی تھی اس کے بعد ان کو وقوف کروایا ( کھڑے رہے ) حتٰی کہ سورج غروب ہو گیا پھر وہ ان کو مزدلفہ لےآئے وہاں اترے رات ہاں گذاری اور صبح کی نماز پڑھائی جیسے مسلمانوں میں کوئی جلدی پڑھتا ہے اس کے بعد ان کو وہاں وقوف کراا دیا جیسے کوئی مسلمان تاخیر کے ساتھ نماز پڑھتا ہے ۔ اس کے بعد وہان کو منیٰ واپس لے گئے تھے اور جمرات کی رمی کی ۔ اس کے بعد انہوں نے قربانی کی پس اللہ نے عحی کی محمد صلی اللہ علیہ وآل وسلم کی طرف ۔ ثم اوحینا الیک ان اتبع ملۃ ابراھیم حنیفا وما کان من المشرکین :ہم نے تیری طرف وحی کی یہ کہ اتباع کریں آپ ملت ابراہیم کی جو یکسو ہونے والا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہیں تھا ۔ یہی محفوظ اور موقوف وصیت ہے ۔

عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو ← ابن أبي ملكية ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← سُفْيَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4075

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4077

4077 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو عمرو بن مطر أنا محمد بن يحيى بن الحسن العمي نا ابن عائشة نا حماد بن سلمة نا أبو عاصم الغنوي عن أبي الطفيل قال : قلت لابن عباس يزعم قومك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم طاف بين الصفا و المروة على بعير و إن ذلك سنة قال : صدقوا و كذبوا قال : قلت ما صدقوا و كذبوا ؟ قال : صدقوا طاف رسول الله صلى الله عليه و سلم بين الصفا و المروة على بعير و كذبوا ليس بسنة كان الناس لا يدفعون من رسول الله صلى الله عليه و سلم و لا يصدون فطاف على بعير ليسمعوا كلامه و ليروا مكانه و لا تناله الأيدي قلت و يزعم قومك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قد رمل بالبيت و ذلك سنة قال : صدقوا و كذبوا قلت ما صدقوا و كذبوا ؟ قال قد صدقوا قد رمل رسول الله صلى الله عليه و سلم بالبيت و كذبوا ليس بسنة إن قريشا قالت زمن الحديبية دعوا محمد و أصحابه حتى يموتوا موت النغف قال ابن عائشة : ديدان تكون في مناخر الشاة فما صالحوه على أن يجيئوا من العام المقبل فيقيموا بمكة ثلاثة أيام قال : فقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم و المشركون من قبل بقيقعان قال : فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ارملوا بالبيت ثلاثا و ليس بسنة قلت و يزعم قومك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم سعى بين الصفا و المروة و أن ذلك سنة قال : صدقوا إن إبراهيم عليه السلام لما ابتلى بصبر المناسك عرض له شيطان عند المسعى فسابقه إبراهيم فسبقه إبراهيم ثم ذهب به جبريل إلى الجمرة فعرض له شيطان فرماه بسبع حصيات حتى ذهب ثم عرض له شيطان عند الجمرة الوسطى فرماه بسبع حصيات حتى ذهب ثم تله للجبين و على إسماعيل قميص أبيض فقال : يا أبه إنه ليس لي ثوب تلفني فيه فعالجه ليخلعه فنودي من خلفه { أن يا إبراهيم * قد صدقت الرؤيا إنا كذلك نجزي المحسنين } قال : فالتفت إبراهيم إذا هو بكبش أقرن أعين أبيض فذبحه قال ابن عباس فلقد رأيتنا نبيع ذلك الضرب من الكباش فلما ذهب به جبريل إلى الجمرة القصوى تعرض له شيطان فرماه بسبع حصيات حتى ذهب ثم ذهب به جبريل إلى منى فقال : هذا مناخ الناس ثم أتى به جمعا فقال هذا المشعر الحرام ثم ذهب به إلى عرفة قال : فقال ابن عباس هل تدري لم سميت العرفة عرفة قلت : و لم ؟ قال : إن جبريل عليه السلام قال لإبراهيم هل عرفت ؟ قال : نعم قال ابن عباس : فمن ثم سميت عرفة ثم قال : فهل تدري كيف كانت التلبية ؟ قلت و كيف كانت ؟ قال : لإن إبراهيم لما أمر أن يؤذن في الناس بالحج فخفضت له الجبال بروؤسها و رفعت له القرى فأذن في الناس بالحج قال الشيخ أحمد : قول ابن عباس في الرمل و ليس بسنة يشبه أن يكون أراد ليس بسنة يفسد الحج بتركه أو يجب على من تركه شيء و الله أعلم و قد روينا عن عمر بن الخطاب ما يدل على أنه بقي هيئته في الطواف مع زوال سببه و في رمل النبي صلى الله عليه و سلم في حجة الوداع بعد زوال السبب دلالة على بقائه مشروعا و روينا عن سالم بن أبي الجعد عن ابن عباس رفعه قال : لما أتى إبراهيم خليل الرحمن المناسك عرض له لشيطان عند الجمرة فرماه بسبع حصيات حتى ساخ في الأرض ثم عرض له عند الجمرة الثانية فرماه بسبع حصيات حتى ساخ في الأرض ثم عرض له في الجمرة الثالثة فرماه بسبع حصيات حتى ساخ في الأرض قال ابن عباس : الشيطان ترجمون و ملة أبيكم تتبعون

ہمیں خبر دی ابونصربن قتادہ نے ا ن کو ابو عمر و بن مطر نے ان کو محمد بن یحییٰ بن حسن عمی نے ان کو ابن عا ئشہ نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ابو عا صم غنوی نے ان کو ابو الطفیل نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے کہا تیری قوم کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تھی اونٹ پر اور یہ سنت ہے۔انہوں نے کہا کہ سچ کہتے ہیں وہ اور جھوٹ بو لتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ کیا سچ کہا اور کیا جھوٹ کہا ہے؟جھوٹ: انہوں نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے طواف کیا تھا صفاء اور مروہ کے درمیان اونٹ پر ۔ اور جھوٹ کہا ہے سنت نہیں ہے لوگ رسول اللہ سے لوگوں کو ہٹاتے نہیں تھے۔ اور نہ ہی روکتے تھے ۔ حضور نے طاف کیا تھا اونٹ پر اس لئے تاکہ لوگ آسانی کے اتھ آپ کا کلام آپ کی بات سن سکیں ۔ اور ان کو دیکھ بھی سکیں اور لوگوں کے ہاتھ بھی ان تک نہ پہنچ سکیں گے ۔ میں نے کہا کہ تیری قوم یہ کہتے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے بیت اللہ میں رمل کیا تھا ۔ اور یہ بھی سنت ہے ابن عباس نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا ہے اور جھوٹ بھی کہا ہے ۔ میں نے پوچھا کہ کیا س کہا اور کیا جھوٹ کہا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ سچ تو یہ ہے کہ رسول اللہ نے رمل کیا تھا بیت اللہ کے پاس ۔ اور جھوٹ کہا ہے وہ سنت نہیں ہے ۔ بے شک قریش نے کہا تھا صلح حدیبیہ کے زمانے میں کہ چھوڑ دو محمد کو اور اس کے ساتھیوں کو وہ اپنے آپ مر جائیں گے نغف کی موت (بکریوں کی موت ) ( جیسے بکریوں میں انک کے جراثیم کی بیماری آتی ہے اور وہ مر جاتیں ہیں ۔) ابن عائشہ نے کہا یہ ایک کیڑا ہے جو بکریوں کی ناک میں ہوتا ہے ۔ جب مشرکین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم سے صلح کر لی اس شرط پر کہ (اس سال واپس چلے جائیں )اور آئندہ سال آئیں اور مکہ میں صرف تین دن رہیں ( ار پھر مکے سے واپس نکل جائیں ) کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم آئے اور مشرکین پہلے سے (وادی ) قیقعان میں پہنچے ہوئے تھے ۔ لہذا رسول اللہ نے فرمایا کہ تم لوگ رمل کر و تین بار اور یہ سنت نہیں ہے ۔میں نے کہا تیری قوم کہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی تھی اور یہ سن ہے ۔انہوں نے کہا کہ وہ سچ کہتے ہیں بے شک ابراہیم علیہ السلام جب مناسک حج کے صبر کے ساتھ آزمائے گئے تو ان کے پاس سعی کے مقام پر شیطان سامنے آیا ۔ انہوں نے اس کو سات کنکریاں ماریں ۔ یہاں تک وہ چلا گیا ۔ پھر شیطان ان کے سامنے آیا جمرہ وسطی کے پاس ۔ ابراہیم علیہ السلام نے ان کو سات کنکریاں ماریں ۔ یہاں تک کہ وہ چلا گیا ۔ پھر لٹا دیا اس کو ماتھے کے بل ( یا کروٹ کے بل ) اور حضرت اسماعیل کے جسم پر سفید قمیض تھی ۔ انہوں نے کہا اے ابا جان بے شک میرے لئے کوئی کپڑا نہیں ہے جس میں آپ مجھے لپٹیں گے ۔ انہوں نے کوشش کی تاکہ اس کو اتار لیں لہذا پیچھے سے آواز لگائی گئی ۔ ان یا ابراھیم قد صدقت الروبا انا کذالک نجزی المحسنین ۔اے ابراہیم بے شک آپ نے خواب سچا کر دکھلایا ہے ۔ بے شک ہم اسی طرح جزا دیں گے نیکو کاروں کو ۔ کہتے ہیں کہ ابراہیم نے پلٹ کر دیکھا تو وہ اچانک بڑے سینگوں والا بڑی آنکھوں والا سفید رنگ والا مینڈھا ان کے پاس موجود تھا لہذا انہوں نے اس کو ذبح کیا ۔ ابن عباس نے کہا کہ البتہ تحقیق نایاب ہو گئی مینڈھوں کی یہ قسم ۔ جب جبرائیل ان کو جمرہ آکری پر لے گئے تو پھر شیطان ان کے سامنے آیا پھر انہوں نے اس کو ساتھ کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ چلا گیا ۔ پھر جبرائیل ان کو منیٰ میں لے گئے ۔ اور کہا کہ یہ لوگوں کے سواریاں بیٹھانے کی جگہ ہے ۔پھر وہ ان کو اکٹھے لے گئے اور کہا کہ یہ مشعر الحرام ہے ۔ اس کے بعد پھر وہ ان کو عرفہ لے گئے ۔ کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے کہا کیا تم جانتے ہو کہ عرفے کا نام کیوں دیا گیا ۔ میں نے کہا کہ کیوں دیا گیا ؟ کہا کہ جبرائیل علیہ السلام نے حضرت ابراہیم سے کہا کیا آپ نے پہچان لیا ؟ انہوں نے کہ کہ جی ہاں ۔ ابن عباس کہتے ہیں اسی وجہ سے نام رکھا گیا پھر ابن عباس نے کہا تم جانتے ہو کہ کیسے تلبیہ کا آغاز ہوا ؟ میں نے کہا کہ کیسے ہوا ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ اس طرح ہوا جب ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دیں تو پہاڑوں نے اس کے لئے اپنے سر جھکا دئیے اور اٹھ کھڑی ہوئیں بستیاں انہوں نے لوگوں میں حج کا اعلان کیا ۔ شیخ احمد نے کہا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا رمل کے بارے میں کہ وہ سنت نہیں ہے مناسب یہ ہے کہ یوں تاویل و توجیہ کی جائے کہ ان کی مراد ہے ایسی سنت نہیں ہے جس کے ترک سے حج فاسد ہو جائے یا اس کے ترک کرنے پر کوئی سئی وجب ہو جائے ۔ واللہ اعلم ۔ تحقیق ہم نے روایت کی ہے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے وہ جو دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ طواف میں اس کی شکل باقی رہ گئی ہے باوجود یہ کہ اس کا سبب زائل ہو گیا ے ۔ ور سبب زائل ہو جانے کہ باوجود حجۃالوداع میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآل وسلم کے رمل کرن میں اس بات کی دلیل ہے کہ یہ عمل مشروع ہے اور باقی ہے ۔ اور ہم نے روایت کی ہے سالم بن ابوالجعد سے اس نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کا مرفوع ہونا ۔ وہ کہتے ہیں جب ابراہیم خلیل اللہ احکامات و مناسک حج ادا کرنے آئے تو شیطان ان کے پاس جمرے کے پاس آیا انہوں نے سات کنکریاں ان کو ماریں حتٰی کہ وہ زمین میں دھنس گیا ۔ پھر ان کے سامنے آیا جمرہ ثانی کے پاس پھر انہوں نے ان کو ساتھ کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا ۔پھر وہ سامنے آیا جمرہ ثالثہ کے پاس پھر انہوں نے اس کو ساتھ کنکریاں ماریں تو وہ پھر زمین میں دھنس گیا ۔ ابن عباس نے فرمایا کہ رمی کر کے تم لوگ شیطان کو سنگسار کرتے ہو اور تم اپنے باپ ( ابراہیم ) کی ملت کی اتباع کرتے ہو۔

قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ يَزْعُمُ قَوْمُکَ ← أَبِي الطُّفَيْلِ، ← أَبُو عَاصِمٍ الْغَنَوِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← ابْنُ عَائِشَةَ ← محمد بن يحيى بن الحسن العمي ← أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4077

شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ الوقوف يوم عرفة بعرفات و ما جاء في فضله و الأصل في رمي الجمار و الذبح · حديث 4079

4079 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو القاسم المفسر قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أبو الدرداء هاشم بن محمد الأنصاري نا عبيد بن السكن عن إسماعيل بن عياش عن الكلبي عن أبي صالح عن ابن عباس قال : إنما سميت تروية و عرفة لأن إبراهيم عليه السلام أتاه الوحي في منامه أن يذبح ابنه فروى في نفسه أمن الله هذا أم من الشيطان ؟ فأصبح صائما فلما كان ليلة عرفة أتاه الوحي فعرف أنه الحق من ربه فسميت عرفة

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے اور ابو القاسم مفسر نے دونوں نے کہا کہ ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابو درداء نے ان کو ہاشم بن محمد انصاری نے ان کو عبید بن سکن نے ان کو اسماعیل بن عیاش نے کلبی سے اس نے ابو صالح سے اس نے ابن عباس سے انہوں نے کہا کہ سوا اس کے نہیں کہ ترویہ اور عرفہ نام رکھا گیا ہے کیونکہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس خواب میں وحی آئی تھی ۔ کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کریں ۔ تو انہوں نے دل میں شک کیا تھا کہ کیا یہ خواب اللہ کی طرف سے ہے یا شیطان کی طرف سے ؟ لہذا انہوں نے صبح کو روزہ رکھا اب جو عرفہ کی رات آئی تو ان کے پاس وحی آئی لہذا انہوں نے جان لیا کہ وہ خواب حق ہے اس کے رب کی طرف سے ہے لہذا وہ نام رکھا گیا عرفہ ۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الكلبي ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← عبيد بن السكن ← أبو الدرداء هاشم بن محمد الأنصاري ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو القاسم المفسر

Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Standing on the day of Arafat in Arafat and what came about its bounty and the principle of throwing pebbles and slaughtering · Hadith 4079

شعب الإيمان · الحادي و السبعون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في الزهد و قصر الأمل · حديث 10348

10348 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الحسن علي بن عيسى بن إبراهيم الحيري نا أبو العباس محمد بن أحمد بن بالويه نا عمرو بن زرارة الكلابي نا جرير عن قابوس بن أبي ظبيان عن أبيه عن ابن عباس قال : قال موسى عليه السلام حين كلم ربه أي رب أي عبادك أحب إليك ؟ قال : أكثرهم لي ذكرا قال : أي عبادك أحكم قال : الذي يقضي على نفسه كما يقضي على الناس قال : رب أي عبادك أغنى ؟ قال : الراضي بما أعطيته

ہمیں خبر دی ابو عبد اللہ حافظ نے ان کو ابو الحسن علی بن عیسیٰ بن ابراہیم حیری نے ان کو ابو العباس محمد بن احمد بن مالویہ نے ان کو عمرو بن زرارہ کلابی نے ان کو جریر نے قابوس بن ظبیان سے ان کو ان کے والد نے ابن عباس سے۔ وہ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا جس وقت انہوں نے اپنے رب سے ہم کلامی کی تھی۔ اے میرے رب تیرے بندوں میں سے کون تیرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے؟ اللہ نے فرمایا کہ جو سب ‘سے زیادہ میراذکر کرے گا۔ پھر انہوں نے پوچھا تیرے بندوں میں سے سب سے زیادہ فیصلہ کرنے والا کون ہے۔ فرمایا کہ جو شخص اپنے نفس کے خلاف فیصلہ دے جیسے دوسرے لوگوں کے خلاف فیصلہ دیتا ہے۔ پھر پوچھا کہ اے میرے رب تیرے بندوں میں سے کون سب سے زیادہ غنی ہے فرمایا کہ جو شخص میرے دیئے ہوئے پر خوش رہے۔

الرَّاضِي بِمَا أَعْطَيْته ← رب أي عبادك أغنى ← الَّذِي يَقْضِي عَلَى نَفْسِهِ كَمَا يَقْضِي عَلَى النَّاسِ. ← أي عبادك أحكم ← أَكْثَرُهُمْ لِي ذِكْرًا ← مُوسَى حِينَ كَلَّمَ رَبَّهُ: أَيْ رَبِّ، أَيُّ عِبَادِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ← جَرِيرٌ ← عمرو بن زرارة الكلابي ← أبو العباس محمد بن أحمد بن بالويه ← أبو الحسن علي بن عيسى بن إبراهيم الحيري ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The seventy-first of the people of faith › And it is a door in asceticism and a palace of hope · Hadith 10348

شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر فاتحة الكتاب · حديث 2357

2357 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد ثنا تمتام ثنا عمرو بن عون عن هشيم عن الحجاج عن الوليد بن ميزاب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : هي السبع الطول و لم يعطن إلا النبي صلى الله عليه و سلم و أعطى منهن موسى عليه السلام آيتين قوله : سبعا من المثاني كذا قال و التفسير الأول أولى لموافقة الحديث المرفوع

ہمیں خبر دی ہے علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید نے ان کو تمتام نے ان کو عمرو بن عون نے ان کو ھیثم نے ان کو حجاج نے ولید بن میزاب نے سعید بن جبیر سے ا س نے ابن عباس سے انہوں نے کہا کہ یہ سبع طول ہیں ۔ اس جیسا کوئی نبی نہیں دیا گیا سوائے حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے اور موسیٰ علیہ السلام ان میں سے صرف دو آیات دئیے گئے تھے ۔ اللہ تعالیٰ کا قول سبعاً من المثانی ۔ ایسے ہی فرمایا اور رتفسیر اول اولیٰ ہے اس لئے کہ وہ حدیث مرفوع کے مطابق ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الوليد بن ميزاب ← الْحَجَّاجِ، ← هُشَيْمٌ ← عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ ← تَمْتَامٌ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › He mentioned the beginning of the book · Hadith 2357

شعب الإيمان · السادس والأربعون من شعب الإيمان ‹ ـ باب في السرور بالحسنة والاغتمام بالسيئة · حديث 7016

7016 - أخبرنا أبو محمد السكري أنا أبو بكر الشافعي نا جعفر بن محمد نا الغلابي نا أبو سهل المدائني قال : وحضرت ابن عيينة : وسأله رجل فقال : يا أبا محمد أرأيت الرجل يعمل العمل لله يؤذن أو يؤم أو يعين أخاه أو يعمل شيئا من الخير فيعطي الشيء ؟ قال : يقبله ألا ترى إلى موسى عليه السلام لم يعمل للعمالة إنما عمل لله فعرض له رزق من الله تعالى فتقبله وقرأ { إن أبي يدعوك ليجزيك أجر ما سقيت لنا }

ہمیں خبر دی ابو محمد سکری نے ان کو ابو بکر شافعی نے ان کو جعفر بن محمد نے ان کو غلابی نے ان کو ابو سہل مدائنی نے وہ کہتے ہیں کہ میں ابن عیینہ کے پاس حاضر تھا ایک آدمی نے ان سے پوچھا۔ اے ابو محمد آپ یہ بتائیے کہ ایک آدمی اللہ کے لئے کوئی عمل کرتا ہے۔ خواہ اذان دیتا ہے یا امامت کرتا ہے یا کسی بھائی کی مدد کرتا ہے۔ یا علاوہ اس کے کوئی خیر کا عمل کرتا ہے وہ کوئی شئی دیا جائے گا۔ فرمایا کہ وہ اس کو قبول کرے گا۔ کیا آپ نے دیکھانہیں موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کی طرف کہ انہوں نے مزدوری اور اجرت کے لئے عمل نہیں کیا تھا بلکہ انہوں نے عمل اللہ کے لئے کیا تھا محنت اللہ واسطے کی تھی۔لہٰذا ان کے لئے اللہ کی طرف سے رزق پیش کیا گیا لہٰذا انہوں نے اس کو قبول کر لیا۔ پھر انہوں نے یہ آیت پڑھی: ان ابی یدعوک لیجزیک اجر ماسقیت لنا میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ کو معاوضہ دیں اس کا جو آپ نے ہماری بکریوں کو پانی پلایا تھا۔

وحضرت ابن عيينة وسأله رجل ← أبو سهل المدايني ← الغلابي، ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-sixth of the people of faith › Chapter on pleasure with good and complaining about bad · Hadith 7016

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في معالجة كل ذنب بالتوبة ـ · حديث 7112

7112 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الحافظ و أبو سعيد محمد بن موسى بن الفضل قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا يحيى بن أبي طالب أنا علي بن عاصم نا داود بن أبي هند عن عبد الله بن عبيد بن عمير عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : كان في بني إسرائيل رجل عابد وكان معتزلا في كهف له قال : وكان بنو إسرائيل قد أعجبوا بعبادته فبينما هم عند نبيهم عليه السلام إذ ذكروه فآمنوا عليه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إنه لكما تقولون لولا أنه تارك لشيء من السنة قال : لنقل ذلك إلى العابد قال : ففكر العابد فقال : علام أذيب نفسي وانصبها أصوم النهار وأقوم الليل وأنا تارك لشيء من السنة قال : فهبط من مكانه قال : وأتى النبي صلى الله عليه و سلم والناس عنده فسلم عليه ورد عليه النبي والنبي لا يعرفه بوجهه ويعرف باسمه قال : يا نبي الله إنه بلغني إني ذكرت عندك بخير فقلت : إنه لكما تقولون لولا أنه تارك لشيء من السنة فإن كنت تاركا فعلام أذيب نفسي أصوم النهار وأقوم الليل قال النبي صلى الله عليه و سلم : أنت فلان ؟ قال : نعم قال : ما هم بشيء أحدثته في الإسلام إلا لك لا تروح قال له العابد : وما هو هذا ؟ قال : لا وكان العابد استخف بذلك فلما رأى النبي صلى الله عليه و سلم قال : أرأيت لو فعل الناس ما فعلت من أين كان يكون هذا النسل من كان يتقي العدو عن ذراري المسلمين من كان يأمر بالمعروف وينهى عن المنكر ومن كان يجمع في المسلمين قال : فعرف العابد قال : فقال : يا نبي الله هو كما قلت بأبي أن أكون أحرمه ولكني أخبرك عني أنا رجل فقير وأنا كل على الناس وهم يطعمونني ويكسونني ليس لي مال فأنا أكره أن أتزوج امرأة مسلمة أعضلها وليس عندي ما أنفق عليها وأما الأغنياء فلا يزوجونني قال : فقال النبي صلى الله عليه و سلم : ما بك إلا ذاك ؟ قال : نعم قال النبي صلى الله عليه و سلم : فأنا أزوجك ابنتي قال : وتفعل ؟ قال : نعم قال : قد قبلت فزوجه ابنته قال : فدخل بها فولدت له غلاما قال ابن عباس فو الله ما ولد في بني إسرائيل مولود وكانوا أشد فرحا به منهم بذلك الغلام قالوا ابن عابد منا وابن نبينا إنا نرجو أن يبلغ الله به ما بلغ برجل منا قال : فلما بلغ الغلام انقطع إلى عبادة الأوثان قال : فتبعته فئام منهم كثير قال : فلما رأى كثرتهم قال لهم : إني أراكم كثيرا وإن هؤلاء القوم غالبون لكم فبم ذلك قالوا : نخبرك لهم رأس وليس لنا رأس قال : ومن رأسهم قالوا : جدك وليس لنا رأس قال : فأنا رأسكم قالوا : تفعل ؟ قال : نعم قال : فخرج وخرج معه خلق كثير قال : فأرسل جده وأبوه أن اتق الله خرجت إلينا بعبدة الأوثان وتركت الإسلام وأخذت في دين غيره فأبى فخرج النبي صلى الله عليه و سلم وخرج معه أبوه فدعوه فأبى فاقتتلوا حتى حجز بينهم الليل ثم اقتتلوا اليوم التالي حتى حجز بينهم فقتل النبي وقتل أبوه وانهزم المسلمون وضبط الأرض واستوسق له الناس قال : فجعلت نفسه لا تدعه حتى يتبع المسلمين ويقتلهم في الجبال قال : فلما رأى ذلك اجتمع المسلمون فقالوا قد خلينا له عن الملك وهو يتبعنا ويقتلنا وانهزمنا عن نبينا وعابدنا حتى قتلا وليس يدعنا أو يقتلنا فتعالوا نتوب إلى الله توبة نصوحا فنقتل ونحن تائبين فتابوا إلى الله وولوا رجلا منهم فخرجوا إليه فاقتتلوا أول يوم حتى حجز بينهم الليل ثم غدوا فاقتتلوا حتى حجز بينهم الليل وكثرت القتلى بينهم وغدوا اليوم الثالث فاقتتلوا حتى حجز بينهم الليل وكثرت القتلى بينهم وغدوا اليوم الثالث فاقتتلوا فلما علم الله منهم الصدق وأنهم قد تابوا تاب الله عليهم وأقبلت الريح لهم فقال لهم صاحبهم : إني لأرجو أن يكون الله قد تاب علينا وقبل منا إني أرى الريح قد أقبلت معنا إن نصرنا الله فإن استطعتم أن تأخذوه سلما فلا تقتلوه قال : فأنزل الله عليهم النصر من آخر النهار فهزمزهم وأخذوه أسيرا ومكن الله للمسلمين في الأرض وظهر الإسلام قال : فجمع رأس المسلمين خيار الناس فقال : ما ترون في هذا بدل دينه ودخل مع عبدة الأوثان في دينهم وقتل نبينا جده وقتل أباه فقائل يقول أحرقه بالنار يموت فيذهب وقائل يقول : قطعه قال : فقال إنه يموت فيذهب قالوا : فأنت أعلم اصنع به ما شئت قال : فإني أرى أن أصلبه حيا ثم أدعه حتى يموت قالوا : افعل ذلك قال : ففعل ذلك به صلبه حيا وجعل عليه بطرس ولم يقتله وجعلوا لا يطعمونه ولا يسقونه فلبث أول يوم والثاني واليوم الثالث فلما كان في جوف الليل أخذ الرجل إلى أوثانه التي كان يعبد من دون الله فجعل يدعو صنما صنما منها فإذا رآه لا يجيبه تركه ودعا آخر حتى دعاها كلها فلم تجبه قال : وجهد فقال : اللهم إني قد جهدت وقد دعوت الآلهة التي كنت أدعو من دونك فلم تجبني ولو كان عندها خير أجابتني وأنا تائب إليك رب جدي وأبي فخلصني مما أنا فيه فإني قد تبت إليك وأنا من المسلمين فتحلل عنه عقده فإذا هو بالأرض فأخذ فأتي به صاحبهم فقال : ما ترون فيه ؟ فقالوا إنا نرى فيه الله تخلى عنه وتسألنا ما نرى فيه قال : صدقتم قال : فخلوا عنه قال : فقال ابن عباس : فو الله ما كان في بني إسرائيل بعد رجل خيرا منه

ہمیں خبر دی ابوعبد الله محمد بن عبداللہ حافظ نے اور ابو سعید محمد بن موسیٰ بن فضل نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابی طالب نے ان کو علی بن عاصم نے ان کو داؤد بن ابی ہند نے ان کو عبداللہ بن عبید بن عمیر نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے انہوں نے کہا کہ بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا جو کہ ایک غار میں علیٰحدہ عبادت کرتا رہتاتھا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ بنی اسرائیل اس کی عبادت پر بڑے خوش تھے ایک مرتبہ وہ اپنے نبی کے پاس بیٹھے تھے اچانک انہوں نے اس کا ذکر کیا اور اس پر ایمان لے آئے ان کے نبی علیہ السلام نے فرمایا: ساری باتیں تمہارے آدمی کی اچھی ہیں اگر یہ بات نہ ہوتی کہ سنت کا تارک ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ بات عابد کو بھی پہنچ گئی۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ عابد نے سوچا کہ اگر یہی بات ہے تو پھر کس چیز پر اپنے آپ کو گھلا رہا ہوں اور میں اپنے آپ کو اٹھاتا ہوں دن کے روزے رکھتا ہوں اور راتوں کو قیام کرتا ہوں جب کہ میں تارک سنت ہوں۔ابن عباس نے کہا کہ وہ عابد اپنے عبادت خانے سے نیچے اتر آیا۔ کہتے ہیں کہ وہ نبی کے پاس آیا لوگ ان کے پاس موجود تھے اس نے سلام کیا نبی نے جواب دیا وہ نبی اس عابد کو چہرے سے نہیں پہچانتا تھا نام سے جانتا تھا۔ اس عابد نے کہا اے اللہ کے نبی مجھے خبر پہنچی ہے کہ میرا خیر کے ساتھ ذکر آپ کے سامنے ہوا تھا تو آپ نے یہ فرمایا کہ تم لوگ تو اس کے بارے میں یہ کہتے ہو۔ کاش کہ یہ بات نہ ہوتی اس میں کہ وہ تارک سنت ہے۔اگر میں تارک سنت ہوں تو پھر کیا فائدہ میں کس چیز پر اپنے نفس کو گھلا رہا ہوں میں دن کو روزے رکھتا ہوں رات کو قیام کرتا ہوں۔ اس نبی نے پوچھا کہ تم فلا نے ہو؟ اس نے کہا کہ جی ہاں وہی ہوں۔ اس نبی نے کہانہیں وہ چیز جس کو تم نے اسلام میں نیا بنا لیا ہےمگر وہ تیری طرف سے ہے۔ عابد نے نبی سے کہا کہ یہ کیا ہے؟ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ وہ عابد اس بات کے ساتھ اس کو خفیف سمجھا جب اس نبی نے یہ حالت دیکھی تو فرمایا۔ بتائیے اگر سارے لوگ وہی کام کریں جو تم کر رہے، تو اس نسل میں (مجاہدین کہاں سے آئیں گے؟) جو دشمن کو مٹائیں مسلمانوں کی اولادوں سے ، اور (کہاں سے آئیں گے؟ وہ واعظ) جو امر بالمعروف کریں اور نہی عن المنکر کریں۔ (اور کہاں سے آئیں گے وہ لوگ جو) مسلمانوں میں وحدۃ اور اتفاق پیدا کریں۔ ابن عباس فرماتے ہیں کہ چنانچہ وہ عابد نبی کی بات سمجھ گیا۔ اور بولا کہ اے اللہ کے نبی بات وہی درست ہے جو آپ فرماتے ہیں، میرے ماں باپ قربان (میری کیا مجال کہ) میں اس کو حرام جانتا۔ لیکن میں آپ کو اپنی کہانی بتاتا ہوں میں ایک غریب فقیر آدمی ہوں میں لوگوں کے اوپر بوجھ تھا وہی مجھے کھانا دیتے تھے۔ وہی مجھے کپڑے پہناتے تھے میرے پاس کوئی مال ومتاع بھی نہیں ہے۔ میں یہ بھی پسند نہیں کرتا ہوں کہ میں کسی مسلمان عورت کے ساتھ شادی کروں اور میں خواہ خواہ اس کو بند کر کے رکھوں جب کہ میرے پاس اس پر خرچ کرنے کے لئے کچھ بھی نہ ہو باقی رہے امیر لوگ غنی لوگ وہ میری شادی نہیں کرتے ، ابن عباس نے کہا کہ اس نبی نے کہا۔ بس تیرے ساتھ یہی مجبوری ہے؟ اس نے بتایا جی ہاں میری یہی سر گذشت ہے اس نبی نے فرمایا کہ میں اپنی بیٹی تمہارے ساتھ بیاہ دیتا ہوں۔ عاہد نے پوچھا کیا واقعی آپ ایسا کریں گے؟ نبی نے کہا جی ہاں عابد نے کہا کہ میں نے اس کو قبول کیا ہے۔ انہوں نے اپنی بیٹی اس عابد کے ساتھ بیاہ دی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس عابد نے اس لڑکی سے صحبت کی اور اس نے اس عابد کا بیٹا جنا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم بنی اسرائیل میں ایسا کوئی بیٹا پیدا نہیں ہوا تھا جس کے پیدا ہونے پر اس بچے کے پیدا ہونے سے انتہائی خوش ہوئے ہوں انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے ایک عابد کا بیٹا ہے اور ہمارے نبی کا بیٹا ہے (نواسہ) ہم یہ امید کرتے ہیں کہ اللہ اس کو بھی اسی مقام پر پہنچاے کا (بندہ کند تدبیر تقدیر بو وخندان) والی بات ہوئی۔ وہ لڑکا جب بالغ ہوا تو بتوں کی عبادت میں لگ گیا اور بہت سے لوگ بھی اس کے تابعدار بت پرست بن گئے۔ (اس بت پرست بیٹے نے) لوگوں سے کہا کہ تم لوگ بہت سارے ہو مگر یہ لوگ (بت پرستی سے روکنے والے) تمہارے اوپر کیوں غالب ہیں؟ لوگوں نے کہا کہ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ ان کا کوئی بڑا اور سردار ہے ہمارا نہ کوئی بڑا ہے نہ سردار ہے۔ اس نے پوچھا کہ کون ان کا سردار ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ تیرا نانا ان کا سردار ہے ہمارا تو کوئی سردار نہیں ہے اس نے کہا کہ آج کے بعد میں تمہارا صدر ہوں انہوں نے پوچھا کیا واقعی آپ ہمارے سردار ہوں گے اس نے کہا بالکل ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر وہ نکالا اور اس کے ساتھ خلق کثیر بھی ساتھ نکلی (یعنی انہوں نے اس نبی کے خلاف اور اہل توحید کے خلاف بغاوت کر دی) اس کے نانا نے (جو کہ نبی تھے اور) اس کے والد نے (جو کہ عابد تھے) اس کے پاس پیغام بھیج کر اس کومنع کیا کہ تو اللہ سے ڈر توبت پرستوں کو ساتھ لے کر ہمارے اوپر چڑھائی کرنا چاہتا ہے اورتم نے اسلام چھوڑ دیا ہے۔ اور تم نے اس کے (یعنی دین توحید دین اسلام کے) علاوہ دوسرا دین پکڑ لیا ہے۔ مگر اس نے (ماننے سے) انکار کر دیا۔ پھر اس کے نانا۔ نبی باہر نکلے اور اس کے والد آئے ان کے ساتھ انہوں نے اس کو دعوت دی مگر اس نے انکار کر دیا۔ لہٰذا (جو موحدوں اور مشرکوں کے درمیان) قتال اور جہاد شروع ہو گیا۔(سارا دن لڑتے رہے) حتٰی کہ ان کے درمیان رات آڑے آ گئی (اورلڑائی رک گئی مگر صبح اٹھ کر پھر لڑائی شروع ہو گئی) پھر اگلا دن لڑتے رہے پھر سارا دن جنگ رہی اور رات آڑے آ گئی۔ مگر اس دن وہ نبی بھی قتل ہو گیا اور اس کا والد بھی شہید ہو گیا۔ اور مسلمان شکست کھا گئے۔اس نے زمین پر قبضہ کر لیا۔ لوگوں نے اس کی پیروی کر لی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر بھی اس کے نفس کی تسکین نہ ہوئی حتٰی کہ اس نے بچے کچھے مسلمانوں کا تعاقب کیا اوران کو پہاڑوں میں قتل کیا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اس کے بعد (وہ مسلمان جنہوں نے اجتماعات کا مظاہرہ نہیں کیا تھا اور نبی کا ساتھ نہیں دیا تھا) یہ جب رنگ دیکھا تو پھر مسلمان جمع ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم حکومت واقتدار سے بالکل الگ اور دستبردار ہوگئے ہیں بالکل اسی کے حوالے کر رکھا لہٰذا اب وہ ہمیں چن چن کر قتل کر رہا ہے ہم لوگوں نے اپنے نبی کو اور عابد کو بھی شکست سے دو چار کروایا ہے۔ یہاں تک کہ وہ قتل ہو گئے ہیں۔ یہ اب ہمیں بھی نہیں چھوڑے گا بلکہ ہمیں بھی قتل کرا دے گا۔ لہٰذا سب آ جاؤ ہم توبہ کر یں اللہ کی بارگاہ میں سچی توبہ۔ ہم قتل ہوں تو توبہ کر کے ہوں لہٰذا انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کی۔ پھر انہوں نے ایک اچھے آدمی کو اپنا سر براہ بنایا اور (اس کی ماتحتی میں جہاد کرنے کے لئے) اس باغی کی طرف مسلمان نکلے اور پہلے دن قتال کرتے رہے حتٰی کہ رات ہو گئی پھر صبح کی تو دوبارہ قتال شروع ہوا پھر لڑتے لڑتے رات ہو گئی۔ اور دونوں طرف سے کثرت سے لوگ قتل ہوئے پھر تیسرا دن شروع ہوا پھر وہ لڑتے رہے جب اللہ نے ان کی سچائی دیکھ لی اور یہ کہ انہوں نے سچی توبہ کر لی ہے تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی اور ان کے لئے ہوا چل گئی مسلمانوں کے امیر نے کہا میں امید کرتا ہوں کہ شاید اللہ نے ہماری توبہ منظور کر لی ہے اور ہماری طرف توجہ فرمائی ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ ہوا چل گئی ہے جو کہ ہمارے ساتھ ساتھ چل رہی ہے اگر اللہ ہماری مدد کرے اگر تم لوگ اس باغی کو بطور زندہ کے پکڑ سکو۔ اس کوقتل نہ کرو (بلکہ زندہ گرفتار کر لو تاکہ اس کو عبرت ناک سزا دی جا سکے) ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ پھر اللہ نے اس دن کے آخر میں مسلمانوں پر مدد نازل فرمائی مسلمانوں نے مشرکوں کو شکست دی (اور شرک کے سرغنے کو زندہ) گرفتار کر لیا اور اس کو قید کر لیا اللہ نے مسلمانوں کو دھرتی پر غلبہ عطا کیا اور اسلام غالب ہوا۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے سردار نے سمجھدار لوگوں کو جمع کیا، اورفرمایا کہ آپ لوگ (اس مشرکین کے سرغنہ باغی کے بارے میں) کیا رائے دیتے ہو اس نے تو اپنا دن بھی بدل دیا ہے اور اپنے دین میں اس نے بتوں کے پجاریوں کو بھر دیا ہے اس نے تو ہمارے نبی کو اور اپنے نانا اور باپ کو بھی قتل کر دیا ہے۔ کسی نے مشورہ دیا کہ اس کو آگ کا الا بھڑکا کر اس میں جلا دیجئے اس میں ہلاک ہو جائے۔ اور قصہ بھی پاک ہو جائے کسی نے کہا کہ نہیں بلکہ اس کو خوب کاٹ کاٹ کر قیمہ کر دیجئے کہ یہ مر جائے گا اور قصہ ختم ہو جائے گا کسی نے کہا کہ آپ بہتر سجھتے ہیں آپ خود جو چاہیں وہ کریں اس کے ساتھ۔امیر نے کہا میں یہ مناسب سمجھتا ہوں کہ اس کوزندہ پانی پر لٹکا کر چھوڑ دوں یہ زمانے کے لئے عبرت بنے اور لڑکتے لڑکتے مر جائے۔سب نے کہا کہ ٹھیک ہے اس کے ساتھ ایسے ہی کیجئے۔ چنانچہ اس کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا اور اس کو زندہ لٹکا دیا گیا۔ اور اس پر رکاوٹ ڈال دی کے مرے نہیں بلکہ لٹکتا رہے۔ نہ اسے کھا نے دیا نہ پینے کو دیا پہلا دن دوسرا دن تیسرا دن اسی طرح لٹکتا رہا جب رات ہوئی تو اس نے اپنے ان جھوٹے بتوں کو پکارنا شروع کیا اللہ کے سوا جن کی عبادت کرتا تھا ان میں سے ایک ایک کو نام لے کر پکارنے لگا۔ جب دیکھتا کہ بہت جواب نہیں دے رہا تو دوسرے کو پکارتا حتٰی کہ اسی نے سب کو پکار لیا مگر کوئی بھی اس کو چھڑانے نہ آ سکتا تھا نہ ہی آیا۔ کہتے ہیں کہ اس نے پورا زور لگا لیا۔ (عقل ٹھکانے آ گئی اور توحید کا مسئلہ بھی سمجھ میں آ گیا) اب پکارتا ہے اللہ کواے اللہ میں نے تو پوری کوشش کر لی ہے اور ان الہٰوں کو پکارا ہے جن کی میں عبادت کرتا رہا تیرے سوا انہوں نے تو مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ اگر ان کے پاس کوئی بھلائی ہوتی تو وہ مجھے ضرور جواب دیتے میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں۔ اے میرے نانا کے رب اے میرے ابا کے رب مجھے اس پھانسی کے پھندے سے چھڑا میں تیری بارگاہ میں رجوع کر چکا ہوں اور میں مسلمان ہو چکا ہوں (یہ کہنا تھا اللہ کی رحمت نے جوش مارا جھوٹے الہٰوں کی پکار کے مقابلے میں سچے الہٰ کی پکار زندہ رب کی پکار کامیاب ہوئی اچانک پھانسی کا پھندا اس کی گردن سے کھل گیا اور وہ زمین پر آن پڑا۔ چنانچہ اس کو پکڑ کر پھر امیر کے پاس پیش کیا گیا اس نے پوری بات سنی اور سمجھدار مسلمانوں کو بلا کر پوچھا کہ تم لوگ اب اس کے بارے میں کہا کہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس کو اللہ نے چھوڑ دیا ہے اور آپ ہم سے کیا پوچھتے ہیں؟ امیر نے کہا کہ تم لوگ سچ کہتے ہو ، امیر نے کہا کہ اس کو چھوڑ دو کہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے بعد وہ ایسا نیک ہو گیا کہ اس جیسا نیک پھر کوئی پورے بنی اسرائیل میں نہیں ہوا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › It is a chapter in treating every sin by repentance · Hadith 7112

شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في الحلم و التؤدة و الرفق في الأمور كلها · حديث 8434

8434 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن قالا نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري ثنا محمد بن مصعب نا الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير : أن سليمان بن داود عليه السلام قال لابنه يا بني إياك و المراء فإن نفعه قليل و هو يهيج العدوة بين الإخوان

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور احمد بن حسن نے دونوں نے کہا کہ ان کو خبر دی ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو محمد بن مصعب نے ان کو اوزاعی نے ان کو یحییٰ بن ابی کثیر نے کہ سلیمان بن داؤد علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے فرمایا اے بیٹے بچاناتم اپنے آپ کو جھگڑا کرنے سے بے شک اس کا فائدہ کم ہے اور وہ عداوت و دشمنی کو ابھارتا ہے دوستوں و بھائیوں کے درمیان ۔

يحيى بن أبي كثير أن سليمان بن داود ← الْاَوْزَاعِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أحمد بن الحسن

Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separated in the dream, support and kindness in all matters · Hadith 8434

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في الطبع على القلب أو الرين · حديث 7213

7212 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل الصفار نا الحسن بن علي بن عفان نا ابن نمير عن الأعمش عن عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن حذيفة قال : قيل يا أبا عبد الله أكفر بنو إسرائيل في يوم واحد قال : لا ولكن عرضت عليهم فتنة فأبوا أن يركبوها فضربوا عليها حتى ركبوها ثم عرضت عليهم أكبر منها فقالوا : لا نركب هذه أبدا فضربوا عليها حتى ركبوها فانسلخوا من دينهم كما ينسلخ الرجل من قميصه قال أحمد : قال أصحابنا : والختم على القلب والطبع بمعنى واحد ومن طبع على قلبه في ذنب لم يتب منه أبدا قال الله عز و جل : { إن الذين كفروا سواء عليهم أأنذرتهم أم لم تنذرهم لا يؤمنون } فأيس نبيه صلى الله عليه و سلم من إيمانهم وأشار إلى سبب ذلك وعلته فقال { ختم الله على قلوبهم وعلى سمعهم وعلى أبصارهم غشاوة } ومعنى الختم التغطية على الشيء الاستيشاق منه حتى لا يدخله شيء فقوله ختم الله على قلوبهم أي طبع الله والخاتم بمنزلة الطابع والمعنى أنها لا تعقل ولا تعي خيرا فأخبر أنه حال بينهم وبين الدواعي إلى الإيمان أن يخلص إلى قلوبهم وحال بين قلوبهم وبين أبصار ما في الإيمان من الصواب فدل ذلك على أن الكافر مطبوع على قلبه مستحيل وجود الإيمان منه وقال : { أولئك الذين طبع الله على قلوبهم وسمعهم وأبصارهم وأولئك هم الغافلون } فأخبر أن المطبوع عليه غافل ووجود الفعل الذي شرطه الاختيار عن الغافل عنه غير ممكن وأصل الطبع في اللغة من الوسخ والدنس يغشيان السيف ثم يستعمل فيما يشبه الوسخ والدنس من الآثام والأقذار وغيرها من المقابح والاستثناء في قوله : { بل طبع الله عليها بكفرهم فلا يؤمنون إلا قليلا } من جماعة اليهود الذين ابتدأت القصة بذكرهم لا من المطبوع على قلوبهم ويجوز أن يكونوا مأمورين بالإيمان ولا يجوز وجوده منهم فقد أخبر الله عز و جل عن جماعة من الكفار أنهم لا يؤمنون والأمر بالإيمان غير زائل عنهم وأخبر أنه أوحى إلى نوح عليه السلام أنه لن يؤمن من قومك إلا من قد آمن ولذلك غرقهم ثم لا يجوز أن يقال الأمر بالإيمان زال عنهم ولعن إبليس وجعله شيطانا فصار ممن لا يؤمن ولا يتوب أبدا ولا يجوز أن يقال إن الأمر بالإيمان والتوبة زائل عنه فكذلك المطبوع على قلبه والله أعلم وهكذا كله معنى الحليمي وغيره من أهل العلم

ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل صفار نے ان کو حسن بن علی بن عفان نے ان کو ابن نمیر نے ان کو اعمش نے ان کو عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے ان کو حذیفہ نے وہ کہتے ہیں کہ کہا گیا اے ابو عبداللہ۔ کیابنی اسرائیل ایک دن میں کافر ہو گئے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ کوئی فتنہ ان کو پیش آتا تھا وہ اس میں ملوث ہونے سے انکار کر دیتے تھے پھر وہ فتنہ بار بار ان سے ٹکراتا رہتا یہاں تک کہ وہ اس میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ اس کے بعد پہلے سے کوئی اور بڑا فتنہ انہیں درپیش ہوتا تو وہ یہ کہتے کہ ہم اب اس فتنے میں مبتلا نہیں ہوں گے پھر وہ بار بار اس سے دوچار ہوتے ہوتے اس میں مبتلا ہوگئے (لہٰذا رفتہ رفتہ یوں فتنوں میں گھر کر) اپنے دین سے اس طرح نکل گئے جیسے کوئی آدمی قمیص سے باہر آ جاتا ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ کہ ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ: ختم علی القلب اور طبع علی القلب یعنی دل پر مہر لگنا اور دل طبع ہونا۔ ایک ہی معنی میں ہیں۔ جس شخص کے دل پر گناہ کی وجہ سے یا گناہ میں ٹھپہ لگ جائے، طبع ہو جائے وہ اس سے ہمیشہ توبہ نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ان الذین کفروا سواء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یؤمنون بے شک جو لوگ کافر و منکر ہو گئے ان کے اوپر برابر ہے آیا کہ آپ ان کو ڈرائیں یانہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ لہٰذا اللہ کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ایمان سے مایوس ہو گیا اور اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں اس مذکورہ بات کی علت اور اس کے سبب کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کی جہ یہ ہے: ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم وعلی ابصارھم غشاوۃ کیونکہ اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔ ختم کا معنی :۔۔۔۔۔ختم کامعنی ہوتا ہے کسی چیز پر ڈھک دینا اور اس کا یقین اور وثوق کر لینا کہ اس میں کوئی چیز داخل نہ ہو سکے گی۔ ختم اللہ علىٰ قلوبھم كا معنی :۔۔۔۔۔اس کا معنی ہے طبع اللہ۔ اللہ نے مہر کر دی۔ اور خاتم بمنزلہ طابع کے ہوتا ہے۔ چنانچہ معنی اور مطلب یہ ہے کہ ان کے دل میں نہ تو سمجھتے ہیں اور نہ ہی خیر کو محفوظ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ ان کے درمیان ایمان اور مقتضیات ایمان کے درمیان حائل اور رکاوٹ ہے اس سے کوئی چیز ان کے دلوں میں راستہ پا سکے۔ اور حائل ہے ان کے دلوں کے اور ان کی آنکھوں کے درمیان وہ چیز جو ایمان میں ہے صواب اور درست اور صحیح۔تو یہ بات اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کافروں کے دل مطبوع ہیں اور مہر زدہ ہیں لہٰذا ان سے ایمان کا وجود محال ہے۔ ارشاد باری ہے: اولئک الذین طبع اللہ علی قلوبھم وسمعھم وابصارھم واولئک ھم الغافلون وہی لوگ ہیں کہ مہر کر دی ہے اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر اور وہی لوگ غافل ہیں۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ مطبوع علیہ غافل ہے (یعنی جس پر مہر لگ چکی۔) اور کسی غافل سے ایسے فعل وجود میں آنا جس کے لئے اختیار شرط ہے ناممکن ہے اور لغت میں طبع کی اصل حقیقت میل کچیل ہے (وسخ اور دنس) جو تلوار کی دھار کو چھپا دیتے ہیں۔اس کے بعد طبع استعمال ہوتا ہے ان چیزوں کے بارے میں جو میل کچیل (وسخ اور دنس) کے مشابہ ہیں (اثام واقذار) گناہوں کی گندگیاں وغیرہ ہلاکتوں کے بارے میں (اس کے بعد مصنف نے ایک ممکنہ سوال کا جواب دیا ہے کہ ایک آیت میں مذکور استثناء سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگ مہر لگ جانے کے باوجود بھی ایمان لائیں گے؟) فرمایا کہ وہ استثناء جو اس آیت میں مذکور ہے: بل طبع اللہ علیھا بکفرھم فلا یؤمنون الا قلیلاً بلکہ اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر مہر مار دی ہے اب وہ ایمان نہیں لائیں گے مگر تھوڑے لوگ یہ استثناء یہود کی جماعت سے ہے۔ وہ یہود جن کے تذکرے کے ساتھ قصہ کی ابتداء ہوئی ہے۔ بیان لوگوں سے استثناء نہیں ہے۔ جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے (یعنی مطبوع القلوب سے) اور یہ جائز ہے ممکن ہے کہ وہ ایمان کے لئے مامور ہوں۔ لیکن ایمان کا وجود ان سے جائز اور ممکن نہیں ہے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کفار کی ایک جماعت کی طرف سے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے لیکن ایمان کے بارے میں حکم اور اصر ان سے زائل نہیں ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس نے نوح علیہ السلام کی طرف وحی کی تھی: انہ لن یؤمن قومک الامن قد اٰمن کہ تیری قوم میں سے ہرگز کوئی ایمان نہیں لائے گا مگر جو ایمان لا چکے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کو غرق بھی کیا۔ اس کے بعد یہ جائز نہیں ہے کہ یوں کہا جائے کہ امر بالایمان ان سے زائل ہو چکا تھا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو لعنت کی تھی اور اس کو شیطان کردیا تھا لہٰذا وہ ایسا جو گیا کہ ایمان نہیں لائے گا اور ہمیشہ کے لئے توبہ بھی نہیں کرے گا۔ مگر یہ جائز نہیں ہے کہ یوں کہا جائے کہ ایمان کا امر اور توبہ اس سے زائل اور ختم ہو چکے ہیں۔ یہی حال ان لوگوں کا بھی ہے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے۔ واللہ اعلم۔ اور اسی طرح ہے قول حلیمی کا معنی اور اس کے علاوہ دیگر اہل علم کے قول کا معنی۔

قيل يا أبا عبد الله أكفر بنو إسرائيل في يوم واحد ← حُذَيْفَةَ ← عبد الله بن عبد الرحمن بن أبي ليلى ← الْاَعْمَشِ ← ابْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in printing on the heart or the rain · Hadith 7213

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في الطبع على القلب أو الرين · حديث 7251

7251 - أخبرنا عبد الله بن يوسف سمعت أبا بكر محمد بن عبد الله الرازي سمعت أبا علي صاحب عبيد الله الحبلي يقول : أوحى الله عز و جل إلى داود عليه السلام أنين المذنبين أحب إلي من صراخ الصديقين

ہمیں خبر دی عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابو بکر محمد بن عبداللہ رازی نے انہوں نے سنا ابو علی صاحب عبیداللہ حبلی سے وہ کہتے تھے کہ اللہ نے داؤد علیہ السلام کی طرف وحی کی تھی کہ گناہگاروں کی آہ وزاری میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے صدیقین کے نعروں سے۔

أبا علي صاحب عبيد الله الحبلي ← أبا بكر محمد بن عبد الله الرازي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ،

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in printing on the heart or the rain · Hadith 7251

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7327

7327 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أنا أحمد بن عبيد الصفار نا أبو مسلم إبراهيم بن عبد الله نا سليمان بن حرب نا شعبة عن زبيد عن الشعبي عن البراء قال : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم في يوم النحر فقال : إن أول ما نبدأ به في يومنا هذا أن نصلي ثم نرجع فننحر فمن فعل ذلك فقد أصاب سنتنا ومن ذبح قبل أن يصلي فإنما هو لحم عجله لأهله وليس من النسك في شيء قال أبو بردة : جذعة خير من مسنة أجعلها مكانها قال : أذبحها قال : اذبحها ولا توفي لأحد بعدك قال : و نا أبو مسلم نا حجاج بن المنهال نا شعبة بإسناده نحوه رواه البخاري في الصحيح عن سليمان بن حرب و حجاج بن منهال وأخرجه من وجه آخر عن شعبة قال الإمام أحمد : وأمر الله عز و جل خليله إبراهيم عليه السلام أن يذبح ابنه فلما هم بذلك فداه بذبح عظيم فثبت أن التقرب بإراقة الدماء لوجه الله عز و جل سنة الأنبياء صلوات الله عليهم وأنها من جملة ما أمرنا بالاقتداء بهم فيه كما

ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو احمد بن عبید صفار نے ان کو ابو سلم ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو سلیمان بن حرب نے ان کو شعبہ نے ان کو زبیر نے ان کو شعبی نے ان کو براء نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا عید قربان کے دن اور فرمایا۔ بے شک پہلا کام ہم جس کے ساتھ آج دن کا آغاز کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم پہلے نماز پڑھیں گے اس کے بعد واپس آ کر قربانی کریں گے جس شخص نے ایسے کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر لیا بس وہ محض گوشت ہے اس نے جس کی جلدی کر لی ہے اپنے گھر والوں کے لئے یہ قربانی میں سے کوئی شے نہیں ہے۔ ابو بردہ نے کہا جذعہ بہتر ہے ایک مسنہ سے (دو سال والا بہتر ہے ایک سال والے سے) اسی کو اس کے قائم مقام کر لیجئے اس نے کہا کہ ذبح کر اس کو۔ فرمایا کہ ذبح کر اسکو۔ لیکن تیرے بعد کسی ایک کے لئے یہ پورا نہیں ہو گا (یعنی صرف تمہیں اجازت ہے۔) اور ہمیں خبر دی ابو مسلم نے ان کو حجاج بن منہال نے ان کو شعبہ نے اپنی اسناد کے ساتھ اسی کی مثل اور اس کو بخاری نے روایت کیا ہے صحیح میں۔سلیمان بن حرب سے اور حجاج بن منہال سے۔اور اس کو نقل کیا ہے دوسرے طریق سے شعبہ سے۔ امام احمد نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو حکم دیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کریں اس نے جب اس کام کا پکا ارادہ کر لیا تو اللہ نے ذبح عظیم کے بدلے میں چھڑا لیا۔ اس عمل سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ کے لئے خون بہا کر اللہ کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنا انبیا علیہم السلام کی سنت ہے اور یہ کام ہے جو مجموعی طور پر ان کاموں میں سے ایک ہے جن میں ہمیں انبیاء علیہم السلام کی اقتدار واتباع کرنے کا حکم ہے۔ جیسے درج ذیل حدیث سے ثابت ہے۔

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7327

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7328

7328 - أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري في قوله : ـ { إني أرى في المنام أني أذبحك } قال : أخبرني القاسم بن محمد قال : اجتمع أبو هريرة و كعب فجعل أبو هريرة يحدث عن النبي صلى الله عليه و سلم وجعل يحدث كعب عن الكتب فقال أبو هريرة قال النبي صلى الله عليه و سلم إن لكل نبي دعوة مستجابة وإني خبأت دعوتي شفاعة لأمتي يوم القيامة فقال له كعب : أنت سمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه و سلم ؟ قال : نعم قال : فداه أبي وأمي أولا أخبرك عن إبراهيم عليه السلام أنه لما أري ذبح ابنه إسحاق قال الشيطان : إن لم أفتن هؤلاء عند هذه لم أفتنهم أبدا فخرج إبراهيم بابنه ليذبحه فذهب الشيطان فدخل على سارة فقال : أين يذهب إبراهيم بابنك قالت : غدا به لبعض حاجته فقال : إنه لم يغد به لحاجة إنما ذهب به ليذبحه قالت : ولم يذبحه قال : يزعم أن ربه أمره بذلك قالت : فقد أحسن أن يطيع ربه فخرج الشيطان في أثرهما فقال للغلام : أين يذهب بك أبوك قال : لبعض حاجته قال : إنه لا يذهب بك لحاجة ولكنه يذهب بك ليذبحك قال : لم يذبحني قال : يزعم أن ربه أمره بذلك قال : فو الله لئن كان أمره بذلك ليفعلن قال : فيئس منه فتركه ولحق بإبراهيم فقال أين عدوت بابنك قال : لحاجة قال : فإنك لم تغد به لحاجة إنما غدوت به لتذبحه قال : ولم أذبحه قال : تزعم أن ربك أمرك بذلك قال : فو الله لئن كان الله أمرني بذلك لأفعلن قال : فتركه ويئس أن يطاع قال : { فلما أسلما وتله للجبين * وناديناه أن يا إبراهيم * قد صدقت الرؤيا إنا كذلك نجزي المحسنين } قال : فأوحى إلى إسحاق أن ادع فإن لك دعوة مستجابة قال إسحاق اللهم إني أدعوك أن تستجيب لي أيما عبد لقيك من الأولين والآخرين لقيك لا يشرك بك شيئا أن تدخله الجنة قال الحليمي رحمه الله : والمعنى في ذلك والله أعلم أن من حج واعتقد في حجه ما قدمنا ذكره في بابه من أنه قد انسلخ من زينة الدنيا وشهواتها وخلفها وراء ظهره وتاب من الذنوب طهر منها قلبه وجاء معتذرا متنصلا منيبا إلى ربه أمر أن يقرب بذلك قربانا يقربه له من بعض ما أحل له من بهيمة الأنعام حتى إذا رمى اتبعه نحره أو ذبحه وكان كأنه يقول : اللهم إني قد أتيت من التقصير في حقوقك وكسبت من السيئات ما لو كان لي إلى نحر نفسي سبيل لنحرتها عقوبة لها بما أسلفت من المعاصي ولكنك حرمت ذلك علي وأحللت لي بهيمة الأنعام وإني متقرب إليك بهديي هذا فاقبله مني واجعله فداء لي بمنك وطولك كما فديت ابن خليلك إبراهيم بالذبح العظيم برحمتك وفضلك واقبله مني كما قبلته من إبراهيم خليلك ومن محمد نبيك ورسولك ونحر وذلك بقلبه ويعتقده ويعلم أن هذا معنى قربانه وغرضه وإن قاله بلسانه فلا بأس ما قلته من هذا فهو في الأضحية مثله ليس بينهما فرق سوى أن ذلك هدي إلى البيت الحرام وهذا ليس بهدي وهما جميعا سنة مباشرة وليس بفرض لأن إخلاص التوبة تجزي عن الفدية كما تجزي عن الاستغفار لكن الاستغفار معها من أعظم السنن كذلك الفدية قال الإمام أحمد رحمه الله : ثم ذكر الحليمي ما جاء عن النبي صلى الله عليه و سلم فيما لا يجزي من الضحايا وهو ما

ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یحییٰ بن عبدالجبار سکری نے بغداد میں ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو زہری نے اللہ کے اس قول کے بارے میں انی اری فی المنام انی اذبحک اے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ زہری کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی قاسم بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت کعب اکٹھے ہوئے تو حضرت ابو ہریرہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کرنا شروع کی اور حضرت کعب نے کتب سابقہ سے لہٰذا ابو ہریرہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک ہر نبی کی ایک دعا مقبول ہوئی ہے اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کے لئے قیامت کے دن شفاعت کرنے کے لئے چھپا رکھی ہے؟ حضرت کعب نے ان سے کہا تم نے واقعی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے بولا کہ جی ہاں کی تھی۔ کعب نے کہا کہ میرے ماں باپ ان پر قربان ، کیا میں تجھے ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں خبر نہ دوں کہ انہوں نے جب اپنے بیٹے اسحاق کو ذبح کرنے کا خواب دیکھا تو شیطان نے کہا اگر میں نے آج ان لوگوں کو فتنے میں مبتلا نہ کیا تو میں آئندہ کبھی ان کو فتنے میں مبتلا نہیں کر سکوں گا۔ چنانچہ حضرت ابراہیم اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کے لئے لے کر نکلے تو شیطان بی بی سارہ کے پاس پہنچ گیا اور پو چھا کہ ابراہیم تیرے بیٹے کو کہاں لے کر گئے ہیں۔اس نے بتایا کہ وہ صبح صبح اس کو کسی کام سے لے کر گئے ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہ اس کو کسی کام کے لئے نہیں لے گئے بلکہ وہ اس کو ذبح کرنے کے لئے لے گئے ہیں۔ سارہ نے پو چھا کہ وہ اسے کیونکر ذبح کرنے لگے۔ کہا کہ ان کا گمان ہے خیال یہ ہے کہ ان کو ان کے رب نے اس بات کا حکم دیا ہے سارہ نے کہا کہ پھر تو اس نے یہ اچھا کیا کہ وہ اپنے رب کی اطاعت کریں گے۔ (وہاں سے نا کام ہو کر) پھر شیطان ان دونوں باپ بیٹوں کے پیچھے چلا گیا۔ اور جا کر لڑکے سے کہا کہ تیرے والد تجھے کہاں لے کر جا رہے ہیں بیٹے نے کہا کہ کسی ضروری کام کے لئے۔ شیطان نے کہا کہ نہیں کسی ضروری کام سے نہیں لے جا رہے بلکہ وہ تجھے اس لئے لے جا رہے ہیں تاکہ تجھے ذبح کریں۔ اس نے پوچھا کہ وہ مجھے کیوں ذبح کریں گے؟ کہا کہ ان کا خیال ہے کہ ان کو ان کے رب نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ بیٹے نے کہا کہ اگر ان کو رب نے حکم دیا ہے تو اللہ کی قسم وہ ضرور ایسا کریں۔ کعب نے کہا کہ پھر شیطان اس سے بھی مایوس ہو گیا اور اسے چھوڑ دیا اب ابراہیم علیہ السلام کے پاس پہنچ گیا اور کہنے لگا اے ابراہیم تو کہاں اپنے بیٹے کے ساتھ دشمنی کرنے جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا میں ان کو ضروری کام سے لے جا رہا ہوں اس نے کہا نہیں تم کوئی ضروری کام سے نہیں بلکہ تم اس کو ذبح کرنے لے جا رہے ہو۔ ابراہیم نے کہا کہ میں کیوں اس کو ذبح کروں گا کہا کہ تم یہ گمان کر تے ہو کہ تمہیں تمہارے رب نے اس کو ذبح کرنے کا حکم دیا ہے ابراہیم نے کہا کہ مجھےاللہ کی قسم ہے کہ اگر مجھے اللہ اس کے ذبح کرنے کا حکم دیتا تو میں ضرور اس کو ذبح کرتا چنانچہ شیطان نے ان کو بھی چھوڑ دیا اور مایوس ہو گیا کہ اس کی بات مانی جائے۔ اللہ نے فرمایا۔ فلما اسلما وتلہ للجبین ونا دیناہ ان یا ابراہیم قد صدقت الریاء انا کذالک تجزی المحسنین (۱۰۵/۱۰۳) کعب نے کہا کہ لہٰذا حضرت اسحٰق کی طرف وحی کی گئی کہ آپ چھوڑیے آپ کی ایک دعا قبول ہے۔ اسحٰق علیہ السلام نے دعا مانگی۔اے اللہ میں تجھ سے دعا مانگتا ہوں کہ میری دعا قبول فرما کہ تیرا جو بھی بندہ تجھے ملے خواہ وہ پہلوں میں سے ہو یا پچھلوں میں سے بشرطیکہ وہ تیرے ساتھ کسی شئی کوشریک نہ کرتا ہو اس کو آپ جنت میں داخل کرنا۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس میں مطلب (واللہ اعلم) یہ ہے کہ جو شخص حج کرے اور اپنے حج میں یہی عقیدہ رکھے جو اوپر ذکر ہوا۔ اسی کے باب میں کہ وہ شخص نکل چکا ہو دنیا کی زینت سے اور اس کی خواہشات سے، اور ان کو اپنی پیٹھ کے نیچے پھینک چکا ہو۔ اور گناہوں سے توبہ کر چکا ہو۔ اور گناہوں سے اس کا دل پاک ہو چکا ہو۔ اور وہ شخص آئے اپنے رب کے پاس معذرت کرنے والا، انابت ورجوع کرنے والا ،ا سے حکم دیا گیا کہ وہ اسی طریقے سے قربانی کرے ایسی قربانی جو کو اللہ کے قریب کر دے بعض ان چوپایوں اور مویشیوں میں سے، حتٰی کہ وہ جب رمی کر چکے تو اس کے بعد وہ قربانی کرے خواہ نحر کی صورت میں ہو یا ذبح کی صورت میں تو وہ شخص ایسے ہو گا گویا کہ وہ اپنی زبان حال سے یہ کہہ رہا ہے اے اللہ بے شک میں تیرے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کر چکا ہوں اور گناہوں کا ارتکاب کر چکا ہوں اس قدر کہ اگر مجھے اپنے آپ کو بھی قربان کرنے کا حکم دیا جاتا تو میں اس کو بھی قربان کر دیتا سزا کے طور ان گناہوں کی جو میں پہلے کر چکا ہوں مگر تو نے اس کو کیونکہ مجھ پر حرام کر دیا ہے اور میرے لئے تو نے چوپایوں اور مویشیوں کو قربان کرنے کو حلال کیا ہے۔ اور میں تیری بارگاہ میں تقرب حاصل کرتا ہوں اپنی اس قربانی کے ساتھ تو اس کو میری طرف سے قبول فرما۔ اور اس کو میرے لئے محض اپنے احسان کے ساتھ فدیہ اور بدلہ بنا محض اپنے احسان اور اپنی طاقت کے ساتھ۔ جیسے آپ نے اس کو فدیہ اور بدلہ بنایا تھا اسے خلیل ابراہیم کے بیٹے سے ذبح عظیم کے ساتھ محض اپنی رحمت اور فضل کے ساتھ اور اس کو آپ قبول کیجئے میری طرف سے جیسے آپ نے اس کو قبول کیا تھا اپنے خلیل ابراہیم سے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے نبی اور رسول سے۔ قربانی کرے اور یہ عمل اس کی دل سے ہو اور اس کا عقیدہ رکھے اور یقین رکھے اور جان لے کہ اس کی قربانی کا یہی مقصد ہے اور یہی غرض ہے اس کی۔ اگر یہی بات وہ اپنی زبان سے بھی کہے تو بھی اس میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے جو کچھ میں نے اس بارے میں کہا ہے۔ (اگر اس نیت سے اور اس عقیدے سے اور اسی طریقے سے قربانی کرے تو) وہ شخص قربانی کرنے میں حاجی کی طرح ہو گا دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہو گا۔ ہاں صرف یہی فرق ہو گا کہ حاجی قربانی کا جانور بیت اللہ کی طرف چلا کر لے جاتا ہے اور یہ جانور چلا کر نہیں لے جاتا یعنی وہ ھدی ہوتا ہے اور یہ ھدی نہیں ہوتا۔ مجموعی طور پر دونوں ایک دوسرے کے مشابہ سنت ہیں۔ فرض نہیں ہیں۔اس لئے کہ توبہ خالص کرنا فدیہ کے قائمقام ہوتا ہے جیسے فدیہ استغفار کے قائمقام ہوتا ہے لیکن استغفار توبہ کے ساتھ سب سے بڑی عظیم سنتوں میں سے ہے یہی حال فدیہ کا ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اس کے بعد حلیمی نے وہ احادیث ذکر کی ہیں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان جانوروں کے بارے میں آئی ہیں جن کی قربانی نہیں کی جا سکتی اور و ہ درج ذیل ہیں۔

الْكُتُبِ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ← کَعْبٍ ← النبي صلى الله عليه و سلم وجعل ← اجتمع أبو هريرة و كعب فجعل أبو هريرة ← الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← الزهري في قوله إني أرى في المنام أني أذبحك ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أبو محمد عبد الله بن يحيى بن عبد الجبار السكري ببغداد

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7328

شعب الإيمان · الثامن والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في القاربين والأمانة · حديث 7337

7337 - أخبرنا أبو بكر بن الحارث الفقيه أنا أبو محمد بن حبان نا محمد بن يحيى المروزي نا عاصم بن علي نا سلام بن مسكين عن عائذ الله عن أبي زيد بن أرقم قال : قالوا : يا رسول الله هذا الأضحى ؟ ما هو ؟ قال : سنة أبيكم إبراهيم عليه السلام قالوا : ما لنا منه قال : بكل شعرة حسنة قالوا : والصوف ؟ قال : بكل شعرة يعني حسنة

ہمیں خبر دی ابو بکر بن حارث فقیہ نے ان کو ابو محمد بن حبان نے ان کو محمد بن یحییٰ مروزی نے ان کو عاصم بن علی نے ان کو سلام بن مسکین نے ان کو عائذ اللہ نے ان کو ابو زید بن ارقم نے وہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے کہا یا رسول اللہ یہ کیا اور کیسی قربانیاں ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے لوگوں نے پوچھا کہ ہمارے لئے ان میں کیا ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ اون کے بارے میں کیا حکم ہے؟ فرمایا اون کے بھی ہر ایک بال کے بدلے میں ایک نیکی ہے۔

أبي زيد بن أرقم ← عَائِذِ اللهِ ← سَلَامُ بْنُ مِسْكِينٍ، ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَبَّانَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ،

Shuab ul Iman · Forty-eighth of the people of faith › It is a door in the boats and the secretariat · Hadith 7337

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8640

8640 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب نا محمد بن عبد الوهاب أنا جعفر بن عون أنا يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال : اختتن إبراهيم خليل الله عليه السلام و هو ابن عشرين ومائة سنة بالقدوم ثم عاش بعد ذلك ثمانين سنة فقال سعيد فكان إبراهيم عليه السلام أول من اختتن و أول من رأى الشيب فقال : يا رب ما هذا فقال وقارا يا إبراهيم قال رب زدني وقارا و أول من أضاف الضيف و أول من جز شاربه و أول من قص أظافره و أول من استحد هذا هو الصحيح موقوف

اور ہمیں خبر دی ہے ابوز کر یا بن ابی اسحاق نے ان کو ابوعبداللہ محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے ان کو جعفر بن عون نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو سعید بن مسیب نے ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہ کہتے ہیں حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ختنہ کیا تھا اس وقت وہ ایک سوبیس سال کے تھے۔ مقام قدوم پر ( یا مراد ہے کہ بسولی کے ساتھ کیا تھا )اس کے بعد وہ اسی برس زندہ رہے۔سعید نے کہا ابراہیم علیہ السلام پہلے شخص تھے جنہوں نے ختنہ کیا تھا اور پہلے شخص تھے جنہوں نے سفید بال دیکھے تھے انہوں نے کہا اے میرے رب یہ کیا ہے؟ اللہ نے فرمایا اے ابراہیم ہم نے تجھے یہ عزت بخشی ہے انہوں نے کہا اے میرے رب میری عزت وقار میں اور اضافہ فرما۔اور ابراہیم علیہ السلام پہلے شخص تھے جنہوں نے مہمان کو ضیافت دی تھی ۔ اور پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنی مونچھیں کاٹی تھیں ۔اور پہلے شخص تھے جنہوں نے اپنے ناخن کاٹے تھے ۔ اور پہلے شخص تھے جنہوں نے استرااستعمال کیا تھا۔ مراد ہے کہ (انہوں نے زیر ناف صاف کیا )یہ صحیح ہے مگر موقوف روایت ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8640

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حقوق الأولاد والأهلين · حديث 8642

8642 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني نا إسحاق بن إبراهيم أنا عبد الرزاق عن معمر عن يحيى بن سعيد عن ابن المسيب قال : إبراهيم عليه السلام أول من اختتن و أول من قرى الضيف و أول من رأى الشيب قال فلما رأى الشيب قال : أي رب ما هذا ؟ قال : هذا وقار وحلم قال أي رب فزدني وقارا و اختتن و هو ابن عشرين ومائة سنة و اختتن بالقدوم ومات و هو ابن مائتي سنة قال عبد الرزاق و اختتن بالقدوم قال عبد الرزاق اسم قرية هكذا أخبرني معمر لا يشك فيه قلت : كذا قال عبد الرزاق عن معمر و قيل أراد به الآلة فقد روى في بعض الأحاديث أنه عجل قبل أن يعلم الآله و الله أعلم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابو عبداللہ محمد بن علی صنعانی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو یحییٰ بن سعید نے ان کو ابن مسیب نے فرمایا ابراہیم علیہ السلام نے کہ پہلا شخص تھا جس نے ختنہ کیا اور جس نے مہمان کی ضیافت کی اور جس نے بڑھاپا دیکھا جب سفید بال دیکھے تو عرض کی اے رب یہ کیا ہے؟ فرمایا کہ یہ وقار ہے اور برد باری ہے انہوں نے عرض کی اے میرے رب میری عزت وقار کو اور زیادہ فرما۔اور انہوں نے ختنہ کیا جب کہ وہ ایک سوبیس برس کے تھے انہوں نے بسولی کے ساتھ ختنہ کیا ( یا مقام قدوم میں کیا )اور جب فوت ہوئے تو اس وقت وہ دوسو برس کے تھے۔ عبدالرزاق نے کہا کہ انہوں نے بسولی کے ساتھ ختنہ کیا (یق مقام قدوم میں کیا) عبدالرزاق نے کہا کہ یہ بستی کا نام ہے۔اسی طرح مجھے خبر دی ہے معمر نے اس میں شک نہیں ہے ۔ میں کہتا ہوں اسی طرح کہا ہے عبدالرزاق نے معمر سے اور کہا گیا ہے کہ قدوم سے مراد وہ آلہ ہے جس کے ساتھ انہوں نے ختنہ کیا تھا۔ تحقیق بعض احادیث میں مروی ہے کہ انہوں نے جلدی کی تھی اس سے قبل کےوہ ختنہ کرنے کے آلے کو جانتے ۔ واللہ اعلم ۔

ابْنِ الْمُسَيِّبِ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← أبو عبد الله محمد بن علي الصنعاني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › And it is a section in the rights of children and parents · Hadith 8642

شعب الإيمان · التاسع و الأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في فضل الإمام العادل و ما جاء في جور الولاة ـ · حديث 7388

7388 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الفضل محمد بن إبراهيم نا إسماعيل بن يحيى بن حازم السلمي نا الحسين بن منصور نا مبشر بن عبد الله عن نشهل عن داود بن أبي هند عن الحسن : أن بني إسرائيل سألوا موسى عليه السلام قالوا : سل لنا ربك يبين لنا علم رضاه عنا و علم سخطه ؟ فسأله فقال : يا موسى أبلغهم أن رضاي عنهم أن أستعمل عليهم خيارهم و أن سخطي عليهم أن أستعمل عليهم شرارهم

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوالفضل محمد بن ابراہیم نے ان کو اسماعیل بن یحییٰ بن حازم سلمی نے ان کو حسین بن منصور نے ان کو مبشر بن عبداللہ نے ان کو نہشل نے ان کو داؤد بن ابو ہند نے ان کو حسن نے یہ کہ بنی اسرائیل نے موسی ٰعلیہ السلام سے درخواست کی کہ وہ ہمارے لئے بیان کر دے ہم سے اپنے رب کی رضا اور ناراضگی کا ؟ موسی ٰعلیہ السلام نے اللہ تعالی ٰ سے پوچھا تو اللہ تعالی ٰ نے فرمایا اے موسیٰ ان کو بتادے کہ میں جب ان سے راضی ہوں گا تو ان میں سے بہترین لوگوں کو ان پر حکمراں بناؤں گا اور جب میں ان سے ناراض ہوں گا تو ان پر ان میں سے بدتر لوگوں کو ان پر مسلط کروں گا۔

سل لنا ربك يبين لنا علم رضاه عنا و علم سخطه فسأله ← الحسن أن بني إسرائيل سألوا موسى ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← نشهل ← مُبَشِّرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إسماعيل بن يحيى بن حازم السلمي ← أبو الفضل محمد بن إبراهيم ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · The forty-ninth of the people of faith › Chapter on the virtue of the just Imam and what came about the injustice of the governors · Hadith 7388

chevron_left Previous
1…202122…226
Next chevron_right