شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية إمساك الفضل و غيره مما يحتاج إليه · حديث 3393
3393 - أخبرنا أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن علي بن معاوية النيسابوري نا أبو الفقيه نا الحسن بن سفيان نا يزيد بن صالح نا خارجة عن سعيد عن قتادة قال : ذكر لنا إن سليمان بن داود عليه السلام كان يقول : اذكر الجائع إذا شبعت و اذكر الفقراء إذا استغنيت
ہمیں خبر دی ابو اسحٰق ابراہیم بن محمد بن علی بن معاویہ نیسا پوری نے ان کو ابو الولید فقیہ نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کویزید بن صالح نے ان کو خارجہ نے ان کو سعید نے ان کو قتادہ نے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ذکر کیا گیا تھا حضرت سلیمان بن داؤد علیہ السلام فرمایا کرتے تھے جب تم پیٹ بھر لو تو بھوکے کو یاد کرو اور تم جب غنی ہو جاؤ تو فقراء کو یاد کرو۔
اذكر الجائع إذا شبعت و اذكر الفقراء إذا استغنيت ← لنا إن سليمان بن داود كان ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← خَارِجَةَ ← يَزِيدَ بْنِ صَالِحٍ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ← أبو الفقيه ← أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن علي بن معاوية النيسابوري
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separate what came in the hatred of catching credit and other things that need it · Hadith 3393
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل ما جاء في كراهية رد من جاء سائلا و أنه لا يهلك على الله إلا هالك · حديث 3403
3403 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا محمد بن صالح بن هانىء نا العباس بن حمزة نا الحسين بن محمد بن يسار حدثني يحيى بن عبد الملك بن أبي غنية
و أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا أبو الوليد الفقيه نا هشام بن بشر نا أبو بكر بن أبي شيبة نا يحيى بن عبد الملك بن أبي غنية عن حفص بن عمر بن الزبير و في رواية الحسين بن أبي الزبير عن أنس بن مالك قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم كان ليعقوب النبي عليه السلام أخ مواخيا في الله فقال ذات يوم يا يعقوب ما الذي أذهب بصرك و ما الذي قوس ظهرك قال : فقال أما الذي أذهب بصري فالبكاء على يوسف و أما الذي قوس ظهري فالحزن على ابن بنامين فأتاه جبريل عليه السلام فقال : يا يعقوب إن الله تبارك و تعالى يقرئك السلام و يقول أما تستحي تشكوني إلى غيري قال : فقال يعقوب إنما أشكو بثي و حزني إلى الله قال : فقال جبريل أعلم ما تشكو يا يعقوب قال : ثم قال يعقوب : أي رب أما ترحم الشيخ الكبير أذهبت بصري و قوست ظهري فأردد علي ريحانتي اشمه شما قبل الموت ثم أصنع بي ما أردت قال : فأتاه جبريل فقال إن الله تعالى يقرئك السلام و يقول لك أبشر و ليفرح قلبك فوعزتي لو كانا ميتين لنشرتهما لك فاصنع طعاما للمساكين فإن أحب عبادي إلي الأنبياء و المساكين أتدري لم أذهبت بصرك و قوست ظهرك و صنع إخوة يوسف به ما صنعوا إنكم ذبحتم شاة فأتاكم مسكين يتيم و هو صائم فلم تطعموه منها شيئا و قال فكان يعقوب بعد ذلك إذا أراد الغداء أمر مناديا ينادي ألا من أراد الغداء من المساكين فليتغد مع يعقوب و إذا كان صائما أمر مناديا فنادى ألا من كان صائما من المساكين فليفطر مع يعقوب عليه السلام
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو عباس بن حمزہ نے ان کو حسین بن محمد بن یسار نے ان کو یحییٰ بن عبدالملک ابو غنیۃ نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالولید فقیہ نے ان کو ہشام بن بشر نے ان کو ابو بکر بن ابو شیبہ نے ان کو یحییٰ بن عبدالملک بن ابو غنیہ نے ان کو حفص بن عمر زبیر نےاور حسین بن ابو الزبیر کی ایک روایت میں انس بن مالک سے ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا ایک بھائی تھا جس نے اللہ کے لئے ان سے بھائی چارہ کر رکھا تھا۔ ایک دن وہ کہنے لگا اے یعقوب وہ آخر کیا چیز ہے جس نے تیری بینائی ختم کر دی ہے اور وہ کیا چیز ہے جس نے تیری پشت کو کمان کر دیا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ وہ چیز جس نے میری بینائی ختم کر دی ہے وہ یوسف علیہ السلام پر میرا رونا ہے اور جس چیز نے میری پیٹھ کمان کر دی ہے وہ بنیا مین پر میرا غم ہے ۔ اتنے میں جبرائیل علیہ السلام ان کے پاس آئے اور کہا کہ اے یعقوب بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ تجھ پر سلام کہتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ تمہیں شرم نہیں آتی کہ تم نے میرے غیر کے آگے میری شکایت کی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا اس کے سوا کوئی بات ہی نہیں ہے کہ میں اپنے حزن اور غم کی شکایت صرف اور صرف اللہ کی طرف کرتا ہوں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام نے کہا : میں جانتا ہوں جو تم شکایت کر رہے ہو اے یعقوب ! حجور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر یعقوب علیہ السلام نے کہا : اے میرے رب کیا آپ بورھے ضعیف پر رحم نہیں کریں گے؟ آپ نے میری بینائی لے لی ہے اور میری پیٹھ کمان کر دی ہے لہذا میرے دونوں پھول تو مجھے لوٹا دے می ان کو موت سے پہلے پھر سونگھ سکوں۔ اس کے بعد آپ جو چاہیں میرے ساتھ کرنا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کے پاس جبرائیل آئے اور کہا کہ بے شک اللہ تعالیٰ تجھ پر سلام کہتے ہیں اور تجھے فرماتے ہیں کہ تم خوش ہو جاؤ اور تمہارا دل خوش ہونا چاہیے۔ میری عزت کی قسم ہے کہ اگر وہ دونوں میت بھی ہو چکے ہوتے تو میں ان دونوں کو ضرور اٹھاتا تیرے لیے۔ بس تم مسکینوں کےلئے کھانا تیار کرو۔ بے شک میرے نزدیک میرے محبوب ترین بندے انبیاء علیہ السلام اور مساکین ہیں۔ کیا تم جانتے ہو کہ میں میں نے تیری بینائی کیوں لے لی تھی اور تیری پیٹھ کیوں کمان کر دی تھی اور یوسف کے بھائیوں کا وہ عمل جو انہوں نے یوسف کے ساتھ کیا تھا کیوں ہوا تھا؟ بے شک تم لوگوں نے ایک بکری ذبح کی تھی اور تمہارے پاس ایک مسکین یتیم آ گیا تھا اور وہ روزے دار بھی تھا مگر تم لوگوں نے اس کو اس میں سے کوئی شے بھی نہیں دی تھی (اس لیے یہ سب کچھ ہوا تھا) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کے بعد حضرت یعقوب علیہ السلام کی یہ حالت تھی کہ وہ جب صبح کا ناشتہ کرنے لگتے تو وہ اعلان کرنے والے کو حکم دیتے وہ اعلان کرتا کہ مساکین میں سے جو شخص ناشتہ کرنا چاہتا ہے وہ یعقوب کے ساتھ ناشتہ کرے اور جب وہ روزے دار ہوتے تو اعلان کرواتے کہ جو بھی روزے دار ہو وہ یعقوب کے ساتھ روزہ افطار کرے۔
اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حفص بن عمر بن الزبير و في رواية الحسين بن أبي الزبير ← يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّة ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← هِشَامُ بْنُ بِشْرٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← يحيى بن عبد الملك بن أبي غنية و ← الحسين بن محمد بن يسار ← الْعَبَّاسُ بْنُ حَمْزَةَ ← محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The chapter on what came about hatred, the response of those who came asking and that no one perishes against God but perished · Hadith 3403
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاختيار في صدقة التطوع · حديث 3445
3445 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني محمد بن صالح بن هانىء نا أبو علي الحسين بن الفضل البجلي نا الحكم بن موسى نا الفرج بن فضالة عن عبد الرحمن بن زياد بن أنعم قال : بينما موسى عليه السلام جالس في بعض مجالسه إذ جاءه إبليس و هو في برنس يتلون عليه ألوانا فلما دنا منه فخلع البرنس ثم أقبل إلى موسى فسلم عليه فقال من أنت ؟ قال : إبليس قال أنت فلا مرحبا بك و ما جاء بك ؟ قال : جئت لأسلم عليك لمكانك من الله و منزلتك عنده قال فما هذا البرنس ؟ قال : به اختطف قلوب بني آدم قال فأخبرني ما الذنب الذي إذا أذنب ابن آدم استحوذت عليه ؟ قال : إذا أعجبته نفسه و استكثر عمله و نسي ذنبه استحوذت عليه و أوصيك بثلاثة أشياء قال : و ما هي ؟ قال : لا تخل بامرأة لا تحل لك فإنه ما خلا الرجل بامرأة لا تحل له إلا كنت أنا صاحبه دون أصحابي حتى أفتنه بها و لا يعاهد الله عهدا إلا كنت صاحبه دون أصحابي حتى أحول بينه و بين الوفاء به و لا يهمن بصدقة إلا أمضيتها فو الله ما هم أحد بصدقة إلا كنت أنا صاحبه دون أصحابي حتى أحول بينه و بين الوفاء بها ثم ولى و هو يقول يا ويله ثلاث مرات علم موسى ما يحذره ابن آدم قال الشيخ أحمد و منها أن يحبس أصل المال إذا أراد الصدقة و يسئل المنفعة
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے انکو محمد بن صالح بن ہانی نے ان کو ابو علی حسین بن فضل بجلی نے ان کو حکم بن موسیٰ نے ان کو فرج بن فضالہ نے ان کو عبدالرحمٰن بن زیاد بن انعم نے کہتے ہیں ایک مرتبہ موسیٰ علیہ السلام پانی کسی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اچانک ان کے پاس ابلیس آ گیا اس نے ایک ایسی ٹوپی اوڑھ رکھی تھی جس پر مختلف رنگ بدل رہے تھے جب ان کے قریب آیا تو اس نے وہ ٹوپی خود ہی اتار لی اور پھر وہ موسیٰ علیہ السلام کی طرف مخاطب ہو کر ان پر سلام کیا موسیٰ علیہ السلام نے (جواب سلام دینے کی بجائے) اس سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا کہ میں ابلیس ہوں ۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ابلیس تم ہو تو نہ تجھے مرحبا اور نہ تجھے خوش آمدید ہو کون سی غرض تمہیں یہاں لے آئی ہے کیوں آئے ہو؟ بولا میں آپ کو دم کرنے آیا ہوں اس مرتبے کی وجہ سے آپ کواللہ تعالیٰ کے نزدیک حاصل ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا کہ یہ ٹوپی کیسی ہے؟ بولا میں اسی کے ذریعے اولاد آدم کے دلوں کو اچک لیتا ہوں۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ مجھے یہ بتائیے کہ وہ کون سا گناہ ہے کہ جب ابن آدم کو کر لیتا ہے تو تم اس پر مسلط ہو کر غالب آ جاتے ہو؟ ابلیس نے بتایا کہ جب ابن آدم عجب اور خود پسندی کا شکار ہو جاتا ہے اس کو اپنا نفس اچھا لگتا ہے اور عمل زیادہ کرنے لگتا ہے اور اپنے گناہ کو بھول جاتا ہے میں اس پر مسلط ہو جاتا ہوں اور میں تجھے تین چیزوں کی وصیت کرتا ہوں۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا وہ کیا ہیں؟ کہا تم کسی غیر محرم عورت کے ساتھ خلوت میں اکیلے نہ رہنا' اس لئے کہ جب کوئی آدم کسی غیر محرم عورت کے ساتھ اکیلا ہوتا ہے تو میں خود اس کے ساتھ ہو جاتا ہوں' میرے ساتھی نہیں وہاں ہوتے۔ یہاں تک کہ میں اس کو فتنے میں واقع کر دیتا ہوں اور جب کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی عہد کر لیتا ہے تو وہاں بھی میں خود اس کے ساتھ ہو جاتا ہوں وہاں میرا کوئی اور ساتھی نہیں ہوتا یہاں تک کہ میں اس بندے کے اور س کے پورا کرنےکے درمیان حائل ہو جاتا ہوں اور جو آدمی صدقہ کرنے کا ارادہ کر تا ہے تواس کو میں بھیج دیتا ہوں پس قسم اللہ کی جو بھی صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے میں اس کے ساتھ ہولیتا ہوں وہاں میرے ساتھی نہیں ہوتے حتیٰ کہ میں اس بندے اور اس کے ارادے کی تکمیل میں حائل ہو جاتا ہوں۔ اس کے بعد ابلیس واپس لوٹ گیا اور وہ یہ کہہ رہا تھا اے میری ہلاکت اے میری وصیت اے میری بربادی' موسیٰ نے تو وہ بات جان لی ہے جو ابن آدم کو محفوظ کر لے گی۔ (شیخ احمد بیہقی نے فرمایا) کہ جب وہ صدقہ کا ارادہ کر تا ہے تو اصل مال کو بچا لے اور منفعت کا صدقہ کر دے۔
عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، ← الْفَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ← أبو علي الحسين بن الفضل البجلي ← محمد بن صالح بن هانىء ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separation of selection in volunteer charity · Hadith 3445
شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 149
149 - و قد أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنا أبو حامد بن بلال ثنا أبو زرعة الرازي حدثنا هشام بن عمار ثنا عبد ربه بن صالح القرشي ثنا عروة بن رويم عن الأنصاري : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال :
لما خلق الله آدم عليه السلام و ذريته قالت الملائكة يا رب خلقتهم يأكلون و يشربون و ينحكون و يركبون فاجعل لهم الدنيا و لنا الآخرة فقال الله تبارك و تعالى :
لا أجعل من خلقته بيدي و نفخت فيه من روحي كمن قلت له كن فكان قال البيهقي رحمه الله و قال فيه غيره عن هشام بن عمار بإسناده عن جابر بن عبد الله الأنصاري و في ثبوته نظر
و من قال في الملائكة هم قبيلان أشبه أن يقول في هذا : أراد القبيل الذي كان منهم إبليس دون الملأ الأعلى و هم الأشراف و العظماء و الله تعالى أعلم
و روينا عن عبد الله بن سلام أنه قال :
إن أكرم خليقة الله تعالى على الله سبحانه أبو القاسم صلى الله عليه و سلم قال بشر قلت رحمك الله فأين الملائكة قال : فنظر إلي و ضحك فقال : يا ابن أخي ! و هل ما تدري ما الملائكة إنما الملائكة خلق كخلق الأرض و خلق السماء و خلق السحاب و خلق الجبال و خلق الرياح و سائر الخلائق و إن أكرم الخلائق على الله تعالى أبو القاسم صلى الله عليه و سلم
و ذكر الحديث
اور تحقیق ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے کہ خبر دی ہے ابو حامد بن بلال نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابوذرعہ رازی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ہشام بن عمار نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدربہ بن صالح قرشی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عروہ بن رویم نے انصاری سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہ آپ نے فرمایا : ( اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا اور اس کی اولاد کو بھی تو فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب آپ نے انہیں پیدا تو فرمایا ہے وہ کھائیں گے اور پئیں گے شادی بیاہ کریں سواری کریں گے لہذا آپ دنیا کو ان کے لئے خاص کر دیں اور آخرت کو ہمارے لئے مخصوص کر دیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میں ایسا نہیں کروں گا ان کے لئے جن کو میں اپنے ( بے مثال ) ہاتھ سے پیدا کیا اور جس میں ، میں نے اپنی ( بے مثال ) روح پھونک دی ۔ ( ان جیسا نہیں کروں گا ) جن کو میں نے کن کہا اور وہ ہو گئے ۔ ( یعنی انسانوں کو تمہارے برابر نہیں کروں گا ۔ ) امام بیہقی نے فرمایا : ابو طاہر اور ابو حامد کے علاوہ دیگر لوگوں نے ہشام بن عمار سے اس کی اسناد کے ساتھ جابر بن عبداللہ انصاری سے ( ہی کچھ ) کہا ہے مگر اس کے ثبوت میں نظر ہے ۔ جنہوں نے ملائکہ کے بارے میں کہا ہے کہ وہ دو قسم ہیں انہوں نے زیادہ بہتر بات کہی ہے اس میں سے جو اس بارے میں کہی جا سکتی ہے ۔ اور انہوں نے اس قسم سے جس میں سے ابلیس ہے ان سے کم تر مراد لی ہے جو ملاء الاعلیٰ میں ہیں کیونکہ وہ زیادہ شرف اور عزت والے ہیں ۔ اور ہم نے عبداللہ بن سلام سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا : بے شک اللہ کی مخلوق میں سے سب سے زیادہ عزت والے اللہ کے نزدیک ابو القاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں بشر کہتے ہیں میں نے کہا اللہ تعالیٰ ان کے اوپر رحم فرمائے ، فرشتے کہا گئے ؟ یعنی ان کا مرتبہ کہاں گیا ؟ تو عبداللہ بن سلام نے میری طرف غور سے دیکھا اور ہنس پڑے اور فرمانے لگے اے بھتیجے کیا تم جانتے ہو کہ فرشتے کیا چیز ہیں سوائے اس کے کچھ نہیں کہ فرشتے ایک مخلوق میں جیسے زمین مخلوق ہے آسمان مخلوق ہے جیسے بادل مخلوق ہیں پہاڑ مخلوق ہیں ہوائیں مخلوق ہیں اور جیسے دیگر تمام مخلوقات ہیں سب سے زیادہ عزت والی مخلوق اللہ کے نزدیک ابو القاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں ۔ اور عبداللہ بن سلام نے اوپر والی حدیث ذکر فرمائی ۔
Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 149
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الاستعفاف عن المسألة · حديث 3531
3531 - أخبرنا أبو الحسن فهر المصري بمكة أنا أبو طاهر محمد بن أحمد نا موسى بن هارون نا أحمد بن عيسى المصري نا سفيان بن عيينة عن أيوب بن موسى قال : المسألة للمضطر ألا ترى أن موسى عليه السلام و صاحبه استطعما
ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن مصری نے مکہ میں ان کو ابو طاہر محمد بن احمد انکو موسیٰ بن ہارون نے ان کو احمد بن عیسیٰ مصری نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ان کو ایوب بن موسیٰ نے انہوں نے کہا کہ سوال کرنا (مانگنا) مجبور اور پریشانی کے لئے جائز ہے کیا آپ دیکھتے نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے اور ان کے ساتھی نے دوران سفر کھانا مانگا تھا۔
المسألة للمضطر ألا ترى أن موسى و صاحبه استطعما ← أَيُّوبَ بْنِ مُوسَی ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ← مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ← أبو طاهر محمد بن أحمد ← أبو الحسن فهر المصري بمكة
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Separated in contempt of the issue · Hadith 3531
شعب الإيمان · الثاني من شعب الإيمان ‹ فصل (فی معرفۃ الملائکۃ) · حديث 162
162 - أخبرنا الشيخ أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي أنا أحمد بن محمد بن الحسن الحافظ ثنا العباس بن محمد الدوري و إبراهيم بن الحارث البغدادي قالا : ثنا يحيى بن بكير ثنا زهير بن محمد عن موسى بن جبير عن نافع مولى عبد الله بن عمر عن عبد الله بن عمر أنه : سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن آدم عليه السلام لما أهبطه الله إلى الأرض قالت الملائكة أي رب أتجعل فيها من يفسد فيها و يسفك الدماء و نحن نسبح بحمدك و نقدس لك قال { إني أعلم ما لا تعلمون } قالوا ربنا نحن أطوع لك من بني آدم قال الله تعالى للملائكة : هلموا ملكين من الملائكة حتى نهبطهما إلى الأرض فننظر كيف تعلمون قالوا ربنا هاروت و ماروت فأهبطا إلى الأرض و مثلت لهما الزهرة امرأة من أحسن البشر فجاءتهما فسألاها نفسها فقالت : لا و الله حتى تكلما بهذه الكلمة في الإشراك قالا : لا و الله لا نشرك بالله أبدا فذهبت عنهم ثم رجعت بصبي تحمله فسألاها نفسها فقالت : لا و الله حتى تقتلا هذا الصبي فقالا : لا و الله لا نقتله فذهبت عنهما ثم رجعت بقدح خمر تحمله فسألاها نفسها فقالت : لا و الله حتى تشربا هذا الخمر فشربا فسكرا فوقعا عليها و قتلا الصبي فلما أفاقا قالت المرأة : و الله ما تركتما مما أبيتما علي إلا و قد فعلتماه حتى سكرتما فخيرا عند ذلك بين عذاب الدنيا و عذاب الآخرة فاختارا عذاب الدنيا
كذا رواه زهير بن محمد عن موسى بن جبير عن نافع
و رواه سعيد بن سلمة عن موسى بن جبير
ہمیں خبر دی ہے شیخ ابو الحسن محمد بن حسن بن داؤد علوی نے کہ خبر دی ہے احمد بن محمد بن حسن حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے عباس بن محمد دوری اور ابراہیم بن حارث بغدادی نے ان دونوں نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یحییٰ بن بکیر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زبیر بن محمد نے موسیٰ بن جبیر سے انہوں نے نافع سے جو کہ مولی ہیں عبداللہ بن عمر کے عبداللہ بن عمر سے کہ انہوں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے وہ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو جنت سے زمین کی طرف اتارا تو فرشتوں نے کہا اے رب کیا آپ زمین پر اس کو رکھیں گے جو اس پر فساد کرے گا۔ اس پر خون بہائے گا ۔ حالانکہ ہم تیری تسبیح کرتے ہیں تیری حمد کے ساتھ اور تیری تقدیس و پاکیزگی کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بے شک میں جانتا ہوں جو کچھ کہ تم نہیں جانتے ۔ فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب ہم تیرے لئے سب سے زیادہ اطاعت گزار ہیں آدم زادوں سے بھی زیادہ ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ فرشتوں میں سے دو فرشتے لاؤ جنہیں ہم زمین پر اتاریں گے ہم دیکھیں گے تم کیسے عمل کرتے ہو ؟ شکل بنا دی گئی اور انسانوں میں سے خوبصورت ترین بنا کر ۔ وہ ان دونوں کے پاس آئی اور انہوں نے اس عورت سے اس کا نفس مانگا اس عورت نے کہا اللہ کی قسم میں اس وقت تک تمہاری بات نہیں مانوں گی جب تک کہ تم دونوں یہ مشرکانہ کلمہ نہیں بولو گے ان دونوں نے کہا نہیں نہیں اللہ کی قسم ہم اللہ کے ساتھ کبھی بھی شریک نہیں بنائیں گے چنانچہ وہ ان سے چلی گئی ۔ پھر وہ ایک چھوٹے بچے کو لے کر ان کے پاس آئی جسے وہ اٹھائی ہوئی تھی ، ان دونوں نے پھر اس سے اس کے نفس پر قدرت مانگی ، اس نے منع کیا یہاں تک کہ تم دونوں پہلے اس بچے کو قتل کر دو وہ دونوں بولے نہیں اللہ کی قسم ہم اس کو قتل نہیں کریں گے ۔ چنانچہ وہ پھر ان دونوں سے واپس چلی گئی پھر وہ شراب کا پیالہ لے کر آئی ۔ ان دونوں نے پھر اس کے ساتھ برائی کی اجازت چاہی اس عورت نے منع کیا یہاں تک کہ تم دونوں یہ شراب پی لو دونوں نے وہ شراب پی لی اور وہ نشہ میں آ گئے اور اس عورت پر پڑ گئے اور لڑکے کو بھی قتل کر دیا جب وہ ہوش میں آئے تو وہ عورت بولی کہ اللہ کی قسم تم نے وہ کچھ بھی نہیں چھوڑا جس کا تم میرے ساتھ انکا کرتے رہے وہ سب کچھ تم نے نشہ کی حالت میں کر ڈالا ہے ۔ ( لہذا اللہ کی طرف سے ) دنیا اور آخرت کے عذاب کی بابت اختیار دیئے گئے ان دونوں نے دنیا کے عذاب کو اختیار کیا۔ اسی طرح اس کو زہیر بن محمد نے روایت کیا ہے موسیٰ بن جبیر سے انہوں نے نافع سے اور اس کو سعید بن سلمہ نے روایت کیا ہے موسیٰ بن جبیر سے ۔
عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ← العباس بن محمد الدوري و إبراهيم بن الحارث البغدادي ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْحَافِظُ ← الشيخ أبو الحسن محمد بن الحسين بن داود العلوي
Shuab ul Iman · The second of the people of faith › Chapter (On the knowledge of angels) · Hadith 162
شعب الإيمان · الرابع من شعب الإيمان ‹ ذكر حديث جمع القرآن · حديث 179
179 - حدثنا أبو محمد بن يوسف الأصبهاني إملاء أنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري بمكة ثنا الهيثم بن سهل التستري ثنا حماد بن زيد ثنا مجالد بن سعيد
و أخبرنا أحمد بن الحسن القاضي ثنا أبو علي حامد بن محمد الرفاء ثنا محمد بن شاذان الجوهري ثنا زكريا بن عدي ثنا حماد بن زيد عن مجالد عن الشعبي عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
لا تسألوا أهل الكتاب عن شيء فإنهم لن يهدوكم و قد ضلوا زاد القاضي في روايته
و الله لو كان موسى عليه السلام حيا ما حل له إلا أن يتبعني
و روى عن جبير بن نفير عن عمر بن الخطاب عن النبي صلى الله عليه و سلم في محو ما كتب من قول اليهود بريقه و النهي عن ذلك
ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو محمد بن یوسف اصفہانی نے بطور املاء کے خبر دی ہے ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد بصری نے مکہ میں کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے الھثیم بن سہل تستری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حمد بن زید نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے مجالد نے بن سعید نے اور ہمیں خبر دی ہے احمد بن حسن قاضی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو علی حامد بن محمد رفاء نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن شاذان جوہری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے زکریا بن عدی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن زید نے مجاد سے انہوں نے شعبی سے انہوں نے حضرت جابر سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب سے کسی شئی ( یعنی کسی مسئلے ) کے بارے میں مت پوچھو وہ تمہیں ہدایت نہیں دیں گے بلکہ وہ تو خود گمراہ ہیں ۔ قاضی نے اپنی روایت میں یہ اٖافہ کیا ہے ۔ اللہ کی قسم اگر موسیٰ علیہ السلام زندہ ہوتے تو ان کے لئے بھی حلال نہ تھا مگر میری اتباع کرنا۔ اور روایت کیا گیا ہے جبیر بن نصیر سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے مٹا دینے کے بارے میں جو کچھ لکھا ہوا ہے یہودیوں کی قول سے اپنی تھوک ہے اور اس سے نہی کے بارے میں ۔
جَابِرٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← مجالد ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أبو علي حامد بن محمد الرفاء ← أحمد بن الحسن القاضي، ← مجالد بن سعيد و ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← الهيثم بن سهل التستري ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ بِمَكَّةَ ← أبو محمد بن يوسف الأصبهاني إملاء
Shuab ul Iman · Fourth of the people of faith › He mentioned the hadith of the Qur’an collection · Hadith 179
شعب الإيمان · الخامس من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في أن القدر خيره و شره من الله عز و جل ـ · حديث 190
190 - أخبرنا أبو الحسن محمد بن أبي المعروف أنا أبو سهل الاسفراييني أنا أبو جعفر الحذاء ثنا علي بن المديني ثنا مروان بن معاوية الفزاري ثنا أبو مالك عن ربعي بن حراش عن حذيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
إن الله خلق كل صانع و صنعته
و روينا عن أبي موسى الأشعري رضي الله عنه أن نبي الله صلى الله عليه و سلم قال :
الخير و الشر خليقتان ينصبان للناس يوم القيامة
و روينا في هذا الباب بين أحاديث كثيرة و هي في كتاب القدر مذكورة من أراد الوقوف عليها رجع إليها إن شاء الله تعالى
قال أصحابنا و لأن الإنسان لو صح أن يحدث شيئا فيما يصح أن يحدث لم يكن بعض ما يصح أن يحدث بأن يكون محدثه بأولى من بعض كما أن الله سبحانه و تعالى لما صح أن يحدث لم يكن بعض ما يصح أن يحدث بأن يصح منه احداثه بأولى من بعض و لأن الإنسان محدث و المحدث لا يصح أن يحدث كما أن الحركة لا يصح أن تتحرك
و لأن هذه الحوادث التي هي تقع على وجوه لا يقصدها ككون الكفر قبيحا من الكافر غير واقع على قصده لأن الكافر يقصد أن يقع كفره حسنا غير قبيح و لا يقع إلا قبيحا فدل أن قاصدا قصد إيقاعه قبيحا لأن يستحيل أن يقع كذلك من غير فاعل فعله على ما هو به و كذلك الإيمان يقع متعبا مؤلما و لو قصد المؤمن أن يقع على خلاف هذا الوجه لم يتأت منه ذلك دل أنه وقع كذلك لقصد موقع أوقعه كذلك غير الذي لو جهد لخلافه أن يقع لم يقع
و لأنا نجد الإنسان غير عالم بحقائق أفعاله كلها و كمياتها و عدد أجزائها و لا يجوز أن يكون مخترعا لها و هو لا يحيط بها علما إذ لو ساغ ذلك لم ينكر أن يكون سائر المخترعين كذلك و أن يكون كذلك حكمة الباري في اختراعه و لا يدخل عليه الكسب لأن الكسب هو اختراع عالم بحقائقه من جميع وجوهه جعله كسبا لنا و نحن مكتسبون له غير مخترعين له و الذي يؤكد هذه الطريقة قوله عز و جل :
{ وأسروا قولكم أو اجهروا به إنه عليم بذات الصدور * ألا يعلم من خلق وهو اللطيف الخبير }
و ظاهر هذا إنه خلق الإسرار و الجهر اللذين يكتسبان بالقلب و أنه عليم بهما و كيف لا يعلم و هو خلقهما ؟ فدل أن الخلق يقتضي علم الخالق بالخلق من كل الوجوه
و لأن الدلالة قد قامت أن كل مقدور فالله قادر عليه لقيام الدلالة على أن القدرة من صفات ذاته كالعلم فوجب أن يقدر كل مقدور كما يعلم كل معلوم و إذا كان كذلك فوجب أن يكون إذا وجد و هو مقدور أن يكون مرادا له أن يكون فعله كما إذا وجد مقدور الإنسان مرادا له لم يكن فعله ؟
فإن قيل إذا كان الله خالقا لكسب العباد أفيقولون إن الفعل وقع من فاعلين ؟
قيل لا فاعل في الحقيقة إلا الله عز و جل كما أنه لا خالق إلا هو و الإنسان مكتسب على الحقيقة غير فاعل و لا محدث العين عن العدم
و كان الشيخ أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان يقول : فعل القادر القديم خلق و فعل القادر المحدث كسب فتعالى القديم عن الكسب و جل و صغر المحدث عن الخلق و ذل
و قال فإن قيل : أفتقولون هو مقدور لقادرين ؟
قيل : نعم أحدهما بخلقه و يخترعه و يخرجه عن العدم و هو الله سبحانه و تعالى
و الثاني يكتسبه و لا يخلقه و هو العبد و الخلق ما تعلقت به قدرة أزلية حادثة و الكسب ما تعلقت به قدرة حادثة فالقدر الأزلية تؤثر في الاختراع و القدرة الحادثة تؤثر في الاكتساب
فإن قالوا : فإذا كان الله تعالى خلق أعماله كلها أعمالا له فكيف يثيبه و يعاقبه
و قيل ليس الثواب من الله عز و جل إلا بتفضل عليه و أما العقاب فهو لو ابتلاه في العذاب كان له أن يفعله لأن ملكه و في قبضته و ليس الكفر علة العقاب و لا الإيمان علة الثواب إنما هما اماراتان جعلتا علمين لهما
فقيل : إن كنت كافرا عذبت في الآخرة و إن كنت مؤمنا عوفيت و أثبت و جميع ذلك من الثواب و العقاب و الكفر و الإيمان خلقه و اختراعه لا لعلة يفعل ما يشاء
فإن قيل فإذا عاقبه ما خلقه له كان ظالما له
قيل : لم قلت ذلك ؟ و ما ينكر أن حقيقة الظلم هو تعدي الحد و الرسم الذي يرسمه الآمر الذي لا آمر فوقه و إن يكون للظلم منه معنى إذ أفعاله كلها تقع على غير وجه التعدي و التحكم فيما لا يملك فلا يستحق اسم الظالم و لو ساغ ما قلته لم ينفصل ممن قال إذ أمكنه من الكفر و علمه أن لا يأتي إلا بالكفر لم يصح أن يعاقبه لأن يكون ظالما له حينئذ و ما الفصل ؟ و كذلك إذا خلق له الآلات و الحياة و القدرة و الشهوة للمعاصي و علم أنه لا يفعل بها إلا كفرا به عرضه للهلاك و العطب فيكون له ظالما و وجب أن يكون في إيلام الأطفال و المجانين و البهائم ظالما و لا معنى لتقدير العوض فيه فإن العوض لا يحسن به القبيح في الشاهد إلا بمرضاه فإذا كان جميع ذلك منه غير منسوب إلى الظلم لأنه المالك على الحقيقة و هو فيما يفعله في ملكه غير متعد ذلك ما قلنا لا فصل بينهما
فإن قيل : من خلق الكفر كان كافرا و من خلق الظلم كان ظالما
قيل له ما ينكر على من يقول من خلق النوم كان نائما و من خلق الخوف كان خائفا و من خلق المرض كان مريضا و من خلق الموت كان ميتا ؟ فإذا لم يلزم ذلك في هذه الأشياء لم يلزم في الكفر و الظلم
فإن قيل أفتقولون إن الله تعالى يشاء الكفر و الظلم ؟
قيل له إن أردت بقولك يشاء الكفر نفي الغلبة و العجز و الإكراه على ما يشاء فنعم يشاء أن يكون ما يريد
و جواب آخر و هو أن يشاء أن يكون موجودا لما لم يزل عالما بأن يكون موجودا فلا يكون خلاف ما علم و الكفر مما لم يزل كان عالما به أن يكون موجودا ألا تراه يقول :
{ يريد الله أن لا يجعل لهم حظا في الآخرة }
و فيه جواب آخر و هو أنه شاء أن يكون الكفر من الكافر خلاف الإيمان و من المؤمن ألا ترى أن موسى و هارون سألا إضلال فرعون و قومه و السد على قلوبهم فلا يؤمنوا فقال الله تعالى :
{ قد أجيبت دعوتكما فاستقيما }
فشاء إضلالهم و السد على قلوبهم فلا يؤمنوا لما أجاب دعوتهما
و فيه جواب آخر : يشاء أن يكون الكفر قبيحا ضلالا عمى خسارا لا نورا و هدى و حقا و بيانا و إن أردت تقول : يشاء الكفر أي يأمر به فلا تقول ذلك
فإن قيل : الحكيم من يريد أن يشتم و يذكر بسوء ؟
قيل الحكيم من يجري الشتم على لسان النائم و المبرسم و لا فعل لهما الحكيم من يخلق عبدا يعلم إنه لا يزال يشتمه و يجحده ثم يحدث له كل ساعة قوة جديدة
و قيل : من كان الشتم ينقصه فليس بحكيم و من لم ينقصه فحكيم لأنه يشاء ما لم يكن و لأن من يريد أن يكون شتم الشاتم له خلاف مدح المادح له فحكيم و من أراد أن يكون شتم الشاتم له معصية من الكافر لا طاعة فحكيم لأن من يريد الشيء على ما لا يكون خلافه فحكيم و من أراد أن يكون الشتم موجودا في الوقت الذي لم يزل به عالما أنه يكون فيه موجودا فحكيم لأنه أراد الشيء في الوقت الذي كان يكون فيه و من أراد أن لا يكون مغلوبا مقهورا مكروها على كون ما لا يريد فحكيم و الكلام في هذا يطول
فإن قيل ما تقولون في استطاعة العبد ؟
قيل : نقول هي قدرته و هي مع فعل العبد و هي توفيق من الله تعالى للطاعة و خذلان منه في المعصية قال الله عز و جل :
{ فضلوا فلا يستطيعون سبيلا }
و قد كانوا لسبيل الباطل مستطيعين فدل على أنه نفي عنهم استطاعة الحق لأنهم لم يكونوا فاعلين له و قال مخبرا عن صاحب موسى عليه السلام أنه قال :
{ إنك لن تستطيع معي صبرا }
فنفى عنه استطاعة الصبر حين أراد أن ينفي عنه الصبر و قال النبي صلى الله عليه و سلم :
كل ميسر لما خلق له
فدل أنه في حال كسبه ميسر و تيسيره قدرته و لأن المسلمين يقولون إنه لا يستطيع الخير إلا بالله و هو قبل كونه ليس بخير فدل على أنه استطاعتهم تكون معه و لأن الاستطاعة سبب للفعل يوجد بوجودها و يعدم بعدمها فجرت مع الكسب مجرى العلة مع المعلول ولا يصح تقدم العلة على المعلول فلا يصح تقدم الاستطاعة على الكسب
ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن محمد بن ابی المعروف نے کہ خبر دی ہے ابو سہل اسفرائنی نے کہ خبر دی ہے ابو جعفر حذاء نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے علی بن مدینی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے مروان بن معاویہ فزاری نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو مالک نے ربعی بن حراش سے انہوں نے حضرت حذیفہ سے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ ہر صانع کا اور اس کی صنعت کا خالق ہے اور ہم نے ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا ؛ کہ خیر اور شر دونوں مخلوق ہیں یا دونوں صفتیں ہیں لوگوں کے لئے قائم کی جائیں گی قیامت کے دن ہم نے اس بات میں بہت سی احادیث روایت کی ہیں اور وہ کتاب القدر میں مذکور ہیں ۔ جو شخص ان پر مطلع ہونا چاہیے وہاں رجوع کرے ۔ ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ اگرچہ انسان کا کسی چیز کو از سرے نو بنانا اور وجود میں لانا درست ہے جس چیز کو وجود لانا اس کے اختیار میں ہوتا ہم بعض وہ چیز جن کو از سر نو بنا سکتا ہے ان میں سے بعض کو بنانا درست نہیں ہو گا وہ سی طرح کہ اس شئی کا از سر نو بنانے والا بعض سے زیادہ بہتر ہو جیسے اللہ تعالیٰ اس چیز کے لئے جس کا از سرے نو بنانا درست ہے جس چیز کا از سرے نو بنانا درست ہے اس کا بعض نہیں ہوگا بایں صورت کہ اس سے اس کا از سر نو بنانا بعض سے بہتر ہو ۔ اور ( اللہ بندے کے افعال کا مالک ہے صانع کا عقلا بھی خالق ہے اور اس کی صنعت کا بھی ) اس لئے کہ انسان خود از سر نو پیدا شدہ ہے اور نو پیدا کے لئے صحیح نہیں ہے کہ وہ کسی شئی کو از سرے نو پیدا کرے جیسے کہ حرکت صحیح نہیں ہے کہ وہ حرکت کرے ۔ اور اس لئے ( بھی اللہ تعالیٰ ہر صانع کا اور اس کی صنعت عقلا کا خالق ہے ) کہ یہ نو پیدا اشیاء اور امور یا حوادث جو ایسے وجوہ پر واقع ہوتے ہیں جن کا قصد اور ارادہ نہیں کیا جاتا ۔ یا جو مقصود نہیں ہوتے جیسے کفر کا قبیح ہونا کافر سے اس کے قصد کے بغیر ہے کیونکہ کافر چاہتا ہے کہ اس کا کفر حسن واقع ہو نہ کہ قبیح مکرواہ قبیح ہی واقع ہوتا ہے ۔ یہ امر دلالت کرتا ہے کہ کوئی ایسا قصد کرنے والا ہے جس نے اس کے قبیح واقع کرنے کا قصد کیا ہے اس لئے کہ یہ محال ہے کہ وہ ایسے ہی بغیر فاعل کے اور بغیر کسی کرنے والے کے ہو اس کیفیت پر جس پر وہ ہے ۔ اسی طرح ایمان واقع ہوتا ہے اتباع کیا ہو ا درد دینے والا اگر ایمان لانے والا قصد کرے یہ کہ واقع ہو ہر خلاف اس صور ت کے اس سے یہ نہیں آتا ۔ یہ امر دلالت کرتا ہے کہ وہ ایسے واقع ہوا ہے کہ کسی واقع کرنے والے کے قصد و ارادے سے جس نے اس کو واقع کیا ہے اس طرح ۔ بخلاف اس کے کہ اگر کوشش کرتا اس کے خلاف کے لئے یہ کہ واقع ہو تو واقع نہ ہوتا ( اور ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ) کہ ہم انسان کو ایسا پاتے ہیں کہ وہ افعال کے حقائق اور ن کی کمیات ان کے اجزا کی تعداد کا علم نہیں رکھتا اور یہ بات درست اور جائز نہیں ہے کہ وہ افعال کا خالق و موجد ہو۔ جب کہ وہ ان کے بارے میں احاطہ کرنے والا پور اپورا علم بھی نہ رکھتا ہو۔ کیونکہ اگر یہ جائز ہو تو ا س بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ سارے ایجاد کرنے والے ایسے ہی بے علم و بے خبر ہوں ( حقائق افعال سے ) اور اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ کی حکمت ہی اپنی ایجاد میں ایسی ہی ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کی ایجاد پر کسب داخل نہیں ہوتا اس لئے کہ کسب حقائق کے عالم کی اختراع ہے ۔ کہ اس کے جمیع وجوہ کے ساتھ اس کو ہمارے لئے کسب بنا دے اور ہم اس کے کسب کرنے والے ہوں گے ایجاد کرنے والے نہیں ہوں گے ۔ چنانچہ وہ دلیل جو اس طریقہ کو پکا کرتی ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : ( و اسرو اوقولکم اوجھروا بہ انہ علیم بذات الصدور الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر ) ( الملک ۱۳) تم لوگ بات پوشیدہ کہو یا ظاہر وہ دل کے بھیدوں تک سے واقف ہے ۔ بھلا جس نے پیدا کیا ے کیا وہ بے خبر ہے ؟ وہ تو پوشیدہ باتوں کا جاننے والا اور ہر چیز سے اگاہ ہے ۔ اس آیت کا ظاہر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پوشیدہ اور ظاہر کو پیدا کیا ہے جو ( درحقیقت ) دل کا کسب اور فعل ہیں اور وہ دونوں کا علم رکھتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں کو کیسے نہ جانے حالانکہ اس نے ہی دونوں کو پیدا کیا ہے تو آیت دلالت کرتی ہے کہ مخلوق ہونا اس بات کو مقتضی ہے کہ اس کا خالق اپنی تخلیق کے تمام پہلوؤں کا علم رکھتا ہو۔ ( اللہ تعالیٰ ہر صانع کا اور اس کی صنعت کا خالق اس لئے بھی ہے کہ ) اس امر پر دلیل قائم ہو چکی ہے کہ ہر شے مقدور ہے اور وہ اس پر قادر ہے اس لئے کہ اس بات پر دلیل قائم ہو چکی ہے کہ قدرت اللہ کی صفات ذاتیہ میں سے ہے جیسے علم تو واجب ہے کہ وہ ہر مقدور شئی پر قادر ہو جیسے وہ ہر معلوم کو جانتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی ہے تو واجب ہے کہ جو بات اللہ کی قدرت میں ہے وہ اس کی مراد ہو اور جو چیز مراد ہو وہ اس کا فعل بھی ہو ۔ جیسے کہ جو چیز انسان کی قدرت میں ہے اس کی مراد بھی ہے لیکن وہ اس کا فعل نہیں ہے ۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کے کسب کا بھی خالق ہے تو یہ بات تسلیم کریں گے کہ یہ فعل دو فاعلوں سے صادر ہوا ہے یا اس کے دو فاعل ہیں ۔ تو جواب یہ دیا جائے گا کہ فاعل حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہے جیسے خالق صرف وہی ہے ۔ اور انسان فی الحقیقت کسب کرنے والا ہے عین اور ذات فعل کو عدم سے پیدا کرنے والا نہیں ہے ۔ شیخ ابو الطیب سہل بن محمد بن سلیمان فرماتے تھے کہ ایسے قادر کا فعل جو قدیم ہو خلق اور مخلوق ہوتا ہے ۔ اور ایسے قادر کا فعل جو قدیم نہ ہو بلکہ پیدا شدہ ہو محدث ہو ہ کسب ہوتا ہے لہذا قدیم ذات کسب سے وراء ہے ۔ پیدا شدہ یعنی مخلوق پیدا کرنے سے عاجز ہے اور ذلیل ہے اور بے بس ہے ۔ اعتراض دوئم اور شیخ نے فرمایا کہ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کیا تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ بندے کا کسب دو قدرت رکھنے والے اور دو قادروں کی قدرت میں ہے اور وہ دو قادروں کا مقدر ہے ۔ تو جواب دیا جائے گا کہ جی ہاں ایسے ہی ہے مگر ایک قادر ہے اپنی تخلیق کے اعتبار سے جو اس کو اختراع کرتا ہے اور ایجاد کرتا ہے اور اس کو عدم سے وجود کی طرف نکالتا ہے وہ اللہ سبحانہ تعالیٰ ہے ۔ اور دسرا اس کو کسب کرتا ہے اور پیدا نہیں کرتا وہ بندہ ہے اور پیدا کرنا وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ ازلی والی قدرت پیدا کرنے والی قدرت تعلق قائم کرتی ہے اور کسب وہ ہوتا ہے جس کے ساتھ قدرۃ حادثہ ازسر نو تعلق پکڑتی ہے تو قرت ازلیہ موثر ہوتی ہے ایجاد و اختراع میں اور قدرت حادثہ موثر ہوتی ہے اکتساب میں ۔ اعتراض سوم : اگر لوگ یہ اعتراض کریں کہ جب اللہ تعالیٰ نے بندے کے تمام افعال کو پیدا کیا ہے تو وہ اسی کے اعمال ہوئے لہذا اللہ تعالیٰ اس پر بندے کو کیونکر ثواب دے گا اور کیونکر عذاب دے گا۔ تو جواب یہ دیا جائے گا کہ اللہ عزوجل کی طرف سے ثواب تو محض اس پر اللہ کی مہربانی اور عنایت سے ہے ۔ بہر حال رہا عذاب تو وہ اگر اس کو عذاب میں مبتلا کرے تو اس کا اس کو حق ہے اور اختیار بھی ہے کہ وہ ایسا کرے کیونکہ بندہ اس کی ملکیت ہے اور اس کے قبضہ میں ہے ۔ ورنہ نہ تو کفر عذاب کی علت اور سبب ہے اور نہ ہی ایمان ثواب کی علت ہے کفر و ایمان دو علامتیں ہیں ، جو عذاب و ثواب کے لئے بطور نام و پہچان مقرر ہیں ۔ کہا جائے گا کہ اگر آپ کافر ہیں تو آخرت میں آپ کو عذاب ہوگا اور اگر آپ مومن ہیں تو آپ کو عافیت اور ثواب دیا جائے گا ۔ جب کہ یہ سب کچھ ثواب ہو یا عذاب ۔ کفر ہو یا ایمان اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے اور اسی کی ایجاد ہے یہ کسی علت و سبب کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اس لئے ہے کہ وہ قادر مطلق خالق کل ہے چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ۔ اعتراض چہارم : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جب اللہ تعالیٰ اس بندے کو عذاب دے گا جس کو اس نے خود پیدا کیا ہے ؟ تو وہ اس پر ظلم کرنے والا ہوگا۔ جواب دیا جائے گا کہ آپ نے یہ کیسے کہہ دیا؟ اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ظلم کی حقیقت حد سے تجاوز کرنا اور حد سے بڑھ جانا ہے ۔ اور اس نشان سے اگے بڑھ جانا ہے جو نشان ایسا حکم کرنے والی ذات لگا دے جس سے اوپر کوئی حکم کرنے والا نہیں ۔ لہذا ایسی ذات سے ظلم سرزد ہونے کا کوئی معنی و مطلب نہیں ہے اس لئے کہ اس کے تمام کام فائدہ ہیں فائدہ میں بغیر کسی تعدی اور تحکم کے ، ایسی چیز میں جو اس کی ملکیت میں نہ ہو۔ لہذا اس کی ذات عالی صفات کے لئے ظالم کا اطلاق کسی طرح بھی درست نہیں ہے اور وہ اعتراض جو آپ نے کیا ہے اگر درست ہو تو اس قول میں اور اس شخص کے قول میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ جو کہ کہتا ہے کہ جب اس نے بندے کو کفر کی قدرت دی ہے اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کفر ہی کرے گا تو اللہ کا اس بندے کو سزا دینا اور عذاب دینا صحیح نہیں ہوگا کیونکہ اس طرح تو اللہ تعالیٰ ( نعوذ باللہ ) ظالم ٹھہرے گا۔ اور اسی طرح ہے یہ صورت بھی کہ جب اللہ تعالیٰ بندے کے لئے گناہ کرنے کے حالات پیدا کرے اور زندگی دے قدرت دے اور گناہوں کی شہوت پیدا کرے یہ جانتے ہوئے کہ وہ اس کے ہوتے ہوئے ان کے ساتھ کفر کرے گا ( اور گناہ کرے گا ) تو گویا کہ اس نے اس طرح کر کے اس انسان کو خود ہلاکت اور تباہی میں واقع کر دیا لہذا اس طرح تو وہ ظالم ٹھہرے گا۔ اسی طرح وہ معصوم بچوں کو اور دیوانوں کو اور چارپایوں کو تکلیف پہنچا کر بھی ظالم ٹھہرے گا اور اس تکلیف کے عوض اجر مقرر کرنے کا بھی کوئی مطلب نہیں ہو سکتا ۔ کیونکہ کسی غلط اور قبیح فعل پر اجر بھی درست نہیں مگر اسی کی رضا کے ساتھ ۔ تو حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظلم نہیں ہیں ۔ اس لئے کہ وہ ایک مالک حقیقی ہے وہ اپنے ملک میں جو بھی تصرف کرے وہ حد سے تجاوز کرنے والا نہیں ہوگا۔ یہ ہے ہمارا جواب مگر معترض کے اعتراض اور سابقہ مذکورہ قول کے قائل میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ اعتراض پنجم : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جو کفر کو تخلیق کرے وہ کافر کافر تھا اور جس نے ظلم کو تخلیق کیا وہ ظالم ہوتا ہے تو اسے جواب دیا جائے گا کہ اگر یہ مفروضہ کو درست مان لیا جائے تو پھر اس شخص کے قول کا بھی انکار نہیں کیا جا سکے گا جو یہ کہے کہ جس نے نیند کو پیدا کیا وہ خود نیند کرنے والا تھا اور جس نے خوف کو پیدا کیا وہ خوف زدہ تھا اور جس نے بیماری کو پیدا کیا وہ خود بیمار تھا اور جس نے موت کو پیدا کیا خود بھی میت تھا ۔ جب کہ یہی بات ہے کہ یہ سب کچھ ان اشیاء میں لازم نہیں آتا تو جب ان امور میں مذکورہ بالا منطقی تسلسل لازم نہیں آتا تو کفر ۔ اور ظلم میں بھی لازم نہیں آتا ؟ اعتراض ششم : اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ تم لوگ کیا کہتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کفر کو اور ظلم کو بھی چاہتا ہے ؟ تو اسے یہ جواب دیا جائے گا کہ اگر چاہنے سے آپ کی مراد ہے غلبہ کی نفی ۔ اور عجز کی نفی اور جبرو اکراہ کی نفی اس پر جو کچھ وہ چاہے تو ہاں وہ چاہتا ہے کہ وہ جو کچھ ارادہ کرے وہ ہو جائے ۔ ہاں اعتراض کا ایک دوسرا جواب بھی ہے وہ یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ چیز موجود ہو جائے جس کے موجود ہونے کو وہ ازل سے جانتا ہے تانکہ اس کے علم کے خلاف نہ ہونے پائے اور کفر بھی اس قبیل سے ہے جس کو وہ ازل سے جانتا تھا کہ وہ موجود ہو گا کیا آپ قرآن مجید میں دیکھتے نہیں ؟ ارشاد ہوتا ہے ۔ ( لا یرید اللہ الا یجعل لھم حظا فی الاخرۃ ) ( آل عمران ۱۷۶) اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے ۔ اور اس اعتراض کا ایک اور جواب بھی ہے ۔ وہ یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ کفر کافر سے ہو برخلاف ایمان کے مومن سے کیا آپ دیکھتے نہیں کہ موسیٰ اور ہارون علیہ السلام نے فرعون اور اس کی قوم کو گمراہ کرنے اور ان کے دلوں پر سدا اور روکاوٹ پیدا کرنے کی دعا کی تھی حتیٰ کہ وہ ایمان نہ لائیں اور ارشاد باری تعالیٰ ہے ؒ ( قال قد اجیبت دعوتکما فاستقیما ) ( یونس ۸۹) اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہاری دعا قبول ہو چکی سو تم دونوں پکے رہنا۔ ( تو یہ اجابت دعا دلالت کرتی ہے کہ ) اللہ تعالیٰ نے ان کے گمراہ کرنے کو چاہا تھا اور ان کے دلوں پر رکاوٹ کو چنانچہ وہ ایمان نہیں لائے تھے اس لئے کہ اللہ نے دونوں نبیوں کی دعا قبول کر لی تھی ۔ اس میں ایک اور جواب بھی ہے وہ یہ ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ کفر قبیح ہو ۔ گمراہی ہو ۔ اندھا پن ہو ۔ خسارہ اور نقصان ہو ۔ نور نہ ہو ۔ ہدایت نہ ہو حق نہ ہو بیان فصاحت نہ ہو ۔ اگر ارادہ کریں کہ یہ کہیں کہ کفر کو چاہتا ہے یعنی اس کا حکم کرتا ہے تو یہ میت کہئے یعنی یہ کہنا درست نہیں ہے ۔ اعتراض ہفتم اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ کیا حکیم وہی ہے جو یہ ارادہ کرے کہ اس کو گالی دی جائے اور برائی کے ساتھ اس کو یاد کیا جائے گا ؟ اسے جواب میں کہا جائے گا کہ حکیم وہ ہے جو گالی کو سونے والے اور سر سام یر سام ( دماغی مرض ) والے کی زبان پر جاری کر دے اور ان دونوں کا یہ فعل بھی نہ ہو ۔ حکیم وہ ہے جو بندے کو پیدا کرتا ہے حالانکہ جانتا ہے کہ وہ ہمیشہ اس کو گالی دے گا اور اس کے وجود کا انکار کرے گا پھر بھی ہر لمحہ ا س کے لئے نئی سے نئی قدرت عطا کرتا ہے ۔ یا یہ جواب دیا جائے گا کہ گالی جس کی شان میں کمی کرے وہ حکیم نہیں ہے اور جس کی شان نہ گھٹے وہ حکیم ہے کیونکہ جو نہیں ہوتا اس کو وہ چاہتا ہے اور اس لئے کہ جو یہ ارادہ کرتا ہے کہ گالی دینے والے کی گالی اس کے لئے معصیت ہو کار سے نہ کہ اطاعت وہی حکیم ہے ۔ اس لئے کہ جو ارادہ کرتا ہے شئی کا جس کا خلاف نہ ہو سکے وہی حکیم ہے اور جو ارادہ کرتا کہ گالی اس وقت میں موجود ہو ۔ جس کو وازل میں جانتا تھا کہ وہ فلاں وقت میں موجود ہو گی بس وہی حکیم ہے اس لئے کہ اس نے ایک شئی کا ارادہ کیا اس وقت میں جس میں وہ ہوتا تھا اور وہ جس نے اس بات کا ارادہ کیا ہے کہ وہ مغلوب نہ ہو مظلوم نہ ہو مجبور نہ ہو اس کام کے کرنے پر جس کا وہ ارادہ نہیں کرتا بس وہی حکیم ہے ۔ اس سلسلہ میں بہت لمبا کلام ہے ۔ اعتراض ہشتم : اگر یہ سوال کیا جائے کہ تم لوگ بندے کی استطاعت کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ جواباً کہا جائے گا کہ ہم کہیں گے یہ اس کی قدرت ہے اور یہ قدرت اور بندے کا فعل مل کر دونوں چیزیں یہ اللہ کی طرف سے توفیق ہیں اطاعت کے لئے اور رسوائی ہیں اس کی طرف سے گناہ میں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ے : ( فضلوا فلا یستطیعون سبیلا ) ( الفرقان ۹) بس وہ گمراہ ہو گئے ہیں پس ہو نہیں استطاعت رکھتے راستے کی ( حق کے راستے کی ) ۔ جب کہ وہ باطل کے راستے کی استطاعت رکھتے ہیں تو آیت دلالت کرتی ہے کہ اللہ نے ان سے حق کی استطاعت کی نفی کی ہے ۔ اس لئے کہ وہ اس کے فاعل نہیں ہیں ، اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں خبر دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس نے کہا تھا : ( انک لن تستطیع معی صبرا ) ( کہف ۶۷) بے شک تو ہر گز نبیوں کی اطاعت رکھنے کا صبر کرنے کی میرے ساتھ ۔ تو موسیٰ علیہ السلام سے صبر کی استطاعت کی نفی کی ہے جب اس سے صبر کی نفی کا ارادہ کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا فرمان ہے : کل (میسر لما خلق لہ ) ہر انسان کے لئے وہی عمل آسان کر دیئے جاتے ہیں جن کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے ۔ ایک اور حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ بندہ جب کسی فعل کا کسب کرتا ہے تو کسب کرنے کے وقت وہ کسب اس کے لئے آسان کر دیا گیا ہوتا ہے اور یہی اس کے لئے آسان ہونا یہی اس کی قدرت ہے اور اس لئے بھی کہ مسلمان یہ کہتے ہیں کہ کوئی شخص خیر کی استطاعت نہیں رکھتا ہے ۔ مگر اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ اور وہ اپنے وجود سے پہلے خیر نہیں تھی ۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کی استطاعت اس کے ساتھ ہوتی ہے اور اس لئے بھی کہ استطاعت فعل کا سبب ہے اس کے وجود سے وجود میں آتا ہے اور اسی کے عدم سے عدم رہتا ہے ۔ لہذا استطاعت کسب کے ساتھ چلتی ہے جیسے علت معلول کے ساتھ چلتی ہے اور علت کا معلول پر مقدم ہونا صحیح نہیں ہوتا لہذا استطاعت کا کسب پر مقدم ہونا بھی صحیح نہیں ( بلکہ ساتھ ساتھ ہوتے ہیں ۔ )
Shuab ul Iman · Fifth from the people of faith › And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty · Hadith 190
شعب الإيمان · السابع من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الإيمان بالبعث و النشور بعد الموت ـ · حديث 256
256 - أخبرنا أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني أنا أبو الحسن أحمد بن محمد بن عبدوس ثنا عثمان بن سعيد الدرامي ثنا سليمان بن حرب ثنا حماد بن زيد عن مطر : فذكره
و هو مخرج في كتاب مسلم
و الإيمان بالبعث هو أن يؤمن بأن الله تعالى يعيد الرفات من أبدان الأموات و يجمع ما تفرق منها في البحار و بطون السباع و غيرها حتى تصير بهيئتها الأولى ثم يجمعها حية فيقوم الناس كلهم بأمر الله تعالى أحياء صغيرهم و كبيرهم حتى السقط الذي قد تم خلقه و نفخ فيه الروح فأما الذي لم يتم خلقه أو لم ينفخ فيه الروح أصلا فهو و سائر الأموات بمنزلة واحدة و الله تعالى أعلم
و أما قول الله عز و جل في صفة القيامة :
{ إن زلزلة الساعة شيء عظيم * يوم ترونها تذهل كل مرضعة عما أرضعت وتضع كل ذات حمل حملها }
فإنما أراد الحوامل اللاتي لم يضعن أحمالهن فإذا بعثن أسقطن تلك الأحمال من فزع يوم القيامة ثم إن كانت الأحمال أحياء في الدنيا أسقطنها يوم القيامة أحياء و لا يتكرر عليها الموت و إن كانت الأحمال لم ينفخ فيها الروح في الدنيا أسقطنها أمواتا كما كانت لأن الإحياء إنما هو إعادة الحياة إلى من كان حيا فأميت و من لم يكن له في الحياة الدنيا نصين فلا نصيب له في الحياة الآخرة
و قد ذكر الله عز و جل في غير آية من كتابه إثبات البعث منها قول الله عز و جل :
{ أوليس الذي خلق السماوات والأرض بقادر على أن يخلق مثلهم }
و قال : { أولم يروا أن الله الذي خلق السماوات والأرض ولم يعي بخلقهن بقادر على أن يحيي الموتى بلى إنه على كل شيء قدير }
فأحال بقدرته على إحياء الموتى على قدرته خلق السماوات و الأرض التي هي أعظم جسما من الناس
و منها قوله عز و جل :
{ قال من يحيي العظام وهي رميم * قل يحييها الذي أنشأها أول مرة وهو بكل خلق عليم }
فجعل النشأة الأولى دليلا على جواز النشأة الآخرة لأنها في معناه ثم قال :
{ الذي جعل لكم من الشجر الأخضر نارا فإذا أنتم منه توقدون }
فجعل ظهور النار على حرها و يبسها من الشجر الأخضر على نداوته و رطوبته دليلا على جواز خلقه الحياة من الرمة البالية و العظام النخرة و قد نبهنا الله عز و جل في غير آية من كتابه على إحياء الموتى بالأرض تكون حية تنبت و تنمى و تثمر ثم تموت فتصير إلى أن لا تنبت و تبقى خاشعة هامدة ثم تحيى فتصير إلى أن تنبت و تنمى و هو الفاعل لحياتها و موتها ثم حياتها فإذا قدر على ذلك لم يعحزه أن يميت الإنسان و يسلبه معاني الحياة ثم يعيدها إليه و يجعل كما كان
و نبهنا على إحياء النطفة التي هي ميتة و خلق الحيوان منها على قدرته على إحياء الموتى فقال عز و جل :
{ كيف تكفرون بالله و كنتم أمواتا فأحياكم }
يعني نطفا في الأصلاب و الأرحام فخلقكم منها بشرا تنتشرون قال تعالى :
{ ألم نخلقكم من ماء مهين * فجعلناه في قرار مكين * إلى قدر معلوم * فقدرنا فنعم القادرون }
فأعملهم أنه إذا أخرج النطفة من صلب الأب فهي ميتة ثم إنه جل ثناؤه جعلها حية في رحم الأم يخلق من يخلف منها و يركب الحياة فيه فهذه إحياء ميتة في المشاهدة فمن يقدر على هذا لا يعجز عن أن يميت هذا الخلق ثم يعيده حيا ثم بسط هذا المعنى في آية أخرى
فقال
{ ألم يك نطفة من مني يمنى * ثم كان علقة فخلق فسوى * فجعل منه الزوجين الذكر والأنثى * أليس ذلك بقادر على أن يحيي الموتى }
و نبهنا على ذلك بخلق الحب و النوى فقال عز من قائل :
{ إن الله فالق الحب و النوى يخرج الحي من الميت }
و ذلك أن الحب إذا جف و يبس بعد انتهاء تمامه وقع اليأس من ازدياده فكذلك النوى إذا تناهى عظمه وجف و يبس كانا ميتين ثم إنهما إذا أودعا الأرض الحية فلقهما الله تعالى و أخرج منهما ما يشاهد من النخل و الزرع حيا ينشأ و ينمو إلى أن يبلغ غايته و يدخل في هذا المعنى البيضة تفارق البائض و يجري عليها حكم الموت ثم يخلق الله منها حيا فهل هذا إلا إحياء الميتة و هو أمر مشاهد و العلم به ضرورة
و قد نبهنا الله عز و جل على إحياء الموتى بما أخبر من اراءة إبراهيم عليه السلام إحياء الأموات و قد نقلته عامة أهل الملل
و بما أخبر به عن الذين أخرجوا من ديارهم و هم ألوف حذر الموت فقال لهم الله : موتوا ثم أحياهم
و بما أخبر به عن الذي مر على قرية و هي خاوية على عروشها قال : أنى يحيي هذه الله بعد موتها ؟ فأماته الله مائة عام ثم بعثه
و بما أخبر به عن عصا موسى عليه السلام و قلبه إياه حية ثم أعادتها خشبة ثم جعلها عند محاجة السحرة حية ثم اعادتها خشبة و قد أشركت عامة أهل الملل في نقله
و بما أخبر به من شأن أصحاب الكهف الذين ضرب على آذانهم زيادة على ثلاثمائة سنة ثم أحياهم ليدل قومهم عند ما أعثر عليهم على أن ما أنذروا به من البعث بعد الموت حق لا ريب فيه و قد نقلنا الآثار في شرح ذلك في الأول من كتاب البعث و النشور
ہمیں خبر دی ہے ابو بکر احمد بن محمد اشنانی نے کہ خبر دی ہے ابو الحسن احمد بن محمد بن عبدوس سے اس نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے عثمان بن سعید دارمی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سلیمان بن حرب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے حماد بن زید نے مطر سے پھر اس نے مذکورہ حدیث ذکر کی ہے۔ اور وہ مسلم شریف میں منقول ہے۔ مر کر دوبارہ زندہ ہو کر اٹھنے کے عقیدے کی تشریح دوبارہ اٹھنے پر ایمان لانا یہ ہے کہ انسان یہ عقیدہ اور ایمان رکھے کہ اللہ تعالیٰ مردہ اجسام کے چورے کو اور ذرات کو دوبارہ زندہ کر کے لوٹائے گا ۔ اور ا ن کے وہ ذرات جو دریاؤں اور سمندروں میں بکھر گئے تھے۔ جو درندوں وغیرہ کے پیٹوں میں چلے گئے تھے جمع کرے گا۔ حتیٰ کہ وہ انسان اپنی پہلی شکل و صورت پر کھڑا ہو جائے گا۔ پھر تمام انسانوں کو زندہ کر کے جمع کرے گا اسی طرح اللہ تعالیٰ کے حکم کے ساتھ تمام لوگ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے آگے کھڑے ہوں گے چھوٹے بھی بڑے بھی۔ یہاں تک کہ وہ کچے ضائع ہونے والے حمل بھی جن کی خلقت مکمل ہو چکی تھی اور روح پڑ چکی تھی۔ اور وہ بھی جن کی خلقت مکمل نہیں ہو ئی تھی۔ یا روح نہیں پڑی تھی بالکل بھی وہ بھی اور تمام مردے اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک جیسے ہیں۔ واللہ اعلم۔ بہر حال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ۔ قیامت کی صفت کے بارے میں: "ان زلزلۃ الساعۃ شئی عظیم۔ یوم ترونھا تذھل کل مرضعۃ عما ارضعت وتضع کل ذات حمل حملھا (الحج 2) بے شک قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہے جس دن اس کو پہنچیں گے ہر دودھ پلانے والی ماں اپنے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ساقط کر دے گی۔ تحقیق انیق (مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں) مذکورہ آیت میں مذکور حمل والیوں سے مراد وہ حمل والیاں ہیں۔ (جو حاملہ ہو گئی) تھیں اور ان کی دنیا میں وضع حمل نہیں ہوئی تھی۔ جب وہ زندہ کر کے اٹھائی جائیں گی تو قیامت کے ہولناکی کی وجہ سے اپنے حملوں کو ساقط کر بیٹھیں گی۔ پھر اگر وہ حمل دنیا میں زندہ تھے تو قیامت میں وہ ان کو زندہ ہی گرا دیں گی اور ان پر موت مکرر نہیں آئے گی اور اگر وہ حمل دنیا میں ایسے تھے کہ ابھی ان میں روح نہیں پڑی تھی تو مائیں انکو مردہ ہی گرا دیں گی جیسے وہ دنیا میں بے جان تھے۔ اس لئے کہ زندہ کرنا حیات کا اعادہ رکنا ہے اس کی طرف جو زندہ تھا پھر مار دیا گیا۔ اور جس کا دنیا کی زندگی میں کوئی حصہ نہیں تھا اس کا آخرت کی زندگی میں بھی کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ قرآن مجید سے زندہ ہو کر اٹھنے کا اثبات ۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی کئی آیات میں بعث بعد الموت کے اثبات کو ذکر فرمایا ہے ان میں سے ایک آیت یہ بھی ہے۔ (1)۔۔ اولیس الذی خلق السما وات والارض بقادر علی ان یخلق مثلھم " (یٰس 80) کیا وہ ذات جس نے آسمان اور زمین (جیسی بڑ ی بڑی مخلوقات) پیدا فرمائیں کیا وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ ان انسانوں کو پہلے کی طرح پیدا کر ڈالے۔ اور ارشاد فرمایا: "(2)۔۔ اولم یروان اللہ الذی خلق السموات والارض ولم یعی بخلقھن بقادر علی ان یحییٰ الموتیٰ؟ بلا انہ علی کل شئی قدیر " (احقاف 33) کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ وہ اللہ جس نے زمین آسمان بنائے اور وہ ان کو بنانے میں تھکا بھی نہیں وہ اس بات پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرے ہاں بے شک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مردوں کو زندہ کرنے کے عمل کو اللہ تعالیٰ کے ارض و سماء کو پیدا کرنے کی تمثیل سے ثابت فرمایا ہے حالانکہ وہ اپنے جسم کے اعتبار سے انسانوں سے بہت بڑے ہیں (تو جو ذات اتنی بڑی مخلوق پیدا کرسکتی ہے اس کے لئے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کیا مشکل ہو سکتا ہے۔ تخلیق اول سے دوسری تخلیق پر استدلال اور ارشاد ہے: (3)۔۔ قال من یحی العظام وھی رمیم قل یحیھا الذی انشاء اول مرۃ وھو بکل خلق عظیم" (یٰس 78) کہتا ہے کو ن زندہ کرے گا ہڈیوں کو حالانکہ وہ بوسیدہ ہو چکی ہے۔ آپ فرما دیجئے وہی ان کو زندہ کرے گا۔ جس نے ان کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور وہ ہر مخلوق کو خوب جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں پہلی تخلیق کو دوسری تخلیق کے لئے دلیل بنایا ہے کیونکہ یہ بالکل اسی جیسی ہے۔ پھر مزید ارشاد فرمایا: سر سبز درخت سے آگ کی تخلیق سے قدرت پر احیاء اموات پر استدلال۔ "الذی جعل لکم من الشجر الا خضر نارا ً فاذا انتم منہ تو قدون " (یٰس 80) اور وہ ہی ذات عالی ہے جس نے تمہارے لئے سر سبز درخت سے آگ پیدا فرمائی ہے اور تم اسی سے آگ جلاتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس درخت سے آگ کے ظہور کو آگ کی حرارت اور خشکی کے باوجود اور درخت کے سر سبز ہونے اور تروتازہ ہونے کے باوجود۔ پیدا کرنے کو دلیل بنایا ہے پرانی اور بوسیدہ ہڈیوں میں نئی حیات پیدا کرنے کی اور اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی کئی کئی آیات کے اندر مردوں کو زندہ کرنے پر زمین کی مثال دے کر ہم لوگوں کو متنبہ فرمایا ہے۔ کہ زمین زندہ ہوتی ہے اور پودے اور کھیت کی نشوونما کرتی ہے اور پھل دار کرتی ہے ، پھر وہ مر جاتی ہے اور ایسی ہو جاتی ہے کہ اب وہ بالکل کچھ نہیں آگائے گی اسی طرح ایک عرصہ تک لوگوں کے قدموں تلے روندی جاتی رہتی ہے پھر اس پر جب پانی پڑتا ہے تو پھولتی اور حرکت کرتی ہے اور پھر زندہ اور آباد ہو جاتی ہے اور پھر سب چیز کو اگاتی اور نشو ونما کرتی ہے۔ حالانکہ اس سارے عمل میں اس کی موت و حیات پھر موت پھر حیات کافاعل حقیقی وہی اللہ تعالیٰ ہے۔ جب وہ اس تسلسل پر قادر ہے تو اس کو کون سی چیز عاجز کر سکتی ہے کہ وہ انسان کومار دینے اور زندگی کے تمام آثار چھین لینے کے بعد پھر دوبارہ اس کو زندہ کر دے اور پھر ویسا ہی بنا دے جیسا کہ وہ پہلے سے تھا۔ اور اسی خالق و مالک نے ہمیں متنبہ فرمایا ہے نطفہ کے زندہ کرنے پر جو کہ بے جان تھا پھر اسی نے اس سے زندہ اور چلتا پھرتا انسان بنا دیا لہذا اسی طرح وہ مردوں کو زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔ اور ارشاد فرمایا: "کیف تکفرون باللہ وکنتم امواتا فاحیاکم (البقرہ 28) تم اللہ کے ساتھ کیسے کفر کرو گے حالانکہ تم بے جان تھے سوا اسی نے تمہیں جان بخش دی۔ یعنی باپ کی پشتوں اور ماں کے رحموں میں نطفے تھے اسی سے تمہیں اس نے چلتے پھرتے کام کاج کرتے انسان بنا دیا۔ اور ارشاد فرمایا: " الم نخلقکم من مآء مھین ، فجعلناہ فی قرار مکین الی قدر معلوم ، فقدرنا فنعم القدرون" (المرسلت 20-23) کیا ہم نے تمہیں ایک حقیر سے پانی سے نہیں بنایا؟ ہم نے اس پانی کو ایک محفوظ جگہ میں ایک خاص وقت تک ٹھہرایا سو ہم نے (اس کے تمام مراحل) کا ایک خاص اندازہ مقرر فرمایا اور ہم ہی بہتر اندازے اور قدرت کے مالک ہیں۔ اس نے انسانوں کو آگاہ کر فرمایا کہ جب وہ باپ کی پشت سے نطفے کو نکالتا ہے تو وہ بے جان ہوتا ہے مردہ ہوتا ہے ۔ پھر وہ اس کو رحم مادر میں زندہ کرتا ہے۔ جس کو پیدا کرنا ہوتا ہے اس سے پیدا کرتا ہے اور اس میں حیات کی ترکیب کرتا ہے، یہ مردہ اور بیجان کو زندہ کرنا روز مرہ کے لوگوں کے مشاہدہ میں ہے جو ذات اس زندگی عطا کرنے پر قادر ہے۔ وہ اس بات سے عاجز نہیں ہے کہ وہ اس کو موت دے دے پھر وہ اس کو دوبارہ زندہ کر دے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کو ایک دوسری آیت میں ذرا تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ اور ارشاد ہوا۔ تخلیق انسان، اور تخلیق شجر اور کھیت سے مسئلہ بعث بعدالموت پر استدلال " الم یک نطفۃ من منی یمنیٰ ، ثم کان علقۃ فخلق فسوی ، فجعل منہ الزوجین الذکر والانثی الیس ذالکک بقدر علیٰ ان یحییٰ الموتیٰ" (القیامہ 37-40) کیا انسان (پانی کی بوند یعنی) نطفہ نہیں تھا منی کو جو ٹپکایا گیا؟ پھر وہ خون کی پھٹکی تھا سوا اس کو اللہ تعالیٰ نے متناسب اعضا والا بنایا۔ پھر اس سے مرد اور عورت کے جوڑے بنائے کیا وہ اللہ (جو ان تمام امور پر قادر ہے) کیا وہ اس بات پرقادر نہیں ہے کہ وہ مردوں کو زندہ کرے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کو اس مسئلہ بعث بعد الموت پر دانہ اور گٹھلی کی پیدائش کے ساتھ متنبہ فرمایا ۔ ارشاد ہوا۔ " ان اللہ فالق الحب والنویٰ ، یخرج الحی من المیت " (انعام 95) جب کہ اللہ تعالیٰ دانہ اور گٹھلی کو (اگانے کے لئے ) چیرتا ہے ، وہی زندہ چیز کو بے جان چیز سے پیدا کرتا ہے۔ اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ دنہ جب پورا ہو جاتا ہے اور پک کر سوکھ جاتا ہے اور اس کے بڑھنے کے چانس ختم ہو جاتے ہیں یہی حال گھٹلی کا ہے کہ وہ بھی جب بڑی ہو کر بڑھنے سے رک جاتی ہے اور سوکھ جاتی ہے تو یہ دونوں چیزیں مردہ اور بے جان ہوتی ہیں ، پھر جب دونوں کو زندہ اور تازہ زمین میں امانت رکھا جاتا ہے تو انہیں سے لمبے لمبے کھجور کے درخت اور لہلہات کھیت پیدا ہوتے ہیں جو کہ بڑھتے اور نشو نما پاتے ہیں یہاں تک کہ اپنی حد انتہا کو پہنچ جاتے ہیں۔ اسی تمثیل میں داخل ہے انڈا بھی کہ وہ جب انڈا دینے والی چیز سے جدا ہو جاتا ہے توا س پر بھی موت کا اور بے جان ہونے کا حکم لگ جاتا ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ اسی مردہ و بے جان انڈے سے زندہ جاندار پیدا کر دیتا ہے۔ آپ نے کبھی غور فرمایا کہ یہ کہ یہ سب کچھ کیا ہے یہی مردہ کو زندہ کرنا بے جان کو جاندار بنانا اور یہ امر ایسا ہے جو سب کے نظروں کے سامنے ہے سب کے مشاہدے میں ہے اور اس کا علم یہ یہی ہے جس سے کسی کو انکار کی مجال نہیں ہے۔ یہی دلیل ہے اس بات کی کہ جو ذات یہ مذکورہ تصرف کرتی ہے۔ وہی ذات تمام انسانوں کو قیامت میں دوبارہ زندہ کر کے حساب و کتاب کے لئے اپنے سامنے لا کھڑا کر ے گی جس طرح اس کے لئے یہ مذکورہ امور کچھ مشکل نہیں ہیں بلکہ آسان ہیں اسی طرح اس کے لئے انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا اور زندہ کرنا بھی مشکل نہیں بلکہ آسان ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ سے مسئلہ بعث پر استدلال : اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کو مردوں کے زندہ کرنے پر اس واقعہ کے ساتھ آگاہ فرمایا ہے جب اس نے ابراہیم علیہ السلام کو مردہ چیزوں کو زندہ کر کے دیکھایا تھا اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کی اطلاع ہم لوگوں کو قرآن مجید میں دی ہے۔ اور اس واقع کو تمام اہل ملل نے نقل کیا ہے۔ مسئلہ بعث بعد الموت پر حضرت عزیز علیہ السلام کے واقعہ سے استدلال : اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسئلہ بعث بعد الموت کو حضرت عزیر علیہ السلام کے واقعہ کے ساتھ مطلع فرمایا ہے جب وہ ایک ویران اور تباہ شدہ بستی سے گزرے تھے اور وہ بستی اپنی چھتوں پر گر چکی تھی۔ ازراہ تعجب یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کہاں؟ اس کو زندہ کریں گے؟ توا للہ تعالیٰ نے ان کو سو سال تک موت کی نیند سلا دیا۔ پھر ان کو زندہ کر کے اٹھایا۔ مسئلہ بعث بعد الموت قوم عمالقہ کے ہزاروں افراد کی موت پھر زندگی سے استدلال: اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسئلہ بعث بعدالموت کو ہمارے لئے اس واقعہ کی تفصیل بیان فرما کر واضح فرمایا کہ جب بنی اسرائیل یا قوم عمالقہ کے ہزاروں لوگ موت کے خوف سے اپنے گھروں کو چھوڑ کر بھاگے تھے(مگر موت نہیں ٹلتی اپنے وقت پر آجاتی ہے) اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ تم سب مر جاؤ لہذا وہ مر گئے پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو زندہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ سے یہ واضح فرمایا جیسے میں نے ان ہزاروں کو زندہ کیا اسی طرح تمام اموات کو زندہ کروں گا۔ مسئلہ بعث بعد الموت پر موسیٰ علیہ السلام کے عصا کے واقعہ سے استدلال: اسی طرح اللہ تعالیٰ نے مسئلہ بعث بعد الموت پر ہمیں آگاہی فرمائی ہے موسیٰ علیہ السلام کے ساحروں کے ساتھ مناظرے والے واقعہ کے ساتھ کہ موسیٰ علیہ السلام کا عصا لکڑی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو سانپ بنا دیا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کو موسیٰ علیہ السلام نے پکڑا تو وہ لکڑی بن گئی۔ یعنی لکڑ کا سانپ کے ساتھ بدل جاتا پھر سانپ کا لکڑی سے بدل جانا پھر جادوگروں کےمقابلے کے وقت اس کا سانپ بن جانا اس کے بعد اس کا لکڑی بن جانا۔ اس واقعہ کو نقل کرنے میں تمام اہل ملک شریک ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ جو اللہ ایک چیز کی ماہیت بدل دینے پر قادر ہے وہ مردے کو زندہ کر نے پر کیوں قادر نہیں ہو سکتا؟ بعث بعد الموت پر واقعہ اصحاب کہف سے استدلال: اور اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کے واقعہ سے مسئلہ بعث بعد الموت پر دلیل قائم فرمائی ہے۔ جن کے کانوں پر اللہ تعالیٰ نے تین سو سال کے عرصہ سے زیادہ عرصہ تک مہر مار دی (یعنی موت کی نیند سلا دیا) پھر ان کو زندہ کیا تاکہ ان کی قوم ان کے حالات پر مطلع ہونے کے بعد اس بات پر دلیل پکڑیں کہ وہ ان کو جس مسئلہ بعث بعد الموت سے ڈراتے رہے وہ حق ہے اور لاریب ہے۔ ہم نے اپنی کتاب "العبث والنشور" کے شروع میں اس مسئلہ کی شرح و تفصیل میں بہت سے ارشاد بھی نقل کر دئیے ہیں۔
حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← عثمان بن سعيد الدرامي ← أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ← أبو بكر أحمد بن محمد الأشناني
Shuab ul Iman · Seventh of the people of faith › It is a section on belief in resurrection and resurrection after death · Hadith 256
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حشر الناس بعد ما يبعثون من قبورهم إلى الموقف الذي بين لهم من الأرض ـ · حديث 264
264 - فقد أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا محمد بن عبد الوهاب الفراء أنا جعفر بن عون ثنا الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
يدعى نوح عليه السلام يوم القيامة فيقال : هل بلغت فيقول نعم ! فتدعى أمته فيقال : هل بلغكم ؟ فيقولون ما أتانا من نذير و ما أتانا من أحد قال : فيقال : من شهودك ؟ قال : فيقول : محمد و أمته قال فيؤتى بكم فتشهدون أنه قد بلع و ذلكم قول الله عز و جل : { وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا }
رواه البخاري في الصحيح عن إسحاق بن منصور عن جعفر بن عون و بمعناه رواه أبو أسامة عن الأعمش و رواه أبو معاوية عن الأعمش فقال في الحديث :
يجيء النبي يوم القيامة و معه الثلاثة و الأربعة و الرجلان حتى يجيء النبي و ليس معه أحد قال : فيقال لهم : هل بلغتم ؟ فيقولون : نعم قال : فيدعي قومهم فيقال لهم : هل بلغوكم ؟ فيقولون : لا قال فيقال : للنبيين : من يشهد لكم أنكم قد بلغتم ؟ قال : فيقولون أمة محمد صلى الله عليه و سلم قال : فتدعى أمة محمد فيشهدون أنهم قد بلغوا قال : فيقال : و ما علمكم بهم أنهم قد بلغوا ؟ قال : فيقولون : جاءنا رسولنا بكتاب أخبرنا أنهم قد بلغوا فصدقناه قال : فيقال : صدقتم قال : و ذلك قول الله عز و جل في كتابه :
{ وكذلك جعلناكم أمة وسطا لتكونوا شهداء على الناس ويكون الرسول عليكم شهيدا }
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے کہ ابو عبداللہ محمد بن یعقوب نے ، انہوں نے کہا ہمیں بات بیان کی ہے محمد بن عبدالوھاب فرّا ء نے ، انہوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے جعفر بن عون نے، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے اعمش نے ابو صالح سے، انہوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کہ حضرت نوح علیہ السلام قیامت کے دن بلائے جائیں گے اور ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا آپ نے اللہ کا پیغام لوگوں کے پاس پہنچا دیا تھا۔ وہ عرض کریں گے ، جی ہاں، میں نے پہنچا دیا تھا۔ لہذا آپ کی امت کو طلب کیا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا نوح علیہ السلام نے تم لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ جواب دیں گے کہ ہمارے پاس نہ ہی کوئی ڈرانے والا ایا تھا اور نہ ہی کوئی ہمارے پاس آیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ حضرت نوح علیہ السلام سے سوال ہو گا کہ آپ کے گواہ کون ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ نوح علیہ السلام جواب دیں گے کہ میرے گواہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور ان کی امت ہے۔ پھر (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ) کہ تم لوگوں کو (اے امت محمدیہ) لایا جائےگا اور تم لوگ یہ گواہی دو گے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اللہ کا پیغام اپنی امت کو پہنچایا تھا ، یہی بات مذکور ہے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے اندر: "وکذالک جعلنا کم امۃ وسطا لتکونو ا شھداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شہیداً (البقرۃ 183) اسی طرح ہم نے تمہیں بہترین امت بنایا ہے تاآنکہ تم لوگوں پر گواہ ہو جاؤ اور رسول تمہارے اوپر گواہ ہو جائے۔ بخاری نے اس کو روایت کیا ہے اسحاق بن منصور سے، جعفر بن عون سے۔ اور اسی مفہوم کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے ابو اسامہ نے اعمش سے اور روایت کیا ہے اس کو ابو معاویہ نے اعمش سے۔ انہوں نے حدیث میں فرمایا: کوئی نبی قیامت کے دن ایسا بھی آئے گا کہ اس کے ساتھ صرف تین امتی ہوں گے اور بعض کے ساتھ چار امتی ہوں گے۔ بعض کے ساتھ صرف دو امتی ہوں گے۔ یہاں تک کہ کوئی نبی ایسا بھی آئے گا جس کے ساتھ ایک بھی امتی نہیں ہو گا۔ ان نبیوں سے پوچھا جائے گا کہ کیا آپ لوگوں نے اللہ کا پیغام پہنچایا تھا؟ وہ کہیں گے ، جی ہاں، ہم نے پیغام پہنچایا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ان کی قوم کو بلایا جائے گا ، ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا ان نبیوں نے تمہیں اللہ کا پیغام دیا تھا۔ وہ منع کر دیں گے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر نبیوں سے پوچھا جائے گا کون تمہارے بارے میں گواہی دیتا ہے کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تھا؟ نبی جواب دیں گے کہ امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گواہی دے گی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر امت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلائی جائے گی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امتی گواہی دین ے کہ ان نبیوں نے اللہ کا پیغام پہنچایا تھا ( اس لئے کہ یہ امت قرآن مجید میں تمام نبیوں کے تبلیغ کرنے وضاحت پڑھ چکے تھے) حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس امت کے لوگوں سے پوچھا جائے گا کہ تمہیں اس بات کا کیسے علم ہے کہ نبیوں نے اپنی امتوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تھا؟ لہذا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی جواب دیں گے کہ ہمارے پاس ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کتاب لے کر آئے تھے اور انہوں نے ہمیں یہ خبر دی تھی کہ نبیوں نے اللہ کا پیغام اپنی امتوں کو دیا تھا۔ لہذا ہم نے اس کی تصدیق کی تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ان سے کہا جائے گا کہ تم لوگوں نے سچ کہا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ یہی بات اللہ کی کتاب میں اس آیت میں ہے: "وکذالک جعلنا کم امۃ وسلطا لتکونو ا شہداء علی الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا (البقر ہ 143) اسی طرح ہم نے تمہیں امت معتدل بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر آخر الزمان تم پر گواہ بنیں۔
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground · Hadith 264
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 306
306 - أخبرنا عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد بن الأعرابي قال : حدثني الحسن بن محمد الزعفراني ثنا روح بن عبادة ثنا شعبة عن قتادة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
إن لكل نبي دعوة قد دعا بها في أمته و إني اختبأت دعوتي شفاعة لأمتي
رواه مسلم في الصحيح عن زهير و غيره عن روح
و أخرجاه من حديث أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم
و أخرجاه مسلم أيضا من حديث جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم
و رواه أيضا عبد الرحمن بن أبي عقيل عن النبي صلى الله عليه و سلم
و أخرج مسلم حديث أبي بن كعب في قصة القراءة
قال البيهقي رحمه الله : و قول النبي صلى الله عليه و سلم اللهم اغفر أمتي اللهم اغفر لأمتي و تأخير الدعوة الثالثة إلى يوم يرغب إليه فيه الخلق حتى إبراهيم عليه السلام
ہمیں خبر دی ہے عبداللہ یوسف اصفہانی نے کہ خبر دی ہے ابو سعید بن اعرابی نے ، انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ہے حسن بن محمد زعفرانی نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے روح بن عبادہ نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا۔ بے شک ہر نبی کے لئے ایک مخصوص دعا ہوتی تھی جس کے ساتھ انہوں نے دعا کی اپنی امت کے بارے میں اور میں نے اپنی دعا اپنی امت کے حق میں شفاعت کرنے کے لئے چھپا رکھی ہے۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے زھیر وغیرہ سے روح سے اور بخاری مسلم دونوں نے اس کو روایت کیا ہے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور اس کو مسلم نے بھی جابر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا ہے اور مسلم نے اس کو حدیث ابی بن کعب سے قراءۃ کے قصے میں نقل کیا ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ قول: اے اللہ میری امت کو بخش دے اور تیسری بار دعا کو مؤخر کرنا اس دن کے لئے جس دن تمام مخلوق آپ کی خدمت میں رجوع کرے گی۔ یہاں تک کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی۔ (یہ بھی آپ کی شفاعت کی دلیل ہے)۔ (مترجم)۔
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 306
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في أصحاب الكبائر من أهل القبلة إذا وافوا القيامة بلا توبة قدموها ـ · حديث 308
308 - أخبرنا الأستاذ أبو بكر بن فورك أنا عبد الله بن جعفر الأصبهاني ثنا يونس بن حبيب ثنا أبو داود ثنا هشام عن قتادة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم
يجمع المؤمنون يوم القيامة فيهتمون فيقولون لو استشفعنا إلى ربنا حتى يريحنا من مكاننا هذا فيأتون آدم عليه السلام فيقولون يا آدم أنت أبو الناس خلقك الله بيده و أسجد لك ملائكته و علمك أسماء كل شيء اشفع لنا إلى ربنا حتى يريحنا من مكاننا هذا فيقول إني لست هناكم و يذكر لهم خطيئته التي أصاب و لكن ائتوا نوحا عليه السلام أول رسول بعثه الله عز و جل فيأتون نوحا عليه السلام خليل الرحمن فيأتون إبراهيم عليه السلام لست هناكم و يذكر لهم خطاياه و لكن ائتوا موسى عليه السلام عبدا آتاه الله التوراة و كلمه تكليما فيأتون موسى عليه فيقول إني لست هناكم و يذكر لهم خطيئته التي أصاب و لكن ائتوا عيسى عبد الله و رسوله و كلمة الله و روحه فيأتون عيسى عليه السلام فيقول لست هناكم و لكن ائتوا محمد عليه السلام عبدا غفر الله له ما تقدم من ذنبه و ما تأخر فيأتوني فأنطلق فأستأذن على ربي عز و جل فيؤذن لي عليه فإذا رأيت ربي وقعت ساجدا فيدعني ما شاء الله أن يدعني ثم يقال ارفع محمد و قل يسمع و سل تعطه واشفع تشفع فأحمد ربي بمحامد يعلمنيه ثم اشفع فيحد لي حدا فأدخلهم الجنة ثم أرجع فإذا رأيت ربي تبارك و تعالى وقعت له ساجدا فيدعني ما شاء الله أن يدعني ثم يقال ارفع محمد و قل يسمع و سل تعطه و اشفع تشفع فأحمد ربي بمحامد يعلمنيه ثم اشفع فيحد لي حدا فأدخلهم الجنة ثم أرجع فإذا رأيت ربي وقعت له ساجدا فيدعني ما شاء الله أن يدعني ثم يقال : ارفع محمد و قل تسمع و سل تعطه و اشفع تشفع فأحمد ربي بمحامد يعلمنيه ثم اشفع فيحد لي حدا فأدخلهم الجنة حتى أرجع فأقول يا رب ما بقي في النار إلا من حبسه القرآن أي وجب عليه الخلود
رواه البخاري و مسلم من حديث هشام الدستوائي و غيره
و في حديث أبي عوانة عن قتادة يجمع الله الناس يوم القيامة و في حديث أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذه القصة قال : يجمع الله يوم القيامة الأولين و الآخرين في صعيد واحد فيسمعهم الداعي و ينفذهم البصر و تدنو الشمس و يبلغ الناس من الغم و الكرب ما لا يطيقون و ما لا يحتملون ثم ذكر هذه القصة
قال البيهقي رحمه الله : و هذا الحديث يجمع شفاعة النبي صلى الله عليه و سلم لأهل الجمع حتى يريحهم من مكانهم الذي بلغوا فيه من الغم و الكرب ما لا يطيقون من طول القيام في الشمس ثم شفاعته لأهل الذنوب من أمته
و في رواية معبد بن هلال عن أنس بن مالك عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذه القصة ما دل أن ذلك لأهل الكبائر من أمته فإنه قال في حديث : فأقول ربي أمتي أمتي فيقال انطلق فمن كان في قلبه مثقال حبة من برة أو شعيرة من إيمان فأخرجه منها و قال في المرة الثانية : مثقال حبة خردل من إيمان و في المرة الثالثة : فمن كان في قلبه أدنى أدنى أدنى من مثقال حبة من خردل من إيمان فأخرجه من النار
ہمیں خبر دی ہے استاذ ابو بکر بن فورک نے کہ خبر دی ہے عبداللہ بن جعفر اصفہانی نے ہمیں حدیث بیان کی ہے یونس بن حبیب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو داؤد نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ہشام نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس سے، انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قیامت کے دن تمام اہل ایمان جمع کئے جائیں گے اور فکر مند ہو جائیں گے اور وہ کہیں گے کہ کاش کہ ہم اپنے رب کی بارگاہ میں سفارش کروائیں، یہاں تک کہ وہ ہمیں اس جگہ سے اور اس حالت میں سے چھٹکارا دے دے۔ چنانچہ وہ سب آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور عرض کریں کہ اے آدم، آپ سب لوگوں کے باپ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا تھا اور آپ کے سامنے فرشتوں کو جھکایا تھا اور آپ کو ہر چیز کے نام سکھلائے تھے، آپ ہمارے لئے ہمارے رب کے آگے سفارش کر دیجئے کہ وہ ہمیں اس حالت سے چھٹکارا دے دے۔ وہ کہیں گے میں تمہارے اس کام کے لائق نہیں ہوں اور لوگوں کے آگے اپنی غلطی کا تذکرہ کریں گے جس کا انہوں نے ارتکاب کیا تھا۔ لیکن تم لوگ جاؤ نوح علیہ السلام کے پاس وہ پہلے رسو ل ہیں جن کی اللہ نے بعثت فرمائی تھی۔ لوگ نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور اپنی مجبوری بتائیں گے۔ وہ فرمائیں گے میں تمہارے اس کام کے لائق نہیں ہوں اور وہ بھی اپنی اس غلطی کا ذکر کریں گے جو انہوں نے ارتکاب کیا تھا۔ تم جاؤ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس وہ رحمٰن کے خلیل ہیں۔ لوگ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے وہ بھی یہی فرمائیں گے کہ میں تمہارے اس کام کے لائق نہیں ہون وہ بھی اپنی خطا کا ذکر کریں گے جس کا انہوں نے ارتکاب کیا تھا۔ لیکن تم جاؤ موسیٰ علیہ السلام کے پاس وہ ایسا بندہ ہے جسے اللہ نے توراۃ عطا فرمائی تھی اور اسے ہمکلامی کا شرف بخشا تھا۔ لوگ موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے ۔ وہ بھی کہیں گے کہ میں تمہارے اس کام کے لائق نہیں ہوں وہ بھی اپنی غلطی کا ذکر کریں گے جس کا انہوں نے ارتکاب کیا تھا۔ لیکن تم لوگ جاؤ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس وہ اللہ کا بندہ، رسول اور کلمۃ اللہ ہے۔ روح اللہ ہے۔ لوگ عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ بھی یہی کہیں گے کہ میں تمہارے اس کام کےلائق نہیں ہوں۔ لیکن تم جاؤ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس وہ ایسا بندہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس کے پہلے پچھلے گناہ معاف کر دئیے ہیں۔ لہذا سب لوگ میرے پا س آئیں گے۔ میں جاؤں گا اور میں اپنے رب سے کچھ کہنے کی اجازت چاہوں گا۔ مجھے اس کی اجازت ملے گی۔ جس وقت میں اپنے رب کو دیکھوں گا تواس کی ہیبت و عظمت کے پیش نظر سجدے میں گر جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ مجھے (کمال بے پرواہی کے ساتھ ) جب تک چاہیں گے چھوڑ دیں گے(میں کمال عجز سے سجدے میں رہوں گا۔ کچھ کہنے کے لئے سر اٹھانے کی جرات نہیں کروں گا) پھر کمال و عنایت سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا کہ اٹھئے اے محمد اور کچھ کہے آپ کی بات سنی جائے گی اور کچھ مانگئے آپ کی دعا قبول کی جائے گی۔ آپ سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔ لہذا میں اپنے رب کی تعریفیں کروں گا جو اللہ مجھے سکھائے گا ۔ پھر میں سفارش کروں گا لہذا میرے لئے (قبول ہونے کی) ایک حد مقرر کی جائے گی تو میں ان کو جنت میں داخل کروں گا۔ اس کے بعد پھر میں اپنے رب کی طرف رجوع کروں گا۔ جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا (تواس کے جلال و عظمت کے آگے) سجدے میں گر جاؤں گا۔ لہذا جب تک اللہ تعالیٰ مجھے اسی حالت میں چھوڑنا چاہے گا چھوڑ دے گا (کمال بے پرواہی کے ساتھ) پھر محض اس کی رحمت و عنایت سے یہ کہا جائے گا کہ اٹھئے اے محمد ! کہئے تیری بات سنی جائے گی۔ سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا۔ سفارش کیجئے تیری سفارش قبول کی جائےگی۔ پھر میں اپنے رب کی تعریفیں کروں گا جن کی تعلیم وہ خود مجھے دے گا۔ پھر میں سفارش کروں گا ، پھر میرے لئے (تعداد کی) ایک حدمقرر کی جائے گی۔ میں ان کو جنت میں داخل کروں گا۔ پھر میں اپنے رب کی طرف رجوع کروں گا۔ جب میں اپنے رب کو دیکھوں گا تو اس کے لئے سجدہ میں گر جاؤں گا ۔ پھر وہ مجھے جب تک چاہے گا جنت میں چھوڑ دے گا (بے نیازی کے ساتھ) پھر کہا جائے گا اٹھئے اے محمد کہئے آپ کی بات سنی جائے گی، سوال کیجئے آپ کو عطا کیا جائے گا، سفارش کیجئے آپ کی سفارش قبول کی جائے گی۔ پھر میں اپنے رب کی حمد بیان کروں گا جو مجھے سکھلائے گا،پھر میں سفارش کروں گا، پھر میرے لئے (لوگوں کی بخشش) کی حد مقرر کی جائے گی۔ لہذا میں اتنے لوگوں کو جنت میں داخل کروں گا۔ پھر میں کہوں گا اے میرے رب: "مابقی فی النار الا من حسبہ القرآن (ای وجب علیہ الخلود)" جہنم میں صرف وہ باقی رہ گئے ہیں جن کو قرآن نے روک رکھا ہے۔ یعنی جس پر جہنم میں ہمیشہ رہا واجب ہو چکا ہے۔ ازروئے قرآن یعنی مشرک باقی رہ گئے ہیں۔ اس کو بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے اور مسلم ، ھشام ، دستوائی وغیرہ کی روایت سے ابو عوانہ کی حدیث میں قتادہ سے مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو جمع کریں گے۔ اور ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قصہ میں ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تمام پہلوں اور تمام پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع کریں گے اور ان کو بلانے والا سنوائے گا( یعنی تاحد آواز لوگ جمع ہوں گے) اور گذرے گی ان سب سے نظر (یعنی تاحد نگاہ لوگ ہوں گے) اور قریب آ جائے گا سورج اور لوگ غم اور کرب کے مارے ا سکی تاب نہیں رکھیں گے اور برداشت نہیں کر پائیں گے۔ پھر آپ نے بھی مذکورہ قصہ ذکر کیا۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول : امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: یہ حدیث جامع ہے مسئلہ اجتماعی شفاعت نبی علیہ السلام کے لئے جس کے نتیجے میں آپ تمام لوگوں کو اس مقام پر اس غم اور کرب سے نجات دلائیں گے سورج کے سامنے طویل قیام کی وجہ سے لوگ جس کی تاب نہ لا سکیں گے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی امت کے گناہگاروں کے لئے سفارش کرنا اس کے بعد ہو گا۔ گویا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دو طرح کی شفاعت کا اعزاز حاصل ہو گا۔ پہلی اجتماعی شفاعت جس کو شفاعت کبریٰ کہتے ہیں جو کہ تمام لوگوں اور امتوں کے لئے بلا امتیاز ہو گی اور دوسری شفاعت انفرادی جو صرف آپ کی امت کے گناہگاروں کے لئے ہو گی۔ اس کو شفاعت صغریٰ کہتے ہیں ۔ (از مترجم) اہل کبائر کے لئے شفاعت: اور معید بن ھلال کی روایت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس قصہ میں وہ بات بھی ہے جودلالت کرتی ہے کہ یہ شفاعت صغریٰ آپ کی امت کے اہل کبائر کے لئے ہو گی۔ یعنی جو کبیرہ گناہ کے مرتکب تھے۔ آپ نے اس حدیث میں ارشاد فرمایا کہ میں یہ کہوں گا کہ اے میرے رب میری امت۔۔ میری امت۔۔ لہذا مجھے کہا جائے گا کہ آپ جائیے ، دیکھئے جہنم میں جو ایسے لوگ ہیں جن کے دل میں گندم یا جو کے دانے کے برابر ایمان ہو ان کو بھی جہنم سے نکال لیجئے۔ اور دوسری بار یہ فرمایا کہ مجھے کہا جائے گا کہ جائیے جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہوان کو بھی جہنم سے نکال لیجئے اور تیسری بات میں کہا جائے گا کہ جس کے دل میں رائی کے دانہ سے کم تر سےکم تر سے کم تر مقدار میں ایمان ہو ان کو بھی نکال لیجئے۔ (ظاہر ہے ایسی لوگ اہل کبائر ہی ہو سکتے ہیں ، لہذا یہ شفاعت اہل کبائر کے لئے ہو گی۔ مترجم)۔ اہل کبائر کے لئے رحمت عالم کی شفاعت: ہمیں خبر دی ہے ابو الحسن علی بن مقری نے کہ خبر دی ہے حسن بن محمد بن اسحٰق نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے یوسف بن یعقوب نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن ابی بکر نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے معتمر بن سلیمان نے اپنے باپ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالےسے ، انہوں نے فرمایا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شفاعت کریں گے، یہاں تک کہ جہنم سے ہر وہ آدمی نکال لیں گے جس کے دل میں جو کے دانہ کے برابر خیر ہو گی۔ پھر آپ شفاعت کریں گے یہاں تک کہ ہر اس انسان کو جہنم سے نکال لیں گے جس کے دل میں ایک رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہو گا۔ اس کے بعد پھر آپ شفاعت کریں گے، یہاں تک کہ جہنم سے ہر اس انسان کو نکال لیں گے جس کے دل میں رائی کے دانہ کے نصف سے بھی کم خیر ہو گی۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ان تمام مذکورہ روایات میں اس بات پر دلالت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کے اہل کبائر کے لئے شفاعت فرمائیں گے۔
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it · Hadith 308
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 353
353 - أخبرنا أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بالويه المزكي أخبرنا أبو وليد الفقيه ثنا إبراهيم بن علي ثنا يحيى بن يحيى ثنا موسى بن أعين : فذكر حديث أبي صالح بمعناه
قال البيهقي رحمه الله فإذا نفخ في الصور فصعق من في السموات و من في الأرض كما قال الله عز و جل :
{ و نفخ في الصور فصعق من في السموات و من في الأرض إلا من شاء الله }
و اختلفوا في هذا الاستثناء فروي عن جابر بن عبد الله أنه قال : موسى فيمن استثنى الله فإنه صعق مرة و هذا لما في الحديث الثابت عن أبي هريرة في قصة المسلم الذي لطم اليهودي حين قال : و الذي اصطفى موسى على البشر فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا تفضلوا بين أنبياء الله فإنه ينفخ في الصور فصعق من في السموات و من في الأرض إلا من شاء الله ثم ينفخ فيه أخرى فأكون أول من بعث أو في أول من بعث فإذا موسى آخذ بالعرش فلا أدري أحوسب بصعقة يوم الطور أو بعث قبلي
و هذا حديث صحيح
قال البيهقي رحمه الله و وجهه عندي أن نبينا صلى الله عليه و سلم أخبر عن رؤية جماعة من الأنبياء ليلة المعراج و إنما يصح ذلك على تقدير أن الله تعالى رد إليهم أرواحهم فهم أحياء عند ربهم فإذا نفخ في الصور النفخة الأولى صعقوا فيمن صعق ثم لا يكون ذلك موتا في جميع معانيه إلا في ذهاب الاستشعار فإن كان موسى ممن استثنى عز و جل بقوله : { إلا من شاء الله } فإنه لا يذهب استشعاره في تلك الحالة و الله أعلم
وروينا عن سعيد بن جبير أنه قال هم الشهداء ثنية الله عز و جل مقلدي السيوف حول العرش
و روي فيه حديث مرفوع عن زيد بن أسلم عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه سأل جبريل عليه السلام عن هذه الآية و قال : و من الذي لم يشأ الله عز و جل أن يصعقوا ؟ قال هم شهداء الله عز و جل و هذا لأن الله عز و جل أخبر في كتابه أنهم { أحياء عند ربهم يرزقون } فلا يموتون في النفخة الأولى فيمن يموت من الأحياء و الله أعلم
و روينا عن زيد بن أسلم أنه قال :
الذين استثنى الله عز و جل اثنا عشر جبريل و ميكائيل و إسرافيل و ملك الموت و حملة العرش ثمانية
و ذهب الحليمي رحمه الله إلى اختيار قول من قال إن الاستثناء لأجل الشهداء و رواه عن ابن عباس و حمل قول النبي صلى الله عليه و سلم في موسى عليه السلام على أنه لم يدر أبعث قبل غيره من الأنبياء تخصيصا له عليه السلام كما فضل في الدنيا بالتكليم أو قدم بعثه على بعث غيره من الأنبياء عليهم السلام بقدر صعقته عندما تجلى ربه للجبل إلى أن أفاق ليكون هذا جزاء له بها و ليس فيه أن يموت عند النفخة الأولى
و ضعف قول من زعم الاستثناء لأجل الملائكة الذين سماهم لأنهم ليسوا من سكان السموات و الأرض لأن العرش فوق السموات كلها و جبريل و ميكائيل من الصافين المسبحين حول العرش فلم يدخلوا في الآية
و كذلك لا يدخل فيها الولدان و الحور لأن الجنة فوق السموات و الآية في سكان السموات و الأرض ثم قد ورد في بعض الآثار : أنه يميت حملة العرش و يميت جبريل و ميكائيل و ملك الموت ثم ينادي لمن الملك اليوم فلا يجبه أحد فيقول هو : لله الواحد القهار
و قد روي فيه حديث مرفوع في إسناده ضعف و قد ذكرناه في كتاب البعث
و أما الجنة و ما فيها من الحور الحيوان فإنها خلقت للبقاء لا للفناء و هي دار لذة و سرور و لم يأتنا خبر بموت من فيها
فإن قيل : قد قال الله عز و جل :
{ كل نفس ذائقة الموت }
{ كل شيء هالك إلا وجهه }
قال الحليمي رحمه الله : يحتمل أن يكون معناه ما من شيء إلا و هو قابل للهلاك فيهلك إن أراد الله به ذلك إلا وجهه أي إلا هو فإنه تعالى جده قديم و القديم لا يجوز عليه الفناء و ما عداه محدث و المحدث إنما يبقى قدر ما يبقيه محدثه فإذا حبس البقاء عني خطأ فني و لم يبلغنا في خبر أنه يهلك العرش و يفنيه فلتكن الجنة مثله و الله أعلم
قال البيهقي رحمه الله و رويناه عن سفيان الثوري أنه قال : في تفسير هذه الآية كل شيء هالك إلا ما أريد به وجهه
و في رواية إلا ما ابتغى به وجهه من الأعمال الصالحة
فإذا مات الأحياء كلهم و جاء وقت النفخة الأخرى فقد جاء في حديث الصور و هو حديث روي عن محمد بن كعب عن رجل عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم و في إسناده مقال فذكر قصة في النفخة الأولى و ما بعدها و ذكر موت جبريل و ميكائيل ثم موت حملة العرش و موت إسرافيل ثم موت ملك الموت ثم ينزل ماء من تحت العرش كمني الرجال ثم يأمر السماء أن تمطر أربعين يوما و يأمر الأجساد أن تنبت كنبات الطراثيث أو كنبات البقل حتى إذا تكاملت أجسادهم قال الله تعالى ليحيى حملة العرش فيحيون ثم يقول ليحيى جبريل و ميكائيل أظنه و ذكر معهما غيرهما فيحيون فيأمر الله عز و جل إسرافيل فيأخذ الصور فيضعه علي فيه ثم يدعو الله بالأرواح فيؤتى بها تتوهج أرواح المؤمنين نورا و الأخرى ظلمة فيلقيها في الصور ثم يأمر الله إسرافيل أن ينفخ فيه نفخة البعث فتخرج الأرواح كأنها النحل قد ملأت ما بين السماء و الأرض فيقول الله و عزتي و جلالي ليرجعن كل روح إلى جسده فتدخل الأرواح في الخياشيم ثم تمشي في الأجساد مشي السم في اللديغ ثم تنشق الأرض عنهم سراعا
353 - و هذا فيما قرئ إسناده على الأستاذ أبي إسحاق الاسفرايني و أنا أسمع أن أبا بكر محمد بن عبد الله الشافعي أخبرهم ثنا أبو قلابة الرقاشي ثنا أبو عاصم ثنا إسماعيل بن رافع عن محمد بن يزيد بن أبي زياد عن محمد بن كعب القرظي عن رجل من الأنصار عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم
و روينا في حديث آخر بإسناد ضعيف عن ابن عباس في صفة القيامة فذكر فيه صفة الصور و عظمه و عظم إسرافيل ثم قال :
فإذا بلغ الوقت الذي يريد الله أمر إسرافيل فينفخ في الصور النفخة الأولى فتهبط النفخة من الصور إلى السموات فيصعق سكان السموات بحذافيرها و سكان البحر بحذافيرها ثم تهبط النفخة إلى الأرض فيصعق سكان الأرض بحذافيرها و جميع عالم الله و بريته فيهن من الجن و الإنس و الهوام و الأنعام قال و في الصور من الكوى بعدد من يذوق الموت من جميع الخلائق فإذا صعقوا جميعا يقول الله عز و جل يا إسرافيل من بقي ؟ فيقول : بقي إسرافيل عبدك الضعيف فيقول مت يا إسرافيل ! فيموت ثم يقول الجبار تعالى : لمن الملك اليوم فلا هميس و لا حسيس و لا ناطق يتكلم و لا مجيب يفهم و قد مات حملة العرش و إسرافيل و ملك الموت و كل مخلوق فيرد الجبار على نفسه { لله الواحد القهار * اليوم تجزى كل نفس بما كسبت لا ظلم اليوم إن الله سريع الحساب } و ذلك حين تمت كلمة ربك صدقا و عدلا لا مبدل لكلماته { و هو السميع العليم } فيتم كلمته بإنفاذ قضائه على أرضه و سمائه لقوله تعالى { كل شيء هالك إلا وجهه له الحكم و إليه ترجعون }
فإما إسرافيل فيموت ثم يحيى في طرفة عين و إما حملة العرش فيحيون في أسرع من طرفة عين فيأمر الله تعالى إسرافيل بعد النفخة الأولى بأربعين و كذلك هو في التوراة بين النفختين أربعون لا يدري ما هو فإذا انقضت الأربعون نظر الله إلى أهل السموات و إلى أهل الأرضين فيقول و عزتي لأعيدنكم كما بدأتكم و لأحيينكم كما أمتكم ثم يأمر إسرافيل فينفخ النفخة الثانية و قد جمعت الأرواح كلها في الصور فإذا نفخ خرج كل روح من كوة معلومة من كوى الصور فإذا الأرواح تهوش بين السماء و الأرض لها دوي كدوي النخل فينادي إسرافيل : يا أيتها الجلود المتمزقة ! و يا أيتها الأعضاء المتهشمة ! و يا أيتها العظام البالية ! و يا أيتاها الأجسام المتفرقة ! و يا أيتها الأشعار المتمرطة ! قوموا إلى موقف الحساب و العرض الأكبر فيدخل كل روح في جسده قال : و يمطر الله طيشا من تحت العرش على جميع الموتى فيحيون كما تحيى الأرض الميتة بوابل السماء فيبعث الله الأجساد التي كانت في الدنيا من حيث كانت بعضها في بطون السباع و بعضها من حواصل الطير و بنيان البحور و بطون الأرض و ظهورها فيدخل كل روح في جسده فإذا هم قيام ينظرون فيبعث الله نارا من المشارق فتحشر الناس إلى المغارب إلى أرض تسمى الساهرة من وراء بيت المقدس أرض طاهرة لم يعمل عليها سيئة و لا خطيئة فذلك قوله :
{ فإنما هي زجرة واحدة * فإذا هم بالساهرة }
{ يوم يقوم الناس لرب العالمين }
{ و حشرناهم فلم نغادر منهم أحدا }
{ ونفخ في الصور فجمعناهم جمعا * وعرضنا جهنم يومئذ للكافرين عرضا * الذين كانت } الآية
ہمیں خبر دی ہے ابو محمد عبدالرحمٰن بن محمد بن بالویہ مزکی نے، ان کو ابو ولید فقیہ نے، ان کو ابراہیم بن علی نے ، ان کو یحییٰ بن یحییٰ نے،ان کو موسیٰ بن اعین نے، اس نے ابو صالح والی حدیث اس کے معنی کے ساتھ ذکر کی۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: جب صور پھونکا جائے گا تو اہل زمین اور اہل آسمان سب بے ہوش ہو جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: " ونفخ فی الصور فصعق من فی السموات ومن فی الارض الا من شاء اللہ " (الزمر 68) قرن میں پھونک ماری جائے گی۔ پس بے ہوش ہو جائیں گے وہ سب جو آسمان میں اور زمین میں ہیں۔ مگر جس کو اللہ چاہے گا۔ (یعنی اللہ تعالیٰ جسے بے ہوشی سے بچانا چاہیں گے وہ بے ہوش نہیں ہو گا اور بے ہوشی سے محفوظ رہے گا)۔ (مترجم) الامن شآ ء اللہ فرما کر اللہ تعالیٰ نے صور پھونکنے کے وقت اہل ارض و سمآ ء پر ہونے والی بے ہوشی سے کن لوگوں کو مستثنیٰ کیا ہے؟ وہ کون عظیم ہستیاں ہوں گی؟ اس کے بارے میں اختلاف ہے۔ حضر ت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ان ہستیوں میں سے ایک حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ہوں گے۔ وہ ایک بار کوہ طور پر تجلیات الٰہی کو دیکھ کر بے ہوش ہو گئے تھے۔ اس لیے کہ حدیث ثابت میں حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس مسلمان کے قصے میں ہے جس نے یہودی کو تھپڑ مار دیا تھا۔ جب یہودی نے یہ کہا تھا قسم ہے اس ذات کی جس نے موسیٰ علیہ السلام کو بشر پر برگزیدہ بنا لیا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ تم لوگ اللہ کے نبیوں کے درمیان کسی کو فضیلت دینے کا عمل نہ کیا کرو۔ کیونکہ جس وقت صور پھونکا جائے گا تو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات سب بے ہوش ہو جائیں گی، مگر جسے اللہ تعالیٰ بے ہوش نہ کرنا چاہیں گے وہ نہیں ہو گا۔ پھر دوسری بار اس میں پھونک ماری جائے گی اور میں پہلا شخص ہوں گا جو اٹھایا جائے گا۔ یا فرمایا تھا کہ میں بھی ان میں سے ہوں گا جو پہلے اٹھائے جائیں گے۔ (تو میں کیا دیکھوں گا کہ) موسیٰ علیہ السلام عرش الٰہی کو پکڑے کھڑے ہوں گے ۔ پس میں نہیں جانتا کہ کیا یوم طور والی بے ہوشی کے ساتھ حساب چکا دئیے گئے یا بے ہوش ہو ئے مگر مجھ سے پہلے اٹھا لیے گئے۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول " امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : میرے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج میں انبیاء کی ایک جماعت کو دیکھنے کی خبر دی تھی۔ سوائے اس کے نہیں کہ یہ انبیاء کو دیکھنا اس تقدیر پر صحیح ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ارواح کو ان کی طرف لوٹا دیا تھا۔ وہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں، جب صور پھونکا جائے گا تو نفحہ اولیٰ کے وقت وہ بھی ہے ہوش ہونے والوں کے ساتھ بے ہوش ہوں گے۔ پھر یہ موت نہیں ہو گی اپنے تمام مفہومات کے ساتھ مگر صرف شعور اور سمجھنے کی قوت چلی جانے کے مفہوم میں۔ پھر اگر موسیٰ علیہ السلام ان میں سے ہوں جنہیں اللہ تعالیٰ نے الامن شآ ء اللہ کے ساتھ مستثنیٰ کیا ہے تو آپ کا شعور اور سمجھ اس حالت میں نہیں جائے گا۔ اور ہم نے سعید بن جبیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ وہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے بے ہوشی سے مستثنیٰ کیا ہے وہ شہداء ہوں گے جو تلواریں حمائل کیے عرش کے گرد کھڑے ہوں گے۔ اس بارے میں زید بن اسلم سے مرفوع حدیث مروی ہے۔ انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ نے جبریل امین سے ا س آیت کے بارے میں سوال کیا کہ الا من شآء اللہ سے وہ کون لوگ مراد ہیں جن کو اللہ تعالیٰ بے ہوش کرنا نہیں چاہیں گے؟ جبریل علیہ السلام نے جواب دیا کہ وہ اللہ کے نام پر ہونے والے شہداء ہیں۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں خبر دی ہے کہ : "احیاء عند ربھم یرزقون " (آل عمران 129) وہ زندہ ہیں ، اپنے رب کے پاس رزق دئیے جاتے ہیں۔ لہذا وہ نفخہ اولیٰ (پہلی دفعہ صور پھونکنے میں) ان لوگوں کے ساتھ نہیں مریں گی جو اس وقت مریں گے زندوں میں سے۔ اور ہم نے زید بن اسلم سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے صور پھونکنے کے وقت بے ہوش ہونے سے مستثنیٰ کیا ہے وہ بار ہ عدد ہوں گے: (1)۔۔جبریل علیہ السلام ۔ (2) ۔۔میکائیل علیہ السلام۔ (3)۔۔اسرافیل علیہ السلام۔ (4)۔۔ملک الموت ۔ اور آٹھ حملۃ العرش (عرش الٰہی کو اٹھانے والے فرشتے)۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کا موقف: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے ان لوگوں کے قول کو اختیار کیا ہے جن کا موقف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن کو بے ہوش ہونے سے مستثنیٰ کیا ہے وہ شہداء ہیں اور انہوں نے اس بات کو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے اور شیخ حلیمی نے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کو جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ وہ دیگر انبیاء سے پہلے اٹھائے گئے ہیں یا بے ہوش ہی نہیں ہوئے۔ اس کو تخصیص پر محمول کیا ہے کہ ان کو خصوصیت ہے جیسے دنیا میں ان کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہمکلامی ان کی فضیلت و خصوصیت تھی۔ یا ان کو اٹھانا دیگر انبیاء پر مقدم کیا گیا ہے۔ صرف اسی قدر جتنی وہ کوہ طور پر بے ہوش ہو ئے تھے۔ جب ان کے رب نے پہاڑ پر اپنی تجلی ڈالی تھی تا آنکہ وہ ہوش میں آ گئے تھے۔ پہلے ہوش میں لانا اس لیے ہو گا تاکہ ان کے لئے اس ذریعہ سے اس بے ہوشی کا بدلہ اور جزا ہو جائے۔ اس میں یہ نہیں ہے کہ نفخہ اولیٰ کی وقت وہ مریں گے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے ان لوگوں کے موقف کو ضعیف اور کمزور قرار دیا ہے جن کا خیال ہے کہ الا من شآ ء اللہ کا استثناء فرشتوں کے لئے۔ یعنی جبریل ، میکائیل ، اسرافیل ، ملک الموت اور آٹھ حاملین عرش۔ یہ موقف اس لئے کمزور ہے کہ آیت نے یہ خبر دی ہے کہ زمین و آسمان کے رہنے والے بے ہو ش ہو جائیں گے۔ جبکہ یہ فرشتے زمین و آسمان کے ساکن نہیں ہیں۔ اس لئے کہ عرش تمام آسمانوں سے اوپر ہے اور جبریل اور میکائیل ان فرشتوں میں سے ہیں جو صف باندھنے والے تسبیح کرنے والے ہیں عرش کے گرد۔ لہٰذا آیت کے مدلول کے تحت داخل ہی نہیں ہے۔ اور اسی طرح آیت کے تحت معصوم بچے جو جنت میں ہیں وہ اور حوریں بھی داخل نہیں ہیں جو جنت میں ہیں۔ اس لئے کہ جنت آسمانوں سے اوپر ہے، جبکہ آیت اہل زمین و اہل آسمان کے بارے میں ہے۔ پھر بعض آثار میں یہ بھی وارد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ حاملین عرش کو موت دے دے گا اور جبریل کو اور میکائیل اور ملک الموت کو سب کو مت دے کر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ: "لمن الملک الیوم " آج بادشاہی کس کی ہے؟ لہذا اسے کوئی جواب نہیں دے گا۔ لہذا وہ خود فرمائے گا: " للہ الواحد القھار" آ ج بادشاہی اکیلے اللہ زبردست کے لئے ہے۔ نیز ایک مرفوع حدیث میں روایت ہے کہ گو کہ اس کی اسناد میں ضعف ہے اس لئے ہم نے کتا ب البعث والنشور میں ذکر کیا ہے۔ باقی رہی جنت کے بات تو جنت اور جو کوئی اس میں ہے حوریں وغیرہ وہ سب کچھ بقا کے لئے بنا یا گیا ہے فنا کے لئے نہیں۔ جنت لذت و سرور کی جگہ ہے اس میں جو لوگ رہتے ہیں ان کے مرنے حدیث او ر خبر ہمارے پاس نہیں ہے۔ اور اگر کہا جائے کہ: "کل نفس ذائقۃ الموت (آل عمران) ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ "کل شیء ھالک الا وجھہ (القصص 88) ہر شے ہلاک ہونے والی ہے اللہ کی ذات کے سوا۔ شیخ حلیمی نے اس کا جواب دیا ہے کہ احتمال ہے کہ اس کا یہ معنی ہو کہ ہر شے ہلاکت کے قابل ہے۔ مطلب ہے جب ہلاکت کے قابل ہے تو اگر اللہ تعالیٰ اس کی ہلاکت کا ارادہ کریں گے تو وہ ہلاک ہو گی، مگر اللہ کی ذات۔ وہ برتر ہے، اس کی ذات قدیم ہے، ہلاکت و زوال سے پاک ہے اور وہ قدیم ہے تو قدیم وہی ہو سکتا ہے جس کے اوپر فنا جائز نہ ہو۔ ممکن نہ ہو۔ اور اللہ کے ماسوا ہر شے محدث ہے عدم سے وجود میں آئی ہے اور حادث شے عدم سے وجود میں آنے والی شے اسی وقت تک باقی رہ سکتی ہے جب تک اس کو باقی رکھنے والا اور ایجاد کرنے والا باقی رکھے۔ جب وہ بقا کر روکت لے گا وہ چیز فنا ہو جائے گی اور ہمارے پاس اس بات کی بھی کوئی خبر نہیں پہنچی کہ اللہ تعالیٰ عرش کو ہلاک کرے گا اور فنا کرے گا۔ لہذا چاہیے کہ جنت بھی اسی کی مثل ہے۔ واللہ اعلم۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے اس کو روایت کیا ہے سفیان ثوری سے کہ انہوں نے اس آیت کی تفسیر میں کہا : " کل شیء ھالک الا وجھہ۔۔ یعنی ھالک الامایرید بہ وجھہ " ہر شے ہلاک ہونے والی ہے مگر میں جس چیز کے ساتھ میں ارادہ کروں بقا کا۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ہر شے فنا ہونے والی ہے ۔ مگر وہ اعمال جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا مقصود ہو اعمال صالحہ میں سے وہ ہلاک و تباہ نہیں ہوں گے۔ جب تمام زندے مر جائیں گے اور دوسرے نفخہ یعنی دوسری بار صور پھونکنے کا وقت آ جائے گا تو حدیث صور میں آیا ہے اور وہی حدیث ہے جو محمد بن کعب سے مروی ہے ایک رجل سے اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مگر اس کی سند میں مقال ہے۔ راوی نے اس میں قصہ ذکرکیا ہے۔ نفخہ اولیٰ کے بارے میں اور اس کے مابعد کے بارے میں اور اس نے جبریل ، میکائیل کی موت کا ذکر بھی کیا ہے۔ پھر حاملین عرش کی موت کا اسرافیل کی موت کا۔ پھر ملک الموت کی موت کا۔ پھر کہا کہ عرش کے نیچے سے انسانوں کی منی کی مثل پانی اترے گا۔ پھر آسمان کو حکم ہو گا کہ بارش برسا، چالیس دن تک اور تمام جسموں کو حکم دے گا کہ تم اُگو جیسے کھمبی اگتی ہے یا جیسے سبزہ کی انگوری اگتی ہے۔ یہان تک کہ جب ان کے جسم پورے ہو چکیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ حملۃ العرش کو چاہیے کہ وہ زندہ ہو جائیں سو وہ زندہ ہو جائیں گے۔ پھر جبریل اور میکائیل کو زندہ ہونے کا حکم ہو گا۔ میرا خیال ہے کہ دونوں کا اکٹھے ذکر کیا تھا، ان کو ان کے ماسوائے کے ساتھ۔ سو سب زندہ ہو جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ اسرافیل کو حکم دیں گے وہ صور اٹھائے گا اور اس کے منہ میں رکھے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ تمام ارواح کو بلائیں گے۔ وہ حاضر کیے جائیں گے۔ اہل ایمان کے ارواح چمک رہے ہوں گے نور سے اور اہل کفر سے تاریک ہوں گے ان اروح کو رکھے گا۔ قرن میں پھر اللہ تعالیٰ اسرافیل کو حکم دے گا کہ آب وہ اس میں نغمہ ثانیہ کےلئے دوبارہ جی اٹھنے کی پھونک مارے گا۔ چنانچہ روحیں ایسے نکلیں گی جیسے شہد کی مکھیان نکلتی ہیں۔ ان ارواح سے زمین و آسمان کے درمیان کی فضاء بھر چکی ہو گی۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے مجھے اپنی عزت کی قسم اور اپنے جلال کی قسم ہے۔ ہر روح ضرور ضرور اپنے اپنے جسم کی طرف لوٹ جائے گی۔ لہٰذا روحیں ناکوں میں داخل ہو جائیں گی پھر جسموں میں ایسے چلیں گی۔ جیسے زہریلے جانور کے ڈنسے ہوئے کے جسم میں زہر چلتا ہے پھر ان سے جلدی جلدی زمین پھٹ پڑے گی۔ یہ حدیث ان میں ہے جن کی اسناد استاذ ابو اسحاق اسفرائنی کے سامنے پڑھی گئی تھی اور میں سن رہا تھا۔ یہ کہ ابو بکر محمد بن عبداللہ شافعی نے ان کو خبر دی ۔ ان کو ابو قلابہ رقاشی نے ان کو ابو عاصم نے ان کو اسماعیل بن رافع نے محمد بن یزید بن ابو زیاد سے انہوں نے محمد بن کعب قرظی سے اس نے انصار کے ایک آدمی سے اس نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور ہم نے روایت کیا ہے ایک دوسری حدیث میں ضعیف اسناد کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے قیامت کے بیان میں اس میں صور اور قرن کی وضاحت اور اسکے بڑے ہونے کی اور اسرافیل کے بڑے ہونے کی بھی ہے، پھر اس میں کہا ہے کہ جب وہ وقت آ جائے گا جس کا اللہ تعالیٰ ارادہ کرے گا۔ اسرافیل کو حکم ہو گا۔ وہ قرن میں پہلی بار پھونک مارے گا۔ لہذا قرن سے پھونک تمام آسمانوں کی طرف نیچے آئے گی اور آسمانوں کے رہنے والے سارے اپنی کثرت سمیت بے ہوش ہو جائیں گے اور سمندر کے رہنے والی مخلوقات اپنی کثرت سمیت بے ہوش ہو جائیں گے۔ پھر وہ پھونک زمین کی طرف اترے گی۔ لہذا دھرتی پر رہنے والی تمام مخلوقات بے ہوش ہو جائیں گی اور اللہ تعالیٰ کا سارا جہان اور اس کی ساری مخلوقات جن انسان ،زمین کے اندر کے جانور اورمویشی سب بے ہوش ہو جائیں گے۔ اور فرمایا کہ قرن میں بہت سارے سراخ ہیں ان کی تعداد اتنی ہے کہ جنتی مخلوقات موت کامزہ چکھیں گے جب سب بے ہوش ہو جائیں گے اللہ تعالیٰ اسرافیل سے کہیں گے کہ اے اسرافیل کون زندہ باقی رہ گیا ہے۔ وہ کہے گا صرف اسرافیل ہے اور بس جو کہ تیر ا کمزور غلام ہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تو بھی مر جا اے اسرافیل۔ وہ بھی مر جائے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے آج کس کی بادشاہت ہے؟ نہ کہیں سے آواز سنائی دے گی نہ آہٹ ہلکی سی اور نہ کوئی بولنے والا ہو گا جو کلام کرے۔ نہ ہی کوئی جواب دینے والا جو سمجھا جائے اور عرش کو اٹھانے والے فرشتے بھی مر چکے ہوں گے اور اسرافیل بھی اور ملک الموت بھی اور ہر مخلوقات پھر جبار خود اپنے آپ کو جواب دے گا: " للہ الواحد القھار الیوم تجزی کل نفس بما کسبت لا ظلم الیوم ان اللہ سریع الحساب'' (غافر12) صرف ایک اکیلے اللہ زبردست کا اقتدار ہے آج۔ آ ج ہر نفس کو ا س کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا تھا۔ آج کوئی ظلم نہیں ہو گا۔ اللہ تعالیٰ جلدی حساب لینے والا ہے۔ یہ وہ وقت ہو گا۔ " تمت کلمۃربک صدقا وعد لا لامبدل لکلماتہ وھو السمیع العلیم" تیرے رب کا کلمہ پورا ہو چکے گا سچائی اورانصاف کا اس کے کلمات کو اس کی بات کو بدلنے والا کوئی نہیں ہے۔ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ اور اس کا کلمہ اور کلام پورا ہو گا۔ اہل ارض پر اور اہل آسمان پر اس کی قضا اور فیصلے کے نافذ کرنے کی بات اس کے ارشاد کے مطابق کہ: " کل شیء ھالک الا وجھہ لہ الحکم والیہ ترجعون'' ( القصص 86) ہر شے ہلاک ہونے والی ہے۔ مگر صرف اس کی ذات ہی باقی رہے گی، اسی کا حکم ہو گا اور اس کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے۔ (سورہ قصص 86) بہر حال اسرافیل تو مریں گے پھر زندہ ہو جائیں گے آنکھ جھپکنے کی دیر میں اور حاملین عرش تو اس پلک جھپکنے سے بھی جلدی زندہ ہو جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ نغمہ اولیٰ کے بعد اسرافیل کو حکم دیں گے۔ چالیس کا۔ اور اسی طرح تو راۃ میں ہے کے دو نفخوں کے درمیان (بھی اسرافیل کے دوبار قرن میں پھونک مارنے کا درمیانی وقفہ) چالیس ہو گا۔ معلوم نہیں کہ اس سے کیا مراد ہے۔ جب چالیس پورا ہو جائےگا تو اللہ تعالیٰ اہل آسمان اور اہل زمین کو دیکھیں گے اور فرمائیں گے مجھے اپنی عز ت کی اور غلبے کی قسم ہے، میں تم سب کو دوبارہ پیدا کروں گا جیسے کہ میں نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا اور البتہ ضرور میں تمہیں زندہ کروں گا جیسے کہ میں نے تمہیں مارا ہے۔ پھر اسرافیل کو حکم دیں گے، وہ دوسری بار پھونک مارے گا۔ حالانکہ تمام ارواح اس قرن میں جمع کر دئیے گئے ہوں گے۔ جب پھونک ماری جائے گی تو ہر روح اس کے مخصوص سوراخ اور روشندان سے نکلے گی۔ پس اچانک روحیں آسمان و زمین کے درمیان حیران ہو کر بھٹکیں گی اور ان کی بھنبھناہٹ ہو گی جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے۔ (اس لیے کہ اپنے اپنے جسموں کو ڈھونڈیں گی اور جسم توگل سڑکر ختم ہو چکے ہوں گے، کچھ بھی نہیں ہو گا زمین پر) لہذا اسرافیل پکارے گا اے ٹکڑے ٹکڑے ہونے والی کھالو۔۔۔ اے چورا چورا ہو جانے والے اعضاء ۔۔۔اے بوسیدہ ہو جانے والی ہڈیوں۔۔۔۔ اے بکھر جانے والے جسموں۔۔۔۔ اے گل جانے والے بالوں۔۔۔۔ حساب و کتاب کی جگہ اکٹھے ہو نے کے لئے اور بڑی پیشی کے لئے کھڑے ہو جاؤ۔ سو ہر روح اپنے اپنے جسموں میں داخل ہو جائے گی۔ فرمایا کہ اللہ بارش کریں گے عرش کے نیچے سے تمام موتی پر۔ لہذا ایسے زندہ ہو جائیں گے جیسے مردہ زمین بارش سے زندہ ہو جاتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ تمام اجسام کو اسی حالت میں اٹھائیں گے جس حالت میں وہ دنیا میں تھے اور ہر ہر جگہ سے اٹھائیں گے جہاں کہیں بھی تھے۔ بعض کو درندوں کے پیٹ سے بعض کو پرندوں کے پو ٹوں میں سے۔ بعض کو سمندر کی تہہ میں بعض کو زمین کے پیٹ میں اور بعض زمیں کی پشت پر تو ہر طرح اپنے جسم میں داخل ہو جائے گی۔ پس اچانک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ مشرقوں کی طرف سے آگ بھیجیں گے جو لوگوں کو مغربوں کی طرف ہانکے گی اور لوگ اس زمین پر جمع ہو ں گے، جس کا نام ساہرہ ہے۔بیت المقدس کی پاک سر زمین ہے۔ جس پر نہ کوئی گناہ ہو ہے اور نہ ہی کوئی غلطی ہوئی ہے۔ یہی بات اس آیت میں مذکور ہے۔ (1)۔۔"فانما ھی زجرۃ واحدۃ فاذاھم بالساھرۃ" (النازعات 13) سوا اس کے نہیں کہ بس وہ ایک ڈانٹ ہے۔ پس اچانک وہ میدان ساہرہ میں ہوں گے۔ (2) یوم یقوم الناس لرب العٰلمین" (المصطفیین 6) اس دن لوگ کھڑے ہوں گے رب العلمین کے لئے۔ (3)۔۔ وحشر ناھم فلم نغادر منھم احدا (الکھف 47) ہم لوگوں کو جمع کریں گے، ہم ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ (4)۔۔ونفخ فی الصور فجمعنا ھم وعرضنا جھنم یومئذ اللکافرین عرضا الذین کانت اعینھم فی غطاء دن ذکری (الکہف 99) قرن میں پھونک ماری جائے گی۔ سو ہم لوگوں کو جمع کر لیں گے اور اسی دن کافروں کے سامنے کر دیں گے جہنم کو جو لوگ کہ ہمارے ذکر سے ان کی آنکھیں پردے میں تھیں۔
مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ ← أبو وليد الفقيه ← أبو محمد عبد الرحمن بن محمد بالويه المزكي
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 353
شعب الإيمان · الثامن من شعب الإيمان ‹ فصل في كيفية انتهاء الحياة الأولى و ابتداء الحياة الأخرى و صفة يوم القيامة ـ · حديث 359
359 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا إبراهيم بن عصمة بن إبراهيم ثنا السري بن خزيمة ثنا وهيب عن عبد الله بن طاوس عن أبيه عن أبي هريرة : عن النبي صلى الله عليه و سلم قال :
يحشر الناس على ثلاث طرائق راغبين راهبين اثنان على بعير و ثلاثة على بعير و أربعة على بعير و عشرة على بعير و تحشر بقيتهم النار تقيل معهم حيث قالوا و تبيت معهم حيث باتوا و تصبح معهم حيث أصبحوا و تمسي معهم حيث أمسوا
ورواه البخاري عن معلى بن أسد
و أخرجه مسلم من وجه آخر عن وهيب
قال الحليمي رحمه الله : فيحتمل أن يكون قول النبي صلى الله عليه و سلم : يحشر الناس على ثلاث طرائق أشار إلى الأبرار و المخلطين و الكفار فالأبرار الراغبون إلى الله جل ثناءه فيما أعد لهم من ثوابه و الراهبين الذين هم بين الخوف و الرجاء فأما الأبرار فإنهم يؤتون بالنجائب كما روي في حديث علي و أما المخلطون فهم الذين أريدوا في هذا الحديث أنهم يحلمون على الأبعرة و الأشبه أنها لا تكون من نجائب الجنة لأن من هؤلاء من لا يغفر له ذنوبه حتى يعاقب بها بعض العقوبة و من أكرم بشيء من نعيم الجنة لم يهن بعده بالنار
قال البيهقي رحمه الله : و روى علي بن زيد بن جدعان و ليس بالقوي عن أوس بن خالد عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم : يحشر الناس يوم القيامة على ثلاثة أصناف ركبانا و مشاة و على وجوههم فقال رجل يا رسول الله ! و يمشون على وجوههم ؟ قال : الذي أمشاهم على أقدامهم قادر أن يمشيهم على وجوههم
و هذا إن صح فكأن بعض المخلطين من المؤمنين يكون راكبا كما جاء في الحديث الأول و بعضهم يكون ماشيا كما جاء في الحديث أو يركب في بعض الطريق و يمشي في بعض
و أما المشاة على وجوههم فهم الكفار و يحتمل أن يكون بعضهم أعتى من بعض فؤلاء يحشرون على وجوههم و الذين هم أتباع يمشون على أقدامهم فإذا سيقوا من موقف الحساب إلى جهنم سحبوا على وجوههم قال الله عز و جل :
{ يوم يسحبون في النار على وجوههم }
و قال : { الذين يحشرون على وجوههم إلى جهنم أولئك شر مكانا وأضل سبيلا }
و يكونون في تلك الحالة عميا و بكما و صما قال الله تعالى :
{ ونحشرهم يوم القيامة على وجوههم عميا وبكما وصما مأواهم جهنم }
و قبل ذلك يكونون كاملي الحواس و الجوارح لقوله تعالى :
{ يتعارفون بينهم }
و قوله : { يتخافتون بينهم إن لبثتم إلا عشرا }
و سائر ما أخبر الله عز و جل عنهم من أقوالهم و نظرهم و سمعهم فإذا أدخلوا النار ردت إليهم حواسهم ليشاهدوا النار و ما أعد لهم فيها من العذاب قال الله تعالى :
{ كلما ألقي فيها فوج سألهم خزنتها ألم يأتكم نذير * قالوا بلى قد جاءنا نذير فكذبنا }
و سائر ما أخبر الله عنهم من أقوالهم و سمعهم و نظرهم فإذا نودوا بالخلود سلبوا أسماعهم قال الله عز و جل :
{ لهم فيها زفير و هم فيها لا يسمعون }
و قد قيل إنهم يسلبون أيضا الكلام لقوله تعالى :
{ اخسؤوا فيها ولا تكلمون }
و روينا عن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم قام في الناس فوعظهم فقال : أيها الناس إنكم تحشرون إلى الله حفاة عراة غرلا ثم قرأ :
{ كما بدأنا أول خلق نعيده }
و إن أول من يكسى يوم القيامة إبراهيم عليه السلام
و عن عائشة رضي الله عنها عن النبي صلى الله عليه و سلم قال :
تخشرون يوم القيامة حفاة عراة غرلا فقلن : يا رسول الله الرجال من النساء ؟ فقال يا عائشة ! الأمر يومئذ أشد من ذلك
و الذي يدل عليه ما قدمناه ذكره أن ذلك يكون حال خروجهم من قبورهم ثم يكرم المتقون و من شاء من المخلطين المؤمنين بالكسوة و الركوب كما قدمنا ذكره و الله أعلم
و الذي روي في حديث أبي سعيد الخدري عن النبي صلى الله عليه و سلم يبعث الميت في ثيابه التي يموت فيها يحتمل أن يكون المراد في أعماله التي يموت عليها من خير أو شر كقوله صلى الله عليه و سلم في رواية جابر يبعث كل عبد على ما مات عليه
و قد يحتمل أن يبعث في ثيابه التي يموت فيها ثم تتناثر عنه أو عن بعضهم ثم يحشر إلى موقف الحساب عاريا ثم يكسى بعد ذلك من ثياب الجنة و الله أعلم
و أما قول الله عز و جل في صفة الكفار يوم القيامة : { خاشعة أبصارهم } و قوله : { خشعا أبصارهم } فإن المراد بذلك و الله أعلم حال مضيهم إلى الموقف و قوله : { مهطعين مقنعي رؤوسهم }
و إنما هو إذا طال القيام عليهم في الموقف فيصيرون في الحيرة كأنهم لا قلوب لهم و يرفعون رؤوسهم فينظرون النظر الطويل الدائم و لا يرتد إليه طرفهم كأنهم قد نسوا الغمض أو جهلوه و الناس في القيامة لهم أحوال و مواقف و اختلف الأخبار عنهم لاختلاف مواقفهم و أحوالهم و أما قول الله عز و جل :
{ فلا أنساب بينهم يومئذ ولا يتساءلون }
فقد روينا عن أنه قال : هذا في النفخة الأولى ينفخ في الصور فيصعق من في السموات و من في الأرض إلا من شاء الله { فلا أنساب بينهم يومئذ ولا يتساءلون } ثم إذا نفخ في النفخة الأخرى قاموا { فأقبل بعضهم على بعض يتساءلون }
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے، ان کو ابراہیم بن عصمہ بن ابراہیم نے، ان کو سری بن خزیمہ نے ، ان کو معلیٰ بن اسد نے ، ان کو وھیب نے ، ان کو عبداللہ بن طاؤس نے ، ان کو ان کے باپ نے ، ان کو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگ تین طریقوں پر جمع کیے جائیں گے۔ امید کرنے والے اور خوف کرنے والے ۔ ایک اونٹ پر دودو ۔ ایک اونٹ پر تین تین ۔ ایک اونٹ پر چار چار ۔ ایک اونٹ پر دس دس ۔ اور باقیوں کو آگ جمع کرے گی، جہاں وہ دوپہر کا آرام کریں گے اور رکیں گے ، وہ بھی رکے گی جہاں وہ رات گذاریں گے۔ وہ بھی رات گذارے گی جہاںوہ صبح کریں گے وہ بھی صبح کرے گی جہاں وہ شام کریں گے ، وہ بھی شام کرے گی۔ اس کو بخاری نے روایت کیا ہے معلیٰ بن اسد سے۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ کا قو ل اور مذکورہ حدیث کی وضاحت: شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : احتمال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس قول کا مطلب کہ لوگ تین طریقوں پر جمع کئے جائیں گے ارشاد مقصود ہے۔ (1) ابرار (2) مخلط یعنی ملے جلے۔ (3) کفار۔ کفر کی طرف سے ابرار وہ ہوں گے جو اللہ عزوجل کی طرف مشتاق ہوں گے اس ثواب کے لئے جو اللہ تعالیٰ نے ن کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ اور ڈرنے والے وہ لوگ ہوں گے جو خو ف اور امید کی کیفیت میں ہوں گے ۔ لہذا ابرار لوگ (نیک لوگ) بہترین سواریاں دئیے جائیں گے ، جیسا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے اور مخلط اور ملے جلے وہ ہوں گے جو اس حدیث میں بایں طور مذکور ہیں کہ وہ اونٹوں پر سوار کئے جائیں گے۔ غالب گمان ہے کہ وہ اونٹنیا جنت کی اونٹنیاں نہیں ہوں گی۔ اس لئے کہ ان لوگوں میں سے بعض وہ بھی ہوں گے جس کی گناہ ابھی معاف نہیں کئے گئے ہوں گے۔ یہاں تک کہ ان کو کچھ سزا نہ دے دی جائے۔ اور جس شخص کا جنت کی نعمتوں میں سے کسی نعمت کے ساتھ اکرام کیاجائے، اس کے بعد اس کی جہنم کی آگ کے ساتھ توہین رسوائی نہیں کی جائے گی۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ علی بن زید بن جدعان سے روایت کی گئی ہے ، وہ قوی نہیں ہے اور اوس بن خالد سے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ لوگ قیامت کے دن تین اقسام پر جمع کئیے جائیں گے۔ سوار ۔۔۔ پیدل ۔۔۔ اور منہ کے بل۔ ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگ منہ کے بل کیسے چلیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس ذات نے ان کو ان کے قدموں پر چلایا ہے وہ ان کو منہ کے بل چلانے پر بھی قادر ہے۔ یہ تین اقسام والی روایت اگر صحیح ہے تو پھر گویا کہ بعض ملے جلے اعمال والے مومن سوار ہوں گے، جیسے پہلی حدیث میں آیا ہے اور ان میں سے کچھ پیدل ہوں گے جیسے اس حدیث میں آیا ہے ۔ یا کچھ راستہ سوار ہوں گے اور کچھ راستہ پیدل چلیں گے۔ اور باقی رہے منہ کے بل چلنے ولے تو وہ کفار ہی ہوں گے اور احتمال ہے کہ بعض ان کے بعض سے سرکش متکبر ہوں گے تو وہ اپنے منہ کے بل اکٹھے کئے جائیں گے اور ان متکبرین کے تابعدا ر ہوں گے وہ اپنے قدموں پر پیدل چلیں گے اور جب وہ حساب کے موقف سے آگے جہنم کی طرف بڑھ جائیں گے تو پھر وہ منہ کے بل گھسیٹے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: یوم یسحبون فی النار علی وجوھھم " (القمر 48) جس دن وہ اپنے منہ کے بل جہنم میں گھسیٹے جائیں گے گے۔ دوسرا ارشاد یوں ہے: "الذین یحشرون علی وجوھھم الیٰ جھنم اولٰئک شرمکا نا واضل سبیلا (الفرقان 34) وہی لوگ ہیں جو اپنے مونہوں کے بل جہنم کی طرف اکٹھے کئے جائیں گے ۔ وہی لوگ بد تر ہیں جگہ کے اعتبار سے اور گمراہ تر ہیں راستے کے اعتبار سے۔ کافروں کا حشر قیامت کے دن اندھا کر کے ہو گا: اور کفار اس حالت میں اندھے ، گونگے اور بہرے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: " ونحشرھم یوم القیٰمۃ علی وجوھھم عمیا وبکما وصما ماوھم جھنم " (اسراء 97) ہم ان کفار کو قیامت کے دن ان کے مونہوں کے بل اندھے ، گونگے اور بہرے کر کے جمع کریں گے۔ ٹھکانہ ان کو جہنم ہو گا۔ جب کہ وہ اس حالت سے قبل کا مل الحواس ہوں گے اور کامل الااعضاء ہوں گے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "یتعارفون بینھم "(یونس 45) باہم ایک دوسرے کو وہ پہچانیں گے۔ اور ارشاد ہے: " یتخافتون بینھم ان لبثتم الاعشراً " (طٰہ 103) یہ لوگ چپکے چپکے ایک دوسرے سے کہیں گے ، نہیں ٹھہرے تھے تم دنیا میں مگر دس دن ۔ علاوہ ان آیات کے وہ تمام آیات جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کفار کے بارے میں ان کے اقوال ، ان کی نظر ، ان کی سمع کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو خبر یں دیں ہیں وہ سب دلالت کرتی ہیں کہ پہلے وہ کامل الحواس ہوں گے۔ مگر اب حشر کے وقت اندھے ، گونگے ، بہرے کر دئیے جائیں گے۔ پھر جب وہ آگ میں داخل کئے جائیں گے تو ان کے حواس واپس لوٹا دئیے جائیں گے تاکہ و ہ آگ کا مشاہدہ کر سکیں اور اس عذاب کا بھی جو جہنم میں ان کے لیے تیار کر رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: " کلما القی فیھا فوج سالھم خزنتھا الم یاتکم نذیر قالو ا بلیٰ قد جاء نا نذیر فکذبنا " (الملک 8-9) جب بھی جہنم میں کوئی گروہ ڈالا جائے گا جہنم کے رباران سے سوال کریں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا تھا ۔ وہ بولیں گے ہمارے پاس ڈرانے والا آیا تھا مگر ہم نے اس کو جھوٹا کہہ دیا تھا۔ اس کے علاوہ دیگر وہ تمام آیات بھی ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے ان کفار کے بارے میں ان کے اقوال اور ان کے سننے اور دیکھنے کی بابت اللہ تعالیٰ نے جو خبر دی ہے وہ سب دلالت کرتی ہیں کہ جہنمی جہنم میں پہنچ کر کامل الحواس ہوں گے اور عذاب کو پائیں گے۔ پھر جب وہ جہنم میں ہمیشہ رہنے کی منادی اور اعلان کئے جائیں گے،پھر وہ اپنے کان چھین لئے جائیں گے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے: "لھم فیھا زفیر وھم فیھا لا یسمعون " (الانبیاء 100) جہنم میں جہنمیوں کے لئے شور اور چلانا ہو گا، مگر وہ نہیں سن سکیں گے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس وقت ان سے قوت گویائی بھی چھین لی جائے گی۔ اس لئے کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "اخسئو ا فیھا ولا تکلمون " (المؤمنون 108) ذلیل ہو جاؤ جہنم میں اور تم لوگ مجھ سے کلام بھی نہ کرو۔ (علاوہ ازیں ) ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ لوگوں میں کھڑے ہوئے اور ان کو وعظ فرمایا اور فرمایا : لوگو! تم اللہ کی طرف جمع کئے جاؤ گے اس حال میں کہ تم ننگے پاؤں، ننگے بدن اور غیر ختنہ شدہ ہو گے۔ پھر آپ نے اپنی تائید میں یہ آیت تلاوت کی: "کما بداً نا اول خلق نعیدہ " (الانبیاء 104) جیسے ہم نے پہلی بار پیدا کیا تھا۔ اسی نہج پر دوبارہ اس کو لوٹائیں گے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ : پہلا شخص جو قیامت کے دن کپڑے پہنا یا جائے گا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں گے۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ : لوگ قیامت کے دن ننگے پاؤں اور ننگے بدن بغیر ختنہ کے جمع کئے جائیں گے۔ تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مرد عورتوں سے کہا ں جائیں گے؟ یعنی اس حالت میں لباس و حجاب کے بغیر کیسے ساتھ رہنا ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس دن معاملہ مرد و عورت کے خیال و تصور سے بہت ہی زیادہ سنگین ہو گا۔ (یعنی کسی کو اس حالت کا ہوش تک نہیں ہو گا۔ خوف کے عالم میں لوگ حیران اور گھبراہٹ سے پریشان ہوں ہوں گے)۔یہ کیفیت ننگے پاؤں ، ننگے بدن والی جس کو ہم نے ذکر کیا ہے ، جس پر مذکورہ نصوص دلالت کرتی ہیں ، یہ ان کا حال ان کی قبروں سے نکلتے وقت ہو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اہل تقویٰ کا اور جس کے ملے جلے اعمال والوں میں سے چاہیں گے کپڑا پہنا نے اور سواری کروانے کے ساتھ اکرام کریں گے ۔ جیسے اس کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔ باقی رہی حدیث جو ابو سعید خدری و ہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ میت کو ان کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جن میں وہ مرا تھا۔ احتمال ہے کہ لباس سے مراد یہاں اعمال ہوں۔ یعنی خیر و شر کے جن اعمال میں مرا تھا انہیں اعمال میں اٹھایا جائے گا۔ جیسے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر بندہ اس حالت پر اٹھایا جائے گا۔ جس حالت پر مرا تھا۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ ان کپڑوں میں اٹھایا جائے گا جس میں وہ مرا تھا۔ پھر وہ اس سے جھڑ جائیں گے جا کچھ لوگوں سے جھڑ کر ختم ہو جائیں گے ۔ پھر حساب کے موقف کی طرف ننگے حالت میں جمع کئے جائیں گے۔ پھر اس کے بعد جنت کے لباس میں سے کپڑے پہنائے جائیں گے۔ اور کفار کی کیفیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : "(1) ۔۔۔ خاشعۃ ابصارھم (القلم 43) " ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ اور دوسرا ارشاد ہے: " (2)۔۔۔ خشعا ابصارھم (القمر 7) ان کی آنکھیں جھکی ہوں گی۔ واللہ اعلم ا س سے مراد حساب و کتاب کے موقف کی طرف جاتے ہوئے ان کی یہ حالت ہو گی کا بیان ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : "(1)۔۔۔ مھطعین مقنعی رؤسھم الخ (ابراہیم 43) دوڑتے ہوں گے اوپر اٹھائے اپنا سر پھر لوٹ کر نہیں آئیں گی ان کی طرف ان کی آنکھیں اور ان کے دل اڑ گئے ہوں گے۔ یہ وہ کیفیت ہو گی جب ان پر قیام طویل ہو جائے گا۔ موقف میں انتظار کرتے کرتے حیرانی اور پریشانی میں ہوں گے۔ ایسے جیسے کہ ان کے دل میں یہ نہیں۔ لہذا جب وہ سر اٹھائیں گے ازراہ پریشانی تو طویل اور دائمی نظر سےدیکھیں گے اور ان کی نظر ان کی طرف پلٹ کر نہیں آئے گی اور وہ ایسے ہو جائیں گے گویا کہ وہ نظریں جھکانا بھول چکے ہیں یا نیچے دیکھنا سرے سے جانتے ہی نہیں۔ پریشانی سے آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور قیامت کے دن لوگوں کے مختلف احوال ہوں گے۔ اور مختلف موقف اور ٹھکانے ہوں گے۔ مختلف ٹھکانوں اور مختلف احوالوں کی وجہ سے ان کی خبریں بھی مختلف ہوں گی۔ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: " فلا انساب بینھم یومئذ ولا یتسا ء لون "(المومنون 101) جب صور پھونکا جائے گا تو گویا کہ نہ قرابتیں ہوں گی ان کے درمیان اس دن اور نہ ہی وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ توا س بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر چکے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ ی نفخہ اولیٰ ہو گا صور پھونکا جائے گا۔ لہذا وہ مخلوقات جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں سب بےہوش ہو جائیں گے، مگر اللہ جس کو چاہے گا بے ہوشی سے بچا لے گا۔ لہذا اس وقت ان کے درمیان نہ کوئی رشتے ناتے ہوں گے اور نہ ہی وہ اس وقت ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔ بلکہ مارے خوف اور دہشت کے سب ایک دوسرے کو بھول جائیں گے۔ پھر جس وقت دوسری بار صور پھونکا جائے گا پھر وہ اٹھ کھڑے ہوں گے۔ پھر بعض ان کے بعض کی طرف متوجہ ہوں گے اور اس وقت ایک دوسرے سے احوال بھی پوچھیں گے۔ فصل۔۔۔ مجرم جہنم کی طرف پیاسے ہانکے جائیں گے:تحقیق ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارےمیں فرمایا: " ونسوق المجرمین الی جھنم رداً "ہم مجرموں کو جہنم کی طرف ہانکیں گے پیاسے۔ وردا بمعنی عطاشا۔۔۔ حالانکہ احادیث دلالت کرتی ہین کہ اس دن پیاس عام ہو گی (یعنی سب لوگوں کو پیاس ہو گی) مگر مجرموں کی پیاس نہیں بجھے گی، بلکہ بڑھتی چلی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ جہنم میں ڈال دئیے جائیں گے۔ وہاں جا کر کھولتا ہوا پانی پیاسے اونٹ کی طرح پیئں گے ۔ ہم اللہ کی پناہ پکڑتے ہیں اللہ کے عذاب سے۔ اہل تقویٰ نبی علیہ السلام کے حوض سے پلائے جائیں گے: بہر حال متقی لوگ اور جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہیں گے ملے جلے اعمال والے مؤمنین وہ سب ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوض سے پلائیے جائیں گے۔ حوض کی کیفیت اور اس کے پانی کی تعریف ہم نے کتاب البعث والنشور میں ذکر کر دی ہے۔
Shuab ul Iman · The eighth of the people of faith › Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection · Hadith 359
شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في قوله عز و جل ـ { فوربك لنحشرنهم والشياطين ثم لنحضرنهم حول جهنم جثيا * ثم لننزعن من كل شيعة أيهم أشد على الرحمن عتيا } إلى قوله : { ونذر الظالمين فيها جثيا } · حديث 370
370 - أخبرنا أبو علي بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان البغدادي بها أنا عبد الله بن جعفر النحوي قال : يعقوب بن سفيان ثنا سليمان بن حرب أبو أيوب الواشحي ثنا أبو صالح غالب بن سليمان عن كثير بن زياد البرساني عن أبي سمية قال : اختلفنا في الورود بالبصرة فقال قوم : لا يدخلها مؤمن و قال آخرون : يدخلونها جميعا ثم ننجي الذين اتقوا و نذر الظالمين فيها جيثا فلقيت جابر بن عبد الله فسألته فقال : يدخلونها جميعا فقلت إنا اختلفنا فذكر اختلافهم قال : فأهوى جابر بإصبعه إلى أذنه فقال : صمت إن لم أكن سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول :
الورود : الدخول لا يبقى بر و لا فاجر إلا دخلها فتكون على المؤمنين بردا و سلاما كما كانت على إبراهيم عليه السلام حتى أن النار ( خطأ ) أو قال لجهنم فحيحا من بردهم ثم ننجي الذين اتقوا و نذر الظالمين فيه جثيا قال : البيهقي رحمه الله هذا إسناد حسن ذكره البخاري في التاريخ و شاهده الحديث الثابت عن أبي الزبير عن جابر عن أم مبشر عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله إلا أنه قال : جامدة
قال أبو عبيد : و إنما أراد تأويل قوله { و إن منكم إلا واردها }
فيقول وردوها و لم يصبهم من حرها شيء إلا ليبر الله قسمه
ہمیں خبر دی ہے ابو علی بن احمد بن ابراہیم بن شاذان بغدادی نے اس بارے میں، ان کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے کہا یعقوب بن سفیان نے کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے سلیمان بن حرب ابو ایوب واشحی نے ان کو ابو صالح غالب بن سلیمان نے کثیر بن زیاد برسانی سے ان کو ابو سمیہ نے، انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں نے بصرے میں جہنم پر وارد ہونے کے مسئلے میں آپس میں اختلاف کیا تھا۔ ایک گروہ نے کہا کہ مومن جہنم میں داخل نہیں ہو گا اور کچھ لوگوں نے کہا کہ سب لوگ داخل ہوں گے۔ (اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے) پھر ہم ان لوگوں کو نجات دیں گے (جو نافرمانی سے بچتے رہے یا کفر و شرک سے) بچتے رہے اور ہم ظالموں (یعنی کافروں و مشرکوں) کو جہنم میں اوندھے پڑے رہنے دیں گے۔ سو میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے میں نے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ جہنم میں سب لوگ داخل ہوں گے ۔ میں نے کہا کہ ہم نے تو باہم اختلاف کیا ہے۔ پھر لوگوں کے اختلاف کا تذکرہ ہوا۔ ابو سمیہ نے کہا( اس کے بعد) حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگایا اور فرمایا کہ میں بھی یہ باتیں سن کر خاموش ہی ہو جاتا اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں یہ حدیث نہ سنی ہوتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے کہ ایود دخول ہے نہ کوئی نیک بچے گا اور نہ ہی کوئی بد بچے گا۔ مگر ہر کوئی جہنم میں داخل ہو گا۔ پھر مومنوں پر وہ ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جائے گی۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ہو گئی تھی۔ یہاں تک کہ جہنم کے لئے ٹھنڈی سانس لینا ہو گا ان کی ٹھنڈی سے۔ پھر ہم ان لوگوں کو نجات دیں گے جو ڈر گئے تھے اور ہم ظالموں کو اس میں اوندھا پڑا چھوڑ دیں گے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کا قول: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ : یہ اسناد حسن ہے۔ بخاری نے اس کو اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے اور اس کا شاہد وہ حدیث ہے جو ثابت ہے ابو زبیر سے جابر سے، ام مبشر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کا مثل مروی ہے۔ مگر اس نے فرمایا جامدۃ کہ جامد ہے۔ ابو عبید نے کہا کہ سوائے اس کے نہیں کہ انہوں نے وان منکم الا واردھا کی تاویل کا ارادہ کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ جہنم میں ورود تو ہو گا مگر اس کی گرمی ان کو نہیں پہنچے گی۔ کچھ بھی سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قسم پوری کریں گے۔
عبد الله بن جعفر النحوي ← أبو علي بن أحمد بن إبراهيم بن شاذان البغدادي بها
Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful. · Hadith 370
شعب الإيمان · التاسع من شعب الإيمان ‹ فصل في قوله عز و جل ـ { فوربك لنحشرنهم والشياطين ثم لنحضرنهم حول جهنم جثيا * ثم لننزعن من كل شيعة أيهم أشد على الرحمن عتيا } إلى قوله : { ونذر الظالمين فيها جثيا } · حديث 371
371 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب حدثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا حجاج بن محمد قال : قال ابن جريج أخبرني أبو الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله يقول أخبرتني أم مبشر : أنها سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول عند حفصة :
لا يدخل النار إن شاء الله من أصحاب الشجرة الذين بايعوا تحتها قالت بلى يا رسول الله فانتهرها فقالت حفصة ـ { و إن منكم إلا واردها } فقال النبي صلى الله عليه و سلم : فقد قال الله عز و جل : { ثم ننجي الذين اتقوا ونذر الظالمين فيها جثيا }
رواه مسلم في الصحيح عن هارون بن عبد الله عن حجاج بن محمد
قال : البيهقي رحمه الله و هذا يحتمل أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم إنما نفى عن أصحاب الشجرة دخول النار دخول البقاء فيها أو دخولا يمسهم منها أذى لا أصل الدخول ألا تراه احتج بقوله :
{ ثم ننجي الذين اتقوا ونذر الظالمين فيها جثيا }
و قد يكون المحفوظ في الحديث الأول رواية سفيان بن عيينة فيكون ذلك ولوجا من غير نار و إصابة أذى كما روينا عن خالد بن معدان و هو من أكابر التابعين أنه قال : إذا دخل أهل الجنة الجنة قالوا يا رب ألم تعدنا أن نرد النار قال : بلى مررتم بها و هي جامدة
و روينا عن مقاتل بن سليمان أنه قال : يجعل الله النار على المؤمنين يومئذ بردا و سلاما كما جعلها على إبراهيم عليه السلام
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ، ان کو ابو العباس بن یعقوب نے، ان کو محمد بن اسحاق صنعانی نے، ان کو حجاج بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ ابن جریج نے کہا تھا مجھے خبر دی ہے ابو زبیر نے، اس نے سنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، فرماتے تھے : مجھے خبر دی ہے ام مبشر نے، اس نے سنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ام المومنین حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آگے فرمایا کہ انشاء اللہ جہنم میں اصحاب شجرہ داخل نہیں ہوں گے جنہوں نے درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ ام مبشر نے کہا جی ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لہذا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں جھڑکا۔ اتنے میں سیدہ حفصہ نے کہا: "وان منکم الا واردھا " (مریم 71) تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے مگر سب کو اس میں داخل ہونا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (حفصہ کا جواب سن کر) فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ : "ثم ننجی الذین اتقو ا وانذر الظالمین فیھا جثیا (مریم 72) پھر ہم ان کو جہنم سے نجات دیں گے (جو کفر و شرک سے) بچتے رہے اور ہم ظالموں کو اس میں اوندھے منہ پڑا چھوڑ دیں گے۔ اس کومسلم نے صحیح میں روایت کیا ہے ہارون بن عبداللہ سے حجاج بن محمد سے۔ امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ کی توجیہ: امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ مذکورہ روایت یہ احتمال رکھتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب شجرہ سے جس دخول جہنم کی نفی فرمائی ہے وہ نفی جہنم میں بقا کی اور وہاں ٹھہرے رہنے کی وہ (مطلق داخل ہونے کی نہ ہو) یا نفی ایسے دخول کی ہو جو ان کی ہو جو ان کو تکلیف پہنچائے۔ اصل دخول کی نفی نہ ہو۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس قول سے دلیل پکڑی تھی: "ثم ننجی الذین اتقو ا ونذر الظالمین فیھا جثیا " پھر ہم ان کو نجات دیں گے جو بچتے رہے ہوں گے اور ہم ظالموں کو اسی میں اوندھا پڑاہوا چھوڑ دیں گے۔ اور کبھی ہوتا ہے محفوظ حدیث اول میں یعنی سفیان بن عیینہ کی روایت میں کہ یہ محض دخول ہو گا بغیر آگ کے اور بغیر پہنچنے کی تکلیف کے۔ جیسا کہ ہم نے روایت کیا ہے حامد بن معدان سے اور وہ اکابرین تابعین میں سے ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ جب اہل جنت ، جنت میں داخل ہو جائیں گے تو جنتی پوچھیں گے اے ہمارے رب، کیا آپ ہمیں وعدہ نہیں دیتے تھے کہ ہم لوگ آگ میں وارد ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ہاں ، ہاں، تم اس میں سے گذر کر آئے ہو مگر وہ (متحرک نہیں تھی) بلکہ وہ اس وقت جامد تھی (ٹھہری ہوئی اور اپنی صفت احراق اور شدت حرارت سے رکی ہوئی تھی)۔ اور ہم نے مقاتل بن سلیمان سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس دن آگ کو مومنوں پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیں گے جیسے کہ ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بنا دیا تھا۔
Shuab ul Iman · Ninth of the people of faith › Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful. · Hadith 371
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حسن الخلق · حديث 8042
8042 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا موسى بن إسماعيل بن إسحاق القاضي نا محمد بن أحمد بن البراء نا عبد المنعم بن إدريس نا عبد الصمد بن معقل عن أبيه عن وهب بن منبه عن ابن عباس قال : قال موسى عليه السلام : يا رب أمهلت فرعون أربعمائة سنة و هو يقول : أنا ربكم الأعلى و يكذب بآياتك و يجحد رسلك فأوحى الله إليه أنه كان حسن الخلق سهل الحجاب فأحببت أن أكافيه
ہمیں خبر دی ابوعبیداللہ حافظ نے ان کو موسیٰ بن اسماعیل بن اسحاق قاضی نے ان کو محمد بن احمد بن براء نے ان کو عبدالمنعم بن اور ادریس نے ان کو عبد الصمد بن معقل نے ان کو ان کے والد نے ان کو وہب بن منبہ نے ان کو ابن عباس نے وہ کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے میرے رب۔ آپ نے چار سو سال تک فرعون کو مہلت دے رکھی حالانکہ وہ یہ کہتا تھا کہ میں سب سے بڑا رب ہوں اور تیری آیات کی تکذیب کرتا تھا اور تیرے رسولوں کا انکار کرتا تھا اللہ تعالی ٰنے اس کی طرف وحی کی کہ فرعون کے اخلاق اچھے تھے سہل الحجاب تھایعنی اس کو لوگ آسانی سے مل سکتے تھے لہذا میں نے پسند کیا کہ میں اس کو اسی بات کا بدلہ دے دوں ۔
موسى يا رب أمهلت فرعون أربعمائة سنة و هو ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ مَعْقِلٍ، ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › And it is the door of good manners · Hadith 8042
شعب الإيمان · السابع والخسمون من شعب الإيمان ‹ فصل في التواضع و ترك الزهو و الصلف و الخليلاء و الفخر و المدح · حديث 8219
8219 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا الحسن بن محمد بن إسحاق أنا أبو عثمان الخياط نا أحمد بن أبي الحواري قال : سمعت أبا سليمان يقول : إن الله تعالى أطلع على قلوب الآدميين فلم يجد قلبا أشد تواضعا من قلب موسى عليه السلام فخصه بالكلام لتواضعه قال : و قال : غير أبي سليمان أوحى الله إلى الجبال أني مكلم عليك عبدا من عبيدي فتطاولت الجبال ليكلمه عليها و تواضع الطور قال : إن قدر شيء كان قال : وكلمه عليه لتواضعه
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو ابوعثمان خیاط نے ان کو احمد بن ابی الجواری نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابوسلیمان سے وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے تمام آدمیوں کے دلوں پر جھانکا تو موسیٰ علیہ السلام کے دل سے بڑھ کر تواضع کے اعتبار سے زیادہ سخت دل نہ پایا اندر اس نے اسی کو اس کی تواضع کی وجہ سے اپنی ہم کلامی کے لئے منتخب کیا وہ کہتے ہیں کہ کہا غیر ابوسلیمان نے کہ اللہ نے وحی کی تھی پہاڑوں کی طرف کہ میں تیرے اوپر اپنے بندوں میں سے ایک بندے کے ساتھ کلام کروں گا لٰہذا تمام پہاڑ اترانے لگے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اوپر کھڑے بندے سے کلام کرے گا مگر طور پہاڑ نے عاجزی کی ۔اس نے کہا کہ اگر ایک شئی حقدار ہو گی تو وہ ہوکر رہے گی اللہ تعالیٰ نے اس کی تواضع کی وجہ سے اس سے ہم کلامی کی۔
Shuab ul Iman · Fifty-seventh of the people of faith › Separate in humility and abandon pride, arrogance, solitude, pride and praise · Hadith 8219
شعب الإيمان · الثالث والأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في الحث على ترك الغل والحسد · حديث 6625
6625 - أخبرنا أحمد بن أبي خلف الصوفي نا أبو سعيد محمد بن إبراهيم الواعظ نا أبو بكر محمد بن محمد بن رجاء نا أبو همام الوليد بن شجاع السكوني نا مخلد بن الحسين أنه سمع موسى بن سعيد قال : لما قرب الله موسى نجيا رأى عبدا تحت العرش فقال : يا رب من هذا العبد لعلي أعمل مثل عمله
فقيل يا موسى هذا عبد كان برا لوالديه وكان لا يحسد الناس وكان لا يمشي بالنميمة وروينا هذا بإسناد آخر عن أبي إسحاق عن عمرو بن ميمون أنه حكى ذلك عن موسى عليه السلام
ہمیں خبر دی احمد بن ابو خلف صوفی نے ان کو ابو سعید محمد بن ابراہیم واعظ نے ان کو ابو بکر محمد بن محمد بن رحبآء نے ان کو ابو ہمام ولید بن شجاع مسکونی نے ان کو مخلد بن حسین نے اس نے سنا موسیٰ بن سعید سے وہ کہتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو اپنی بارگاہ کا قرب عطا کیا برگزیدہ بنا کر تو اس نے عرش الہٰی کے نیچے ایک بندے کو دیکھا۔ اور عرض کی: اے میرے رب یہ کون بندہ ہے شاید میں بھی اس جیسا عمل کروں۔ تو کہا گیا کہ اے موسیٰ یہ ایک بندہ ہے جو اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرتا تھا اور لوگوں کے ساتھ حسد نہیں کرتا تھا۔ اور یہ چغل خوری بھی نہیں کرتا تھا۔ اور ہم نے اس کو روایت کیا ہے دوسری اسناد کے ساتھ ابو اسحاق سے اس نے عمرو بن میمون سے کہ انہوں نے اس کو حکایت کیا ہے موسیٰ علیہ السلام سے۔
مَخْلَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أَبُو هَمَّامٍ الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رَجَاءٍ، ← أبو سعيد محمد بن إبراهيم الواعظ ← أحمد بن أبي خلف الصوفي
Shuab ul Iman · Forty-third of the people of faith › It is a section in urging the abandonment of jealousy and envy · Hadith 6625
شعب الإيمان · الرابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 6699
6699 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه نا أبو بكر القطان نا أحمد بن يوسف قال : ذكر سفيان عن طلحة بن عمرو عن عطاء قال : لما رفع إبراهيم عليه السلام في ملكوت السموات رأى رجلا يزني فدعا عليه فهلك ثم رفع فرأى رجلا يزني فدعا عليه فهلك ثم رفع فرأى رجلا يزني فدعا عليه فهلك ثم رفع فرأى رجلا يزني فدعا عليه فهلك ثم رفع فرأى رجلا يزني فدعا عليه فهلك
فقيل على رسلك يا إبراهيم إنك عبد يستجاب لك وإني من عبدي على ثلاث إما أن يتوب فأتوب عليه وإما أن أخرج منه ذرية طيبة تعبدني وإما أن يتمادى فيما هو فيه فإن جهنم من ورائه
وروي ذلك في حديث مرسل كما
ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے ان وابو بکر قطان نے ان کو احمد بن یوسف نے وہ کہتے ہیں کہ سفیان نے ذکر کیا طلحہ بن عمرو سے اس نے عطا ء سے وہ کہتے ہیں کہ جب ابراہیم علیہ السلام ملکوت سموات پر اٹھائے گئے تو انہوں نے ایک آدمی کو زنا کرتے دیکھا۔انہوں نے اس کے خلاف بد دعا کی اور وہ ہلاک ہو گیا اس کے بعد پھر اور اوپر اٹھائے گئے پھر انہوں نے دوسرے آدمی کو زنا کرتے دیکھا اس پر بھی بد دعا کی اور وہ ہلاک ہو گیا اس کے بعد پھر اور اوپر اٹھائے گئے پھر انہوں نے دوسرے آدمی کو زنا کرتے دیکھا اس پر بھی بد دعا کی وہ بھی ہلاک ہو گیا۔ اس کے بعد وہ اوپر اٹھائے گئے پھر ایک آدمی کو زنا کرتے دیکھا پھر بد دعا کی وہ بھی ہلاک ہو گیا پھر اور اوپر کو اٹھائے گئے اور انہوں پر پھر ایک آدمی کو زنا کرتے دیکھا تو اس کے لئے بد دعا کی وہ بھی ہلاک ہو گیا، اس کے بعد اور اوپر اٹھائے گئے تو دیکھا کوئی اور بھی زنا کر رہا ہے انہوں نے اس کے لئے بد دعا کی وہ بھی ہلاک ہو گیا۔ پھر اوپر اٹھائے گئے پھر دیکھا کہ کوئی اور زنا کر رہا ہے انہوں نے اس کے لئے بد دعا کی وہ بھی ہلاک ہو گیا۔ لہٰذا ان کو کہا گیا کہ آپ رک جائے (یعنی بد دعا نہ دیجئے) اے ابراہیم! بے شک آپ وہ بندے ہیں جن کی دعا قبول ہوتی رہے گی۔ مگر میں اپنے بندے کے لئے تین راستے د یتا ہوں یا تو وہ توبہ کر لے لہٰذا میں اس کی توبہ قبول کر لیتا ہوں۔ یا اس کی پشت سے کوئی نیک اولاد نکلتی ہے جو میری عبادت کرتی ہے۔ یا وہ شخص سرکشی کرتا ہے اور اپنے فعل بد میں وہ اور بڑھ کر لمبا ہو جاتا ہے تو پھر جہنم اس کے پیچھے موجود ہے۔ یہ حد یث مرسل میں روایت ہے جیسے: