Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الأنبياء والتاريخ

Prophets & History

4507 hadiths

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُوسُفَ · حديث 3324

3324 - أَخْبَرَنِي الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ الضَّبِّيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، " {قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ} [يوسف: 41] قَالَ: لَمَّا حَكَيَا مَا رَأَيَاهُ، وَعَبَّرَ يُوسُفُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ أَحَدُهُمَا: مَا رَأَيْنَا شَيْئًا. فَقَالَ: قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ»

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس آیت: "قُضِيَ ٱلۡأَمۡرُٱلَّذِي فِيهِ تَسۡتَفۡتِيَانِ" (یوسف:41) "حکم ہو چکا اس بات کا جس کا تم سوال کرتے تھے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ (کے بارے میں) فرماتے ہیں : جب حضرت یوسف علیہ السلام نے ان دونوں کی (بیان کردہ) خوابوں کی تعبیر بیان کر دی تو ان میں سے ایک نے کہا: ہم نے تو کچھ دیکھا ہی نہیں ( بلکہ ہم نے تو سرا سر جھوٹ بولا تھا) تو حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا: تم لوگوں نے جو پوچھا تھا اس کے متعلق فیصلہ کر دیا گیا ہے۔ (خواب تم نے دیکھا تھا یا نہیں) ۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَحَدُهُمَا: مَا رَأَيْنَا شَيْئًا. ← لَمَّا حَكَيَا مَا رَأَيَاهُ، وَعَبَّرَ يُوسُفُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ {قُضِيَ الْأَمْرُ الَّذِي فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ} [يوسف: ← الْأَسْوَدِ، ← إِبْرَاهِيمَ، ← عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ الضَّبِّيِّ، ← سُفْيَانَ، ← مُوسَی بْنُ مَسْعُودٍ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Yusuf · Hadith 3324

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْكَهْفِ · حديث 3399

3399 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ الْعِجْلِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ ذَرَارِيَّ الْمُؤْمِنِينَ فِي الْجَنَّةِ يَكْفُلُهُمْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " وَقَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ أَطْفَالِ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ: «اللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا كَانُوا عَامِلِينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3399 - صحيح

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مومنوں کی اولاد جنت میں رہیں گے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام ان کی کفالت کریں گے۔ یہ حدیث صحیح الاسنا دہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری ْ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ سے مشرکوں کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے جو وہ عمل کرنے والے تھے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ضَمْرَةَ، ← عَطَاءُ بْنُ قُرَّةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحِ بْنِ مُسْلِمٍ الْعِجْلِيُّ، ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat al-Kahf · Hadith 3399

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الْحَجِّ · حديث 3450

3450 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ الصَّغَانِيُّ: وَحَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَهُوَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ قَدْ فَاوَتَ بَيْنَ أَصْحَابِهِ السَّيْرَ فَرَفَعَ بِهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ صَوْتَهُ " {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ يَوْمَ تَرَوْنَهَا تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَتَرَى النَّاسَ سُكَارَى وَمَا هُمْ بِسُكَارَى وَلَكِنَّ عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ} [الحج: 2] فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ أَصْحَابُهُ حَثُّوا الْمَطِيَّ وَعَرَفُوا أَنَّهُ عِنْدَهُ قَوْلٌ يَقُولُهُ، فَلَمَّا تَأَشَّبُوا حَوْلَهُ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ أَيُّ يَوْمٍ ذَاكُمْ؟» قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: " ذَاكَ يَوْمَ يُنَادَى آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيُنَادِيهِ رَبُّهُ فَيَقُولُ: يَا آدَمُ ابْعَثْ بَعْثَ النَّارِ. فَيَقُولُ: يَا رَبِّ وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ فَيَقُولُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُمِائَةٌ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ فِي النَّارِ وَوَاحِدٌ فِي الْجَنَّةِ " قَالُوا: فَأُبْلِسُوا حَتَّى مَا أَوْضَحُوا بِضَاحِكَةٍ، فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ قَالَ: «اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنَّكُمْ لَمَعَ خَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا مَعَ شَيْءٍ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ، يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَمَا هَلَكَ مِنْ بَنِي آدَمَ وَمِنْ بَنِي إِبْلِيسَ» قَالَ: فَسَرَّى ذَلِكَ عَنِ الْقَوْمِ فَقَالَ: «اعْمَلُوا وَأَبْشِرُوا فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ أَوْ كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ وَأَكْثَرُ أَئِمَّةِ الْبَصْرَةِ عَلَى أَنَّ الْحَسَنَ قَدْ سَمِعَ مِنْ عِمْرَانَ غَيْرَ أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3450 - قد مر تصحيحه

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ ایک سفر میں تھے کہ شرکائے قافلہ ایک دوسرے سے بہت دور رہ گئے۔ تو آپ ﷺ نے یہ دو آیتیں بلند آواز سے پڑھیں: یایھا الناس اتقو ا ربکم ان زلزلۃ الساعۃ شیء عظیم ( الحج : 1) "اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو بے شک قیامت کا زلزلہ بڑی سخت چیز ہے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یوم ترونھا تذھل کل مرضعۃ عما ارضعت وتضع کل ذات حمل حملھا وتری الناس سکاری وما ہم بسکاری ولکن عذاب اللہ شدید (الحج :2) " جس دن تم اسے دیکھو گے ہر دودھ پلانے والی اپنےد ودھ پیتے کو بھول جائے گی اور گابھنی اپنا گابھ ڈال دے گیاور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہوں اور نشہ میں نہ ہوں گے مگر یہ ہے کہ اللہ کی مار کڑی ہے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) جب صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کی آواز میں یہ آیات سنیں تو سواریاں تیز کر لیں اور وہ یہ سمجھے کہ شاید آپ کے پاس کوئی بات ہے جو آپ کہنا چاہ رہے ہیں۔ جب تمام لوگ آپ کے گرد جمع ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم جانتے ہو کہ (ان آیات میں جس دن کا ذکر ہے) یہ کون سا دن ہے؟ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں۔ آُ ﷺ نے فرمایا: یہ وہ دن ہے جس میں آدم علیہ السلام دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام سے فرمائے گا: اے آدم: دوزخیوں کو دوزخ میں بھیج دو۔ آدم علیہ السلام عرض کریں گے۔ دوزخی کون ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہر ہزار میں سے 999 لوگ جہنم میں اور ایک جنت میں بھیج دو (یہبات سن کر) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین شدید پریشان ہو گئے حتیٰ کہ کسی کے چہرے پر کچھ بھی مسکراہٹ نہ رہی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی یہ حالت دیکھی تو فرمایا: تم اعمال صالحہ کرتے رہو اور خوش ہو جاؤ ، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تمہیں یا جوج اور ماجوج ایسی دو مخلوقوں کی معیت حاصل ہے کہ یہ جن کے ساتھ ہوں، ان کو زیادہ کر دیں گی اور یہ جتنے انسان اور شیاطین ہلاک ہو چکے ہیں (سب سے زیادہ ہیں)(یہ بات سن کر) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین خوش ہوگئے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تم اعمال صالحہ اپناؤ اور خوش ہو جاؤ ۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے تمام لوگوں میں تمہاری تعداد صرف اتنی ہی ہو گی جتنی کسی جانور کے پہلو میں تل کا نشان ، یا کسی اونٹ کے پہلو میں سفید نشان۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور اکثر بصرہ کے آئمہ رحمۃ اللہ علیہ کا موقف ہے کہ حسن نے عمران سے سماع کیا ہے تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ ان کی روایات نقل نہیں کی ہیں۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← الْحَسَنِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← الصَّغَانِيُّ: وَحَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ← قَتَادَةَ ← شَیْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Hajj · Hadith 3450

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8222

8222 - أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " كَانَ سُلَيْمَانُ نَبِيُّ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ رَأَى شَجَرَةً نَابِتَةً بَيْنَ يَدَيْهِ، فَيَقُولُ: مَا اسْمُكِ؟ فَتَقُولُ: كَذَا، فَيَقُولُ: لِأَيِّ شَيْءٍ أَنْتِ؟ فَتَقُولُ: لِكَذَا وَكَذَا، فَإِنْ كَانَتْ لِدَوَاءٍ كَتَبَ، وَإِنْ كَانَتْ لِغَرْسٍ غُرِسَتْ، فَبَيْنَمَا هُوَ يُصَلِّي يَوْمًا إِذْ رَأَى شَجَرَةً نَابِتَةً بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لَهَا: مَا اسْمُكِ؟ قَالَتْ: الْخَرْنُوبُ، قَالَ: لِأَيِّ شَيْءٍ أَنْتِ؟ قَالَتْ: لِخَرَابِ هَذَا الْبَيْتِ، قَالَ سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: اللَّهُمَّ عَمِّ عَلَى الْجِنِّ مَوْتِي حَتَّى يَعْلَمَ الْإِنْسُ أَنَّ الْجِنَّ لَا تَعْلَمُ الْغَيْبَ، قَالَ: فَنَحَتَهَا عَصًا فَتَوَكَّأَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَأَكَلَتْهَا الْأَرَضَةُ فَسَقَطَ فَخَرَّ فَوَجَدُوهُ مَيِّتًا حَوْلًا، فَتَبَيَّنَتِ الْإِنْسُ أَنَّ الْجِنَّ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا حَوْلًا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ «وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَؤُهَا هَكَذَا، فَشَكَرَتِ الْجِنُّ الْأَرَضَةَ فَكَانَتْ تَأْتِيهَا بِالْمَاءِ حَيْثُ كَانَتْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8222 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت سلیمان علیہ السلام جب نماز کےلئے کھڑے ہوتے تو کوئی ایک بوٹی آپ کے سامنے اگتی،آپ اس سے اس کا نام پوچھتے، وہ اپنا نام بتاتی، آپ اس سے پوچھتے کہ تو کس کام آتی ہے؟ وہ اپنے فوائد بتاتی، اگر وہ کسی دوا میں کام آنے کی ہوتی تو آپ اس کا نسخہ لکھ لیتے اور اگر وہ کاشت کرنے کی ہوتی تو اس کو کاشت کر دیتے۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہہ آپ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے اپنے سامنے ایک بوٹی اگتی ہوئی دیکھی، آپ نے اس سے نام پوچھا، اس نے بتایا کہ میرا نام "خرنوب" ہے۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ تو کس لئے بنائی گئی ہے؟ اس نے بتایا کہ مجھے گھر اُجاڑنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے، حضرت سلیمان علیہ السلام نے دعا مانگی کہ یا اللہ ! جنات سے میری موت کو پوشیدہ رکھنا، تاکہ انسانوں کو یقین ہو جائے کہ جنات غیب نہیں جانتے، حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک عصا تیار کروایا اور اس کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہو گئے، (اسی کیفیت میں آپ کی روح پرواز کر گئی، اور آپ برابر ٹیک لگا کر کھڑے رہے) زمین نے اس عصا کو کھا لیا ، تب وہ عصا گر گیا، اور سلیمان علیہ السلام گر گئے۔ تب جنات کو پتا چلا کہ آپ تو گزشتہ ایک سال سے وفات پا چکے ہیں، اس سے انسانوں کو یقین ہو گیا کہ اگر جنات غیب جانتے ہوتے تو یہ پورا سال اس قدر مشقت میں نہ رہتے۔ حضرت عبداللہ بن عباس اسی طرح سنایا کرتے تھے، جنات نے زمین کا شکریہ اس انداز سے ادا کیا کہ زمین میں ہر جگہ پر انہوں ن پانی پہنچادیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، ← أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 8222

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8620

8620 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثَنَا أَبِي، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا عَمِّي، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي عَمْرٍو السَّيْبَانِيِّ، عَنْ حَدِيثٍ عَمْرٍو الْحَضْرَمِيِّ مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَكَانَ أَكْثَرَ خُطْبَتِهِ ذِكْرَ الدَّجَّالِ، يُحَدِّثُنَا عَنْهُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ فَكَانَ فِيمَا قَالَ لَنَا يَوْمَئِذٍ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا إِلَّا حَذَّرَ أُمَّتَهُ الدَّجَّالَ، وَإِنِّي آخِرُ الْأَنْبِيَاءِ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ، وَهُوَ خَارِجٌ فِيكُمْ لَا مَحَالَةَ، فَإِنْ يَخْرُجْ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ فَأَنَا حَجِيجُ كُلِّ مُسْلِمٍ، وَإِنْ يَخْرُجْ فِيكُمْ بَعْدِي فَكُلُّ امْرِئٍ حَجِيجُ نَفْسِهِ، وَاللَّهُ خَلِيفَتِي عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ، إِنَّهُ يَخْرُجُ مِنْ خَلَّةٍ بَيْنَ الْعِرَاقِ وَالشَّامِ، فَعَاثَ يَمِينًا وَعَاثَ شِمَالًا، يَا عِبَادَ اللَّهِ فَاثْبُتُوا فَإِنَّهُ يَبْدَأُ فَيَقُولُ: أَنَا نَبِيٌّ وَلَا نَبِيَّ بَعْدِي، ثُمَّ يُثْنِي حَتَّى يَقُولَ: أَنَا رَبُّكُمْ وَإِنَّكُمْ لَمْ تَرَوْا رَبَّكُمْ حَتَّى تَمُوتُوا، وَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ يَقْرَأُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ، فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْكُمْ فَلْيَتْفُلْ فِي وَجْهِهِ، وَلْيَقْرَأْ فَوَاتِحَ سُورَةِ أَصْحَابِ الْكَهْفِ، وَإِنَّهُ يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ مِنْ بَنِي آدَمَ فَيَقْتُلُهَا، ثُمَّ يُحْيِيهَا، وَأَنَّهُ لَا يَعْدُو ذَلِكَ وَلَا يُسَلَّطُ عَلَى نَفْسٍ غَيْرِهَا، وَأَنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنَّ مَعَهُ جَنَّةً وَنَارًا فَنَارُهُ جَنَّةٌ وَجَنَّتُهُ نَارٌ، فَمَنِ ابْتُلِيَ بِنَارِهِ فَلْيُغْمِضْ عَيْنَيْهِ وَلْيَسْتَغِثْ بِاللَّهِ تَكُونُ عَلَيْهِ بَرْدًا وَسَلَامًا كَمَا كَانَتِ النَّارُ بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَنَّ مِنْ فِتْنَتِهِ أَنَّ يَمُرَّ عَلَى الْحَيِّ فَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيُصَدِّقُونَهُ فَيَدْعُو لَهُمْ فَتُمْطِرُ السَّمَاءُ عَلَيْهِمْ مِنْ يَوْمِهِمْ وَتُخْصِبُ لَهُمُ الْأَرْضُ مِنْ يَوْمِهَا، وَتَرُوحُ عَلَيْهِمْ مَاشِيَتُهُمْ مِنْ يَوْمِهَا أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ وَأَمَدَّهُ خَوَاصِرَ وَأَدَرَّهُ ضُرُوعًا، وَيَمُرُّ عَلَى الْحَيِّ فَيَكْفُرُونَ بِهِ وَيُكَذِّبُونَهُ فَيَدْعُو عَلَيْهِمْ فَلَا يُصْبِحُ لَهُمْ سَارِحٌ يَسْرَحُ، وَأَنَّ أَيَّامَهُ أَرْبَعُونَ فَيَوْمٌ كَسَنَةٍ وَيَوْمٌ كَشَهْرٍ وَيَوْمٌ كَجُمُعَةٍ وَيَوْمٌ كَالْأَيَّامِ، وَآخِرُ أَيَّامِهِ كَالسَّرَابِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ عِنْدَ بَابِ الْمَدِينَةِ فَيُمْسِي قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ بَابَهَا الْآخِرَةَ " قَالُوا: كَيْفَ نُصَلِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي تِلْكَ الْأَيَّامِ الْقِصَارِ؟ قَالَ: «تَقْدُرُونَ فِيهَا ثُمَّ تُصَلُّونَ كَمَا تَقْدُرُونَ فِي الْأَيَّامِ الطِّوَالِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8620 - على شرط مسلم

حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ہمیں خطہ دیا ، اس دن زیادہ گفتگود جال کے موضوع پر فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے اسی کے بارے میں باتیں کرتے کرتے خطبہ ختم فرمادیا ۔ اس دن آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے دجال کے بارے میں جو کچھ بتایا اس میں سے یہ بھی تھا کہ اللہ تعالی نے جس نبی کو بھی مبعوث فرمایا ہے، اس نے اپنی امت کو دجال کے خطرے سے آگاہ کیا، اور میں سب سے آخری نبی ہوں ، اورتم آخری امت ہو۔ اور وہ تمہارے اندر لا زمی ظاہر ہوگا، اگر وہ میری موجودگی میں تمہارے اندر ظاہر ہوگیا تو ہر مسلمان کی طرف سے اس کا مقابلہ میں کروں گا اور اگر وہ میرے بعد آیا توہرشخص اپنا زمہ دارخود ہو گا ۔ اور ہر مسلمان کا نگران خود اللہ رب العزت ہوگا، وہ عراق اور شام کے درمیان خلہ(کے مقام )سے نکلے گا، وہ دائیں اور بائیں بہت فساد پھیلائے گا، اے اللہ کے بندو، ثابت قدم رہنا، کیونکہ وہ شروع ہی میں نبوت کا دعویٰ کرے گا حالانکہ آخری نبی میں ہوں، پھر وہ مزید آگے بڑھے گا اور خدائی کا دعوی ٰکر دے گا، کہے گا : میں تمہارا رب ہوں، حالانکہ زندگی میں تم رب کو دیکھ نہیں سکتے ، اس کی آنکھوں کے درمیان "کافر" لکھا ہوا ہوگا، ہر مومن اس کو پڑھ سکے گا، جو شخص اس کو ملے ، وہ اس کی طرف تھوک دے اور سورہ کہف کی ابتدائی آیات پڑھے ، وہ ایک آدی کو پکڑ کرقتل کر دے گا پھر اس کو زندہ کر دے گا، اور وہ اس ایک آدمی کے علاوہ اور کسی پر مسلط نہیں ہو سکے گا اور نہ کسی پر زیادتی کر سکے گا۔ اس کے فتنہ میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے ساتھ جنت اور دوزخ ہوگی ، ان کی دوزخ حقیقت میں جنت ہوگی اور اس کی جنت اصل میں آگ ہوگی ، جو اس کی آگ کی آزمائش کو قبول کرلے گا، اپنی آنکھوں کو بند کر کے اس میں داخل ہو جائے گا اور الله تعالی سے مدد مانگے گا تو وہ آگ اس کےلئے سلامتی والی ٹھنڈی ہو جائے گی ، جیسا کہ حضرت ابراہیم ؑپر آگ ٹھنڈی ہوگئی تھی۔ اس کے فتنے میں سے یہ بھی ہوگا کہ وہ جس قبیلے میں سے گزرے گا وہ اس پر ایمان لے آئیں گے اور اس کی تصدیق کریں گے۔ یہ ان کے لئے دعا کرے گا، تو اسی دن آسمان سے ان پر برسات نازل ہو جائے گی ، اسی دن پوری زمین سرسبز کر دے گا۔ ایک ہی دن میں ان کے مویشی پہلے سے تندرست اور توانا اور زیادہ دودھ والے ہو جا ئیں گے ، وہ ایک اور قبیلے سے گزرے گا تو وہاں کے باشندے اس کا انکار کریں گے ، اس کو جھٹلائیں گے ، وہ ان کے لئے بددعا کرے گا تو ان کے لئے کوئی چرواہا نہیں رہے گا جو ان کے مال مویشی چرائے ، وہ چالیس دن رہے گا۔ پہلا دن ایک سال کے برابر ہوگا ، دوسرا ایک مہینے کے برابر تیسرا ایک ہفتے کے برابر اور اسکے بعد کے دن ہمارے عام دنوں کی طرح ہوں گے ، اور اس کا آخری دن سراب کی طرح ہوگا، ایک آدمی مدینہ کے دروازے کے پاس صبح کرے گا، وہ دوسرے دروازے تک نہیں پہنچا ہوگا کہ شام ہو جائے گی ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے پوچھا: یا رسول اللہصلی اللہ علیہ و الہ وسلم ان چھوٹے چھوٹے دنوں میں ہم نماز کیسے پڑھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا: جیسے لمبے دنوں میں وقت کا حساب لگا کر نماز میں پڑھی ہوں گی اسی طرح ان مختصر ایام میں نمازیں پڑھنا۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، ← حَدِيثِ، عَمْرٍو الْحَضْرَمِيِّ مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ ← يحيى بن أبي عمرو السيباني ← عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عَمِّي، ← أَبِي، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ الْقُرَشِيُّ، ← أبو الحسن أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مهران،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8620

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8628

8628 - أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاطِ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ، وَأَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ فِي مُدِّهِمْ وَفِي صَاعِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي مَدِينَتِهِمْ، اللَّهُمَّ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَبْدُكَ وَخَلِيلُكَ، وَأَنَا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ، وَإِنَّ إِبْرَاهِيمَ سَأَلَكَ لِمَكَّةَ وَإِنِّي أَسْأَلُكَ لِلْمَدِينَةِ مِثْلَ مَا سَأَلَكَ إِبْرَاهِيمُ لِمَكَّةَ وَمِثْلَهُ مَعَهُ، أَلَا إِنَّ الْمَدِينَةَ مُشْتَبِكَةٌ بِالْمَلَائِكَةِ، عَلَى كُلِّ نَقْبٍ مَنْهَا مَلَكَانِ يَحْرُسَانِهَا، لَا يَدْخُلُهَا الطَّاعُونُ وَالدَّجَّالُ، مَنْ أَرَادَ أَهْلَهَا بِسُوءٍ أَذَابَهُ اللَّهُ كَمَا يَذُوبُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8628 - على شرط مسلم

۸۶۲۸-حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یوں دعا مانگی " اے اللہ اہل مدینہ کے " مد" اور ان کے " صاع" میں برکت عطا فرما ، اور ان کے شہر میں برکت عطا فرما ، اے اللہ بےشک حضرت ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے اور خلیل ہیں اور میں تیرا بندہ اور رسول ہوں ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تجھ سے مکہ کے لئے دعا مانگی تھی ، اور میں اسی طرح کی تجھ سے مدینہ کے لئے مانگتا ہوں " ۔خبردار! مدینہ منورہ فرشتوں سے بھرا ہوا ہے اس کے ہر دروازے پر فرشتے مقررہیں جو کہ اس کی حفاظت کرتے ہیں ، اس شہر میں دجال اور طاعون داخل نہیں ہو سکتا ، جو شخص وہا ں کے رہنے والوں کو نقصان دینا چاہے گا ، اللہ تعالی اس کو طرح پگھلا دے گا جیسے پانی میں نمک پگھل جاتا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رضی اللہ عنہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

سعد بن مالك وأبا هريرة يقولان ← أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَرَّاطِ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أحمد بن محمد بن سلمة العنزي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The book of charms and epics › The merits of all Arabs · Hadith 8628

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجَنَائِزِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 1275

1275 - أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّارَبَرْدِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا: ثنا هُشَيْمٌ، أَنْبَأَ يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَيٍّ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَمَّا حُضِرَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَالَ لِبَنِيهِ: انْطَلِقُوا فَاجْنُوا لِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَخَرَجَ بَنَوْهُ فَاسْتَقْبَلَتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ فَقَالُوا: أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا بَنِي آدَمَ؟ قَالُوا: بَعْثَنَا أَبُونَا لِنَجْنِيَ لَهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، قَالَ: ارْجِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ ". قَالَ: " فَرَجَعُوا مَعَهُمْ حَتَّى دَخَلُوا عَلَى آدَمَ، فَلَمَّا رَأَتْهُمْ حَوَّاءُ ذُعِرَتْ مِنْهُمْ وَجَعَلَتْ تَدْنُو إِلَى آدَمَ وَتَلْتَصِقُ بِهِ، فَقَالَ لَهَا آدَمُ: إِلَيْكِ عَنِّي إِلَيْكِ عَنِّي، فَمِنْ قِبَلِكِ أُتِيتُ خَلِّ بَيْنِي وَبَيْنَ مَلَائِكَةِ رَبِّي قَالَ: فَقَبَضُوا رُوحَهُ، ثُمَّ غَسَّلُوهُ وَحَنَّطُوهُ وَكَفَّنُوهُ، ثُمَّ صَلَّوْا عَلَيْهِ، ثُمَّ حَفَرُوا لَهُ ثُمَّ دَفَنُوهُ، ثُمَّ قَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ هَذِهِ سُنَّتُكُمْ فِي مَوْتَاكُمْ، فَكَذَاكُمْ فَافْعَلُوا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَهُوَ مِنَ النَّوْعِ الَّذِي لَا يُوجَدُ لِلتَّابِعِيِّ إِلَّا الرَّاوِي الْوَاحِدُ، فَإِنَّ عُتَيَّ بْنَ ضَمْرَةَ السَّعْدِيَّ لَيْسَ لَهُ رَاوٍ غَيْرُ الْحَسَنِ، وَعِنْدِي أَنَّ الشَّيْخَيْنِ عَلَّلَاهُ بِعِلَّةٍ أُخْرَى، وَهُوَ أَنَّهُ رُوِيَ عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أُبَيٍّ دُونَ ذِكْرِ عُتَيٍّ»

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب آدم علیہ السلام کا آخری وقت آیا تو آپ علیہ السلام نے اپنے بیٹوں سے کہا : جاؤ میرے لئے جنت کے کچھ پھل لے کر آؤ ۔ آپ علیہ السلام کے بیٹے (پھل لینے ) چل دئیے ۔ آگے سے فرشتوں سے ملاقات ہوگئی ، فرشتوں نے پوچھا :اے آدم علیہ السلام کے بیٹو! تم کہا ں جا رہے ہو ؟انہوں نے جواب دیا :ہمارے والد نے ہمیں جنت کے پھل لینے کے لئے بھیجا ہے ، فرشتوں نے کہ ا: تم لوٹ جاؤ ، کیونکہ جتنے پھل تم نے کھانے تھے ، کھا لئے ہیں (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) فرماتے ہیں : یہ لوگ فرشتوں کے ہمراہ واپس لوٹ آئے اور آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو گئے ، جب حضرت حوا رضی اللہ عنہا نے ان کو دیکھا تو ان سے خوفزدہ ہو کر آدم علیہ السلام کے قریب آ گئیں اور ان کے ساتھ چپکنے لگیں ، آدم علیہ السلام نے ان سے فرمایا : میرے اور میرے رب کے فرشتوں کے درمیان راستہ چھوڑ دو ، آپ فرماتے ہیں : پھر نے آپ علیہ السلام کی روح کو قبض کیا پھر ان کو غسل دیا ، ان کو خوشبو لگائی اور ان کو کفن پہنایا پھر ان کی نماز جنازہ پڑھی پھر ان کے لئے قبر کھود کر آپ علیہ السلام کو اس میں دفن کر دیا ۔پھر فرمایا : اے نبی آدم ! مردوں کے متعلق تمہارا یہ طریقہ ہے لہذا اسی طریقے پر تم عمل کرتے رہنا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا اور اس حدیث کا تعلق اس نوع کے ساتھ ہے کہ جب تابعی سے روایت کرنے والا صرف یاک شخص ہو کیونکہ اس کی سند میں عتی بن ضمرہ السعدی کا "حسن " کے علاوہ اور کوئی راوی نہیں ہے جبکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس حدیث کو ایک دوسری وجہ سے معلل قرار دیا ہے اور وہ وجہ یہ ہے کہ یہ حدیث حسن کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کی گئی ہے ۔اس میں "عتی " کاذکر نہیں ہے ۔

ارْجِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ ← بَعْثَنَا أَبُونَا لِنَجْنِيَ لَهُ مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، ← أَيْنَ تُرِيدُونَ يَا بَنِي آدَمَ؟ ← فَخَرَجَ بَنَوْهُ فَاسْتَقْبَلَتْهُمُ الْمَلَائِكَةُ ← لِبَنِيهِ: انْطَلِقُوا فَاجْنُوا لِي مِنْ ثِمَارِ الْجَنَّةِ، ← لَمَّا حُضِرَ آدَمُ ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← عُتَيٍّ1 ← الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ← هشيم أنبأ يونس بن عبيد ← سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، ← أَبُو الْمُوَجِّهِ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الدَّارْبُرْدِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Funeral Book › Insurance section · Hadith 1275

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ الشُّعَرَاءِ · حديث 3523

3523 - حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الزُّهْرِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ تَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي إِنَّكُمْ مُتَّبَعُونَ} [الشعراء: 52] الْآيَاتُ. فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْرَابِيٍّ فَأَكْرَمَهُ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَهَّدْنَا ائْتِنَا» فَأَتَاهُ الْأَعْرَابِيُّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا حَاجَتُكَ؟» فَقَالَ: نَاقَةٌ بِرَحْلِهَا وَيَحْلِبُ لَبَنَهَا أَهْلِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَجَزَ هَذَا أَنْ يَكُونَ كَعَجُوزِ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَقَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: مَا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ: " إِنَّ مُوسَى حِينَ أَرَادَ أَنْ يَسِيرَ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ ضَلَّ عَنْهُ الطَّرِيقُ فَقَالَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ مَا هَذَا؟ قَالَ: فَقَالَ لَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ: إِنَّ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ حِينَ حَضَرَهُ الْمَوْتُ أَخَذَ عَلَيْنَا مَوْثِقًا مِنَ اللَّهِ أَنْ لَا نُخْرِجَ مِنْ مِصْرَ حَتَّى تُنْقَلَ عِظَامُهُ مَعَنَا. فَقَالَ مُوسَى: أَيُّكُمْ يَدْرِي أَيْنَ قَبْرُ يُوسُفَ؟ فَقَالَ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ مَا يَعْلَمُ أَحَدٌ مَكَانَ قَبْرِهِ إِلَّا عَجُوزٌ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا مُوسَى فَقَالَ: دُلِّينَا عَلَى قَبْرِ يُوسُفَ قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى تُعْطِيَنِي حُكْمِي. فَقَالَ لَهَا: مَا حُكْمُكِ؟ قَالَتْ: حُكْمِي أَنْ أَكُونَ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ. فَكَأَنَّهُ كَرِهَ ذَلِكَ قَالَ: فَقِيلَ لَهُ أَعْطِهَا حُكْمَهَا، فَأَعْطَاهَا حُكْمَهَا فَانْطَلَقَتْ بِهِمْ إِلَى بُحَيْرَةٍ مُسْتَنْقِعَةٍ مَاءً، فَقَالَتْ لَهُمُ أَنْضِبُوا هَذَا الْمَاءَ. فَلَمَّا أَنْضَبُوا قَالَتْ لَهُمُ: احْفِرُوا فَحَفَرُوا فَاسْتَخْرَجُوا عِظَامَ يُوسُفَ فَلَمَّا أَنْ أَقَلُّوهُ مِنَ الْأَرْضِ إِذِ الطَّرِيقُ مِثْلُ ضَوْءِ النَّهَارِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» وَلَعَلَّ وَاهِمٌ يُتَوَهَّمُ إِنَّ يُونُسَ بْنَ أَبِي إِسْحَاقَ سَمِعَ مِنَ أَبِي بُرْدَةَ حَدِيثَ «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» كَمَا سَمِعَهُ أَبُوهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3523 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت یونس بن اسحاق نے : واوحینا الیٰ موسیٰ ان اسر بعبادی انکم متبعون (الشعراء : 52) " ہم نے موسیٰ کو وحی بھیجی کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے نکل بے شک تمہارا پیچھا ہونا ہے :"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) سے چند آیات پڑھیں پھر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا:" ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ ایک دیہاتی کے پاس تشریف لے گئے، اس نے آپ ﷺ کی خوب مہمان نوازی کی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: تم ہم سے وعدہ کرو کہ ہمارے پاس آؤ گے۔ پھر ایک دفعہ وہ دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا،رسول اللہ ﷺ نے اس سے پوچھا: تیری کیا حاجت ہے؟ اس نے کہا: ایک اونٹنی کجاوہ سمیت ، جس کا دودھ میرے گھر والے پئیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ بھی بنی اسرائیل کی بڑھیا کی طرح عاجز ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! بنی اسرائیل کی بڑھیا کا کیا قصہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے ہمراہ روانگی کا ارادہ فرمایا تو راستہ بھول گئے۔ موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے پوچھا: ایسا کیوں ہوا؟ آپ کو بنی اسرائیل کے علماء نے بتایا کہ جب حضرت یوسف علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا ، تو انہوں نے ہم سے خدا کی قسم لے کر عہد لیا تھا کہ جب ہم مصر سے نکلیں گے تو ان جسم اطہر بھی اپنے ہمراہ منتقل کر کے لے جائیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: تم میں سے کوئی یہ جانتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر مبارک کہاں ہے؟ بنی اسرائیل کے علماء نے جواباً کہا: اس چیز کا علم صرف بنی اسرائیل کی ایک بڑھیا کے پاس ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس بڑھیاکی طرف پیغام بھیجا کہ ہمیں یوسف علیہ السلام کی قبر کی نشاندہی کریں ۔ اس نے کہا: پہلے مجھ سے ایک وعدہ کریں پھر بتاؤں گی۔ موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: کیا وعدہ لینا چاہتی ہو؟ اس نےکہا: یہ کہ میں جنت میں آپ کے ساتھ رہوں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ وعدہ کچھ عجیب سا لگا۔ لیکن آپ سے کہا گیا کہ اس سے وعدہ فرما لیجئے تو آپ نے اس سے جنت کاوعدہ کر لیا ، تب وہ ان کے اپنے ہمراہ لے کر پانی کی ایک جھیل پر آئیں ، جس کے پانی کا رنگ بھی بدل چکا تھا۔ اس نے کہا اس جھیل کا پانی خشک کریں۔ انہوں نے پانی خشک کر دیا۔ جب پانی خشک ہو گیا تو اس نے کہا: یہاں کھدائی شروع کردیں، انہوں نے کھودنا شروع کر دیا تو وہاں سے ان کو حضرت یوسف علیہ السلام کا جسم مبارک مل گیا۔ جب انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو زمین سے نکال لیا تو روز روشن کی طرح راستہ ان پر واضح ہو گیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔ اور ہو سکتا ہے کہ کسی کو یہ وہم ہو کہ یونس بن ابی اسحاق نے ابو ہریرہ سے " لانکاح الا بولی" والی حدیث سنی ہے جیسا کہ ان کے والد نے سنی ہے۔

لَهُ أَصْحَابُهُ: مَا عَجُوزُ بَنِي إِسْرَائِيلَ ← نَاقَةٌ بِرَحْلِهَا وَيَحْلِبُ لَبَنَهَا أَهْلِي. ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ «مَا حَاجَتُكَ؟» ← لَهُ رَسُولُ اللَّهِ «تَعَهَّدْنَا ائْتِنَا» فَأَتَاهُ الْأَعْرَابِيُّ ← نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ بِأَعْرَابِيٍّ فَأَكْرَمَهُ ← أَبِيهِ ← أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّهُ تَلَا قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: الْآيَاتُ. ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← إبراهيم بن إسحاق الزهري ← أبو الحسن علي بن محمد بن عقبة الشيباني

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat Al-Shuara · Hadith 3523

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ ص · حديث 3621

3621 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا عَائِذُ اللَّهِ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَالَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ: رَبِّ أَسْأَلُكَ حُبَّكَ وَحُبَّ مَنْ يُحِبُّكَ، وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ، رَبِّ اجْعَلْ حُبَّكَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَأَهِلِّي، وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ ". وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَكَرَ دَاوُدَ وَحَدَّثَ عَنْهُ قَالَ: «كَانَ أَعْبَدَ الْبَشَرِ» صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3621 - بل عبد الله بن يزيد الدمشقي هذا قال أحمد أحاديثه موضوعة

حضرت ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: حضرت داؤد علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے رب! میں تجھ سے تیری محبت اور تیرے محبین کی محبت اور ایسے عمل کی توفیق کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔ یا اللہ ! اپنی محبت کو مجھے، میری جان اور میرے اہل اور ٹھنڈے پانی سے زیادہ محبوب کر دے اور نبی اکرم ﷺ جب کبھی حضرت داؤد علیہ السلام کا تذکرہ کرتے یا ان کے بارے میں کوئی واقعہ سناتے تو فرماتے: داؤد علیہ السلام سب سے زیادہ عبادت گزار تھے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي الدَّرْدَاءِ، ← عَائِذُ اللَّهِ أَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ ← عبد الله بن يزيد الدمشقي ← مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat p · Hadith 3621

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ ص · حديث 3622

3622 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، أَنْبَأَ شَرِيكٌ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «مَاتَ دَاوُدُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَجْأَةً يَوْمَ السَّبْتِ، وَكَانَ يَسْبِتُ فَتَعْكُفُ عَلَيْهِ الطَّيْرُ فَتُظِلُّهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3622 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت داؤد علیہ السلام ہفتہ کے دن اچانک انتقال فرما گئے۔ آپ ہفتہ کے دن منایا کرتے تھے، پرندے آک آپ پر سایہ کیا کرتے تھے۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← السُّدِّيِّ ← عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ أَنْبَأَ شَرِيكٌ ← أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Surat p · Hadith 3622

المستدرك على الصحيحين · تَفْسِيرُ سُورَةِ النَّجْمِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ حم عسق · حديث 3753

3753 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُعَلَّى بْنُ رَاشِدٍ، ثنا وُهَيْبٌ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " سِهَامُ الْإِسْلَامِ ثَلَاثُونَ سَهْمًا لَمْ يُتَمِّمْهَا أَحَدٌ قَبْلَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى} [النجم: 37] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3753 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اسلام کے 30 حصے ہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کسی نے اس کو پورا نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى٣٧﴾[النجم: 37]" اور ابراہیم کے جو پورے احکام بجالایا"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اے نقل نہیں کیا۔

سِهَامُ الْإِسْلَامِ ثَلَاثُونَ سَهْمًا لَمْ يُتَمِّمْهَا أَحَدٌ قَبْلَ إِبْرَاهِيمَ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← دَاوُدُ، ← وُهَيْبٌ، ← مُعَلَّى بْنِ رَاشِدٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Interpretation of the star chapter › Interpretation of Surat Ham Asak · Hadith 3753

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 6543

6543 - حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِبَغْدَادَ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، ثَنَا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ كَانَا صَدِيقَيْنِ لِزَيْدِ بْنِ صُوحَانَ أَتَيَاهُ لِيُكَلِّمَ لَهُمَا سَلْمَانَ أَنْ يُحَدِّثَهُمَا حَدِيثَهُ كَيْفَ كَانَ إِسْلَامُهُ فَأَقْبَلَا مَعَهُ حَتَّى لَقُوا سَلْمَانَ، وَهُوَ بِالْمَدَائِنِ أَمِيرًا عَلَيْهَا، وَإِذَا هُوَ عَلَى كُرْسِيٍّ قَاعِدٍ، وَإِذَا خُوصٌ بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ يُسَفِّهُ، قَالَا: فَسَلَّمْنَا وَقَعَدْنَا، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، إِنَّ هَذَيْنِ لِي صَدِيقَانِ وَلَهُمَا أَخٌ، وَقَدْ أَحَبَّا أَنْ يَسْمَعَا حَدِيثَكَ كَيْفَ كَانَ بَدْءُ إِسْلَامِكَ؟ قَالَ: فَقَالَ سَلْمَانُ: كُنْتُ يَتِيمًا مِنْ رَامَ هُرْمُزَ، وَكَانَ ابْنُ دِهْقَانَ رَامَ هُرْمُزَ يَخْتَلِفُ إِلَى مُعَلَّمٍ يُعَلِّمُهُ، فَلَزِمْتُهُ لَأَكُونَ فِي كَنَفِهِ، وَكَانَ لِي أَخٌ أَكْبَرَ مِنِّي وَكَانَ مُسْتَغْنِيًا بِنَفْسِهِ، وَكُنْتُ غُلَامًا قَصِيرًا، وَكَانَ إِذَا قَامَ مِنْ مَجْلِسِهِ تَفَرَّقَ مَنْ يُحَفِّظُهُمْ، فَإِذَا تَفَرَّقُوا خَرَجَ فَيَضَعُ بِثَوْبِهِ، ثُمَّ صَعِدَ الْجَبَلَ، وَكَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ مُتَنَكِّرًا، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّكَ تَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا، فَلِمَ لَا تَذْهَبُ بِي مَعَكَ؟ قَالَ: أَنْتَ غُلَامٌ، وَأَخَافُ أَنْ يَظْهَرَ مِنْكَ شَيْءٌ، قَالَ: قُلْتُ: لَا تَخَفْ، قَالَ: فَإِنَّ فِي هَذَا الْجَبَلِ قَوْمًا فِي بِرْطِيلِهِمْ لَهُمْ عِبَادَةٌ، وَلَهُمْ صَلَاحٌ يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى، وَيَذْكُرُونَ الْآخِرَةَ، وَيَزْعُمُونَنَا عَبَدَةَ النِّيرَانِ، وَعَبَدَةَ الْأَوْثَانِ، وَأَنَا عَلَى دِينِهِمْ، قَالَ: قُلْتُ فَاذْهَبْ بِي مَعَكَ إِلَيْهِمْ، قَالَ: لَا أَقْدِرُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى أَسْتَأْمِرُهُمْ، وَأَنَا أَخَافُ أَنْ يَظْهَرَ مِنْكَ شَيْءٌ، فَيَعْلَمُ أَبِي فَيُقْتَلُ الْقَوْمَ فَيَكُونُ هَلَاكُهُمْ عَلَى يَدِي، قَالَ: قُلْتُ: لَنْ يَظْهَرَ مِنِّي ذَلِكَ، فَاسْتَأْمِرْهُمْ، فَأَتَاهُمْ، فَقَالَ: غُلَامٌ عِنْدِي يَتِيمٌ فَأَحَبَّ أَنْ يَأْتِيَكُمْ وَيَسْمَعَ كَلَامَكُمْ، قَالُوا: إِنْ كُنْتَ تَثِقُ بِهِ، قَالَ: أَرْجُو أَنْ لَا يَجِيءَ مِنْهُ إِلَّا مَا أُحِبُّ، قَالُوا: فَجِيءَ بِهِ، فَقَالَ لِي: لَقَدِ اسْتَأْذَنْتُ فِي أَنْ تَجِيءَ مَعِي، فَإِذَا كَانَتِ السَّاعَةُ الَّتِي رَأَيْتُنِي أَخْرَجُ فِيهَا فَأْتِنِي، وَلَا يَعْلَمُ بِكَ أَحَدٌ، فَإِنَّ أَبِي إِنْ عَلِمَ بِهِمْ قَتَلَهُمْ، قَالَ: فَلَمَّا كَانَتِ السَّاعَةُ الَّتِي يَخْرُجُ تَبِعْتُهُ فَصَعِدْنَا الْجَبَلَ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ، فَإِذَا هُمْ فِي بِرْطِيلِهِمْ قَالَ عَلِيٌّ: وَأُرَاهُ، قَالَ: وَهُمْ سِتَّةٌ أَوْ سَبْعَةٌ، قَالَ:، وَكَأَنَّ الرُّوحَ قَدْ خَرَجَ مِنْهُمْ مِنَ الْعِبَادَةِ يَصُومُونَ النَّهَارَ، وَيَقُومُونَ اللَّيْلَ، وَيَأْكُلُونَ عِنْدَ السَّحَرِ، مَا وَجَدُوا، فَقَعَدْنَا إِلَيْهِمْ، فَأَثْنَى الدِّهْقَانُ عَلَى حَبْرٍ، فَتَكَلَّمُوا، فَحَمِدُوا اللَّهَ، وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ، وَذَكَرُوا مَنْ مَضَى مِنَ الرُّسُلِ وَالْأَنْبِيَاءِ حَتَّى خَلَصُوا إِلَى ذِكْرِ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا السَّلَامُ، فَقَالُوا: بَعَثَ اللَّهُ تَعَالَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ رَسُولًا وَسَخَّرَ لَهُ مَا كَانَ يَفْعَلُ مِنْ إِحْيَاءِ الْمَوْتَى، وَخَلْقِ الطَّيْرِ، وَإِبْرَاءِ الْأَكْمَهِ، وَالْأَبْرَصِ، وَالْأَعْمَى، فَكَفَرَ بِهِ قَوْمٌ وَتَبِعَهُ قَوْمٌ، وَإِنَّمَا كَانَ عَبْدَ اللَّهِ وَرَسُولَهُ ابْتَلَى بِهِ خَلْقَهُ، قَالَ: وَقَالُوا قَبْلَ ذَلِكَ: يَا غُلَامُ، إِنَّ لَكَ لَرَبًّا، وَإِنَّ لَكَ مَعَادًا، وَإِنَّ بَيْنَ يَدَيْكَ جَنَّةً وَنَارًا، إِلَيْهِمَا تَصِيرُونَ، وَإِنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ الَّذِينَ يَعْبُدُونَ النِّيرَانَ أَهْلُ كُفْرٍ وَضَلَالَةٍ لَا يَرْضَى اللَّهُ مَا يَصْنَعُونَ وَلَيْسُوا عَلَى دِينٍ، فَلَمَّا حَضَرَتِ السَّاعَةُ الَّتِي يَنْصَرِفُ فِيهَا الْغُلَامُ انْصَرَفَ وَانْصَرَفْتُ مَعَهُ، ثُمَّ غَدَوْنَا إِلَيْهِمْ فَقَالُوا مِثْلَ ذَلِكَ وَأَحْسَنَ، وَلَزِمْتُهُمْ فَقَالُوا لِي يَا سَلْمَانُ: إِنَّكَ غُلَامٌ، وَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصْنَعَ كَمَا نَصْنَعُ فَصَلِّ وَنَمْ وَكُلْ وَاشْرَبْ، قَالَ: فَاطَّلَعَ الْمَلِكُ عَلَى صَنِيعِ ابْنِهِ فَرَكِبَ فِي الْخَيْلِ حَتَّى أَتَاهُمْ فِي بِرْطِيلِهِمْ، فَقَالَ: يَا هَؤُلَاءِ، قَدْ جَاوَرْتُمُونِي فَأَحْسَنْتُ جِوَارَكُمْ، وَلَمْ تَرَوْا مِنِّي سُوءًا فَعَمَدْتُمْ إِلَى ابْنِي فَأَفْسَدْتُمُوهُ عَلَيَّ قَدْ أَجَّلْتُكُمْ ثَلَاثًا، فَإِنْ قَدَرْتُ عَلَيْكُمْ بَعْدَ ثَلَاثٍ أَحْرَقْتُ عَلَيْكُمْ بِرْطِيلَكُمْ هَذَا، فَالْحَقُوا بِبِلَادِكُمْ، فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ يَكُونَ مِنِّي إِلَيْكُمْ سُوءٌ، قَالُوا: نَعَمْ، مَا تَعَمَّدْنَا مُسَاءَتَكَ، وَلَا أَرَدْنَا إِلَّا الْخَيْرَ، فَكَفَّ ابْنُهُ عَنْ إِتْيَانِهِمْ. فَقُلْتُ لَهُ: اتَّقِ اللَّهِ، فَإِنَّكَ تَعْرِفُ أَنَّ هَذَا الدِّينَ دِينُ اللَّهِ، وَأَنَّ أَبَاكَ وَنَحْنُ عَلَى غَيْرِ دَيْنٍ إِنَّمَا هُمْ عَبْدَةُ النَّارِ لَا يَعْبُدُونَ اللَّهَ، فَلَا تَبِعْ آخِرَتَكَ بِدَيْنِ غَيْرِكَ، قَالَ: يَا سَلْمَانُ، هُوَ كَمَا تَقُولُ: وَإِنَّمَا أَتَخَلَّفُ عَنِ الْقَوْمِ بَغْيًا عَلَيْهِمْ إِنْ تَبِعْتُ الْقَوْمَ طَلَبَنِي أَبِي فِي الْجَبَلِ وَقَدْ خَرَجَ فِي إِتْيَانِي إِيَّاهُمْ حَتَّى طَرَدَهُمْ، وَقَدْ أَعْرِفُ أَنَّ الْحَقَّ فِي أَيْدِيهِمْ فَأَتَيْتُهُمْ فِي الْيَوْمِ الَّذِي أَرَادُوا أَنْ يَرْتَحِلُوا فِيهِ، فَقَالُوا: يَا سَلْمَانُ: قَدْ كُنَّا نَحْذَرُ مَكَانَ مَا رَأَيْتَ فَاتَّقِ اللَّهَ تَعَالَى وَاعْلَمْ أَنَّ الدِّينَ مَا أَوْصَيْنَاكَ بِهِ، وَأَنَّ هَؤُلَاءِ عَبْدَةُ النِّيرَانِ لَا يَعْرِفُونَ اللَّهَ تَعَالَى وَلَا يَذْكُرُونَهُ، فَلَا يَخْدَعَنَّكَ أَحَدٌ عَنْ دِينِكَ قُلْتُ: مَا أَنَا بِمُفَارِقُكُمْ، قَالُوا: «أَنْتَ لَا تَقْدِرُ أَنْ تَكُونَ مَعَنَا نَحْنُ نَصُومُ النَّهَارَ، وَنَقُومُ اللَّيْلَ وَنَأْكُلُ عِنْدَ السَّحَرِ مَا أَصَبْنَا وَأَنْتَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ» ، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا أُفَارِقَكُمْ، قَالُوا: «أَنْتَ أعْلَمُ وَقَدْ أَعْلَمْنَاكَ حَالَنَا، فَإِذَا أَتَيْتَ خُذْ مِقْدَارَ حِمْلٍ يَكُونُ مَعَكَ شَيْءٌ تَأْكُلُهُ، فَإِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ مَا نَسْتَطِيعُ بِحَقٍّ» قَالَ: فَفَعَلْتُ وَلَقِيَنَا أَخِي فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ يَمْشُونَ وَأَمْشِي مَعَهُمْ فَرَزَقَ اللَّهُ السَّلَامَةَ حَتَّى قَدِمْنَا الْمَوْصِلَ فَأَتَيْنَا بِيَعَةً بِالْمَوْصِلِ، فَلَمَّا دَخَلُوا احْتَفُّوا بِهِمْ وَقَالُوا: أَيْنَ كُنْتُمْ؟ قَالُوا: كُنَّا فِي بِلَادٍ لَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ تَعَالَى فِيهَا عَبَدَةُ النِّيرَانِ، وَكُنَّا نَعْبُدُ اللَّهَ فَطَرَدُونَا، فَقَالُوا: مَا هَذَا الْغُلَامُ؟ فَطَفِقُوا يُثْنُونَ عَلَيَّ، وَقَالُوا: صَحِبَنَا مِنْ تِلْكَ الْبِلَادِ فَلَمْ نَرَ مِنْهُ إِلَّا خَيْرًا، قَالَ سَلْمَانُ فَوَاللَّهِ: إِنَّهُمْ لَكَذَلِكَ إِذَا طَلَعَ عَلَيْهِمْ رَجُلٌ مِنْ كَهْفِ جَبَلٍ، قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى سَلَّمَ وَجَلَسَ فَحَفُّوا بِهِ وَعَظَّمُوهُ أَصْحَابِي الَّذِينَ كُنْتُ مَعَهُمْ وَأَحْدَقُوا بِهِ، فَقَالَ: أَيْنَ كُنْتُمْ؟ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ: مَا هَذَا الْغُلَامُ مَعَكُمْ؟ فَأَثْنَوْا عَلَيَّ خَيْرًا وَأَخْبَرُوهُ بِإِتِّبَاعِي إِيَّاهُمْ، وَلَمْ أَرَ مِثْلَ إِعْظَامِهِمْ إِيَّاهُ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ مَنْ أَرْسَلَ مِنْ رُسُلِهِ وَأَنْبِيَائِهِ وَمَا لَقُوا، وَمَا صَنَعَ بِهِ وَذَكَرَ " مَوْلِدَ عِيسَى بْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَنَّهُ وُلِدَ بِغَيْرِ ذَكَرٍ فَبَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ رَسُولًا، وَأَحْيَا عَلَى يَدَيْهِ الْمَوْتَى، وَأَنَّهُ يَخْلُقُ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ، فَيَنْفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللَّهِ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْإِنْجِيلَ وَعَلَّمَهُ التَّوْرَاةَ، وَبَعْثَهُ رَسُولًا إِلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ فَكَفَرَ بِهِ قَوْمٌ وَآمَنَ بِهِ قَوْمٌ، وَذَكَرَ بَعْضَ مَا لَقِيَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ، وَأَنَّهُ كَانَ عَبْدَ اللَّهِ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَشَكَرَ ذَلِكَ لَهُ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ يَعِظُهُمْ وَيَقُولُ: اتَّقُوا اللَّهَ وَالْزَمُوا مَا جَاءَ بِهِ عِيسَى عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، وَلَا تُخَالِفُوا فَيُخَالِفُ بِكُمْ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ هَذَا شَيْئًا، فَلْيَأْخُذْ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُومُ فَيَأْخُذُ الْجَرَّةَ مِنَ الْمَاءِ وَالطَّعَامِ فَقَامَ أَصْحَابِي الَّذِينَ جِئْتُ مَعَهُمْ فَسَلَّمُوا عَلَيْهِ وَعَظَّمُوهُ وَقَالَ لَهُمُ: الْزَمُوا هَذَا الدِّينَ وَإِيَّاكُمْ أَنْ تَفَرَّقُوا وَاسْتَوْصُوا بِهَذَا الْغُلَامِ خَيْرًا، وَقَالَ لِي: يَا غُلَامُ هَذَا دَيْنُ اللَّهِ الَّذِي تَسْمَعُنِي أَقُولُهُ وَمَا سِوَاهُ الْكُفْرُ، قَالَ: قُلْتُ: مَا أَنَا بِمُفَارِقُكَ، قَالَ: إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَكُونَ مَعِي إِنِّي لَا أَخْرَجُ مِنْ كَهْفِي هَذَا إِلَّا كُلَّ يَوْمِ أَحَدٍ، وَلَا تَقْدِرُ عَلَى الْكَيْنُونَةِ مَعِي، قَالَ: وَأَقْبَلَ عَلى أَصْحَابِهِ، فَقَالُوا: يَا غُلَامُ، إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ أَنْ تَكُونَ مَعَهُ، قُلْتُ: مَا أَنَا بِمُفَارِقُكَ، قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا فُلَانُ، إِنَّ هَذَا غُلَامٌ وَيُخَافُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِي: أَنْتَ أَعْلَمُ، قُلْتُ: فَإِنِّي لَا أُفَارِقُكَ، فَبَكَى أَصْحَابِي الْأَوَّلُونَ الَّذِينَ كُنْتُ مَعَهُمْ عِنْدَ فُرَاقِهِمْ إِيَّايَ، فَقَالَ: يَا غُلَامُ، خُذْ مِنْ هَذَا الطَّعَامِ مَا تَرَى أَنَّهُ يَكْفِيكَ إِلَى الْأَحَدِ الْآخَرِ، وَخُذْ مِنَ الْمَاءِ مَا تَكْتَفِي بِهِ، فَفَعَلْتُ فَمَا رَأَيْتُهُ نَائِمًا وَلَا طَاعِمًا إِلَّا رَاكِعًا وَسَاجِدًا إِلَى الْأَحَدِ الْآخَرِ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا، قَالَ لِي: خُذْ جَرَّتَكَ هَذِهِ وَانْطَلِقْ فَخَرَجْتُ مَعَهُ أَتْبَعُهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ، وَإِذَا هُمْ قَدْ خَرَجُوا مِنْ تِلْكَ الْجِبَالِ يَنْتَظِرُونَ خُرُوجَهُ فَقَعَدُوا وَعَادَ فِي حَدِيثِهِ نَحْوَ الْمَرَّةِ الْأُولَى، فَقَالَ: الْزَمُوا هَذَا الدِّينَ وَلَا تَفَرَّقُوا، وَاذْكُرُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا «أَنَّ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِمَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَانَ عَبْدَ اللَّهِ تَعَالَى أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَنِي» ، فَقَالُوا لَهُ: يَا فُلَانُ كَيْفَ وَجَدْتَ هَذَا الْغُلَامَ؟ فَأَثْنَى عَلَيَّ، وَقَالَ خَيْرًا: فَحَمِدُوا اللَّهَ تَعَالَى، وَإِذَا خُبْزٌ كَثِيرٌ، وَمَاءٌ كَثِيرٌ فَأَخَذُوا وَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْخُذُ مَا يَكْتَفِي بِهِ، وَفَعَلْتُ فَتَفَرَّقُوا فِي تِلْكَ الْجِبَالِ وَرَجَعَ إِلَى كَهْفِهِ وَرَجَعْتُ مَعَهُ فَلَبِثْنَا مَا شَاءَ اللَّهُ يَخْرُجُ فِي كُلِّ يَوْمٍ أَحَدٍ، وَيَخْرُجُونَ مَعَهُ وَيَحُفُّونَ بِهِ وَيُوصِيهِمْ بِمَا كَانَ يُوصِيهِمْ بِهِ فَخَرَجَ فِي أَحَدٍ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا حَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَوَعِظَهُمْ وَقَالَ: مِثْلَ مَا كَانَ يَقُولُ لَهُمْ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ آخِرَ ذَلِكَ: يَا هَؤُلَاءِ إِنَّهُ قَدْ كَبِرَ سِنِّي، وَرَقَّ عَظْمِي، وَقَرُبَ أَجَلِي، وَأَنَّهُ لَا عَهْدَ لِي بِهَذَا الْبَيْتِ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، وَلَا بُدَّ مِنْ إِتْيَانِهِ فَاسْتَوْصُوا بِهَذَا الْغُلَامِ خَيْرًا، فَإِنِّي رَأَيْتُهُ لَا بَأْسَ بِهِ، قَالَ: فَجَزِعَ الْقَوْمُ فَمَا رَأَيْتُ مِثْلَ جَزَعِهِمْ، وَقَالُوا: يَا فُلَانُ، أَنْتَ كَبِيرٌ فَأَنْتَ وَحْدَكَ، وَلَا نَأْمَنُ مِنْ أَنْ يُصِيبَكَ شَيْءٌ يُسَاعِدُكَ أَحْوَجُ مَا كُنَّا إِلَيْكَ، قَالَ: لَا تُرَاجِعُونِي، لَا بُدَّ مِنَ اتِّبَاعِهِ، وَلَكِنِ اسْتَوْصُوا بِهَذَا الْغُلَامِ خَيْرًا وَافْعَلُوا وَافْعَلُوا، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا أَنَا بِمُفَارِقُكَ، قَالَ: يَا سَلْمَانُ قَدْ رَأَيْتَ حَالِي وَمَا كُنْتُ عَلَيْهِ وَلَيْسَ هَذَا كَذَلِكَ أَنَا أَمْشِي أَصُومُ النَّهَارَ وَأَقُومُ اللَّيْلَ، وَلَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَحْمِلَ مَعِي زَادًا وَلَا غَيْرَهُ وَأَنْتَ لَا تَقْدِرُ عَلَى هَذَا قُلْتُ مَا أَنَا بِمُفَارِقُكَ، قَالَ: أَنْتَ أَعْلَمُ، قَالَ: فَقَالُوا: يَا فُلَانُ، فَإِنَّا نَخَافُ عَلَى هَذَا الْغُلَامِ، قَالَ: فَهُوَ أَعْلَمُ قَدْ أَعْلَمْتَهُ الْحَالَ وَقَدْ رَأَى مَا كَانَ قَبْلَ هَذَا قُلْتُ: لَا أُفَارِقُكَ، قَالَ: فَبَكَوْا وَوَدَّعُوهُ وَقَالَ لَهُمُ: اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا عَلَى مَا أَوْصَيْتُكُمْ بِهِ فَإِنْ أَعِشْ فَعَلَيَّ أَرْجِعُ إِلَيْكُمْ، وَإِنْ مِتُّ فَإِنَّ اللَّهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ، وَقَالَ لِي: أَحْمِلُ مَعَكَ مِنْ هَذَا الْخُبْزِ شَيْئًا تَأْكُلُهُ فَخَرَجَ وَخَرَجْتُ مَعَهُ يَمْشِي وَاتَّبَعْتُهُ يَذْكُرُ اللَّهَ تَعَالَى وَلَا يَلْتَفِتُ وَلَا يَقِفُ عَلَى شَيْءٍ حَتَّى إِذَا أَمْسَيْنَا، قَالَ: يَا سَلْمَانُ، صَلِّ أَنْتَ وَنَمْ وَكُلْ وَاشْرَبْ ثُمَّ قَامَ وَهُوَ يُصَلِّي حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَكَانَ لَا يَرْفَعُ طَرْفَهُ إِلَى السَّمَاءِ حَتَّى أَتَيْنَا إِلَى بَابِ الْمَسْجِدِ، وَإِذَا عَلَى الْبَابِ مُقْعَدٌ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، قَدْ تَرَى حَالِي فَتَصَدَّقْ عَلَيَّ بِشَيْءٍ فَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهِ وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ وَدَخَلْتُ مَعَهُ فَجَعَلَ يَتْبَعُ أَمْكَنَةً مِنَ الْمَسْجِدِ فَصَلَّى فِيهَا، فَقَالَ: يَا سَلْمَانُ إِنِّي لَمْ أَنَمْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا وَلَمْ أَجِدْ طَعْمَ النَّوْمِ، فَإِنْ فَعَلْتَ أَنْ تُوقِظَنِي إِذَا بَلَغَ الظِّلُّ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا نِمْتُ، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَنَامَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ وَإِلَّا لَمْ أَنَمْ، قَالَ: قُلْتُ فَإِنِّي أَفْعَلُ، قَالَ: فَإِذَا بَلَغَ الظِّلُّ مَكَانَ كَذَا وَكَذَا فَأَيْقِظْنِي إِذَا غَلَبَتْنِي عَيْنِي فَنَامَ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: هَذَا لَمْ يَنَمْ مُذْ كَذَا وَكَذَا وَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ ذَلِكَ لَأَدَعَنَّهُ يَنَامُ حَتَّى يَشْتَفِيَ مِنَ النَّوْمِ، قَالَ: وَكَانَ فِيمَا يَمْشِي وَأَنَا مَعَهُ يُقْبِلُ عَلَيَّ فَيَعِظُنِي وَيُخْبِرُنِي أَنَّ لِي رَبًّا وَأَنَّ بَيْنَ يَدَيْ جَنَّةً وَنَارًا وَحِسَابًا وَيُعَلِّمُنِي وَيُذَكِّرُنِي نَحْوَ مَا يَذْكُرُ الْقَوْمُ يَوْمَ الْأَحَدِ حَتَّى قَالَ فِيمَا يَقُولُ: يَا سَلْمَانُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ سَوْفَ يَبْعَثُ رَسُولًا اسْمُهُ أَحْمَدُ يَخْرُجُ بِتُهْمَةَ - وَكَانَ رَجُلًا أَعْجَمٍيًّا لَا يُحْسِنُ الْقَوْلَ - عَلَامَتُهُ أَنَّهُ يَأْكُلُ الْهَدِيَّةَ وَلَا يَأْكُلُ الصَّدَقَةَ بَيْنَ كَتِفَيْهِ خَاتَمٌ وَهَذَا زَمَانُهُ الَّذِي يَخْرُجُ فِيهِ قَدْ تَقَارَبَ فَأَمَّا أَنَا فَإِنِّي شَيْخٌ كَبِيرٌ وَلَا أَحْسَبَنِي أُدْرِكُهُ فَإِنْ أَدْرَكْتُهُ أَنْتَ فَصَدِّقْهُ وَاتَّبِعْهُ، قَالَ: قُلْتُ وَإِنْ أَمَرَنِي بِتَرْكِ دِينِكَ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِ، قَالَ: اتْرُكْهُ فَإِنَّ الْحَقَّ فِيمَا يَأْمُرُ بِهِ وَرَضِيَ الرَّحْمَنُ فِيمَا قَالَ: فَلَمْ يَمْضِ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى اسْتَيْقَظَ فَزِعًا يَذْكُرُ اللَّهَ تَعَالَى، فَقَالَ لِي: يَا سَلْمَانُ، مَضَى الْفَيْءُ مِنْ هَذَا الْمَكَانِ وَلَمْ أَذْكُرْ أَيْنَ مَا كُنْتَ جَعَلْتَ عَلَى نَفْسِكَ، قَالَ: أَخْبَرْتَنِي أَنَّكَ لَمْ تَنَمْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا وَقَدْ رَأَيْتُ بَعْضَ ذَلِكَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ تَشْتَفِيَ مِنَ النَّوْمِ فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَقَامَ فَخَرَجَ وَتَبِعْتُهُ فَمَرَّ بِالْمُقْعَدِ، فَقَالَ الْمُقْعَدُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ دَخَلْتَ فَسَأَلْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي وَخَرَجْتَ فَسَأَلْتُكَ فَلَمْ تُعْطِنِي فَقَامَ يَنْظُرُ هَلْ يَرَى أَحَدًا فَلَمْ يَرَهُ فَدَنَا مِنْهُ فَقَالَ لَهُ: نَاوِلْنِي يَدَكَ فَنَاوَلَهُ، فَقَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ فَقَامَ كَأَنَّهُ أَنْشَطَ مِنْ عِقَالٍ صَحِيحًا لَا عَيْبَ بِهِ فَخَلَا عَنْ بُعْدِهِ، فَانْطَلَقَ ذَاهِبًا فَكَانَ لَا يَلْوِي عَلَى أَحَدٍ وَلَا يَقُومُ عَلَيْهِ» ، فَقَالَ لِي الْمُقْعَدُ: يَا غُلَامُ احْمِلْ عَلَيَّ ثِيَابِي حَتَّى أنْطَلِقَ فَأَسِيرَ إِلَى أَهْلِي فَحَمَلْتُ عَلَيْهِ ثِيَابَهُ وَانْطَلَقَ لَا يَلْوِي عَلَيَّ فَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ أَطْلُبُهُ، فَكُلَّمَا سَأَلْتُ عَنْهُ قَالُوا: أَمَامَكَ حَتَّى لَقِيَنِي رَكْبٌ مِنْ كَلْبٍ، فَسَأَلْتُهُمْ: فَلَمَّا سَمِعُوا الْفَتَى أَنَاخَ رَجُلٌ مِنْهُمْ لِي بَعِيرَهُ فَحَمَلَنِي خَلْفَهُ حَتَّى أَتَوْا بِلَادَهُمْ فَبَاعُونِي فَاشْتَرَتْنِي امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَعَلَتْنِي فِي حَائِطٍ بِهَا وَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرْتُ بِهِ فَأَخَذْتُ شَيْئًا مِنْ تَمْرِ حَائِطِي فَجَعَلْتُهُ عَلَى شَيْءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ نَاسًا، وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ أَقْرَبُ النَّاسِ إِلَيْهِ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَقَالَ مَا هَذَا؟ قُلْتُ: صَدَقَةٌ، قَالَ لِلْقَوْمِ: «كُلُوا، وَلَمْ يَأْكُلْ» ، ثُمَّ لَبِثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ أَخَذْتُ مِثْلَ ذَلِكَ فَجَعَلْتُ عَلَى شَيْءٍ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ نَاسًا، وَإِذَا أَبُو بَكْرٍ أَقْرَبُ الْقَوْمِ مِنْهُ فَوَضَعْتُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لِي: مَا هَذَا؟ قُلْتُ: هَدِيَّةٌ، قَالَ: «بِسْمِ اللَّهِ، وَأَكَلَ وَأَكَلَ الْقَوْمُ» قُلْتُ: فِي نَفْسِي هَذِهِ مِنْ آيَاتِهِ كَانَ صَاحِبِي رَجُلًا أَعْجَمِيٌّ لَمْ يُحْسِنْ أَنْ، يَقُولَ: تِهَامَةً، فَقَالَ: تُهْمَةٌ وَقَالَ: اسْمُهُ أَحْمَدُ فَدُرْتُ خَلْفَهُ فَفَطِنَ بِي فَأَرْخَى ثَوْبًا فَإِذَا الْخَاتَمُ فِي نَاحِيَةِ كَتِفِهِ الْأَيْسَرِ فَتَبَيَّنْتُهُ، ثُمَّ دُرْتُ حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقُلْتُ: أَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ قُلْتُ مَمْلُوكٌ، قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ حَدِيثِي وَحَدِيثُ الرَّجُلِ الَّذِي كُنْتُ مَعَهُ وَمَا أَمَرَنِي بِهِ، قَالَ: لِمَنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ جَعَلْتَنِي فِي حَائِطٍ لَهَا، قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، قَالَ: لَبَّيْكَ، قَالَ: اشْتَرِهِ فَاشْتَرَانِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَعْتَقَنِي فَلَبِثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَلْبَثَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَقَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي دِينِ النَّصَارَى، قَالَ: «لَا خَيْرَ فِيهِمْ وَلَا فِي دِينِهِمْ» فَدَخَلَنِي أَمَرٌ عَظِيمٌ فَقُلْتُ: فِي نَفْسِي هَذَا الَّذِي كُنْتُ مَعَهُ وَرَأَيْتُ مَا رَأَيْتُهُ ثُمَّ رَأَيْتُهُ أَخَذَ بِيَدِ الْمُقْعَدِ فَأَقَامَهُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ وَقَالَ: «لَا خَيْرَ فِي هَؤُلَاءِ، وَلَا فِي دِينِهِمْ» فَانْصَرَفْتُ وَفِي نَفْسِي مَا شَاءَ اللَّهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {ذَلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ وَرُهْبَانًا وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ} [المائدة: 82] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيَّ بِسَلْمَانَ» ، فَأَتَى الرَّسُولُ وَأَنَا خَائِفٌ فَجِئْتُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ " فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ {ذَلِكَ بِأَنَّ مِنْهُمْ قِسِّيسِينَ، وَرُهْبَانًا، وَأَنَّهُمْ لَا يَسْتَكْبِرُونَ} [المائدة: 82] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ يَا سَلْمَانُ إِنَّ أُولَئِكَ الَّذِينَ كُنْتَ مَعَهُمْ وَصَاحِبُكَ لَمْ يَكُونُوا نَصَارَى، إِنَّمَا كَانُوا مُسْلِمَيْنِ " فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَهُوَ الَّذِي أَمَرَنِي بِاتِّبَاعِكَ، فَقُلْتُ لَهُ: وَإِنْ أَمَرَنِي بِتَرْكِ دِينِكَ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِ، قَالَ: فَاتْرُكْهُ، فَإِنَّ الْحَقَّ وَمَا يَجِبُ فِيمَا يَأْمُرُكَ بِهِ قَالَ الْحَاكِمُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَالٍ فِي ذِكْرِ إِسْلَامِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ، عَنْ سَلْمَانَ مِنْ وَجْهٍ صَحِيحٍ بِغَيْرِ هَذِهِ السِّيَاقَةِ فَلَمْ أَجِدْ مِنْ إِخْرَاجِهِ بُدًّا لِمَا فِي الرِّوَايَتَيْنِ مِنَ الْخِلَافِ فِي الْمَتْنِ وَالزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 6543 - بل مجمع على ضعفه

حضرت سماک بن حرب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، حضرت زید بن صوحان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں بتاتے ہیں کہ دو کوفی آدمی حضرت زید بن صوحان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےد وست تھے، ان تینوں نے طے کیا کہ ہم حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جا کر ان سے ان کے قبول اسلام کا واقعہ سن کر آتے ہیں، چنانچہ یہ تینوں حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آ گئے، حضرت سلمان ان دنوں مدین کے عامل (گورنر) تھے، آپ کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے، ان کے پاس ایک بکری تھی، آپ اس کو چار ا کھلا رہے تھے، راوی کہتے ہیں: ہم ان کو سلام کر کے وہاں بیٹھ گئے، حضرت زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا: اے ابو عبداللہ ! یہ دونوں افراد میرے دوست ہیں، اور ان دونوں کاایک بھائی بھی ہے، یہ لوگ آپ کی زبانی آپ کے اسلام لانے کا واقعہ سننا چاہتے ہیں۔ حضرت سلمان نے (اپنے اسلام کا واقعہ سنانا شروع کیا) کہنے لگے: میں رام ہرمز شہر کا رہنے والا ایک یتیم بچہ تھا، رام ہرمز میں ایک کسان کا بیٹا رہتا تھا وہ مختلف معلمین کے پاس جایا کرتا تھا، میں اس کے ساتھ اس کے خیمے میں رہنے لگ گیا، میرا ایک بڑا بھائی بھی تھا، وہ خود مختار تھا لیکن میں چھوٹا بچہ تھا، اس کی عادت تھی کہ جب مجلس ختم ہوتی، اس کے محافظین بھی چلے جاتے، جب وہ چلے جاتے تو وہ وہاں سے اٹھتا ، کپڑے بدلتا اور پہاڑ پر چڑھ جاتا، اس نے کئی مرتبہ اسی طرح کیا، میں نے اس کو کہا کہ تم اکیلے اتنی مشقت اٹھاتے ہو، تم مجھے اپنے ساتھ کیوں نہیں لے جاتے؟ اس نے کہا: تم ابھی چھوٹے بچے ہو، مجھے ڈر ہے کہ تم سے ہمارا کوئی راز فاش نہ ہو جائے۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: تم گھبراؤ نہیں ۔ اس نے کہا: اس پہاڑ میں کچھ ایسے لوگ رہتے ہیں جن کی اپنی ایک خاص عبادت ہے، وہ نیک لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ کو اور آخرت کو بہت یاد کرتے ہیں، وہ ہمیں آگ اور بتوں کے پجاری سمجھتے ہیں، میں ان کا دین قبول کر چکا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: تم مجھے بھی اپنے ہمراہ لے کر جاؤ۔ اس نے کہا: میں ان سے پوچھے بغیر تمہیں اپنے ہمراہ نہیں لے جا سکتا۔ مجھے ڈر ہے کہ تم سے کوئی عمل ظاہر ہو گیا اور میرے والد کو پتا چل گیا تو وہ ان لوگوں کو نہیں چھوڑے گا اور ان کے قتل کا سارا بوجھ میرے کندھوں پر آئے گا۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: میری ذات سے ایسی کوئی بات ظاہر نہیں ہو گی، آپ ان سے مشورہ کر لیجئے۔ وہ ان کے پاس گئے، اور ان سے کہا: میرے پاس ایک یتیم لڑکا ہے، وہ آپ کے پاس آنا چاہتا ہے، آپ لوگوں کی گفتگو سننا چاہتا ہے۔ انہوں نے پوچھا: کیا تمہیں اس پر اعتماد ہے؟ اس نے کہا: مجھے امید واثق ہے کہ وہ وہی کرے گا جو ہم چاہتے ہیں۔ ان لوگوں نے مجھے ساتھ لے جانے کی اجازت دے دی، اس نے آکر مجھے کہا: میں تجھے اپنے ہمراہ لے جانے کی اجازت لے آیا ہوں۔ جب میرے جانے کا وقت آئے اور تم مجھے دیکھو کہ میں نکل گیا ہوں، تو تم میرے ساتھ چلے آنا، لیکن کسی شخص کو یہ شک نہ ہو کہ تم میرے ساتھ جا رہے ہو، کیونکہ اگر میرے باپ کو پتا چل گیا تو وہ ان سب کو قتل کر ڈالے گا۔ آپ فرماتے ہیں: (اگلے دن) جب وہ گھر سے نکلا تو میں بھی اس کے ساتھ ہو لیا، ہم پہاڑ پر چڑھ گئے اور ان لوگوں تک جا پہنچے ، یہ لوگ اپنے غار میں موجود تھے، (راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ ان لوگوں کی تعداد 6 یا 7 تھی) عبادت کر کر کے ان کی حالت یہ ہو گئی تھی (لگتا تھا کہ) ان کے بدن سے روح نکل چکی ہے، یہ لوگ سارا دن روزے سے گزارتے اور رات کو قیام کرتے، سحری کے وقت ان کو جو میسر آتا وہی کھا لیتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کے پاس جا کر بیٹھ گئے، کسان (کے بیٹے) نے اپنے رہنما کی تعریف و ثناء کی۔ پھر وہ لوگ آپس میں بات چیت کرنے لگے، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی، سابقہ انبیاء و رسل کی تعریف کی۔ بات چلتے چلتے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک پہنچی، اس سلسلے میں ان کے نظریات یہ تھے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا، اور ان کو یہ اختیار دیا کہ وہ مادر زادا ندھوں کو ، کو ہڑیوں کو شفا دیں، پرندہ بنائیں، مردوں کو زندہ کریں۔ ان کی قوم میں سے کچھ لوگوں نے ان کی تعلیمات کا انکار کیا اور کچھ لوگوں نے ان کی اتباع کی۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے اپنی مخلوق کو آزمایا تھا، اور ان لوگوں نے اس سے پہلے مجھے یہ کہا تھا کہ اے لڑکے! بے شک تمہارا ایک رب ہے، اور تجھے آخرت میں بھی جانا ہے، تیرے سامنے جنت اور دوزخ دونوں ہیں، تم ان کی طرف بڑھ رہے ہو، اور یہ جو لوگ آگ کی پوجا کرتے ہیں، یہ کافر اور گمراہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے عمل سے راضی نہیں ہے، اور نہ یہ سچے دین پر ہیں۔ جب اس لڑکے (کسان کے بیٹے) کے جانے کا وقت ہوا تو وہ اٹھ کر چل دیا، میں بھی اس کے ہمراہ چلا گیا، اگلے دن دوبارہ ہم ان لوگوں کے پا س گئے، اس دن بھی انہوں نے بہت اچھی اور نیک باتیں کیں۔ میں نے ان کی مجلس کو اختیار کر لیا، ان لوگوں نے مجھے کہا: اے سلمان ! تم ابھی چھوٹے بچے ہو، تم ہماری طرح (مشقت والی) عبادت نہیں کر پاؤ گے، تم (رات کا کچھ حصہ) عبادت کر لیا اور (باقی وقت ) سو جایا کرو، (یونہی) دن میں (روزہ نہیں رکھا کرو بلکہ) کھاتے پیتے رہا کرو۔ راوی کہتے ہیں: (اس لڑکے کے باپ کو) اپنے بیٹے کے عمل کی اطلاع مل گئی، وہ گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی عبادت گاہ میں آ گیا، آکر ان سے کہنے لگا: اے لوگو! تم میرے پڑوس میں آئے اور میں نے تمہارے ساتھ اچھے پڑوسی کا برتاؤ کیا، تم نے کبھی بھی مجھ سے برا سلوک نہیں دیکھا، لیکن اس کے باوجود تم نے میرے بیٹے کو بگاڑ دیا ہے، اب میں تمہیں تین دن کی مہلت دیتا ہوں، اگر میں نے تمہیں تین دن کے بعد یہاں پر دیکھ لیا تو تمہارا یہ عبادت خانہ جلا ڈالوں گا۔ مہربانی کر کے تم اپنے وطن واپس لوٹ جاؤ، میں نہیں چاہتا کہ میرے ہاتھ سے تمہارا کوئی نقصان ہو۔ ان لوگوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ ہمارا مقصد تمہیں تکلیف دینا نہ تھا، ہمارا ارادہ تو فقط بھلائی ہی تھا۔ اس کا بیٹا ان لوگوں کے پاس آنے سے رک گیا، میں نے اس سے کہا: اللہ تعالیٰ سے ڈر، تم جو جانتے ہو کہ یہ دین ، اللہ تعالیٰ کا دین ہے، تیرا باپ اور ہم لوگ غلط دین پر ہیں۔ ہم لوگ آگ کے پجاری ہیں، اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے، تم غیر کے دین کے بدلے اپنی آخرت مت بیچو، اس نے کہا: اے سلمان تم صحیح کہہ رہے ہو، میں ان لوگوں کی بہتری کے لئے ان سے پیچھے ہٹا ہوں، کیونکہ اگر میں ان کے ساتھ جاؤں، میرا باپ مجھے ڈھونڈتا ہوا پہاڑ میں جا پہنچے گا، تب بہت نقصان ہو گا۔ ایک مرتبہ وہ میری تلاش میں ان کا ٹھکانہ دیکھ آیا ہے۔ میں یہ جان چکا تھا کہ حق انہی لوگوں کے ہاتھ میں ہے۔ جس دن ان لوگوں نے روانہ ہونا تھا، اس دن میں ان کے پاس آیا۔ ان لوگوں نے کہا: اے سلمان ! تم نے خود دیکھا ہے کہ ہم نے کس قدر احتیاط کی۔ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور یہ یقین رکھنا کہ دین حق وہی ہے جس کی ہم نے تمہیں وصیت کی ہے، اور یہ لوگ آگ کے پجاری ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کو نہیں پہچانتے اور نہ ہی یہ لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں، کبھی کوئی شخص تمہیں تمہارے سچے دین سے دھوکے میں نہ ڈالے۔ میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ ہی جاؤں گا۔ ان لوگوں نے کہا: تو ہمارے ساھت نہیں رہ سکتا، ہم سارا دن روزہ رکھتے ہیں اور رات کو قیام کرتے ہیں، ہمیں سحری کے وقت جو میسر ہو کھا لیتے ہیں۔ تم یہ سب نہیں کر پاؤ گے۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں تم لوگوں سے الگ نہیں ہوں گا۔ ان لوگوں نے کہا: تم اپنا حال بہتر جانتے ہو، بہر حال ہم نے اپنی صورت حال سے تمہیں آگاہ کر دیا ہے۔ لیکن اگر ہمارے ساتھ چلنے کا ارادہ لے کر آؤ تو اپنے کھانے پینے کی کچھ اشیاء جو تم خود اٹھا سکو، اپنے ہمراہ لے کر آنا، کیونکہ ہم جس قدر با مشقت عبادت کر سکتے ہیں، تم وہ مشقت برداشت نہیں کر پاؤ گے۔ آپ فرماتے ہیں، میں نے ایسے ہی کیا، میرا بھائی مجھ سے ملا، میں نے سارا معاملہ اس کو بتا دیا، اس کے بعد میں ان لوگوں کے پاس آ گیا، یہ روانہ ہو رہے تھے، میں بھی ان کے ہمراہ چل دیا، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہم بخیر و عافیت مقام موصل میں پہنچ گئے، جب ہم وہاں پہنچے تو لوگوں نے ہمیں گھیر لیا اور پوچھنے لگے: تم لوگ (اتنے دنوں سے) کہاں تھے؟ انہوں نے کہا: ہم ایسے علاقے میں تھے وہاں کے لوگ اللہ تعالیٰ کو یاد نہیں کرتے، وہاں کے لوگ آگ کے پجاری تھے، ہم وہاں پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے، ان لوگوں نے ہمیں وہاں سے نکال دیا۔ ان لوگوں نے پوچھا کہ یہ بچہ کون ہے؟ ان لوگوں نے میری تعریفیں کرنے کے بعد کہا: یہ بچہ اسی شہر سے ہمارے ساتھ آیا ہے، ہم نے اس بچے میں اچھائی ہی اچھائی دیکھی ہے۔ حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! ابھی وہ لوگ اسی گفتگو میں تھے کہ پہاڑ کی جانب سے ایک شخص ان کی جانب آیا۔ اس نے آکر ان کو سلام کیا اور بیٹھ گیا، یہ لوگ اس کے ارد گرد بیٹھ گئے، میں جن لوگوں کے ہمراہ تھا انہوں نے (بھی) اس آدمی کا بہت احترام کیا اور ان سب لوگوں نے اس آدمی کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔ اس آدمی نے پوچھا: تم لوگ کہاں تھے؟ انہوں نے تمام صورت حال کہہ سنائی۔ اس نے پوچھا: تمہارے ساتھ یہ بچہ کون ہے؟ ان لوگوں نے پھر میری کچھ تعریف کی اور میرے ان کے ہمراہ آنے کا ماجرا سنایا۔ جس قدر وہ لوگ اس آدمی کی عزت کر رہے تھے، میں نے اس طرح کبھی کسی کی عزت ہوتے نہیں دیکھی تھی۔ اس کے بعد اس آدمی نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی، اس کے بعد سابقہ انبیاء کرام اور رسل عظام ، ان کے احوال اور ان پر آنے والی آزمائشوں کا ذکر کیا۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر کرتے ہوئے ان کے بارے میں بتایا کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو رسول بنایا، ان کے ہاتھ پر مردوں کو زندہ کیا۔ وہ مٹی سے پرندے کی ایک مورت بنا کر اس پر دم کرتے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے پرندہ بن کر اڑ جاتا، اللہ تعالیٰ نے ان پر انجیل نازل فرمائی ، ان کو تورات کا علم دیا، ان کو بنی اسرائیل کی جانب رسول بنا کر بھیجا، کچھ لوگوں نے ان کا انکار کیا اور کچھ ان پر ایمان لائے، اور عیسیٰ علیہ السلام کی بعض آزمائشوں کا بھی ذکر کیا، اور یہ بھی بیان کیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام فرمایا، انہوں نے اس انعام پر اللہ تعالی کا شکر ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا، اللہ تعالیٰ نے ان کو جب اٹھایا تو اس وقت بھی آپ لوگوں کو نصیحت ہی کر رہے تھے، اور فرما رہے تھے: لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اور اس چیز کو مضبوطی سے تھام لو جو عیسیٰ علیہ السلام لے کر آئے ہیں۔ تم ان کی مخالفت نہ کرو، ورنہ اللہ تعالیٰ تمہیں ان کی مخالفت کا بدلہ دے گا۔ پھر اس آدمی نے کہا: جو کوئی یہاں سے کچھ لینا چاہے وہ لے سکتا ہے۔ لوگ ایک ایک کر کے اٹھتے اور پانی کا ایک گھونٹ اور کھانے ایک ایک لقمہ لیتے۔ میں جن لوگوں کے ہمراہ گیا تھا وہ بھی اٹھے اور اس آدمی کی بہت عزت و توقیر کی، اس کو سلام کیا۔ اس نے ان سے کہا: اس دین پر ہمیشہ قائم رہنا، فرقوں میں بٹنے سے بچنا اور اس بچے کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا۔ پھر اس نے مجھے کہا: اے بچے ! تم نے میری زبان سے جو باتیں سنی ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کا دین ہے۔ اور اس کے سوا سب کفر ہے۔ آپ فرماتے ہیں: میں نے کہا: میں آپ سے کبھی بھی الگ نہیں ہونگا۔ اس نے کہا: تم میرے ساتھ نہیں رہ سکتے، میں اس غار سے (پورے ہفتے کے بعد) ہر اتوار کو نکلتا ہوں، تو میرے ساتھ نہیں رہ سکتا، (حضرت سلمان )فرماتے ہیں : اے بچے ! تو ان کے ہمراہ نہیں رہ سکتا۔ میں نے کہا: میں ان کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس آدمی کے ساتھیوں نے کہا: اے فلاں ! یہ بچہ ہے اور اس کا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ اس نے مجھے کہا: تم (اپنے بارے میں) زیادہ جانتے ہو۔ میں نے کہا: میں تو ان کے ساتھ ہی رہوں گا۔میرے وہ ساتھی جن کے ہمراہ میں آیا تھا وہ سوچ کر رونے لگے کہ میں ان سے جدا ہو جاؤں گا۔ اس آدمی نے کہا: اے بچے ! اس طعام میں سے اتنا لے لو جو تمہیں اگلی اتوار تک کافی ہو۔ اتنا ہی پانی بھی لے لو، میں نے ایسا ہی کیا۔ میں نے اگلے اتوار تک اس کو نہ کھانا کھاتے دیکھا اور نہ سوتے دیکھا، وہ پورا ہفتہ رکوع و سجود ہی میں مشغول رہا۔جب صبح ہوئی تو اس نے مجھے کہا: اپنا کھانا پانی لے لو اور چلو ،میں اس کے پیچھے پیچھے چل نکلا، چلتے چلتے ہم ایک چٹان تک پہنچے، جب وہاں پہنچے تو کافی سارے لوگ بھی غار سے نکل کر پہاڑ پر آکر اس کے نکلنے کا انتظار کر رہے تھے۔ وہ تمام لوگ بیٹھ گئے اور جیسے پہلے اس نے وعظ کیا تھا اسی طرح دوبارہ وعظ کرتے ہوئے فرمایا: اس دین کو مضبوطی سے تھام لو، جدا جدا مت ہو، اللہ تعالیٰ کو یاد کرو اور جان لو کہ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے بندے تھے ، اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام فرمایا، اس کے بعد اس نے میرا ذکر کیا۔ لوگوں نے ان سے پوچھا: اے فلاں ! تجھ کو یہ بچہ کہاں سے ملا؟ اس نے میری تعریف کی اور میرے بارے میں بہت اچھے الفاظ ارشاد فرمائے۔ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد کی، وہاں کافی ساری روٹیاں اور پانی موجود تھا، لوگوں نے اپنی اپنی ضرورت کے مطابق اس میں سے لے لیا، میں نے بھی ایسے ہی کیا۔ اس کے بعد وہ لوگ ان پہاڑوں میں بکھر گئے اور اپنی اپنی غاروں میں واپس چلے گئے، میں اس کے ہمراہ واپس آگیا۔ کافی عرصہ ہم نے وہاں گزارا، ہر اتوار کو وہ باہر نکلتا اور لوگ بھی آجاتے، سب اس کے ارد گرد جمع ہو کر بیٹھ جاتے، وہ ان کو حسب معمول ان کی نصیحتیں کرتا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اتوار کے دن وہ نکلا، جب تمام لوگ اس کے پاس جمع ہو گئے تو اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کے بعد ان کو نصیحت کرتے ہوئے اپنے طریقے کے مطابق گفتگو فرمائی۔ پھر سب سے آخر میں کہا: اے لوگو! میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں، میری ہڈیاں کمزور ہو چکی ہیں، اور میری موت کا وقت قریب ہے ، اور عرصہ دراز سے اس گھر کی ذمہ داری میں نے ابھی تک کسی کو نہیں دی جبکہ یہ ذمہ داری کسی کو دینا بہت ضروری ہے۔ تم اس بچے کے ساتھ تعاون کرنا کیونکہ میں اس کو بے ضرر دیکھ رہا ہوں۔ یہ سن کر لوگ رونے لگ گئے، میں نے آج تک ایسا رونا دھونا کبھی نہیں دیکھا تھا۔ لوگوں نے (ایک دوسرے آدمی کے بارے میں کہا) اے فلاں! تم بوڑھے ہو اور تم اکیلے بھی ہو اور ہم نہیں سمجھتے کہ آج ہمیں جتنی تیری ضرورت ہے تمہیں اس سے زیادہ کبھی کوئی پیش کش کی گئی ہو، اس آدمی نے کہا: تم مجھے میرے ارادے سے مت ہٹاؤ، اس آدمی کی اتباع ضروری ہے لیکن تم اس بچے کے ساتھ بھلائی کا معاملہ کرنا تم یہی کرنا، تم یہی کرنا۔ میں نے کہا: میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس نے کہا: اے سلمان! تو نے میری حالت دیکھ لی ہے نا؟ میرے تمام معا ملات بھی دیکھ لئے ہیں۔ میں سارا دن روزہ رکھتا ہوں اور رات میں قیام کرتا ہوں۔ میں اپنے ہمراہ زاد راہ ابھی نہیں اٹھا سکتا اور تم اس کی طاقت نہیں رکھتے ہو۔ میں نے کہا: میں تمہیں نہیں چھوڑ سکتا۔ اس نے کہا: ٹھیک ہے تم بہتر جانتے ہو۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے کہا: اے فلاں! ہم اس بچے کے بارے میں پریشان ہیں۔ اس نے کہا: یہ اپنا حال بہتر جانتا ہے، میں نے ا س کو تمام صورت حال سے آگاہ کر دیا ہے ، اور یہ بچہ اس سے پہلے میرے معاملات دیکھ بھی چکا ہے۔ میں نے کہا:میں اس سے الگ نہیں رہوں گا۔ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے بادیدہ نم اس کو الوداع کیا اور اس نے لوگوں سے کہا: لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور میں نے تمہیں جو وصیتکی ہے اس پر عمل پیرارہو، اگر میں زندہ رہا تو دوبارہ آؤں گا اور اگر میں مر گیاتو بےشک اللہ تعالیٰ حی لا یموت ہے، یہ کہہ کر اس نے سب کو سلام کیا اور وہاں سے نکل پڑا اور میں بھی اس کے ہمراہ چل دیا۔ اس نے مجھ سے کہا: تم اپنے کھانے پینے کے لئے کچھ اشیاء اپنے ساتھ لے لو، (میں نے کھانے پینے کی تھوڑیسی چیزیں اپنے ساتھ رکھیں) اور اس کے ہمراہ چل پڑا۔ ہم (منزل بہ منزل )چلتےرہے، میں اس کے پیچھے پیچھے تھا ، وہ مسلسل اللہ تعالیٰ ذکر کر رہا تھا، وہ نہ تو کسی جانب توجہ کر تا تھا اور نہ کہیں ٹھہرتا تھا، جب شام ہوتی تو وہ مجھے کہتا : اے سلمان ! تم نما ز پڑھ ک کھانا وغیرہ کھا پی کر سو جاؤ، اور وہ خود ساری رات نماز میں مشغول رہتا، چلتے چلتے ہم بیت المقدس پہنچ گئے۔ نگاہیں جھکائے، ادب و احترام کےساتھ تم مسجد کے دروازے تک پہنچ گئے، دروازے ر ایک اپاہج آدمی بیٹھا ہوا تھا، اس نے کہا: اے اللہ کے بندے ! تم میرے حال کو دیکھ رہے ہو، تم مجھ پر کچھ صدقہ کرو، لیکن وہ اس آدمی کی جانب توجہ کئے بغیر مسجد میں مختلف مقامات پر نماز پڑھنے لگ گیا، پھر اس نے کہا:اے سلمان ! میں بہت عرصے سے سویا نہیں ہوں اور نہ میں نے نیند کا ذائقہ چکھا ہے اگر تم یہ کر سکو کہ جب سایہ فلاں مقام تک پہنچ جائے تو تم مجھے جگا دو گے تو میں سو جاتا ہوں، کیونکہ مجھے اس مسجد میں سونے کا بہت شوق ہے اور اگر تم مجھے نہیں اٹھا سکتے تو میں نہیں سوتا۔ میں نے کہا: ٹھیک ہے جی ! میں آپ کو جگا دوں گا۔ یہ کہہ کر وہ اپنے طورپر مطمئن ہو کر سو گیا۔ میں نے سوچا کہ یہ آدمی بہت عرصے سے سویانہیں ہے، چند دن میں نے بھی اس کے ساتھ رہ کر اس کو دیکھا ہے، مجھے آج اس کو اٹھانا چاہئے تاکہ یہ اپنی نیند پوری کر لے۔ وہ شخص پورے راستے میں مجھے وعظ ونصیحت کرتا رہا اور مجھے بتاتا رہا کہ میرا ایک رب ہے ، اور میرے سامنے جنت و دوزخ ہے ، حساب کتاب ہے ، وہ آدمی جیسے اتوارکے دن نصیحتیں کیا کرتا تھا۔ اسی طرح مجھے بھی نصیحتیں کرتا رہا، اس نے مجھے کہا: اے سلمان ! بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ عنقریب ایک رسول مبعوث فرمائے گا، اس کا نام "احمد " ہو گا، وہ تہمہ سے نکلے گا۔ وہ عجمی شخص تھا، عربی صحیح طور پر نہیں بول پا رہا تھا (تہامہ کو تہمہ کہہ رہا تھا) ، اس نے بتایا کہ اس کی نشانی یہ ہو گی کہ وہ "ہدیہ" (کی چیز) کھالے گا مگر "صدقہ" (کی چیز ) نہیں کھائے گا، اس کے دونوں کندھوں کے درمیان مہر نبوت ہو گی، اور اس نبی کے ظاہر ہونے کا زمانہ بالکل قریب ہے۔ میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں، پتا نہیں میں اس کی صحبت سے فیضیاب ہو پاتا ہوں یا نہیں اگر تو اس کو پائے تو ا س کی تصدیق کرنا اور اس کی اتباع کرنا۔ میں نے کہا: اگر وہ مجھے تمہارا دین اور تمہاری تعلیمات چھوڑنے کا حکم دے، (تو کیا تب بھی میں اس کی اتباع کروں؟)اس نے کہا: تم اس کے کہنے پر سب کچھ چھوڑ دینا کیونکہ حق اسی میں ہے جو وہ حکم دے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اسی میں ہے جو وہ کہے۔ (حضرت سلمان) فرماتے ہیں: (وہ آدمی جگانے کی ذمہ داری مجھے سونپ کر سو گیا) ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا، اس نے مجھے کہا: اے سلمان! سایہ تو اس جگہ سے آگے گزر گیا ہے اور تم نے مجھے جگایا کیوں نہیں؟ میں نے کہا: تو نے مجھے بتایا تھا کہ تم اتنے عرصے سے سوئے نہیں ہو اور چند روز تیرے ہمراہ رہ کر اس کا نظارہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے بھی کر لیا ہے ، میں نے سوچا کہ آج آپ کی نیند پوری ہو جائے، اس نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی ، اٹھ کر کھڑا ہوا اور مسجد سے باہر نکلا، اس کے پیچھے میں بھی مسجد سے باہر آ گیا، دروازے پر وہ اپاہج آدمی ابھی تک بیٹھا ہوا تھا، جب یہ آدمی اس کے قریب سے گزرا تو اس نے کہا: اے اللہ کے بندے ! تم جب اندر گئے ، میں نے اس وقت بھی سوال کیا تھا لیکن تو نے مجھے کچھ نہیں دیا اب تم باہر آ رہے ہو، اب پھر میں نے سوال کیا، اب بھی تم نے مجھے کچھ نہیں دیا۔ وہ وہیں رک گیا اور کچھ دیر دیکھتا رہا کہ کوئی شخص اسے دیکھ تو نہیں رہا، (جب اس کو یقین ہو گیا کہ کوئی نہیں دیکھ رہا تو ) وہ اس مانگنے والے کے قریب ہوا اور اسے کہا: اپنا ہاتھ میری طرف بڑھائیے، اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا، اس نے کہا" بسم اللہ"۔ یہ لفظ سنتے ہیں وہ آدمی یوں اٹھ کر کھڑا ہو ا جیسے وہ رسی سے بندھا ہوا، ابھی کھلا ہو، اور اس میں کوئی عیب نہیں تھا، پھر یہ شخص چل دیا، اب بھی یہ نہ کسی کی طرف توجہ کرتا اور نہ کسی کے پاس کھڑا ہوتا، اس اپاہج آدمی نے مجھے کہا:اے بچے! میرے کپڑے اٹھا لو اور مجھے گھر تک چھوڑ آؤ (آپ فرماتے ہیں) میں نے اس کے کپڑے اٹھا لئے اوراس کے ساتھ چل دیا، اس نے پورے راستے میں میری طرف کوئی دھیان نہ دیا (اپاہج کو اس کے گھر تک چھوڑنے کے بعد) ، میں اس کی تلاش میں نکلا، میں نے جب بھی کسی سے اس کے بارے میں پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ وہ تیرے آگے آگے ابھی گیا ہے، چلتے چلتے قبیلہ کلب کے ایک قافلے سے میری ملاقات ہوئی، میں نے ان سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا، جب انہوں نے میری بات سنی تو ان میں سے ایک آدمی نے اپنا اونٹ میرے لئے بٹھا دیا اور مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا، یہ لوگ مجھے اپنے شہر لے گئے اور وہاں لے جا کر مجھے بیچ دیا، ایک انصاری خاتون نے مجھے خریدا، اس نے مجھے اپنے باغ میں کام پر لگا دیا، وہاں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے آئے، مجھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنے کا پتا چلا تو میں اپنے باغ کی کھجوریں توڑ کر ایک تھال میں رکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ضیافت کےلئے لے آیا، اسی اثناء میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کچھ لوگ جمع ہو گئے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سب سے زیادہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب تھے، میں نے کھجوروں کا تھال حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پو چھا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: صدقہ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے کہا: تم لوگ کھا لو، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود نہ کھایا۔ کچھ دنوں بعد میں نے پھر کچھ کھجوریں ایک برتن میں رکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں۔ اس وقت بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کچھ لوگ جمع تھے، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس دن بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سب سے زیادہ قریب تھے۔ میں نے کھجوریں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: "ہدیہ" ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بسم اللہ شریف پڑھ کھایا اور باقی لوگوں نے بھی کھایا۔ میں نے سوچا : میرے اس عجمی ساتھ نے جو نشانیاں بتائی تھیں جو عجمی ہونے کی وجہ سے صحیح طور پر عربی بول نہیں پا رہا تھا وہ "تہامہ" نہیں کہہ پا رہا تھا، "تہمہ" کہہ رہا تھا، اس نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس کا نام "احمد " ہوگا۔میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کی جانب گھوما، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا مقصد سمجھ لیا، اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا کپڑا ڈھلکا دیا، میں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بائیں کندھے کے ایک جانب مہر نبوت تھی، میں نے اس کو اچھی طرح غور سے دیکھ لیا پھر میں گھوم کر آیا ار حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے آ کر بیٹھ گیا اور میں نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور بے شک آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: تم کون ہو؟ (آپ فرماتے ہیں) میں نے کہا: حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں غلام ہوں۔ (آپ فرماتے ہیں) میں نے اپنی پوری کہانی سنائی اور اس آدمی کی تمام باتیں بتائیں جس کے ہمراہ میں رہا اور اس نے مجھے جو حکم دیا تھا، سب بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: تم کس کے غلام ہو؟ میں نے کہا: ایک انصاری خاتون کا غلام ہوں، اس نے مجھے اپنے باغ کی دیکھ بھال کی ذمہ داری دے رکھی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو آواز دی ، ابوبکر، حضرت ابو بکر نے جواب دیا: میں حاضر ہوں، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو خرید لو۔ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے خرید کر آزاد کر دیا، کچھ دنوں بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ نصاریٰ کے دین کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں کوئی بھلائی ہے نہ ان کے دین میں کوئی بھلائی ہے۔ میرے دل میں ایک بہت بڑی بات بیٹھ گئی، میں نے سوچا کہ یہ تو وہی شخص ہے میں جس کے ہمراہ کئی دن رہا ہوں، اور جس کی عبادت کے جلوے میں نے دیکھے ہیں یہ تو وہی شخص ہے، جس نے بسم اللہ پڑھ کر اپاہج کو دم کیا تھا اور وہ ٹھیک ہو گیا تھا، اور فرمایا: ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے نہ ان کے دین میں بھلائی ہے۔ میں وہاں سے واپس گیا تو میرے دل میں خوشی کی ایک عجیب لہر سی دوڑ رہی تھی۔ اسی موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ آیت نازل فرمائی:"ذالک بان منھم قسیسین ورھبانا وانھم لایستکبرون" یہ اس لئے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور یہ غرور نہیں کرتے"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلمان کو میرے پاس لاؤ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد میرے پاس پہنچا، میں دل ہی دل میں بہت ڈر رہا تھا۔ بہر حال میں حاضر خدمت ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنے کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی۔ "ذالک بان منھم قسیسین ورھبانا وانھم لایستکبرون"یہ اس لئے کہ ان میں عالم اور درویش ہیں اور یہ غرور نہیں کرتے" (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) ۔ پھر فرمایا: اے سلمان ! وہ لوگ جن کے ساتھ تم رہے ہو اور تیرا وہ رہنما "نصرانی" نہیں تھے وہ تو مسلمان تھے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، اسی شخص نے مجھے آپ کی اتباع کرنے کا کہا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ اگر وہ مجھے تیرے دین اور تیرے نظریات چھوڑنے کا حکم دے تو کیا میں تب بھی اس کی اتباع کروں؟ تو اس نے کہا: تھا سب کچھ چھوڑ دینا، بس اس کا دامن نہ چھوڑنا، کیونکہ حق اور واجبات اسی میں ہے جو وہ تجھے حکم دے۔ امام حاکم کہتے ہیں: حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایمان لانے کے واقعہ کے سلسلے میں یہ حدیث صحیح ہے، اس کی سند عالی ہے۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ابو طفیل عامر بن واثلہ کے حوالے سے بھی حضرت سلمان کی ایک صحیح روایت موجود ہے جو اس اسناد سے ذرا مختلف ہے، دونوں کے متن اور اسناد میں کمی زیادتی کے حوالے سے کیونکہ کافی اختلاف ہے اس لئے میں نے لازمی سمجھا کہ دونوں حدیثوں کو ذکر کر دوں۔ (اس لئے دوسری حدیث درج ذیل ہے)۔

زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ ← سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ← حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ← عَلِي بْنُ عَاصِمٍ، ← أَبُو بَكْرٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Solomon the Persian, may God be pleased with him · Hadith 6543

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8746

8746 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ قَالَا: ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: ثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيَأْخُذَنَّ رَجُلٌ بِيَدِ أَبِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَتُقَطِّعَنَّهُ النَّارُ يُرِيدُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، قَالَ: فَيُنَادَى: إِنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا مُشْرِكٌ أَلَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ الْجَنَّةَ عَلَى كُلِّ مُشْرِكٍ، قَالَ: فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَبِي فَيُحَوَّلُ فِي صُورَةٍ قَبِيحَةٍ وَرِيحٍ مُنْتِنَةٍ فَيَتْرُكُهُ " قَالَ: فَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَرَوْنَ أَنَّهُ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَلَمْ يَزِدْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى ذَلِكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8746 - على شرط البخاري ومسلم

حضڑت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قیمات کے دن آدمی اپنے باپ کا ہاتھ پکڑے گا ، لیکن آگ اس کا ہاتھ چھڑو ا دے گی ، وہ بندہ اس کو جنت میں لے جانا چاہتا ہو گا ، پھر ایک نڈا دینے والا کہے گا : جنت میں کوئی مشرک داخل نہیں ہو سکتا ۔خبردار ! اللہ تعالی نے جنت ہر مشرک پر حرام فرما دی ہے ۔وہ اللہ تعالی کو آوازیں دے گا ، تو اس کی شکل بگاڑ دی جائے گی اور اس سے بدبو پھوٹنے لگ جائے گی تو وہ وپنے باپ کو چھوڑ دے گا ۔ صحابہ کرام اس سے یہ سمجھا کرتے تھے کہ یہ بات حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں کہی گئی ہے ۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس کی مزید کوئی تشریح نہیں فرمائی ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عُقْبَةَ بْنِ عَبْدِ الْغَافِرِ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← عُبَيْدُ بْنُ عُبَيْدَةَ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ محمد بن إِبْرَاهِيمُ الْعَبْدِيُّ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَعَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8746

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَهْوَالِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8789

8789 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، ثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عُرِضَتْ عَلَيَّ النَّارُ فَرَأَيْتُ فِيهَا عَمْرَو بْنَ لُحَيِّ بْنِ قَمَعَةَ بْنِ خِنْدِفَ أَبُو عَمْرٍو وَهُوَ يَجُرُّ قُصْبَهُ فِي النَّارِ، وَهُوَ أَوَّلُ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ وَغَيَّرَ عَهْدَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ، وَأَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ أَكْثَمُ بْنُ أَبِي الْجَوْنِ» قَالَ: فَقَالَ أَكْثَمُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ يَضُرُّنِي شَبَهُهُ؟ قَالَ: «لَا إِنَّكَ مُسْلِمٌ وَإِنَّهُ كَافِرٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8789 - على شرط مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھ پر دوزخ پیش کی گئی ، میں نے اس میں عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندف ابو عمرو کو دیکھا وہ آگ میں اپنی آنتیں گھسیٹتا پھر رہا تھا، یہ وہ پہلا شخص ہے جس نے بتوں کے نام پر جانور چھوڑے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مذہب کو تبدیل کیا ، اور وہ اکثم بن ابی الجون سے بہت ملتا جلتا ہے، یہ سن کر اثم نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا اس کے ساتھ مشابہت سے مجھے کوئی نقصان ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں ، تم مسلمان ہو، وہ کافر ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← عبد الرحمن بن أبي الوزير

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book of horror › The merits of all Arabs · Hadith 8789

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ إِبْرَاهِيمَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَبَيْنَهُ وَبَيْنَ نُوحٍ هُودٌ وَصَالِحٌ صَلَوَاتُ اللَّهُ عَلَيْهِمَا · حديث 4024

4024 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ عَيَّاشٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " لَمَّا أُمِرَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِبِنَاءِ الْبَيْتِ خَرَجَ مَعَهُ إِسْمَاعِيلُ وَهَاجَرُ فَلَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ رَأَى عَلَى رَأْسِهِ فِي مَوْضِعِ الْبَيْتِ مِثْلَ الْغَمَامَةِ فِيهِ مِثْلُ الرَّأْسِ فَكَلَّمَهُ، فَقَالَ: يَا إِبْرَاهِيمُ ابْنِ عَلَى ظِلِّي أَوْ عَلَى قَدْرِي وَلَا تَزِدْ وَلَا تَنْقُصْ فَلَمَّا بَنَى خَرَجَ، وَخَلَّفَ إِسْمَاعِيلَ وَهَاجَرَ وَذَلِكَ حَيْثُ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ} [الحج: 26] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4024 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیت اللہ کی تعمیر کا حکم دیا گیا تو ان کے ہمراہ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہ بھی نکلے ۔ جب آپ مکۃ المکرمہ پہنچے تو آپ نے بیت اللہ کے مقام پر اپنے سر کے اوپر کی جانب ایک بادل سا دیکھا، اس میں سر کی سی کوئی چیز تھی ۔ اس سے آواز آئی : اے ابراہیم ! میرے سائے پر یا میرے سائے کی مقدار میں عمارت بنائیں اور اس سے کم یا زیادہ مت کرنا ۔ جب آپ نے تعمیر مکمل کی رلی تو وہاں سے باہر نکل آئے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہ کو وہیں چھوڑ دیا۔ اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ﴿وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَاهِيمَ مَكَانَ الْبَيْتِ أَنْ لَا تُشْرِكْ بِي شَيْئًا وَطَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْقَائِمِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ٢٦﴾ [الحج: 26]" جب کہ ہم نے ابراہیم کو اس گھر کا ٹھکانہ ٹھیک بتا دیا اور حکم دیا کہ میرا کوئی شریک نہ کر اور میر گھر ستھرا رکھ طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع سجدے والوں کے لئے " ۔ (ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَلِيٍّ، ← حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← حميد بن عياش الرملي ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › Abraham's remembrance of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, the most glorified and exalted, and between him and Noah, may God bless him and grant him peace · Hadith 4024

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِمَا · حديث 4085

4085 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ «أَنَّ يُوسُفَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أُلْقِيَ فِي الْجُبِّ وَهُوَ ابْنُ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً وَلَقِيَ أَبَاهُ بَعْدَ الثَّمَانِينَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4085 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت یوسف علیہ السلام 16 سال کی عمر میں کنویں میں پھینکے گئے تھے اور 80 سال کے بعد دوبارہ اپنے والد محترم سے ملے ۔

يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ ← يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The mention of Joseph ibn Ya’acoub, may God’s prayers be upon them · Hadith 4085

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ وَفَاةِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُ مَاتَ قَبْلَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ · حديث 4108

4108 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ، ثنا عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهِ، قَالَ: وَنَعَى اللَّهُ هَارُونَ لِمُوسَى حِينَ أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَقْبِضَهُ، فَلَمَّا نَعَاهُ لَهُ حَزِنَ، فَلَمَّا قُبِضَ جَزَعَ جَزَعًا شَدِيدًا وَبَكَى بُكَاءً طَوِيلًا، فَلَمَّا عَادَ فِي ذَلِكَ أَقْبَلَ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ يُعَزِّيهِ وَيَعِظُهً فَقَالَ لَهُ: «يَا مُوسَى مَا كَانَ يَنْبَغِي لَكَ أَنْ تَحِنَّ إِلَى فَقْدِ شَيْءٍ مَعِي وَلَا أَنْ تَسْتَأْنِسَ بِغَيْرِي، وَلَا أَنْ تُشَدَّ رُكَبَكَ إِلَّا بِي، وَلَا أَنْ يَكُونَ جَزَعُكَ هَذَا الْآنَ عَلَى هَارُونَ إِلَّا لِي، وَكَيْفَ تَسْتَوْحِشُ إِلَى شَيْءٍ مِنَ الْأَشْيَاءِ، وَأَنْتَ تَسْمَعُ كَلَامِي أَمْ كَيْفَ تَحِنُّ إِلَى فَقْدِ شَيْءٍ مِنَ الدُّنْيَا بَعْدَ إِذِ اصْطَفَيْتُكَ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي وَذَكَرَ مُنَاجَاةً طَوِيلَةً» قَالَ وَقُبِضَ هَارُونُ وَمُوسَى ابْنُ سَبْعَ عَشْرَةَ وَمِائَةِ سَنَةٍ قَبْلَ أَنْ يَنْقَضِيَ التِّيهُ بِثَلَاثِ سِنِينَ، وَقُبِضَ هَارُونُ وَهُوَ ابْنُ عِشْرِينَ وَمِائَةِ سَنَةٍ بَقِيَ مُوسَى بَعْدَهُ ثَلَاثَ سِنِينَ حَتَّى، تَمَّ لَهُ مِائَةٌ وَعِشْرُونَ سَنَةً وَبَنُو إِسْرَائِيلَ مُتَفَرِّقُونَ عَلَيْهِ يَجْتَمِعُونَ عَلَيْهِ مَرَّةً وَيَفْتَرِقُونَ أُخْرَى "

حضرت وہب بن منبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ہارون علیہ السلام کو وفات دینے کا ارادہ کیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ان کی وفات کی اطلاع ( پہلے ہی ) دے دی تھی ۔ جب ان کی وفات ہوئی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام بہت رنجیدہ ہوئے اور آپ بہت روئے ۔ جب آپ کو کچھ قرار آیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی اور ان کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا : اے موسیٰ علیہ السلام ! میرے ہوتےہوئے آپ کو کسی چیز کے کھونے پر اس قد پریشان نہیں ہونا چاہیے ، میرے علاوہ کسی اور سے اس قدر انس بھی نہیں رکھنا چاہیے اور آپ کو ہمیشہ میری جانب ہی متوجہ رہنا چاہیے اور اس موقع پر آپ کو ہارون علیہ السلام کے لئے اس قدر آہ و بکا نہیں کرنی چاہئے تھی بلکہ میرا کلام سنتے ہوئے آپ کسی بھی چیز سے مانوس کیسے رہ سکتے ہیں۔ یا آپ دنیا کی کوئی چیز کھو جانے پر کیسے رو سکتے ہیں جب کہ میں نے تمہیں اپنی رسالت اور کلام کے لئے منتخب فرمایا ہےاور بہت طویل مناجاۃ کرنے کے لئے منتخب فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں : اور مقام تیہ کی مدت پوری ہونے سے تین سال قبل جب حضرت ہارون علیہ السلام کا انتقال ہوا تو اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی عمر117 سال تھی جبکہ حضرت ہارون علیہ السلام کی عمر، ان کی وفات کے وقت 120 سال تھی۔آپ کے انتقال کے بعد تین سال تک مزید حضرت موسیٰ علیہ السلام مقام تیہ میں رہے ۔ حتیٰ کہ آپ کی عمر بھی 120 سال مکمل ہوگئی اور بنی اسرائیل بکھرے ہوئے تھے۔ کبھی تو آپ کی بات پر اکٹھے ہو جاتے اور کبھی پھر بکھر جاتے۔

وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ← أَبِيهِ ← عبد المنعم بن إدريس ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْبَرَاءِ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The death of Harun bin Amran is mentioned, because he died before Moses, peace be upon them · Hadith 4108

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ ذِكْرُ وَفَاةِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُ مَاتَ قَبْلَ مُوسَى عَلَيْهِمَا السَّلَامُ · حديث 4110

4110 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا} [الأحزاب: 69] قَالَ: " صَعِدَ مُوسَى وَهَارُونُ الْجَبَلَ فَمَاتَ هَارُونُ فَقَالَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ لِمُوسَى: أَنْتَ قَتَلْتَهُ كَانَ أَشَدَّ حُبًّا لَنَا مِنْكَ وَأَلْيَنَ لَنَا مِنْكَ فَآذَوْهُ فِي ذَلِكَ، فَأَمَرَ اللَّهُ الْمَلَائِكَةَ فَحَمَلَتْهُ فَمَرُّوا بِهِ عَلَى مَجَالِسِ بَنِي إِسْرَائِيلَ حَتَّى عَلِمُوا بِمَوْتِهِ فَدَفَنُوهُ وَلَمْ يَعْرِفْ قَبْرَهُ إِلَّا الرَّخَمُ وَإِنَّ اللَّهَ جَعَلَهُ أَصَمَّ أَبْكَمَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4110 - صحيح

حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا ﴾[الأحزاب: 69] "اے ایمان والو! ان لوگوں جیسے نہ ہو جانا جنہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تکلیف دی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے الزامات سے ان کو بری کردیا"۔ (ترجمہ کنزالایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) کے متعلق فرماتے ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام پہاڑ پر چڑھے تو حضرت ہارون علیہ السلام کا وہاں انتقال ہو گیا، تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر یہ الزام لگایا کہ تم نے ان کو قتل کیا ہے۔ ان کی ہمارے ساتھ محبت تم سے زیادہ تھی۔اور وہ ہم پر آپ سے زیادہ نرم بھی تھے۔تو اس سلسلہ میں الزام لگا کر انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ تکلیف دی تھی تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا۔ فرشتوں نے ان کو اٹھایا اور بنی اسرائیل کی مجالس سے گزرے ۔ تب ان کو حضرت ہارون علیہ السلام کی وفات کا یقین ہوا پھر انہوں نے ان کو دفن کیا اور آپ کی قبر کو سوائے ایک "رضم " نامی آدمی کے اور کوئی نہیں جانتا تھا اور اس " رضم " کو اللہ تعالیٰ نے گونگا بہرا بنا دیا۔ یہ حدیث صحیح الا سناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

صَعِدَ مُوسَى وَهَارُونُ الْجَبَلَ فَمَاتَ هَارُونُ ← عَلِيٍّ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الْحَكَمِ ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › The death of Harun bin Amran is mentioned, because he died before Moses, peace be upon them · Hadith 4110

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ تَوَارِيخِ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ وَالْمُرْسَلِينَ ‹ وَمِنْ كِتَابِ آيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي هِيَ دَلَائِلُ النُّبُوَّةِ · حديث 4227

4227 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، إِمْلَاءً، ثنا هَارُونُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْهَاشِمِيُّ، ثنا جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: «أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَا عِيسَى آمِنْ بِمُحَمَّدٍ وَأْمُرْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْ أُمَّتِكَ أَنْ يُؤْمِنُوا بِهِ فَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ آدَمَ وَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ الْجَنَّةَ وَلَا النَّارَ وَلَقَدْ خَلَقْتُ الْعَرْشَ عَلَى الْمَاءِ فَاضْطَرَبَ فَكَتَبْتُ عَلَيْهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولٌ اللَّهِ فَسَكَنَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4227 - أظنه موضوعا على سعيد

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جانب وحی فرمائی کہ اے عیسیٰ ! محمد ﷺ پر ایمان لاؤ اور اپنی امت کو حکم دے دو کہ ان میں سے جوان کو پائے وہ ان پر ایمان لائے ۔ اگر محمدﷺ نہ ہوتے تو میں آدم علیہ السلام کو پیدا نہ کرتا اور اگر محمد ﷺ نہ ہوتے تو میں جنت کو پیدا نہ کرتا اور میں نے عرش کو پانی پربنایا تو وہ ہلنے لگا تو میں نے اس پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھ دیا تو وہ ساکن ہوگیا۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← جَنْدَلُ بْنُ وَالِقٍ ← هَارُونُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْهَاشِمِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، إِمْلَاءً،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Chronicles of the Advances of the Prophets and Messengers › And from the Book of the Signs of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, which are the signs of prophethood · Hadith 4227

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4509

4509 - أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " إِنَّ أَفْرَسَ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ: الْعَزِيزُ حِينَ تَفَرَّسَ فِي يُوسُفَ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: أَكْرِمِي مَثْوَاهُ، وَالْمَرْأَةُ الَّتِي رَأَتْ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَتْ لِأَبِيهَا: يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ، وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ اسْتَخْلَفَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا " قَالَ الْحَاكِمُ: «فَرَضِيَ اللَّهُ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، لَقَدْ أَحْسَنَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَهُمْ بِهَذَا الْإِسْنَادِ صَحِيحٌ» . [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4509 - صحيح

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: لوگوں میں سے تین آدمیوں نے انتہائی کمال فراست ( دوراندیشی )کا ثبوت دیا ۔ (۱) عزیز مصر۔ جبکہ اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں دور رس نگاہ سے دیکھتے ہوئے اپنی بیوی سے کہا تھا:’’اکر می مثواه‘‘ (یوسف: ۲۱) ’’انہیں عزت سے رکھ‘ (ترجمہ کنز الایمان ،امام احمد رضا ) (۲) اس عورت نے ، جس نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر اپنے والد سے کہا تھا :يا ابت استاجرة( القصص:۲۶ ) ”اے میرے باپ ان کونو کرر کھ لو‘‘ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمدرضا ) (۳) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ جس وقت انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ نا مزدکیا تھا۔ امام حاکم کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر راضی ہوجنہوں نے ان تمام کو یکجا کر دیا ہے اس کی سند صحیح ہے۔

الْحَاكِمُ: «فَرَضِيَ اللَّهُ ← لِأَبِيهَا: يَا أَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ، وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ اسْتَخْلَفَ عُمَرَ ← لِامْرَأَتِهِ: أَكْرِمِي مَثْوَاهُ، وَالْمَرْأَةُ الَّتِي رَأَتْ مُوسَى ← عَبْدُ اللَّهِ إِنَّ أَفْرَسَ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ: الْعَزِيزُ حِينَ تَفَرَّسَ فِي يُوسُفَ، ← أَبِي عُبَيْدَةَ ← أَبِي إِسْحَاقَ ← زُهَيْرٍ ← أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ← الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4509

chevron_left Previous
1…111213…226
Next chevron_right