Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأنبياء والتاريخ

Prophets & History

4507 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23628

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ عُيَيْنَةَ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ أَنَّ مَرْيَمَ فَقَدَتْ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَدَارَتْ بِطَلَبِهِ فَلَقِيَتْ حَائِكًا فَلَمْ يُرْشِدْهَا فَدَعَتْ عَلَيْهِ فَلَا تَزَالُ تَرَاهُ تَائِهًا فَلَقِيَتْ خَيَّاطًا فَأَرْشَدَهَا فَدَعَتْ لَهُ فَهُمْ يُؤْنَسُ إِلَيْهِمْ أَيْ يُجْلَسُ إِلَيْهِمْ

موسیٰ بن ابی عیسیٰ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام گم ہوگئے حضرت مریم علیہا السلام ان کی تلاش میں نکلیں تو راستے میں ایک جولاہا ملا لیکن وہ انہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق کچھ نہ بتاسکا حضرت مریم علیہا السلام نے اس کے لئے سخت الفاظ کہہ دیئے یہی وجہ ہے کہ تم جولاہے کو ہمیشہ حیران و پریشان دیکھو گے پھر ایک درزی ملا جس نے ان کی رہنمائی کر دی تو حضرت مریم علیہا السلام نے اس کے حق میں دعا فرمائی اسی وجہ سے لوگ ان کے پاس جا کر بیٹھتے ہیں ۔

سفيان -يعني ابن عيينة-

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23628

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23816

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ أَنَّ أَبَا مُوسَى كَانَ يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ قَالَ كَانَ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَهُمْ الْبَوْلُ يُتْبِعُهُ بِالْمِقْرَاضَيْنِ قَالَ حُذَيْفَةُ وَدِدْتُ أَنَّهُ لَا يُشَدِّدُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى أَوْ قَالَ مَشَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ وَهُوَ قَائِمٌ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی کہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ایک شیشی میں پیشاب کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل کے جسم پراگرپیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو قینچی سے کاٹ دیا کرتے تھے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میری آرزوہے کہ تمہارے ساتھی اتنی سختی نہ کریں مجھے یاد ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چل رہے تھے چلتے چلتے کوڑا کر کٹ پھینکنے کی جگہ پر پہنچنے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا۔

مَشَى إِلَى سُبَاطَةِ قَوْمٍ فَبَالَ وَهُوَ قَائِمٌ ← حُذَيْفَةُ وَدِدْتُ أَنَّهُ لَا يُشَدِّدُ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ أَتَى أَوْ ← كَانَ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَهُمْ الْبَوْلُ يُتْبِعُهُ بِالْمِقْرَاضَيْنِ ← أَنَّ أَبَا مُوسَى كَانَ يُشَدِّدُ فِي الْبَوْلِ ← أَبَا وَائِلٍ، ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23816

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 723

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى حَدَّثَنَا محمد بن يزيد1 الرفاعي حدثنا بن فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَمْرٍو2 عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْرَابِيًّا فَأَكْرَمَهُ فقَالَ لَهُ ائْتِنَا فَأَتَاهُ فقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "سَلْ حَاجَتَكَ" قَالَ نَاقَةٌ نَرْكَبُهَا وَأَعْنُزٌ يَحْلِبُهَا أَهْلِي فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَعَجَزْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِثْلَ عَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ" قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ قَالَ "إِنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا سَارَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ مِنْ مِصْرَ ضَلُّوا الطَّرِيقَ فقَالَ مَا هَذَا فقَالَ عُلَمَاؤُهُمْ إِنَّ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ أَنْ لَا نَخْرُجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى نَنْقُلَ عِظَامَهُ مَعَنَا قَالَ فَمَنْ يَعْلَمُ مَوْضِعَ قبره قال عَجُوْزٌ مِنْ بَنِیْ اِسْرَائِیلَ فَبَعَتْ اِلَیْھَا فَاَتَتْہُ فقَالَ دُلِّینِیْ عَلٰی قَبْرِ یُوْسُفَ قَالَتْ حَتّٰی تُعْطِیَنِیْ حُکْمِی قَالَ وَمَا حُکْمُکِ قَالَتْ اَکُونُ مَعَکَ فِی الْجَنَّۃِ فَکَرِہَ اَنْ یُّعْطِیَھَا ذٰلِکَ فَاَوْحَی اللہُ اِلَیْہِ اَنْ اَعْطِھَا حُکْمُھَا فَانْطَلَقَتْ بِھِمْ اِلٰی بُحَیْرَۃٍ مَوْضِعِ مُسْتَنْقَعِ مَاءٍ فَقَالَتْ اَنْضِبُوا ھٰذَا الْمَاءَ فَاَنْضَبُوہُ فَقَالَتْ احْتَفِرُوْا فَاحْتَفَرُوْا فَاسْتَخْرَجُوا عِظَامَ یُوْسُفَ فَلَمَّا اَقَلُّو ھَا اِلَی الْاَرْضِ وإذا الطریق مثل ضوء النھار۔(6:3)

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتےہی : نبی اکرمﷺ ایک دیہاتی کے پاس تشریف لائے اس نے آپ کی عزت افزائی کی ‘ نبی اکرمﷺ نے اس کے بارے میں فرمایا : اسے ہمارے پاس لے کےآؤ وہ آپ کی خدمت میں آیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس سے دریافت کیا : اپنی حاجت طلب کرو ۔ اس نے عرض کی : ایک اونٹنی چاہئے جس پہ ہم سور ہو سکیں اور کچھ بکریاں چاہئیں جن کا دودھ میرے گھر والے دوہ لیا کریں ‘ تو نبی ارکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اتنے عاجز ہو گئے ہو کہ تم بنی اسرائیل کی بوڑھیوں کی مانند بھی نہیں ہو سکتے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بنی اسرائیل کی بوڑھیوں کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی ارکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : جب موسیٰ ؑبنی اسرائیل کو ساتھ لے کر مصر سے روانہ ہوئے ‘ تو وہ لوگ راستہ بھول گئے۔ حضرت موسیٰ نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ‘ تو ان کے علماء نے بتایا : حضرت یوسفؑ کے انتقال کا وقت جب قریب آیا تھا ‘ تو انہوں نے اللہ کی طرف سے ہم سے یہ پختہ عہد لیا تھا کہ جب ہم لوگ مصر سے نکلیں گے‘ تو اپنے ساتھ ان کی میت بھی ساتھ لے کے جائیں گے۔ حضرت موسیٰ ؒ نے دریافت کیا: ان کی قبر کی جگہ کو کون جانتا ہے‘ تو اس شخص نے بتایا بھی اسرائیل سے تعلق رکھنے والی ایک بوڑھی عورت حضرت موسیٰؑ نے اس عورت کو بلوایا وہ عورت آپ کے پاس آئی حضرت موسیٰ ؑ نے کہا : تم حضرت یوسف ؑ کی قبر کی طرف میری رہنمائی کرو۔ اس عورت نے کہا :جب تک آپ مجھے میرا معاوضہ نہیں دیں دے گے۔ ( میں ایسا نہیں کروں گی)حضرت موسیٰ ؑ نے دریافت کیا : تمہارا معاضہ کیا ہے۔ اس نے جواب دیا : یہ کہ میں جنت میں آپﷺ کے ساتھ ہوں ‘ تو حضرت موسیٰؑؑ کو یہ بات اچھی نہیں گلی کہ اسے یہ بات کہیں ‘ تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰؑ کی طرف یہ وحی کی کہ وہ جو مانگ رہی ہے وہ اسے دیو‘ پھر وہ عورت ان لوگوں کو لے کر ایک جگہ پر آئی جہاں سے پانی پھوٹ رہا تھا۔ عورت نے کہا : اس پانی کو بند کر دو ‘ ان لوگوں نے پانی کو بند کر دیا۔ اس عورت نے کہا : اب اسے کھولو ان لوگوں نے اسے کھلولا‘تو وہاں سے حضرت یوسف ؑ کی ہڈیاں نکل آئیں جب وہ اس سر زمین کی طرف واپس آئے ‘ تو راستہ یوں تھا جیسے دن کی روشنی ہوتی ہے۔

نَاقَةٌ نَرْكَبُهَا وَأَعْنُزٌ يَحْلِبُهَا أَهْلِي ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ "سَلْ حَاجَتَكَ" ← لَهُ ائْتِنَا فَأَتَاهُ ← أَتَى النَّبِيُّ أَعْرَابِيًّا فَأَكْرَمَهُ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← يُونُسَ بْنِ عَمْرِو ← بن فُضَيْلٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ الرِّفَاعِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of godliness and trust · Hadith 723

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ الْخُرُوجِ، وَكَيْفِيَّةِ الْجِهَادِ · حديث 4721

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدًا، يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ سَارَ إِلَى بَدْرٍ، فَجَعَلَ يَسْتَشِيرُ النَّاسَ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ يَسْتَشِيرُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: وَاللَّهِ مَا يُرِيدُ غَيْرَنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: أَرَاكَ تَسْتَشِيرُ، فَيُشِيرُونَ عَلَيْكَ، وَلَا نَقُولُ كَمَا قَالَ بَنُو إِسْرَائِيلَ: {اذْهَبْ أَنْتَ [ص:24] وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا}، وَلَكِنْ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَهَا، حَتَّى تَبْلُغَ بَرْكَ الْغِمَادِ كُنَّا مَعَكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ بدر کے موقع پر روانہ ہونے سے پہلے نبی اکرم ﷺ نے لوگوں سے مشورہ کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اپنی رائے بیان کی پھر نبی اکرم ﷺ نے مشورہ لیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے پیش کی۔ نبی اکرم ﷺ مسلسل مشورہ لیتے رہے، یہاں تک کہ انصار نے کہا: اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ صرف ہماری رائے جاننا چاہتے ہیں، تو ایک انصاری صاحب نے کہا: میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ مشورہ لے رہے ہیں لوگ آپ کو مشورہ دے رہے ہیں ہم اس طرح نہیں کہیں گے جس طرح بنی اسرائیل نےکہا تھا: ”تم اور تمہارا پروردگار جا کر جنگ میں حصہ لو“۔ اس ذات کی قسم جس نے آپﷺ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، اگر آپ ﷺ ان کے ساتھ لڑتے ہوئے” برک غماد“تک چلے جائیں، تو ہم آپﷺ کے ساتھ رہیں گے۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدًا، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · Biography › The Exit Door, and how to strive · Hadith 4721

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6211

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَانَ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَغْتَسِلُونَ عُرَاةً، يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى سَوْأَةِ بَعْضٍ، وَكَانَ مُوسَى يَغْتَسِلُ وَحْدَهُ، قَالُوا: وَاللَّهِ مَا يَمْنَعُ مُوسَى أَنْ يَغْتَسِلَ مَعَنَا إِلَّا أَنَّهُ آدَرُ، قَالَ: فَذَهَبَ مَرَّةً يَغْتَسِلُ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ عَلَى حَجَرٍ فَفَرَّ الْحَجَرُ بِثَوْبِهِ، فَاشْتَدَّ مُوسَى فِي أَثَرِهِ وَهُوَ يَقُولُ: ثَوْبِي حَجَرُ، ثَوْبِي حَجَرُ، حَتَّى نَظَرَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِلَى سَوْأَةِ مُوسَى فَقَالُوا: وَاللَّهِ مَا بِمُوسَى مِنْ بَأْسٍ، فَقَامَ الْحَجَرُ بَعْدَ مَا نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَأَخَذَ ثَوْبَهُ، وَطَفِقَ [ص:95] بِالْحَجَرِ ضَرْبًا»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «وَاللَّهِ إِنَّ بِالْحَجَرِ نَدَبًا سِتَّةً أَوْ سَبْعَةً مِنْ ضَرْبِ مُوسَى الْحَجَرَ»

حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "بنی اسرائیل بروہنہ ہو کر غسل کیا کرتےتھے وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھ لیا کرتےتھے حضرت موسیٰ ﷺ تنہا غسل کیا کرتےتھے ان لوگوں نےکہا :اللہ کی قسم ! حضرت موسیٰ ؑ ہمارے ساتھ صرف اس لیے غسل نہیں کرتے کیونکہ ان کے اندر کوئی عیب ہے ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتےہیں :ایک مرتبہ حضرت موسیٰ ؑ غسل کرنے لگے ،اور اپنے کپڑےایک پتھر پر رکھے ،تو وہ ان کے کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا ۔ حضرت موسیٰ ؑ اس کے پیچھے بھاگے وہ یہ کہ رہے تھے اے پتھر میرے کپڑے اے پتھر میرے کپڑے ، یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ کی شرمگاہ کو دیکھ لیا ،تو انہوں نے کہا :اللہ کی قسم ! حضرت موسیٰ ؑ میں ،تو کوئی خرابی نہیں ہے ، جب لوگوں نے انہیں دیکھ لیا ، تو پتھر بھی رک گیا ۔ حضرت موسیٰ ؑ نے اپنے کپڑے لیے اور اس پتھر کو مارنا شروع کیا۔" حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں :اللہ کی قسم اس پتھر پر حضرت موسیٰ ؑ کی ضرب کے چھ یا شاید سات نشان ہیں ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6211

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6220

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، مِنْ كِتَابِهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَفِظْتُهُ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ لَيْسَ بِصَاحِبِ الْخَضِرِ، إِنَّمَا هُوَ مُوسَى آخَرُ، قَالَ: كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «قَامَ مُوسَى [ص:105] فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ خَطِيبًا، فَقِيلَ لَهُ: أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟ قَالَ: أَنَا، قَالَ: فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ، إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: عَبْدٌ لِي بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ، قَالَ: أَيْ رَبِّ فَكَيْفَ لِي بِهِ، قَالَ: تَأْخُذُ حُوتًا فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ، فَحَيْثُ مَا فَقَدْتَ الْحُوتَ، فَهُوَ ثَمَّ، قَالَ: فَأَخَذَ الْحُوتَ فَجَعَلَهُ فِي الْمِكْتَلِ، فَدَفَعَهُ إِلَى فَتَاهُ، فَانْطَلَقَا حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ، فَرَقَدَ مُوسَى فَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ، فَخَرَجَ فَوَقَعَ فِي الْبَحْرِ، فَأَمْسَكَ اللَّهُ عَلَيْهِ جَرْيَةَ الْمَاءِ، فَصَارَ مِثْلَ الطَّاقِ، فَكَانَ الْبَحْرُ لِلْحُوتِ سَرَبًا، وَلِمُوسَى وَلِفَتَاهُ عَجَبًا، فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ وَجَدَ مُوسَى النَّصَبَ، فَقَالَ: {آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا} [الكهف: 62]. قَالَ: وَلَمْ يَجِدِ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أَمَرَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا، فَقَالَ لَهُ فَتَاهُ: {أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ} [الكهف: 63]. قَالَ: {ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا} [الكهف: 64]، فَجَعَلَا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا حَتَّى أَتَيَا الصَّخْرَةَ، فَإِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى عَلَيْهِ بِثَوْبٍ فَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ؟ قَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ: [ص:106] مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: يَا مُوسَى، إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ اللَّهُ لَا تَعْلَمُهُ، وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ لَا أَعْلَمُهُ. قَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَتَّبِعَكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عَلِمْتَ رُشْدًا، {قَالَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تَحُطْ بِهِ خُبْرًا قَالَ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا قَالَ فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا} [الكهف: 68]. قَالَ: فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ، فَمَرَّتْ بِهِ سَفِينَةٌ فَعَرَفُوا الْخَضِرَ فَحَمَلُوهُ بِغَيْرِ نَوْلٍ. قَالَ: فَلَمْ يَفْجَأْ مُوسَى إِلَّا وَهُوَ يُنْزِلُ لَوْحًا مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: مَا صَنَعْتَ قَوْمٌ حَمَلُوكَ بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا {لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا} [الكهف: 71] قَالَ: فَكَانَتِ الْأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا. قَالَ: وَجَاءَ عُصْفُورٌ فَوَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ فَنَقَرَ بِمِنْقَارِهِ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ الْخَضِرُ لِمُوسَى: مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعَلَّمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا مِثْلَ مَا نَقَصَ هَذَا الْعُصْفُورُ بِمِنْقَارِهِ مِنَ الْبَحْرِ. قَالَ: وَمَرُّوا عَلَى غِلْمَانٍ يَلْعَبُونَ، فَقَالَ الْخَضِرُ لِغُلَامٍ مِنْهُمْ [ص:107] بِيَدِهِ هَكَذَا، فَاقْتَلَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: {أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا قَالَ إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا} [الكهف: 74]، قَالَ: فَأَتَيَا {أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ} [الكهف: 77]، فَقَالَ الْخَضِرُ بِيَدِهِ هَكَذَا فَأَقَامَهُ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: اسْتَطْعَمْنَاهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُطْعِمُونَا، وَاسْتَضَفْنَاهُمْ فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُونَا، عَمَدْتَ إِلَى حَائِطِهِمْ فَأَقَمْتَهُ {لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا قَالَ هَذَا فِرَاقٌ بَيْنِي وَبَيْنَكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا} [الكهف: 77]، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » وَدِدْنَا أَنْ مُوسَى كَانَ صَبَرَ حَتَّى يَقُصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِمْ «، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ: وَأَمَّا الْغُلَامُ كَانَ كَافِرًا وَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ، وَيَقْرَأُ: وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا»

حضرت سعید بن جبیر بیان کرتےہیں :میں نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے کہا نوف بکالی یہ کہتا ہے: حضرت موسیٰؑ وہ والے حضرت موسیٰ ؑ نہیں ہے جن کی حضرت خضر ؑ سے ملاقات ہوئی تھی (حضرت خضرؑ سے ملنے والے حضرت موسیٰ ؑ)دوسرے تھے ،تو حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا:اللہ کے دشمن نے غلط کیا ہے۔ حضرت ابی بن کعب نے ہمیں یہ حدیث سنائی ہے نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایاہے: ایک مرتبہ حضرت موسیٰؑ بنی اسرائیل میں کھڑے خطبہ دے رہے تھے ان سے دریافت کیا گیا کون شخص سب سے زیادہ علم رکھتا ہے؟ حضرت موسیٰ ؑ نے جواب دیا :میں ، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ انہوں نے اس بات کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:دوردریاؤں کے ملنے کی جگہ پر میرا ایک بندہ ہے وہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے حضرت موسیٰؑ نے عرض کی:اے میرے پروردگار میں اس سے کیسے مل سکتا ہوں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تم ایک مچھلی لے کر اسے ایک برتن میں رکھو جس جگہ تم مچھلی کو گم کردوگے وہ بندہ وہاں ہوگا۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں :حضرت موسیٰ ﷺ نے مچھلی لی اور اسے ایک برتن میں رکھ دیا۔ وہ برتن انہوں نے اپنے ساتھی کے سپرد کردیا یہ دونوں حضرات روانہ ہوگئے،یہاں تک کہ یہ دونوں چٹان کے پاس آئے وہاں حضرت موسیٰؑ سو گئے مچھلی نے برتن میں حرکت کی اس سے باہر نکلی اور دریا میں چلی گئے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے پانی کے بہاؤ کو روک دیا اور وہ طاق کی مانند ہوگیا ہے ۔ حضرت موسیٰؑ اور ان کے ساتھی نوجوان حیران ہوئے۔ یہ دونوں حضرات پھر آگے روانہ ہوگئے ۔ اگلے دن حضرت موسیٰؑ کو تھکاوٹ محسوس ہویئ ، تو انہوں نے کہا : ہمارا کھانا لے کر آؤ۔ ہمیں اس سفر میں تھکاوٹ محسوس ہو رہی ہے۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :انہیں تھکاوٹ اس وقت تک محسوس نہیں ہوئے ہوئے تھی ، جب تک وہ اس مقام سے آگے نہیں گزر گئے تھے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا ان کے ساتھی نے ان سے کہا :کیا آپ نے ملاحظہ فرمایا:ہم چٹان کی پناہ میں گئے تھے ، تو میں مچھلی کو بھول گیا تھا اور مجھےشیطان نے یہ بات بھلادی کہ میں اس کا ذکر کرتااس پر حضرت موسیٰ ؑ نے کہا:ہم وہی جگہ ،تو چاہتے تھے پھر یہ دونوں حضرات الٹے قدموں واپس آئے یہ اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس آئے، یہاںتک کہ اس چٹان تک آگئے۔ وہاں ایک شخص اپنے اوپر چادر اوڑھ کر لیٹا ہوا تھا۔ حضرت موسیٰؑ نے اسے سلام کیا ، تواس شخص نے کہا: اس جگہ پر سلام کہاں سے آگیا ۔حضرت موسیٰؑ نے فرمایا: میں موسیٰ ہوں۔ اس نے دریافت کیا بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے موسیَٰ؟ حضرت موسیٰ ؑنے جواب دیا ۔ جی ہاں اس نے کہا:اے موسیٰ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا علم ملا ہے ،جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے آپ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا علم ملا ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ حضرت موسیؑ نے کہا :میں آپ کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اس چیز کی تعلیم دیں جو آپ کو ہدایت کا علم عطاکیا گیا ہے ، تو اس شخص نے کہا :آپ میرے ساتھ رہ کر صبر سے کام نہیں لے سکیں گے ، اور آپ اس چیز پر کیسے صبر کر سکتےہیں ، جس کے بارے میں آپ کو معلوم ہی نہیں ہے ۔حضرت موسیٰ ؑ نے کہا :اگر اللہ نے چاہا،تو آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے ،میں اس معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ حضرت خضر ؑ نے کہا: اگر آپ میری پیروں کرنا چاہتےہیں ، تو پھر آپ نے مجھ سے کسی بھی چیز کے بارے میں اس وقت تک دریافت نہیں کرنا ، جب تک میں خود اس بارے میں آپ کےسامنے ذکر نہیں کر دیتا۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :پھر یہ دونوں حضرات دریا کے کنارے روانہ ہوگئے ۔وہاں سے ایک کشتی گزری ان لوگوں نے حضرت خضر ؑ کو پہچان لیا اور کسی معاوضے کے بغیر انہیں کشتی میں سوار کرلیاکچھ ہی دیر بعد حضرت خضرؑ نے اس کشتی کی ایک تختی توڑ دی حضرت موسیٰؑ نے ان سے کہا یہ آپ نے کیا کیا ہے ؟ انہوں نے کسی معاضے کے بغیر آپ کو سوار کیا اور آپ نے ان کی کشتی کی تختی توڑ دی ہے ،تاکہ کشتی والے ڈوب جائیں آپ نے غلط کام کیا ہے حضرت خضر ؑ نے کہا :میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر سے کام نہیں لیں گے ،تو حضرت موسیٰ ؑ نے کہا :میں جو بات بھول گیاتھا۔آپ اس بارے میں مجھ سے موخذہ نہ کریں اور میرے معاملے کو تنگی کا شکار نہ کریں ۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں:یہ حضرت موسیٰؑ کی طرف سے پہلی (خلاف ورزی تھی) جو بھولنے کی وجہ سے تھی۔ نبی اکرمﷺفرماتےہیں :اسی دورا ن ایک چڑیا آئی اور اس کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی۔ اس نے اپنی چونچ پانی میں ڈالی ،تو حضرت خضرؑنے حضرت موسیٰؑ سے کہا:میرا علم اور آپ کا علم ، اللہ تعالیٰ کے علم کے مقابلے میں وہ حیثیت بھی نہیں رکھتے جو اس چڑیا نے اپنی چونچ کے ذریعے سمندر کے پانی میں کمی کی ہے۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :ان حضرات کا گزر کچھ لڑکوں کے پاس سے ہواجو کھیل رہے تھے حضرت خضر ؑ نےان میں وے ایک غلام کو اپنے ہاتھ کے ذریعے قتل کردیا حضرت موسیٰؑ نے ان سے کہا:آپ نے ایک پاکیزہ جان کو کسی جان کے بغیر قتل کر دیا ہے آپ نے قابل انکار حرکت کی ہے ، تو حضرت خضر ؑ نے کہا :کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکیں گے ۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا :اگر اس کے بعد میں نے آپ سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا،تو آپ میرے ساتھ نہ رہیں گے۔ آپ کو یہ میری طرف سے عذر پہنچ گیا ہے ۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :یہ دونوں حضرات ایک بستی میں آئے اور وہاں کے رہنے والوں سے کھانے کے لیے مانگا ،تو انہوں نے ان دونوں کی مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا۔ ان دونوں حضرات نے اس بستی میں ایک دیوار پائی جو گرنے کے قریب تھی۔ حضرت خضرؑ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے سہارا دے کر اسے سیدھا کردیا ، تو حضرت موسیٰ ؑ نے ان سے کہا ہم نے ان لوگوں سے کھانا کھانے کےلیے مانگا ۔ انہوں نے ہمیں کھلانے سے انکار کردیا۔ہم نے انہیں مہمان نوازی کے لیے کہا ، تو انہوں نے ہماری مہمان نوازی کرنے سے انکار کردیا جب کہ آپ نے ان لوگوں نے دیوار ٹھیک کر دی ہے اگر آپ چاہیں ان سے اس کا معاوضہ لے سکتے ہیں ۔ حضرت خضر ؑ نے کہا:یہ میرے اور آپ کے درمیان فرق ہے۔ میں آپ کو ان چیزوں کی حقیقت کے بارے میں بتاتاہوں جن پر آپ صبر سےکام نہیں لے سکے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:ہماری خواہش تھی کہ حضرت موسیٰ ؑ صبر سے کام لیتے تاکہ ان حضرات کے واقعہ کے بارے میں مزید چیزیں ہمارے سامنےجاتیں۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ یوں تلاوت کیا کرتےتھے ۔ "جہاں تک لڑکے کا تعلق ہے وہ کافر تھا اور اس کے مان باپ مومن تھے۔" اور وہ یوں تلاوت کیا کرتےتھے ۔ "اور ان سے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر ٹھیک کشتی کو غضب کر لیتا تھا۔"

قُلْتُ لاِبْنِ عَبَّاسٍ: ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← حفظته من عمرو بن دينار ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6220

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6223

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:113] عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «أُرْسِلَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى لِيَقْبِضَ رُوحَهُ فَلَطَمَهُ مُوسَى فَفَقَأَ عَيْنَهُ، قَالَ: فَرَجَعَ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: يَا رَبِّ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، قَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِ فَقُلْ: إِنْ شِئْتَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَلَكَ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: ثُمَّ الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ يَا رَبِّ، قَالَ: فَسَأَلَ اللَّهُ أَنْ يُدْنِيَهُ مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةَ حَجَرٍ»، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ ثَمَّتَ لَأَرَيْتُكُمْ مَوْضِعَ قَبْرِهِ إِلَى جَانِبِ الطُّورِ تَحْتَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ» [ص:114] قَالَ مَعْمَرٌ: وَأَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ الْحَسَنَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: » إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا بَعَثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعَلِّمًا لِخَلْقِهِ فَأَنْزَلَهُ مَوْضِعَ الْإِبَانَةِ عَنْ مُرَادِهِ، فَبَلَّغَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِسَالَتَهُ، وَبَيَّنَ عَنْ آيَاتِهِ بِأَلْفَاظٍ مُجْمَلَةٍ وَمُفَسَّرَةٍ عَقَلَهَا عَنْهُ أَصْحَابُهُ أَوْ بَعْضُهُمْ، وَهَذَا الْخَبَرُ مِنَ الْأخْبَارِ الَّتِي يُدْرِكُ مَعْنَاهُ مَنْ لَمْ يَحْرُمِ التَّوْفِيقَ لِإِصَابَةِ الْحَقِّ. وَذَاكَ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلَا أَرْسَلَ مَلَكَ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى رِسَالَةَ ابْتِلَاءٍ وَاخْتِبَارٍ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَقُولَ لَهُ: أَجِبْ رَبَّكَ، أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلَاءٍ لَا أَمْرًا يُرِيدُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا إِمْضَاءَهْ كَمَا أَمَرَ خَلِيلَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ بِذِبْحِ ابْنِهِ أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلَاءٍ، دُونَ الْأَمْرِ الَّذِي أَرَادَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا إِمْضَاءَهُ، فَلَمَّا عَزَمَ عَلَى ذَبْحِ ابْنِهِ وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ فَدَاهُ بِالذَّبْحِ الْعَظِيمِ، وَقَدْ بَعَثَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا الْمَلَائِكَةَ إِلَى رُسُلِهِ فِي صُوَرٍ لَا يَعْرِفُونَهَا كَدُخُولِ الْمَلَائِكَةِ عَلَى رَسُولِهِ إِبْرَاهِيمَ، وَلَمْ يَعْرِفْهُمْ [ص:115] حَتَّى أَوْجَسَ مِنْهُمْ خِيفَةً، وَكَمَجِيءِ جِبْرِيلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسُؤَالِهِ إِيَّاهُ عَنِ الْإِيمَانِ وَالْإِسْلَامِ، فَلَمْ يَعْرِفْهُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَلَّى، فَكَانَ مَجِيءُ مَلَكِ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى عَلَى غَيْرِ الصُّورَةِ الَّتِي كَانَ يَعْرِفُهُ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَيْهَا، وَكَانَ مُوسَى غَيُورًا فَرَأَى فِي دَارِهِ رَجُلًا لَمْ يَعْرِفْهُ، فَشَالَ يَدَهُ فَلَطَمَهُ فَأَتَتْ لَطْمَتُهُ عَلَى فَقْءِ عَيْنِهِ الَّتِي فِي الصُّورَةِ الَّتِي يَتَصَوَّرُ بِهَا لَا الصُّورَةِ الَّتِي خَلْقَهُ اللَّهُ عَلَيْهَا، وَلَمَّا كَانَ الْمُصَرَّحُ عَنْ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ، حَيْثُ قَالَ: «أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ»، فَذَكَرَ الْخَبَرَ. وَقَالَ فِي آخِرِهِ: «هَذَا وَقْتُكَ وَوَقْتُ الْأَنْبِيَاءِ قَبْلَكَ»: كَانَ فِي هَذَا الْخَبَرِ الْبَيَانُ الْوَاضِحُ أَنَّ بَعْضَ شَرَائِعِنَا قَدْ تَتَّفِقُ بِبَعْضِ شَرَائِعِ مَنْ قَبْلَنَا مِنَ الْأُمَمِ، وَلَمَّا كَانَ مِنْ شَرِيعَتِنَا أَنَّ مَنْ فَقَأَ عَيْنَ الدَّاخِلِ دَارَهُ بِغَيْرِ إِذْنِهِ أَوِ النَّاظِرِ إِلَى بَيْتِهِ بِغَيْرِ أَمْرِهِ جُنَاحٌ عَلَى فَاعِلِهِ، وَلَا حَرَجٍ عَلَى مُرْتَكِبِهِ، لِلْأَخْبَارِ الْجَمَّةِ الْوَارِدَةِ فِيهِ الَّتِي أَمْلَيْنَاهَا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا: كَانَ جَائِزًا اتِّفَاقُ هَذِهِ الشَّرِيعَةِ بِشَرِيعَةِ مُوسَى، بِإِسْقَاطِ الْحَرَجِ عَمَّنْ فَقَأَ عَيْنَ الدَّاخِلِ دَارَهُ بِغَيْرِ إِذْنِهِ، فَكَانَ اسْتِعْمَالُ مُوسَى هَذَا الْفِعْلِ مُبَاحًا لَهُ وَلَا حَرَجَ عَلَيْهِ فِي فِعْلِهِ، فَلَمَّا رَجَعَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى رَبِّهِ، وَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ مِنْ مُوسَى فِيهِ، أَمَرَهُ ثَانِيًا بِأَمْرِ آخَرَ أَمْرَ اخْتِبَارٍ وَابْتِلَاءٍ. كَمَا ذَكَرْنَا قَبْلُ، إِذْ قَالَ اللَّهُ لَهُ: قُلْ لَهُ: إِنْ شِئْتَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ فَلَكَ بِكُلِّ مَا غَطَّتْ يَدُكَ بِكُلِّ شَعْرَةٍ سَنَةٌ، فَلَمَّا عَلِمَ مُوسَى كَلِيمُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَى نَبِيِّنَا وَعَلَيْهِ أَنَّهُ مَلَكُ الْمَوْتِ وَأَنَّهُ جَاءَهُ بِالرِّسَالَةِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، طَابَتْ نَفْسُهُ بِالْمَوْتِ، وَلَمْ يَسْتَمْهِلْ، وَقَالَ: فَالْآنَ. فَلَوْ كَانَتِ الْمَرَّةُ الْأُولَى عَرَفَهُ مُوسَى أَنَّهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، لَاسْتَعْمَلَ مَا اسْتَعْمَلَ فِي الْمَرَّةِ الْأُخْرَى عِنْدَ تَيَقُّنِهِ وَعِلْمِهِ بِهِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ زَعَمَ أَنَّ أَصْحَابَ الْحَدِيثِ حَمَّالَةُ الْحَطَبِ، وَرُعَاةُ اللَّيْلِ يَجْمَعُونَ مَا لَا يَنْتَفِعُونَ بِهِ، وَيَرْوُونَ مَا لَا يُؤْجَرُونَ عَلَيْهِ، وَيَقُولُونَ بِمَا يُبْطِلُهُ الْإِسْلَامُ جَهْلًا مِنْهُ لِمَعَانِي الْأَخْبَارِ، وَتَرْكَ التَّفَقُّهِ فِي الْآثَارِ مُعْتَمِدًا مِنْهُ عَلَى رَأْيِهِ الْمَنْكُوسِ وَقِيَاسِهِ الْمَعْكُوسِ «

حضرت ابوہریرہ ؓ ،نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتےہیں : "ملک الموت کو حضرت موسیٰ ؑ کی طرف بھیجا گیا تاکہ وہ جوان کی روح قبض کرلے حضرت موسیٰ ؑ نے اسے تھپڑ مارا اور اس کی آنکھ پھوڑدی نبی اکرمﷺ فرماتےہیں: وہ اپنے پروردگا ر کی بارگاہ میں گیا اور عرض کی ،تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے ،جو مرنا نہیں چاہتا پروردگار نے فرمایا:تم اس کے پاس واپس جاؤ اس سے کہو اگر تم چاہو ،توکسی بیل کی پشت پر اپنا ہاتھ رکھو ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ۔ ان میں سے ہر ایک بال کے عوض تمہیں ایک سال کی زندگی مل جائے گی ،تو حضرت موسیٰ ؑ نے فرشتے سے دریافت کیا پھر کیا ہوگا ۔ اس نے کہا :پھر موت آجائے گی ،تو حضرت موسیٰ ؑ نے کہا :اے میرے پروردگار پھر ابھی (میں فوت ہوجاتاہوں ) " نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کی کہ وہ انہیں مرض مقدس کے اتنا قریب کر دے جتنی دور پتھر جا کر گرتاہے۔ نبی اکرمﷺ ارشادفرماتےہیں :اگر میں وہاں ہوتا تو میں حضرت موسیٰ ؑ کی قبر دکھاتا، جو کوہ طور کے ایک طرف سرخ ٹیلے کے نیچے تھی۔ یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں :)بے شک اللہ تعالیٰ نے نبی اکرمﷺکو اپنی مخلوق کا معلم بنا کر بھیجا ہے اور انہیں (اپنے احکام کی ) مراد واضح کرنے کا مقام عطاکیا ہے،تو نبی اکرمﷺ نے اللہ تعالیٰ کے رسالت کی تبلیغ کی اور اس کی آیات کےمجمل الفاظ کو بیان کیا اور اس کی تفسیر کی ،جسے آپ سے آپ کے اصحاب نے سیکھا، یا ان میں سے بعض افراد نے سیکھا یہ روایت بھی ان روایات میں شامل ہے،جس کا مفہوم وہ شخص جان سکتا ہے ،جو حق تک پہنچنے کی توفیق سے محروم نہ ہو اور وہ یوں کہ اللہ تعالی نے ملک الموت کو حضرت موسیٰ ؑ علیہ السلام کی طرف بھیجا تاکہ آزمائش کو ظاہر کرے اور خبر کو ظاہر کرے اور اسے یہ حکم دیا کہ وہ ان سے یہ کہےکہ وہ اپنے پرووردگار کے بلاوے پر لبیک کہیں ، تو یہ ایک ایسا حکم تھا جو خبر جاننے کےلئے اور آزمائش کےلئے تھا۔ یہ کوئی ایسا حکم نہیں تھا جسے جاری کرنا اللہ تعالیٰ کی مراد ہوتی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کو یہ حکم دیاکہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کردیں ،تو یہ خبر معلوم کرنےکےلئے اورآزمائش کے طور پر تھا یہ کوئی ایسا حکم نہیں تھا جسے اللہ تعالیٰ برقرار رکھنے کا ارادہ رکھتا تھا ،تو جب حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا ،تو اللہ تعالیٰ نے اس کاوفد یہ عظیم صورت میں دیا ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے (مختلف موقعوں پر ) فرشتوں کو اپنے رسول کی طرف ایسی شکل وصورت میں بھیجا کہ وہ رسول انہیں پہچان نہیں سکے جس طرح کچھ فرشتے اللہ کے رسول حضرت ابرہیم ؑ کی خدمت میں حاضر ہوئے ،تو حضرت ابراہیم ؑ انہیں پہچان نہیں سکے ،یہاں تک کہ انہیں ان کی طرف سے خوف محسوس ہوا ۔اسی طرح حضرت جبرائیل ؑ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے ایمان اور اسلام کے بارے میں سوالات کئے ،لیکن نبی اکرمﷺ انہیں اس وقت انہیں پہچانے جب وہ واپس چلے گئے تھے، تو جب ملک الموت حضرت موسیٰؑ کے پاس آیا ،تو وہ اس سے مختلف صورت میں تھا جس صورت میں حضرت موسیٰ ؑ اس سے ناواقف تھے۔ حضرت موسیٰ ؑ مزاج کے تیز تھے ۔ انہیں اپنے گھر میں ایک ایسا شخص نظر آیا جس سے وہ واقف نہیں تھے ، تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اسے طمانچہ رسید کیا۔ طمانچے کے نتیجے میں ملک الموت کی وہ آنکھ پھوٹ گئی جو اس کی اس شکل کے مطابق جس شکل کو اختیار کرکے وہ آیا تھا ۔ اس سےمراد وہ شکل نہیں ہے ،جس پر اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیاہے۔ حضرت عبدالل بن عباسؓ کے حوالےسے منقول روایت میں ہمارے نبی کی طرف سےاس بات کی صراحت آئی ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: "جبرائیل نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ میری امامت کی "۔اس کے بعد پوری روایت ہے ،جس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں : "یہ آپ کا اور آپ سے پہلے کے انبیاء کا وقت ہے" تو اس روایت میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ بعض شرعی احکام میں ہماری شریعت کاوہی حکم ہے،جو پہلی اُمتوں کی شریعت کا تھا۔ تو جب ہماری شریعت کا یہ حکم ہے کہ جو شخص اجازت لئے بغیر اپنے گھر میں داخل ہونے والے شخص کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے، توایسا کرنے والے شخص پر کرئی گناہ نہیں ہوگا ۔ اس بارے میں بہت سی روایات منقول ہے ،جنہیں ہم اپنی کتابوں میں دیگر مقامات پر املاکرواچکے ہیں ،تو یہ بات بھی جائز ہوگی کہ اس بارے میں اس شریعت اورحضرت موسیٰ ؑ کی شریعت کا حکم متفق ہوکہ جو شخص اپنے گھر میں اجازت کے بغیر داخل ہونے والے شخص کی آنکھ پھوڑ دیتا ہے اسے گناہ نہیں ہوگا ،تو حضرت موسیٰ ؑ نے یہ فعل کیا ۔ یہ ان کےلئے مباح تھا اور ایسا کرنے پر ان پر کوئی حرج لاحق نہیں ہوا ۔ جب ملک الموت اپنے پروردگار کی بارگاہ میں واپس گیا اور اسے حضرت موسیٰ ؑ کی طرف سے پیش آنے والی صورت حال کے بارے میں بتایا، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ یہ حکم دیا کہ دوسری مرتبہ اطلاع حاصل کرنے کےلئے اور آزمائش کےلئے جائے جیسا کہ ہم اس سے پہلے یہ بات ذکر کرچکے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے فرمایا تم اس سے کہو اگر تم چاہو ،تو اپنا ہاتھ بیل کی پشت پر رکھو ، تو تمہارے ہاتھ کے نیچے جتنے بھی بال آئیں گے ہر ایک بال کے عوض میں تمہیں ایک سال کی زندگی مل جائے گی جب حضرت موسیٰ ؑ کو اس بات کا پتہ چلا کہ یہ ملک الموت ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام لےکر آیا ہے ،تو حضرت موسیٰ ؑ ذہنی طور پر مرنے کےلئے تیار ہوگئے ۔ انہوں نے مزید مہلت نہیں مانگی ۔انہوں نے کہا :پھر ابھی ٹھیک ہے۔ اگر حضرت موسیٰؑ پہلی مرتبہ اسے پہچان لیتے کہ یہ موت کا فرشتہ ہے ،تو وہ وہی طرزِعمل اختیار کرتے جو دوسری مرتبہ اختیار کیا تھا، جب انہیں اس بارے میں یقین تھا۔ اس بارے میں علم بھی حاصل ہوچکا تھا۔ یہ بات اس شخص کے موقف کے خلاف ہے،جو یہ کہتاہے محدثین صرف لکڑیوں کا گٹھا اٹھاتےہیں ۔ وہ روایت کے وقت بکریاں چراتےہیں وہ ایسی چیز جمع کرتےہیں جس کے ذریعے انہیں فائدہ حاصل نہیں ہوتا اور ایسی چیز روایت کرتےہیں ،جس پر انہیں اجر نہیں دیا جائے گا اور وہ ایسے نظریات رکھتےہیں ، جو اسلام ، جنہیں باطل قرار دیتاہے یہ وہ شخص ہے ،جو احادیث کے معانی سے ناواقفیت کی وجہ سے اور روایات میں غور وفکر ترک کرنے کی وجہ سے (یہ نظریات رکھتاہے) اور یہ شخص اپنی کمزور رائے اور الٹے قیاس کی بنیاد پر یہ رائے رکھتاہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← ابْنِ طَاوُسٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6223

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6224

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَاءَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى مُوسَى لِيَقْبِضَ رُوحَهُ، فَقَالَ لَهُ: أَجِبْ رَبَّكَ، فَلَطَمَ مُوسَى عَيْنَ مَلَكِ الْمَوْتِ فَفَقَأَ عَيْنَهُ، فَرَجَعَ مَلَكُ الْمَوْتِ إِلَى رَبِّهِ، فَقَالَ: يَا رَبِّ أَرْسَلْتَنِي إِلَى عَبْدٍ لَا يُرِيدُ الْمَوْتَ، وَقَدْ فَقَأَ عَيْنِي، فَرَدَّ اللَّهُ [ص:117] عَلَيْهِ عَيْنَهُ، فَقَالَ لَهُ: ارْجِعْ إِلَيْهِ، فَقُلْ لَهُ: الْحَيَاةَ تُرِيدُ، فَإِنْ كُنْتَ تُرِيدُ الْحَيَاةَ فَضَعْ يَدَكَ عَلَى مَتْنِ ثَوْرٍ، فَإِنَّكَ تَعِيشُ بِكُلِّ شَعْرَةٍ وَارَتْ يَدُكَ سَنَةً، قَالَ: ثُمَّ مَهْ؟ قَالَ: الْمَوْتُ، قَالَ: فَالْآنَ مِنْ قَرِيبٍ، ثُمَّ قَالَ: رَبِّ، أَدْنِنِي مِنَ الْأَرْضِ الْمُقَدَّسَةِ رَمْيَةً بِحَجَرٍ» قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنِّي عِنْدَهُ لَأَرَيْتُكُمْ قَبْرَهُ إِلَى جَنْبِ الطَّرِيقِ عِنْدَ الْكَثِيبِ الْأَحْمَرِ». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: «هَذِهِ اللَّفْظَةُ» أَجِبْ رَبَّكَ «قَدْ تُوهِمُ مَنْ لَمْ يَتَبَحَّرْ فِي الْعِلْمِ أَنَّ التَّأْوِيلَ الَّذِي قُلْنَاهُ لِلْخَبَرِ مَدْخُولٌ، وَذَلِكَ فِي قَوْلِ مَلَكِ الْمَوْتِ لِمُوسَى» أَجِبْ رَبَّكَ «بَيَانٌ أَنَّهُ عَرَفَهُ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ لِأَنَّ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ لَمَّا شَالَ يَدَهُ وَلَطَمَهُ قَالَ لَهُ: » أَجِبْ رَبَّكَ «تَوَهَّمَ مُوسَى أَنَّهُ يَتَعَوَّذُ بِهَذِهِ اللَّفْظَةِ دُونَ أَنْ يَكُونَ رَسُولَ اللَّهِ إِلَيْهِ، فَكَانَ قَوْلُهُ: » أَجِبْ رَبَّكَ «الْكَشْفَ عَنْ قَصْدِ الْبِدَايَةِ فِي نَفْسِ الِابْتِلَاءِ، وَالِاخْتِبَارِ الَّذِي أُرِيدَ مِنْهُ»

حضرت ابوہریرہ ؓروایت کرتےہیں ،نبی اکرمﷺ نے ارشادفرمایا: "ملک الموت حضرت موسیٰ ؑ کے پاس آیا تاکہ ان کی روح قبض کرلے اس نے ان سے کہا آپ اپنے پروردگار کی دعوت کو قبول کیجئے ،تو حضرت موسیٰ ؑ نے ملک الموت کی آنکھ پر طمانچہ مارکر اس کی آنکھ پھوڑ دی ملک الموت اپنے پروردگاہ کی بارگاہ میں واپس گیا اور بولا :اے میرے پروردگار کیا ،تو نے مجھے ایک ایسے بندے کی طرف بھیجا ہے ، جو مرنا نہیں چاہتا اس نے میری آنکھ پھوڑدی ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اس کی آنکھ کو ٹھیک کردیا اور فرمایا تم اس کے پاس واپس جاؤ اور اس سے کہو کیا تم زندگی چاہتےہو اگر تم زندگی چاہتےہو ، تو اپنا ہاتھ کسی بیل کی پشت پر رکھو تمہارے ہاتھ کے نیچے جتنے بھی بال آئیں گے ہر ایک بال کےعوض میں ایک سال کی زندگی مل جائے گی ۔ (جب یہ بات حضرت موسیٰؑ کو بتائی گئی ) ،تو انہیں نے دریافت کیا پھر کیا ہوگا فرشتے نےکہا :پھر موت آجائےگی ،تو حضرت موسیٰؑ نے کہا(تو میں ابھی فوت ہوجاتاہوں )پھر حضرت موسیٰ ؑنے دعا کی :اے میرے پروردگار مجھے ارضِ مقدس کے اتنا قریب کردے جتنی دور کوئی پتھر جاکر گرتاہے۔ نبی اکرمﷺ فرماتےہیں :اگرمیں وہاں ہوتا ،تو میں تمہیں راستے کے ایک طرف سرخ ٹیلے کے پاس ان کی قبر دکھاتا۔ (امام ابن حبان ؒفرماتےہیں :)روایت کے یہ الفاظ "آپ اپنے پروردگار کی دعوت قبول کیجئے "یہ اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کرتےہیں جوعلم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا (اور وہ یہ سمجھتا ہے)کہ وہ تاویل جو ہم نے اس روایت کی بیان کی ہے وہ درست نہیں ہے۔ وہ اس وجہ سے ملک الموت نے یہ کہا تھا آپ اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے ۔یہ اس بات کا واضح بیان ہے کہ حضرت موسیٰؑ ملک الموت کو پہچان گئے تھے، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ جب حضرت موسیٰؑ نے اپنا ہاتھ پھیلا کر طمانچہ مار دیاتھا ۔اس وقت فرشتے نے ان سے کہا تھا اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے ۔ حضرت موسیٰؑ یہ سمجھے وہ ان الفاظ کے ذریعے پناہ مانگ رہاہے۔حضرت موسیٰؑ کو یہ اندازہ نہیں ہوا ۔ یہ اللہ تعا لیٰ کی طرف سے پیغام لے کر آیا ہے ،تو اس میں اس کا یہ کہنا : "اپنے پروردگار کے بلاوے کو قبول کیجئے"۔ یہ آزمائش اور اطلاع حاصل کرنے کے آغاز کے مقصد کو ظاہر کرتا ہے، جو اس کے ذریعے مراد لیاگیا ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6224

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ باب بدء الخلق · حديث 6232

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، [ص:124] عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ، فَإِذَا مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ وَأَشَدُّهُ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَرَأَيْتُ أَقْرَبَ النَّاسِ شَبَهًا صَاحِبَكُمْ، يَعْنِي نَفْسَهُ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ وَأَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ»

حضرت جاجرؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : "میرے سامنے انبیاء کو پیش کیا گیا ،تو حضرت موسیٰ ؑ ایسے شخص تھے جیسے ان کا تعلق شنودۂ قبیلے سے ہو پھر میں نے حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ کو دیکھا ،تو وہ عروہ بن مسعود کی شکل سے مشابہت رکھتے تھے پھر میں نے حضرت ابراہیم کو دیکھا تو وہ تمہارے آقا کے ساتھ مشابہت رکھتےتھے ۔(راوی کہتےہیں : نبی اکرمﷺ کی مراد آپ کی اپنی ذات تھی ) میں نے جبرائیل کو دیکھا ،تو ان کی شکل وصورت "وحیہ " جیسی تھی۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ [ص:318] ← اللَّيْثُ ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › The door to start creation · Hadith 6232

صیح ابن حبان · کتاب النکاح ‹ بَابُ مُعَاشَرَةِ الزَّوْجَيْنِ · حديث 4169

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزِ الطَّعَامُ، وَلَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا»

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " اگر بنی اسرائیل نے کھانے کو جمع نہ کیا ہوتا تو کھانا گوشت بد بو دار نہ ہوتا اور اگر سیّدہ حوا رضی اللہ عنہا نے (وہ حرکت نہ کی ہوتی) تو کوئی عورت اپنے شوہر کے ساتھ خیانت نہ کرتی"۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ، ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Marriage Book › Chapter of spouses cohabitation · Hadith 4169

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6476

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، بِخَبَرٍ غَرِيبٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو هُنَيْدَةَ الْبَرَاءُ بْنُ نَوْفَلٍ، عَنْ وَالَانَ الْعَدَوِيِّ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ، فَصَلَّى الْغَدَاةَ، ثُمَّ جَلَسَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الضُّحَى ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجَلَسَ مَكَانَهُ حَتَّى صَلَّى الْأُولَى وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ كُلُّ ذَلِكَ لَا يَتَكَلَّمُ، حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى أَهْلِهِ، فَقَالَ النَّاسُ لِأَبِي بَكْرٍ: سَلْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَأْنُهُ؟ صَنَعَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ يَصْنَعْهُ قَطُّ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: «نَعَمْ، عُرِضَ عَلَيَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، فَجُمِعَ الْأَوَّلُونَ وَالْآخَرُونَ بِصَعِيدٍ وَاحِدٍ حَتَّى انْطَلِقُوا إِلَى آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَالْعَرَقُ يَكَادُ يُلْجِمُهُمْ، فَقَالُوا: يَا آدَمُ أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ اصْطَفَاكَ اللَّهُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَقَالَ: لَقَدْ لَقِيتُ مِثْلَ الَّذِي لَقِيتُمْ، فَانْطَلِقُوا إِلَى أَبِيكُمْ بَعْدَ أَبِيكُمْ، إِلَى نُوحٍ {إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ} [آل عمران: 33]، فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى نُوحٍ، فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَإِنَّهُ اصْطَفَاكَ اللَّهُ، وَاسْتَجَابَ لَكَ فِي دُعَائِكَ، فَلَمْ يَدَعْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا، فَيَقُولُ: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، فَانْطَلِقُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ، فَإِنَّ اللَّهَ اتَّخَذَهُ خَلِيلًا، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ، فَيَقُولُ: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، فَانْطَلِقُوا إِلَى مُوسَى، فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ كَلَّمَهُ [ص:394] تَكْلِيمًا، فَيَقُولُ مُوسَى: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، وَلَكِنِ انْطَلِقُوا إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ، فَإِنَّهُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ، وَالْأَبْرَصَ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى، فَيَقُولُ عِيسَى: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، وَلَكِنِ انْطَلِقُوا إِلَى سَيِّدِ وَلَدِ آدَمَ، فَإِنَّهُ أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، انْطَلِقُوا إِلَى مُحَمَّدٍ، فَلْيَشْفَعْ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ. قَالَ: فَيَنْطَلِقُونَ وَآتِي جِبْرِيلَ، فَيَأْتِي جِبْرِيلُ رَبَّهُ، فَيَقُولُ اللَّهُ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ. قَالَ: فَيَنْطَلِقُ بِهِ جِبْرِيلُ، فَيَ خِرُّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَإِذَا نَظَرَ إِلَى رَبِّهِ خَرَّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ أُخْرَى، فَيَقُولُ اللَّهُ: يَا مُحَمَّدُ ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَيَذْهَبُ لِيَقَعَ سَاجِدًا، فَيَأْخُذُ جِبْرِيلُ بِضَبْعَيْهِ، وَيَفْتَحُ اللَّهُ عَلَيْهِ مِنَ الدُّعَاءِ شَيْئًا لَمْ يَفْتَحْهُ عَلَى بَشَرٍ قَطُّ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ جَعَلْتَنِي سَيِّدَ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ، وَأَيْلَةَ. ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُ الصِّدِّيقِينَ فَيَشْفَعُونَ، ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُ الْأَنْبِيَاءَ فَيَجِيءُ النَّبِيُّ مَعَهُ الْعِصَابَةُ، وَالنَّبِيُّ مَعَهُ الْخَمْسَةُ وَالسِّتَّةُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، [ص:395] ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُ الشُّهَدَاءَ فَيَشْفَعُونَ لِمَنْ أَرَادُوا، فَإِذَا فَعَلَتِ الشُّهَدَاءُ ذَلِكَ يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا: أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، أَدْخِلُوا جَنَّتِي مَنْ كَانَ لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: انْظُرُوا فِي النَّارِ هَلْ فِيهَا مِنْ أَحَدٍ عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ، فَيَجِدُونَ فِي النَّارِ رَجُلًا، فَيُقَالُ لَهُ: هَلْ عَمِلْتُ خَيْرًا قَطُّ، فَيَقُولُ: لَا غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُسَامِحُ النَّاسَ فِي الْبَيْعِ، فَيَقُولُ اللَّهُ: اسْمَحُوا لِعَبْدِي كَإِسْمَاحِهِ إِلَى عَبِيدِي، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ آخَرُ يُقَالُ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ، فَيَقُولُ: لَا، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أَمَرْتُ وَلَدِي، إِذَا مِتُّ فَاحْرِقُونِي فِي النَّارِ، ثُمَّ اطْحَنُونِي، حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِثْلَ الْكُحْلِ، فَاذْهَبُوا بِي إِلَى الْبَحْرِ، فَذُرُّونِي فِي الرِّيحِ، فَقَالَ اللَّهُ: لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ مَخَافَتِكَ، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى مُلْكٍ أَعْظَمِ مُلْكٍ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَهُ وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ، فَيَقُولُ: لِمَ تَسْخَرُ بِي، وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟ فَذَلِكَ الَّذِي ضَحِكْتُ مِنْهُ مِنَ الضُّحَى». قَالَ إِسْحَاقُ: هَذَا مِنْ أَشْرَفِ الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثُ عِدَّةٌ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا، مِنْهُمْ: حُذَيْفَةُ، وَابْنُ مَسْعُودٍ، وَأَبُو هُرَيْرَةَ، وَغَيْرُهُمْ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو خَلِيفَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، [ص:397] حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو هُنَيْدَةَ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ

حضرت حذیفہ بن یمان ؓ حضرت ابوبکرصدیقؓ کا یہ بیان نقل کرتےہیں ۔ ایک دن نبی اکرمﷺ نے صبح کے وقت فجر کی نماز ادا کی ، پھر آپ ﷺ تشریف فرما ہوئے ۔ جب چاشت کا وقت ہوا ، تو نبی اکرمﷺ مسکرا دئیے ، پھر آپﷺ اپنی جگہ پر تشریف فرما رہے ، یہاں تک کہ آپﷺ نے ظہر ، عصر ، مغرب او رعشا ء کی نماز نماز یں ادا کر لیں ۔ اس دوران آپﷺ نے کسی کے ساتھ بات چیت نہیں کی ، یہاں تک کہ آپﷺ نے عشاء کی نماز نماز ادا کر لی ، پھر آپ ﷺ اپنے گھر تشریف لے گئے ۔ لوگوں نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا آپ اللہ کے رسول سے دریافت کریں کیا معاملہ ہے آج آپﷺ نے ایسا طرز عمل اختیار کیا ہے کہ ایسا پہلے کبھی نہیں کیا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے نبی اکرمﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: جی ہاں میرے سامنے وہ تمام چیزیں پیش کی گئیں جو دنیا اور آخرت کے اعتبار سے آگے ہوں گی تمام پہلے اور بعد والے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا جائے ، یہاں تک کہ وہ لوگ حضرت آدمؑ کے پاس جائیں گے وہ لوگ پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے وہ یہ کہیں گے اے حضرت آدمؑ آپ انسانوں کے جدا اجد ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منتخب کیا ۔ اپنے پروردگار کی بار گاہ میں ہماری شفاعت کیجئے ، تو حضرت آدمؑ یہ کہیں گے مجھے بھی اسی طرح کی صورتحال درپیش ہے ، جو تم کو درپیش ہے ۔ تم لوگ اپنے ایک باپ کے بعد والے دوسرے باپ( یعنی حضرت نوح ؑ کی طرف جاؤ کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے )

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6476

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6489

أَخْبَرَنَا مُظْهِرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَابِتٍ، بِوَاسِطَ الشَّيْخُ الصَّالِحُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَمْ يَتَكَلَّمْ فِي الْمَهْدِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ: عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَصَاحِبُ جُرَيْجٍ كَانَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: جُرَيْجٌ، فَأَنْشَأَ صَوْمَعَةً، فَجَعَلَ يَعْبُدُ اللَّهَ فِيهَا فَأَتَتْهُ أُمُّهُ ذَاتَ يَوْمٍ، فَنَادَتْهُ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا، ثُمَّ أَتَتْهُ يَوْمًا ثَانِيًا فَنَادَتْهُ فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا، ثُمَّ أَتَتْهُ يَوْمًا ثَالِثًا، فَقَالَ: صَلَاتِي وَأُمِّي، فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُ أَوْ يَنْظُرَ فِي وُجُوهِ الْمُومِسَاتِ، قَالَ: فَتَذَاكَرَ بَنُو إِسْرَائِيلَ يَوْمًا جُرَيْجًا، فَقَالَتْ بَغِيٌّ مِنْ بَغَايَا بَنِي [ص:412] إِسْرَائِيلَ: إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَفْتِنَهُ فَتَنْتُهُ، قَالُوا: قَدْ شِئْنَا، قَالَ: فَانْطَلَقَتْ فَتَعَرَّضَتْ لِجُرَيْجٍ، فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهَا، فَأَتَتْ رَاعِيًا كَانَ يَأْوِي إِلَى صَوْمَعَةِ جُرَيْجٍ بِغَنَمِهِ فَأَمْكَنَتْهُ نَفْسَهَا فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا، فَقَالَتْ: هُوَ مِنْ جُرَيْجٍ، فَوَثَبَ عَلَيْهِ قَوْمٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَضَرَبُوهُ، وَشَتَمُوهُ، وَهَدُّوا صَوْمَعَتَهُ، فَقَالَ لَهُمْ: مَا شَأْنُكُمْ؟ قَالُوا: زَنَيْتَ بِهَذِهِ الْبَغِيِّ، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، قَالَ: وَأَيْنَ الْغُلَامُ؟ قَالُوا: هُوَ ذَا. قَالَ: فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَتَى الْغُلَامَ فَضَرَبَهُ بِإِصْبَعِهِ، فَقَالَ لَهُ: يَا غُلَامُ، مَنْ أَبُوكَ؟ قَالَ: فُلَانٌ الرَّاعِي، قَالَ: فَوَثَبُوا يُقَبِّلُونَ رَأْسَهُ، قَالُوا لَهُ: نَبْنِي صَوْمَعَتَكَ مِنْ ذَهَبٍ، فَقَالَ: لَا حَاجَةَ لِي فِي ذَلِكَ ابْنُوهَا مِنْ طِينِ كَمَا كَانَتْ، قَالَ: وَبَيْنَمَا امْرَأَةٌ فِي حِجْرِهَا ابْنٌ تُرْضِعُهُ إِذْ مَرَّ بِهَا رَاكِبٌ، فَقَالَتِ: اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا الرَّاكِبِ، فَتَرَكَ الصَّبِيُّ ثَدْيَ أُمِّهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الرَّاكِبِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَ هَذَا الرَّاكِبِ، ثُمَّ مَرَّ بِامْرَأَةٍ تُرْجَمُ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذِهِ الْأُمَّةِ فَتَرَكَ الصَّبِيُّ أُمَّهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْأُمَّةِ يَنْظُرُ إِلَيْهَا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَ هَذِهِ الْأَمَةِ، فَقَالَتِ: الْمَرْأَةُ يَا بُنَيَّ مَرَّ رَاكِبٌ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ اجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذَا الرَّاكِبِ، فَقُلْتَ: اللَّهُمَّ، لَا تَجْعَلْنِي مِثْلَهُ، وَمَرَرْتُ بِهَذِهِ الْأَمَةِ تُرْجَمُ، فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلِ ابْنِي مِثْلَ هَذِهِ الْأَمَةِ، فَقُلْتَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِثْلَهَا، قَالَ: يَا أُمَّاهْ إِنَّ الرَّاكِبَ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْأَمَةَ [ص:413] يَقُولُونَ: سَرَقَتْ وَلَمْ تَسْرِقْ، وَيَقُولُونَ: زَنَتْ وَلَمْ تَزْنِ، وَهِيَ تَقُولُ: حَسْبِيَ اللَّهُ»

حضرت ابوہریرہؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : " ایک مرتبہ ایک عورت اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی ۔ اس کے دودھ پلانے کے دوران ایک سوار اس کے پاس سے گزرا ۔ اس عورت نے دعا کی : اے اللہ ، تو میرے بیٹے کو اس وقت تک موت نہ دینا ، جب تک وہ اس شخص کی مانند ( امیر کبیر ) نہیں ہو جاتا ۔ بچے نے کہا: اے اللہ مجھے اس کی مانند نہ کرنا پھر وہ دوبارہ چھاتی کی طرف گیا ( اور دودھ پینے لگا ) پھر وہاں سے ایک عورت گزری جس پر لعنت کی گئی تھی ۔ اس عورت نے دعا کی : اے اللہ ، تو میرے بیٹے کو اس عورت کی مانند نہ کرنا ، تو اس بچے نے دعا کی ، تو مجھے اس کی مانند کر دینا ۔ جہاں تک سوار کا معاملہ تھا ، تو وہ شخص کافر تھا ۔ جہاں تک اس عورت کا معاملہ تھا ، تو لوگوں نے اس کے بارے میں یہ کہا تھا کہ اس نے زنا کیا ہے ، تو وہ عورت یہ کہہ رہی تھی میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ۔ لوگ یہ کہتے تھے کہ اس نے چوری کی ہے ، تو وہ عورت یہ کہتی تھی کہ میرے لیے اللہ ہی کافی ہے ۔"

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدُ ابْنُ سِيرِينَ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ النَّاقِدُ، ← مُظْهِرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَابِتٍ، بِوَاسِطَ الشَّيْخُ الصَّالِحُ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6489

صیح ابن حبان · کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ ‹ کِتَابُ الزِّینَۃِ وَالتَّطْیِیبِ · حديث 5512

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ، عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ تَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعْرٍ كَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُكُمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ: «إِنَّمَا هَلَكَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حَيْثُ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ»

حمید عبد الرحمٰن بیان کرتے ہیں: انہوں نے حج کے موقع پر حضرت معاویہ ؓ کو منبر پر سنا ۔ انہوں نے ایک سپاہی کے ہاتھ سے بالوں کا گچھالیا اور بولے: اے اہل مدینہ تمہارے عالم کہاں ہیں۔ میں نے نبی اکرمﷺ کو اس کی مثل ( کو استعمال کر نے ) سے منع کرتے ہوئے سنا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشا د فرمایا: بنی اسرائیل اس وقت ہلاکت کا شکار ہوئے تھے جب ان کی خواتین نے اسے استعمال کرنا شروع کیا تھا۔

حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَنْصَارِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zinning and Perfection › The Book of Zinning and Perfection · Hadith 5512

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6702

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سِنَانَ بْنَ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيَّ، وَهُمْ حُلَفَاءُ بَنِي الدِّيلِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ، يَقُولُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ مَكَّةَ خَرَجَ بِنَا مَعَهُ قِبَلَ هَوَازِنَ، حَتَّى مَرَرْنَا عَلَى سِدْرَةِ الْكُفَّارِ، سِدْرَةٌ يَعْكِفُونَ حَوْلَهَا وَيَدْعُونَهَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْ لَنَا ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لَهُمْ ذَاتُ أَنْوَاطٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ، إِنَّهَا السُّنَنُ هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى {اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةٌ، قَالَ إِنَّكُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُونَ} [الأعراف: 138]، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: » إِنَّكُمْ لَتَرْكَبُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ «

حضرت ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں ۔ وہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے مکہ فتح کر لیا تو آپ ہمیں ساتھ لے کر ہوازن کی طرف روانہ ہوئے ' یہاں تک کہ جب ہم کفار کے بیری کے درخت کے پاس سےگزرے یہ وہ بیری کا درخت تھا جس کے اردگرد لوگ اعتکاف کیا کرتے تھے وہ لوگ اسے ذات انواط کہتے تھے تو ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ہمارے لئے بھی کوئی ذات انواط مقرر کر دیں جس طرح کفار کا ذات انواط ہے تو نبی اکرم نے ارشاد فرمایا: اللہ اکبر! یہ تو وہی ہو گیا جس طرح بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا تھا ۔ ''آپ ہمارے لئے بھی کوئی مبعود بنا دیں جس طرح ان لوگوں کا مبعود ہے ۔ حضرت موسیٰ ؑ نے کہا تھا : تم لوگ ایک ایسی قوم ہو جو جاہل ہو۔'' پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقے پر ضرور عمل کرو گے۔

أَبَا وَاقِدٍ اللَّيْثِيَّ ← أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سِنَانَ بْنَ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيَّ، وَهُمْ حُلَفَاءُ بَنِي الدِّيلِ ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6702

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الصَّوْمِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1534

1534 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا إِبَّانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، عَنِ الْحَارِثِ الْأَشْعَرِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَى يَحْيَى بْنِ زَكَرِيَّا عَلَيْهِمَا السَّلَامُ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنَّ يَعْمَلَ بِهِنَّ، وَيَأْمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ، وَكَأَنَّهُ أَبْطَأَ بِهِنَّ، فَأَتَاهُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَكَ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ تَعْمَلَ بِهِنَّ، وَتَأْمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ، فَإِمَّا أَنْ تُخْبِرَهُمْ، وَإِمَّا أَنْ أُخْبِرَهُمْ، قَالَ: يَا أَخِي لَا تَفْعَلْ فَإِنِّي أَخَافُ إِنْ سَبَقْتَنِي بِهِنَّ أَنْ يُخْسَفَ بِي وَأُعَذَّبَ. قَالَ: فَجَمَعَ بَنِي إِسْرَائِيلَ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ حَتَّى امْتَلَأَ الْمَسْجِدُ، وَقَعَدُوا عَلَى الشُّرُفَاتِ ثُمَّ خَطَبَهُمْ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَيَّ بِخَمْسِ كَلِمَاتٍ أَنْ أَعْمَلَ بِهِنَّ، وآمُرَ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ يَعْمَلُوا بِهِنَّ: أُولَاهُنَّ أَنْ لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، فَإِنَّ مَثَلَ مَنْ أَشْرَكَ بِاللَّهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ اشْتَرَى عَبْدًا مِنْ خَالِصِ مَالِهِ بِذَهَبٍ، أَوْ وَرِقٍ، ثُمَّ أَسْكَنَهُ دَارًا، فَقَالَ: اعْمَلْ، وَارْفَعْ، إِلَيَّ فَجَعَلَ يَعْمَلُ وَيَرْفَعُ إِلَى غَيْرِ سَيِّدِهِ، فَأَيُّكُمْ يَرْضَى أَنْ يَكُونَ عَبْدُهُ كَذَلِكَ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَكُمْ وَرَزَقَكُمْ فَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلَا تَلْتَفِتُوا، فَإِنَّ اللَّهَ يُقْبِلُ بِوَجْهِهِ إِلَى وَجْهِ عَبْدِهِ مَا لَمْ يَلْتَفِتْ، وَأَمَرَكُمْ بِالصِّيَامِ وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ فِي عِصَابَةٍ مَعَهُ صُرَّةُ مِسْكٍ، كُلُّهُمْ يُحِبُّ أَنْ يَجِدَ رِيحَهَا، وَإِنَّ رِيحَ الصِّيَامِ كَرِيحِ الْمِسْكِ، وَأَمَرَكُمْ بِالصَّدَقَةِ وَمَثَلُ ذَلِكَ كَمَثَلِ رَجُلٍ أَسَرَهُ الْعَدُوُّ، فَأَوْثَقُوا يَدَهُ إِلَى عُنُقِهِ وَقَرَّبُوهُ لِيَضْرِبُوا عُنُقَهُ فَجَعَلَ يَقُولُ: هَلْ لَكُمْ أَنْ أَفْدِيَ نَفْسِي مِنْكُمْ، وَجَعَلَ يُعْطِي الْقَلِيلَ، وَالْكَثِيرَ حَتَّى فَدَى نَفْسَهُ، وَأَمَرَكُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ كَثِيرًا، وَمَثَلُ ذِكْرِ اللَّهِ كَمَثَلِ رَجُلٍ طَلَبَهُ الْعَدُوُّ سِرَاعًا فِي أَثَرِهِ حَتَّى أَتَى حِصْنًا حَصِينًا، فَأَحْرَزَ نَفْسَهُ فِيهِ، وَكَذَلِكَ الْعَبْدُ لَا يَنْجُو مِنَ الشَّيْطَانِ إِلَّا بِذِكْرِ اللَّهِ " قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا آمُرُكُمْ بِخَمْسٍ أَمَرَنِي اللَّهُ بِهِنَّ: الْجَمَاعَةُ، وَالسَّمْعُ، وَالطَّاعَةُ، وَالْهِجْرَةُ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ قِيدَ شِبْرٍ فَقَدْ خَلَعَ رِبْقَةَ الْإِسْلَامِ مِنْ عُنُقِهِ، أَوْ مِنْ رَأْسِهِ إِلَّا أَنْ يُرَاجِعَ، وَمَنِ ادَّعَى دَعْوَى جَاهِلِيَّةً فَهُوَ مِنْ جُثَاءِ جَهَنَّمَ " قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى، قَالَ: «وَإِنَّ صَامَ وَصَلَّى، وَيُدْعَى بِدَعْوَى اللَّهِ الَّتِي سَمَّاكُمْ بِهَا الْمُؤْمِنِينَ، الْمُسْلِمِينَ عِبَادَ اللَّهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

حضرت حارث اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا: اللہ تعالی نے یحیٰ بن زکر یا علیہ السلام کی طرف ۵کلمات وحی کئے تا کہ ان پرعمل کیا جائے اور بنی اسرائیل کو اس پرعمل کر نے کا حکم دے ۔لیکن انہوں نے ان پرعمل کر نے میں سستی کی ۔ان کے پاس حضرت عیسی علیہ السلام تشریف لائے اور کہا: اللہ تعالی نے تمہیں پانچ کلمات پر عمل کرنے کا حکم دیا تھا اور بنی اسرائیل کوبھی ان پر عمل کر نے کا حکم دیا ۔ اب یا تو آپ ان کوخبر دے دیں یا میں دیتا ہوں ۔ حضرت یحیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: اے بھائی! ایامت کرو کیونکہ اگر آپ ان میں مجھ سے سبقت لے گئے تو مجھے خوف ہے کہ مجھے عذاب دیا جائے گا ۔ ( رسول اللہ ﷺ ) نے فرمایا: پھر حضرت یحیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بیت المقدس میں جمع کیا یہاں تک کہ ساری مسجد بھرگئی اور لوگ میناروں پر چڑھ گئے ، پھر انہوں نے بنی اسرائیل کوخطبہ دیا اورفرمایا: اللہ تعالی نے میری طرف پانچ کلمات وحی کئے ہیں تا کہ میں ان پر عمل کروں اوربنی اسرائیل کوان پر عمل کر نے کاحکم دوں ۔ ان میں سے پہلی بات یہ ہے کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ اور جوشخص اللہ کے ساتھ کسی کوشر یک ٹھہرا تا ہے اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس نے اپنے خالص سونے اور چاندی کے مال سے غلام خریدا: پھر اس کو ایک گھر میں ٹھہرایا اور کہا: تم عمل کر کے میرے قریب آتے رہولیکن و شخص اپنے آقا کو چھوڑ کر کسی اور کے لئے عمل کرے اور اس کے قریب ہوتا ر ہے ۔ تو تم میں سے کون شخص یہ بات پسند کرتا ہے کہ اس کا غلام ایسا ہو؟ اللہ تعالی نے تمہیں پیدا کیا اورتمہیں رزق دیا ، اس لئے تم اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ ۔ اور جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوتو ادھر ادھر متوجہ نہ ہو۔ اللہ تعالی اپنے بندے کی طرف اس وقت تک متوجہ رہتا ہے، جب تک آ دمی خودا پنی تو جہ نہ ہٹائےاوراللہ تعالی نے تجھے روزے کا حکم دیا ہے اور اس کی مثال اس جیسی ہے کہ کوئی شخص لوگوں کی ایک جماعت میں ہو، اس کے پاس مشک کی ایک تھیلی ہواور سب لوگ اس کی خوشبو حاصل کر نے کی آرزور کھتے ہوں اور روزے کی خوشبومشک کی خوشبوجیسی ہے ۔ اور اس نے تمہیں صدقہ کا حکم دیا ہے اور اس کی مثال ایسے ہے جیسے کہ کسی شخص کو دشمن پکڑ لیں اوراس کے ہاتھ گردن پہ باند ھ دیں اور بالکل اس کی گردن مارنے ہی لگے ہوں کہ وہ کہنے لگ جائے کیا تمہارے پاس یہ گنجائش ہے کہ میں تمہیں جان کا کوئی فد یہ دے دوں پھر وہ چھوٹی بڑی سب چیز یں دینا شروع کر دے یہاں تک کہ اس کی جان کا فد یہ ہو جائے ۔ اور اللہ نے تمہیں حکم دیا کہ اس کا کثرت سے ذکر کرو۔ اور اللہ کے ذکر کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کسی شخص کو اس کا دشمن ڈھونڈ تے ہوئے اس کے قدموں کے نشانات پر بہت تیزی سے آرہاہو یہاں تک کہ وہ ایک مضبوط قلعے میں پہنچ جائے اورا پنی جان بچائے ۔اسی طرح بندہ اللہ کے ذکر کے ساتھ ہی شیطان سے بچ سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور میں بھی تمہیں ۵ چیزوں کا حکم دیتا ہوں جن کا اللہ تعالی نے بھی حکم دیا ہے: ( ۱ ) جماعت ( ۲ )غور سے سننا( ۳ ) فرمانبرداری( ۴ ) ہجرت ( ۵ ) جہاد فی سبیل اللہ ۔

الْحَارِثُ الْأَشْعَرِيُّ؛ ← أَبِي سَلَّامٍ ← زَیْدِ بْنِ سَلَّامٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ← أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ← بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ القَاضِي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Fasting › Insurance section · Hadith 1534

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الدُّعَاءِ، وَالتَّكْبِيرِ، وَالتَّهْلِيلِ، وَالتَّسْبِيحِ وَالذِّكْرِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1936

1936 - أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ حَدَّثَهُمْ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا رَبِّ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَذْكُرُكَ بِهِ وَأَدْعُوكَ بِهِ، قَالَ: يَا مُوسَى قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: يَا رَبِّ كُلُّ عِبَادِكَ، يَقُولُ هَذَا، قَالَ: قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ يَا رَبُّ، إِنَّمَا أُرِيدُ شَيْئًا تُخُصُّنِي بِهِ، قَالَ: يَا مُوسَى لَوْ كَانَ السَّمَاوَاتُ السَّبْعُ، وَعَامِرُهُنَّ غَيْرِي، وَالْأَرَضِينَ السَّبْعُ فِي كِفَّةٍ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ مَالَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : یا اللہ ! مجھےکوئی ایسی چیز سیکھادے جس کے ساتھ میں تیرا ذکر کروں اور تجھ سے دعا مانگو( اللہ تعالی نے) فرمایا : اے موسیٰ! ( یوں) کہو: اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ۔ ( موسیٰ علیہ السلام نے )کہا یا اللہ ! یہ تو تیرے تمام بندے پڑھتے ہیں ( میں چاہتا ہوں کہ مجھے کوئی ایسی بات بتا جو صرف میرے لئے ہو،اللہ تعالی نے فرمایا) اے موسی ٰ! اگر تمام آسمانوں اور ان کے رہنے والے اور ساتوں زمین ایک پلڑے میں رکھی جائیں اور ’’لا الہ الا اللہ‘‘دوسرے میں تو’’لا اله الا اللہ‘‘ والا پلڑا بھاری ہوگا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔

لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ يَا رَبِّ إِنَّمَا أُرِيدُ شَيْئًا تَخُصُّنِي بِهِ ← قل: لَا إِلَه إِلَّا الله، ← ھَذَا ← يَا رَبِّ كُلُّ عِبَادِكَ ← يَا مُوسَى قُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ← مُوسَى: يَا رَبِّ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَذْكُرُكَ بِهِ، وَأَدْعُوكَ بِهِ، ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْهَيْثَمِ، ← دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ الْمِصْرِيُّ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أبو النضر محمد بن يوسف الفقيه

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of supplication, takbeer, exultation, praise and remembrance › Insurance section · Hadith 1936

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 20

20 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ بِهَمْدَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ، يُحَدِّثُ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيُّ، قَالَ: قَالَ يَهُودِيٌّ لِصَاحِبِهِ: اذْهَبْ بِنَا إِلَى هَذَا النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْأَلَهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ {وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَى تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ} [الإسراء: 101] فَقَالَ: لَا تَقُولُوا لَهُ نَبِيٌّ، فَإِنَّهُ لَوْ سَمِعَكَ لَصَارَتْ لَهُ أَرْبَعَةُ أَعْيُنٍ، قَالَ: فَسَأَلَاهُ، فَقَالَ: «لَا تُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا تَسْرِقُوا، وَلَا تَزْنُوا، وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا تَسْحَرُوا، وَلَا تَأْكُلُوا الرِّبَا، وَلَا تَمْشُوا بِبَرِيءٍ إِلَى ذِي سُلْطَانٍ لِيَقْتُلَهُ، وَلَا تَقْذِفُوا مُحْصَنَةً، وَأَنْتُمْ يَا يَهُودُ عَلَيْكُمْ خَاصَّةً أَلَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ» فَقَبَّلَا يَدَهُ وَرِجْلَهُ، وَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ، فَقَالَ: «مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُسْلِمَا؟» قَالَا: إِنَّ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَامُ دَعَا أَنْ لَا يَزَالَ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ نَبِيٌّ، وَإِنَّا نَخْشَى أَنْ يَقْتُلَنَا يَهُودُ " هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ لَا نَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً بِوَجْهٍ مِنَ الْوُجُوهِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَا ذَكَرَ الصَّفْوَانُ بْنُ عَسَّالٍ حَدِيثًا وَاحِدًا سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ الْحَافِظَ، وَيَسْأَلَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: لِمَ تَرَكَا حَدِيثَ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ أَصْلًا؟ فَقَالَ: لِفَسَادِ الطَّرِيقِ إِلَيْهِ ". قَالَ الْحَاكِمُ: " إِنَّمَا أَرَادَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بِهَذَا حَدِيثَ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ فَإِنَّهُمَا تَرَكَا عَاصِمَ بْنَ بَهْدَلَةَ، فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ وَيُقَالُ: الْهَمْدَانِيُّ وَكُنْيَتُهُ أَبُو الْعَالِيَةِ، فَإِنَّهُ مِنْ كِبَارِ أَصْحَابِ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللَّهِ «. وَقَدْ رَوَى عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَغَيْرِهِمَا مِنَ الصَّحَابَةِ،» وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَبُو الزُّبَيْرِ الْمَكِّيُّ وَجَمَاعَةٌ مِنَ التَّابِعِينَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 20 - صحيح لا نعرف له علة

حضرت صفوان بن عسال المرادی ؓ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا: میرے ساتھ اس نبی کے پاس چلو، ہم اس آیت ولقذاتينا موسیٰ تسع آيات بينات "اور بیشک ہم نے موسیٰ کو روشن نشانیاں دیں‘‘ کے متعلق سوالات کرتے ہیں ۔ اس یہودی نے کہا: اس کو"نبی‘‘ نہ ہو کہ اگر اس نے تیری یہ بات سن لی تو اس کی آنکھیں چار ہوجائیں گی۔(صفوان کہتے ہیں) ان دونوں نے نبی پاک ﷺسے اس آیت کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے جواباً فر مایا:وہ ۹ نشانیاں یہ ہیں (1) شرک نہ کرو (۲) چوری نہ کرو (۳) زنا نہ کرو (۴) ناحق قتل نہ کرو (۵) جادو نہ کرو (۶) سود نہ کھاؤ (۷) کسی بے گناہ کو مروانے کے لئے بادشاہ کے پاس اس کی شکایت نہ کرو(۸) کسی پاک دامن عورت پر تہمت نہ لگا و(۹) (اور آپﷺنے فرمایا) : اے یہودیو!(یہ نواں حکم ) خاص طور پر تمہارے لئے ہے کہ ہفتے کے دن کے معاملہ میں حد سے تجاوز نہ کرو ( آپ ﷺکی آیت سے متعلق اس قدر واضح تشریح سن کر انہوں نے آپ ﷺکے ہاتھوں اور پاؤں کو بوسہ دیا اور کہنے لگے : ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں۔ آپﷺنے پوچھا: تو پھرتم اسلام قبول کیوں نہیں کر لیتے ؟ انہوں نے جواب دیا: حضرت داؤد علیہ السلام نے یہ دعا کی تھی کہ (یا الله ) نبی ہمیشہ میری اولاد میں بھیجنا اور ہمیں یہ ڈر ہے کہ (اگر ہم مسلمان ہو گئے تو) یہودی ہمیں مار ڈالیں گے۔ یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کوئی علت نہیں ہے اورشیخین ؒنے اسے نقل نہیں کیا بلکہ انہوں نے تو صفوان بن عسال کا کسی حیثیت سے ذکر تک نہیں کیا محمد بن عبد اللہ نے ابو عبد اللہ محمد بن یعقوب الحافظ سے پوچھا کہ شیخین ؒ کے صفوان بن عسال کی روایت نقل نہ کرنے کی وجہ کیا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ان تک سلسلہ سند ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے۔

صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن الأسدي ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 20

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7341

7341 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ، ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثَنَا عَوْنٌ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا بَنُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَخْنَزِ اللَّحْمُ، وَلَوْلَا حَوَّاءُ لَمْ تَخُنْ أُنْثَى زَوْجَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7341 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر بنی اسرائیل نہ ہوتے تو گوشت خراب نہ ہوتا ، اور اگر حضرت حوا ء نہ ہوتیں تو کوئی عورت اپنے شوہر سے خیانت نہ کرتی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← عَوْنٌ ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Righteousness and Prayer › The merits of all Arabs · Hadith 7341

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْمَائِدَةِ · حديث 3218

3218 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَذَكَرُوا {وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ} [المائدة: 44] فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ هَذَا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: «نِعْمَ الْإِخْوَةُ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِنْ كَانَ لَكُمُ الْحُلْوُ وَلَهُمُ الْمُرُّ، كَلَّا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ حَتَّى تَحْذُوا السُّنَّةَ بِالسُّنَّةِ حَذْوَ الْقُذَّةَ بِالْقُذَّةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3218 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ہما م فرماتے ہیں : ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے تو لوگوں سے اس آیت کا ذکر کیا : وَمَن لَّمۡ يَحۡكُم بِمَآ أَنزَلَ ٱللَّهُ فَأُوْلَٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡكَٰفِرُونَ(المائدہ:44)" اور جو اللہ کے اتارے پر حکم نہ کرے وہی لوگ کافر ہیں " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ )تو ایک شخص نے کہا : یہ حکم تو بنی اسرائیل کے متعلق ہے تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بولے : جی ہاں ۔ بھائی تو بنی اسرائیل ہی ہیں ۔ اگر تمہارے لئے میٹھا اور ان کے لئے کڑوا ہو ، ہر گز نہیں ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے(تم ان کے برابر ہو گے ) حتی کہ بالکل انہیں کے طریقوں پر عمل کرو گے اور قدم بقدم ، ہوبہوبالکل انہی جیسےہو جاؤ گے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ هَذَا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ ← كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ فَذَكَرُوا ← هَمَّامٌ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ جَرِيرٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Maida · Hadith 3218

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْأَعْرَافِ · حديث 3255

3255 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَاهَانَ، عَنِ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ} إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى {أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ} [الأعراف: 173] قَالَ: " جَمَعَهُمْ لَهُ يَوْمَئِذٍ جَمِيعًا مَا هُوَ كَائِنٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَجَعَلَهُمْ أَرْوَاحًا، ثُمَّ صَوَّرَهُمْ، وَاسْتَنْطَقَهُمْ، فَتَكَلَّمُوا، وَأَخَذَ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ، وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ، أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ؟ قَالُوا: بَلَى شَهِدْنَا أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ، أَوْ تَقُولُوا إِنَّمَا أَشْرَكَ آبَاؤُنَا مِنْ قَبْلُ، وَكُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ، أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ، قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُ عَلَيْكُمُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ، وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ نَعْلَمْ، أَوْ تَقُولُوا إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِينَ، فَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئًا، فَإِنِّي أُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلِي، يُذَكِّرُونَكُمْ عَهْدِي وَمِيثَاقِي، وَأُنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي، فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ رَبُّنَا، وَإِلَهُنَا لَا رَبَّ لَنَا غَيْرُكَ، وَلَا إِلَهَ لَنَا غَيْرُكَ، وَرَفَعَ لَهُمْ أَبُوهُمْ آدَمَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ، فَرَأَى فِيهِمُ الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ وَحَسَنَ الصُّورَةِ، وَغَيْرَ ذَلِكَ، فَقَالَ: رَبِّ لَوْ سَوَّيْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أُشْكَرَ، وَرَأَى فِيهِمُ الْأَنْبِيَاءَ مِثْلَ السُّرُجِ، وَخُصُّوا بِمِيثَاقٍ آخَرَ بِالرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ فَذَلِكَ قَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَإِذْ أَخَذْنَا مِنَ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ وَمِنْكَ وَمِنْ نُوحٍ} [الأحزاب: 7] الْآيَةُ. وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى {فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَةَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ} [الروم: 30] وَذَلِكَ قَوْلُهُ {هَذَا نَذِيرٌ مِنَ النُّذُرِ الْأُولَى} [النجم: 56] وَقَوْلُهُ {وَمَا وَجَدْنَا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنَا أَكْثَرَهُمْ لَفَاسِقِينَ} [الأعراف: 102] وَهُوَ قَوْلُهُ {ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْ بَعْدِهِ رُسُلًا إِلَى قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ، فَمَا كَانُوا لِيُؤْمِنُوا بِمَا كَذَّبُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ} كَانَ فِي عِلْمِهِ بِمَا أَقَرُّوا بِهِ، مَنْ يُكَذِّبُ بِهِ وَمَنْ يُصَدِّقُ بِهِ، فَكَانَ رُوحُ عِيسَى مِنْ تِلْكَ الْأَرْوَاحِ الَّتِي أُخِذَ عَلَيْهَا الْمِيثَاقُ فِي زَمَنِ آدَمَ فَأَرْسَلَ ذَلِكَ الرُّوحَ إِلَى مَرْيَمَ حِينَ {انْتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّا، فَاتَّخَذَتْ مِنْ دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّا} [مريم: 17] إِلَى قَوْلِهِ {مَقْضِيًّا} [مريم: 21] فَحَمَلَتْهُ قَالَ: حَمَلَتِ الَّذِي خَاطَبَهَا وَهُوَ رُوحُ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ " قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: فَحَدَّثَنِي الرَّبِيعُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: دَخَلَ مِنْ فِيهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3255 - صحيح

حضرت ابی کعب رحمۃ اللہ علیہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: واذاخذ ربک من بنی آدم من ظہورھم ذریتھم واشہد ھم علیٰ انفسہم (الاعراف:172) "اور اے محبوب یاد کرو جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی نسل نکالی اور انہیں خود پر گواہ کیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ "افتھلکنا بما فعل المبطلون (الاعراف:173) "کیا تو ہمیں اس پر ہلاک کرے گا جو اہل باطل نے کیا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تک۔ کے متعلق فرماتے ہیں: اس دن اللہ تعالیٰ نے قیامت تک آنے والے تمام لوگوں کو جمع کر لیا اور ان کو روحیں بنا دیا۔ پھر ان کی شکلیں بنائیں اور ان کو بولنے کی طاقت دی اور وہ بولے: اللہ تعالیٰ نے ان سے پکا وعدہ لیا اور ان کو خود انہیں پر گواہ بنایا، کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے کہا: کیوں نہیں، ہم نے گواہی دی تاکہ کہیں وہ قیامت کے دن یہ نہ کہیں کہ ہم اس سے غافل تھے یا یہ کہیں: شرک تو ہم سے پہلے ہمارے آباؤ اجداد نے کیا تھا، ہم تو ان کے بعد بچے ہوئے ہیں، کیا تو ہمیں ان کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کرے گا جو اہل باطل نے کئے تھے؟ ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تو میں تم پر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو گواہ بناتا ہوں اور تم پر تمہارے جد امجد حضرت آدم علیہ السلام کو گواہ بناتا ہوں کہ کہیں تم قیامت میں یہ نہ کہو کہ ہمیں علم نہ تھا یا ہم اس سے غافل تھے ۔ لہذا میرے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ بے شک میں تمہاری طرف اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں میرا وعدہ اور عہد یاد دلاتے رہیں گے اور میں تم پر اپنی کتابیں اتاروں گا وہ بولے: ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہمارا رب اور معبود ہے اور تیرے سوا ہمارا کوئی رب نہیں اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ حضر ت آدم علیہ السلام کو ان سب پر بلند کی اور انہوں نے ان کی طرف دیکھا تو ان میں مالدار بھی دیکھے اور محتاج بھی، خوبصورت بھی دیکھے اور دوسرے بھی۔ یہ دیکھ کر حضرت آدم علیہ السلام بولے: یا اللہ تعالیٰ تو نے ان سب کو ایک جیسا کیوں نہیں بنایا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا شکر ادا کیا جائے، آپ نے ان میں انبیاء کرام کو چراغوںکی طرح (چمکتے) دیکھا اور دوسرا میثاق خاص طور پر صرف نبیوں اور رسولوں سے ہی لیا جس کو اللہ تعالیٰ نے اس ارشاد میں بیان فرمایا ہے: "واذ اخذنا من النبیین میثاقہم ومنک ومن نوح (الاحزاب:7) " اور محبوب یاد کرو جب ہم نے نبیوں سے عہد لیا اور تم سے اور نوح سے اور ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ ابن مریم سے"۔(ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: " فاقم وجھک للذین حنیفا فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا لاتبدیل لخلق اللہ (الروم:30) " تو اپنا منہ سیدھا کرو اللہ کی اطاعت کے لئے ایک اکیلے اس کے ہو کر اللہ کی ڈالی ہوئی بنا جس پر لوگوں کو پیدا کیا اللہ کی بنائی چیز نہ بدلنا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حذا نذیر من النذر الاولیٰ (النجم:56) " یہ ایک ڈر سنانے والے ہیں اگلے ڈرانے والوں کی طرح"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: " وما وجدنا لا کثرھم من عھد وان وجدنا اکثرھم لفاسقین" ( الاعراف:102) " اور ان میں اکثر کو ہم نے قو ل کا سچا نہ پایا اور ضرور ان میں اکثر کو بے حکم ہی پایا"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "لم بعثنا من بعدہ رسلا الیٰ قومھم فجاؤوھم بالبینات فما کانو الیومنو ا بما کذبو بہ من قبل"۔ (یونس:73)" پھر اس کے بعد اور رسول ہم نے ان کی قوموں کی طرف بھیجے تو وہ ان کے پاس روشن دلیلیں لائے تو وہ ایسے نہ تھے کہ ایمان لاتے اس پر جسے پہلے جھٹلا چکے تھے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ تو اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات تھی کہ وہ کس بات کا اقرار کریں گے؟ کون اسے جھٹلائے گا؟ اور کون اس کی تصدیق کرے گا؟ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی اپنی ارواح میں شامل ہیں۔آدم علیہ السلام کے زمانے میں جن سے عہد لیا گیا تھا پھر اس روح کو حضرت مریم علیہ السلام کی طرف بھیجا۔ جب وہ: "انتبذت من اھلھا مکانا شرقیا فاتخذت من دونہم حجابا فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لہا بشرا سویا الیٰ قولہ : مقضیا (مریم: 21-16) "جب اپنے گھر والوں سے پورب کی طرف ایک جگہ الگ گئی تو ان سے ادھر ایک پردہ کر لیا تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی (روح الامین) بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کی صورت میں ظاہر ہوا (بولی: میں تجھ سے رب کی پناہ مانگتی ہوں، اگر تجھے خدا کا ڈر ہے، بولا: میں تیرے رب کا بھیجا ہو ا ہوں کہ میں تجھے ایک ستھرا بیٹا دوں۔ بولی : میرے لڑکا کہاں سے ہو گا مجھے تو کسی آدمی نے ہاتھ نہ لگایا نہ میں بد کار ہوں، کہا: یونہی ہے ۔ تیرے رب نے فرمایا ہے کہ یہ مجھے آسان ہے اور اس لئے کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے نشانی کریں اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور کام ٹھہر چکا ہے ) ۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ پھر وہ حاملہ ہو گئیں اور آپ اس سے حاملہ ہوئی جو آپ سے مخاطب تھا اور وہ عیسیٰ روح اللہ تھے۔ ابو جعفر کہتے ہیں: ربیع بن انس ، ابو العالیہ کے واسطے سے ابی بن کعب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حضرت عیسیٰ کی روح حضرت مریم کے منہ سے داخل ہوئی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أبو جعفر عيسى بن عبد الله بن ماهان ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Arif · Hadith 3255

chevron_left Previous
1…101112…226
Next chevron_right