Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأنبياء والتاريخ

Prophets & History

4507 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25868

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِقَتْ الْمَلَائِكَةُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام مِمَّا وُصِفَ لَكُمْ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا فرشتوں کی پیدائش نور سے ہوتی ہے، جنات کو بھڑکتی ہوئے آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق اس چیز سے ہوئی ہے جو تمہارے سامنے قرآن میں بیان کردی گئی ہے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25868

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21552

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّبَالِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّاتِهِمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ الْآيَةَ قَالَ جَمَعَهُمْ فَجَعَلَهُمْ أَرْوَاحًا ثُمَّ صَوَّرَهُمْ فَاسْتَنْطَقَهُمْ فَتَكَلَّمُوا ثُمَّ أَخَذَ عَلَيْهِمْ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالَ فَإِنِّي أُشْهِدُ عَلَيْكُمْ السَّمَوَاتِ السَّبْعَ وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ وَأُشْهِدُ عَلَيْكُمْ أَبَاكُمْ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام أَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَمْ نَعْلَمْ بِهَذَا اعْلَمُوا أَنَّهُ لَا إِلَهَ غَيْرِي وَلَا رَبَّ غَيْرِي فَلَا تُشْرِكُوا بِي شَيْئًا وَإِنِّي سَأُرْسِلُ إِلَيْكُمْ رُسُلِي يُذَكِّرُونَكُمْ عَهْدِي وَمِيثَاقِي وَأُنْزِلُ عَلَيْكُمْ كُتُبِي قَالُوا شَهِدْنَا بِأَنَّكَ رَبُّنَا وَإِلَهُنَا لَا رَبَّ لَنَا غَيْرُكَ فَأَقَرُّوا بِذَلِكَ وَرَفَعَ عَلَيْهِمْ آدَمَ يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ فَرَأَى الْغَنِيَّ وَالْفَقِيرَ وَحَسَنَ الصُّورَةِ وَدُونَ ذَلِكَ فَقَالَ رَبِّ لَوْلَا سَوَّيْتَ بَيْنَ عِبَادِكَ قَالَ إِنِّي أَحْبَبْتُ أَنْ أُشْكَرَ وَرَأَى الْأَنْبِيَاءَ فِيهِمْ مِثْلُ السُّرُجِ عَلَيْهِمْ النُّورُ خُصُّوا بِمِيثَاقٍ آخَرَ فِي الرِّسَالَةِ وَالنُّبُوَّةِ وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى وَإِذْ أَخَذْنَا مِنْ النَّبِيِّينَ مِيثَاقَهُمْ إِلَى قَوْلِهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ كَانَ فِي تِلْكَ الْأَرْوَاحِ فَأَرْسَلَهُ إِلَى مَرْيَمَ فَحَدَّثَ عَنْ أُبَيٍّ أَنَّهُ دَخَلَ مِنْ فِيهَا

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے اس آیت " جب آپ کے رب نے حضرت آدم علیہ السلام کی پشت میں سے ان کی اولاد کو نکالا اور انہیں خود اپنے اوپر گواہ بنایا " کی تفسیر میں مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی ساری اولاد کو جمع کر کے انہیں ارواح میں منتقل کیا پھر انہیں شکلیں عطاء کیں اور انہیں قوت گویائی بخشی اور وہ بولنے لگے پھر اللہ تعالیٰ نے ان سے عہدوپیمان لے کر ان سے ان ہی کے متعلق یہ گواہی دلوائی کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ اور فرمایا کہ میں تم پر ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں کو گواہ بناتا ہوں اور میں تم پر تمہارے باپ آدم کو گواہ بناتا ہوں تاکہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہمیں تو اس کے متعلق کچھ معلوم ہی نہیں تھا یاد رکھو! میرے علاوہ کوئی معبود نہیں میرے علاوہ کوئی رب نہیں لہٰذا تم کسی کو بھی میرے ساتھ شریک نہ ٹھہراؤ اور میں تمہارے پاس اپنے پیغمبروں کو بھیجتا رہوں گا جو تمہیں مجھ سے کیا ہوا عہدوپیمان یاد دلاتے رہیں گے اور میں تم پر اپنی کتابیں نازل کروں گا۔ سب نے بیک زبان کہا کہ ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ آپ ہی ہمارے رب اور ہمارے معبود ہیں آپ کے علاوہ ہمارا کوئی رب نہیں اور آپ کے علاوہ ہمارا کوئی معبود نہیں اس طرح انہوں نے اس کا اقرار کر لیا پھر حضرت آدم علیہ السلام کو ان پر بلند کیا گیا تاکہ وہ سب کو دیکھ لیں انہوں نے دیکھا کہ ان کی اولاد میں مالدار بھی ہیں اور فقیر بھی خوب صورت بھی ہیں اور بدصورت بھی تو عرض کیا کہ پروردگار! نے تو اپنے بندوں کو ایک جیسا کیوں نہیں بنایا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے یہ بات اچھی لگتی ہے کہ میرا شکر ادا کیا جائے پھر حضرت آدم علیہ السلام نے ان کے درمیان انبیاء کرام علیہم السلام کو چراغ کی طرح روشن دیکھا جن پر نور چمک رہا تھا جن سے خصوصیت کے ساتھ منصب رسالت ونبوت کے حوالے سے ایک اور عہدوپیمان بھی لیا گیا تھا اسی کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے " واذاخذنا من النبیین میثاقہم " یہ سب عالم ارواح میں ہوا حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی ان میں شامل تھے اور ان کی روح منہ کے راستے سے حضرت مریم علیہما السلام میں داخل ہوئی تھی۔

رُفَيْعٍ أَبِي الْعَالِيَةِ، ← الرَّبِيعِ بْنِ أَنَسٍ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّبَالِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21552

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21560

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عُتَيٍّ قَالَ رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْمَدِينَةِ يَتَكَلَّمُ فَسَأَلْتُ عَنْهُ فَقَالُوا هَذَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ فَقَالَ إِنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِبَنِيهِ أَيْ بَنِيَّ إِنِّي أَشْتَهِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ فَذَهَبُوا يَطْلُبُونَ لَهُ فَاسْتَقْبَلَتْهُمْ الْمَلَائِكَةُ وَمَعَهُمْ أَكْفَانُهُ وَحَنُوطُهُ وَمَعَهُمْ الْفُؤُوسُ وَالْمَسَاحِي وَالْمَكَاتِلُ فَقَالُوا لَهُمْ يَا بَنِي آدَمَ مَا تُرِيدُونَ وَمَا تَطْلُبُونَ أَوْ مَا تُرِيدُونَ وَأَيْنَ تَذْهَبُونَ قَالُوا أَبُونَا مَرِيضٌ فَاشْتَهَى مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ قَالُوا لَهُمْ ارْجِعُوا فَقَدْ قُضِيَ قَضَاءُ أَبِيكُمْ فَجَاءُوا فَلَمَّا رَأَتْهُمْ حَوَّاءُ عَرَفَتْهُمْ فَلَاذَتْ بِآدَمَ فَقَالَ إِلَيْكِ إِلَيْكِ عَنِّي فَإِنِّي إِنَّمَا أُوتِيتُ مِنْ قِبَلِكِ خَلِّي بَيْنِي وَبَيْنَ مَلَائِكَةِ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَقَبَضُوهُ وَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ وَحَنَّطُوهُ وَحَفَرُوا لَهُ وَأَلْحَدُوا لَهُ وَصَلَّوْا عَلَيْهِ ثُمَّ دَخَلُوا قَبْرَهُ فَوَضَعُوهُ فِي قَبْرِهِ وَوَضَعُوا عَلَيْهِ اللَّبِنَ ثُمَّ خَرَجُوا مِنْ الْقَبْرِ ثُمَّ حَثَوْا عَلَيْهِ التُّرَابَ ثُمَّ قَالُوا يَا بَنِي آدَمَ هَذِهِ سُنَّتُكُمْ

عتی کہتے ہیں کہ میں نے مدینہ منورہ میں ایک بزرگ کو گفتگو کرتے ہوئے دیکھا تو لوگوں سے ان کے متعلق پوچھا (یہ کون ہیں ) لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ہیں انہوں نے فرمایا کہ جب حضرت آدم علیہ السلام کے دنیا سے رخصتی کا وقت قریب آیا تو انہوں نے اپنے بیٹوں سے فرمایا بچو! میرا دل جنت کا پھل کھانے کی خواہش کر رہا ہے چنانچہ ان کے بیٹے جنتی پھل کی تلاش میں نکل گئے سامنے سے فرشتے آتے ہوئے دکھائی دیئے ان کے ساتھ کفن اور حنوط تھی اور ان کے ہاتھوں میں کلہاڑیاں ، پھاوڑے اور کسیاں بھی تھیں فرشتوں نے ان سے پوچھا کہ اے اولاد آدم کہاں کا ارادہ ہے اور کس چیز کو تلاش کر رہے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہمارے والد بیمار ہیں اور ان کا دل جنتی پھل کھانے کو چاہ رہا ہے فرشتوں نے ان سے کہا کہ واپس چلے جاؤ کہ تمہارے والد کا وقت آخر قریب آگیا ہے۔ فرشتے جب حضرت آدم علیہ السلام کے پاس پہنچے تو حضرت حواء علیہا السلام انہیں دیکھتے ہی پہچان گئیں اور حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ چمٹ گئیں حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے فرمایا پیچھے ہٹو تمہاری ہی وجہ سے میرے ساتھ یہ معاملات پیش آئے میرا اور میرے رب کے فرشتوں کا راستہ چھوڑ دو چنانچہ فرشتوں نے ان کی روح قبض کر لی انہیں غسل دیا کفن پہنایا، حنوط لگائی گڑھا کھود کر قبر تیار کی ان کی نماز جنازہ پڑھی پھر قبر میں اتر کر انہیں قبر میں لٹایا اور اس پر کچی اینٹیں برابر کر دیں پھر قبر سے باہر نکل کر ان پر مٹی ڈالنے لگے اور اس کے بعد کہنے لگے اے بنی آدم! یہ ہے مردوں کو دفن کرنے کا طریقہ ۔

هَذَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، ← رَأَيْتُ شَيْخًا بِالْمَدِينَةِ يَتَكَلَّمُ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ، ← عُتَيٍّ1 ← الْحَسَنِ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21560

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25954

قَالَ قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يَتِمَّ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام

حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی تھی تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا تھا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! پھر آپ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر کیوں نہیں لوٹا دیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو ایسا ہی کرتا، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سن کر فرمایا واللہ اگر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حطیم سے ملے ہوئے دونوں کونوں کا استلام اسی لئے نہیں فرماتے تھے کہ بیت اللہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل نہیں ہوئی تھی، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ لوگ طواف میں اس پورے بیت اللہ کو شامل کریں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں کے مطابق ہے۔

سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَالِكٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25954

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21613

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسَيَّبِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ فَلَمَّا جَاءَ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَافْتَتَحَ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قَالَ هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ قَالَ نَعَمْ مَعِي مُحَمَّدٌ قَالَ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ فَافْتَحْ فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ تَبَسَّمَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَسَارِهِ بَكَى قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ قَالَ قُلْتُ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا آدَمُ وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ فَأَهْلُ الْيَمِينِ هُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى قَالَ ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام حَتَّى جَاءَ السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ لِخَازِنِهَا افْتَحْ فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَفَتَحَ لَهُ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَوَاتِ آدَمَ وَإِدْرِيسَ وَمُوسَى وَعِيسَى وَإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمْ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَلَمْ يُثْبِتْ لِي كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدْرِيسَ قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قَالَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِدْرِيسُ قَالَ ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا مُوسَى ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَالَ ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّةَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ بِمُسْتَوًى أَسْمَعُ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً قَالَ فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ مَاذَا فَرَضَ رَبُّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً فَقَالَ لِي مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام رَاجِعْ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ فَرَاجَعْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ فَرَاجَعْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ فَقُلْتُ قَدْ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَى بِي سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى قَالَ فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ مَا أَدْرِي مَا هِيَ قَالَ ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ هَذَا آخِرُ مُسْنَدِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ معراج بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس زمانے میں میں مکہ مکرمہ میں تھا ایک رات میرے گھر کی چھت کھل گئی اور حضرت جبرائیل علیہ السلام نیچے اترے انہوں نے میرا سینہ چاک کیا اسے آب زمزم سے دھویا پھر سونے کی ایک طشتری لائے جو ایمان وحکمت سے بھرپور تھی اور اسے میرے سینے میں انڈیل کر اسے بند کر دیا پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آسمانوں پر لے گئے اور آسمان دنیا پر پہنچ کر دروازہ بجایا اندر سے کسی نے پوچھا کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ہوں ، اس نے پوچھا کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ! میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس نے پوچھا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں دروازہ کھولو جب ہم وہاں پہنچے تو ایک آدمی نظر آیا جس کے دائیں بائیں کچھ لوگ بھی تھے دائیں طرف جب وہ دیکھتا تو مسکراتا اور بائیں طرف دیکھتا تو رونے لگتا، اس نے مجھے دیکھ کر " خوش آمدید" نیک نبی اور نیک بیٹے کو " کہا میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور یہ جو دائیں بائیں لوگ نظر آرہے ہیں ، وہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں دائیں ہاتھ والے جنتی ہیں اور بائیں ہاتھ والے جہنمی ہیں ۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے دوسرے آسمان پر لے گئے اور اس کے دربان سے دروازے کھولنے کے لئے کہا اور یہاں بھی حسب سابق سوال وجواب ہوئے حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ آسمانوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم ، ادریس ، موسی ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام سے ملاقات کی لیکن انہوں نے آسمانوں کی تعین نہیں کی صرف اتنا ہی ذکر کیا کہ آسمان دنیا میں حضرت آدم علیہ السلام کو پایا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر پایا۔ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس سے گذرے تو انہوں نے کہا " نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید " میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا یہ حضرت ادریس علیہ السلام ہیں پھر میں حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا " نیک نبی اور نیک بھائی خوش آمدید " میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں پھر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا " نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید " میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں پھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا " نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید " میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں پھر مجھے مزید اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاں میں قلموں کے چلنے کی آواز سن رہا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں میں اس تحفے کو لے کر واپس ہوا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گذر ہوا انہوں نے پوچھا کہ آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے انہیں بتایا کہ پچاس نمازیں فرض کی ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مجھ سے کہا کہ اپنے رب کے پاس واپس جائیے آپ کی امت میں اتنی نمازیں ادا کرنے کی طاقت نہیں ہوگی چنانچہ میں نے اپنے رب کے پاس واپس جا کر اس سے درخواست کی تو اس نے اس کا کچھ حصہ معاف کر دیا (جو بالآخر ہوتے ہوتے پانچ نمازوں پر رک گیا) لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر واپس جانے کا مشورہ دیا اس مرتبہ ارشاد ہوا کہ نمازیں پانچ ہیں اور ان پر ثواب پچاس کا ہے میرے یہاں بات بدلا نہیں کرتی واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مجھے پھر تخفیف کرانے کا مشورہ دیا لیکن میں نے ان سے کہہ دیا کہ اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے پھر مجھے سدرۃ المنتہی پر لے جایا گیا جیسے ایسے رنگوں نے ڈھانپ رکھا تھا جن کی حقیقت مجھے معلوم نہیں پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو وہاں موتیوں کے خیمے نظر آئے اور وہاں کی مٹی مشک تھی۔

أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ:‏‏‏‏ كَانَ أَبُو ذَرٍّ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسَيَّبِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21613

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26162

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَنَّ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اقْتُلُوا الْوَزَغَ فَإِنَّهُ كَانَ يَنْفُخُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام النَّارَ قَالَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقْتُلُهُنَّ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چھپکلی کو مار دیا کرو، کیونکہ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آگ پر " اسے بھڑکانے کے لئے" پھونکیں مار رہی تھی، اسی وجہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسے مار دیا کرتی تھیں۔

عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26162

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26486

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ فَذَكَرَ حَدِيثًا ثُمَّ قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَوَّلُ مَا بُدِئَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْوَحْيِ الرُّؤْيَا الصَّادِقَةُ فِي النَّوْمِ وَكَانَ لَا يَرَى رُؤْيَا إِلَّا جَاءَتْ مِثْلَ فَلَقِ الصُّبْحِ ثُمَّ حُبِّبَ إِلَيْهِ الْخَلَاءُ فَكَانَ يَأْتِي حِرَاءَ فَيَتَحَنَّثُ فِيهِ وَهُوَ التَّعَبُّدُ اللَّيَالِيَ ذَوَاتِ الْعَدَدِ وَيَتَزَوَّدُ لِذَلِكَ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى خَدِيجَةَ فَتُزَوِّدُهُ لِمِثْلِهَا حَتَّى فَجِئَهُ الْحَقُّ وَهُوَ فِي غَارِ حِرَاءَ فَجَاءَهُ الْمَلَكُ فِيهِ فَقَالَ اقْرَأْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَنَا بِقَارِئٍ قَالَ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ فَقُلْتُ مَا أَنَا بِقَارِئٍ فَأَخَذَنِي فَغَطَّنِي الثَّالِثَةَ حَتَّى بَلَغَ مِنِّي الْجَهْدُ ثُمَّ أَرْسَلَنِي فَقَالَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ حَتَّى بَلَغَ مَا لَمْ يَعْلَمْ قَالَ فَرَجَعَ بِهَا تَرْجُفُ بَوَادِرُهُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى خَدِيجَةَ فَقَالَ زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي فَزَمَّلُوهُ حَتَّى ذَهَبَ عَنْهُ الرَّوْعُ فَقَالَ يَا خَدِيجَةُ مَالِي فَأَخْبَرَهَا الْخَبَرَ قَالَ وَقَدْ خَشِيتُ عَلَيَّ فَقَالَتْ لَهُ كَلَّا أَبْشِرْ فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ وَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ وَتَحْمِلُ الْكَلَّ وَتَقْرِي الضَّيْفَ وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ ثُمَّ انْطَلَقَتْ بِهِ خَدِيجَةُ حَتَّى أَتَتْ بِهِ وَرَقَةَ بْنَ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ وَهُوَ ابْنُ عَمِّ خَدِيجَةَ أَخِي أَبِيهَا وَكَانَ امْرَأً تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ يَكْتُبُ الْكِتَابَ الْعَرَبِيَّ فَكَتَبَ بِالْعَرَبِيَّةِ مِنْ الْإِنْجِيلِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكْتُبَ وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا قَدْ عَمِيَ فَقَالَتْ خَدِيجَةُ أَيْ ابْنَ عَمِّ اسْمَعْ مِنْ ابْنِ أَخِيكَ فَقَالَ وَرَقَةُ ابْنَ أَخِي مَا تَرَى فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا رَأَى فَقَالَ وَرَقَةُ هَذَا النَّامُوسُ الَّذِي أُنْزِلَ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا أَكُونَ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ فَقَالَ وَرَقَةُ نَعَمْ لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ قَطُّ بِمَا جِئْتَ بِهِ إِلَّا عُودِيَ وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا ثُمَّ لَمْ يَنْشَبْ وَرَقَةُ أَنْ تُوُفِّيَ وَفَتَرَ الْوَحْيُ فَتْرَةً حَتَّى حَزِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا بَلَغَنَا حُزْنًا غَدَا مِنْهُ مِرَارًا كَيْ يَتَرَدَّى مِنْ رُءُوسِ شَوَاهِقِ الْجِبَالِ فَكُلَّمَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ لِكَيْ يُلْقِيَ نَفْسَهُ مِنْهُ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ لَهُ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ حَقًّا فَيُسْكِنُ ذَلِكَ جَأْشَهُ وَتَقَرُّ نَفْسُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ فَيَرْجِعُ فَإِذَا طَالَتْ عَلَيْهِ وَفَتَرَ الْوَحْيُ غَدَا لِمِثْلِ ذَلِكَ فَإِذَا أَوْفَى بِذِرْوَةِ جَبَلٍ تَبَدَّى لَهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اول سچی خوابوں سے وحی کا نزول شروع ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو خواب دیکھتے وہ بالکل صبح روشن کی طرح ٹھیک پڑتا تھا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم خلوت پسند ہوگئے تھے اور غار حرا میں جا کر گوشہ گیری اختیار کر لی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کئی کئی روز تک وہیں پر عبادت میں مشغول رہتے تھے، اسی اثناء میں گھر پر بالکل نہ آتے تھے لیکن جس وقت کھانے پینے کا سامان ختم ہو جاتا تھا تو پھر اتنے ہی دنوں کا کھانا لے کر چلتے تھے، آخر کار اسی غار حرا میں نزول وحی ہوا۔ ایک فرشتہ نے آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا پڑھئے! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہوں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) یہ سن کر اس فرشتہ نے مجھ کو پکڑ کر اتنا دبایا کہ میں بے طاقت ہوگیا، پھر اس فرشتہ نے مجھ کو چھوڑ کر کہا پڑھئے! میں نے کہا میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں، اس نے دوبارہ مجھ کو پکڑ کر اس قدر دبوچا کہ مجھ میں طاقت نہیں رہی، اور پھر چھوڑ کر مجھ سے کہا پڑھئے میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ تیسری بار اس نے مجھ کو اس قدر زور سے دبایا کہ میں بے بس ہوگیا اور آخر کار مجھ کو چھوڑ کر کہا! کہ " پڑھ " اپنے رب کے نام کی برکت سے جس نے ( ہر شئ کو ) پیدا کیا ( اور ) انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا پڑھ اور تیرا رب بڑے کرم والا ہے " ۔ ( ام المومنین فرماتی ہیں) آپ یہ بات پڑھتے ہوئے گھر تشریف لائے تو اس وقت آپ کا دل دھڑک رہا تھا، چنانچہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس پہنچ کر آپ نے فرمایا مجھے کمبل اڑھاؤ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کو کپڑا اوڑھایا، جب آپ کی بے قراری دور ہوئی اور دل ٹھکانے ہوا تو ساری کیفیت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بیان فرمائی اور فرمایا کہ مجھے اپنی جان کا خوف ہے ۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا اللہ کی قسم! یہ ہرگز نہیں ہوسکتا، آپ کو بالکل فکر نہ کرنی چاہیے ، خدائے تعالیٰ آپ کو ضائع نہ کرے گا کیونکہ آپ تو برادر پرور ہیں محتاجوں کی مدد کرتے ہیں، کمزوروں کا کام کرتے ہیں ، مہمان نوازی فرماتے ہیں اور جائز ضرورتوں میں لوگوں کے کام آتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں ۔ ورقہ نے دور جاہلیت میں عیسائی مذہب اختیار کر لیا تھا اور انجیل کا ( سریانی زبان سے) عبرانی میں ترجمہ کر کے لکھا کرتے تھے، بہت ضعیف العمر اور نابینا بھی تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس کے پاس پہنچ کر کہا ابن عم ذرا اپنے بھتیجے کی حالت تو سنئے ! ورقہ بولا کیوں بھتیجے کیا کیفیت ہے؟ آپ نے جو کچھ دیکھا تھا ورقہ سے بیان کر دیا جب ورقہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سب حال سن چکے تو بولے یہ فرشتہ وہی ناموس ہے، جس کو خدائے تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر نازل فرمایا تھا کاش! میں عہد نبوت میں جوان ہوتا کاش! میں اس زمانہ میں زندہ ہوتا جب کہ آپ کو قوم والے ( وطن سے ) نکالیں گے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ بولے جی ہاں! جو شخص بھی آپ کی طرح دین الٰہی لایا ہے اس سے عداوت کی گئی ہے، اگر میں آپ کے عہد نبوت میں موجود ہوا تو کافی امداد کروں گا، لیکن اس کے کچھ ہی دنوں بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا اور سلسلہ وحی بند گیا، فترتِ وحی کی وجہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اتنے دل گرفتہ ہوئے کہ کئی مرتبہ پہاڑ کی چوٹیوں سے اپنے آپ کو نیچے گرانے کا ارادہ کیا، لیکن جب بھی وہ اس ارادے سے کسی پہاڑی کی چوٹی پر پہنچتے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام سامنے آجاتے اور عرض کرتے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اللہ کے برحق رسول ہیں، اسے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جوش ٹھنڈا اور دل پر سکون ہو جاتا تھا، اور وہ واپس آجاتے ، پھر جب زیادہ عرصہ گذر جاتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پھر اسی طرح کرتے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام انہیں تسلی دیتے تھے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← حديثا ثم ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26486

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26557

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا يَا عَائِشَةُ لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ لَأَمَرْتُ بِالْبَيْتِ فَهُدِمَ فَأَدْخَلْتُ فِيهِ مَا أُخْرِجَ مِنْهُ وَأَلْزَقْتُهُ بِالْأَرْضِ وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا وَبَابًا غَرْبِيًّا فَإِنَّهُمْ عَجَزُوا عَنْ بِنَائِهِ فَبَلَغْتُ بِهِ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو شہید کر کے اسے حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کرتا کیونکہ قریش نے جب اسے تعمیر کیا تھا تو اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیا تھا اور میں اسے زمین سے ملا کر اس کے مشرقی اور مغربی دو دروازے بناتا۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26557

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22245

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سِنَانِ بْنِ أَبِي سِنَانٍ الدِّيْلِيِّ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ اللَّيْثِيِّ قَالَ خَرَجَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ حُنَيْنٍ فَمَرَرْنَا بِسِدْرَةٍ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ اجْعَلْ لَنَا هَذِهِ ذَاتَ أَنْوَاطٍ كَمَا لِلْكُفَّارِ ذَاتُ أَنْوَاطٍ وَكَانَ الْكُفَّارُ يَنُوطُونَ بِسِلَاحِهِمْ بِسِدْرَةٍ وَيَعْكُفُونَ حَوْلَهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُ أَكْبَرُ هَذَا كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى اجْعَلْ لَنَا إِلَهًا كَمَا لَهُمْ آلِهَةً إِنَّكُمْ تَرْكَبُونَ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ

حضرت ابوواقدلیثی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ مکرمہ سے حنین کے لئے نکلے کفار کی ایک بیری تھی جہاں وہ جا کر رکتے تھے اور اس سے اپنا اسلحہ لٹکایا کرتے تھے، اسے " ذات انواط " کہا جاتا تھا راستے میں ہم لوگ ایک سرسبزوشاداب بیری کے عظیم باغ سے گذرے تو ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے بھی اسی طرح کوئی " ذات انواط " مقرر کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم نے وہی بات کہی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ جیسے ان کے معبود ہیں ، اسی طرح ہمارا بھی کوئی معبود مقرر کر دیجئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تم ایک جاہل قوم ہو، یاد رکھو! تم لوگ پہلے لوگوں کے نقش قدم پر چلو گے اور ان کی ایک ایک عادت اختیار کر کے رہو گے۔

أبي واقد الليثي ← سنان بن أبي سنان الديلي ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22245

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19032

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُخَارِقِ بْنِ خَلِيفَةَ الْأَحْمَسِيِّ عَنْ طَارِقٍ أَنَّ الْمِقْدَادَ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ وَلَكِنْ اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا مَعَكُمْ مُقَاتِلُونَ

حضرت طارق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم اس طرح نہیں کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے کہہ دیا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم یوں کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کا رب جا کر لڑیں ہم بھی آپ کے ساتھ لڑائی میں شریک ہیں ۔

لِرَسُولِ اللَّهِ يَوْمَ بَدْرٍ ← طَارِقٍ أَنَّ الْمِقْدَادَ ← مُخَارِقِ بْنِ خَلِيفَةَ الْأَحْمَسِيِّ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19032

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22440

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ انْتَسَبَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى عَهْدِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام أَحَدُهُمَا مُسْلِمٌ وَالْآخَرُ مُشْرِكٌ فَانْتَسَبَ الْمُشْرِكُ فَقَالَ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ حَتَّى بَلَغَ تِسْعَةَ آبَاءٍ ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِهِ انْتَسِبْ لَا أُمَّ لَكَ قَالَ أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا وَرَاءَ ذَلِكَ فَنَادَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام النَّاسَ فَجَمَعَهُمْ ثُمَّ قَالَ قَدْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا أَمَّا الَّذِي انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ فَأَنْتَ فَوْقَهُمْ الْعَاشِرُ فِي النَّارِ وَأَمَّا الَّذِي انْتَسَبَ إِلَى أَبَوَيْهِ فَأَنْتَ امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ

حضرت ابن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور باسعادت میں دو آدمیوں نے اپنا نسب نامہ بیان کیا، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا مشرک ، مشرک نے دوسرے سے کہا کہ میں تو فلاں بن فلاں ہوں اور اس نے اپنے آباؤ اجداد میں سے نو افراد کے نام گنوائے اور کہا کہ تو کون ہے ؟ تیری ماں نہ رہے اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں اور اس سے آگے کے لوگوں سے میں بری ہوں حضرت موسٰی علیہ السلام نے منادی کر کے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا تم دونوں کے درمیان فیصلہ کر دیا گیا ہے اے نو آدمیوں کی طرف نسبت کرنے والے ! وہ سب جہنم میں ہیں اور دسواں تو خود ان کے ساتھ جہنم میں ہوگا اور اے اپنے والدین کی طرف اپنے نسب کو منسوب کرنے والے ! تو اہل اسلام میں کا ایک فرد ہے ۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22440

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19766

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ حَدَّثَنِي رَجُلٌ أَسْوَدُ طَوِيلٌ قَالَ جَعَلَ أَبُو التَّيَّاحِ يَنْعَتُهُ أَنَّهُ قَدِمَ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ فَكَتَبَ إِلَى أَبِي مُوسَى فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَبُو مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْشِي فَمَالَ إِلَى دَمْثٍ فِي جَنْبِ حَائِطٍ فَبَالَ ثُمَّ قَالَ كَانَ بَنَو إِسْرَائِيلَ إِذَا بَالَ أَحَدُهُمْ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ بَوْلِهِ يَتْبَعُهُ فَقَرَضَهُ بِالْمَقَارِيضِ وَقَالَ إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَبُولَ فَلْيَرْتَدْ لِبَوْلِهِ

ابوالتیاح کے طویل سیاہ فام آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ بصرہ آیا انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے انہیں جواب میں لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ جارہے تھے کہ ایک باغ کے پہلو میں نرم زمین کے قریب پہنچ کر پیشاب کیا اور فرمایا بنی اسرائیل میں جب کوئی شخص پیشاب کرتا اور اس کے جسم پر معمولی سا پیشاب لگ جاتا تو وہ اس جگہ کو قینچی سے کاٹ دیا کرتا تھا اور فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کا ارادہ کرے تو اس کے لئے نرم زمین تلاش کرے۔

إِلَيْهِ أَبُو مُوسَى ← إِلَى أَبِي مُوسَى ← جَعَلَ أَبُو التَّيَّاحِ يَنْعَتُهُ أَنَّهُ قَدِمَ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ الْبَصْرَةَ ← رَجُلٌ أَسْوَدُ طَوِيلٌ ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19766

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12938

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ قَالَ ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے " یا خیر البریہ " کہہ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔

ذَاكَ إِبْرَاهِيمُ ← رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ يَا خَيْرَ الْبَرِيَّةِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12938

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12985

حَدَّثَنَا عُبَيْدَةُ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ اسْتَشَارَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَخْرَجَهُ إِلَى بَدْرٍ فَأَشَارَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ اسْتَشَارَ عُمَرَ فَأَشَارَ عَلَيْهِ عُمَرُ ثُمَّ اسْتَشَارَهُمْ فَقَالَ بَعْضُ الْأَنْصَارِ إِيَّاكُمْ يُرِيدُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ قَائِلُ الْأَنْصَارِ تَسْتَشِيرُنَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا لَا نَقُولُ لَكَ كَمَا قَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام اذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هَاهُنَا قَاعِدُونَ وَلَكِنْ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوْ ضَرَبْتَ أَكْبَادَهَا إِلَى بَرْكٍ قَالَ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ إِلَى بَرْكِ الْغِمَادِ لَاتَّبَعْنَاكَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بدر کی طرف روانہ ہوگئے تو لوگوں سے مشورہ کیا، اس کے جواب میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ایک مشورہ دیا، پھر دوبارہ مشورہ مانگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دے دیا، یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہوگئے، ایک انصاری نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سے مشورہ لینا چاہتے ہیں ، اس پر انصاری صحابہ رضی اللہ عنہم کہنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! بخدا! ہم اس طرح نہ کہیں گے جیسے بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا تھا کہ تم اور تمہارا رب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں ، بلکہ اگر آپ اونٹوں کے جگر مارتے ہوئے برک الغماد تک جائیں گے تب بھی ہم آپ کے ساتھ ہوں گے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← عُبَيْدَةُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12985

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22644

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا مُعَانُ بْنُ رِفَاعَةَ حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ جَالِسًا وَكَانُوا يَظُنُّونَ أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فَأَقْصَرُوا عَنْهُ حَتَّى جَاءَ أَبُو ذَرٍّ فَاقْتَحَمَ فَأَتَى فَجَلَسَ إِلَيْهِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ هَلْ صَلَّيْتَ الْيَوْمَ قَالَ لَا قَالَ قُمْ فَصَلِّ فَلَمَّا صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ الضُّحَى أَقْبَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ تَعَوَّذْ مِنْ شَرِّ شَيَاطِينِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ قَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَهَلْ لَلْإِنْسِ شَيَاطِينٌ قَالَ نَعَمْ شَيَاطِينُ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ يُوحِي بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أُعَلِّمُكَ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ قَالَ بَلَى جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ قَالَ قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ فَقُلْتُ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ ثُمَّ سَكَتَ عَنِّي فَاسْتَبْطَأْتُ كَلَامَهُ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّا كُنَّا أَهْلَ جَاهِلِيَّةٍ وَعَبَدَةَ أَوْثَانٍ فَبَعَثَكَ اللَّهُ رَحْمَةً لِلْعَالَمِينَ أَرَأَيْتَ الصَّلَاةَ مَاذَا هِيَ قَالَ خَيْرٌ مَوْضُوعٌ مَنْ شَاءَ اسْتَقَلَّ وَمَنْ شَاءَ اسْتَكْثَرَ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الصِّيَامَ مَاذَا هُوَ قَالَ فَرْضٌ مُجْزِئٌ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَرَأَيْتَ الصَّدَقَةَ مَاذَا هِيَ قَالَ أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ وَعِنْدَ اللَّهِ الْمَزِيدُ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ وَجُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّمَا نَزَلَ عَلَيْكَ أَعْظَمُ قَالَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ آيَةُ الْكُرْسِيِّ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَيُّ الشُّهَدَاءِ أَفْضَلُ قَالَ مَنْ سُفِكَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَأَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ قَالَ أَغْلَاهَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ فَأَيُّ الْأَنْبِيَاءِ كَانَ أَوَّلَ قَالَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَوَنَبِيٌّ كَانَ آدَمُ قَالَ نَعَمْ نَبِيٌّ مُكَلَّمٌ خَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ ثُمَّ نَفَخَ فِيهِ رُوحَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ يَا آدَمُ قُبْلًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَمْ وَفَّى عِدَّةُ الْأَنْبِيَاءِ قَالَ مِائَةُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا الرُّسُلُ مِنْ ذَلِكَ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَخَمْسَةَ عَشَرَ جَمًّا غَفِيرًا

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے میں بھی مجلس میں شریک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا اے ابوذر کیا تم نے نماز پڑھ لی؟ میں نے عرض کیا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھو، چنانچہ میں نے کھڑے ہو کر نماز پڑھی اور آکر مجلس میں دوبارہ شریک ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابوذر! انسانوں اور جنات میں سے شیاطین کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو ، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا انسانوں میں بھی شیطان ہوتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) نماز کا کیا حکم ہے؟ فرمایا بہترین موضوع ہے جو چاہے کم حاصل کرے اور جو چاہے زیادہ حاصل کر لے میں نے پوچھا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) روزے کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا ایک فرض ہے جسے ادا کیا جائے گا تو کافی ہوجاتا ہے اور اللہ کے یہاں اس کا اضافی ثواب ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) صدقہ کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا اس کا بدلہ دوگنا چوگنا ملتا ہے میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) سب سے افضل صدقہ کون سا ہے ؟ فرمایا کم مال والے کی محنت کا صدقہ یا کسی ضرورت مند کا راز، میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) سب سے پہلے نبی کون تھے ؟ فرمایا حضرت آدم علیہ السلام میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا وہ نبی تھے ؟ فرمایا ہاں ، بلکہ ایسے نبی جن سے باری تعالیٰ نے کلام فرمایا: میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) رسول کتنے آئے؟ فرمایا تین سو دس سے کچھ اوپر ایک عظیم گروہ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ پر سب سے عظیم آیت کون سی نازل ہوئی ؟ فرمایا آیت الکرسی ۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ، ← أَبُو الْمُغِيرَةِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22644

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 28037

حَدَّثَنَا هَيْثَمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو الرَّبِيعِ عَنْ يُونُسَ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِآدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام قُمْ فَجَهِّزْ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى النَّارِ وَوَاحِدًا إِلَى الْجَنَّةِ فَبَكَى أَصْحَابُهُ وَبَكَوْا ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ فَخَفَّفَ ذَلِكَ عَنْهُمْ

حضرت ابودردا سے مروی ہے کہ نبی نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت آدم سے فرمائے گا کہ اٹھو اور اپنی اولاد میں سے نو سو ننانوے افراد جہنم کے لئے اور ایک آدمی جنت کے لئے تیار کرو، یہ سن کر صحابہ کرام رونے لگے ، نبی نے ان سے فرمایا سر اٹھاؤ ، اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، دوسری امتوں کے مقابلے میری امت کے لوگ سیاہ بیل کی کھال پر سفید بال کی طرح ہوں گے، تب جا کر صحابہ کا بوجھ ہلکا ہوا۔

إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى ← أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← أَبِي إِدْرِيسَ، ← يُونُسَ ← أَبُو الرَّبِيعِ، ← هَيْثَمٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 28037

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23027

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ كَفَّارَةَ سَنَتَيْنِ مَاضِيَةٍ وَمُسْتَقْبَلَةٍ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَصُومُ الدَّهْرَ كُلَّهُ قَالَ لَا صَامَ وَلَا أَفْطَرَ أَوْ مَا صَامَ وَمَا أَفْطَرَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ ذَاكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمَيْنِ قَالَ وَدِدْتُ أَنِّي طُوِّقْتُ ذَلِكَ قَالَ أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَصُومُ يَوْمَيْنِ وَيُفْطِرُ يَوْمًا قَالَ وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَاشُورَاءَ قَالَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ كَفَّارَةَ سَنَةٍ

حضرت ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اگر کوئی آدمی ہمیشہ روزے رکھے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کا روزہ رکھنا اور نہ رکھنا دونوں برابر ہیں سائل نے پوچھا دو دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا کیسا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کی طاقت کس میں ہے سائل نے پوچھا کہ دو دن ناغہ کرنا اور ایک دن روزہ رکھنا کیسا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ اللہ کی نظروں میں یہ قابل تعریف ہو، سائل نے پوچھا کہ ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن ناغہ کرنا کیسا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ تو میرے بھائی حضرت داؤد علیہ السلام کا طریقہ ہے سائل نے پیر اور جمعرات کے روزے کے حوالے سے پوچھا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس دن میری پیدائش ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی ، ہر مہینے میں تین روزے رکھ لینا اور پورے ماہ رمضان کے روزے رکھنا ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہے سائل نے پوچھا یوم عرفہ کے روزے کا کیا حکم ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے گذشتہ اور آئندہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے سائل نے یوم عاشورہ کے روزے کا حکم پوچھا تو فرمایا اس سے گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔

صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ فَقَالَ أَحْتَسِبُ عَلَى اللَّهِ كَفَّارَةَ سَنَتَيْنِ مَاضِيَةٍ وَمُسْتَقْبَلَةٍ ← أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ ← غَيْلَانَ بْنِ جَرِيرٍ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23027

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20354

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ حَدَّثَنَا سَمُرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ الْفَزَارِيُّ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا يَقُولُ لِأَصْحَابِهِ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا قَالَ فَيَقُصُّ عَلَيْهِ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُصَّ قَالَ وَإِنَّهُ قَالَ لَنَا ذَاتَ غَدَاةٍ إِنَّهُ أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتِيَانِ وَإِنَّهُمَا ابْتَعَثَانِي وَإِنَّهُمَا قَالَا لِي انْطَلِقْ وَإِنِّي انْطَلَقْتُ مَعَهُمَا وَإِنَّا أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُضْطَجِعٍ وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِصَخْرَةٍ وَإِذَا هُوَ يَهْوِي عَلَيْهِ بِالصَّخْرَةِ لِرَأْسِهِ فَيَثْلَغُ بِهَا رَأْسَهُ فَيَتَدَهْدَهُ الْحَجَرُ هَاهُنَا فَيَتْبَعُ الْحَجَرَ يَأْخُذُهُ فَمَا يَرْجِعُ إِلَيْهِ حَتَّى يَصِحَّ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ ثُمَّ يَعُودُ عَلَيْهِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ الْمَرَّةَ الْأُولَى قَالَ قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا هَذَانِ قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مُسْتَلْقٍ لِقَفَاهُ وَإِذَا آخَرُ قَائِمٌ عَلَيْهِ بِكَلُّوبٍ مِنْ حَدِيدٍ وَإِذَا هُوَ يَأْتِي أَحَدَ شِقَّيْ وَجْهِهِ فَيُشَرْشِرُ شِدْقَهُ إِلَى قَفَاهُ وَمَنْخِرَاهُ إِلَى قَفَاهُ وَعَيْنَاهُ إِلَى قَفَاهُ قَالَ ثُمَّ يَتَحَوَّلُ إِلَى الْجَانِبِ الْآخَرِ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِالْجَانِبِ الْأَوَّلِ فَمَا يَفْرُغُ مِنْ ذَلِكَ الْجَانِبِ حَتَّى يَصِحَّ الْأَوَّلُ كَمَا كَانَ ثُمَّ يَعُودُ فَيَفْعَلُ بِهِ مِثْلَ مَا فَعَلَ بِهِ الْمَرَّةَ الْأُولَى قَالَ قُلْتُ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا هَذَانِ قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ قَالَ عَوْفٌ وَأَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ وَإِذَا فِيهِ لَغَطٌ وَأَصْوَاتٌ قَالَ فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ وَإِذَا هُمْ يَأْتِيهِمْ لَهِيبٌ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ فَإِذَا أَتَاهُمْ ذَلِكَ اللَّهَبُ ضَوْضَوْا قَالَ قُلْتُ مَا هَؤُلَاءِ قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى نَهَرٍ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ أَحْمَرَ مِثْلِ الدَّمِ وَإِذَا فِي النَّهَرِ رَجُلٌ يَسْبَحُ ثُمَّ يَأْتِي ذَلِكَ الرَّجُلُ الَّذِي قَدْ جَمَعَ الْحِجَارَةَ فَيَفْغَرُ لَهُ فَاهُ فَيُلْقِمُهُ حَجَرًا حَجَرًا قَالَ فَيَنْطَلِقُ فَيَسْبَحُ مَا يَسْبَحُ ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ كُلَّمَا رَجَعَ إِلَيْهِ فَغَرَ لَهُ فَاهُ وَأَلْقَمَهُ حَجَرًا قَالَ قُلْتُ مَا هَذَا قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ كَرِيهِ الْمَرْآةِ كَأَكْرَهِ مَا أَنْتَ رَاءٍ رَجُلًا مَرْآةً فَإِذَا هُوَ عِنْدَ نَارٍ لَهُ يَحُشُّهَا وَيَسْعَى حَوْلَهَا قَالَ قُلْتُ لَهُمَا مَا هَذَا قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى رَوْضَةٍ مُعْشِبَةٍ فِيهَا مِنْ كُلِّ نَوْرِ الرَّبِيعِ قَالَ وَإِذَا بَيْنَ ظَهْرَانَيْ الرَّوْضَةِ رَجُلٌ قَائِمٌ طَوِيلٌ لَا أَكَادُ أَنْ أَرَى رَأْسَهُ طُولًا فِي السَّمَاءِ وَإِذَا حَوْلَ الرَّجُلِ مِنْ أَكْثَرِ وِلْدَانٍ رَأَيْتُهُمْ قَطُّ وَأَحْسَنِهِ قَالَ قُلْتُ لَهُمَا مَا هَذَا وَمَا هَؤُلَاءِ قَالَ قَالَا لِي انْطَلِقْ انْطَلِقْ قَالَ فَانْطَلَقْنَا فَانْتَهَيْنَا إِلَى دَوْحَةٍ عَظِيمَةٍ لَمْ أَرَ دَوْحَةً قَطُّ أَعْظَمَ مِنْهَا وَلَا أَحْسَنَ قَالَ فَقَالَا لِي ارْقَ فِيهَا فَارْتَقَيْنَا فِيهَا فَانْتَهَيْتُ إِلَى مَدِينَةٍ مَبْنِيَّةٍ بِلَبِنٍ ذَهَبٍ وَلَبِنٍ فِضَّةٍ فَأَتَيْنَا بَابَ الْمَدِينَةِ فَاسْتَفْتَحْنَا فَفُتِحَ لَنَا فَدَخَلْنَا فَلَقِينَا فِيهَا رِجَالًا شَطْرٌ مِنْ خَلْقِهِمْ كَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَاءٍ وَشَطْرٌ كَأَقْبَحِ مَا أَنْتَ رَاءٍ قَالَ فَقَالَا لَهُمْ اذْهَبُوا فَقَعُوا فِي ذَلِكَ النَّهَرِ فَإِذَا نَهَرٌ صَغِيرٌ مُعْتَرِضٌ يَجْرِي كَأَنَّمَا هُوَ الْمَحْضُ فِي الْبَيَاضِ قَالَ فَذَهَبُوا فَوَقَعُوا فِيهِ ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْنَا وَقَدْ ذَهَبَ ذَلِكَ السُّوءُ عَنْهُمْ وَصَارُوا فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ قَالَ فَقَالَا لِي هَذِهِ جَنَّةُ عَدْنٍ وَهَذَاكَ مَنْزِلُكَ قَالَ فَبَيْنَمَا بَصَرِي صُعُدًا فَإِذَا قَصْرٌ مِثْلُ الرَّبَابَةِ الْبَيْضَاءِ قَالَا لِي هَذَاكَ مَنْزِلُكَ قَالَ قُلْتُ لَهُمَا بَارَكَ اللَّهُ فِيكُمَا ذَرَانِي فَلَأَدْخُلُهُ قَالَ قَالَا لِي الْآنَ فَلَا وَأَنْتَ دَاخِلُهُ قَالَ فَإِنِّي رَأَيْتُ مُنْذُ اللَّيْلَةِ عَجَبًا فَمَا هَذَا الَّذِي رَأَيْتُ قَالَ قَالَا لِي أَمَا إِنَّا سَنُخْبِرُكَ أَمَّا الرَّجُلُ الْأَوَّلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُثْلَغُ رَأْسُهُ بِالْحَجَرِ فَإِنَّهُ رَجُلٌ يَأْخُذُ الْقُرْآنَ فَيَرْفُضُهُ وَيَنَامُ عَنْ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَةِ وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي أَتَيْتَ عَلَيْهِ يُشَرْشَرُ شِدْقُهُ إِلَى قَفَاهُ وَعَيْنَاهُ إِلَى قَفَاهُ وَمَنْخِرَاهُ إِلَى قَفَاهُ فَإِنَّهُ الرَّجُلُ يَغْدُو مِنْ بَيْتِهِ فَيَكْذِبُ الْكَذِبَةَ تَبْلُغُ الْآفَاقَ وَأَمَّا الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ الْعُرَاةُ الَّذِينَ فِي بِنَاءٍ مِثْلِ بِنَاءِ التَّنُّورِ فَإِنَّهُمْ الزُّنَاةُ وَالزَّوَانِي وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي يَسْبَحُ فِي النَّهَرِ وَيُلْقَمُ الْحِجَارَةَ فَإِنَّهُ آكِلُ الرِّبَا وَأَمَّا الرَّجُلُ الْكَرِيهُ الْمَرْآةِ الَّذِي عِنْدَ النَّارِ يَحُشُّهَا فَإِنَّهُ مَالِكٌ خَازِنُ جَهَنَّمَ وَأَمَّا الرَّجُلُ الطَّوِيلُ الَّذِي رَأَيْتَ فِي الرَّوْضَةِ فَإِنَّهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَأَمَّا الْوِلْدَانُ الَّذِينَ حَوْلَهُ فَكُلُّ مَوْلُودٍ مَاتَ عَلَى الْفِطْرَةِ قَالَ فَقَالَ بَعْضُ الْمُسْلِمِينَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ وَأَمَّا الْقَوْمُ الَّذِينَ كَانَ شَطْرٌ مِنْهُمْ حَسَنًا وَشَطْرٌ قَبِيحًا فَإِنَّهُمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا فَتَجَاوَزَ اللَّهُ عَنْهُمْ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھ کر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرماتے تھے کہ تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟ اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو عرض کر دیتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی مشیت کے موافق اس کی تعبیر دے دیتے تھے۔چنانچہ حسب دستور ایک روز حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے؟ ہم نے عرض کیا نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے آج رات خواب میں دیکھا کہ دو آدمی میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے پاک زمین (بیت المقدس) کی طرف لے گئے، وہاں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا ہوا تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا تھا، کھڑا ہوا آدمی بیٹھے ہوئے آدمی کے منہ میں وہ آنکڑا ڈال کر ایک طرف سے اس کا جبڑا چیر کر گدی سے ملا دیتا تھا اور پھر دوسرے جبڑے کو بھی اسی طرح چیر کر گدی سے ملا دیتا تھا، اتنے میں پہلا جبڑا صحیح ہو جاتا تھا اور وہ دوبارہ پھر اسی طرح چیرتا تھا میں نے دریافت کیا یہ کیا بات ہے؟ ان دونوں شخصوں نے کہا آگے چلو، ہم آگے چل دیئے، ایک جگہ پہنچ کر دیکھا کہ ایک شخص چت لیٹا ہے اور ایک اور آدمی اس کے سر پر پتھر لئے کھڑا ہے اور پتھر سے اس کے سر کو کچل رہا ہے، جب اس کے سر پر پتھر مارتا ہے تو پتھر لڑھک جاتا ہے اور وہ آدمی پتھر لینے چلا جاتا ہے، اتنے میں اس کا سر جڑ جاتا ہے اور مارنے والا آدمی پھر واپس آ کر اس کو مارتا ہے، میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ان دونوں شخصوں نے کہا کہ آگے چلو، ہم آگے چل دئیے، ایک جگہ دیکھا کہ تنور کی طرح ایک گڑھا ہے جس کا منہ تنگ ہے اور اندر سے کشادہ ہے، برہنہ مرد وعورت اس میں موجود ہیں اور آگ بھی اس میں جل رہی ہے جب آگ (تنور کے کناروں کے) قریب آجاتی ہے تو وہ لوگ اوپر اٹھ آتے ہیں اور باہر نکلنے کے قریب ہو جاتے ہیں اور جب آگ نیچے ہوجاتی ہے تو سب لوگ اندر ہوجاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ ان دونوں آدمیوں نے کہا کہ آگے چلو، ہم آگے چل دیئے اور ایک خون کی ندی پر پہنچے جس کے اندر ایک آدمی کھڑا تھا اور ندی کے کنارہ پر ایک اور آدمی موجود تھا جس کے آگے پتھر رکھے ہوئے تھے، اندر والا آدمی جب باہر نکلنے کے لئے آگے بڑھتا تھا تو باہر والا آدمی اس کے منہ پر پتھر مار کر پیچھے ہٹا دیتا تھا اور اصلی جگہ تک پہنچا دیتا تھا، دوبارہ پھر اندر والا آدمی نکلنا چاہتا تھا اور باہر والا آدمی اس کے منہ پر پتھر ماتا تھا اور اصلی جگہ تک پلٹا دیتا تھا، میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے؟ ان دونوں شخصوں نے کہا کہ آگے چلو، ہم آگے چل دیئے۔ ایک جگہ دیکھا کہ ایک درخت کے نیچے جڑ کے پاس ایک بوڑھا آدمی اور کچھ لڑکے موجود ہیں اور درخت کے قریب ایک اور آدمی ہے جس کے سامنے آگ موجود ہے اور وہ آگ جلا رہا ہے میرے دونوں ساتھی مجھے اس درخت کے اوپر چڑھا لے گئے اور ایک مکان میں داخل کیا، جس سے بہتر اور عمدہ میں نے کبھی کوئی مکان نہیں دیکھا گھر کے اندر مرد بھی تھے اور عورتیں بھی، بوڑھے بھی جوان بھی اور بچے بھی اس کے بعد وہ دونوں ساتھی مجھے اس مکان سے نکال کر درخت کے اوپر چڑھا کر لے گئے میں ایک شہر میں پہنچا جس کی تعمیر میں ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی استعمال کی گئی تھی، ہم نے دروازے پر پہنچ کر اسے کھٹکھٹایا، دروازہ کھلا اور ہم اندر داخل ہوئے تو ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جن کا آدھا حصہ تو انتہائی حسین وجمیل تھا اور آدھا دھڑ انتہائی قبیح تھا، ان دونوں نے ان لوگوں سے کہا کہ جا کر اس نہر میں غوطہ لگاؤ، وہاں ایک چھوٹی سی نہر بہہ رہی تھی، جس کا پانی انتہائی سفید تھا، انہوں نے جا کر اس میں غوطہ لگایا، جب واپس آئے تو وہ قباحت ختم ہو چکی تھی اور وہ انتہائی خوبصورت ہو چکے تھے، پھر ان دونوں نے مجھ سے کہا کہ یہ جنت عدن ہے اور وہ آپ کا ٹھکانہ ہے، میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو سفید رنگ کا ایک محل نظر آیا، میں نے ان دونوں سے کہا کہ اللہ تمہیں برکتیں دے، مجھے چھوڑ و کہ میں اس میں داخل ہو جاؤں انہوں نے کہا ابھی نہیں، البتہ آپ اس میں جائیں گے ضرور، میں نے کہا کہ تم دونوں نے مجھے رات بھر گھمایا اب جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کی تفصیل تو بیان کرو انہوں نے کہا کہ اچھا ہم بتاتے ہیں۔جس شخص کے تم نے گلپھڑے چرتے ہوئے دیکھا تھا وہ جھوٹا آدمی تھا کہ جھوٹی باتیں بنا کر لوگوں سے کہتا تھا اور لوگ اس سے سیکھ کر اوروں سے نقل کرتے تھے یہاں تک کہ سارے جہان میں وہ جھوٹ مشہور ہو جاتا تھا، قیامت تک اس پر یہ عذاب رہے گا اور جس شخص کا سر کچلتے ہوئے تم نے دیکھا ہے اس شخص کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا تھا لیکن وہ فرض نماز سے غافل ہو کر رات کو سو جاتا تھا اور دن کو اس پر عمل نہ کرتا تھا قیامت تک اس پر یہی عذاب رہے گا اور جن لوگوں کو تم نے گڑھے میں دیکھا تھا وہ لوگ زنا کار تھے اور جس شخص کو تم نے خون کی نہر میں دیکھا تھا وہ شخص سودخور تھا اور درخت کی جڑ کے پاس جس بوڑھے مرد کو تم نے بیٹھے دیکھا تھا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے اور وہ لڑکے لوگوں کی وہ اولادیں تھیں جو بالغ ہونے سے قبل مر گئے تھے اور جو شخص بیٹھا آگ بھڑکا رہا تھا وہ مالک داروغہ دوزخ تھا، کسی مسلمان نے پوچھا یا رسول اللہ! وہاں مشرکین کی اولاد تھی؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا ہاں! اور وہ لوگ جن کا آدھا دھڑ حسین اور آدھا بدصورت تھا، یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اچھے اور برے دونوں طرح کے عمل کئے تھے، اللہ نے ان سے در گزر فرمایا۔

كان رسول الله مما ← سمرةَ بنِ جندبٍ الفزاريِّ، ← أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ، ← عَوْفٌ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20354

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20427

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى صَلَاةَ الْغَدَاةِ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا فَإِنْ كَانَ أَحَدٌ رَأَى تِلْكَ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَيْهِ فَيَقُولُ فِيهَا مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ فَسَأَلَنَا يَوْمًا فَقَالَ هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا قَالَ فَقُلْنَا لَا قَالَ لَكِنْ أَنَا رَأَيْتُ رَجُلَيْنِ أَتَيَانِي فَأَخَذَا بِيَدَيَّ فَأَخْرَجَانِي إِلَى أَرْضٍ فَضَاءٍ أَوْ أَرْضٍ مُسْتَوِيَةٍ فَمَرَّا بِي عَلَى رَجُلٍ وَرَجُلٌ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ بِيَدِهِ كَلُّوبٌ مِنْ حَدِيدٍ فَيُدْخِلُهُ فِي شِدْقِهِ فَيَشُقُّهُ حَتَّى يَبْلُغَ قَفَاهُ ثُمَّ يُخْرِجُهُ فَيُدْخِلُهُ فِي شِقِّهِ الْآخَرِ وَيَلْتَئِمُ هَذَا الشِّقُّ فَهُوَ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهِ قُلْتُ مَا هَذَا قَالَا انْطَلِقْ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَإِذَا رَجُلٌ مُسْتَلْقٍ عَلَى قَفَاهُ وَرَجُلٌ قَائِمٌ بِيَدِهِ فِهْرٌ أَوْ صَخْرَةٌ فَيَشْدَخُ بِهَا رَأْسَهُ فَيَتَدَهْدَى الْحَجَرُ فَإِذَا ذَهَبَ لِيَأْخُذَهُ عَادَ رَأْسُهُ كَمَا كَانَ فَيَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالَا لِيَ انْطَلِقْ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا فَإِذَا بَيْتٌ مَبْنِيٌّ عَلَى بِنَاءِ التَّنُّورِ وَأَعْلَاهُ ضَيِّقٌ وَأَسْفَلُهُ وَاسِعٌ يُوقَدُ تَحْتَهُ نَارٌ فَإِذَا فِيهِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ عُرَاةٌ فَإِذَا أُوقِدَتْ ارْتَفَعُوا حَتَّى يَكَادُوا أَنْ يَخْرُجُوا فَإِذَا خَمَدَتْ رَجَعُوا فِيهَا فَقُلْتُ مَا هَذَا قَالَا لِيَ انْطَلِقْ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا نَهَرٌ مِنْ دَمٍ فِيهِ رَجُلٌ وَعَلَى شَطِّ النَّهَرِ رَجُلٌ بَيْنَ يَدَيْهِ حِجَارَةٌ فَيُقْبِلُ الرَّجُلُ الَّذِي فِي النَّهَرِ فَإِذَا دَنَا لِيَخْرُجَ رَمَى فِي فِيهِ حَجَرًا فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ فَهُوَ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهِ فَقُلْتُ مَا هَذَا فَقَالَا انْطَلِقْ فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا رَوْضَةٌ خَضْرَاءُ فَإِذَا فِيهَا شَجَرَةٌ عَظِيمَةٌ وَإِذَا شَيْخٌ فِي أَصْلِهَا حَوْلَهُ صِبْيَانٌ وَإِذَا رَجُلٌ قَرِيبٌ مِنْهُ بَيْنَ يَدَيْهِ نَارٌ فَهُوَ يَحْشُشُهَا وَيُوقِدُهَا فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ فَأَدْخَلَانِي دَارًا لَمْ أَرَ دَارًا قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا فَإِذَا فِيهَا رِجَالٌ شُيُوخٌ وَشَبَابٌ وَفِيهَا نِسَاءٌ وَصِبْيَانٌ فَأَخْرَجَانِي مِنْهَا فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ مِنْهَا فِيهَا شُيُوخٌ وَشَبَابٌ فَقُلْتُ لَهُمَا إِنَّكُمَا قَدْ طَوَّفْتُمَانِي مُنْذُ اللَّيْلَةِ فَأَخْبِرَانِي عَمَّا رَأَيْتُ فَقَالَا نَعَمْ أَمَّا الرَّجُلُ الْأَوَّلُ الَّذِي رَأَيْتَ فَإِنَّهُ رَجُلٌ كَذَّابٌ يَكْذِبُ الْكَذِبَةَ فَتُحْمَلُ عَنْهُ فِي الْآفَاقِ فَهُوَ يُصْنَعُ بِهِ مَا رَأَيْتَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَصْنَعُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ مَا شَاءَ وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي رَأَيْتَ مُسْتَلْقِيًا فَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْقُرْآنَ فَنَامَ عَنْهُ بِاللَّيْلِ وَلَمْ يَعْمَلْ بِمَا فِيهِ بِالنَّهَارِ فَهُوَ يُفْعَلُ بِهِ مَا رَأَيْتَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَأَمَّا الَّذِي رَأَيْتَ فِي التَّنُّورِ فَهُمْ الزُّنَاةُ وَأَمَّا الَّذِي رَأَيْتَ فِي النَّهَرِ فَذَاكَ آكِلُ الرِّبَا وَأَمَّا الشَّيْخُ الَّذِي رَأَيْتَ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ فَذَاكَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام وَأَمَّا الصِّبْيَانُ الَّذِي رَأَيْتَ فَأَوْلَادُ النَّاسِ وَأَمَّا الرَّجُلُ الَّذِي رَأَيْتَ يُوقِدُ النَّارَ وَيَحْشُشُهَا فَذَاكَ مَالِكٌ خَازِنُ النَّارِ وَتِلْكَ النَّارُ وَأَمَّا الدَّارُ الَّتِي دَخَلْتَ أَوَّلًا فَدَارُ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَأَمَّا الدَّارُ الْأُخْرَى فَدَارُ الشُّهَدَاءِ وَأَنَا جِبْرِيلُ وَهَذَا مِيكَائِيلُ ثُمَّ قَالَا لِيَ ارْفَعْ رَأْسَكَ فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا هِيَ كَهَيْئَةِ السَّحَابِ فَقَالَا لِي وَتِلْكَ دَارُكَ فَقُلْتُ لَهُمَا دَعَانِي أَدْخُلْ دَارِي فَقَالَا لِي إِنَّهُ قَدْ بَقِيَ لَكَ عَمَلٌ لَمْ تَسْتَكْمِلْهُ فَلَوْ اسْتَكْمَلْتَهُ دَخَلْتَ دَارَكَ

حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ فجر کی نماز پڑھ کر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرماتے تھے کہ کہ تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے اگر کسی نے کوئی خواب دیکھا ہوتا تو بیان کردیتا اور آپ اللہ کی مشیت کے موافق اس کی تعبیر دے دیتے تھے۔ چنانچہ حسب دستور ایک روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے پوچھا کہ تم میں سے کسی نے کوئی خواب دیکھا ہے ہم نے عرض کیا نہیں آپ نے فرمایا میں نے آج رات خواب میں دیکھا ہے کہ دو آدمی میرے پاس آئے اور میرے ہاتھ پکڑ کر مجھے پاک زمین کی طرف لے گئے وہاں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا اور ایک آدمی کھڑا ہوا تھا جس کے ہاتھ میں لوہے کا آنکڑا تھا کھڑا ہوا آدمی بیٹھے ہوئے آدمی کے منہ میں وہ آنکڑا ڈال کر ایک طرف سے اس کا جبڑا چیر کر گدی سے ملا دیتا تھا اور پھر دوسرے جبڑے کو بھی اس طرح چیر کر گدی سے ملا دیتا تھا اتنے میں پہلا جبڑا صحیح ہوجاتا تھا اور وہ دوبارہ اسی طرح چیرتا تھا۔ میں نے دریافت کیا یہ کیا بات ہے؟ ان دونوں شخصوں نے کہا آگے چلو ہم آگے چل دیئے ایک جگہ پہنچ کر دیکھا کہ ایک شخص چت لیٹا ہوا ہے اور ایک آدمی اس کے سر پر پتھر لئے کھڑا ہے اور پتھر سے اس کا سر کچل دیا جاتا ہے جب اس کے سر پر پتھر مارا جاتا ہے تو پتھر لڑھک کر دور چلاجاتا ہے وہ آدمی پتھر لینے چلاجاتا ہے اتنے میں اس کا سر جڑ جاتا ہے اور مارنے والا آدمی پھر واپس آکر اس کو مارتا ہے میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے ان دونوں شخصوں نے کہا کہ آگے چلو ہم آگے چل دیئے ایک جگہ دیکھا کہ تنور کی طرح ایک گڑھا ہے جس کا منہ تنگ ہے اور اندر سے کشادہ ہے برہنہ مرد و عورت اس میں موجود ہیں اور آگ بھی اس میں جل رہی ہے جب آگ تنور کے کناروں کے قریب آجاتی ہے تو وہ لوگ اوپر اٹھ آتے ہیں اور باہر نکلنے کے قریب ہوجاتے ہیں اور جب آگ نیچے ہوجاتی ہے تو سب لوگ اندر ہوجاتے ہیں میں نے پوچھا یہ کون ہیں ان دونوں نے کہا آگے چلو ہم آگے چل دیئے اور ایک خون کی ندی پر پہنچے جس کے اندر ایک آدمی کھڑا تھا اور ندی کے کنارہ پر ایک اور آدمی موجود تھا جس کے آگے پتھر رکھے ہوئے تھے اور اندر آدمی جب باہر نکلنے کے لئے آگے بڑھتا تو باہر والا اس کے منہ پر پتھر مارتا وہ پیچھے ہٹ جاتا اور اصلی جگہ پر پہنچا دیتا تھا دوبارہ پھر اندر والا آدمی جب باہر نکلنے کے لئے آگے بڑھتا تو باہر والا آدمی اس کے منہ پر پتھر مارتا تھا اور اصلی جگہ پر پہنچا دیتا تھا۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں ان دونوں شخصوں نے کہا آگے چلو ہم آگے چل دیئے ایک جگہ دیکھا کہ ایک درخت کے نیچے جڑ کے پاس ایک بوڑھا آدمی اور کچھ لڑکے موجود ہیں اور درخت کے قریب ایک اور آدمی ہے جس کے سامنے آگ موجود ہے اور وہ آگ جلا رہا ہے میرے دونوں ساتھی مجھے اس درخت کے اوپر چڑھا لے گئے اور ایک مکان میں داخل کیا جس سے بہتر اور عمدہ میں نے کبھی کوئی مکان نہیں دیکھا گھر کے اندر مرد بھی تھے اور عورتیں بھی تھیں اور بوڑھے جوان بھی اور بچے بھی اس کے بعد وہ دونوں ساتھی مجھے اس مکان سے نکال کر درخت کے اوپر چڑھے اور وہاں ایک اور مکان میں داخل ہوئے جس سے بہتر میں نے کبھی کوئی مکان نہیں دیکھا اس میں بھی بڈھے جوان سب طرح کے آدمی تھے آخر کار میں نے کہا کہ تم دونوں نے مجھے رات بھر گھمایا اب جو کچھ میں نے دیکھا ہے اس کی تفصیل تو بیان کرو انہوں نے کہا اچھا ہم بتاتے ہیں۔ جس شخص کو تم نے گلپھڑے چرتے ہوئے دیکھا تھا وہ جھوٹا آدمی تھا کہ جھوٹی باتیں بنا کر لوگوں سے کہتا تھا اور لوگ اس سے سیکھ کر اوروں سے نقل کرتے تھے یہاں تک کہ سارے جہان میں وہ جھوٹ مشہور ہوجاتا تھا قیامت تک اس پر یہ عذاب ہوتا رہے گا۔ اور جس شخص کا سر کچلتے ہوئے تم نے دیکھا تھا اس شخص کو اللہ نے قرآن کا علم دیا تھا لیکن وہ قرآن سے غافل ہو کر رات کو سوجاتا تھا اور دن کو اس پر عمل نہ کرتا تھا قیامت تک اس کو اسی طرح عذاب ہوتا رہے گا۔ اور جن لوگوں کو تم نے گڑھے میں دیکھا تھا وہ لوگ زناکار تھے اور جس شخص کو تم نے خون کی نہر میں دیکھا تھا وہ شخص سودخور تھا اور درخت کی جڑ کے پاس جس بوڑھے مرد کو تم نے دیکھا تھا وہ حضرت ابراہیم تھے اور وہ لڑکے لوگوں کی وہ اولادیں تھیں جو بالغ ہونے سے قبل مرگئے تھے اور جو شخص بیٹھا ہوا آگ بھڑکا رہا تھا تو وہ مالک داروغہ تھا اور اول جس مکان میں تم داخل ہوئے تھے وہ عام ایمان داروں کا مکان تھا اور یہ مکان شہیدوں کا ہے اور میں جبرائیل ہوں اور یہ میکائیل ہیں اب تم اپنا سر اٹھاؤ میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو میرے اوپر ابر سایہ کئے ہوئے تھا انہوں نے کہا یہ تمہارا مقام ہے میں نے کہا کہ مجھے اب اپنے مکان میں جانے دو انہوں نے کہا کہ ابھی تمہاری مدت حیات باقی ہے عمر پوری نہیں ہوئی جب مدت زندگی پوری کرچکو گے تو اپنے مکان میں آجاؤ گے۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ، ← جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20427

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23482

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ بِمُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فِي قَبْرِهِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میرا گذر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ہوا جو اپنی قبر میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔

أَنَسٍ أَنَّ بَعْضَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← سُلَیْمَانَ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23482

chevron_left Previous
1…91011…226
Next chevron_right