Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Sunday, Jumada I 8, 1448 AH · Oct 18, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الحدود والجرائم

Criminal Law

25796 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22088

حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ قَالَ سَمِعْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ يُحَدِّثُ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْحُرَقَةِ مِنْ جُهَيْنَةَ قَالَ فَصَبَّحْنَاهُمْ فَقَاتَلْنَاهُمْ فَكَانَ مِنْهُمْ رَجُلٌ إِذَا أَقْبَلَ الْقَوْمُ كَانَ مِنْ أَشَدِّهِمْ عَلَيْنَا وَإِذَا أَدْبَرُوا كَانَ حَامِيَتَهُمْ قَالَ فَغَشِيتُهُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ قَالَ فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَكَفَّ عَنْهُ الْأَنْصَارِيُّ وَقَتَلْتُهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أُسَامَةُ أَقَتَلْتَهُ بَعْدَمَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ مُتَعَوِّذًا مِنْ الْقَتْلِ فَكَرَّرَهَا عَلَيَّ حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ إِلَّا يَوْمَئِذٍ

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہینہ کے ریتلے علاقوں میں سے ایک قبیلے کی طرف بھیجا، ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا اور قتال شروع کر دیا ان میں سے ایک آدمی جب بھی ہمارے سامنے آتا تو وہ ہمارے سامنے سب سے زیادہ بہادری کے ساتھ لڑتا تھا اور جب وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگتے تو وہ پیچھے سے ان کی حفاظت کرتا تھا میں نے ایک انصاری کے ساتھ مل کر اسے گھیر لیا جوں ہی ہم نے اس کے گرد گھیرا تنگ کیا تو اس نے فوراً " لا الہ الا اللہ " کہہ لیا اس پر انصاری نے اپنے ہاتھ کو کھینچ لیا لیکن میں نے اسے قتل کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا اسامہ ! جب اس نے لا الہ الا اللہ کہہ لیا تھا تو تم نے پھر بھی اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اس نے جان بچانے کے لئے یہ کلمہ پڑھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو اتنی مرتبہ دہرایا کہ میں یہ خواہش کرنے لگا کہ کاش! میں نے اسلام ہی اس دن قبول کیا ہوتا۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← حُصَيْنٍ ← هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22088

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27825

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ وَجَدَّتِي عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُهَا كُلَّ جُمُعَةٍ وَأَنَّهَا قَالَتْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ يَوْمَ بَدْرٍ أَتَأْذَنُ فَأَخْرُجُ مَعَكَ أُمَرِّضُ مَرْضَاكُمْ وَأُدَاوِي جَرْحَاكُمْ لَعَلَّ اللَّهَ يُهْدِي لِي شَهَادَةً قَالَ قَرِّي فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُهْدِي لَكِ شَهَادَةً وَكَانَتْ أَعْتَقَتْ جَارِيَةً لَهَا وَغُلَامًا عَنْ دُبُرٍ مِنْهَا فَطَالَ عَلَيْهِمَا فَغَمَّاهَا فِي الْقَطِيفَةِ حَتَّى مَاتَتْ وَهَرَبَا فَأَتَى عُمَرُ فَقِيلَ لَهُ إِنَّ أُمَّ وَرَقَةَ قَدْ قَتَلَهَا غُلَامُهَا وَجَارِيَتُهَا وَهَرَبَا فَقَامَ عُمَرُ فِي النَّاسِ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَزُورُ أُمَّ وَرَقَةَ يَقُولُ انْطَلِقُوا نَزُورُ الشَّهِيدَةَ وَإِنَّ فُلَانَةَ جَارِيَتَهَا وَفُلَانًا غُلَامَهَا غَمَّاهَا ثُمَّ هَرَبَا فَلَا يُؤْوِيهِمَا أَحَدٌ وَمَنْ وَجَدَهُمَا فَلْيَأْتِ بِهِمَا فَأُتِيَ بِهِمَا فَصُلِبَا فَكَانَا أَوَّلَ مَصْلُوبَيْنِ

حضرت ام ورقہ کے حوالہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر جمعہ کے دن ان سے ملاقات کے لئے تشریف لے جاتے تھے، انہوں نے غزوہ بدر کے موقع پر عرض کیا تھا کہ اے اللہ کے نبی! کیا مجھے اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیتے ہیں میں آپ کے مریضوں کی تیمارداری کروں گی اور زخمیوں کا علاج کروں گی، شاید اللہ مجھے شہادت سے سرفراز کر دے ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم یہیں رہو ، اللہ تمہیں شہادت عطاء فرما دے گا ۔ ام ورقہ نے اپنی ایک باندی اور غلام سے کہہ دیا تھا کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو جاؤ گے، ان دونوں کو گذرتے دنوں کے ساتھ ان کی عمر لمبی لگنے لگی چنانچہ ان دونون نے انہیں ایک چادر میں لپیٹ دیا جس میں دم گھٹ جانے سے وہ فوت ہو گئیں اور وہ دونوں فرار ہو گئے ، کسی نے حضرت عمر کو آ کر کہ ام ورقہ کو ان کے غلام اور باندی قتل کر کے بھاگ گئے ہیں ، یہ سن کر حضرت عمر لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام ورقہ سے ملاقات کے لئے جا یا کرتے تھے اور فر ما تے تھے آؤ، شہیدہ کی زیارت کر کے آئیں ، اب انہیں ان فلاں کی اور فلاں باندی اور فلاں غلام نے چادر میں لپیٹ کر مار دیا ہے، اور خود فرار ہو گے ہیں ، کوئی شخص بھی انہیں پناہ نہ دے، بلکہ جسے وہ دونوں ملیں ، انہیں پکڑ کر لے آئے ، چنانچہ ایک آدمی نے ان دونوں کو پکڑ لیا اور انہیں سولی پر لٹکادیا گیا، یہ دونوں سولی کی سزا پانے والے پہلے لوگ تھے۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَلَّادٍ الْأَنْصَارِيُّ وَجَدَّتِي ← الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُمَيْعٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27825

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22145

حَدَّثَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَى الْحُرَقَاتِ فَنَذِرُوا بِنَا فَهَرَبُوا فَأَدْرَكْنَا رَجُلًا فَلَمَّا غَشِينَاهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَضَرَبْنَاهُ حَتَّى قَتَلْنَاهُ فَعَرَضَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ فَذَكَرْتُهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا قَالَهَا مَخَافَةَ السِّلَاحِ وَالْقَتْلِ فَقَالَ أَلَا شَقَقْتَ عَنْ قَلْبِهِ حَتَّى تَعْلَمَ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ أَمْ لَا مَنْ لَكَ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَمَا زَالَ يَقُولُ ذَلِكَ حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي لَمْ أُسْلِمْ إِلَّا يَوْمَئِذٍq

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جہینہ کے ریتلے علاقوں میں سے ایک قبیلے کی طرف بھیجا، ہم نے صبح کے وقت ان پر حملہ کیا اور قتال شروع کر دیا ان میں سے ایک آدمی جب بھی ہمارے سامنے آتا تو وہ ہمارے سامنے سب سے زیادہ بہادری کے ساتھ لڑتا تھا ، اور جب وہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگتے تو وہ پیچھے سے ان کی حفاظت کرتا تھا میں نے ایک انصاری کے ساتھ مل کر اسے گھیر لیا جوں ہی ہم نے اس کے گرد گھیرا تنگ کیا تو اس نے فوراً " لا الہ الا اللہ " کہہ لیا اس پر انصاری نے اپنے ہاتھ کو کھینچ لیا لیکن میں نے اسے قتل کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات معلوم ہوئی تو فرمایا اسامہ ! جب اس نے لا الہ الا اللہ کہہ لیا تھا تو تم نے پھر بھی اسے قتل کر دیا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اس نے جان بچانے کے لئے یہ کلمہ پڑھا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بات کو اتنی مرتبہ دہرایا کہ میں یہ خواہش کرنے لگا کہ کاش! میں نے اسلام ہی اس دن قبول کیا ہوتا۔

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← الْاَعْمَشِ ← يعلى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22145

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22228

حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عَمَّهُ حَدَّثَهُ وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ فَرَسًا مِنْ أَعْرَابِيٍّ فَاسْتَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَقْضِيَهُ ثَمَنَ فَرَسِهِ فَأَسْرَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَشْيَ وَأَبْطَأَ الْأَعْرَابِيُّ فَطَفِقَ رِجَالٌ يَعْتَرِضُونَ الْأَعْرَابِيَّ فَيُسَاوِمُونَ بِالْفَرَسِ لَا يَشْعُرُونَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَهُ حَتَّى زَادَ بَعْضُهُمْ الْأَعْرَابِيَّ فِي السَّوْمِ عَلَى ثَمَنِ الْفَرَسِ الَّذِي ابْتَاعَهُ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى الْأَعْرَابِيُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنْ كُنْتَ مُبْتَاعَا هَذَا الْفَرَسَ فَابْتَعْهُ وَإِلَّا بِعْتُهُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَمِعَ نِدَاءَ الْأَعْرَابِيِّ فَقَالَ أَوَلَيْسَ قَدْ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ قَالَ الْأَعْرَابِيُّ لَا وَاللَّهِ مَا بِعْتُكَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَى قَدْ ابْتَعْتُهُ مِنْكَ فَطَفِقَ النَّاسُ يَلُوذُونَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْأَعْرَابِيِّ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ هَلُمَّ شَهِيدًا يَشْهَدُ أَنِّي بَايَعْتُكَ فَمَنْ جَاءَ مِنْ الْمُسْلِمِينَ قَالَ لِلْأَعْرَابِيِّ وَيْلَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ لِيَقُولَ إِلَّا حَقًّا حَتَّى جَاءَ خُزَيْمَةُ فَاسْتَمَعَ لِمُرَاجَعَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُرَاجَعَةِ الْأَعْرَابِيِّ فَطَفِقَ الْأَعْرَابِيُّ يَقُولُ هَلُمَّ شَهِيدًا يَشْهَدُ أَنِّي بَايَعْتُكَ قَالَ خُزَيْمَةُ أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَايَعْتَهُ فَأَقْبَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى خُزَيْمَةَ فَقَالَ بِمَ تَشْهَدُ فَقَالَ بِتَصْدِيقِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَةَ خُزَيْمَةَ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ

عمارہ بن خزیمہ اپنے چچا سے " جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی رضی اللہ عنہ تھے" نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی دیہاتی سے ایک گھوڑا خریدا اور قیمت ادا کرنے کے لئے اسے اپنے ساتھ لے کر چلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفتار تیز تھی اور وہ دیہاتی سست روی سے چل رہا تھا راستے میں اس دیہاتی کو کچھ لوگ ملے جو اس سے گھوڑے کا بھاؤ تاؤ کرنے لگے کیونکہ انہیں تو یہ معلوم نہیں تھا کہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خرید چکے ہیں حتیٰ کہ ایک آدمی نے اسے گھوڑے کی قیمت لگائی وہ اس قیمت سے زیادہ تھی جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خریدا تھا چنانچہ اس دیہاتی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دے کر کہا کہ اگر آپ نے یہ گھوڑا لینا ہے تو لے لیں ورنہ میں اسے بیچنے لگا ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس دیہاتی کی یہ آواز سن کر رک گئے اور فرمایا کیا میں نے تم سے یہ گھوڑا خرید نہیں لیا؟ اس نے کہا اللہ کی قسم ! میں نے تو آپ کو یہ گھوڑا نہیں بیچا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں بیچا میں نے تو خود تم سے اسے خریدا ہے۔ دونوں میں اس بات پر تکرار ہونے لگی اور لوگ بھی جمع ہونے لگے وہ دیہاتی کہنے لگا کہ کوئی گواہ پیش کیجئے جو اس بات کی گواہی دے کہ اسے میں نے آپ کو فروخت کر دیا ہے ؟ جو مسلمان بھی آتا وہ اس سے یہی کہتا کم بخت! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو کہتے ہی وہ بات ہیں جو برحق ہو، اسی دوران حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ بھی آگئے ، انہوں نے بھی دونوں کی تکرار سنی ، اس مرتبہ جب دیہاتی نے گواہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا تو حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ تم نے یہ گھوڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بیچا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا تم کیسے گواہی دے رہے ہو؟ عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کے سچا ہونے کی بناء پر چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔ ی

وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيُّ أَنَّ عَمَّهُ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← أَبُو الْيَمَانِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22228

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22230

حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ صَالِحٍ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ وَخُزَيْمَةُ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ فَأَخْبَرَنِي عُمَارَةُ بْنُ خُزَيْمَةَ عَنْ عَمِّهِ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ خُزَيْمَةَ بْنَ ثَابِتٍ رَأَى فِي النَّوْمِ أَنَّهُ يَسْجُدُ عَلَى جَبْهَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ فَاضْطَجَعَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَجَدَ عَلَى جَبْهَتِهِ

حضرت خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خواب میں اپنے آپ کو دیکھا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دے رہے ہیں (پیشانی مبارک پر) انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کریہ خواب بتایا (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا روح کی ملاقات روح سے نہیں ہوتی) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سران کے آگے جھکا دیا چنانچہ انہوں نے اسے بوسہ دے لیا۔

عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← خُزَيْمَةُ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ ← عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← عامر بن صالح الزبيري

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22230

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18895

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن سَلَمَةِ بْنِ كُهَيْلٍ عَن أَبِي حُجَيْفَةَ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ ذَبَحَ أَبُو بُرْدَةَ قَبْلَ الصَّلَاةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْدِلْهَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ عِنْدِي إِلَّا جَذَعَةٌ وَأَظُنُّهُ قَدْ قَالَ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اجْعَلْهَا مَكَانَهَا وَلَنْ تُجْزِئَ أَوْ تُوَفِّيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ

حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے ہی اپنا جانور ذبح کرلیا تھا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! میں نے تو اپنا جانور پہلے ہی ذبح کرلیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اس کے بدلے کوئی اور جانور قربان کرلو وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! اب تو میرے پاس چھ ماہ کا ایک بچہ ہے جو سال بھر کے جانور سے بھی بہتر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسی کو اس کی جگہ ذبح کرلو لیکن تمہارے علاوہ کسی کو اس کی اجازت نہیں ۔

ذبح أبو بردة قبل الصلاة فقال له رسول الله أبدلها فقال ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← أَبِي حُجَيْفَةَ ← سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18895

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18897

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ عَن الشَّعْبِيِّ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَوَّلَ مَا نَبْدَأُ بِهِ فِي يَوْمِنَا هَذَا نُصَلِّي ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَنْحَرُ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ أَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ فَإِنَّمَا هُوَ لَحْمٌ قَدَّمَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنْ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ قَالَ وَكَانَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ قَدْ ذَبَحَ فَقَالَ إِنَّ عِنْدِي جَذَعَةً خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ فَقَالَ اذْبَحْهَا وَلَنْ تُجْزِئَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (بقرعید کے دن ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ آج کے دن کا آغاز ہم نماز پڑھ کر کریں گے پھر واپس گھر پہنچ کر قربانی کریں گے جو شخص اسی طرح کرے تو وہ ہمارے طریقے تک پہنچ گیا اور جو نماز عید سے پہلے قربانی کرے تو وہ محض گوشت ہے جو اس نے اپنے اہل خانہ کو پہلے دے دیا، اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں میرے ماموں حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے نماز عید سے پہلے ہی اپنا جانور ذبح کرلیا تھا وہ کہنے لگے یا رسول اللہ ! میں نے تو اپنا جانور پہلے ہی ذبح کرلیا البتہ اب میرے پاس چھ ماہ کا ایک بچہ ہے جو سال بھرکے جانور سے بھی بہتر ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کو اس کی جگہ ذبح کرلو لیکن تمہارے علاوہ کسی کو اس کی اجازت نہیں ۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← الشَّعْبِيِّ، ← زُبَيْدٍ الْإِيَامِيِّ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18897

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22298

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي الرَّقِّيَّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ حَدَّثَنَا جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ عَنْ أَبِي الْمُثَنَّى الْعَبْدِيِّ قَالَ سَمِعْتُ السَّدُوسِيَّ يَعْنِي ابْنَ الْخَصَاصِيَّةِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَايِعَهُ قَالَ فَاشْتَرَطَ عَلَيَّ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنْ أُقِيمَ الصَّلَاةَ وَأَنْ أُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ وَأَنْ أَحُجَّ حَجَّةَ الْإِسْلَامِ وَأَنْ أَصُومَ شَهْرَ رَمَضَانَ وَأَنْ أُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَّا اثْنَتَانِ فَوَاللَّهِ مَا أُطِيقُهُمَا الْجِهَادُ وَالصَّدَقَةُ فَإِنَّهُمْ زَعَمُوا أَنَّهُ مَنْ وَلَّى الدُّبُرَ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِنْ اللَّهِ فَأَخَافُ إِنْ حَضَرْتُ تِلْكَ جَشِعَتْ نَفْسِي وَكَرِهَتْ الْمَوْتَ وَالصَّدَقَةُ فَوَاللَّهِ مَا لِي إِلَّا غُنَيْمَةٌ وَعَشْرُ ذَوْدٍ هُنَّ رَسَلُ أَهْلِي وَحَمُولَتُهُمْ قَالَ فَقَبَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ ثُمَّ حَرَّكَ يَدَهُ ثُمَّ قَالَ فَلَا جِهَادَ وَلَا صَدَقَةَ فَلِمَ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِذًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أُبَايِعُكَ قَالَ فَبَايَعْتُ عَلَيْهِنَّ كُلِّهِنَّ

حضرت بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں بیعت اسلام کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سامنے شرائط بیعت بیان فرمائیں یعنی اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ میں نماز قائم کروں ، زکوۃ ادا کروں فرض حج کروں ، ماہ رمضان کے روزے رکھوں اور اللہ کے راستہ میں جہاد کروں ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) دو چیزوں کی تو واللہ مجھ میں طاقت نہیں ہے ایک جہاد اور دوسرا صدقہ ، کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ جو شخص میدان جنگ سے پشت پھیرتا ہے ، وہ اللہ کے غضب کے ساتھ واپس آتا ہے مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر میں کسی جنگ میں حاضر ہوں اور میرا نفس ڈر جائے اور میں موت کو ناپسند کرنے لگوں (تو اللہ کی ناراضگی میرے حصے میں آئے گی ) اور جہاں تک صدقہ ( زکوۃ ) کا تعلق ہے تو واللہ میرے پاس تو صرف چند بکریاں اور دس اونٹ ہیں جو میرے گھر والوں کی سواری اور بار برداری کے کام آتے ہیں ، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ واپس کھینچ لیا اور تھوڑی دیربعد اپنے ہاتھ کو ہلا کر فرمایا نہ جہاد اور نہ صدقہ ؟ تو پھر جنت میں کیسے داخل ہوگے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) میں بیعت کرتا ہوں ، چنانچہ میں نے ان تمام شرائط پر بیعت کرلی۔

أَتَيْتُ النَّبِيَّ لِأُبَايِعَهُ ← السَّدُوسِيَّ يَعْنِي ابْنَ الْخَصَاصِيَّةِ ← أَبِي الْمُثَنَّى الْعَبْدِيِّ، ← جَبَلَةُ بْنُ سُحَيْمٍ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يَعْنِي الرَّقِّيَّ ← زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22298

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22364

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ يَخَامِرَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَتِهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ صَادِقًا ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ لَوْنُهَا كَالزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهَا كَالْمِسْكِ وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَعَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ قَالَ أَبِي و قَالَ حَجَّاجٌ وَرَوْحٌ كَأَغَزِّ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ كَأَغَرِّ وَهَذَا الصَّوَابُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو مسلمان آدمی اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر بھی قتال کرے اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے اور جو شخص اپنے متعلق اللہ سے صدق دل کے ساتھ شہادت کی دعاء کرے اور پھر طبعی موت پا کر دنیا سے رخصت ہو تو اسے شہید کا ثواب ملے گا اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف پہنچ جائے تو وہ قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رستا ہوا آئے گا لیکن اس دن اس کا رنگ زعفران جیسا اور مہک مشک جیسی ہوگی اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے تو اس پر شہداء کی مہر لگ جاتی ہے۔

مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22364

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19105

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ حَدَّثَنِي سُفْيَانُ الْعُصْفُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ أَحَدُ بَنِي عَمْرِو بْنِ أَسَدٍ عَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا فَقَالَ عَدَلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ الْإِشْرَاكَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ حُنَفَاءَ لِلَّهِ غَيْرَ مُشْرِكِينَ بِهِ

حضرت خریم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر پڑھی جب نماز سے فارغ ہوئے تو اپنی جگہ کھڑے ہوگئے اور فرمایا جھوٹی گواہی کو شرک کے برابر قرار دیا گیا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " جھوٹی بات کہنے سے بچو اللہ کیلئے یکسو ہوجاؤ اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ۔

صَلَّی رَسُولُ اللَّهِ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَامَ قَائِمًا ← خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ الْأَسَدِيِّ، ← حَبِيبِ بْنِ النُّعْمَانِ الْأَسَدِيِّ أَحَدُ بَنِي عَمْرِو بْنِ أَسَدٍ ← أَبِيهِ ← سُفْيَانُ الْعُصْفُرِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19105

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19109

حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ زِيَادٍ عَنْ فَاتِكِ بْنِ فَضَالَةَ عَنْ أَيْمَنَ بْنِ خُرَيْمٍ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَقَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَدَلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ اجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنْ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ

حضرت خریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے اپنے جگہ کھڑے ہوگئے اور تین مرتبہ فرمایا جھوٹی گواہی کو شرک کے برابر قراردیا گیا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " بتوں کی گندگی سے بچو اور جھوٹی بات کہنے سے بچو۔ "

اجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنْ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ ← يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَدَلَتْ شَهَادَةُ الزُّورِ إِشْرَاكًا بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا ثُمَّ ← قَامَ رَسُولُ اللَّهِ خَطِيبًا ← أيمن بن خريم ← فَاتِکِ بْنِ فَضَالَةَ ← سُفْيَانَ بْنِ زِيَادٍ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19109

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19141

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ أَيَّامَ حُنَيْنٍ بِشَيْءٍ لَمْ يَكُنْ يَفْعَلُهُ قَبْلَ ذَلِكَ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ نَبِيًّا كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ أَعْجَبَتْهُ أُمَّتُهُ فَقَالَ لَنْ يَرُومَ هَؤُلَاءِ شَيْءٌ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنْ خَيِّرْهُمْ بَيْنَ إِحْدَى ثَلَاثٍ إِمَّا أَنْ أُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيَسْتَبِيحَهُمْ أَوْ الْجُوعَ أَوْ الْمَوْتَ قَالَ فَقَالُوا أَمَّا الْقَتْلُ أَوْ الْجُوعُ فَلَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَلَكِنْ الْمَوْتُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَاتَ فِي ثَلَاثٍ سَبْعُونَ أَلْفًا قَالَ فَقَالَ فَأَنَا أَقُولُ الْآنَ اللَّهُمَّ بِكَ أُحَاوِلُ وَبِكَ أَصُولُ وَبِكَ أُقَاتِلُ

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ حنین کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹ ہلتے رہتے تھے اس سے پہلے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا تھا بعد میں فرمایا کہ پہلی امتوں میں ایک پیغمبر تھے انہیں اپنی امت کی تعداد پر اطمینان اور خوشی ہوئی اور ان کے منہ سے یہ جملہ نکل گیا کہ یہ لوگ کبھی شکست نہیں کھاسکتے اللہ تعالیٰ نے اس پر ان کی طرف وحی بھیجی اور انہیں تین میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ یا تو ان پر کسی دشمن کو مسلط کردوں جو ان کا خون بہائے یا بھوک کو مسلط کردوں یا موت کو؟ وہ کہنے لگے کہ قتل اور بھوک کی تو ہم میں طاقت نہیں ہے البتہ موت ہم پر مسلط کردی جائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صرف تین دن میں ان کے ستر ہزار آدمی مرگئے اس لئے اب میں یہ کہتا ہوں کہ اے اللہ ! میں تیری ہی مدد سے حیلہ کرتا ہوں تیری ہی مدد سے حملہ کرتا ہوں اور تیری ہی مدد سے قتال کرتا ہوں ۔

صُھَیْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19141

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22453

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جنت کی کنجی " لا الہ الا اللہ " کی گواہی دینا ہے ۔

لِي رَسُولُ اللَّهِ مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ← مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22453

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22461

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاذًا يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهُ لَوْنُ الزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهُ رِيحُ الْمِسْكِ عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الشَّهَادَةَ مُخْلِصًا أَعْطَاهُ اللَّهُ أَجْرَ شَهِيدٍ وَإِنْ مَاتَ عَلَى فِرَاشِهِ وَمَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف پہنچ جائے تو وہ قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رستا ہوا آئے گا لیکن اس دن اس کا رنگ زعفران جیسا اور مہک مشک جیسی ہوگی اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے تو اس پر شہداء کی مہر لگ جاتی ہے۔ جو شخص اپنے متعلق اللہ سے صدق دل کے ساتھ شہادت کی دعاء کرے اور پھر طبعی موت پا کر دنیا سے رخصت ہو تو اسے شہید کا ثواب ملے گا اور جو مسلمان آدمی اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر بھی قتال کرے اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے۔

معاذا ← مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ، ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← مَكْحُولٌ ← أَبِيهِ ← ابْنُ ثَوْبَانَ، ← زَيْدُ بْنُ يَحْيَى الدِّمَشْقِيُّ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22461

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22467

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح وَرَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ يَخَامِرَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُ وَقَالَ رَوْحٌ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَالَ رَوْحٌ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَةٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ صَادِقًا ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ فَلَهُ أَجْرُ الشُّهَدَاءِ وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ كَأَغَزِّ وَرَوْحٌ كَأَغْزَرِ وَحَجَّاجٌ كَأَعَزِّ مَا كَانَتْ لَوْنُهَا كَالزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهَا كَالْمِسْكِ وَمَنْ جُرِحَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَعَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو مسلمان آدمی اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر بھی قتال کرے اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے۔ جو شخص اپنے متعلق اللہ سے صدق دل کے ساتھ شہادت کی دعاء کرے اور پھر طبعی موت پا کر دنیا سے رخصت ہو تو اسے شہید کا ثواب ملے گا اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف پہنچ جائے تو وہ قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رستا ہوا آئے گا لیکن اس دن اس کا رنگ زعفران جیسا اور مہک مشک جیسی ہوگی اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے تو اس پر شہداء کی مہر لگ جاتی ہے۔

مَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ← أَنَّهُ ← رَوْحٌ، ← مَالِکُ بْنُ يُخَامِرَ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← وروح ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22467

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22475

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذٍ أَنَّ الصَّلَاةَ أُحِيلَتْ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ فَذَكَرَ أَحْوَالَهَا فَقَطْ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ قَالَ أَبُو النَّضْرِ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ أُحِيلَتْ الصَّلَاةُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ وَأُحِيلَ الصِّيَامُ ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ فَأَمَّا أَحْوَالُ الصَّلَاةِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَهُوَ يُصَلِّي سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا إِلَى بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ عَلَيْهِ قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ قَالَ فَوَجَّهَهُ اللَّهُ إِلَى مَكَّةَ قَالَ فَهَذَا حَوْلٌ قَالَ وَكَانُوا يَجْتَمِعُونَ لِلصَّلَاةِ وَيُؤْذِنُ بِهَا بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى نَقَسُوا أَوْ كَادُوا يَنْقُسُونَ قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ وَلَوْ قُلْتُ إِنِّي لَمْ أَكُنْ نَائِمًا لَصَدَقْتُ إِنِّي بَيْنَا أَنَا بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ إِذْ رَأَيْتُ شَخْصًا عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَخْضَرَانِ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَثْنَى مَثْنَى حَتَّى فَرَغَ مِنْ الْأَذَانِ ثُمَّ أَمْهَلَ سَاعَةً قَالَ ثُمَّ قَالَ مِثْلَ الَّذِي قَالَ غَيْرَ أَنَّهُ يَزِيدُ فِي ذَلِكَ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمْهَا بِلَالًا فَلْيُؤَذِّنْ بِهَا فَكَانَ بِلَالٌ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ بِهَا قَالَ وَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ قَدْ طَافَ بِي مِثْلُ الَّذِي أَطَافَ بِهِ غَيْرَ أَنَّهُ سَبَقَنِي فَهَذَانِ حَوْلَانِ قَالَ وَكَانُوا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ وَقَدْ سَبَقَهُمْ بِبَعْضِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَكَانَ الرَّجُلُ يُشِيرُ إِلَى الرَّجُلِ إِنْ جَاءَ كَمْ صَلَّى فَيَقُولُ وَاحِدَةً أَوْ اثْنَتَيْنِ فَيُصَلِّيهَا ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِي صَلَاتِهِمْ قَالَ فَجَاءَ مُعَاذٌ فَقَالَ لَا أَجِدُهُ عَلَى حَالٍ أَبَدًا إِلَّا كُنْتُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَضَيْتُ مَا سَبَقَنِي قَالَ فَجَاءَ وَقَدْ سَبَقَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَعْضِهَا قَالَ فَثَبَتَ مَعَهُ فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاتَهُ قَامَ فَقَضَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهُ قَدْ سَنَّ لَكُمْ مُعَاذٌ فَهَكَذَا فَاصْنَعُوا فَهَذِهِ ثَلَاثَةُ أَحْوَالٍ وَأَمَّا أَحْوَالُ الصِّيَامِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَجَعَلَ يَصُومُ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَقَالَ يَزِيدُ فَصَامَ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا مِنْ رَبِيعِ الْأَوَّلِ إِلَى رَمَضَانَ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَصَامَ يَوْمَ عَاشُورَاءَ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَرَضَ عَلَيْهِ الصِّيَامَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمْ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ قَالَ فَكَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ وَمَنْ شَاءَ أَطْعَمَ مِسْكِينًا فَأَجْزَأَ ذَلِكَ عَنْهُ قَالَ ثُمَّ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ الْآيَةَ الْأُخْرَى شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ إِلَى قَوْلِهِ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمْ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ قَالَ فَأَثْبَتَ اللَّهُ صِيَامَهُ عَلَى الْمُقِيمِ الصَّحِيحِ وَرَخَّصَ فِيهِ لِلْمَرِيضِ وَالْمُسَافِرِ وَثَبَّتَ الْإِطْعَامَ لِلْكَبِيرِ الَّذِي لَا يَسْتَطِيعُ الصِّيَامَ فَهَذَانِ حَوْلَانِ قَالَ وَكَانُوا يَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ وَيَأْتُونَ النِّسَاءَ مَا لَمْ يَنَامُوا فَإِذَا نَامُوا امْتَنَعُوا قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ صِرْمَةُ ظَلَّ يَعْمَلُ صَائِمًا حَتَّى أَمْسَى فَجَاءَ إِلَى أَهْلِهِ فَصَلَّى الْعِشَاءَ ثُمَّ نَامَ فَلَمْ يَأْكُلْ وَلَمْ يَشْرَبْ حَتَّى أَصْبَحَ فَأَصْبَحَ صَائِمًا قَالَ فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ جَهَدَ جَهْدًا شَدِيدًا قَالَ مَا لِي أَرَاكَ قَدْ جَهَدْتَ جَهْدًا شَدِيدًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَمِلْتُ أَمْسِ فَجِئْتُ حِينَ جِئْتُ فَأَلْقَيْتُ نَفْسِي فَنِمْتُ وَأَصْبَحْتُ حِينَ أَصْبَحْتُ صَائِمًا قَالَ وَكَانَ عُمَرُ قَدْ أَصَابَ مِنْ النِّسَاءِ مِنْ جَارِيَةٍ أَوْ مِنْ حُرَّةٍ بَعْدَ مَا نَامَ وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَى نِسَائِكُمْ إِلَى قَوْلِهِ ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ وَقَالَ يَزِيدُ فَصَامَ تِسْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا مِنْ رَبِيعِ الْأَوَّلِ إِلَى رَمَضَانَ

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ نماز تین مراحل سے گذر کر آئی ہے پھر انہوں نے ان احوال کی تفصیل بیان فرمائی ۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نماز تین مراحل سے گذری ہے اور روزے بھی تین مراحل سے گذرے ہیں ، نماز کے احوال تو یہ ہے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد سترہ ماہ تک بیت المقدس کی جانب رخ کر کے نماز پڑھتے رہے حتیٰ کہ تحویل قبلہ کا حکم اللہ تعالیٰ نے نازل فرما دیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ مکہ مکرمہ کی طرف کر دیا، ایک مرحلہ تو یہ ہوا لوگ نماز کے لئے جمع ہوتے تھے اور دوسروں کو اطلاع دیتے تھے اور اس کے لئے وہ لوگ ناقوس بجانے لگے یا ناقوس بجانے کے قریب ہوگئے پھر ایک انصاری صحابی آئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے ایک شخص کو خواب میں دیکھا " جبکہ میں نیند اور بیداری کے درمیان تھا " اور جو سبز لباس زیب تن کئے ہوئے تھا اس نے قبلہ رخ کھڑے ہو کر اذان دی ، اس کے بعد کچھ وقت بیٹھ کر پھر وہ کھڑا ہوگیا اور اذان کے جو کلمات کہے تھے وہی کلمات کہے البتہ اس میں قد قامت الصلوٰۃ کا اضافہ کیا اور اگر لوگ میری تکذیب نہ کریں تو اچھی طرح میں کہہ سکتا ہوں کہ میں اس وقت جاگ رہا تھا سویا ہوا نہیں تھا یہ سن کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم (حضرت) بلال رضی اللہ عنہ کو اذان دینے کے لئے یہ کلمات سکھادو چنانچہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ یہ اذان دینے والے پہلے آدمی تھے اتنے میں حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے بھی بالکل یہی خواب دیکھا ہے لیکن انصاری آدمی اپنا خواب مجھ سے پہلے بیان کر چکے تھے یہ دو مرحلے ہوئے راوی کہتے ہیں کہ پہلے جب کوئی مسجد میں اور جماعت ہوتے ہوئے دیکھتا تو وہ یہ معلوم کرتا کہ اب تک کتنی رکعات ہوچکی ہیں اسے اشارے سے بتا دیا جاتا، وہ پہلے ان رکعتوں کو پڑھتا، پھر وہ بقیہ نماز میں شرکت کرتا، ایک دن حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ آئے اور کہا کہ میں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس حالت میں دیکھوں گا اسی حالت اور کیفیت کو بہر صورت اختیار کروں گا بعد میں اپنی چھوٹی ہوئی نماز مکمل کرلوں گا، کیونکہ جس وقت وہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نماز پڑھا چکے تھے چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہوگئے اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کرلی تو انہوں نے بھی کھڑے ہو کر اپنی نماز مکمل کرلی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کر ارشاد فرمایا کہ تم لوگوں کے لئے معاذ رضی اللہ عنہ نے ایک طریقہ مقرر کر دیا ہے اس لئے تم ایساہی کیا کرو یہ تین مرحلے ہوگئے ۔ روزوں کے مراحل یہ ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تو اس وقت ہر مہینے تین روزے اور یوم عاشورہ کا روزہ رکھنے کا حکم فرمایا اس کے بعد رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے یہ آیت کریمہ نازل ہوگئی اے اہل ایمان ! تم پر روزے فرض کر دیئے گئے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ سو جو چاہتا وہ روزے رکھ لیتا اور جو چاہتا مسکینوں کو کھانا کھلا دیتا اور یہ بھی کافی ہوجاتا، پھر اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت نازل فرما دی کہ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم میں سے جس کو ماہ رمضان المبارک نصیب ہو وہ بہرحال روزہ رکھے اس کے بعد سوائے مریض اور مسافر کے رخصت ختم ہوگئی اور دوسرے کے لئے روزہ رکھنے کا حکم ہوا البتہ وہ عمر رسیدہ آدمی جو روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا اس کے حق میں کھانا کھلانے کی اجازت باقی رہی یہ دو مرحلے ہوئے ، ابتداء اسلام میں سونے سے پہلے تک کھانے پینے اور عورتوں کے پاس جانے کی اجازت ہوتی تھی اور سونے کے بعد، دوسرے دن کے روزے کے روزے کھولنے کے وقت تک کھانا پیناجائز نہ ہوتا چنانچہ ایک روز حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اہلیہ سے ہمبستری کا ارادہ کیا تو آپ کی اہلیہ مطہرہ نے فرمایا کہ مجھے نیند آگئی تھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ گمان ہوا کہ اہلیہ ہمبستری سے بچنے کے لئے کوئی بہانہ بنا رہی ہے بہرحال حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اہلیہ سے صحبت کرلی اسی طرح ایک انصاری صحابی نے ایک مرتبہ افطار کے بعد کھانے پینے کا ارادہ کر لیا لوگوں نے کہا کہ ٹھہر جاؤ ذرا ہم تمہارے لئے کھانا گرم کر دیں وہ انصاری صحابی سوگئے جب صبح ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ احل لکم لیلۃ الصیام الرفث (الایۃ البقرہ ،١٨٧) نازل فرما دی یعنی روزہ کی رات میں بیویوں سے جماع کرنا جائز ہے " اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ربیع الاول سے رمضان تک ١٩ماہ میں ہر ماہ تین روزے رکھے۔ ی

مُعَاذٌ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← فُلَيْحٌ، ← يُونُسَ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22475

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22485

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَبْسِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ مُعَاذٍ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذْ سَمِعَ مُنَادِيًا يَقُولُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ عَلَى الْفِطْرَةِ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ شَهِدَ بِشَهَادَةِ الْحَقِّ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ خَرَجَ مِنْ النَّارِ انْظُرُوا فَسَتَجِدُونَهُ إِمَّا رَاعِيًا مُعْزِبًا وَإِمَّا مُكَلِّبًا فَنَظَرُوهُ فَوَجَدُوهُ رَاعِيًا حَضَرَتْهُ الصَّلَاةُ فَنَادَى بِهَا

حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک سفر کے دوران ایک منادی کو یہ کہتے ہوئے سنا اللہ اکبر اللہ اکبر " تو فرمایا یہ فطرت صحیحہ پرہے پھر اس نے اشہدان لا الہ الا اللہ " کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حق کی گواہی دی اس نے اشہد ان محمدا رسول اللہ کہا تو فرمایا جہنم سے نکل گیا جا کر دیکھو یا تو تم اسے کوئی چرواہا پاؤ گے جو الگ ہوگیا یا قیدی ہوگا لوگوں نے دیکھا تو وہ ایک چرواہا تھا اور نماز کا وقت آجانے پر اس نے اذان دی تھی ۔

اَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہِ ← شَهِدَ بِشَهَادَةِ الْحَقِّ ← أشهد أَن لَا إِلَه إِلَّا الله ← «عَلَى الْفِطْرَةِ» ← اللہُ أَکْبَرُ اللہُ أَکْبَرُ ← مناديا ← بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذْ ← مُعَاذٌ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَمَّارِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْعَبْسِيِّ ← الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ← سُرَيْجٌ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22485

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22487

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ بِالشَّامِ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ إِنَّ هَذَا الرِّجْزَ قَدْ وَقَعَ فَفِرُّوا مِنْهُ فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا فَلَمْ يُصَدِّقْهُ بِالَّذِي قَالَ فَقَالَ بَلْ هُوَ شَهَادَةٌ وَرَحْمَةٌ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ أَعْطِ مُعَاذًا وَأَهْلَهُ نَصِيبَهُمْ مِنْ رَحْمَتِكَ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ فَعَرَفْتُ الشَّهَادَةَ وَعَرَفْتُ الرَّحْمَةَ وَلَمْ أَدْرِ مَا دَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ حَتَّى أُنْبِئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي إِذْ قَالَ فِي دُعَائِهِ فَحُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونٌ فَحُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ مِنْ أَهْلِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُكَ اللَّيْلَةَ تَدْعُو بِدُعَاءٍ قَالَ وَسَمِعْتَهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ فَيَسْتَبِيحَهُمْ فَأَعْطَانِيهَا وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَأَبَى عَلَيَّ أَوْ قَالَ فَمَنَعَنِيهَا فَقُلْتُ حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ

ابو قلابہ کہتے ہیں کہ شام میں طاعون کی وباء پھیلی تو حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے لشکریوں سے فرمایا کہ یہ عذاب نازل ہوگیا ہے اس سے بچنے کے لئے گھاٹیوں اور وادیوں میں چلے جاؤ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے ان کی بات کی تصدیق نہیں کی اور فرمایا کہ بلکہ یہ تو شہادت اور رحمت اور تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء ہے اے اللہ ! معاذ اور اس کی اہل خانہ کو اپنی رحمت کا حصہ عطاء فرما۔ ابو قلابہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھے شہادت اور رحمت کا مطلب تو سمجھ آگیا لیکن یہ بات نہیں سمجھ سکا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاء سے کیا مراد ہے ؟ بعد میں مجھے معلوم ہوا کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت نماز پڑھ رہے تھے دعاء کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " پھر بخار یا طاعون " تین مرتبہ یہ جملہ دہرایا صبح ہوئی تو اہل خانہ میں سے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں نے رات کو آپ سے یہ دعاء کرتے ہوئے سنا تھا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا واقعی تم نے وہ دعاء سنی تھی ؟ اس نے کہا جی ہاں ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے درخواست کی تھی کہ وہ میری امت کو قحط سالی کی وجہ سے ہلاک نہ کرے چنانچہ پروردگار نے میری یہ دعاء قبول کرلی ، پھر میں نے درخواست کی تھی کہ ان پر کسی بیرونی دشمن کو مسلط نہ کرے جو ان کا خون ارزاں کر دے چنانچہ پروردگار نے میری یہ دعاء بھی قبول کرلی پھر میں نے درخواست کی کہ انہیں مختلف فرقوں میں تقسیم نہ کیا جائے کہ یہ ایک دوسرے کا مزہ چکھتے رہیں لیکن اس نے یہ درخواست قبول نہیں کی ، اس پر میں نے کہا کہ پھر بخار یا طاعون تین مرتبہ فرمایا۔ ی

أَبِي قِلَابَةَ أَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ ← أَيُّوبَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← أَبِي ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22487

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22492

حَدَّثَنَا رَوْحٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ عَنْ رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَةً فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقَالَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ قَالَ فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا قَالَ ثُمَّ أَنْشَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوًا ثَانِيًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقَالَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ قَالَ ثُمَّ أَنْشَأَ غَزْوًا ثَالِثًا فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَتَيْتُكَ مَرَّتَيْنِ قَبْلَ مَرَّتِي هَذِهِ فَسَأَلْتُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَدَعَوْتَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُسَلِّمَنَا وَيُغَنِّمَنَا فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَادْعُ اللَّهَ لِي بِالشَّهَادَةِ فَقَالَ اللَّهُمَّ سَلِّمْهُمْ وَغَنِّمْهُمْ قَالَ فَسَلِمْنَا وَغَنِمْنَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مُرْنِي بِعَمَلٍ قَالَ عَلَيْكَ بِالصَّوْمِ فَإِنَّهُ لَا مِثْلَ لَهُ قَالَ فَمَا رُئِيَ أَبُو أُمَامَةَ وَلَا امْرَأَتُهُ وَلَا خَادِمُهُ إِلَّا صُيَّامًا قَالَ فَكَانَ إِذَا رُئِيَ فِي دَارِهِمْ دُخَانٌ بِالنَّهَارِ قِيلَ اعْتَرَاهُمْ ضَيْفٌ نَزَلَ بِهِمْ نَازِلٌ قَالَ فَلَبِثَ بِذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَرْتَنَا بِالصِّيَامِ فَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ بَارَكَ اللَّهُ لَنَا فِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمُرْنِي بِعَمَلٍ آخَرَ قَالَ اعْلَمْ أَنَّكَ لَنْ تَسْجُدَ لِلَّهِ سَجْدَةً إِلَّا رَفَعَ اللَّهُ لَكَ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر ترتییب دیا (جس میں میں بھی تھا) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے حق میں اللہ سے شہادت کی دعاء کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعاء کی کہ اے اللہ ! انہیں سلامت رکھ اور مال غنیمت عطاء فرما، چنانچہ ہم مال غنیمت کے ساتھ صحیح سالم واپس آگئے (دو بارہ لشکر ترتیب دیا تو پھر میں نے یہی عرض کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی دعاء دی ) تیسری مرتبہ جب لشکر ترتیب دیا تو میں نے حاضر خدمت ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں اس سے پہلے بھی دو مرتبہ آپ کے پاس آچکا ہوں ، میں نے آپ سے یہ درخواست کی تھی کہ اللہ سے میرے حق میں شہادت کی دعاء کر دیجئے لیکن آپ نے سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے لہٰذا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم اب تو میرے لئے شہادت کی دعا فرما دیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر سلامتی اور غنیمت کی دعاء کی اور ہم مال غنیمت لے کر صحیح سالم واپس آگئے۔ اس کے بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ مجھے کسی عمل کا حکم دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے اوپر روزے کو لازم کر لو کیونکہ روزے کی حالت ہی میں ملے، اور اگر دن کے وقت ان کے گھر سے دھواں اٹھتا ہوا دکھائی دیتا تو لوگ سمجھ جاتے کہ آج ان کے یہاں کوئی مہمان آیا ہے۔ حضرت امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عرصہ تک میں اس پر عمل کرتا رہاجب تک اللہ کو منظور ہوا پھر میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے مجھے روزہ رکھنے کا حکم دیا تھا مجھے امید ہے کہ اللہ نے ہمیں اس کی برکتیں عطاء فرمائی ہیں اب مجھے کوئی اور عمل بتا دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس بات پریقین رکھو کہ اگر تم اللہ کے لئے ایک سجدہ کرو گے تو اللہ اس کی برکت سے تمہارا ایک درجہ بلند کر دے گا اور ایک گناہ معاف کر دے گا۔

أَنْشَأَ رَسُولُ اللهِ غَزْوَةً فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، ← وَاصِلٌ مَوْلٰی اَبِیْ عُیَیْنَۃَ ← هِشَامٍ ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22492

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19333

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْمُجَالِدِ قَالَ اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَفِ فَبَعَثَانِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كُنَّا نُسْلِفُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ أَوْ التَّمْرِ شَكَّ فِي التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَمَا هُوَ عِنْدَهُمْ أَوْ مَا نَرَاهُ عِنْدَهُمْ ثُمَّ أَتَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبْزَى فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ

عبداللہ بن ابی المجاہد کہتے ہیں کہ ادھاربیع کے مسئلے میں حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ اور ابوبردہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا ان دونوں نے مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا میں نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شخین رضی اللہ عنہم کے دور میں گندم ، جو، کشمش یا جو چیزیں بھی لوگوں کے پاس ہوتی تھیں ، ان سے ادھار بیع کرلیا کرتے تھے ، پھر میں حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی یہی بات فرمائی ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19333

chevron_left Previous
1…495051…1,290
Next chevron_right