Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحدود والجرائم

Criminal Law

25796 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19433

حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ جَابِرٍ عَنْ عَامِرٍ عَنْ جَرِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ

حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پرہے ، لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ اداکرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔

جَرِيرٌ ← عَامِرٍ، ← جَابِرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← هاشم بن القاسم

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19433

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19439

حَدَّثَنَا مَكِّيُّ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ يَزِيدَ الْأَوْدِيُّ عَنْ عَامِرٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصِيَامِ رَمَضَانَ

حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پرہے ، لا الہ الا اللہ کی گواہی دینا، نماز قائم کرنا، زکوۃ اداکرنا، بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ← عَامِرٍ، ← دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ، ← مكي

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19439

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19544

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَجْلَحَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ خَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بِالْيَمَنِ فَأُتِيَ بِامْرَأَةٍ وَطِئَهَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ فَلَمْ يُقِرَّا ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ أَتُقِرَّانِ لِهَذَا بِالْوَلَدِ فَلَمْ يُقِرَّا ثُمَّ سَأَلَ اثْنَيْنِ حَتَّى فَرَغَ يَسْأَلُ اثْنَيْنِ اثْنَيْنِ عَنْ وَاحِدٍ فَلَمْ يُقِرُّوا ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَلْزَمَ الْوَلَدَ الَّذِي خَرَجَتْ عَلَيْهِ الْقُرْعَةُ وَجَعَلَ عَلَيْهِ ثُلُثَيْ الدِّيَةِ فَرُفِعَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے تو ان کی پاس ایک عورت کو لایا گیا جس سے ایک ہی طہر میں تین آدمیوں نے بدکاری کی تھی انہوں نے ان میں سے دو آدمیوں سے پوچھا کہ کیا تم اس شخص کے لئے بچے کا اقرار کرتے ہو؟ انہوں نے اقرار نہیں کیا اسی طرح ایک ایک کے ساتھ دوسرے کو ملاکرسوال کرتے رہے یہاں تک کہ اس مرحلے سے فارغ ہوگئے اور کسی نے بھی بچے کا اقرار نہیں کیا پھر انہوں نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور قرعہ میں جس کا نام نکل آیابچہ اس کا قرار دے دیا اور اس پردوتہائی دیت مقرر کردی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے مسکرائے کہ دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← عَبْدِ خَيْرٍ الْحَضْرَمِيِّ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَجْلَحَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19544

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19557

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَجْلَحَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ نَفَرًا وَطِئُوا امْرَأَةً فِي طُهْرٍ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لِاثْنَيْنِ مِنْهُمْ أَتَطِيبَانِ نَفْسًا لِذَا فَقَالَا لَا فَأَقْبَلَ عَلَى الْآخَرَيْنِ فَقَالَ أَتَطِيبَانِ نَفْسًا لِذَا فَقَالَا لَا قَالَ أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ قَالَ إِنِّي مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ فَأَيُّكُمْ قُرِعَ أَغْرَمْتُهُ ثُلُثَيْ الدِّيَةِ وَأَلْزَمْتُهُ الْوَلَدَ قَالَ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَا أَعْلَمُ إِلَّا مَا قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے تو ان کی پاس ایک عورت کو لایا گیا جس سے ایک ہی طہر میں تین آدمیوں نے بدکاری کی تھی انہوں نے ان میں سے دو آدمیوں سے پوچھا کہ کیا تم اس شخص کے لئے بچے کا اقرار کرتے ہو؟ انہوں نے اقرار نہیں کیا اسی طرح ایک ایک کے ساتھ دوسرے کو ملاکرسوال کرتے رہے یہاں تک کہ اس مرحلے سے فارغ ہوگئے اور کسی نے بھی بچے کا اقرار نہیں کیا پھر انہوں نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور قرعہ میں جس کا نام نکل آیابچہ اس کا قرار دے دیا اور اس پردوتہائی دیت مقرر کردی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں بھی اس کا حل وہی جانتاہوں جو علی نے بتایاہے۔

علي -رضي الله تعالى عنه ← لَا أَعْلَمُ إِلَّا مَا ← ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ← إِنِّي مُقْرِعٌ بَيْنَكُمْ فَأَيُّكُمْ قُرِعَ أَغْرَمْتُهُ ثُلُثَيْ الدِّيَةِ وَأَلْزَمْتُهُ الْوَلَدَ ← أَنْتُمْ شُرَكَاءُ مُتَشَاكِسُونَ ← لَا۔ ← أَتَطِيبَانِ نَفْسًا لِذَا ← لَا فَأَقْبَلَ عَلَى الْآخَرَيْنِ ← عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لِاثْنَيْنِ مِنْهُمْ أَتَطِيبَانِ نَفْسًا لِذَا ← زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ نَفَرًا وَطِئُوا امْرَأَةً فِي طُهْرٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْخَلِيلِ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَجْلَحَ ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19557

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19559

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا الْأَجْلَحُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أُتِيَ فِي ثَلَاثَةِ نَفَرٍ إِذْ كَانَ بِالْيَمَنِ اشْتَرَكُوا فِي وَلَدٍ فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَضَمِنَ الَّذِي أَصَابَتْهُ الْقُرْعَةُ ثُلُثَيْ الدِّيَةِ وَجَعَلَ الْوَلَدَ لَهُ قَالَ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِقَضَاءِ عَلِيٍّ فَضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ

حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن میں تھے تو ان کی پاس ایک عورت کو لایا گیا جس سے ایک ہی طہر میں تین آدمیوں نے بدکاری کی تھی انہوں نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور قرعہ میں جس کا نام نکل آیابچہ اس کا قرار دے دیا اور اس پردوتہائی دیت مقرر کردی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اتنے مسکرائے کہ دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔

زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، ← أَبِي الْخَلِيلِ، ← الشَّعْبِيِّ، ← الأَجْلَحِ، ← هُشَيْمٌ ← سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19559

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19669

وَمَنْ أَعْتَقَ نَفْسًا مُسْلِمَةً كَانَتْ فِدْيَتَهُ مِنْ جَهَنَّمَ

اور جو شخص کسی مسلمان غلام کو آزاد کرائے اس کے ہر عضو کے بدلے میں وہ اس کے لئے جہنم سے آزادی کا پروانہ بن جائے گا

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19669

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19685

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ عَنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ قَالَ وَكِيعٌ عِرْضُهُ شِكَايَتُهُ وَعُقُوبَتُهُ حَبْسُهُ

حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مالدار کا ٹال مٹول کرنا اس کی شکایت اور اسے قید کرنے کو حلال کردیتا ہے ۔

أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا ← وَبَرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ، شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19685

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19692

حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ أَخْبَرَنِي وَبْرُ بْنُ أَبِي دُلَيْلَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُّ الْوَاجِدِ يُحِلُّ عِرْضَهُ وَعُقُوبَتَهُ

حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مالدار کا ٹال مٹول کرنا اس کی شکایت اور اسے قید کرنے کو حلال کر دیتا ہے ۔

أَبِي ← عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونِ بْنِ مُسَيْكَةَ ← وَبْرِ بنِ أَبِي دُلَيْلَةَ ← الضحاك بن مخلد

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19692

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19715

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ وَعَوْنِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُمَا شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ عَوْنٌ فَاسْتَحْلَفَهُ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ سَعِيدٌ عَلَى عَوْنٍ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ

ابوبردہ نے گذشتہ حدیث حضرت عمرعبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کو سنائی تو انہوں نے ابوبردہ سے اس اللہ کے نام کی قسم کھانے کے لئے کہا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ یہ حدیث ان کے والد صاحب نے بیان کی ہے اور انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور سعید بن ابی بردہ ، عوف کی اس بات کی تردید نہیں کرتے۔

أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ النَّبِيِّ فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ سَعِيدٌ عَلَى عَوْنٍ أَنَّهُ اسْتَحْلَفَهُ ← عَوْنٌ فَاسْتَحْلَفَهُ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَنَّ أَبَاهُ ← عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِهَذَا الْحَدِيثِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ وَعَوْنِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُمَا شَهِدَا أَبَا بُرْدَةَ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19715

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19721

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ الْهَرْجَ قَالُوا وَمَا الْهَرْجُ قَالَ الْقَتْلُ قَالُوا أَكْثَرُ مِمَّا نَقْتُلُ إِنَّا لَنَقْتُلُ كُلَّ عَامٍ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ بِقَتْلِكُمْ الْمُشْرِكِينَ وَلَكِنْ قَتْلُ بَعْضِكُمْ بَعْضًا قَالُوا وَمَعَنَا عُقُولُنَا يَوْمَئِذٍ قَالَ إِنَّهُ لَتُنْزَعُ عُقُولُ أَهْلِ ذَلِكَ الزَّمَانِ وَيُخَلَّفُ لَهُ هَبَاءٌ مِنْ النَّاسِ يَحْسِبُ أَكْثَرُهُمْ أَنَّهُمْ عَلَى شَيْءٍ وَلَيْسُوا عَلَى شَيْءٍ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ قَالَ أَبُو مُوسَى وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مِنْهَا مَخْرَجًا إِنْ أَدْرَكَتْنِي وَإِيَّاكُمْ إِلَّا أَنْ نَخْرُجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلْنَا فِيهَا لَمْ نُصِبْ مِنْهَا دَمًا وَلَا مَالًا

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت سے پہلے " ہرج " واقع ہوگا لوگوں نے پوچھا کہ " ہرج" سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل ، لوگوں نے پوچھا اس تعداد سے بھی زیادہ جتنے ہم قتل کردیتے ہیں ؟ ہم تو ہر سال ستر ہزار سے زیادہ لوگ قتل کردیتے تھے ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد مشرکین کو قتل کرنا نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کو قتل کرنا مراد ہے لوگوں نے پوچھا کیا اس موقع پر ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں چھین لی جائیں گی اور ایسے بیوقوف لوگ رہ جائیں گے جو یہ سمجھیں گے وہ کسی دین پر قائم ہیں حالانکہ وہ کسی دین پر نہیں ہوں گے۔ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ زمانہ آگیا تو میں اپنے اور تمہارے لئے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا الاّ یہ کہ ہم اس سے اسی طرح نکل جائیں جیسے داخل ہوئے تھے اور کسی کے قتل یا مال میں ملوث نہ ہوں ۔

الْأَشْعَرِيِّ ← حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ، ← عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ، وَعَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19721

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19726

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ قَالَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَبُو مُوسَى جَالِسَيْنِ وَهُمَا يَتَذَاكَرَانِ الْحَدِيثَ فَقَالَ أَبُو مُوسَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامٌ يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ وَالْهَرْجُ الْقَتْلُ

شقیق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے حدیث کا مذاکرہ کررہے تھے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت سے پہلے جوزمانہ آئے گا اس میں علم اٹھالیا جائے گا اور جہالت اترنے لگے گی اور " ہرج " کی کثرت ہوگی جس کا معنی قتل ہے۔

كَانَ عَبْدُ اللَّهِ وَأَبُو مُوسَى جَالِسَيْنِ وَهُمَا يَتَذَاكَرَانِ الْحَدِيثَ فَقَالَ أَبُو مُوسَى ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19726

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19775

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ تَعَاهَدُوا هَذَا الْقُرْآنَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَهُوَ أَشَدُّ تَفَلُّتًا مِنْ أَحَدِكُمْ مِنْ الْإِبِلِ مِنْ عُقُلِهِ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ قُلْتُ لِبُرَيْدٍ هَذِهِ الْأَحَادِيثُ الَّتِي حَدَّثْتَنِي عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ هِيَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ لَا أَقُولُ لَكَ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اس قرآن کی حفاظت کیا کرو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے یہ اپنی رسی چھڑا کر بھاگ جانے والے اونٹ سے زیادہ تم میں سے کسی کے سینے سے جلدی نکل جاتا ہے ۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبُو بُرْدَةَ ← بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← أَبُو أَحْمَدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19775

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12970

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مُرَّ بِجِنَازَةٍ فَأَثْنَى الْقَوْمُ خَيْرًا فَقَالَ وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا فَقَالَ وَجَبَتْ فَقَالُوا قُلْتَ لِهَذَا وَجَبَتْ وَلِهَذَا وَجَبَتْ قَالَ شَهَادَةُ الْقَوْمِ وَالْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ایک جنازہ گذرا، کسی شخص نے اس کی تعریف کی، لوگوں نے اس کی تعریف کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، پھر دوسرا جنازہ گذرا اور لوگوں نے اس کی مذمت کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واجب ہوگئی، لوگوں نے عرض کیا کہ آپ نے دونوں کے لئے " واجب ہوگئی " فرمایا: اس کی کیا وجہ ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ قوم کی گواہی ہے اور مسلمان زمین میں اللہ کے گواہ ہیں ۔

شَهَادَةُ الْقَوْمِ وَالْمُؤْمِنُونَ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ ← قُلْتَ لِهَذَا وَجَبَتْ وَلِهَذَا وَجَبَتْ ← ((وجبت))، ← وَجَبَتْ ثُمَّ مُرَّ بِجَنَازَةٍ أُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرًّا ← مُرَّ بِجِنَازَةٍ فَأَثْنَى الْقَوْمُ خَيْرًا ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12970

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13126

حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ لَا يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا وَيَقِلَّ الرِّجَالُ وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ قَيِّمَ خَمْسِينَ امْرَأَةً رَجُلٌ وَاحِدٌ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بات بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، بدکاری عام ہوگی، اور شراب نوشی بکثرت ہوگی، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔

مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ لَا يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ بَعْدِي، ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13126

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13194

حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَقُولُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ خَيْرُ مَنْزِلٍ فَيَقُولُ سَلْ وَتَمَنَّ فَيَقُولُ مَا أَسْأَلُ وَأَتَمَنَّى إِلَّا أَنْ تَرُدَّنِي إِلَى الدُّنْيَا فَأُقْتَلَ فِي سَبِيلِكَ عَشْرَ مَرَّاتٍ لِمَا يَرَى مِنْ فَضْلِ الشَّهَادَةِ وَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَيَقُولُ لَهُ يَا ابْنَ آدَمَ كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ شَرُّ مَنْزِلٍ فَيَقُولُ لَهُ أَتَفْتَدِي مِنْهُ بِطِلَاعِ الْأَرْضِ ذَهَبًا فَيَقُولُ أَيْ رَبِّ نَعَمْ فَيَقُولُ كَذَبْتَ قَدْ سَأَلْتُكَ أَقَلَّ مِنْ ذَلِكَ وَأَيْسَرَ فَلَمْ تَفْعَلْ فَيُرَدُّ إِلَى النَّارِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اہل جنت میں سے ایک آدمی کو لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا اے ابن آدم! تو نے اپنا ٹھکانہ کیا پایا؟ وہ جواب دے گا پروردگار! بہترین ٹھکانہ پایا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ مانگ اور تمنا ظاہر کر، وہ عرض کرے گا کہ میری درخواست اور تمنا تو صرف اتنی ہی ہے کہ آپ مجھے دنیا میں واپس بھیج دیں اور میں دسیوں مرتبہ آپ کی راہ میں شہید ہوجاؤں ، کیونکہ وہ شہادت کی فضیلت دیکھ چکا ہوگا۔ ایک جہنمی کو لایا جائے گا اور اللہ اس سے پوچھے گا کہ اے ابن آدم! تو نے اپنا ٹھکانہ کیسا پایا؟ وہ کہے گا پروردگار! بدترین ٹھکانہ، اللہ فرمائے گا اگر تیرے پاس روئے زمین کی ہر چیز موجود ہو تو کیا وہ سب کچھ اپنے فدیئے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا ہاں ! اللہ فرمائے گا کہ تو جھوٹ بولتا ہے، میں نے تو تجھ سے دنیا میں اس سے بھی ہلکی چیز کا مطالبہ کیا تھا، لیکن تو نے اسے پورا نہ کیا چنانچہ اسے جہنم میں لوٹا دیا جائے گا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← رَوْحٌ وَعَفَّانُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13194

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13203

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَيُصِيبَنَّ نَاسًا سَفْعٌ مِنْ النَّارِ عُقُوبَةً بِذُنُوبٍ عَمِلُوهَا ثُمَّ لَيُدْخِلُهُمْ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ يُقَالُ لَهُمْ الْجَهَنَّمِيُّونَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کچھ لوگ اپنے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں داخل کئے جائیں گے، جب وہ جل کر کوئلہ ہو جائیں گے تو انہیں جنت میں داخل کر دیا جائے گا، (اہل جنت پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ انہیں ) بتایا جائے گا کہ یہ جہنمی ہیں ۔

أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← قَتَادَةَ ← هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13203

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13252

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرٍ الْمُزَنِيَّ حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ قَالَ وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا رُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرٌ فِيهِ الْقِصَاصُ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب بھی قصاص کا کوئی معاملہ پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں معاف کرنے کی ترغیب ہی دی۔

مَا رُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ أَمْرٌ فِيهِ الْقِصَاصُ إِلَّا أَمَرَ فِيهِ بِالْعَفْوِ ← أَنَسٍ، ← وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ← عَطَاءُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي بَكْرٍ الْمُزَنِيَّ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13252

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13263

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَنْبَرٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ لَا يُحَدِّثُكُمُوهُ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ وَيَظْهَرَ الْجَهْلُ وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ وَيَظْهَرَ الزِّنَا وَتَقِلَّ الرِّجَالُ وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ حَتَّى يَكُونَ فِي الْخَمْسِينَ امْرَأَةً الْقَيِّمُ الْوَاحِدُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں تمہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جو میرے بعد تم سے کوئی بیان نہیں کرے گا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کی علامات میں یہ بات بھی ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا، اس وقت جہالت کا غلبہ ہوگا، بدکاری عام ہوگی، اور شراب نوشی بکثرت ہوگی، مردوں کی تعداد کم ہوجائے گی اور عورتوں کی تعداد بڑھ جائے گی، حتیٰ کہ پچاس عورتوں کا ذمہ دار صرف ایک مرد ہوگا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← لَأُحَدِّثَنَّكُمْ بِحَدِيثٍ لَا يُحَدِّثُكُمُوهُ أَحَدٌ بَعْدِي ← أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَنْبَرٍ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13263

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13338

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الطَّالْقَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، ← عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ ← عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ← إبراهيمُ بنُ إسحاقَ الطالْقانيُّ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13338

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13368

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ قَالَتْ قَالَ لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ بِمَ مَاتَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرَةَ فَقُلْتُ بِالطَّاعُونِ فَقَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ

حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھا کہ ابن ابی عمرہ کیسے فوت ہوئے؟ میں نے بتایا کہ طاعون کی بیماری سے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون ہر مسلمان کے لئے شہادت ہے۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← لِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ بِمَ مَاتَ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَمْرَةَ فَقُلْتُ بِالطَّاعُونِ ← عاصم الأحول حدثتني حفصة بنت سيرين ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13368

chevron_left Previous
1…505152…1,290
Next chevron_right