شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4473
4473 - و بهذا الإسناد أنا عبد الله نا هشام بن سعد قال : سمعت محمد بن كعب القرظي قال : نوح عليه السلام إذا أكل قال الحمد لله و إذا شرب قال : الحمد لله و إذا لبس قال : الحمد لله فسماه الله عبدا شكورا
اور اسی اسناد کے ساتھ ہمیں خبر دی ہے عبداللہ نے ان کو ہشام بن سعد نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا محمد بن کعب قرظی سے وہ کہتے ہیں کہ نوح علیہ السلام جب کھا لیتے تو کہتے الحمدللّٰہ جب پتیے تو کہتے الحمدللّٰہ اور جب پہنتے تو کہتے الحمدللّٰہ لہذا اللہ نے ان کا نام شکر گذار بندہ رکھا۔
الحمد لله فسماه الله عبدا شكورا ← الحمد لله و إذا لبس ← الحمد لله و إذا شرب ← نوح إذا أكل ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← و بهذا الإسناد
Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4473
شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4579
4579 - و أخبرنا أبو القاسم أنا أحمد نا عبد الله نا عبيد الله بن عمر نا معاوية بن عبد الكريم نا الحسن قال : قال داود عليه السلام إلهي لو أن لكل شعرة مني لسانين يسبحانك الليل و النهار ما قضتا نعمة من نعمك
ہمیں خبر دی ہے ابوالقاسم نے ان کو احمد نے ان کو عبداللہ نے ان کو عبیداللہ بن عمر نے ان کو معاویہ بن عبدالکریم نے ان کو حسن نے وہ کہتے ہیں حضرت داؤد علیہ السلام نے دعا کی تھی۔ اے میرے معبود اگر میرے ہر بال کی جگہ دو دو زبانیں ہوتیں اور وہ رات دن تیری تسبیح کرتیں تو بھی وہ تیری نعمتوں میں سے کسی ایک نعمت کی قدر نہ کر پاتیں (اور اس کا شکر ادا نہ کرسکتیں۔)
الْحَسَنِ، ← معاوية بن عبد الكريم ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَحْمَدُ، ← أَبُو الْقَاسِمِ. ← و،
Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4579
شعب الإيمان · الثالث و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تعديد نعم الله عز و جل و ما يجب من شكرها · حديث 4580
4580 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى نا أبو العباس هو الأصم نا محمد بن إسحاق نا يحيى بن معين نا عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد قال : قال أبي عن صدقة بن يسار قال : كان داود عليه السلام في محرابه فأبصر دودة صغيرة قال : ففكر في خلقها و قال ما يعبأ الله جل ذكره بخلق هذه قال فأنطقها الله عز و جل فقالت : يا داود أتعجبك نفسك لأنا على قدر ما أتاني الله عز و جل أذكر لله و اشكر له منك على ما أتاك الله قال الله عز و جل :
{ وإن من شيء إلا يسبح بحمده }
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے ان کو ابوالعباس نے اصم نے ان کو محمد بن اسحٰق نے ان کو یحییٰ بن معین نے ان کو عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابوداؤد نے وہ کہتے ہیں یہ میرے والد نے کہا ان کو صدقہ بن یسار نے کہا کہ حضرت داؤد علیہ السلام اپنے محراب میں اور حجرے میں عبادت کر رہے تھے کہ انہوں نے وہاں ایک چھوٹا سا کیڑا دیکھا اور وہ اس کی تخلیق کے بارے میں سوچنے لگے۔ کہ اللہ تعالیٰ کیا پرواہ کریں گے کہ اس حقیر سے کیڑے کی پیدائش کو بھی یاد کریں لہذا اللہ نے اس کو گویائی عطا کی اور اس نے کہا اے ابوداؤد کیا تیرا نفس حیران ہے کہ ہم اس اندازے اور حالت پر ہیں جو اللہ نے ہمیں عطا کیا ہے۔ میں تجھ سے اللہ کا ذکر بھی زیادہ کرتا ہوں اور شکر بھی زیادہ کرتا ہوں ان نعمتوں کے اعتبار سے جو اس نے تجھے عطا کی ہیں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ وان من شيئي الا يسبح بحمده۔ ہر چیز تسبیح کرتی ہے اللہ کی حمد کے ساتھ۔
عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، ← يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى
Shuab ul Iman · Thirty-third of the people of faith › And it is a chapter in listing the graces of God Almighty and what is required of her thanks · Hadith 4580
شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4781
4781 - و حدثنا عبد الله بن يوسف أنا أبو سعيد بن الأعرابي نا الحسن بن محمد الزعفراني نا سفيان بن عيينة عن ابن سنان عن عبد الله بن شداد قال : وقعت رؤيا يوسف عليه السلام بعد أربعين سنة و إليها تنتهي أقصى الرؤيا
ہمیں حدیث بیان کی عبداللہ بن یوسف نے ان کو ابوسعید بن اعرابی نے ان کو حسن بن محمد زعفرانی نے ان کو سفیان بن عینیہ نے ان کو ابن سنان نے ان کو عبداللہ بن شداد نے وہ کہتے ہیں یوسف علیہ السلام کا خواب چالیس سال بعد واقع ہوا تھا اور اتنی مدت میں وہ خواب اپنی تکمیل اور اپنی انتہا کو پہنچا تھا۔
وقعت رؤيا يوسف بعد أربعين سنة و إليها تنتهي أقصى الرؤيا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، ← ابن سنان ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← و،
Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4781
شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في حفظ اللسان · حديث 4792
4792 - ـ : و قد جاء عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه كان إذا أراد سفرا ورى بغيره
قال الحليمي رحمه الله : و ذلك كما يقول القائل : إذا أراد أن يلبس الوجه الذي يقصد على غيره للطريق الآخر أسهل هو أم وعر و يسأل عدد منازله ليظن من سمع أنه يريده و هو يريد غيره و هكذا الإصلاح بين الزوجين لم يبح فيه صريح الكذب و لكن التعريض كالمرأة تشكو أن زوجها يبغضها و لا يحسن إليها فتقول لها لا تقولي ذلك فمن له غيرك و إذا لم يحبك فمن يحب و إذا لم يحسن إليك فمن يحسن إحسانه و نحو ذلك مما يوهمها أن زوجها بخلاف ما تظنه و إن كانت صادقة في ظنها ليصلح ذلك ما بينها و على هذا القياس يقول في الصلاح بين الإثنين و قول إبراهيم عليه السلام إني سقيم أراد به سأسقم و قوله لسارة أختي أراد به في الدين لا في النسب
و قوله بل فعله كبيرهم هذا مقيد بقوله إن كانوا ينطقون و إنما سميت هذه الألفاظ كذبا لأنها أوهمت الكذب و إن كانت بأنفسها غير كذب
قال الشيخ أحمد رضي الله عنه :
اور تحقیق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ جب سفر کا ارادہ کرتے تھے تو دوسری سمت کا رخ کرتے۔ اور لوگوں کو شک تھا۔ شیخ حلیمی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔ کہ یہ توریہ اس طرح ہوتا ہے۔ کہ کوئی آدمی جب ارادہ کرے سفر میں جانے کا اور وہ جس راستے سے جانا چاہتا ہے اس کو لوگوں سے چھپانا چاہے اور وہ اپنی باتوں سے یہ تاثر دے کہ وہ فلاں دوسرے راستے سے گیا ہے یہ ظاہر کرنے کے لئے وہ لوگوں سے اس راستے کی تفصیل پوچھے جہاں سے نہیں جانا ہے کہ کیا وہ راستہ آسان ہے؟ یا مشکل ہے؟ اس کی منزلیں کتنی ہیں؟ تاکہ جو بھی سنے وہ یہ سمجھے کہ یہ شخص اسی راستے سے جائے گا جبھی تو اس کی تفصیل پوچھ رہا تھا جب کہ اس کا ارادہ کہیں اور راستے سے ہو۔اور اسی طرح معاملہ میاں بیوی کے مابین کا ہے اس میں بھی صریح جھوٹ مباح نہیں ہے۔ مگر تعریض کرنا مثلاً جیسے بیوی شکایت کرے اپنے شوہر کی کہ وہ مجھ سے نفرت کرتا ہے اور اس کے ساتھ اچھا نہیں رہتا جب کہ کوئی آدمی اس سے یہ کہتا ہے کہ ایسی بات نہ کہو۔اس کےلئے تیرے سوا اور کون ہوگا؟ اگر تیرے ساتھ محبت نہیں کرے گا؟ تو پھر کس سے کرے گا۔ جب تیرے ساتھ اچھا نہیں رہے گا تو پھر کس کے ساتھ اچھا رہے گا اور اسی طرح کی دوسری گفتگو جو جس سے وہ کہنے والا عورت کے دل میں یہ خیال پیدا کر دے کہ اس کا شوہر اس کے خلاف ہے جو وہ گمان کرتی ہے۔ اگرچہ وہ عورت اپنے گمان میں فی الواقع سچی ہو۔ کہنے والا اس لئے کہتا ہے تاکہ دونوں کے درمیان صلح کرا دے اس اختلاف سے جو ان دونوں کے درمیان ہے۔اور اسی قیاس پر بات کرے دو آدمیوں کے درمیان۔ اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ کہنا کہ میں بیمار ہوں ان کی مراد تھی کہ میں عنقریب بیمار ہونے والا ہوں۔اور اسی طرح ان کا اپنی بیوی سارہ کے بارے یہ کہنا کہ وہ میری بہن ہے اور ارادہ یہ کیا تھا کہ دین میں نہ کہ نسب میں۔ اور اسی طرح ابراہیم علیہ السلام کا یہ کہنا کہ یہ بتوں کی توڑ پھوڑ ان میں سے بڑے نے کی ہے یہ مقید ہے ان کا نو اینطقون کے ساتھ۔ کہ اگر یہ یہ بولتے ہوتے تو۔ باقی ان الفاظ کو کذب کا نام دیا گیا ہے اس لئے کہ یہ کذب کا وہم و خیال پیدا کرتے ہیں اگرچہ وہ بذات خود جھوٹ نہیں ہیں۔ شیخ احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا۔
القائل إذا أراد ← الحليمي و ذلك كما ← و قد جاء
Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › And it is the door in keeping the tongue · Hadith 4792
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ ذكر سورة هود · حديث 2439
2439 - أخبرنا أبو عبد الرحمن السلمي سمعت أبا علي السري يقول : رأيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت : يا رسول الله روي عنك أنك قلت شيبتني هود قال : نعم فقلت : ما الذي شيبك قصص الأنبياء و هلاك الأمم ؟ قال : لا و لكن قوله : { فاستقم كما أمرت }
ہمیں خبر دی ابو عبدالرحمٰن سلمی نے کہ میں نے سنا تھا ابو علی سری سے وہ کہتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تھا میں نے عرض کی یارسول آپ سے بھی یہ بات نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ آپ نے فرمایا تھا شیبتنی ھود کہ مجھے سورۃ ہود نے بوڑھا کر دیا ہے آپ نے فرمایا جی ہاں میں نے کہا کیا چیز ہے جس نے آپ کو بوڑھا کر دیا ہے ۔ انبیاء کے واقعات نے اور امتوں کی ہلاکت کے تذکروں نے ؟ فرمایا کہ نہیں بلکہ اللہ کے اس فرمان نے ۔ فاستقم کما امرت ۔ آپ سیدھے رہیے جیسے آپ کو حکم ہوا ہے یا ثابت رہیں اور استقامت رہیں اور استقامت اختیار کیے رہیے جیسے آپ کو حکم ہو رہے ۔
رأيت النبي صلى الله عليه و سلم فقلت ← أبا علي السري ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › Surat Hood mentioned · Hadith 2439
شعب الإيمان · التاسع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل الوضوء ـ · حديث 2782
2782 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو قالا : ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا هارون بن سليمان ثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن منصور و الأعمش عن سالم عن يزيد السكسكي قال : دخلت على رجل من أهل الكتاب فقال له البستي فقال أن الله عز و جل أوحى إلى موسى عليه السلام : إذا أصابتك مصيبة و أنت على غير وضوء فلا تلومن إلا نفسك ثم ذكر الصدقة فقال يدفع بها سبعين بابا من السوء قال : قلت : و من النار قال : و من النار
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو سعید بن ابو عمرہ نے دونوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہےا بو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو ہارون بن سلیمان نے ان کو عبدالرحمٰن بن مھدی نے ان کو سفیان نے ان کو منصور اور اعمش نے سالم سے اس نے یزید سکسکی سے ا نہوں نے کہا کہ میں ایک آدمی کے پاس گیا جو کتاب اصل میں سے تھا۔ بستی نے اس سے کہا کہ اللہ عزوجل نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی تھی کہ جب تجھے کوئی مصیبت پہنچے اور تم اس وقت وضو سے ہو تو تم اپنے آپ کو ہی ملامت کرنا اس کے بعد صدقہ کا ذکر کیا : فرمایا کہ اس کے ذریعے برائی کے ستر دروازے دفع ہوتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ آگ سے فرمایا کہ آگ سے بھی۔ (یعنی برائی خواہ آگ ہی کیوں نہ ہو)۔
له البستي ← دخلت على رجل من أهل الكتاب ← يزيد السكسكي ← سَالِمٍ ← منصور و الأعمش ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ← هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و أبو سعيد بن أبي عمرو
Shuab ul Iman · Nineteenth of the people of faith › The preference for ablution · Hadith 2782
شعب الإيمان · الثاني عشر من شعب الإيمان ـ ‹ الفصل الثاني · حديث 1113
1112 - أخبرنا أبو نصر بن قتادة أنا أبو الحسن علي بن الفضل بن محمد بن عقيل الخزاعي أخبرني جعفر بن محمد بن المستفاض الفريابي ثنا عبيد الله بن معاذ قال : أنا المعتمر بن سليمان قال : قال لي أبي ثنا أبو عثمان عن سلمان قال :
لما خلق الله تعالى آدم عليه السلام قال : يا آدم واحدة لي و واحدة لك و واحدة بين و بينك فأما التي هي لي فتبعدني لا تشرك بي شيئا و أما التي هي لك فما عملت من شيء جزيتك به و أن أغفر فأنا الغفور الرحيم و أما التي بيني و بينك فمنك المسألة و الدعاء و مني الإجابة و العطاء
هذا موقوف
ہمیں خبر دی ابو نصر بن قتادہ نے ان کو ابوالحسن علی بن فضل بن فضل بن محمد بن عقیل خزاعی نے ان کو جعفر بن محمد مستفاض فریابی نے ان کو عبید اللہ بن معاذ رضی اللہ عنہ نے کہتے ہیں کہ ان کو خبر دی معتمربن سلیمان نے فرماتے ہیں کہ مجھے میرے والد نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابو عثمان نے ان کو سلیمان نے وہ فرماتے ہیں کہ : جب اللہ تعالیٰ نے آدمعلیہ السلام کو پیدا فرمایا: تو فرمایا: اے آدم! ایک چیز میرے لیے ہے اور ایک چیز تیرے لیے ہے ۔ اور ایک چیز میرے اور تیرے درمیان ہے ۔ (یعنی کچھ میرے لئے اور کچھ تیرے لیے)۔ بہرحال وہ چیز جو میرے لئے ہے وہ یہ ہے کہ تم میری عبادت کرنا اور میرے ساتھ تم کسی کو شریک نہ کرنا۔ وہ چیز جو تیرے لیے ہے ، وہ یہ ہے کہ تو بھی جتنا بھی عمل کرے گا میں اس کی تجھے جزا دوں گا۔ اور یہ کہ میں بخش دوں گا۔ بے شک میں بخشنے والا مہربان ہوں ۔اور وہ چیز جو میرے اور تیرے درمیان ہے وہ یہ ہے کہ تیری طرف سے سوال ہونا چاہیے اور دعا ہونی چاہیے ،اور میری طرف سے قبولیت ہوگی عطا کرنا ہوگا۔ (یہ روایت موقوف ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم تک نہیں پہنچتی)۔
لما خلق الله تعالى آدم ← سَلْمَانَ ← أَبُو عُثْمَانَ ← لِي أَبِي: ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسْتَفَاضِ الْفِرْيَابِيُّ ← أبو الحسن علي بن الفضل بن محمد بن عقيل الخزاعي، ← أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ،
Shuab ul Iman · Twelfth of the people of faith › Chapter II · Hadith 1113
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فضل في شرف أصله و طهارة مولده صلى الله عليه و سلم · حديث 1385
1385 - أخبرنا أبو الحسين محمد بن الحسين بن محمد بن الفضيل القطان ببغداد ثنا عبد الله بن جعفر النحوي نا يعقوب بن سفيان ثنا أبو صالح حدثني معاوبة بن صالح عن سعيد بن سويد عن عبد الأعلى بن هلال السلمي عن العرباض بن سارية صاحب النبي صلى الله عليه و سلم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إني عبد الله و خاتم النبيين و ان آدم لمنجدل في طينته و سأخبركم عن ذلك دعوت إبراهيم و بشارة عيسى بي و رؤيا أمي التي رأت و كذلك أمهات النبيين يرين و أن أم رسول الله صلى الله عليه و سلم رأت حين وضعته نورا أضاءت له قصور الشام
قال البيهقي رحمه الله : و رواه أبو بكر بن أبي مريم عن سويد بن سعيد عن العرباض عن النبي صلى الله عليه و سلم :
إني عند الله في أم الكتاب لخاتم النبيين
و إنما أراد ـ و الله أعلم ـ أنه كذلك في قضاء الله و تقديره قبل أن يكون آدم عليه السلام
و أما دعوة إبراهيم عليه السلام فإنه لما أخذ في بناء البيت دعا الله تعالى فقال :
{ ربنا وابعث فيهم رسولا منهم يتلو عليهم آياتك ويعلمهم الكتاب والحكمة ويزكيهم إنك أنت العزيز الحكيم }
فاستجاب الله دعاءه في نبينا محمد صلى الله عليه و سلم
و أما بشارة عيسى عليه السلام فهو أن الله تعالى أمر عيسى عليه السلام فبشر به قومه فعرفه الحواريون بني إسرائيل قبل أن يخلق
ہمیں خبر دی ابو الحسین بن محمد بن فضل قطان نے بغداد میں ان کو عبداللہ بن جعفر نحوی نے ان کو یعقوب بن سفیان نے ان کو ابو صالح نے ان کو معاویہ بن صالح نے ان کو سعید بن سوید نے ان کو عبدالا علیٰ بن ہلال سلمی نے ان کو عرباض بن ساریہ صاحب النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے وہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم فرماتے تھے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ۔ اور نبوت کا سلسلہ مجھ پر ختم ہے ۔ اس وقت سے نبی ہوں جب آدم علیہ السلام ابھی گلگارا تھا یعنی ابھی پانی اور مٹی کی ملی جلی کیفیت میں تھا یا انکا خمیر تیار ہو رہا تھا ۔ اور عنقریب اس بارے میں خبر دوں گا میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا نتیجہ ہوں ، میرے بارے میں دی جانے والی عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں ۔ اور اپنی والد ہ کا خواب ہوں جو انہوں نے دیکھا تھا۔ اور اسی طرح دیگر انبیاء کی مائیں بھی خواب دیکھتی رہی ہیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی والدہ محترمہ نے خواب دیکھا جب آپ کو جنم دیا کہ ایک روشنی ہے جس نے اپنی اونچائی کی وجہ سے شام کی محلات روشن کر دئیے ہیں۔امام بیہقی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ان کو روایت کیا ہے ابوبکر بن ابو مریم نے سوید بن سعید سے انہوں نے حضرت عرباض بن ساریہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں اور ام کتاب میں ( یعنی لوح محفوظ میں) میں خاتم النبین ہوں ۔ بیہقی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی تقدیر میں ایسے تھا یہ یعنی آدم علیہ السلام کی تخلیق سے بھی پہلے۔
العرباض بن سارية صاحب النبي صلى الله عليه و سلم ← عبد الأعلى بن هلال السلمي ← سَعِيدِ بْنِ سُوَيْد ← معاوبة بن صالح ← أَبُو صَالِحٍ، ← يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ ← عبد الله بن جعفر النحوي ← أبو الحسين محمد بن الحسين بن محمد بن الفضيل القطان
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace · Hadith 1385
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في أسمائه صلى الله عليه و سلم · حديث 1402
1402 - أخبرنا علي بن أحمد بن عبدان أخبرنا أحمد بن عبيد حدثنا يعقوب بن غيلان حدثنا محمد بن الصباح حدثنا سفيان عن أبي الزناد : فذكره بإسناده غير أنه قال :
ألا تعجبون كيف يصرف الله عني شتم قريش و لعنهم يشتمون مذمما و يلعنون مذمما و أنا محمد
رواه البخاري في الصحيح عن علي بن عبد الله عن سفيان
و أما الحاشر فتسيره في الحديث و معناه أول من يبعث من القبر و كل من عداه فإنما يبعثون بعده و هو أول من يذهب به إلى المحشر ثم الناس بعده على أثره
و أما الماحي فتفسيره أيضا قد مضى في الحديث و معلوم أن الله تعالى هو الحاشر و الماحي و إنما سمي النبي صلى الله عليه و سلم لأن الله تعالى جعل حشره سببا لحشر غيره و نبوته سبا لإزهاق الباطل كله من الكفر و غيره فصار من طريق التقدير كأنه الحاشر و الماحي
و أما الماحي فمعناه المتبع
و يحتمل أن يكون المراد المقفي لإبراهيم عليه السلام لقوله تعالى :
{ فاتبعوا ملة إبراهيم حنيفا }
و يحتمل أن يكون المقفي لموسى و عيسى و غيرهما من أنبياء بني إسرائيل عليهم السلام لنقل قومهم عن أتباعهم إلى إتباعه أو عن اليهودية و النصرانية إلى الحنيفية السمحة
و أما العاقب و الخاتم فقد مضى تفسيرهما في الحديث و أما بني الرحمة فقد جاء عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال :
إنما أنا رحمة مهداة
ہمیں خبر دی علی بن احمد بن عبدان نے ان کو خبر دی ہے احمد بن عبید نے ان کو یعقوب بن غیلان نے ان کو محمد بن صباح نے ان کو سفیان نے ان کو ابو زناد نے پھر مذکورہ حدیث کو انہوں نے زکر کیا اپنی اسناد کے ساتھ سوائے اس کے کہ انہوں نے فرمایا کیا آپ لوگ تعجب نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے قریش کی گالیوں اور برائی کرنے کو کس طرح مجھ سے ہتاتے ہیں وہ مذمم کو گالیاں دیتے ہیں اور مذمم کو لعنت کرتے ہیں اور جب کہ میں محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم ہوں ۔ اس کو بخاری نے صحیح میں روایت کیا ہے علی بن عبداللہ سے انہوں نے سفیان سے۔
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › Chapter in his names, may God bless him and grant him peace · Hadith 1402
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1486
1486 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا الربيع بن سليمان ثنا بشر بن بكر ثنا الأوزاعي
أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب ثنا الحسن بن سفيان ثنا الحكم بن موسى ثنا هقل بن زياد عن الأوزاعي حدثني أبو عمار حدثني عبد الله بن فروح حدثني أبو هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
أنا سيد ولد آدم يوم القيامة و أول من ينشق عنه القبر و أول شافع و أول مشفع و في رواية بشر : أنا سيد بني آدم و قال : تنشق عنه الأرض
رواه مسلم في الصحيح عن الحكم بن موسى
قال الحليمي رحمه الله :
و لأن شرف الرسول صلى الله عليه و سلم بالرسالة و نبينا خص بأشرف الرسالات فإنها نسخت ما تقدمها من الرسالات و لا يأتي بعدها رسالة تنسخها و إلى هذا المعنى أشار ربنا عز و جل فيما وصف به كتابه إذ قال : { وإنه لكتاب عزيز * لا يأتيه الباطل من بين يديه ولا من خلفه تنزيل من حكيم حميد } فقيل معناه : ليس فيما تقدمه يكذبه و لا يأتي بعده ما يوقفه و في هذا ما دل على أن هذه الرسالة أفضل الرسالات فصح أن المرسل بها أفضل الرسل و الله أعلم
و منها : أن الله تعالى أقسم بحياته و معقول أن من أقسم بحياة غيره فإنما يقسم بحياة أكرم الأحياء عليه فلما خص الله نبينا صلى الله عليه و سلم من بني البشر بأن أقسم بحياته فقال : { لعمرك إنهم لفي سكرتهم يعمهون } بأنه أفضلهم و أكرمهم و أقسامه بالتين و الزيتون و طور سنين و غير ذلك يدل على فضله على من يدخل في أعداده كذلك إقسامه بحياة محمد صلى الله عليه و سلم يدل على فضله على من يدخل من عداده و منها : أن الله تعالى جمع له بين إنزال الملك عليه و إصعاده إلى مساكن الملائكة و بين إسماع كلام الملك و آرائه إياه في صورته التي خلقه عليها و جمع له بين إخباره عن الجنة و النار و إطلاعه عليهما فصار العلم له واقعا بالعالمين و دار التكليف و دار الجزاء عيانا و بسط الكلام فيه و هذا بين في الأحاديث التي ذكرناها في معراج النبي صلى الله عليه و سلم و هي في الحادي عشر و الثاني عشر من كتاب دلائل النبوة و منها : أن من ينزل عليك الملك كرامة له إذا كان أفضل ممن لم ينزل عليه و حسب أن يكون من ينزل عليه فيتجاوز مكالمته إلى مقاتلة المشركين عنه حتى يظفره الله عليهم أفضل ممن لا يكون من الملك إلا إبلاغ الرسالة إياه ثم الانصراف عنه و معلوم أن هذا لم يكن إلا لنبينا صلى الله عليه و سلم فينبغي أن يكون لذلك أفضل الأنبياء صلى الله عليهم و قد ذكرنا نزول الملائكة لقتال المشركين يوم بدر في كتاب دلائل النبوة و هو في كتاب الله مذكور فإن عورض هذا بسجود الملائكة لآدم عليه السلام فالسجود كان لله عز و جل عند خلق آدم و الذي يدل عليه الحديث الذي :
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوالعباس محمد بن یعقوب نے ان کو ربیع بن سلیمان نے ان کو بشر بن بکر نے ان کو اوزاعی نے اور ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ نے ان کو عبداللہ بن یعقوب نے ان کو حسن بن سفیان نے ان کو حکم بن موسیٰ نے ان کو ھقل بن زیاد نے ان کو اوزاعی نے ان کو ابو عمار نے ان کو عبداللہ بن فروح نے ان کو ابوہریرہ نے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا۔ میں اور لاذادم کا سردار ہوں گا قیامت کے دن اور میں پہلا شخص ہوں گا جس کی قبر زمین سے باہر آنے کے لئے پھٹے گی۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں حکم بن موسیٰ سے۔
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood · Hadith 1486
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1487
1487 - أخبرنا أبو القاسم زيد بن أبي هاشم العلوي بالكوفة أنا أبو جعفر بن دحيم ثنا إبراهيم بن عبد الله أنا وكيع عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة أو أبي سعيد شك الأعمش قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم :
إذا قرأ ابن آدم السجدة فسجد اعتزل الشيطان يبكي و يقول يا ويله أمر ابن آدم بالسجود فسجد فله الجنة و أمرت بالسجود فعصيت فلي النار
رواه مسلم في الصحيح عن زهير عن وكيع و معلوم أن ابن آدم إنما أمر بالسجود لله عز و جل لا لغيره فدل ذلك على أن السجود الذي أمر به الشيطان من جنس ما أمر به ابن آدم و هو السجود لله عز و جل و لكن عند خلق آدم إعظاما لقدرة الله عز و جل الذي أظهرها لهم بخلقه إياه
و قال : و إن كان السجود من الملائكة لآدم عليه السلام فقد يحتمل أن ذلك إنما كان عقوبة لهم على قولهم لله عز و جل :
{ أتجعل فيها من يفسد فيها و يسفك الدماء }
فوجد الكرامة له فيه و ليس يخلص من عرض العقوبة لهم
و أما قتال الملائكة مع النبي صلى الله عليه و سلم فإنها كرامة خالصة عرضه الله لها بفضله دلالة على نفاسة قدره و عظيم منزلته و لأن الأفضل من يفضله الله يوم القيامة و يكرمه بما لا يكرم به غيره و قد جاء من نبينا الصادق صلى الله عليه و سلم ما ذكرناه في كتاب البعث و غيره من شفاعته يوم القيامة لأهل الجمع ثم لأمته
ہمیں خبر دی ابو القاسم زید بن ابو ہاشم علوی نے کوفے میں ان کو ابو جعفر بن رحیم نے ان کو ابراہیم بن رحیم نے ان کو ابراہیم بن عبداللہ نے ان کو وکیع نے ان کو اعمش نے ان کو صالح نے ان کو ابوہریرہ نے یا ابو سعید نے اعمش کو شک ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا جب ابن آدم سجدے کی آیت پڑھتا ہے اور سجدہ کرتا ہے شیطان ایک طرف ہو کر روتا ہے اور کہتا ہے ، اسے اس کی ہلاکت ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا اس نے سجدہ کر لیا ہے اب تو جنت اس کے لئے ہو گئی مجھے سجدے کا حکم ملا تھا میں نے نافرمانی کی تھی اور سو میرے لئے جہنم ہے ۔ اس کو مسلم نے روایت کیا ہے صحیح میں زہیر سے انہوں نے وکیع سے۔
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood · Hadith 1487
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1489
1489 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس بن يعقوب ثنا محمد بن إسحاق الصغاني ثنا يونس بن محمد ثنا الليث بن سعد عن يزيد بن المهاد عن عمرو بن أبي عمرو عن أنس قال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : إني أول الناس تنشق الأرض عن جمجمتي يوم القيامة و لا فخر و أعطى لواء الحمد و لا فخر و أنا سيد الناس يوم القيامة و لا فخر و أنا أول من يدخل الجنة يوم القيامة و لا فخر
ثم ذكر حديث الشفاعة بطوله
قال البيهقي رحمه الله :
و مضى قوله و لا فخر أي و لا أقوله متطاولا و لا ممتدحا به على أحد و لم يرد أنه لا فخر له فيه فإن له فخر أعظم الفخر صلى الله عليه و سلم
و منها : أنه صلى الله عليه و سلم في الدنيا أكثر الأنبياء أعلاما و معلوم أن أقل الإعلام إذا كان يوجب الفضيلة فإن كثرة الإعلام توجب لصاحبها اسم الأفضل و قد ذكر الحليمي رحمه الله من أعلام المصطفى صلى الله عليه و سلم و آياته و دلالات صدقه أخبارا كثيرة قد ذكرناها بأسانيدها في كتاب دلائل النبوة من أرادها رجع إليه بتوفيق الله عز و جل
قال : و مما يدل على فضل نبينا صلى الله عليه و سلم أن الله جل ثناؤه لم يخاطبه في القرآن قط إلا بالنبي أو الرسول و لم يناده باسمه فقال :
يا أيها النبي يا أيها الرسول و أما سائر الأنبياء عليهم السلام فإنه دعاهم بأسمائهم فقال تعالى :
{ يا آدم اسكن أنت و زوجك الجنة } و قال :
{ يا آدم أنبئهم بأسمائهم } و قال :
{ يا نوح إنه ليس من أهلك } و قال :
{ يا إبراهيم أعرض عن هذا } و قال :
{ يوسف أعرض عن هذا } و قال :
{ يا موسى إني أنا الله } و قال :
{ يا عيسى ابن مريم أأنت قلت للناس اتخذوني وأمي إلهين من دون الله }
و بسط الكلام في هذا و مما يدل على فضله صلى الله عليه و سلم ما ورد به الخبر من أن آدم عليه السلام تكنى في الجنة أبا محمد فلولا أنه أفضل النبيين لما خص عند القصد إلى أن يكنى باسم أحدهم اسم نبينا صلى الله عليه و سلم تكنى به دون اسم غيره و في تخصيصه بذلك و ما دل على أنه أفضلهم ( ) بأن يجعل آدم عليه السلام بأن يدعى أباه و الله أعلم
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس بن یعقوب نے ان کو محمد بن اسحاق صغانی نے ان کو یونس بن محؐد نے ان کو لیث بن سعد نے ان کو یزید بن ہاد نے ان کو عمرو بن ابو عمر نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا فرماتے تھے ۔ بے شک میں پہلا شخص ہوں گا جس کی قبر کی زمین سر کی جانب سے پہلے پھٹے گی قیامت کے دن اور کوئی فخر نہیں ہے اور لواء الحمد دیاجاؤں گا کوئی بڑائی نہیں ہے اور قیامت کے دن اولاد آدم کا سردار ہو گا کوئی تکبر کی بات نہیں ہے اور میں سب سے پہلے جنت میں داخل ہوؤں گا کوئی بڑائی کی بات نہیں ہے ۔ پھر آگے لمبی حدیث شفاعت ذکر فرمائی۔
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood · Hadith 1489
شعب الإيمان · الرابع عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في براءة نبينا صلى الله عليه و سلم في النبوة ـ · حديث 1491
1491 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا علي بن عيسى ثنا الحسين بن محمد بن زياد بن محمود بن خداش ثنا الفضيل بن عياض عن النضر بن عربي عن مجاهد عن ابن عباس قال : كان في هذه الأمة أمانان رسول الله صلى الله عليه و سلم و الاستغفار فذهب أمان يعني رسول الله صلى الله عليه و سلم و بقي أمان يعني الاستغفار
قال البيهقي رحمه الله : و قول الله عز و جل : { تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض } يدل على تفضيل بعضهم على بعض و قول النبي صلى الله عليه و سلم : لا تفضلوا بين أنبياء الله و قوله : لا تخيروا بين أنبياء الله إنما هو في محاولة أهل الكتاب على معنى الإزراء ببعضهم فإنه ربما أدى ذلك إلى فساد الاعتقاد فيهم و الإقلال الواجب من حقوقهم أما إذا كانت المخايرة من مسلم يريد الوقوف على الأفضل منهم فليس هذا بنهي عنه و الله أعلم
و قوله : لا ينبغي لأحد أن يقول أنا خير من يونس بن متى
فإنما أراد و الله أعلم من سواه من الناس دون نفسه أو ذهب في ذلك مذهب التواضع لربه و الهضم لنفسه و كذلك في قوله :
حين قال : يا خير البرية ذاك إبراهيم عليه السلام
و كان لا يحب المبالغة في الثناء عليه تواضعا لربه و كان يقول : لا تطروني كما أطرت النصارى عيسى ابن مريم فإنما أنا عبد فقولوا عبد الله و رسوله
و قد تكلمنا على هذا في الجزء التاسع و الثلاثين من كتاب دلائل النبوة بأكثر من هذا
و أما اتخاذ الله إبراهيم خليلا فإنه إنما اتخذه خليلا على من كان في عصره من أعداء الله عز و جل لا على غيره من النبيين و هو أنه هداه إلى معرفته و وقفه لتوحيده حين كان الكفر طبق الأرض
و لم يكن في الدنيا نسمة تعرف الله و تعرف به غيره فاتخذه خليلا بأن جعله أهلا لهدايته أولا ثم بأن أمره و نهاه فظهرت منه الطاعة ثانيا ثم بأن ابتلاه فوجد منه الصبر ثالثا فكان يومئذ خليله و أهل الأرض كلهم أعداؤه لأنه كان المطيع و الناس غيره عصاة و قد اتخذ محمد صلى الله عليه و سلم حبيبا بدلالة الكتاب و هو قول عز و جل : { قل إن كنتم تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله } فإذا كان اتباعه يفيد للمتبع محبة الله عز و جل فالمتبع بها يكون أولى و دجة المحبة فوق درجة الخلة و قد تكلم أهل العلم في الفرق بين الحبيب و الخليل بكلام كثير و هو في كتب أهل التذكير مذكور
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو علی بن عیسیٰ نے ان کو حسین بن محمد زیاد بن محمود بن حداش نے ان کو فضیل بن عیاض نے ان کو نضر بن عری نے ان کو مجاہد نے ان کو ابن عباس نے وہ فرماتے ہیں اس امت میں دو امانتیں اور پناہیں تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور استغفار ایک امان چلی گئی ہے یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور ایک امان باقی رہ گئی ہے ۔ یعنی استغفار۔
ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مُجَاهِدٍ ← النَّضْرُ بْنُ عَرَبِيٍّ ← الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، ← الحسين بن محمد بن زياد بن محمود بن خداش ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Fourteenth of the people of faith › A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood · Hadith 1491
شعب الإيمان · الخامس عشر من شعب الإيمان ‹ فصل في الصلاة على النبي صلى الله عليه و سلم · حديث 1618
1618 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو الحسن إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني ثنا جدي ثنا أبو ثابت محمد بن عبيد الله المدني حدثني إبراهيم بن سعد عن سفيان الثوري عن جعفر بن محمد عن أبيه عن جابر : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الهم إبراهيم عليه السلام بدأ اللسان العربي إلهاما
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے حدیث بیان کی ابو الحسن اسماعیل بن محمد بن فضل شعرانی نے ان کو ان کے دادا ثابت محمد بن عبید اللہ مدنی نے ان کو ابراہیم بن سعد نے سفیان ثوری سے انہوں نے جعفر بن محمد سے انہوں نے اپنے والد سے انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کو الہام فرمایا اور الہام کی ابتداء عربی زبان کے الہام سے فرمائی۔
الهم إبراهيم بدأ اللسان العربي إلهاما ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو ثَابِتٍ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيُّ، ← جَدِّي، ← أبو الحسن إسماعيل بن محمد بن الفضل الشعراني ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · The fifteenth of the people of faith › A chapter in prayer on the Prophet, may God bless him and grant him peace · Hadith 1618
شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1624
1624 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنا أبو بكر محمد بن أحمد بالويه ح و أخبرنا : أبو الحسين بن الفضل القطان ثنا أبو سهل بن زياد قالا ثنا إسحاق بن الحسن الحربي ثنا حماد بن سلمة أنا ثابت البناني عن أنس بن مالك : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :
ثلاث من كن فيه وجد حلاوة الإيمان من كان الله و رسوله أحب إليه مما سواهما و الرجل يحب الرجل لا يحبه إلا الله و الرجل أن يقذف في النار أحب إليه من أن يرجع يهوديا أو نصرانيا
أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن حماد
قال البيهقي رحمه الله :
فأبان صلى الله عليه و سلم بهذا الخبر أن الشح بالدين من الإيمان لأن ذكر الحلاوة مثل الإيمان و أراد أن الشحيح بدينه كالمتطعم بالشيء الحلو فكما أن الراغب في الإيمان لا يسلم له مقصوده منه إلا و أن يكون شحيحا به فإنه إذا شح بالإيمان لم يأت بما يفسده عليه كما أن من وجد حلاوة الحلو لم يأت بما يبطلها عليه
و الله أعلم
و يدخل في هذا الباب ما اقتصه الله سبحانه و تعالى علينا من خبر شعيب النبي عليه السلام إذ قال له قومه :
لنخرجك يا شعيب و الذين آمنوا معك من قريتنا أو لتعودن في ملتنا
فقال لهم :
{ أو لو كنا كارهين * قد افترينا على الله كذبا إن عدنا في ملتكم بعد إذ نجانا الله منها } إلى آخر الآية
فإن في هذا الباب عدة معان مرجعها كلها إلى الشح بالدين
أحدها : أن شعيبا عليه السلام سمى مهانته المستكبرين من قومه نجاة و قد علم أن ضد النجاة الهلكة و من كان عنده أن الكفر هلكة و الإيمان نجاة لم يكن إلا شحيحا على دينه
و الثاني : أنه أشار بقوله : على الله توكلنا إلا أنه قد فوض أمره إلى الله تعالى فإن عصمه من الجلاء عن الوطن فذلك فضله
و إن جلاءهم و ما يهمون به من إخراجهم بالجلاء أحب إليه من مفارقة الدين و هذا من الشح بالدين لأن الله تعالى جعل الجلاء عن الوطن بمرتبة القتل
و الثالث : أن شعيبا عليه السلام فرغ إلى الله و استنصره و دعاه كما يدعو في الشدائد إذا عرضت له و الخطوب إذا نزلت فقال :
{ ربنا افتح بيننا و بين قومنا بالحق }
استعظاما منه لما كان يخاطب به و تأملا أن يدافع الله عنه أذية الكفار فلا يسمعوه في دينه ما يشق عليه سماعه و هذا أيضا من الشح بالدين و معلوم أن الله تعالى يقيض علينا هذا و مثله لتتأدب بآداب الذين يصف لنا سيرهم ثم يمنعها و بيان مذاهب الذين يصف لنا طرائقهم ثم يدعها و يتبع الأحسن من الوجهين دون الأقبح منها لذا قال عز و جل :
{ فبشر عباد * الذين يستمعون القول فيتبعون أحسنه }
فصح أن الشح بالدين من أركان الدين لا يجد حلاوة الدين من لا يجد الشح به في قلبه
و الله أعلم
و هذا هو الأمر الذي يشهد العقل بصحته لأن من اعتقد دينا ثم لم يكن في نهاية الشح به و الإشفاق عليه كان ذلك دلالة على أنه لا يعرف قدره و لا بين موضع الحظ لنفسه فيه و من كان الحق عنده حقيرا لم يسكن الحق قلبه و بالله العصمة
ثم إن الشح بالدين ينقسم قسمين :
أحدهما : الشح بأصله كيلا يذهب
و الآخر : الشح بكماله كيلا ينقص ألا ترى أن الله تعالى كما مدح شعيبا عليه السلام و أثنى عليه بأنه شح على دينه فلم يفارقه مع استكراه قومه إياه على مفارقته و كذلك قد مدح يوسف عليه السلام بأن استعصم حين راودته امرأة العزيز عن نفسه و قال :
{ رب السجن أحب إلي مما يدعونني إليه }
فبان أن الشح على شعب الإيمان كيلا ينقص كالشح على أصله كيلا يذهب و هذا سبيل كل مفتون به لأن الشحيح بماله كما شح بجماعته فشح بابعاضه الشحيح بنفسه يشح بأطرافه كما يشح بحمله مدة و هكذا الدين و بالله التوفيق
و من الشح على الدين أن المؤمن إذا كان بين قوم لا يستطيع أن يوفي الدين حقوقه بين ظهرانيهم و يخشى أن يفتنوه عن دينه و كان إذا قاربهم يجد لنفسه مأمنا يتبوأه و يكون فيه أحسن حالا من بين هؤلاء لم يقم بين ظهرانيهم و هاجر إلى حيث يعلم أنه خير له و أوفق قال الله تعالى :
{ و من يخرج من بيته مهاجرا إلى الله و رسوله ثم يدركه الموت فقد وقع أجره على الله }
و على هذا الوجه كانت هجرة أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم من ديار الكفار و ليلقوه و يصحبوه و يهاجروا معه ثم هذا الحكم فيمن لم يمكنه اظهار دينه في موضعه باق بعده و قد تكلمنا على هذه المسألة في كتاب السير من كتاب السنن
و روينا في كتاب دلائل النبوة ما قاسى أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم من الشدائد و المكاره لمحاورة الكفار حتى أمروا بالهجرة إلى أرض الحبشة ثم إلى المدينة و الله تعالى يوفقنا لمتابعة سلفنا فنعم السلف كانوا لنا رضي الله عنهم
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابوبکر محمد بن احمد بالویہ نے (ح) اور ہمیں خبر دی ہے ابوالحسین بن فصل قطان نے ان کو ابو سہل بن زیاد نے دونوں کو اسحاق بن حسن حربی نے ان کو حماد بن سلمہ نے ان کو ثابت بنانی نے ان کو انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا تیں خصلتیں ایسی ہیں کہ وہ جس شخص میں پیدا ہو جائیں وہ ایمان کی لذت اور مٹھاس کو پالیتا ہے ۔ جس شخص کے دل میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی محبت ان کے تمام ماسوا سے زیادہ ہو ۔ وہ شخص جو کسی سے صرف اللہ واسطے کی محبت کرتا ہو وہ شخص جو اسلام سے پھر کر یہودی اور عیسائی بن جانے کو اتنا برا سمجھے کہ اگر اسے آگ میں پھینک دیا جائے تو یہ اس کو زیادہ محبوب ہو مگر اسلام کو چھوڑنا پسند نہ ہو۔ اس کو بخاری مسلم نے دوسرے طریق پر حماد سے نقل کیا ہے ۔
Shuab ul Iman · Sixteenth of the people of faith › And it is a section on a person’s scarcity of religion · Hadith 1624
شعب الإيمان · السادس عشر من شعب الإيمان ‹ و هو باب في شح المرء بدينه ـ · حديث 1646
1646 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و أبو نصر محمد بن علي و أبو عبد الرحمن السلمي قالوا ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا عبد الله بن هلال بن الفرات ثنا أحمد بن أبي الحواري ثنا أبو جعفر البجلي ثنا قبيصة عن سفيان قال : لما جاء البشير إلى يعقوب عليه السلام قال : على أي دين تركت يوسف قال : على الإسلام قال : الآن تمت النعمة
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافط نے اور ابون صر محمد بن علی اور ابو عبدالرحمٰن سلمی نے انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو عبداللہ بن ہلال بن فرات نے ان کو احمد بن ابو الحواری نے ان کو ابو جعفر بجلی نے ان کو قبیصہ نے سفیان سے کہتے ہیں کہ جب یوسف کی بشارت دینے والا یعقوب علیہ السلام کے پاس آیا تو انہوں نے پوچھا کہ یوسف کو کس دین پر چھوڑ کر آئے ہو اس نے کہا کہ اسلام پر یعقوب علیہ السلام نے کہا اب نعمت پوری ہو گئی ہے ۔
Shuab ul Iman · Sixteenth of the people of faith › And it is a section on a person’s scarcity of religion · Hadith 1646
شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5134
5134 - حدثناه الإمام أبو الطيب سهل بن محمد بن سليمان أنا عبد الله بن محمد بن علي بن زياد و أنا عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن المديني ثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي أنا جرير عن عبد الملك بن عمير عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن معاذ بن جبل : عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال :
انتسب رجلان في بني إسرائيل على عهد موسى عليه السلام أحدهما كافر و الآخر مسلم فانتسب الكافر إلى تسعة أباء فقال : المسلم أنا فلان بن فلان وبرئت ممن سواهم فخرج منادي موسى ينادي أيها المنتسبان قد قضى بينكما ثم قال : أيها الكافر أما أنت فانتسبت إلى تسعة أباء كفار و أنت عاشرهم في النار و أما أنت أيها المسلم فقصرت على أبوين مسلمين و برئت ممن سواهم فأنت من أهل الإسلام و برئت ممن سواهم
ہمیں حدیث بیان کی امام ابومطیب سے سہل بن محمد بن سلیمان نے ان کو عبداللہ بن محمد بن علی بن زیاد نے اور ان کو عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمٰن مد ینی نے ان کو اسحٰق بن ابراہیم حنظلی نے ان کو جریر نے ان کو عبدالملک بن عمیر نے ان کو عبدالرحمٰن بن ابولیلیٰ نے ان کو معاذ بن جبل نے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ موسیٰ علیہ السلام کے عہد میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں نے اپنے بڑوں سے اپنی نسبت بیان کی ان میں سے ایک کافر تھا دوسرا مسلمان تھا۔ کافر نے اپنے نو باپوں کی طرف نسبت کی (یعنی دادا پر دادا سے نو پشتوں تک نسبت بیان کی) اور مسلمان نے کہا کہ میں فلاں بن فلاں ہوں اور میں باقیوں سے بری ہوں لہذا موسیٰ علیہ کی طرف منادی کرنے والا منادی کرتا ہوا نکلا اے دو نسبت کرنے والو تحقیق تم دونوں کے درمیان فیصلہ ہو چکا ہے پھر کہا کہ اے کفر کرنے والے تم نے اپنی نسبت جوڑی تھی نو باپ دادوں کی طرف لہذا اس نسبت تفاخر جاہلی کی وجہ سے تم ان کے ساتھ دسویں ہو گے جہنم میں۔ بہر حال تم اے مسلمان تم نے صرف دو مسلمان باپ دادے کی نسبت بیان کرنے پر اکتفا کیا ہے اور ماسواء سے اظہار برأت کیا ہے۔ لہذا تو اہل اسلام میں سے ہے اور اس کے ماسوا سے بری ہے۔
مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَدِينِيُّ، ← عبد الله بن محمد بن علي بن زياد و ← الْإِمَامُ أَبُو الطِّيبِ سَهْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ
Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5134
شعب الإيمان · الرابع و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ فصل · حديث 5190
5190 - أخبرنا أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف بمكة ثنا أبو بكر أحمد بن إبراهيم بن أحمد التنيسي قدم علينا املاء ثنا الحسين بن عنبر الوشاء ثنا شريح بن يونس ثنا عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رواد عن أبيه عن صدقة بن بشار قال : كان داود عليه السلام في محرابه أو نظر إلى دودة صغيرة فتعجب من خلقها و انطقها الله تعالى فقالت يا داود أنا على صغري أطوع منك على كبرك
ہمیں خبر دی ابوعبداللہ محمد بن فضل بن نضیف نے مکہ مکرمہ میں ان کو ابوبکر احمد بن ابراہیم بن احمد تنیسی نے بطور املاء کے جب وہ ہمارے ہاں آئے تھے۔ ان کو حسین بن عنبر و شآء نے ان کو شریح بن یونس نے ان کو عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابوداؤد نے ان کو ان کے والد نے ان کو صدقہ بن بشار نے وہ کہتے ہیں کہ داؤد علیہ السلام اپنے عبادت خانے میں تھے کہ وہاں انہوں نے ایک چھوٹا سا کیڑا دیکھا جس کی تخلیق کو دیکھ کر انہیں تعجب ہوا چنانچہ اللہ نے اس کو بولنے کی طاقت عطا کی اور وہ بولا اے داؤد کہ میں اپنے اس سفر اور چھوٹے ہونے کے باوجود اور تیرے بڑے ہونے کے باوجود میں تجھ سے زیادہ اطاعت شعار ہوں۔
صدقة بن بشار ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، ← شُرَيْحُ بْنُ يُونُسَ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ عَنْبَرٍ الْوَشَّاءُ، ← أبو بكر أحمد بن إبراهيم بن أحمد التنيسي قدم علينا ← أبو عبد الله محمد بن الفضل بن نظيف
Shuab ul Iman · Thirty-fourth of the people of faith › Season · Hadith 5190
شعب الإيمان · السادس و الثلاثون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في تحريم النفوس و الجنايات عليها · حديث 5347
5347 - حدثنا أبو الحسين بن بشران أنا إسماعيل بن محمد الصفار ثنا أحمد بن منصور ثنا عبد الرزاق بن مسلم أخي الزهري قال : كنت جالسا عند سالم بن عبد الله في نفر من أهل المدينة فقال رجل : ضرب الأمير آنفا رجلا أسواقا فمات فقال سالم : عاب الله على موسى عليه السلام في نفس كافرة قتلها
ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو الحسین بن بشران نے ان کو اسماعیل بن محمد صفار نے ان کو احمد بن منصور نے ان کو عبدالرزاق نے ان کو معمر نے ان کو عبداللہ بن مسلم نے جو کہ زہری کے بھائی ہیں وہ کہتے ہیں کہ میں اہل مدینہ کی ایک جماعت کے ساتھ سالم بن عبداللہ کے ہاں بیٹھا ہوا تھا۔ایک آدمی نے کہا۔ کہ امیر نے ایک آدمی کو چھابک مارے ہیں جس سے وہ مر گیا ہے۔ لہذا حضرت سالم نے فرمایا۔ کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر ایک کافر کے قتل کرنے پر عیب اور انتباہ فرمایا تھا۔
رجل ضرب الأمير آنفا رجلا أسواقا فمات ← كنت جالسا عند سالم بن عبد الله في نفر من أهل المدينة ← عبد الرزاق بن مسلم أخي الزهري ← أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ
Shuab ul Iman · Thirty-sixth of the people of faith › And it is a section in the prohibition of souls and felonies on them · Hadith 5347