Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحدود والجرائم

Criminal Law

25796 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27081

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَافِعٍ قَالَ كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ أَنَّهَا سَمِعَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهِيَ تَمْتَشِطُ أَيُّهَا النَّاسُ فَقَالَتْ لِمَاشِطَتِهَا لُفِّي رَأْسِي قَالَتْ فَقَالَتْ فَدَيْتُكِ إِنَّمَا يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ قُلْتُ وَيْحَكِ أَوَلَسْنَا مِنْ النَّاسِ فَلَفَّتْ رَأْسَهَا وَقَامَتْ فِي حُجْرَتِهَا فَسَمِعَتْهُ يَقُولُ أَيُّهَا النَّاسُ بَيْنَمَا أَنَا عَلَى الْحَوْضِ جِيءَ بِكُمْ زُمَرًا فَتَفَرَّقَتْ بِكُمْ الطُّرُقُ فَنَادَيْتُكُمْ أَلَا هَلُمُّوا إِلَى الطَّرِيقِ فَنَادَانِي مُنَادٍ مِنْ بَعْدِي فَقَالَ إِنَّهُمْ قَدْ بَدَّلُوا بَعْدَكَ فَقُلْتُ أَلَا سُحْقًا أَلَا سُحْقًا

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کو برسرمنبریہ فرماتے ہوئے سنا اے لوگو اس وقت وہ کنگھی کر رہی تھیں انہوں نے اپنی کنگھی کرنیوالی سے فرمایا میرے سرکے بال لپیٹ دو اس نے کہا کہ میں آپ پر قربان ہوں نبی علیہ السلام تو لوگوں سے خطاب کر رہے ہیں ، حضرت ام سلمہ نے فرمایا اری کیا ہم لوگوں میں شامل نہیں ہیں ؟ اس نے ان کے بال سمیٹے اور وہ اپنے حجرے میں جا کر کھڑی ہوگئیں ، انہوں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا اے لوگو جس وقت میں حوض پر تمہارا منتظر ہوں گا اور تمہیں گروہ درگروہ لایا جائے گا اور تم راستوں میں بھٹک جاؤگے، میں تمہیں آواز دے کر کہوں گا کہ راستے کی طرف آجاؤ تو میرے پیچھے سے ایک منادی پکار کر کہے گا انہوں نے آپ کے بعد دین کو تبدیل کردیا تھا ، میں کہوں گا کہ یہ لوگ دور ہو جائیں یہ لوگ دور ہو جائیں ۔

كَانَتْ أُمُّ سَلَمَةَ تُحَدِّثُ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ، ← أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبُو عَامِرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27081

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27204

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بِمِنًى عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَقُلْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ عِنْدَكَ احْتَسَبْتُ مُصِيبَتِي وَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي مَا هُوَ خَيْرٌ مِنْهَا فَلَمَّا احْتُضِرَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَ اللَّهُمَّ اخْلُفْنِي فِي أَهْلِي بِخَيْرٍ فَلَمَّا قُبِضَ قُلْتُ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي فَأْجُرْنِي فِيهَا قَالَتْ وَأَرَدْتُ أَنْ أَقُولَ وَأَبْدِلْنِي خَيْرًا مِنْهَا فَقُلْتُ وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ فَمَا زِلْتُ حَتَّى قُلْتُهَا فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا خَطَبَهَا أَبُو بَكْرٍ فَرَدَّتْهُ ثُمَّ خَطَبَهَا عُمَرُ فَرَدَّتْهُ فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِرَسُولِهِ أَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي امْرَأَةٌ غَيْرَى وَأَنِّي مُصْبِيَةٌ وَأَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدًا فَبَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي مُصْبِيَةٌ فَإِنَّ اللَّهَ سَيَكْفِيكِ صِبْيَانَكِ وَأَمَّا قَوْلُكِ إِنِّي غَيْرَى فَسَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُذْهِبَ غَيْرَتَكِ وَأَمَّا الْأَوْلِيَاءُ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ شَاهِدٌ وَلَا غَائِبٌ إِلَّا سَيَرْضَانِي قُلْتُ يَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَا إِنِّي لَا أَنْقُصُكِ شَيْئًا مِمَّا أَعْطَيْتُ أُخْتَكِ فُلَانَةَ رَحَيَيْنِ وَجَرَّتَيْنِ وَوِسَادَةً مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِيهَا فَإِذَا جَاءَ أَخَذَتْ زَيْنَبَ فَوَضَعَتْهَا فِي حِجْرِهَا لِتُرْضِعَهَا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيِيًّا كَرِيمًا يَسْتَحْيِي فَرَجَعَ فَفَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا فَفَطِنَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ لِمَا تَصْنَعُ فَأَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ وَجَاءَ عَمَّارٌ وَكَانَ أَخَاهَا لِأُمِّهَا فَدَخَلَ عَلَيْهَا فَانْتَشَطَهَا مِنْ حِجْرِهَا وَقَالَ دَعِي هَذِهِ الْمَقْبُوحَةَ الْمَشْقُوحَةَ الَّتِي آذَيْتِ بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ فَجَعَلَ يُقَلِّبُ بَصَرَهُ فِي الْبَيْتِ وَيَقُولُ أَيْنَ زَنَابُ مَا فَعَلَتْ زَنَابُ قَالَتْ جَاءَ عَمَّارٌ فَذَهَبَ بِهَا قَالَ فَبَنَى بِأَهْلِهِ ثُمَّ قَالَ إِنْ شِئْتِ أَنْ أُسَبِّعَ لَكِ سَبَّعْتُ لِلنِّسَاءِ

حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے بحوالہ ابوسلمہ مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو کوئی مصیبت پہنچے تو اسے انا للہ وانا الیہ راجعون کہہ کریوں کہنا چاہئے اے اللہ میں تیرے سامنے اس مصیبت پرثواب کی نیت کرتا ہوں تو مجھے اس پر اجرعطاء فرما اور اس کا نعم البدل عطاء فرمایا جب حضرت ابوسلمہ مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں نے دعاء کی کہ اے اللہ میرے شوہر کے ساتھ خیر کا فیصلہ فرما جب وہ فوت ہو گئے تو میں نے مذکورہ دعاء پڑھی اور جب میں نے یہ کہنا چاہا کہ مجھے اس کا نعم البدل عطاء فرما تو میرے ذہن میں خیال آیا کہ ابوسلمہ سے بہتر کون ہوسکتاہے؟ لیکن پھر بھی میں یہ کہتی رہی، جب عدت گزر گئی تو حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے پے درپے پیغام نکاح بھیجے لیکن انہوں نے اسے رد کردیا پھر نبی علیہ السلام نے انہیں پیغام نکاح بھیجا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میرا تو کوئی والی یہاں موجود نہیں ہے، نبی علیہ السلام نے فرمایا کہ تمہارے اولیاء میں سے کوئی بھی خواہ وہ غائب ہو یا حاضر اسے ناپسند نہیں کرے گا انہوں نے اپنے بیٹے عمربن ابی سلمہ سے کہا کہ تم نبی علیہ السلام سے میرا نکاح کرادو چنانچہ انہوں نے حضرت ام سلمہ کو نبی علیہ السلام کے نکاح میں دیدیا۔ پھر نبی علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ میں نے تمہاری بہنوں (اپنی بیویوں ) کو جو کچھ دیا ہے تمہیں بھی اس سے کم نہیں دوں گا، دوچکیاں ، ایک مشکیزہ اور چمڑے کا ایک تکیہ جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی، اس کے بعد نبی علیہ السلام جب بھی ان کے پاس خلوت کے لئے آتے تو وہ نبی علیہ السلام کو دیکھتے ہی اپنی بیٹی زینب کو پکڑ کر اسے اپنی گود میں بٹھالیتی تھیں اور بالآخر نبی علیہ السلام یوں ہی واپس چلے جاتے تھے، حضرت عماربن یاسر جو کہ حضرت ام سلمہ کے رضاعی بھائی تھے، کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ام سلمہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ یہ گندی بچی کہاں ہے جس کے ذریعے تم نے نبی علیہ السلام کو ایذاء دے رکھی ہے اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے۔ اس مرتبہ نبی علیہ السلام تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو اس کمرے کے چاروں کونوں میں نظریں دوڑا کر دیکھنے لگے پھر بچی کے متعلق پوچھا کہ زناب (زینب) کہاں گئی؟ انہوں نے بتایا کہ حضرت عمار آئے تھے وہ اسے اپنے ساتھ لے گئے ہیں ، پھر نبی علیہ السلام نے ان کے ساتھ خلوت کی اور فرمایا اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات دن گزارتا ہوں لیکن پھر اپنی دوسری بیویوں میں سے ہر ایک کے پاس بھی سات سات دن گزاروں گا۔

أَبُو سَلَمَةَ ← أَبِيهِ أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ← ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ بِمِنًى ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27204

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27367

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْفَضْلِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا تَزَالُ أُمَّتِي بِخَيْرٍ مَا لَمْ يَفْشُ فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا فَإِذَا فَشَا فِيهِمْ وَلَدُ الزِّنَا فَيُوشِكُ أَنْ يَعُمَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِعِقَابٍ

حضرت میمونہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت اس وقت تک خیر پر رہے گی جب تک اس میں ناجائز اولاد کی کثرت نہیں ہوگی اور جب اس میں ناجائز اولاد کی کثرت ہونے لگے تو پھر وہ وقت قریب ہوگا جب اللہ کا عذاب ان سب کو گھیر لے گا۔

رَسُولِ اللَّهِ ← مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ لَبِيبَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ رَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ الْفَضْلِ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27367

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22548

حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ وَحَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقَالَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ قَالَ فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا قَالَ ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا ثَانِيًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ قَالَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ قَالَ فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا قَالَ ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا ثَالِثًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ أَتَيْتُكَ تَتْرَى مَرَّتَيْنِ أَسْأَلُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقُلْتَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقَالَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ قَالَ فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِعَمَلٍ آخُذُهُ عَنْكَ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ قَالَ عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ قَالَ فَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ وَامْرَأَتُهُ وَخَادِمُهُ لَا يُلْفَوْنَ إِلَّا صِيَامًا فَإِذَا رَأَوْا نَارًا أَوْ دُخَانًا بِالنَّهَارِ فِي مَنْزِلِهِمْ عَرَفُوا أَنَّهُمْ اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ قَدْ أَمَرْتَنِي بِأَمْرٍ وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ نَفَعَنِي بِهِ فَمُرْنِي بِأَمْرٍ آخَرَ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ قَالَ اعْلَمْ أَنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَ اللَّهُ لَكَ بِهَا دَرَجَةً أَوْ حَطَّ أَوْ قَالَ وَحَطَّ شَكَّ مَهْدِيٌّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر ترتییب دیا (جس میں میں بھی تھا) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے حق میں اللہ سے شہادت کی دعاء کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! انہیں سلامت رکھ اور مال غنیمت عطاء فرما، چنانچہ ہم مال غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس آگئے (دوربارہ لشکر ترتیب دیا تو پھر میں نے یہی عرض کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دعاء دی ) تیسری مرتبہ جب لشکر ترتیب دیا تو میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں اس سے پہلے بھی دو مرتبہ آپ کے پاس آچکا ہوں ، میں نے آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ اللہ سے میرے حق میں شہادت کی دعاء کر دیجئے لیکن آپ نے سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے لہٰذا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اب تو میرے لئے شہادت کی دعا فرما دیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے۔ اس کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کسی عمل کا حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اوپر روزے کو لازم کرلو کیونکہ روزے کی حالت ہی میں ملے، اور اگر دن کے وقت ان کے گھر سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ آج ان کے یہاں کوئی مہمان آیا ہے۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عرصہ تک میں اس پر عمل کرتا رہا جب تک اللہ کو منظور ہوا پھر میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے مجھے روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا مجھے امید ہے کہ اللہ نے ہمیں اس کی برکتیں عطاء فرمائی ہیں اب مجھے کوئی اور عمل بتا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات پر یقین رکھو کہ اگر تم اللہ کے لئے ایک سجدہ کرو گے تو اللہ اس کی برکت سے تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف کر دے گا۔ ی

أَنْشَأَ رَسُولُ اللهِ غَزْوًا، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ الضَّبِّيُّ، ← بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ وَحَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22548

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22564

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ إِنَّ فَتًى شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي بِالزِّنَا فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ فَزَجَرُوهُ قَالُوا مَهْ مَهْ فَقَالَ ادْنُهْ فَدَنَا مِنْهُ قَرِيبًا قَالَ فَجَلَسَ قَالَ أَتُحِبُّهُ لِأُمِّكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأُمَّهَاتِهِمْ قَالَ أَفَتُحِبُّهُ لِابْنَتِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِبَنَاتِهِمْ قَالَ أَفَتُحِبُّهُ لِأُخْتِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِأَخَوَاتِهِمْ قَالَ أَفَتُحِبُّهُ لِعَمَّتِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِعَمَّاتِهِمْ قَالَ أَفَتُحِبُّهُ لِخَالَتِكَ قَالَ لَا وَاللَّهِ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ قَالَ وَلَا النَّاسُ يُحِبُّونَهُ لِخَالَاتِهِمْ قَالَ فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ ذَنْبَهُ وَطَهِّرْ قَلْبَهُ وَحَصِّنْ فَرْجَهُ فَلَمْ يَكُنْ بَعْدُ ذَلِكَ الْفَتَى يَلْتَفِتُ إِلَى شَيْءٍ

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک نوجوان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم مجھے زنا کرنے کی اجازت دے دیجئے لوگ اس کی طرف متوجہ ہو کر اسے ڈانٹنے لگے اور اسے پیچھے ہٹانے لگے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سے فرمایا میرے قریب آجاؤ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب جا کر بیٹھ گیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کیا تم اپنی والدہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی ماں کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بیٹی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بیٹی کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی بہن کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی بہن کے لے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی پھوپھی کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟ اس نے کہا اللہ کی قسم! کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی پھوپھی کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر پوچھا کیا تم اپنی خالہ کے حق میں بدکاری کو پسند کرو گے؟اس نے کہا کہ اللہ کی قسم کبھی نہیں، میں آپ پر قربان جاؤں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگ بھی اسے اپنی خالہ کے لئے پسند نہیں کرتے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کے جسم پر رکھا اور دعاء کی کہ اے اللہ! اس کے گناہ معاف فرما، اس کے دل کو پاک فرما اور اس کی شرمگاہ کی حفاظت فرما، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نوجوان نے کبھی کسی کی طرف توجہ بھی نہیں کی۔

إِنَّ فَتًى شَابًّا أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ ← حَرِيزٌ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22564

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22573

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ قَالَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا ثُمَّ أَنْشَأَ غَزْوًا آخَرَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ قَالَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا ثُمَّ أَنْشَأَ غَزْوًا آخَرَ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتَيْتُكَ تَتْرَى ثَلَاثًا أَسْأَلُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقُلْتَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ فَغَزَوْنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا فَمُرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَمْرٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهِ قَالَ عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ قَالَ وَكَانَ أَبُو أُمَامَةَ لَا يَكَادُ يُرَى فِي بَيْتِهِ الدُّخَانُ بِالنَّهَارِ فَإِذَا رُئِيَ الدُّخَانُ بِالنَّهَارِ عَرَفُوا أَنَّ ضَيْفًا اعْتَرَاهُمْ مِمَّا كَانَ يَصُومُ هُوَ وَأَهْلُهُ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ أَمَرْتَنِي بِأَمْرٍ أَرْجُو أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ نَفَعَنِي بِهِ فَمُرْنِي بِأَمْرٍ آخَرَ قَالَ اعْلَمْ أَنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر ترتییب دیا (جس میں میں بھی تھا) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے حق میں اللہ سے شہادت کی دعاء کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! انہیں سلامت رکھ اور مال غنیمت عطاء فرما، چنانچہ ہم مال غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس آگئے (دو بارہ لشکر ترتیب دیا تو پھر میں نے یہی عرض کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دعاء دی ) تیسری مرتبہ جب لشکر ترتیب دیا تو میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں اس سے پہلے بھی دو مرتبہ آپ کے پاس آچکا ہوں ، میں نے آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ اللہ سے میرے حق میں شہادت کی دعاء کر دیجئے لیکن آپ نے سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے لہٰذا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اب تو میرے لئے شہادت کی دعا فرمادیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے۔ اس کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کسی عمل کا حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اوپر روزے کو لازم کرلو کیونکہ روزے کی حالت ہی میں ملے، اور اگر دن کے وقت ان کے گھر سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ آج ان کے یہاں کوئی مہمان آیا ہے۔ حضرت امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عرصہ تک میں اس پر عمل کرتا رہاجب تک اللہ کو منظور ہوا پھر میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے مجھے روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا مجھے امید ہے کہ اللہ نے ہمیں اس کی برکتیں عطاء فرمائی ہیں اب مجھے کوئی اور عمل بتا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات پریقین رکھو کہ اگر تم اللہ کے لئے ایک سجدہ کرو گے تو اللہ اس کی برکت سے تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف کر دے گا۔ ی

أَنْشَأَ رَسُولُ اللهِ غَزْوًا، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22573

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27877

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِى عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ أَخُو بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أُخْتِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ قَالَتْ كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَكَانَ قَدْ طَلَّقَنِي تَطْلِيقَتَيْنِ ثُمَّ إِنَّهُ سَارَ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْيَمَنِ حِينَ بَعَثَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ فَبَعَثَ إِلَيَّ بِتَطْلِيقَتِي الثَّالِثَةِ وَكَانَ صَاحِبَ أَمْرِهِ بِالْمَدِينَةِ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ قَالَتْ فَقُلْتُ لَهُ نَفَقَتِي وَسُكْنَايَ فَقَالَ مَا لَكِ عَلَيْنَا مِنْ نَفَقَةٍ وَلَا سُكْنَى إِلَّا أَنْ نَتَطَوَّلَ عَلَيْكِ مِنْ عِنْدِنَا بِمَعْرُوفٍ نَصْنَعُهُ قَالَتْ فَقُلْتُ لَئِنْ لَمْ يَكُنْ لِي مَالِي بِهِ مِنْ حَاجَةٍ قَالَتْ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ خَبَرِي وَمَا قَالَ لِي عَيَّاشٌ فَقَالَ صَدَقَ لَيْسَ لَكِ عَلَيْهِمْ نَفَقَةٌ وَلَا سُكْنَى وَلَيْسَتْ لَهُ فِيكِ رَدَّةٌ وَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ فَانْتَقِلِي إِلَى أُمِّ شَرِيكٍ ابْنَةِ عَمِّكِ فَكُونِي عِنْدَهَا حَتَّى تَحِلِّي قَالَتْ ثُمَّ قَالَ لَا تِلْكَ امْرَأَةٌ يَزُورُهَا إِخْوَتُهَا مِنْ الْمُسْلِمِينَ وَلَكِنْ انْتَقِلِي إِلَى ابْنِ عَمِّكِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ مَكْفُوفُ الْبَصَرِ فَكُونِي عِنْدَهُ فَإِذَا حَلَلْتِ فَلَا تَفُوتِينِي بِنَفْسِكِ قَالَتْ وَاللَّهِ مَا أَظُنُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُرِيدُنِي إِلَّا لِنَفْسِهِ قَالَتْ فَلَمَّا حَلَلْتُ خَطَبَنِي عَلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَزَوَّجَنِيهِ قَالَ أَبُو سَلَمَةَ أَمْلَتْ عَلَيَّ حَدِيثَهَا هَذَا وَكَتَبْتُهُ بِيَدِي

حضرت فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمر بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے دو طلاق کا پیغام بھیج دیا، پھر وہ علی کے ساتھ یمن چلا گیا اور وہاں سے مجھے تیسری طلاق بھجوائی اس وقت مدینہ منورہ میں اس کے ذمہ دار عیاش بن ابی ربیعہ تھے، میں نے کہا کہ میرے پاس خرچ کرنے کےلیے کچھ نہیں ہے، اور میں تمہارے ہی گھر میں عدت گذار سکتی ہوں؟ اس نے کہا نہیں ، یہ سن کر میں نے اپنے کپڑے سمیٹے، پھر نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی نے پوچھا انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں؟ میں نے بتایا تین طلاقیں ، نبی نے فرمایا انہوں نے سچ کہا، تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گذار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہو چکی ہے ، تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گذر جائے تو مجھے بتانا۔عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا جن میں حضرت معاویہ اور ابوجہم بھی شامل تھے، نبی نے فرمایا معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں ، جبکہ عورتوں کو مارتے ہیں (انکی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو۔

كُنْتُ عِنْدَ أَبِي عَمْرِو بْنِ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ أُخْتِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ← عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ أَخُو بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27877

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27879

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ قَيْسٍ أُخْتَ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ أَخْبَرَتْهُ وَكَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَأَخْبَرَتْهُ أَنَّهُ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا وَخَرَجَ إِلَى بَعْضِ الْمَغَازِي وَأَمَرَ وَكِيلًا لَهُ أَنْ يُعْطِيَهَا بَعْضَ النَّفَقَةِ فَاسْتَقَلَّتْهَا وَانْطَلَقَتْ إِلَى إِحْدَى نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ عِنْدَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ قَيْسٍ طَلَّقَهَا فُلَانٌ فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا بِبَعْضِ النَّفَقَةِ فَرَدَّتْهَا وَزَعَمَ أَنَّهُ شَيْءٌ تَطَوَّلَ بِهِ قَالَ صَدَقَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتَقِلِي إِلَى مَنْزِلِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ و قَالَ أَبِي وَقَالَ الْخَفَّافُ أُمِّ كُلْثُومٍ فَاعْتَدِّي عِنْدَهَا ثُمَّ قَالَ لَا أُمُّ كُلْثُومٍ يَكْثُرُ عُوَّادُهَا وَلَكِنْ انْتَقِلِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَإِنَّهُ أَعْمَى فَانْتَقَلَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَاعْتَدَّتْ عِنْدَهُ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا ثُمَّ خَطَبَهَا أَبُو جَهْمٍ وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ فَجَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْتَأْمِرُهُ فِيهِمَا فَقَالَ أَبُو جَهْمٍ أَخَافُ عَلَيْكِ قَسْقَاسَتَهُ لِلْعَصَا أَوْ قَالَ أَخَافُ قَصْقَاصَتَهُ لِلْعَصَا وَأَمَّا مُعَاوِيَةُ فَرَجُلٌ أَخْلَقُ مِنْ الْمَالِ فَتَزَوَّجَتْ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ بَعْدَ ذَلِكَ

حضرت فاطمہ بنت قیس سے مروی ہے کہ میرے شوہر ابوعمر بن حفص بن مغیرہ نے ایک دن مجھے دو طلاق کا پیغام بھیج دیا، اور اپنے وکیل کے ساتھ پانچ صاع کی مقدار میں جو بھی بھیج دیئے ، میں نے کہا کہ میرے پاس خرچ کرنے کےلیے کچھ نہیں ہے، اور میں تمہارے ہی گھر میں عدت گذار سکتی ہوں ؟ اس نے کہا نہیں ، یہ سن کر میں نے اپنے کپڑے سمیٹے، پھر نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی نے پوچھا انہوں نے تمہیں کتنی طلاقیں دیں؟ میں نے بتایا تین طلاقیں ، نبی نے فرمایا انہوں نے سچ کہا تمہیں کوئی نفقہ نہیں ملے گا اور تم اپنے چچا زاد بھائی ابن ام مکتوم کے گھر میں جا کر عدت گذار لو، کیونکہ ان کی بینائی نہایت کمزور ہو چکی ہے ، تم ان کے سامنے بھی اپنے دوپٹے کو اتار سکتی ہو، جب تمہاری عدت گذر جائے تو مجھے بتانا۔ عدت کے بعد میرے پاس کئی لوگوں نے پیغام ِ نکاح بھیجا جن میں حضرت معاویہ اور ابوجہم بھی شامل تھے، نبی نے فرمایا معاویہ تو خاک نشین اور حفیف الحال ہیں ، جبکہ عورتوں کو مارتے ہیں (انکی طبیعت میں سختی ہے) البتہ تم اسامہ بن زید سے نکاح کرلو چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔

عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27879

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 28004

حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ وَيَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ أُمِّ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيَّةِ وَهِيَ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِمْ قَالَ يَعْقُوبُ أَخْبَرْتُهُ أَنَّهَا بَايَعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ فِي السُّكْنَى قَالَ يَعْقُوبُ طَارَ لَهُمْ فِي السُّكْنَى حِينَ اقْتَرَعَتْ الْأَنْصَارُ عَلَى سُكْنَى الْمُهَاجِرِينَ قَالَتْ أُمُّ الْعَلَاءِ فَاشْتَكَى عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ عِنْدَنَا فَمَرَّضْنَاهُ حَتَّى إِذَا تُوُفِّيَ أَدْرَجْنَاهُ فِي أَثْوَابِهِ فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ يَا أَبَا السَّائِبِ شَهَادَتِي عَلَيْكَ لَقَدْ أَكْرَمَكَ اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يُدْرِيكِ أَنَّ اللَّهَ أَكْرَمَهُ قَالَتْ فَقُلْتُ لَا أَدْرِي بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ مِنْ رَبِّهِ وَإِنِّي لَأَرْجُو الْخَيْرَ لَهُ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي وَأَنَا رَسُولُ اللَّهِ مَا يُفْعَلُ بِي قَالَ يَعْقُوبُ بِهِ قَالَتْ وَاللَّهِ لَا أُزَكِّي أَحَدًا بَعْدَهُ أَبَدًا فَأَحْزَنَنِي ذَلِكَ فَنِمْتُ فَأُرِيتُ لِعُثْمَانَ عَيْنًا تَجْرِي فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ ذَلِكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاكَ عَمَلُهُ

حضرت ام علاء " جو انصاری خواتین میں سے تھیں " سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کی بیعت کی ہے اور مہاجرین کی رہائش کے لئے انصار کے درمیان قرعہ اندازی کی گئی ، ہمارے یہاں پہنچ کر ہمارے مہمان حضرت عثمان بن مظعون بیمار ہو گئے ، ہم ان کی تیماداری کرتے رہے ، جب وہ فوت ہو گئے تو ہم نے انہیں کفن میں لپیٹ دیا، نبی ہمارے یہاں تشریف لائے ، میں نے کہا اے ابوالسائب ! اللہ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں میں شہادت دیتی ہوں کہ اللہ نے آپ کو معزز کر دیا نبی نے فرمایا ان کے پاس تو ان کے رب کی طرف سے یقین آگیا، میں ان کے لئے خیر کی امید رکھتا ہوں ، لیکن واللہ مجھے اللہ کا پیغمبر ہونے کے باوجود یہ علم نہیں ہے کہ میرے ساتھ کیا ہو گا؟ میں نے عر ض کیا واللہ آج کے بعد میں کبھی کسی کی پاکیزگی کا اعلان نہیں کروں گی ، میں اس واقعے پر غمگین تھی ، اسی حال میں سو گئی ، میں نے خواب دیکھا کہ حضرت عثمان بن مظعون کے لئے ایک چشمہ جاری ہے، میں نبی کی خدمت میں حاضر ہوئی اور یہ خواب ذکر کیا، نبی نے فرمایا وہ ان کے اعمال تھے۔

يَعْقُوبُ أَخْبَرْتُهُ ← أُمِّ الْعَلَاءِ الْأَنْصَارِيَّةِ وَهِيَ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِمْ ← خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثابت ← ابْنِ شِهَابٍ، ← أَبِي ← ابْنُ شِهَابٍ وَيَعْقُوبُ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ← أَبُو کَامِلٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 28004

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19829

حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ وَهُوَ النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي الْقَاصَّ حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ لَمْ يَبْقَ مُؤْمِنٌ إِلَّا أُتِيَ بِيَهُودِيٍّ أَوْ نَصْرَانِيٍّ حَتَّى يُدْفَعَ إِلَيْهِ يُقَالُ لَهُ هَذَا فِدَاؤُكَ مِنْ النَّارِ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَاسْتَحْلَفَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ أَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى يَذْكُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ فَسُرَّ بِذَلِكَ عُمَرُ

ایک مرتبہ ابوبردہ نے حضرت عمربن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو اپنے والد صاحب کے حوالے سے یہ حدیث سنائی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی یہودی یا عیسائی کو جہنم میں داخل کردیتا ہے ، ابوبردہ نے گذشتہ حدیث حضرت عمرعبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کو سنائی تو انہوں نے ابوبردہ سے اس اللہ کے نام کی قسم کھانے کے لئے کہا جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کہ یہ حدیث ان کے والد صاحب نے بیان کی ہے اور انہوں نے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اور سعید بن ابی بردہ ، عوف کی اس بات کی تردید نہیں کرتے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← بُرَيْدٌ ← أَبُو الْمُغِيرَةِ وَهُوَ النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي الْقَاصَّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19829

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19863

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَن الْأَعْمَشِ عَن شَقِيقٍ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ وَرَائِكُمْ أَيَّامًا يَنْزِلُ فِيهَا الْجَهْلُ وَيُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ وَيَكْثُرُ فِيهَا الْهَرْجُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْهَرْجُ قَالَ الْقَتْلُ

شقیق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے حدیث کا مذاکرہ کررہے تھے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت سے پہلے جو زمانہ آئے گا اس میں علم اٹھالیا جائے گا اور جہالت اترنے لگے گی اور " ہرج " کی کثرت ہوگی جس کا معنی قتل ہے۔

اَبِیْ مُوْسیٰ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19863

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19869

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَن يُونُسَ عَن الْحَسَنِ أَنَّ أَسِيدَ بْنَ الْمُتَشَمِّسِ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ أَبِي مُوسَى مِنْ أَصْبَهَانَ فَتَعَجَّلْنَا وَجَاءَتْ عُقَيْلَةُ فَقَالَ أَبُو مُوسَى أَلَا فَتًى يُنْزِلُ كَنَّتَهُ قَالَ يَعْنِي أَمَةٌ الْأَشْعَرِيَّ فَقُلْتُ بَلَى فَأَدْنَيْتُهَا مِنْ شَجَرَةٍ فَأَنْزَلْتُهَا ثُمَّ جِئْتُ فَقَعَدْتُ مَعَ الْقَوْمِ فَقَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَاهُ فَقُلْنَا بَلَى يَرْحَمُكَ اللَّهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُنَا أَنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ الْهَرْجَ قِيلَ وَمَا الْهَرْجُ قَالَ الْكَذِبُ وَالْقَتْلُ قَالُوا أَكْثَرُ مِمَّا نَقْتُلُ الْآنَ قَالَ إِنَّهُ لَيْسَ بِقَتْلِكُمْ الْكُفَّارَ وَلَكِنَّهُ قَتْلُ بَعْضِكُمْ بَعْضًا حَتَّى يَقْتُلَ الرَّجُلُ جَارَهُ وَيَقْتُلَ أَخَاهُ وَيَقْتُلَ عَمَّهُ وَيَقْتُلَ ابْنَ عَمِّهِ قَالُوا سُبْحَانَ اللَّهِ وَمَعَنَا عُقُولُنَا قَالَ لَا إِلَّا أَنَّهُ يَنْزِعُ عُقُولَ أَهْلِ ذَاكَ الزَّمَانِ حَتَّى يَحْسَبَ أَحَدُكُمْ أَنَّهُ عَلَى شَيْءٍ وَلَيْسَ عَلَى شَيْءٍ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ تُدْرِكَنِي وَإِيَّاكُمْ تِلْكَ الْأُمُورُ وَمَا أَجِدُ لِي وَلَكُمْ مِنْهَا مَخْرَجًا فِيمَا عَهِدَ إِلَيْنَا نَبِيُّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا أَنْ نَخْرُجَ مِنْهَا كَمَا دَخَلْنَاهَا لَمْ نُحْدِثْ فِيهَا شَيْئًا

اسید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم اصفہان سے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے ساتھ واپس آرہے تھے ہم تیز رفتاری سفر کر رہے تھے کہ " عقیلہ " آگئی حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کوئی نوجوان ہے جوان کی باندی کو سواری سے اتارے میں نے کہا کیوں نہیں چنانچہ میں نے اس کی سواری کو درخت کے قریب لے جا کر اسے اتارا پھر آکر لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا انہوں نے فرمایا کہ میں تمہیں ایک حدیث نہ سناؤں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سناتے تھے ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں اللہ کی رحمتیں آپ پر نازل ہوں انہوں نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں بتاتے تھے کہ قامت سے پہلے " ہرج " واقع ہوگا لوگوں نے پوچھا کہ " ہرج" سے کیا مراد ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قتل ، لوگوں نے پوچھا اس تعداد سے بھی زیادہ جتنے ہم قتل کردیتے ہیں ؟ ہم تو ہر سال ستر ہزار سے زیادہ لوگ قتل کردیتے تھے ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس سے مراد مشرکین کو قتل کرنا نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کو قتل کرنا مراد ہے حتیٰ کہ آدمی اپنے پڑوسی ، چچا، بھائی اور چچازاد بھائی کو قتل کردے گا لوگوں نے پوچھا کیا اس موقع پر ہماری عقلیں ہمارے ساتھ ہوں گی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں چھین لی جائیں گی اور ایسے بیوقوف لوگ رہ جائیں گے جو یہ سمجھیں گے وہ کسی دین پر قائم ہیں حالانکہ وہ کسی دین پر نہیں ہوں گے۔ حضرت ابوموسی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر وہ زمانہ آگیا تو میں اپنے اور تمہارے لئے اس سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں پاتا الاّ یہ کہ ہم اس سے اسی طرح نکل جائیں جیسے داخل ہوئے تھے اور کسی کے قتل یا مال میں ملوث نہ ہوں

الْحَسَنِ، ← يُونُسَ ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19869

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19889

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ عَن عُمَارَةَ الْقُرَشِيِّ قَالَ وَفَدْنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَفِينَا أَبُو بُرْدَةَ فَقَضَى حَاجَتَنَا فَلَمَّا خَرَجَ أَبُو بُرْدَةَ رَجَعَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَذْكُرُ الشَّيْخَ مَا رَدَّكَ أَلَمْ أَقْضِ حَوَائِجَكَ قَالَ فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ إِلَّا حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ أَبِي عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي بُرْدَةَ آللَّهِ لَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى يُحَدِّثُ بِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ لَأَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي يُحَدِّثُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے لیکن اس کے آغاز میں یہ ہے کہ عمارہ قرشی کہتے ہیں کہ ہم لوگ ایک وفد لے کر حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کے پاس گئے جس میں ابوبردہ رحمتہ اللہ علیہ بھی شامل تھے ، انہوں نے ہماری ضرورت پوری کردی ہم وہاں سے نکل آئے لیکن حضرت ابوبردہ رحمتہ اللہ علیہ دوبارہ ان کے پاس چلے گئے عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا شیخ کو کوئی اور بات یاد آگئی ہے ؟ اب کیا چیز آپ کو واپس لائی ؟ کیا آپ کی ضرورت پوری نہیں ہوئی ؟ انہوں نے فرمایا ہاں ! ایک حدیث ہے جو میرے والدنے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے سنائی تھی پھر انہوں نے مذکورہ حدیث سنائی عمر بن عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ نے پوچھا کیا واقعی آپ نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں ! میں نے اپنے والد کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سناہے ۔

مِنْ أَبِي يُحَدِّثُهُ ← نَعَمْ لَأَنَا ← بِهِ ← عُمَرُ لِأَبِي بُرْدَةَ آللَّهِ لَسَمِعْتَ أَبَا مُوسَى ← الْحَدِيثَ. ← يَجْمَعُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ← أَبِي ← أَبُو بُرْدَةَ إِلَّا حَدِيثًا ← عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَذْكُرُ الشَّيْخَ مَا رَدَّكَ أَلَمْ أَقْضِ حَوَائِجَكَ ← فِينَا أَبُو بُرْدَةَ فَقَضَى حَاجَتَنَا فَلَمَّا خَرَجَ أَبُو بُرْدَةَ رَجَعَ ← وَفَدْنَا إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عُمَارَةَ الْقُرَشِيِّ، ← عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19889

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22857

حَدَّثَنَا بَهْزٌ وَأَبُو النَّضْرِ قَالَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ قَالَ أَتَانِي الْوَلِيدُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِي قَالَ فَقَالَ لَنَا هَلُمَّا فَأَنْتُمَا أَشَبُّ مِنِّي سِنًّا وَأَوْعَى لِلْحَدِيثِ مِنِّي قَالَ فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ فَقَالَ لَهُ أَبُو الْعَالِيَةِ تُحَدِّثُ هَذَيْنِ حَدِيثَكَ قَالَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ أَبُو النَّضْرِ اللَّيْثِيُّ قَالَ بَهْزٌ وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً قَالَ فَأَغَارَتْ عَلَى قَوْمٍ قَالَ فَشَذَّ مِنْ الْقَوْمِ رَجُلٌ قَالَ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ السَّرِيَّةِ شَاهِرًا سَيْفَهُ قَالَ فَقَالَ الشَّاذُّ مِنْ الْقَوْمِ إِنِّي مُسْلِمٌ قَالَ فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا قَالَ فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ قَالَ فَنَمَى الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا فَبَلَغَ الْقَاتِلَ قَالَ فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ قَالَ الْقَاتِلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنْ الْقَتْلِ قَالَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنْ النَّاسِ وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ ثُمَّ قَالَ أَيْضًا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا قَالَ الَّذِي قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنْ الْقَتْلِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ وَعَمَّنْ قِبَلَهُ مِنْ النَّاسِ وَأَخَذَ فِي خُطْبَتِهِ ثُمَّ لَمْ يَصْبِرْ فَقَالَ الثَّالِثَةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ مَا قَالَ إِلَّا تَعَوُّذًا مِنْ الْقَتْلِ فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْرَفُ الْمَسَاءَةُ فِي وَجْهِهِ قَالَ لَهُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبَى عَلَى مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

حمید رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میرے پاس میرے ایک ساتھی کے ساتھ ابو العالیہ رحمتہ اللہ علیہ آئے اور کہنے لگے کہ تم دونوں میرے ساتھ بشر بن عاصم کے پاس چلو کہ تم دونوں عمر میں بھی مجھ سے جوان ہو اور حدیث کو یاد رکھنے کی صلاحیت بھی تم میں مجھ سے زیادہ ہے وہاں پہنچ کر ابو العالیہ نے بشر سے کہا کہ آپ ان دونوں کے سامنے اپنی حدیث بیان کیجئے چنانچہ بشر نے کہا کہ ہمیں حضرت عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر کا ایک دستہ روانہ فرمایا اس نے ایک قوم پر حملہ کیا اس قوم کا ایک آدمی اپنی قوم سے نکلا تو اس دستے کا ایک آدمی اپنی تلوار لہراتا ہوا اس کی طرف لپکا اس شخص نے کہا کہ میں مسلمان ہوں لیکن اس نے اس کی بات پر غور نہیں کیا اور تلوار کا وار کر کے اسے قتل کر دیا۔ اس واقعے کی خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت الفاظ میں اس کی مذمت بیان کی جس کی اطلاع قاتل تک بھی پہنچی حضرت عقبہ بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو قاتل نے کہا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی قسم ! اس نے یہ کلمہ صرف اپنی جان بچانے کے لئے پڑھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے اور اس کی جانب بیٹھے ہوئے تمام لوگوں سے منہ موڑ لیا اور برابر تقریر جاری رکھی تین مرتبہ اسی طرح ہوا بالآخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے روئے انور پر اس وقت غم و غصے کے آثار تھے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے کسی مسلمان کو قتل کرنے والے کے حق میں میری بات ماننے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ ی

الْقَاتِلُ ← فَبَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ يَخْطُبُ ← فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا فَبَلَغَ الْقَاتِلَ ← فَنَمَى الْحَدِيثُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ← فَضَرَبَهُ فَقَتَلَهُ ← فَلَمْ يَنْظُرْ فِيمَا ← فَقَالَ الشَّاذُّ مِنْ الْقَوْمِ إِنِّي مُسْلِمٌ ← فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ السَّرِيَّةِ شَاهِرًا سَيْفَهُ ← فَشَذَّ مِنْ الْقَوْمِ رَجُلٌ ← فَأَغَارَتْ عَلَى قَوْمٍ ← بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ سَرِيَّةً ← بَهْزٌ وَكَانَ مِنْ رَهْطِهِ ← أَبُو النَّضْرِ اللَّيْثِيُّ ← عقبة بن مالك ← فَقَالَ لَهُ أَبُو الْعَالِيَةِ تُحَدِّثُ هَذَيْنِ حَدِيثَكَ ← فَانْطَلَقَ بِنَا إِلَى بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ ← فَقَالَ لَنَا هَلُمَّا فَأَنْتُمَا أَشَبُّ مِنِّي سِنًّا وَأَوْعَى لِلْحَدِيثِ مِنِّي ← وَصَاحِبٌ لِي ← أَتَانِي الْوَلِيدُ ← حُمَيْدٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← بَهْزٌ وَأَبُو النَّضْرِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22857

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19914

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَنْبَأَنَا الْمَسْعُودِيُّ وهَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِيهِ عَن جَدِّهِ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أُمَّتِي أُمَّةٌ مَرْحُومَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ إِنَّمَا عَذَابُهُمْ فِي الدُّنْيَا الْقَتْلُ وَالْبَلَابِلُ وَالزَّلَازِلُ قَالَ أَبُو النَّضْرِ بِالزَّلَازِلِ وَالْقَتْلِ وَالْفِتَنِ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت ، امت مرحومہ ہے ، آخرت میں اس پر کوئی عذاب نہیں ہوگا اس کا عذاب دنیا ہی میں قتل وغارت ، پریشانیاں اور زلزلے ہے۔

جَدِّهِ أَبِي مُوسَى، ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← الْمَسْعُودِيِّ ← الْمَسْعُودِيُّ وهَاشِمٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19914

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19915

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيُّ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَى وَاصْطَحَبَ هُوَ وَيَزِيدُ بْنُ أَبِي كَبْشَةَ فِي سَفَرٍ وَكَانَ يَزِيدُ يَصُومُ فَقَالَ لَهُ أَبُو بُرْدَةَ سَمِعْتُ أَبَا مُوسَى مِرَارًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا

ابوبردہ اور یزید بن ابی کبثہ ایک مرتبہ سفر میں اکٹھے تھے یزید دوران سفر روزہ رکھتے تھے ابوبردہ نے ان سے کہا کہ میں نے اپنے والد حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو کئی مرتبہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص بیمار ہوجاتا ہے یا سفر پر چلاجاتا ہے تو اس کے لئے اتنا ہی اجر لکھاجاتا ہے جتنا مقیم اور تندرست ہونے کی حالت میں اعمال پر ملتا ہے۔

أَبَا مُوسَى مِرَارًا ← لَهُ أَبُو بُرْدَةَ ← اصطحب هو ويزيد بن أبي كبشة في سفر وكان يزيد يصوم ← أَبَا بُرْدَةَ بْنَ أَبِي مُوسَی ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السَّكْسَكِيُّ أَنَّهُ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19915

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19924

حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ قَالَ أَبُو مُوسَى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا فَإِنْ سَكَتَتْ فَقَدْ أَذِنَتْ وَإِنْ أَنْكَرَتْ لَمْ تُكْرَهْ قُلْتُ لِيُونُسَ سَمِعْتَهُ مِنْهُ أَوْ سَمِعْتَهُ مِنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ نَعَمْ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بالغ لڑکی سے اس کے نکاح کی اجازت لی جائے گی ، اگر وہ خاموش رہے تو گویا اس نے اجازت دے دی اور اگر وہ انکار کردے تو اسے اس رشتے پر مجبور نہ کیا جائے ۔

أَبُو مُوسَى، ← أَبُو بُرْدَةَ ← يُونُسَ ← أَبُو قَطَنٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19924

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22918

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ قَالَ قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَبَاحٍ فَوَجَدْتُهُ قَدْ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَ الْأُمَرَاءِ وَقَالَ عَلَيْكُمْ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ فَإِنْ أُصِيبَ زَيْدٌ فجَعْفَرٌ فَإِنْ أُصِيبَ جَعْفَرٌ فعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَوَثَبَ جَعْفَرٌ فَقَالَ بِأَبِي أَنْتَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَأُمِّي مَا كُنْتُ أَرْهَبُ أَنْ تَسْتَعْمِلَ عَلَيَّ زَيْدًا قَالَ امْضُوا فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَيُّ ذَلِكَ خَيْرٌ قَالَ فَانْطَلَقَ الْجَيْشُ فَلَبِثُوا مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ الْمِنْبَرَ وَأَمَرَ أَنْ يُنَادَى الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَابَ خَيْرٌ أَوْ ثَابَ خَيْرٌ شَكَّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنْ جَيْشِكُمْ هَذَا الْغَازِي إِنَّهُمْ انْطَلَقُوا حَتَّى لَقُوا الْعَدُوَّ فَأُصِيبَ زَيْدٌ شَهِيدًا فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ فَاسْتَغْفَرَ لَهُ النَّاسُ ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَشَدَّ عَلَى الْقَوْمِ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا أَشْهَدُ لَهُ بِالشَّهَادَةِ فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ فَأَثْبَتَ قَدَمَيْهِ حَتَّى أُصِيبَ شَهِيدًا فَاسْتَغْفِرُوا لَهُ ثُمَّ أَخَذَ اللِّوَاءَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ الْأُمَرَاءِ هُوَ أَمَّرَ نَفْسَهُ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصْبُعَيْهِ وَقَالَ اللَّهُمَّ هُوَ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِكَ فَانْصُرْهُ وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَرَّةً فَانْتَصِرْ بِهِ فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ خَالِدٌ سَيْفَ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْفِرُوا فَأَمِدُّوا إِخْوَانَكُمْ وَلَا يَتَخَلَّفَنَّ أَحَدٌ فَنَفَرَ النَّاسُ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ مُشَاةً وَرُكْبَانًا

خالد بن سمیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے یہاں عبداللہ بن رباح آئے میں نے دیکھا کہ ان کے پاس بہت سے لوگ جمع ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " جیش امراء " نامی لشکر کو روانہ کرتے ہوئے فرمایا تمہارے امیر زید بن حارثہ ہیں اگر زید شہید ہو جائیں توجعفرامیرہوں گے اگر جعفر بھی شہید ہوجائیں تو عبداللہ بن رواحہ انصاری امیر ہوں گے اس پر حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میرا خیال نہیں تھا کہ آپ زید کو مجھ پر امیر مقرر کریں گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم روانہ ہوجاؤ کیونکہ تمہیں معلوم نہیں کہ کس بات میں خیر ہے؟ چنانچہ وہ لشکر روانہ ہوگیا کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر رونق افروز ہوئے اور " نماز تیار ہے " کی منادی کرنے کا حکم دیا اور فرمایا ایک افسوس ناک خبر ہے کیا میں تمیں مجاہدین کے اس لشکر کے متعلق نہ بتاؤں ؟ وہ لوگ یہاں سے روانہ ہوئے اور دشمن سے آمنا سامنا ہوا تو زید شہید ہوگئے ان کے لئے بخشش کی دعاء کرو لوگوں نے ایسا ہی کیا پھر جعفر بن ابی طالب نے جھنڈا پکڑا اور دشمن پر سخت حملہ کیا حتٰی کہ وہ بھی شہید ہوگئے میں ان کی شہادت کی گواہی دیتا ہوں لہٰذا ان کی بخشش کے لئے دعاء کرو پھر عبداللہ بن رواحہ نے جھنڈا پکڑا اور نہایت پامردی سے ڈٹے رہے حتیٰ کہ وہ بھی شہید ہوگئے ان کے لئے بھی استغفار کرو پھر خالد بن ولید نے جھنڈا پکڑ لیا گو کہ کسی نے انہیں امیر منتخب نہیں کیا تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی بلند کر کے فرمایا اے اللہ! وہ تیری تلواروں میں سے ایک تلوار ہے تو اس کی مدد فرما اسی دن سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا نام " سیف اللہ " پڑ گیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے بھائیوں کی مدد کے لئے کوچ کرو اور کوئی آدمی بھی پیچھے نہ رہے چنانچہ اس سخت گرمی کے موسم میں لوگ پیدل اور سوار ہو کر روانہ ہوگئے۔

خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ ← الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22918

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 28176

حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ وَأَبُو نُعَيْمٍ قَالَا ثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي يَزِيدَ الضَّنِّيِّ عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ مَوْلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ وَلَدِ الزِّنَا قَالَ لَا خَيْرَ فِيهِ نَعْلَانِ أُجَاهِدُ بِهِمَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُعْتِقَ وَلَدَ زِنًا

حضرت میمونہ بنت سعد " جو نبی کی آزاد کردہ باندی تھیں " سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی سے " ناجائز بچے " کے متعلق پوچھا تو نبی نے فرمایا اس میں کوئی خیر نہیں ہوتی ، میرے نزدیک وہ دو جوتیاں پہن کر میں راہ اللہ میں جہاد کروں ، کسی ولد الزنا کو آزاد کرنے سے بہتر ہے۔

وَلَدِ الزِّنَا ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ، مَوْلاَةِ النَّبِيِّ ← أَبِي يَزِيدَ الضَّنِّي ← زَيْدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← اِسْرَائِیْلُ ← حُسَيْنٌ وَأَبُو نُعَيْمٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 28176

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19945

حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى قَالَ ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَن أَبِي بَلْجٍ قَالَ حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَن أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ الطَّاعُونَ فَقَالَ وَخْزٌ مِنْ أَعْدَائِكُمْ مِنْ الْجِنِّ وَهِيَ شَهَادَةُ الْمُسْلِمِ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت " طعن اور طاعون " سے فناء ہوگی طاعون کا معنی بتاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے دشمن جنات کے کچوکے اور دونوں صورتوں میں شہادت ہے۔

أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ← أَبِي بَلْجٍ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← بكر بن عيسى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19945

chevron_left Previous
1…515253…1,290
Next chevron_right