شعب الإيمان · الثامن عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ـ · حديث 1894
1894 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا أبو عمرو بن السماك ثنا الحسن بن عمرو قال : سمعت بشرا يقول : أوحى الله عز و جل إلى داود عليه السلام
يا داود لا تتخذ بيني و بينك عاملا مفتونا فيصدك بشكره عن طريق محبتي أولئك قطاع طريق عبادي
ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن بشران نے ان کوابو عمرو بن سماک نے ان کو حسن بن عمرو نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا بشر سے وہ کہتے ہیں ۔ کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف وحی کی تھی۔ اے داؤد میرے اور اپنے درمیان کوئی ایسا عامل نہ بنانا جو فتنہ میں پڑ چکا ہو ، اس لئے کہ وہ آپ کو اپنے شکر ئیے کے ساتھ میری محبت کے راستے سے روک دے گا وہی لوگ میرے بندوں کے راستے میں ڈاکو ہیں۔
Shuab ul Iman · Eighteenth people of faith › Separation · Hadith 1894
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في إدمان تلاوة القرآن ـ · حديث 2034
2034 - أخبرنا أبو سعد الزاهد ثنا أبو سعد العلائي ثنا عمران بن موسى السجستاني ثنا عثمان بن أبي شيبة ثنا محمد بن بشر ثنا مسعر عن عمرو بن مرة عن أبي عبيدة قال : قالت امرأة لعيسى عليه السلام : طوبى لبطن حملك و طوبى لثدي أرضعك قال طوبى لمن قرأ كتاب الله و اتبع ما فيه
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ہے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو سعید بن عامر نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو یونس بن جبیر نے ہم جندب کے مصاحب ہوئے جب ہم مقام حض الکاب میں پہنچے ہم نے ان سے کہا کہ آپ ہمیں وصیت کیجئے انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں اور تمہیں قرآن کے ساتھ وصیت کرتا ہوں ۔ وہ تاریک رات کو روشن کر دیتا ہے اور دن کو رہنمائی کرتا ہے ۔ اس کو پڑھو جس حال میں بھی ہو سکے مشقت ہو فاقہ اور اگر تیرے سامنے کوئی آزمائش آجائے بس پھر اپنے خون کے علاوہ سب کچھ کر دے (یعنی قربان کردے ) اگر تجھ سے آزمائش اور مصیبت ٹل جائے تو جو کچھ تیرے پاس ہے اس کو قربان کرے ماسوا اپنےدین کے کیونکہ کٹا ہوا درحقیقت وہ ہوتا ہے جس کا دین لٹ جائے برباد اور ویران درحقیقت وہ ہوتا ہے جس کا دین برباد ہو جائے اس لئے کہ جنت جانے کے بعد کوئی فاقہ نہیں ہوگا اور جہنم میں جانے کے بعد کوئی غنی ہونا فائدہ نہیں دے گا اس لئے کہ جہنم اپنے فقیر کو غنی نہیں بناتی اور اپنے قیدی کو رہائی نہیں دلواتی ۔ یہی جندب کے قول میں سے محفوظ ہے اور اس کو اسی طرح روایت کیا ہے سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے۔
طوبى لمن قرأ كتاب الله و اتبع ما فيه ← امرأة لعيسى طوبى لبطن حملك و طوبى لثدي أرضعك ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← مِسْعَرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عمران بن موسى السجستاني، ← أبو سعد العلائي ← أبو سعد الزاهد
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Chapter on Quran recitation addiction · Hadith 2034
شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الأول فيما يحل ويحرم من الحيوانات · حديث 5682
5683 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف الفراء بمكة ثنا أبو طاهر محمد بن أحمد بن عبد الله إملاء ثنا الحسين بن عمر الكوفي ثنا العلاء بن عمرو الحنفي ثنا عبد الله بن مسعر بن كدام عن هشام بن حسان عن الحسن قال : قيل ليوسف عليه السلام : تجوع وخزائن الأرض بيدك قال : إني أخاف أن أشبع فأنسى الجياع
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ محمد بن فضل بن نظیف فراء نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابو طاہر محمد بن احمد بن عبداللہ نے بطور املا ء سے ان کو حسین بن عمر کوفی نے کو علاء ابن عمرو حنفی نے ان کو عبداللہ بن مسعر بن کدام نے ان کو ہشام بن حسان نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام سے کہا گیا آپ بھوکے رہتے ہیں حالانکہ زمین کے خزانے آپ کے ہاتھ میں ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ مجھے ڈر لگتا ہے کہ میں سیر ہو کر کہیں بھوکوں کو نہ بھول جاؤں۔
إني أخاف أن أشبع فأنسى الجياع ← قيل ليوسف تجوع وخزائن الأرض بيدك ← الْحَسَنِ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مِسْعَرِ بْنِ كِدَامٍ، ← الْعَلَاءُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ ← الحسين بن عمر الكوفي ← أبو طاهر محمد بن أحمد بن عبد الله إملاء ← أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف الفراء بمكة
Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The first chapter in what is permissible and deprived of animals · Hadith 5682
شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5768
5769 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد عبد الرحمن بن أبي حامد المقرئ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الخضر بن أبان ثنا سيار بن حاتم ثنا جعفر بن سليمان حدثني ثابت و عبد الوهاب بن أبي حفص قال : أمسى داود عليه السلام صائما فلما كان عند إفطاره أتي بشربة لبن فقال : من أين لكم هذا اللبن قالوا من شاتنا قال : ومن أين ثمنها قالوا : يا نبي الله من أين تسأل قال : إنا معاشر الرسل أمرنا أن نأكل من الطيبات ونعمل صالحا
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ اور ابو محمد (اصل نسخہ میں لفظ بن بھی ہے) عبدالرحمٰن بن ابی حامد مقری نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو حضر بن ابان نے ان کو سیار بن حاتم نے ان کو جعفر بن سلیمان نے ان کوثابت اور عبدالوہاب بن ابو حفص نے وہ کہتے ہیں کہ داؤد علیہ اسلام نے شام کی ، روزہ دار تھے جب افطار کا وقت ہوا تو ان کے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا انہوں نے پوچھا کہ یہ کہاں سے آیا ؟ بتایا گیا کہ ہماری بکریوں کا ہے ان کی قیمت کہاں سے آئی ہے انہوں نے کہا اے اللہ کے نبی! آپ کہاں سے پوچھ رہے ہیں یا کیوں پوچھ ر ہے ہیں؟ فرمایا: ہم لوگ رسولوں کی جماعتیں ہیں ہمیں حکم ملا ہے کہ ہم حلال کھائیں اور عمل صالح کریں۔
ثابت و عبد الوهاب بن أبي حفص ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ، ← الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو محمد عبد الرحمن بن أبي حامد المقرئ
Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5768
شعب الإيمان · لتاسع والثلاثون من شعب الإيمان ‹ الفصل الثالث في طيب المطعم والملبس واجتناب الحرام واتقاء الشبهات · حديث 5790
5791 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن الحسن و محمد بن موسى ثنا أبو العباس الأصم ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا أبو صالح ح وأخبرنا أبو عثمان سعيد بن محمد بن محمد بن عبدان النيسابوري أنا أبو بكر محمد بن المؤمل بن الحسن بن عيسى ثنا الفضل بن محمد ثنا أبو صالح ثنا معاوية بن صالح كذا عن يحيى بن سعيد عن خالد بن معدان بن المقدام بن معدي كرب صاحب النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : ما أكل طعاما خيرا من أن يأكل من عمل يديه
قال : وكان داود عليه السلام لا يأكل إلا من عمل يديه لفظهما سواء غير أنه ليس في رواية الصغاني صاحب النبي صلى الله عليه و سلم أخرجه البخاري من وجه آخر عن خالد بن معدان
ہمیں خبر دی ابو بکر احمد بن حسن اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابو العباس اصم نے ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے ان کو ابو صالح نے ’’ح‘‘ اور ہمیں خبر دی ابو عثمان سعید بن محمد بن محمد بن عبدان نیسا پوری نے کو ابو بکر محمد بن مؤمل بن حسین بن عیسیٰ نے ان کو فضل بن محمد نے ان کو ابو صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے اسی طرح یحییٰ بن سعید سے اس نے خالد بن معدان بن مقدام بن معد یکرب صاحب نبی سے اس نے نبی کر میر صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ انہوں نے فرمایا: کوئی شخص ایسا نہیں جو اپنے ہاتھوں کی کمائی سے زیادہ بہتر کوئی طعام کھائے۔ فرمایا کہ داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سوا نہیں کھاتے تھے دونوں روایتوں کے الفاظ برابر ہیں سوائے اس کے کہ صنعانی کی روایت میں صاحب نبی کے الفاظ نہیں ہیں۔ اور بخاری نے اس کو روایت کیا ہے دوسرے طریقہ سے خالد بن معدان سے۔
يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← معاوية بن صالح كذا ← أَبُو صَالِحٍ، ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ بن الحَسَن بن عيسى ← أبو عثمان سعيد بن محمد بن محمد بن عبدان النيسابوري ← أَبُو صَالِحٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ← أبو بكر أحمد بن الحسن و محمد بن موسى
Shuab ul Iman · For the thirty-ninth of the people of faith › The third chapter on good food and clothing, avoiding the forbidden and avoiding suspicions · Hadith 5790
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3718
3718 - حدثنا عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد أنا عبد الله بن محمد الأشعري نا إبراهيم بن محمد نا عبد الله بن عبد البصري نا عبد الله بن عبد الوهاب نا موسى بن سعيد الراسي عن هلال بن عبد السلام الوراني عن كعب الأحبار قال : أوحى الله عز و جل إلى موسى عليه السلام إني افترضت على عبادي الصيام و هو شهر رمضان يا موسى من وافى يوم القيامة و في صحيفة عشر رمضانات فهو من الأبدال و من وافى القيامة و في صحيفة عشرون رمضانا فهو من المخبتين ومن وافى القيامة و في صحيفته ثلاثون رمضانا فهو من أفضل الشهداء عندي ثوابا يا موسى إني آمر حملة العرش إذا دخل شهر رمضان أن يمسكوا عن العبادة فكلما دعا صائمو رمضان بدعوة أن يقولوا آمين و إني أوجبت على نفسي أن لا أرد دعوة صائمي رمضان
ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالملک بن ابو عثمان زاہد نے ان کو ابو عبداللہ بن محمد اشعری نے ان کو ابراہیم بن محمد نے ان کو عبداللہ بن عبدالبصری نے ان کو عبداللہ بن عبدالوہاب نے ان کو موسیٰ بن سعید راسی نے ان کو ہلال بن عبدالسلام الورانی نے ان کو کعب الاحبار نے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی تھی کہ میں نے اپنے بندوں پر روزے فرض کر دئیے ہیں اور وہ ماہ رمضان کے روزے ہیں۔ اے موسیٰ جو شخص قیامت کے دن آئے گ پورا کر کے اور اس کے اعمال نامے میں دس رمضان ہوئے وہ ابدالوں میں سے ہو گا اور جو شخص پورا کر کے قیامت کے دن آیا اور اس کے صحیفہ عمل میں بیس رمضان ہوئے وہ مخبتین میں سے ہو گا اور جو شخص قیامت میں آیا اور اس کے صحیفہ اعمال میں تیس رمضان ہوئے وہ شہداء سے افضل ہو گا۔ میرے نزدیک ثواب کے اعتبار سے۔ اے موسیٰ میں حکم دیتا ہون فرشتوں کو جو عرش اٹھانے والے ہیں جب رمضان آ جائے کہ وہ عبادت سے رک جائیں جب بھی روزہ دار رمضان میں کوئی دعا کریں بس یہ لوگ آمین کہیں اور میں اپنی ذات پر لازم کر لیا ہے کہ میں رمضان کا روزہ رکھنے والوں کی کوئی دعا رد نہیں کروں گا۔
كعب الأحبار ← هلال بن عبد السلام الوراني ← موسى بن سعيد الراسي ← عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← عبد الله بن عبد البصري ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← عبد الله بن محمد الأشعري ← عبد الملك بن أبي عثمان الزاهد
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3718
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ في ليلة العيد و يومهما · حديث 3719
3719 - و بإسناده عن كعب الأحبار قال : أوحى الله إلى موسى عليه السلام : يا موسى إني ألهم في رمضان السموات و الأرض و الجبال و الطير و الدواب و الهوام أن يستغفروا لصائمي رمضان : يا موسى أطلب ثلاثة ممن يصوم رمضان فصل معهم و كل اشرب معهم فإني لا أنزل عقوبتي و لا نقمتي في بقعة فيها ثلاثة ممن يصوم رمضان يا موسى إن كنت مسافرا فأقدم و عن كنت مريضا فمرهم أن يحملوك و قل للنساء و الحيض و الصبيان الصغار أن يبرزوا معك حيث يبرز صائمو رمضان عند تصرم رمضان فإني لو أذنت لسمائي و أرضي لسلمتا عليهم و لكلمتاهم و لبشرتاهم بما أخبرهم إني أقول عبادي الذين صاموا رمضان ارجعوا إلى رحالكم فقد أرضيتموني و جعلت ثوابكم من صيامكم أن أعتقكم من النار و أن أحاسبكم حسابا يسيرا و أن أقبل لكم العثرة و أن أخلف لكم النفقة و أن لا أفضحكم بين يدي أحد و عزتي لا تسألوني شيئا بعد صيام رمضان و موقفكم هذا من آخرتكم إلا أعطيتكم و لا تسألوني شيئا من أمر دنياكم إلا نظرت لكم
اور اسی اسناد کے ساتھ مروی ہے کہ کعب الاحبار سے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی تھی کہ اے موسیٰ بے شک میں رمضان میں الہام کرتا ہوں آسمانوں کو اور زمین کو اور پہاڑوں کو اور پرندوں کو اور چوپائیوں کو اور بلوں میں رہنے والے موذی جانوروں کو کہ وہ استغفار کریں رمضان کا روزہ رکھنے والوں کے لیے۔ اے موسیٰ تین چیزیں طلب کر ان لوگوں سے جو رمضان کا روزہ رکھتے ہیں۔ اس کے ساتھ نماز پڑھو ان کے ساتھ کھا پی بے شک میں اپنا عذاب نہیں اتاروں گا اور نہ ہی اپنی ناراضگی اس ٹکرائے زمین پر جس پر تین رمضان کے روزہ رکھنے والے موجود ہوں اے موسیٰ اگر تو مسافر ہوا کرے تو بیٹھ جا اور تو بیمار ہو تو ان کو کہہ وہ تجھ کو سواری دیں اور کہہ دے عورتوں سے اور ناپاکی والی خواتین سے اور چھوٹے بچوں سے کہ وہ تیرے ساتھ نکل کر آیا کریں جس جگہ رمضان کا روزہ رکھنے والے نکل کر آئیں۔ رمضان کے اختتام کے وقت بے شک میں اگر اجازت دے دوں اپنے آسمانوں سے اور اپنی زمین سے تو وہ ان روزہ رکھنے والوں کو سلام کریں اور ان سے بات چیت کریں اور ان کو بشارت دیں ان باتوں کی جو میں ان کو خبر دوں۔ بے شک میں کہوں گا کہ میرے وہ بندے جنہوں نے رمضان کے روزے رکھے ہیں واپس لوٹ جاؤ اپنے گھروں کو تم لوگوں نے مجھ کو راضی کر لیا ہے اور میں نے تمہارا ثواب تمہارے روزوں میں سے یہ بنا دیا ہے کہ میں تمہیں جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہوں اور میں تمہارا حساب آسان کر دوں گا اور میں تمہاری لغزش معاف کر دوں گا اور تمہیں اپنی طرف سے نفقہ دوں گا اور تمہیں میں کسی کے آگے رسوا نہیں کروں گا مجھے میری عزت کی قسم ہے تم جو بھی چیز مانگتے تھے بعد صیام رمضان کے اور میں اس کو تمہاری آخرت کی ضرورت سمجھتا تھا تو تمہیں وہ ضرور دے سکتا تھا اور جو چیز تم امر دنیا میں سے مانگتے تھے وہ تمہارے لیے محفوظ کر دیتا تھا۔
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › On the night of the feast and their day · Hadith 3719
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ تخصيص أيام العشر من ذي الحجة بالاجتهاد بالعمل فيهن · حديث 3748
3748 - أخبرنا أبو زكريا بن أبي إسحاق أنا أحمد بن الحسين بن يزيد القزويني نا محمد بن منده الأصبهاني نا الحسين بن حفص نا إسرائيل عن أبي إسحاق عن مسروق : ـ { و ليال عشر } قال العشر عشر الأضحى التي وعد الله عز و جل موسى عليه السلام و أتممناها بعشر
ہمیں خبر دی ہے ابو زکریا بن ابو اسحٰق نے ان کو احمد بن حسین بن یزید قزوینی نے ان کو محمد بن مندہ اصفہانی نے ان کو حسین بن حفص نے ان کو اسرائیل نے ان کو ابو اسحٰق نے ان کو منصور نے کہ ولیال عشر۔ فرمایا عشر وہ عشرہ اضحیٰ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ دیا تھا موسیٰ علیہ السلام کو اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ان تیس دنوں کی مدت کو اتممناھا بعشر: مزید دس دنوں کے ساتھ مکمل کیا تھا۔
مسروق و ليال عشر ← أَبِي إِسْحَاقَ ← اِسْرَائِیْلُ ← الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مَنْدَهْ الأَصْبَهَانِيُّ، ← أحمد بن الحسين بن يزيد القزويني ← أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Allocating the ten days of Dhu al-Hijjah with diligence to work on them · Hadith 3748
شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10008
10008 - أخبرنا الأستاذ أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن إبراهيم أنا محمد بن محمد بن بندوي نا عبد الله بن أحمد بن حنبل حدثني أبي نا محمد بن عبد الله بن الزبير نا سفيان عن زيد بن أسلم عن عبد الله بن عبيد بن عمير عن أبيه أنه قال : قال موسى عليه السلام : يا رب أرأيت إبراهيم و إسحاق و يعقوب أي شيء أعطيتهم قال : إن إبراهيم لم يعدل بي شيئا إلا اختارني عليه و أن إسحاق جاد لي بنفسه فهو على ما سواه أجود و أما يعقوب فما ابتليته ببلاء إلا ازداد بي حسن الظن
ہمیں خبر دی استاذ ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن ابراہیم نے ان کو محمد بن محمد بن بندی نے ان کو عبداللہ بن احمد بن حنبل نے ان کو ان کے والد نے ان کو محمد بن عبداللہ بن زبیر نے ان کو سفیان نے ان کو زید بن اسلم نے ان کو عبداللہ بن عبید بن عمیر نے ان کو ان کے والد نے انہوں نے کہا کہ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی اے میرے رب آپ نے دیکھا ہے کہ آپ نے ابراہیم اسحاق اور یعقوب علیہم السلام کو کون کون سی چیز عطا کی تھی۔ اللہ نے فرمایا کہ بے شک ابراہیم علیہ السلام نے کسی شئی کو میرے برابر نہ کیا بلکہ مجھے ہر چیز پر ترجیح دی اور یہ اسحاق علیہ السلام نے اپنے نفس میں میرے لئے سعی کی اور اپنے ماسوا پر زیادہ خوب تر تھے۔ اور بہرحال یعقوب علیہ السلام تو میں نے جب بھی اس کو کسی مصیبت میں آزمایا اس کا حسن ظن میرے ساتھ اور زیادہ ہوتا گیا۔
موسى يا رب أرأيت إبراهيم و إسحاق و يعقوب أي شيء أعطيتهم ← أَبِيهِ أَنَّهُ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← محمد بن محمد بن بندوي ← الْأُسْتَاذُ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10008
شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ذكر ما في الأوجاع و الأمراض و المصيبات من الكفارات · حديث 10077
10077 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ قال : سمعت أبا بكر محمد بن جعفر الأدمي ببغداد يقول : نا أبو العيناء نا عبد الله بن خبيق نا يوسف بن أسباط قال : سمعت سفيان الثوري يقول : ما أصاب إبليس من أيوب عليه السلام في مرضه إلا الأنين ثم قال سفيان لم يفقه عندنا من لم يعد البلاء نعمة و الرخاء مصيبة
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو بکر محمد بن جعفر آدمی سے بغداد میں وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ابو العیناء نے ان کو عبداللہ بن خبیق نے ان کو یوسف بن اسباط نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا سفیان ثوری سے وہ کہتے ہیں ایوب علیہ السلام کی طرف سے ابلیس کو سوائے رونے کے کچھ حاصل نہیں ہوا تھا۔ اس کے بعد سفیان نے کہا کہ جو شخص آزمائش کو نعمت اور راحت کو مصیبت شمار نہ کرے وہ ہمارے نزدیک سمجھدار اور فقیہ نہیں ہے۔
سفيان لم يفقه عندنا من لم يعد البلاء نعمة و الرخاء مصيبة ← ما أصاب إبليس من أيوب في مرضه إلا الأنين ثم ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← يُوسُفُ بْنُ أَسْبَاطٍ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خُبَيْقٍ، ← أَبُو الْعَيْنَاءِ، ← أبا بكر محمد بن جعفر الأدمي ببغداد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › A chapter on mentioning the atonement of pains, illnesses, and calamities · Hadith 10077
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ صوم ثلاثة أيام من كل شهر و ما جاء في صوم الاثنين و الخميس و الجمعة و ما جاء في صوم داود عليه السلام · حديث 3844
3844 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا إبراهيم بن مرزوق نا أبو داود الطيالسي نا حماد بن زيد
و أخبرنا أبو علي الروذباري أنا أبو بكر بن داسه نا أبو داود نا سليمان بن حرب و مسدد قالا نا حماد بن زيد عن غيلان بن جرير عن عبد الله بن معبد الزماني عن أبي قتادة قال : إن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله كيف نصوم ؟
قال : فغضب رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما رأى ذلك عمر قال : رضينا بالله ربا و بالإسلام دينا و بمحمد نبيا نعوذ بالله من غضب الله و من غضب رسول الله فلم يزل عمر يرددها حتى سكن من غضب النبي صلى الله عليه و سلم قال يا رسول الله كيف بمن يصوم الدهر أو كله قال : لا صام و لا أفطر قال مسدد أو لم يصم و لم يفطر شك غيلان قال يا رسول الله : فكيف بمن يصوم يومين و يفطر يوما ؟ قال أو يطيق ذلك أحد
قال يا رسول الله فكيف بمن يصوم يوما و يفطر يومين ؟ قال : وددت أني أطقت ذلك قال يا رسول الله فكيف بمن يصوم يوما و يفطر يوما قال : ذلك صوم داود عليه السلام ثم قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
ثلاث من كل شهر و رمضان إلى رمضان فهذا صيام الدهر كله و صيام عرفة إني احتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله و السنة التي بعده و صوم عاشوراء إني احتسب على الله أن يكفر السنة التي قبله
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ابراہیم بن مرزوق نے ان کو ابو داؤد طیالسی نے ان کوحماد بن زید نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابو علی روذباری نے ان کو ابو بکر بن داستہ نے ان کو ابو داؤد نے ان کو سلیمان بن حرب نے اور مسدد نے دونوں کو حماد بن زید نے ان کو غیلان بن جریر نے ان کو عبداللہ بن معبد زمانی نے ان کو ابو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ہم روزے کیسے رکھیں ؟ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ناراض ہو گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جب یہ کیفیت دیکھی تو کہنے لگے :رضینا باللہ ربا ،وبالاسلام دینا وبمحمد نبیا نعوذ باللہ من غضب اللہ ومن غضب رسولہ "ہم اللہ کے رب ہونے پر راضی ہیں اسلام کے دین ہونے پر راضی ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے نبی ہونے پر راضی ہیں ہم اللہ کی پناہ مانگتے ہیں اللہ کے غضب سے اور اس کے رسول کے غضب سے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بار بار یہ الفاظ دہراتے رہے حتیٰ کہ نبی کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا تو عرض کیا یا رسول اللہ جو زندگی بھر کا روزہ رکھے یا پورا سال رکھے وہ کیسا ہے ؟حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ ہی نہ رکھا ۔مسدد نے کہا کہ یا نہ روزہ رکھا ہے نہ ہی افطار کیا ہے یہ غیلان کو شک ہوا ہے پھر انہوں نے سوال کیا یا رسول اللہ وہ کیساہے جو دو دن روزہ رکھے اور ایک دن رکھے؟حضور نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی توفیق ہو جائے پھر انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ وہ کیسا ہے جو ایک دن رکھے اور دوسرے دن نہ رکھے آپ نے فرمایا کہ یہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا ہر ماہ تین دن کے روزے اور رمضان آئندہ رمضان تک یہی سال بھر کا روزہ ہے اور عرفہ کا روزہ میں اللہ سے امید کرتا ہوں کہ وہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد والے کا کفارہ بن جائے گا اور عاشورے کا روزہ میں امید کرتا ہوں کہ گزشتہ ایک سال کا کفارہ بن جائے ۔
إن رجلا أتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال ← أَبِي قَتَادَةَ، ← عَبْد اللَّه بْنُ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيُّ، ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سليمان بن حرب و مسدد ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ و ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Fasting three days of each month and what was mentioned in the fast of Monday, Thursday and Friday, and what was mentioned in the fast of David, peace be upon him · Hadith 3844
شعب الإيمان · السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 10172
10172 - أخبرنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار نا أحمد بن منصور نا عبد الرزاق عن قتادة قال : فرح صاحبا موسى عليه السلام بالغلام حين ولد لهما و جزعا عليه حين مات و لو عاش كان فيه ملكتهما فرضي امرأ قضاه الله فإن خيرة الله للمؤمن فيما يكره أكثر من خيرته فيما يحب
ہمیں خبر دی ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبد الرزاق نے ان کو معمر نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں موسیٰ علیہ السلام کے دو ساتھیوں کے ہاں غلام پیدا ہوا ہے تو وہ بہت خوش ہوئے اور جب وہ فوت ہوا تو بہت بے صبری کی انہوں نے کہ اگر وہ زندہ رہتا تو دونوں اس کے مالک ہوتے۔ پس ایک راضی ہو گیا اللہ کے حکم پر جو اللہ نے اس کے لئے مقدر کیا تھا۔ بے شک تک اللہ تعالیٰ کی پسند مومن کے لئے ان چیزوں میں جو وہ ناپسند کرتا ہے زیادہ ہوتی ہے ان امور میں پسند سے جن کو وہ پسند کرتا ہے۔
Shuab ul Iman · Seventy people of faith › Season · Hadith 10172
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3986
3986 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو العباس محمد بن يعقوب نا أحمد بن عبد الجبار العطاردي نا يونس بن بكير عن سعيد بن ميسرة البكري حدثني أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :
كان موضع البيت في زمن آدم عليه السلام شبرا أو أكثر علما فكانت الملائكة تحج إليه قبل آدم ثم حج آدم فاستقبلته الملائكة
قالوا يا آدم من أين جئت ؟ قال : حججت البيت فقالوا : قد حجته الملائكة قبلك
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو ابوا لعباس محمد بن یعقوب نے ان کو احمد بن عبدالجبار نے عطار دی نے ان کو یونس بن بکیر نے ان کو سعید بن میسرہ بکری نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے فرمایا : بیت اللہ کی جگہ آدم علیہ السلام کے زمانے میں ایک بالشت تھی یا زیادہ نشان کے اعتبار سے فرشتے اس کی طرف حج کرتے تھے آدم علیہ السلام سے قبل اس کے بعد آدم نے حج کیا اور فرشتوں نے اس کا استقبال کیا تھا ۔ فرشتوں نے پوچھا کہ اے آدم آپ کیسے آئے ہو ؟اس نے جواب دیا کہ میں نے بیت اللہ کا حج کیا ہے ۔ تو فرشتوں ان کو بتایا کہ تجھ سے قبل فرشتوں نے اس کا حج کیا ہے ۔
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Hadith of the Kaaba and the Grand Mosque and the entire Haram · Hadith 3986
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3987
3987 - و بهذا الإسناد نا يونس عن ثابت بن دينار عن عطاء قال : أهبط آدم بالهند فقال : يا رب ما لي لا أسمع صوت الملائكة كما كنت أسمعها في الجنة ؟ فقال له بخطيئتك يا آدم فانطلق فابن له بيتا تطوف به كما رأيتهم يتطوفون فانطلق حتى أتى مكة فبنى البيت فكان موضع قدمي آدم قرى و أنهارا و عمارة و ما بين خطاه مفاوز فحج آدم عليه السلام البيت من الهند أربعين سنة
اور اسی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی ہے یونس نے ان کو ثابت بن دینار نے ان کو عطاء نے اس نے کہا کہ آدم علیہ السلام اتارے گئے تھے ہندوستان میں انہوں نے کہا کہ اے میرے رب کیا بات ہے میں یہاں فرشتوں کی آواز نہیں سن رہا جیسے میں اسے جنت میں سنتا تھا ؟ اے آدم یہ سب تیری خطاء کی وجہ سے ہوا ہے ۔ اب تو جا اس کے لئے ایک گھر تعمیر کر اور اس کا طواف کر جیسے تو نے دیکھے کہ فرشتے اس کا طواف کر رہے ہیں آدم علیہ السلام چل پڑے حتٰی کہ مکے میں آ گئے اور بیت اللہ کو بنایا آدم علیہ السلام کے قدموں کے مقامات پر آج بستیاں آباد یاں اورنہریں یا عمارتیں ہیں اور ان کے قدموں کے درمیان کی جگہ جنگل اور میدان میں آدم علیہ السلام نے ہندوستان سے آکر بیت اللہ کے چالیس سال تک حج کئے ۔
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Hadith of the Kaaba and the Grand Mosque and the entire Haram · Hadith 3987
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3988
3988 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي أنا أبو محمد السمدي نا محمد بن إسحاق بن خزيمة الإمام عن بعض شيوخه نا أبو بدر شجاع بن الوليد نا زياد بن خيثمة عن أبي يحيى القتات عن مجاهد عن ابن عباس : أن آدم عليه السلام حج على رجليه من الهند أربعين حجة
ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمن سلمی نے ان کو ابو محمد سمدی نے ان کو محمد بن اسحٰق بن خزیمہ امام نے اپنے بعض شیوخ سے ان کو ابو بدر شجاع بن ولید نے ان کو زیاد بن خثیمہ نے ان کو ابو یحیی ٰ قتات نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عباس نے کہ آدم علیہ السلام نے پیدل ہندوستان سے چالیس سال تک حج کئے تھے۔
ابن عباس أن آدم حج على رجليه من الهند أربعين حجة ← مُجَاهِدٍ ← أبي يحيى القتات ← زِيَادُ بْنُ خَيْثَمَةَ، ← أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ← بَعْضِ، شُيُوخِهِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ الْإِمَامُ، ← أبو محمد السمدي ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Hadith of the Kaaba and the Grand Mosque and the entire Haram · Hadith 3988
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3989
3989 - أخبرنا أبو ذر بن أبي الحسن بن أبي القاسم المذكر و أبو الحسن علي بن محمد المقرىء قالا نا الحسن بن محمد بن إسحاق المهرجاني أنا محمد بن أحمد بن البراء أنا عبد المنعم بن إدريس حدثني أبي عن جده أبي أمه وهب بن منبه اليماني قال : لما تاب الله على آدم و أمره أن يسير إلى مكة فطوى له الأرض حتى انتهى إلى مكة فلقيته الملائكة بالأبطح فرحبت له و قالت له يا آدم إنا لمستطرك بر حجك أما إنا قد حججنا هذا البيت قبلك بألفي عام و أمر الله جبريل عليه السلام يعلمه المناسك و المشاعر كلها و انطلق به حتى أوقفه في عرفات و المزدلفة و بمنى و على الجمار و أنزل عليه الصلاة و الزكاة و الصوم و الاغتسال من الجنابة و ذكر وهب أن البيت كان على عهد آدم عليه السلام ياقوتة حمراء تلتهب نورا من ياقوت الجنة لها بابان شرقي و غربي من ذهب من تبر الجنة و كان فيها ثلاث قناديل من تبر الجنة فيها نور يلتهب بلهب منظوم بنجوم من ياقوت أبيض و الركن يومئذ نجم من نجومها ياقوتة بيضاء فلم يزل على ذلك حتى كان في عهد نوح عليه السلام
و قال في موضع آخر إن خيمة آدم و هي ياقوتة لم تزل في مكانها حتى قبض الله آدم ثم رفعها إليه و بنى بنو آدم في موضعها بيتا من الطين و الحجارة فلما يزل معمورا حتى كان زمن الغرق فرفع من الغرق فوضع تحت العرش و مكثت الأرض خرابا ألفي سنة فلم يزل على ذلك حتى كان زمن إبراهيم عليه السلام فأمره أن يبني بيته فجاءت السكينة إبراهيم عليه السلام كأنها سحابة فيها رأس تتكلم لها وجه كوجه الإنسان فقالت يا إبراهيم : خذ قدر ظلي فابن عليه لا تزد شيئا و لا تنقص فأخذ إبراهيم قدر ظلها ثم بنى هو و إسماعيل البيت و لم يجعل له سقف فكان الناس يلقون فيه الحلي و المتاع حتى إذا كاد أن يمتلىء استعد له خمس نفر ليسرقوا ما فيه فقام كل واحد على زاوية و انقحم الخامس فسقط على رأسه فهلك و بعث الله عند ذلك حية بيضاء سوداء الرأس و الذنب فحرست البيت خمسمائة عام لا يقرب أحد إلا أهلكته فلم يزل كذلك حتى بنته قريش
ہمیں خبر دی ابو ذر بن ابو الحسن بن ابو القاسم واعظ نے اور ابو الحسن علی بن محمد مقری نے دونوں نے کہا ان کو خبر دی حسن بن محمد بن اسحٰق مہرجانی نے ان کو محمد بن احمد بن براء نے ان کو خبر دی عبدالمنعم بن ادریس نے ان کو حدیث بیان کی ان کے والد نے ان کو ان کے نانا وہب بن مبہ یمانی نے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کی توبہ قبول کی اور مکے جانے کا حکم دیا تو زمین ان کے لئے لپیٹ دی گئی وار وہ مکے پہنچ گئے تو فرشتے ملے ان کو وادی ابطح میں انہوں نے ان کوخوش آمدید کہا اور اسے کہا کہ آدم ہم آپ کے حج کی نیکی لکھنے والے ہیں ۔ بہرحال ہم نے اس گھر کا حج کیا تھا دو ہزا رسال قبل تم سے ۔اور اللہ نے جبرائیل علیہ السلام جو حکم دیا تھا کہ وہ آدم علیہ السلام کو حج مناسک اور مشاعر سارے کے سارے سکھلائے اور ساتھ ساتھ لے گئے تھے حتٰی کہ ان کو عرفات میں لا کھڑا کیا اس کو عرفات میں مزدلفہ میں اورمنیٰ میں اور جمرات پر اور ان پر نازل کی نماز ،زکوٰۃ ، روزہ ،غسل جنابت ۔ اور وہب نے ذکر کیا کہ بیت اللہ آدم علیہ السلام کے عہد میں سرخ یاقوت کا بنا ہوا تھا جنت کے یاقوت سے روشنی نکلتی تھی ۔ اس کے دروازے تھے ایک مشرقی دوسرا مغربی دروازہ ٹکڑے جنت کے خالص سونے کے ۔ اور اس میں تین قندیلیں رتھیں جنت کے سونے کی (لالٹین ) ان میں روشنی تھی جو شعلے مارتی تھی جس کی کرنیں ستاروں کی کرنوں سے جڑی ہوئی تھیں ۔ اور وہ یاقوت ابیض سے تھیں اور رکن اس دن ایک ستارہ تھا اسی کے کونوں سے ہے یاقوت سفید ہمیشہ رہا وہ اسی کیفیت پر حتٰی کہ تھا عید نوح علیہ السلام میں اور دوسرے مقام پر کہا ہے کہ بے شک آدم علیہ السلام کا خیمہ یاقوت کا تھا ہمیشہ وہ اپنی جگہ رہتا تھا ۔ حتٰی کہ اللہ نے آدم علیہ السلام کو وفات دے دی پھر اس کو اپنی طرف اٹھا لیا اور اولاد آدم نے اس کی جگہ مٹی اور پتھر بنا دیا وہ ہمیشہ آباد رہا یہاں تک کہ غرق کا زمانہ آ گیا۔ پھر وہ غرق ہونے سے اٹھا لیا گیا اور عرش کے پیچھے رکھ دیا گیا ۔ اور دو ہزار سال تک زمین ویران پڑی رہی حتٰی کہ ابراہیم علیہ السلام کا زمانہ آ گیا پھر اللہ نے اسے حکم دیا کہ وہ اللہ کا گھر بنائے پس ایک سکینہ آیا ابراہیم علیہ السلام کے پاس گویا کہ وہ ایک بادل ہے اس میں ایک سر ہے وہ باتیں کرتا ہے اور ایک چہرہ جیسے انسان کا چہرہ اس نے کہا کہ اے ابراہیم میرے سائے کے برابر جگہ لے لو اور اس پر بنیاد رکھو اس سے کم کر اور نہ زیادہ کر کچھ بھی لہذا ابراہیم علیہ السلام نے س کے سائے کے بقدر جگہ لے کر اس پر تعمیر کی وہ اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہ السلام نے بیت اللہ بنایا ۔ اور اس کی چھت نہیں بنائی لہذا لوگ اس میں زیور اور سامان ڈالتے تھے حتٰی کہ جب بھر جانے کے قریب ہو گیا تو پانچ آدمی اس کو چرانے کے لئے تیار ہو جائے تاکہ جو کچھ اس میں ہے وہ اس کو چرا لیں ۔ لہذا ہر ایک انسان میں سے اپنے اپنے کونے سے کھڑا ہو گیا پانچواں نے گھسنے کی کوشش کی لہذا وہ سر کے بل گر کر مر گیا ۔اللہ نے اسی وقت ایک سانپ بھیجا جس سر سیاہ تھا ور دم بچی ۔ اس نے پانچ سو سال تک بیت اللہ کی حفاظت کی ۔ جو بھی اس کے قریب آتا وہ اس کو ہلاک کر دیتا ہمیشہ رہا معاملہ اس حالت پر حتٰی کہ قریش نے اس ک بنایا ۔
جده أبي أمه وهب بن منبه اليماني ← أَبِي ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ← و أبو الحسن علي بن محمد المقرىء ← أبو ذر بن أبي الحسن بن أبي القاسم الم
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Hadith of the Kaaba and the Grand Mosque and the entire Haram · Hadith 3989
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3990
3990 - قال : و ذكر عن عطاء عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه سأل كعبا فقال : أخبرني عن هذا البيت ما كان أمره ؟ فقال : إن هذا البيت أنزله الله من السماء ياقوتة مجوفة مع آدم عليه السلام فقال : يا آدم إن هذا بيتي فطف حوله وصل حوله كما رأيت ملائكتي تطوف حول عرشي و تصلي و نزلت معه الملائكة فرفعوا قواعده من حجارة ثم وضع البيت على القواعد فلما غرق الله قوم نوح رفعه الله و بقيت قواعده ذكر وهب أنه قرأ كتابا من الكتب الأولى وجد فيه ذكر أمر الكعبة فذكر أنه ليس من ملك يبعثه الله إلى الأرض إلا أمر بزيارة البيت فينقض من عند العرش محرما يلبي حتى يستلم الحجر ثم يطوف بالبيت أسبوعا ثم يدخل البيت فيركع في جوفه ركعتين ثم يصعد
انہوں نے کہا ۔ اور ذکر کیا گیا ہے عطاء سے اس نے عمر بن خطاب سے کہ انہوں نے حضرت کعب سے پوچھا مجھے اس گھر کے بارے میں بتائیے ۔ اس کا کیا معاملہ تھا ؟ انہوں نے فرمایا کہ اس گھر کو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے اتار تھا یہ اندر سے خالی یاقوت تھا ۔آدم علیہ السلام کے ساتھ ۔ اللہ نے فرمایا یہ میرا گھر ہے تم اس کے گرد طواف کرنا اور اس کے گرد نماز پڑھنا جیسے تم نے دیکھا کہ فرشتے میرے عرش کے گرد طواف کرتے ہیں ۔ اور نماز پڑھنا ۔ اور اس کے ساتھ فرشتے نازل ہوئے تھے انہوں نے اس کی پتھر کی بنیادیں اٹھائی تھیں ۔ اس کے بعد اس گھر کو ان بنیادوں پر رکھ دیا گیا جب اللہ تعالیٰ نے قوم نوح کو غرق کیا اللہ نے اس کو اٹھا لیا تھا اور باقی بنیاد یں وہ گئی تھیں ۔وھب نے ذکر کیا کہ اس نے پہلی کتابوں میں سے ایک پڑھی تھی ۔ اس میں اس نے کعبے کے معاملے کا ذکر پایا تھا اس میں یہ مذکور تھا کہ جو فرشتہ بھی زمین پر اترتا ہے تو اس کو حکم ہوتا ہے کہ وہ بیت اللہ کی زیارت کرے ۔ لہذا وہ عرش سے احرام باند ھ کر تلبیہ پڑھتے ہوئے اترتا ہے حتٰی کہ حجر اسود کا اتیلام کرتا ہے ۔ پھر بیت اللہ کا طواف کرتا ہے ایک ہفتے تک اس کے بعد بیت اللہ کے اندر داخل ہوتا ہے اس کے بیچ میں دو رکعت ادا کر کے اوپر چڑھ جاتا ہے ۔
عمر بن الخطاب سأل كعبا ← عَطَاءٍ، ← و،
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Hadith of the Kaaba and the Grand Mosque and the entire Haram · Hadith 3990
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3991
3991 - أخبرنا أبو نصر عمر بن قتادة أنا أبو الحسن محمد بن الحسن السراج نا أبو شعيب الحراني نا داود بن عمرو نا أبو الأحوص سلام بن سليم عن سماك بن حرب عن خالد بن عرعرة قال : أتيت الرحبة فإذا أنا بنفر جلوس قريب من ثلاثين أو أربعين رجلا فقعدت معهم فخرج علينا علي بن أبي طالب رضي الله عنه فما رأيته أنكر أحدا من القوم غيري فقال ألا رجل يسأل فينتفع و ينفع جلساءه قال : فقام رجل فقال : و الذاريات ذروا قال : الريح فما الحاملات وقرا ؟ قال : هي السحاب
قال : فما الجاريات يسرا ؟ قال : هي السفن قال : فما المقسمات أمرا ؟
قال : هي الملائكة قال : فما الجواري الكنس ؟ قال : هي الكواكب
قال : فما السقف المرفوع ؟ قال : السماء قال : فما البيت المعمور ؟
قال : بيت في السماء يقال له الضراح و هو بحيال الكعبة من فوقها حرمته في السماء كحرمة البيت في الأرض يصلي فيه كل يوم سبعون ألفا من الملائكة لا يعودون فيه أبدا
قال : ثم جلس الرجل فقال علي : ألا رجل يسأل فينتفع و ينفع جلساءه ؟
قال : فقام رجل و قال ما العاصفات عصفا ؟ قال : الريح
فقال له رجل : ألا تحدثني ماذا البيت أو هو أول بيت وضع في الأرض ؟
قال : لا و لكنه أول بيت وضع فيه البركة مقام إبراهيم و من دخله كان آمنا و إن شئت أنبأتك كيف بني إن الله عز و جل أوحى إلى إبراهيم عليه السلام أن ابن لي بيتا في الأرض فضاق إبراهيم بذلك ذرعا فأرسل الله إليه السكينة و هي ريح حجوج حتى انتهت إلى مكة و تطوفت موضع البيت و أمر إبراهيم أن يبني حيث تستقر السكينة قال : فبنى إبراهيم حيث استقرت السكينة
قال : و كان يبني هو و ابنه حتى بلغ موضع الحجر الأسود فقال إبراهيم لابنه ابغني حجرا قال : فذهب الغلام يبني ساقا فقال إبراهيم ابغني حجرا كما أمرتك قال : فذهب الغلام ليلتمس حجرا قال : فأتاه و قد ركب الحجر الأسود و في مكانه فقال له : يا أبه من أتاك بهذا الحجر ؟ قال : أتاني به من لم يتكل على بنائك جاء به جبريل عليه السلام من السماء قال : فبناه فمر عليه الدهر فانهدم فبنته العمالقة قال : فمر عليه الدهر فانهدم فبنته جرهم فمر عليه الدهر فانهدم فبنته قريش و رسول الله صلى الله عليه و سلم يومئذ رجل شاب فلما أرادوا أن يرفع الحجر الأسود و اختصموا فيه فقالوا ويحكم بيننا أول رجل يخرج من هذه السكة فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم أول من خرج عليهم فقضى بينهم أن يجعلوه في مرط ثم ترفعه جميع القبائل كلهم
ہمیں خبر دی ابو نصر عمر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن احمد بن حسن سراج نے ان کو شعیب حرزانی نے ان کو داؤد بن عمر نے ان کو احوض سلام بن سلیم نے ان کو سماک بن حرب نے ان کو خالد بن عر عرہ نے وہ کہتے ہیں میں لان میں آیا تو وہاں کچھ لوگ بیٹھے تھے تقریباً تیس یا چالیس افراد تھے میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا اتنے میں ہمارے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ تشریف لائے میرے سوا سب ان کو جانتے تھے اور آکر بولے کیا کوئی آدمی ہے جو کچھ پوچھے؟ وہ خود بھی فائدہ اٹھائے اور اس کے ہم نشین بھی ۔ خالد کہتے ہیں کہ ایک آدمی کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا ۔ اس آیت میں کیا مراد ہے ؟ؤالذاریات ذرواً"قسم ہے اڑانے والیوں کی جو اڑاتی ہیں اڑانا"۔ حضرت علی نے جواب دیا ۔الریح کہ ہوا مراد ہے ۔ پھر اس نے سوال کیا ۔ فلحاملات وقراً کیا چیز ہے ؟ اور قسم ہے بوجھ اٹھانے والیوں کی ۔ حضرت علی نے جواب دیا ۔ ھی السحاب ۔ یہ بادل مراد ہیں ۔ پھر اس بندے نے سوال کیا۔ اس سے کیا مراد ہے ۔ الجاریات یسراًً؟ قسم ہے نرمی اور آسانی سے چلنے والیوں کی ۔اس سے کیا مراد ہے حضرت علی نے جواب دیا ۔ ھی السفن :اس سے کشتیاں مراد ہیں پھر اس نے سوال کیا ۔ اس سے کیا مراد ہے۔المقسمات امراً ؟ قسم ہے امر کو تقسیم کرنے والیوں کی ۔ کیا مراد ہے اس سے ؟ حضرت علی نے جواب دیا ۔ ھی الملائکۃ : یہ فرشتے مراد ہیں۔ پھر اس نے سوال کیا کہ اس سے کیا مراد ہے ؟ الجواری الکنس ؟ قسم ہے الٹی چلنے والوں کی ۔ حضرت علی نے جواب دیا ۔ ھی الکواکب ۔ یہ ستارے مراد ہیں۔ پھر اس نے سوال کیا ۔اس سے کیا مراد ہے ؟السقف المرفوع ؟قسم ہے اونچی چھت کی ۔ حضرت علی نے جواب دیا ۔ السماء:آسمان مراد ہے ۔ پھر اس نے سوال کیا کہ اس سے کیا مراد ہے ؟ البیت المعمور ؟آباد گھر ؟ حضرت علی نے جواب دیا ۔ بیت فی السماء یقال الضراح: یہ آسمانوں میں ایک گھر ہے اس کا نام ضراح ہے وہ عین کعبے کے اوپر سیدھ ہے اور اوپر بالمقابل ہے اس کی حرمت و عزت آسمانوں میں اسی طرح ہے جس طرح زمین پر کعبے کی ہے اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں اور وہ دوبارہ لوٹ نہیں آتے ۔ یہ سوال کرنے اور ان کے جوابات سننے کے بعد وہ آدمی بیٹھ گیا ۔ اس کے بعد پھر حضرت علی نے کہا اور آدمی ہے جو کچھ پوچھے اور اس کو بھی فائدہ پہنچے اور اس کے ساتھیوں کو بھی ۔ خالد کہتے ہیں کہ پھر ایک آدمی کھڑا ہو گیا ۔ اور اس نے پوچھا اس آیت سےکیا مراد ہے ۔ فالعاصفات عصفاً ؟ تیروتند چلنے والیاں ۔ اس سے کیا مراد ہے ؟ حضرت علی نے جواب دیا ۔ الریح ۔ ہوا مراد ہے ۔ پھر اس آدمی نے پوچھا کہ کیا مجھے بتائیں گے کہ یہ بیت اللہ کیا ہے ؟ یا یوں کہا کہ کیا پہلا گھر ہے جو زمین پر رکھا گیا ہے ؟ حضرت علی نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ وہ پہلا گھر ہے جس میں برکت رکھی گئی مقام ابراہیم۔ اور ومن دخلہ کان امناً : جو بھی اس میں داخل ہوگا امن میں ہو گا ۔ اگر تم چاہو تو تمہیں میں بتاؤں کہ وہ کیسے بنایا گیا ۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف وحی کی ۔ کہ میرے لئے زمین پر ایک گھر بناؤ ۔ حضرت ابراہیم کے لئے کام مشکل گذر ا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سکینہ بھیجا نہ ایک گول کرنے اور گھومنے والی ہوا تھی حتٰی کہ وہ مکے میں پہنچی ۔ اور بیت اللہ کے مقام پر گھومنے اور طواف کرنے لگی ۔ اور ابراہیم علیہ السلام کو حکم ملا کہ جس جگہ یہ سکینہ رک جائے پس اسی جگہ وہ بنانا شروع کر دیں ۔ حضرت علی نے فرمایا کہ پھر اسی جگہ ابراہیم علیہ السلام نے اس کی بنیاد رکھی جہاں وہ ہوا کا بگولا رک گیا تھا ۔ حضرت علی نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے بیٹے اسماعیل کعبے کو بنانے لگے جب حجر اسود کے مقام تک پہنچے تو حضرت ابراہیم نے بیٹے سے کہا کہ مجھے کوئی پتھر تلاش کر دو ۔ چنانچہ لڑکا جا کر پتھروں کی ایک ڈھیری بنانے لگ گیا ۔ پھر حجرت ابراہیم نے اس سے کہا کہ مجھے پتھر تلاش کر دو جیسا میں نے تمہیں بتایا ہے حضرت علی کہتے ہیں کہ لڑکا تلاش کرنے لگا ۔ جب لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ حجر اسود اپنے مقام پر دیوار میں رکھا ہوا ہے ۔حضرت اسماعیل نے پوچھا کہ ابا جان یہ پتھر کون لایا ہے آپ کے پاس ؟ حضرت ابراہیم نے جواب دیا میرے پاس اس کو وہ لایا ہے جو تیری بنیاد اور تعمیر پر اسراً نہیں کرتا ۔ اس کو جبرائیل آسمان سے لائے ہیں ۔علی نے کہا کہ اس نے اس کو بنایا اور اس بنا پر ایک زمانہ غزر گیا ۔ پھر وہ عمارت منہدم ہو گئی پھر اس کو قبیلہ جرہم نے تعمیر کیا پھر اس پر زمانہ بیت گیا تھا کہ پھر عمارت منہدم ہو گئی پھر اس کو قریش نے تعمیر کیا اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآل وسلم جان آدمی تھے ۔ جب حجر اسود اٹھا کر رکھنے کا وقت آیا تو قریش کا اس بارے میں باہم جھگڑا ہو گیا ۔(حجر اسود کو نصب کرنے کی سعادت ہر قبیلہ خود حاسل کرنا چاہتا تھا ) اور پھر انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ کل جو شخص یہاں ٌپہلے موجود ہو ا وہ نصب کا فیصلہ کرے گا لہذا اگلے دن پہلے شخص رسول اللہ تھے جو وہاں آئے لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآل وسلم نے ان کے مابین فیصلہ کیا کہ وہ اس کو ایک چادر میں رکھیں پھر اس کو تمام قبائل کے لوگ مل کر اٹھائیں اور اس کو اوپر رکھ دیں چنانچہ سب نے ایسے ہی کیا ۔ جھگڑا ختم ہو گیا اور حجر اسود نصب بھی ہو گیا ۔
خَالِدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو، ← أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ ← أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ السَّرَّاجُ ← أبو نصر عمر بن قتادة
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Hadith of the Kaaba and the Grand Mosque and the entire Haram · Hadith 3991
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3996
3996 - و بإسناده نا آدم نا أبو الربيع السمان عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : لو أن إبراهيم عليه السلام خليل الرحمن كان قال : فاجعل أفئدة الناس تهوي لحجه اليهود و النصارى و لكن قال : فاجعل أفئدة من الناس فخص به المؤمنين
اپنی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی ہے آدم نے ان کو ابوالربیع سمان نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں اگر ابراہیم علیہ السلام خلیل الرحمٰن یوں دعا میں کہہ دیتے فاجعل انئدہ الناس تھوی سب لوگوں کے دلوں کو ایسا بنا دے جو جھک جائیں اس کی طرف ۔ تو یہود و نصاریٰ بھی کعبے کا حج کرتے مگر انہوں نے یوں کہا تھا دعا میں فاجعل افئدہ من الناس بعض لوگوں یا کچھ لوگوں کے دل ۔ایسے ایسے کر دینا گویا کہ انہوں نے اس دعا کے ذریعے مؤمنوں کو مخصوص کر لیا تھا ۔
فاجعل أفئدة من الناس فخص به المؤمنين ← فاجعل أفئدة الناس تهوي لحجه اليهود و النصارى و لكن ← لو أن إبراهيم خليل الرحمن كان ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← أبو الربيع السمان ← آدَمُ، ← و بإسناده
Shuab ul Iman · Twenty-fifth of the people of faith › Hadith of the Kaaba and the Grand Mosque and the entire Haram · Hadith 3996
شعب الإيمان · الخامس و العشرين من شعب الإيمان ‹ حديث الكعبة و المسجد الحرام و الحرم كله · حديث 3998
3998 - حدثنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو زكريا العنبري نا محمد بن عبد السلام نا إسحاق بن إبراهيم أنا جرير عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال : لما بنى إبراهيم عليه السلام البيت أوحى الله تبارك و تعالى إليه أن أذن في الناس بالحج قال فقال إبراهيم ألا إن ربكم قد اتخذ بيتا و أمركم أن تحجوه فاستجاب له ما سمعه من حجر أو شجر أو أكمة أو تراب لبيك اللهم لبيك
ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو زکریا عنبری نے ان کو محمد بن عبدالسلام نے ان کو اسحاق بن ابراہیم نے ان کو جریر نے ان کو عطاء بن سائب نے ان کو سعید بن جبیر نے ان کو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہتے ہیں کہ جب ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کو بنا لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی یہ کہ لوگوں میں حج کا اعلان کر دو وہ کہتے ہیں ، ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا خبردار بے شک ہمارے رب نے ایک گھر کو مقرر کر دیا ہے اور تم لوگوں کو حکم دیا ہے کہ تم اس کا حج کرو چنانچہ اس پکار کا جواب ان کو ہر چیز نے دیا جہاں تک اس کو سنا خواہ وہ پتھر ہو یا درخت یا ٹیلہ یا مٹی یوں کہا : لبیک الھم لبیک " میں حاضر ہوا اے اللہ میں حاضر ہوں "