Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطب والصحة

Medicine & Health

12931 hadiths

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7437

7437 - وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ خَيْثَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، قَالَا: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: " عَلَيْكُمْ بِالشِّفَائَيْنِ: الْقُرْآنِ وَالْعَسَلِ "

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں تم دو شفاء دینے والی چیزوں کو لازم اختیار کرو قرآن او رشہد ۔

عَبْدُ اللَّهِ: عَلَيْكُمْ بِالشِّفَائَيْنِ: الْقُرْآنِ وَالْعَسَلِ ← خَيْثَمَةَ، وَالْأَسْوَدِ، ← الْاَعْمَشِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ ← وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7437

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7438

7438 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ عَائِشَةَ، ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِذَا حُمَّ أَحَدُكُمْ فَلْيَشِنَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ الْبَارِدَ ثَلَاثَ لَيَالٍ مِنَ السَّحَرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَإِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى الْأَسَانِيدِ فِي أَنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7438 - على شرط مسلم

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا جب کسی کو بخار چڑھے تو اس کو تین راتیں سحری کے وقت کے چھیٹے مارو۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیاد کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ان اسانید کو بیان کیا ہے جس میں یہ ہے کہ " بخار دوزخ کی گرمی ہے اسکو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کرو "۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنُ عَائِشَةَ ← الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7438

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7439

7439 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرَافِيُّ، قَالَا: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ، قَالَ: كُنْتُ أَجْلِسُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، بِمَكَّةَ فَفَقَدَنِي أَيَّامًا فَلَمَّا جِئْتُ قَالَ: مَا حَبَسَكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: حُمِّمْتُ فَقَالَ: أَبْرِدْهَا عَنْكَ بِمَاءِ زَمْزَمَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7439 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت ابو جمرہ ضبعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں مکہ مکروہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا کرتا تھا انہوں نے کئی دن مجھے اپنی مجلس سے مفقود پایا جب میں آیا تو انہوں نے اتنے دن غیر حاضری کی وجہ پوچھی میں نے بتایا کہ مجھے بخار ہو گیا تھا ۔ آپ نے فرمایا زمزم کے پانی کے ساتھ اپنے بخار کو ٹھنڈا کر لیا کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا د فرمایا ہے بخار دوزخ کی تپش ہے اس کو زمزم کےپانی کے ساتھ ٹھنڈا کر لیا کر و " یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہےلیکن انہوں نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔

أَبْرِدْهَا عَنْكَ بِمَاءِ زَمْزَمَ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ ← قُلْتُ: حُمِّمْتُ ← مَا حَبَسَك ← كُنْتُ أَجْلِسُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، بِمَكَّةَ فَفَقَدَنِي أَيَّامًا فَلَمَّا جِئْتُ ← أَبِي جَمْرَةَ الضُّبَعِيِّ ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السِّيرَافِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7439

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7441

7441 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ رَجَاءٍ السِّنْدِيُّ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، ثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَهَا: «بِمَاذَا تَسْتَمْشِينَ؟» قَالَتْ: كُنْتُ أَسْتَمْشِي بِالشُّبْرُمِ قَالَ: «حَارٌّ حَارٌّ» قَالَتْ: ثُمَّ اسْتَمْشَيْتُ بِالسَّنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ شَيْئًا كَانَ فِيهِ الشِّفَاءُ مِنَ الْمَوْتِ لَكَانَ السَّنَا»

حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا تو کس چیز سے جلاب لیتی ہو ؟ میں نے کہا میں شبرم کے ساتھ جلاب لیتی ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گرم ہےگرم آپ فرماتی ہیں پھر میں نے سنا کے ساتھ جلاب لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر کسی چیز میں موت کی شفاء ہوتی تو سنا میں ہوتی ۔

أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ ← عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّيْمِيُّ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ← أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ رَجَاءٍ السِّنْدِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْإِسْفِرَايِينِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7441

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7442

7442 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثَنَا عُمَرُ بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُبَيِّ ابْنِ أُمِّ حِزَامٍ، وَكَانَ قَدْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاتَيْنِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «عَلَيْكُمْ بِالسَّنَا وَالسَّنُّوتِ فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا السَّامُ؟ قَالَ: «الْمَوْتُ» قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ: " وَالسَّنُّوتُ: الشِّبِتُّ" قَالَ عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ، وَغَيْرُهُ يَقُولُ: " السَّنُّوتُ هُوَ الْعَسَلُ الَّذِي يَكُونُ فِي الزِّقِّ وَهُوَ قَوْلُ الشَّاعِرِ: [البحر الطويل] هُمُ السَّمْنُ بِالسَّنُّوتِ لَا خَيْرَ فِيهِمَا ... وَهُمْ يَمْنَعُونَ الْجَارَ أَنْ يَتَجَرَّدَا « هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7442 - عمرو بن بكر اتهمه ابن حبان

ابو ابی بن امام حزام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ دو نمازیں پرھی ہیں آپ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم سنا اور سنوت کو لازم پکڑو کیونکہ اس میں سام کے سواہر چیز کا علاج ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سام کس کو کہتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا موت ابراہیم بن ابی عبلہ فرماتے ہیں ۔ سنوت سے مراد زیرہ اور دیگر کئی محدثین کا موقف یہ ہے کہ سنوت اس شہد کو کہتے ہیں جو گھی والے مشکیزے میں ہوتا ہے ۔ جیسا کہ شاعر نے کہا ہے وہ گھی کے ساتھ سنوت کی طرح ہیں ان دونوں میں خیر نہیں ہے وہ تو پڑوسی کو خالی نہیں ہونے دیتے ( بعض نے کہا ہے کہ سنوت کلونجی کو کہتے ہیں ) ۔

«عَلَيْكُمْ بِالسَّنَا وَالسَّنُّوتِ فَإِنَّ فِيهِمَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ» قِيلَ: ← رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا أُبَيِّ ابْنِ أُمِّ حِزَامٍ، وَكَانَ قَدْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ الصَّلَاتَيْنِ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ ← عُمَرُ بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ، ← بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7442

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7472

7472 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، ثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ السَّعُوطُ وَاللَّدُودُ وَالْحِجَامَةُ وَالْمَشْيُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7472 - عباد بن منصور ضعفوه

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشا د فرمایا تم جو دوائی لیتے ہو اس میں سب سے اچھی دوا سعوط ( ناک میں دو ا نپکانا ) اور لدود (منہ کے ایک کنارے سے دو پلانا ) اور مشی ( جلاب لینا ) ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← عَبَّادِ بْنِ مَنْصُورٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ ← محمد بن أحمد بن أنس القرشي، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْعَتَكِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7472

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7473

7473 - أَخْبَرَنَا مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا مَرَرْتُ بِمَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي إِلَّا قَالُوا عَلَيْكَ بِالْحِجَامَةِ يَا مُحَمَّدُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7473 - صحيح

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا معراج کی رات میں فرشتوں کی جس جماعت کے پاس سے بھی گزرا سب نے یہی کہا اے محمد ! آپ حجامت ضرور کرواتے رہنا ( یعنی پچھنے لگواتے رہنا ) یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← مكرم بن أحمد القاضي،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7473

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7474

7474 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا» قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: «وَكَانَ أَخُوهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ أَوْ غُلَامًا لَهُ لَمْ يَحْتَلِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7474 - على شرط مسلم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مروی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھنے لگوانے کی اجازت مانگی نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طیبہ کو حکم دیا کہ وہ عائشہ کو پچھنے لگائیں راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے کہ ابو طیبہ ام المومنین کا رضاعی بھائی تھا یا ان کا رشتہ دار کوئی نابالغ لڑکا تھا ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیاد کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7474

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7479

7479 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الزَّاهِدُ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ الرَّازِيُّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ، وَزَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالُوا: ثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، ثَنَا غَزَالُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ نَافِعٌ: قَالَ لِي ابْنُ عُمَرَ: أَبْغِنِي حَجَّامًا لَا يَكُونُ غُلَامًا صَغِيرًا وَلَا شَيْخًا كَبِيرًا فَإِنَّ الدَّمَ قَدْ تَبَيَّغَ بِي وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحِجَامَةُ تَزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَتَزِيدُ فِي الْحِفْظِ فَعَلَى اسْمِ اللَّهِ يَوْمَ الْخَمِيسِ لَا تَحْتَجِمُوا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَا يَوْمَ السَّبْتِ وَلَا يَوْمَ الْأَحَدِ وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَالثُّلَاثَاءِ وَمَا نَزَلَ جُذَامٌ وَلَا بَرَصٌ إِلَّا فِي لَيْلَةِ الْأَرْبِعَاءِ» رُوَاةُ هَذَا الْحَدِيثِ كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ إِلَّا غَزَالَ بْنَ مُحَمَّدٍ فَإِنَّهُ مَجْهُولٌ لَا أَعْرِفُهُ بِعَدَالَةٍ وَلَا جَرْحٍ. وَقَدْ صَحَّ الْحَدِيثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا مِنْ قَوْلِهِ مِنْ غَيْرِ مُسْنَدٍ وَلَا مُتَّصِلٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7479 - غزال بن محمد مجهول

حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے فرمایا میرے لیے کوئی حجام ڈھونڈ کر لاؤ جو نہ بہت چھوٹا ہو اور نہ بہت بوڑھا ہو کیونکہ میرا بلڈ پریشر ہائی ہو رہا ہے اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ حجامہ ، عقل کو تیز کرتا ہے اور حافظہ مضبوط کرتا ہے اللہ کے نام پر جمعرات کے دن پچھنے لگواؤ جمعہ ہفتہ اور اتوار کو پچھنے مت لگواؤ سوموار اور منگل کو لگواؤ اور جذام اور برص بدھ کی رات میں پیدا ہوتا ہے ۔ یہ حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے غزال بن محمد کے کہ یہ مجہول ہیں اور مجھے اس کی عدالت اور جرح پر کوئی اطلاع نہیں ہے یہی حدیث حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے اپنے قول سے صحیح ثابت ہے وہ نہ مسند ہے نہ متصل ۔

نَافِعٍ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← غَزَالُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفِرْيَابِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ الرَّازِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الزَّاهِدُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7479

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7481

7481 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِيُّ، قَالَا: ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ لَهُ: يَا نَافِعُ تَبَيَّغَ بِي الدَّمُ فَأْتِنِي بِحَجَّامٍ لَا يَكُونُ شَيْخًا كَبِيرًا وَلَا غُلَامًا صَغِيرًا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْحِجَامَةُ عَلَى الرِّيقِ أَمْثَلُ وَفِيهَا شِفَاءٌ وَبَرَكَةٌ، وَهِيَ تَزِيدُ فِي الْعَقْلِ وَتَزِيدُ فِي الْحِفْظِ وَتَزِيدُ الْحَافِظَ حِفْظًا فَمَنْ كَانَ مُحْتَجِمًا عَلَى اسْمِ اللَّهِ فَلْيَحْتَجِمْ يَوْمَ الْخَمِيسِ وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَوْمَ السَّبْتِ وَيَوْمَ الْأَحَدِ، وَاحْتَجِمُوا يَوْمَ الِاثْنَيْنِ وَيَوْمَ الثُّلَاثَاءِ فَإِنَّهُ الْيَوْمُ الَّذِي صَرَفَ اللَّهُ عَنْ أَيُّوبَ فِيهِ الْبَلَاءَ، وَاجْتَنِبُوا الْحِجَامَةَ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءِ، فَإِنَّهُ الَّذِي ابْتَلَى اللَّهُ أَيُّوبَ فِيهِ بِالْبَلَاءِ وَمَا يَبْدُو جُذَامٌ وَلَا بَرَصٌ إِلَّا فِي يَوْمِ الْأَرْبِعَاءِ أَوْ فِي لَيْلَةِ الْأَرْبِعَاءِ»

نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا : اے نافع مرابلڈ پریشر بہت ہائی ہو رہا ہے اس لیے کسی حجام کو بلا کر لاؤ وہ بہت بوڑھا بھی نہ ہوا اور بالکل بچہ بھی نہ ہو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ نہار منہ پچھنے لگوانا کم تکلیف دہ ہے اور اس میں شفاء بھی ہے برکت بھی ہے یہ عقل کو بڑھاتی ہے اور حافظہ مضبوط کرتی ہے اس لیے جو اللہ کے نام پر پچھنے لگوانا چاہے اس کو چاہیے کہ جمعرات کے دن پچھنے لگوائے اور جمعہ کے دن ہفتہ کے دن اور اتوار کے دن پچھنے دور فرمائی تھی بدھ کے دن بھی پچھنے لگوانے سے بچو کیونکہ اس دن حضرت ایوب علیہ السلام بیماری میں مبتلا ہوئے تھے اور جذام اور برص بدھ کے دن یا بدھ کی رات کو پیدا ہوتا ہے ۔

نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ ← عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ← عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، وَأَبُو الْحَسَنِ الْعَنَزِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7481

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7482

7482 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ صُبَيْحٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَاسْتَعِينُوا بِالْحِجَامَةِ لَا تَبَيَّغَ دَمُ أَحَدِكُمْ فَيَقْتُلَهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7482 - صحيح

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب گرمی بہت سخت ہو جائے تو حجامت ( پچھنے لگوانے ) سے مدد لوتاکہ ہائی بلڈ پریشر کہیں تمہیں مار نہ ڈالے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَنَسٍ، ← الْحَسَنِ، ← الرَّبِيعُ بْنُ صَبِيحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7482

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7512

7512 - حَدَّثَنِي طَاهِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، ثَنَا خَالِي الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ يَلْتَمِسَانِ الشِّفَاءَ لِأَبٍ لَهُمَا حُبِسَ بَوْلُهُ فَدَلَّهُ الْقَوْمُ عَلَى فَضَالَةَ فَجَاءَ الرَّجُلَانِ وَمَعَهُمَا فَضَالَةُ فُذُكِرَ الَّذِي يَأْتِيهُمَا فَقَالَ فَضَالَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنِ اشْتَكَى مِنْكُمْ شَيْئًا أَوِ اشْتَكَى أَخٌ لَهُ فَلْيَقُلْ: رَبَّنَا الَّذِي فِي السَّمَاءِ تَقَدَّسَ اسْمُكَ أَمَرُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ كَمَا رَحْمَتُكَ فِي السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ اغْفِرْ لَنَا حَوبَنَا وَخَطَايَانَا يَا رَبَّ الطَّيِّبِينَ أَنْزِلْ شِفَاءً مِنْ شِفَائِكَ وَرَحْمَةً مِنْ رَحْمَتِكَ عَلَى هَذَا الْوَجَعِ فَيَبْرَأْ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7512 - صحيح

حضرت فضالہ بن عبید فرماتے ہیں اہل عراق سے دو آدمی اپنے والد کے لیے شفا ء تلاش کرتے ہوئے آئے اس کا پیشاب رک گیا تھا کسی شخص نے ان کو حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ کا بتادیا ۔ وہ دنوں آدمی حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور اپنے آنے کا مقصد بیان کیا حضرت فضالہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کسی بھی قسم کی بیماری ہو یا اس کا کوئی بھائی بیمار ہو اس کو چاہیے کہ یوں دعا دعا مانگے ۔ " اے میرے رب وہ جو آسمانوں میں ہے تیرا نام پاکیزہ ہے تیرا حکم زمین اور آسمان میں چلتا ہے جیسا کہ تیری رحمت آسمانوں اور زمینوں میں ہے ہمارے گناہ اور ہماری خطائیں معاف فرما اے طیبین کے رب اس درد پر اپنی شفاء میں سے شفاء نازل فرما اور اپنی رحمتوں میں سے رحمت نازل فرما " وہ شخص ٹھیک ہو جائے گا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، ← زِيَادُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيُّ، ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← خَالِي الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، ← طَاهِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7512

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7516

7516 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَصَابَهَا مَرَضٌ وَأَنَّ بَعْضَ بَنِي أَخِيهَا ذَكَرُوا شَكْوَاهَا لِرَجُلٍ مِنَ الزُّطِّ يَتَطَبَّبُ وَأَنَّهُ قَالَ لَهُمْ: إِنَّهُمْ لَيَذْكُرُونَ امْرَأَةً مَسْحُورَةً سَحَرَتْهَا جَارِيَةٌ فِي حِجْرِهَا صَبِيٌّ، فِي حِجْرِ الْجَارِيَةِ الْآنَ صَبِيٌّ قَدْ بَالَ فِي حِجْرِهَا فَقَالَ: إِيتُونِي بِهَا. فَأُتِيَ بِهَا فَقَالَتْ عَائِشَةُ: «سَحَرْتِينِي؟» قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: «لِمَ؟» قَالَتْ: أَرَدْتُ أَنْ أُعْتَقَ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَدْ أَعْتَقْتَهَا عَنْ دُبُرٍ مِنْهَا فَقَالَتْ: «إِنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ أَنْ لَا تُعْتَقِينَ أَبَدًا انْظُرُوا شَرَّ الْبُيُوتِ مَلَكَةً فَبِيعُوهَا مِنْهُمْ ثُمَّ اشْتَرُوا بِثَمَنِهَا رَقَبَةً فَأَعْتِقُوهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «آخِرُ كِتَابِ الطِّبِّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7516 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مروی ہے کہ ان کو کوئی بیماری لاحق ہوئی اور ان کے بھتیجے نے ان کی بیماری کا ذکر جاٹ قوم کے ایک طبیب سے کیا اس طبیب نے ان سے کہا تم لوگ جس عورت کا ذکر کر رہے ہو ، وہ تو سحر زدہ ہے اس پر ایک عورت نے جادو کر رکھا ہے اور اس جادو کرنے والی عورت کی نشانی یہ ہے کہ اس کی گود میں ایک دودھ پیتا بچہ ہے ابھی اس وقت وہ بچہ اس عورت کی گود میں ہے اور بچے نے اس کی گود میں پیشاب کر دیا ہوا ہے اس شخص نے کہا اس خاتون کو میرے پاس لے کر آؤ اس عورت کو ان کے پاس لایا گیا ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا کیا تو نے مجھ پر جادو کیا ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ام المومنین نے پوچھا کیوں کیا اس نے کہا میں آزاد ہونا چاہتی ہوں حالانکہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس کو کہہ دیا ہوا تھا کہ میری وفات کے بعد تم آزاد ہو ام المومنین نے کہا اللہ کی طرف سے اب مجھ سے لازم ہے کہ تم کبھی بھی آزاد نہ ہو سب سے ظالم گھرانے میں اس کو بیچ دو اور اس کے بدلے میں جو رقم ملے اس سے ایک لونڈی خرید کر اس کو آزاد کر دو۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہےلیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

عَمْرَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَارِثَةَ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أَبِي ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْحَافِظُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7516

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْجِهَادِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2474

2474 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ، وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، أَنْبَأَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ، وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ، ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ: لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنَا فِي السَّرِيَّةِ، مَا لَنَا زَادٌ إِلَّا السَّفُّ مِنَ التَّمْرِ، نَقْسِمُهُ قَبْضَةً قَبْضَةً، حَتَّى يَصِيرَ إِلَى تَمْرَةٍ تَمْرَةٍ، قُلْتُ: يَا أَبَتِ مَا عَسَى أَنْ تُغْنِيَ عَنْكُمُ التَّمْرَةُ؟ قَالَ: لَا تَقُلْ ذَلِكَ يَا بُنَيَّ، فَلَمْ نَعْدُ أَنْ فَقَدْنَاهَا فَاحْتَجْنَا إِلَيْهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2474 - صحيح

حضرت عامر بن ربیعہ بدری رضی اللہ عنہ صحابی ہیں آپ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جنگی مہم میں بھیجا کرتے تھے ہمارے پاس ایک ٹوکری کھجوروں کے سوا کوئی زادراہ نہیں ہوا کرتا تھا ہم اس کو ایک ایک مٹھی تقسیم کر لیا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک ایک کھجور تک نوبت آپہنچی ( عبداللہ بن عامر فرماتے ہیں) میں نے کہا ابا جان ایک کھجور سے تمہارا کیا بنتاہو گا؟ آ پ نے فرمایا اے بیٹے یہ بات مت کہو ہم لوٹ کر کبھی نہیں آئے ، چاہے ہمارے پاس وہ ایک کھجور بھی نہ ہوتی ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِيه وَكَانَ بَدْرِيًّا ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ← عبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَسْعُودِيُّ ← عَاصِمُ بْنُ عَلِي، ← عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَنْصُورٍ الْعَدْلُ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ أَنْبَأَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ← أَبُو الْمُوَجِّهِ أَنْبَأَ عَبْدَانُ أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْبَأَ الْمَسْعُودِيُّ ← الحسن بن حليم المروزي

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Jihad › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2474

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ قِرَاءَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا لَمْ يُخَرِّجَاهُ وَقَدْ صَحَّ سَنَدُهُ · حديث 2928

2928 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الشَّهِيدُ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، أَخِي يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسٍ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَرَأَ: {أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ، وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ، وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ، وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ، وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ، وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ} [المائدة: 45] «مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ لَيْسَ مِنْ شَرْطِ هَذَا الْكِتَابِ»

حضرت محمد بن معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مبارک کے حوالے سے بھی حضرت انس رضی اللہ عنہ کا فرمان نقل کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے " ان النفس بالنفس ، والعین بالعین ، والانف بالانف ، والا ذن بالا ذن ، والسن بالسن ، والجروح قصاص "" کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت اور زخموں میں بدلہ ہے ۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) پڑھا ( اور اس میں "النفس " پر فتح اور " العین " پر رفع پڑھا ) محمد بن معاویہ اس کتاب کے معیار کے راوی نہیں ہیں ۔

أَنَسٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِي عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، أَخِي يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ بِمَكَّةَ، ← يحيى بن محمد بن يحيى الشهيد ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › The recitations of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him, of what he did not produce, and his chain of narration is correct · Hadith 2928

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 246

246 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، قَالَا: أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنِي نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّمَا مَثَلُ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ حِينَ يُصِيبُهُ الرَّعْدُ وَالْحُمَّى، كَمَثَلِ حَدِيدَةٍ تَدْخُلُ النَّارَ فَيَذْهَبُ خَبَثُهَا وَيَبْقَى طِيبُهَا» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَالَّذِي عِنْدِي أَنَّهُمَا تَرَكَاهُ لِتَفَرُّدِ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ أَبِيهِ بِالرِّوَايَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 246 - صحيح الإسناد

حضرت عبد الرحمٰن بن ازہرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا: جب کسی بندہ مومن کو بخار یا کوئی تکلیف آتی ہے تو اس کی مثال ایسے ہے جیسے لو ہے کو بھٹی میں ڈال دیا گیا ہو کہ اس سے لوہے کا زنگ دور ہو جا تا ہے اور خالص لوہا باقی بچ جا تا ہے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخینؒ نے اسے روایت نہیں کیا ہے اور جہاں تک میرا خیال ہے امام بخاری ؒاور امام مسلم ؒنے اس حدیث کو اس لئے ترک کیا ہے کہ حمیداپنے والد سے روایت کرنے میں متفرد ہیں۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 246

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 247

247 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ، يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ وَهُوَ وَجِعٌ بِهِ الْحُمَّى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أُمُّ مِلْدَمٍ» قَالَتِ امْرَأَةٌ: نَعَمْ، فَلَعَنَهَا اللَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَلْعَنِيهَا فَإِنَّهَا تَغْسِلُ - أَوْ تُذْهِبُ - ذُنُوبَ بَنِي آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَا أَعْرِفُ لَهُ عِلَّةً وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 247 - على شرط مسلم ولا علة له

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺایک خاتون کے پاس تشریف لائے، اس وقت اس کو شدید بخار ہورہا تھا، نبی اکرم ﷺنے فرمایا: "ام ملدم" (یعنی بخار)ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ پھر وہ بخار کو لعنتیں دینے لگی، نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: بیماری کو لعنت مت کرو کیونکہ یہ انسان کے گناہ اس طرح مٹادیتی ہے جسے بھٹی ،لوہے کے زنگ کو دور کر دیتی ہے۔ یہ حدیث امام مسلمؒ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور مجھے اس میں کوئی علت بھی نہیں مل سکی۔ .

امْرَأَة نعم فلعنها الله ← النَّبِيُّ «أُمُّ مِلْدَمٍ» ← دَخَلَ النَّبِيُّ عَلَى بَعْضِ أَهْلِهِ وَهُوَ وَجِعٌ بِهِ الْحُمَّى، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبَا الزُّبَيْرِ الْمَكِّيَّ ← خَالِد بن يزِيد أَنه ← نَافِعٍ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حمشاذ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 247

المستدرك على الصحيحين · کِتَابُ الْاِیمَانْ ‹ باب · حديث 255

255 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، ثنا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ، ثنا أَبُو الْوَازِعِ جَابِرُ بْنُ عَمْرٍو الرَّاسِبِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَرْزَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «حَوْضِي مِنْ أَيْلَةَ إِلَى صَنْعَاءَ عَرْضُهُ كَطُولِهِ، فِيهِ مِيزَابَانِ يَصُبَّانِ مِنَ الْجَنَّةِ، أَحَدُهُمَا وَرِقٌ وَالْآخَرُ ذَهَبٌ أَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَلْيَنُ مِنَ الزُّبْدِ، فِيهِ أَبَارِيقُ عَدَدَ نُجُومِ السَّمَاءِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ» . قَالَ: وَزَادَ فِيهِ أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «يَنْزُو فِي أَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ فَقَدِ احْتَجَّ بِحَدِيثَيْنِ عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الرَّاسِبِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ، عَنْ أَبِي بَرْزَةَ وَهُوَ غَرِيبٌ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 255 - غريب صحيح على شرط مسلم

حضرت ابو برزہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ارشادفرمایا : میراحوض اللہ سے صنعاء تک چوڑا ہے اور اس کی چوڑائی اور لمبائی برابر ہے، اس میں جنت سے دو پرنالے گرتے ہیں ، ان میں سے ایک سونے کا ہے اور ایک چاندی کا ہے جس کا پانی شہد سے زیادہ میٹھا، برف سے زیادہ ٹھنڈا، دودھ سے زیادہ سفید اور مکھن سے زیادہ ملائم ہے۔ اس کے پیالوں کی تعدادستاروں کے برابر ہے جو اس سے ایک مرتبہ پی لے گا اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی حتیٰ کہ وہ جنت میں چلا جائے گا۔ اس حدیث کو ایوب نے بھی روایت کیا ہے جس کی سند ابوالوازع کے ذریعے ابو برزہ تک پہنچتی ہے۔ اس نے نبی پاک ﷺکے فرمان میں يَنْزُو فِي أَيْدِي الْمُؤْمِنِينَ کا اضافہ ہے۔ یہ حدیث امام مسلم ؒکے معیار کے مطابق صحیح ہے امام مسلمؒ نے دونوں حدیثیں ابوطلحہ کے ذریعے ابوالوازع کی سند سے ابو برزہ کے حوالے سے روایت کی ہیں اور یہ حدیث اس سند کے لحاظ سے غریب صحیح ہے جو ایوب سختیانی نے ابوالوازع کے حوالے سے روایت کی ہے لیکن شیخینؒ نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبَا بَرْزَةَ ← أَبُو الْوَازِعِ جَابِرُ بْنُ عَمْرٍو الرَّاسِبِيُّ، ← شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ ← رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Book › Door · Hadith 255

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5456

5456 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَسَعْدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَا: ثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الْقَصِيرُ، حَدَّثَنِي أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِإِسْلَامِ أَبِي ذَرٍّ؟ قَالَ: قُلْنَا: بَلَى، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: كُنْتُ رَجُلًا مِنْ غِفَارٍ فَبَلَغَنَا أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ بِمَكَّةَ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَقُلْتُ لِأَخِي: انْطَلِقْ إِلَى هَذَا الرَّجُلِ فَكَلِّمْهُ وَائْتِنِي بِخَبَرِهِ، فَانْطَلَقَ، فَلَقِيَهُ، ثُمَّ رَجَعَ، فَقُلْتُ: مَا عِنْدَكَ؟ فَقَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَجُلًا يَأْمُرُ بِالْخَيْرِ وَيَنْهَى عَنِ الشَّرِّ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: لَمْ يَشْفِنِي مِنَ الْخَبَرِ، قَالَ: فَأَخَذْتُ جِرَابًا وَعَصَا، ثُمَّ أَقْبَلْتُ إِلَى مَكَّةَ، فَجَعَلْتُ لَا أَعْرِفُهُ، وَأَكْرَهُ أَنْ أَسْأَلَ عَنْهُ، وَأَشْرَبُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، وَأَكُونُ فِي الْمَسْجِدِ، قَالَ: فَمَرَّ بِي عَلِيٌّ فَقَالَ: كَأَنَّ الرَّجُلَ غَرِيبٌ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَانْطَلَقَ إِلَى الْمَنْزِلِ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ لَا يَسْأَلُنِي عَنْ شَيْءٍ، وَلَا أُخْبِرُهُ، قَالَ: ثُمَّ لَمَّا أَصْبَحْتُ غَدَوْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ لِأَسْأَلَ عَنْهُ، وَلَيْسَ أَحَدٌ يُخْبِرُنِي عَنْهُ بِشَيْءٍ، فَمَرَّ بِي عَلِيٌّ، فَقَالَ: أَمَا إِنَّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَعْرِفَ مَنْزِلَهُ بَعْدُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: انْطَلِقْ مَعِي، فَقَالَ: مَا أَقْدَمَكَ هَذِهِ الْبَلْدَةَ؟ قُلْتُ لَهُ: إِنْ كَتَمْتَ عَلَيَّ أَخْبَرْتُكَ؟ قَالَ: فَإِنِّي أَفْعَلُ، قُلْتُ لَهُ: بَلَغَنَا أَنَّهُ خَرَجَ مِنْ هَا هُنَا رَجُلٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ نَبِيٌّ، فَأَرْسَلْتُ أَخِي لِيُكَلِّمَهُ، فَرَجَعَ وَلَمْ يَشْفِنِي مِنَ الْخَبَرِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَلْقَاهُ، قَالَ: أَمَا إِنَّكَ قَدْ رَشَدْتَ، هَذَا وَجْهِي، فَاتَّبِعْنِي، وَادْخُلْ حَيْثُ أَدْخَلُ، فَإِنِّي إِنْ رَأَيْتُ أَحَدًا أَخَافَهُ عَلَيْكَ قُمْتُ إِلَى الْحَائِطِ أُصْلِحُ نَعْلِي وَامْضِ أَنْتَ، قَالَ: فَمَضَى وَمَضَيْتُ مَعَهُ حَتَّى دَخَلَ، وَدَخَلْتُ مَعَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَعْرِضْ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ، فَعَرَضَ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ فَأَسْلَمْتُ مَكَانِي، قَالَ: فَقَالَ لِي: «يَا أَبَا ذَرٍّ، اكْتُمْ هَذَا الْأَمْرَ، وَارْجِعْ إِلَى بَلَدِكَ، فَإِذَا بَلَغَكَ ظُهُورُنَا فَأَقْبِلْ» قَالَ: فَقُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَأَصْرُخَنَّ بِهَا بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ، فَجَاءَ إِلَى الْمَسْجِدِ وَقُرَيْشٍ فِيهِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، أَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، فَقَالُوا: قُومُوا إِلَى هَذَا الصَّابِئِ، فَقَامُوا فَضُرِبْتُ لِأَمُوتَ، فَأَدْرَكَنِي الْعَبَّاسُ، فَأَكَبَّ عَلَيَّ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: وَيْلَكُمْ تَقْتُلُونَ رَجُلًا مِنْ بَنِي غِفَارٍ، وَمَتْجَرُكُمْ وَمَمَرُّكُمْ عَلَى غِفَارٍ، فَأَقْلَعُوا عَنِّي، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ الْغَدَ، رَجَعْتُ فَقُلْتُ مِثْلَ مَا قُلْتُ بِالْأَمْسِ، فَقَالُوا: قُومُوا إِلَى هَذَا الصَّابِئِ، فَأَدْرَكَنِي الْعَبَّاسُ، فَأَكَبَّ عَلَيَّ، وَقَالَ: مِثْلَ مَقَالَتِهِ بِالْأَمْسِ، فَكَانَ أَوَّلُ إِسْلَامِ أَبِي ذَرٍّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» فَأَمَّا حَدِيثٌ مُفَسَّرٌ فِي إِسْلَامِ أَبِي ذَرٍّ حَدِيثُ الشَّامِيِّينَ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5456 - صحيح على شرط البخاري ومسلم

ابوحمزہ کہتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ہم سے کہا: کیا میں تمہیں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ سناؤں؟ ہم نے کہا: جی ہاں! انہوں نے کہا: حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میراتعلق غفار قبیلے کے ساتھ تھا ، ہمیں یہ اطلاع ملی کہ مکہ مکرمہ میں ایک آدمی نے نبوت کا دعوی کیا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا کہ اس آدمی سے جا کر ملو اور اس سے بات چیت کر کے آؤ اور مجھے بتاؤ ، میرا بھائی وہاں گیا اور ان سے ملاقات کی ، اور واپس لوٹ کر آ گیا، میں نے اس سے پوچھا کہ تم کیا خبر لے کر آئے ہو؟ اس نے کہا: خدا کی قسم ! میں نے دیکھا کہ وہ نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں: میں نے اس سے کہا: مجھے تیری دی ہوئی خبر سے صحیح طور تشفی نہیں ہوئی ، میں نے اپنی تلوار اور عصا اٹھایا اور مکہ مکرمہ کی جانب روانہ ہو گیا، (جب میں مکہ مکرمہ پہنچا تو پریشانی یہ تھی کہ ) میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کو پہچانتا بھی نہ تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں کسی سے پوچھنا بھی نہیں چاہتا میں آب زم زم پی کر مسجد میں بیٹھ گیا ، (حضرت ابوذر صلی اللہ علیہ و سلم ) فرماتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ کا گزر میرے پاس سے ہوا انہوں نے کہا: لگتا ہے تم مسافر ہو؟ . میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: میرے ساتھ گھر چلو میں ان کے ساتھ ان کے گھر چلا گیا ، نہ انہوں نے مجھ سے کچھ پوچھا اور نہ ہی میں نے بتایا ۔ جب صبح ہوئی تو میں پھر مسجد میں آگیا لیکن اس دن بھی نہ میں نے کسی سے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں پوچھا اور نہ ہی کسی نے مجھے اس بارے میں بتایا۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے آپ نے فرمایا: کیا تمہیں ابھی تک اپنی منزل نہیں ملی؟ میں نے کہا نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم میرے ساتھ میرے گھر چلو۔ آج حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پوچھ لیا کہ کس مقصد کی خاطر اس شہر میں آئے ہو؟ میں نے کہا: اگر آپ میری بات صیغہ راز میں رکھیں تو میں آپ کو بتاتا ہوں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ میں نے ان کو بتایا کہ مجھے پتا چلا ہے کہ اس شہر میں کوئی شخص ہے جونبوت کا دعوی کرتا ہے۔ میں نے اپنے بھائی کو اس معاملے کی خبر لینے بھیجا تھا، وہ آ کر واپس گیا لیکن مجھے اس کی بات سے تسلی نہیں ہوئی چنانچہ میں نے سوچا کہ مجھے خود جا کر ان سے ملاقات کرنی چاہئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم بالکل ٹھیک جگہ پر پہنچے ہو، میں چلتا ہوں اور تم میرے پیچھے پیچھے چلے آ ؤ ، اور جس مکان میں میں داخل ہوں تم بھی اس میں داخل ہو جانا ، اگر راستے میں مجھے تمہارے بارے میں کسی سے کوئی خطرہ محسوس ہوا تو میں دیوار کے ساتھ کھڑا ہو کر اپنے جوتے کا تسمہ ٹھیک کرنے لگ جاؤں گا اور تم آگے گزر جانا ۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت علی رضی اللہ عنہ آگے آگے چلتے رہے اور میں ان کے پیچھے پیچھے چلتا رہا حتی کہ آپ ایک مکان میں داخل ہو گئے اور میں بھی ان کے پیچھے اس مکان میں رسول اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم مجھ پر اسلام پیش فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھ پر اسلام پیش فرمایا، میں نے وہیں پر ہی اسلام قبول کرلیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے ہدایت فرمائی کہ اے ابوزر رضی اللہ عنہ ابھی اپنے اسلام کو چھپائے رکھنا اور اپنے شہر کو واپس چلے جاؤ، جب تمہیں میرے غلبے کی اطلاع ملے تو چلے آنا۔ میں نے کہا: اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کوحق کے ساتھ بھیجا ہے میں تو ان مشرکوں کے درمیان چیخ چیخ کر بتاؤں گا۔ پھر مسجد میں آ گئے، اس وقت مسجد میں قریش . بھی موجود تھے، انہوں نے کہا: اے گروہ قریش "میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندے اور رسول ہیں ۔ انہوں نے کہا: اس دین بدلنے والے کی جانب اٹھو، پھر وہ لوگ اٹھ کر آئے اور مجھے قتل کرنے کے لئے مارنا شروع کردیا ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ آ کر میرے اوپر جھک گئے پھر ان لوگوں کی جانب متوجہ ہوکر فرمایا تمہارے لئے ہلاکت ہو تم بنی غفار کے آدمی کو مار رہے ہو، حالانکہ تمہاری تمام تر تجارت انہی کے ساتھ ہے اور تمہارے تجارتی قافلوں کا گھر بھی انہی کے قبیلہ سے ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو چھوڑ دو۔ جب اگلا دن ہوا تو میں نے پھر اسی طرح مسجد میں آ کر چیخ چیخ کر کلمہ پڑھنا شروع کر دیا۔ انہوں نے پھر مجھے مارا پیٹا، پھر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے آ کر مجھے ان سے بچایا اور پچھلے دن کی طرح ان سے کہا۔ یہ تھا واقعہ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے اسلام کے پہلے دن کا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہ نے اس کونقل نہیں کیا۔ اور حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے قبول اسلام کے بارے میں شامیوں کی مفسر حدیث درج ذیل ہے۔

أَبُو ذَرٍّ: كُنْتُ رَجُلًا مِنْ غِفَارٍ فَبَلَغَنَا ← قُلْنَا: بَلَى، ← لَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ: أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِإِسْلَامِ أبِي ذَرٍّ؟ ← أَبُو جَمْرَةَ، ← الْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ الْقَصِيرُ، ← أَبُو عَاصِمٍ، وَسَعْدُ بْنُ عَامِرٍ، ← محمد بن سنان القزاز ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the virtues of Abu Dhar al-Ghafari, may God be pleased with him · Hadith 5456

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5457

5457 - أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، بِدِمَشْقَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَائِذٍ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثَنَا أَبُو طَرَفَةَ عَبَّادُ بْنُ الرَّيَّانِ اللَّخْمِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيَّ الْأَشْعَرِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ لُدَيْنٍ الْأَشْعَرِيِّ، وَكَانَ مَعَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا لَيْلَى الْأَشْعَرِيَّ يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو ذَرٍّ قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مَا دَعَانِي إِلَى الْإِسْلَامَ إِنَّا كُنَّا قَوْمًا غُرَبَاءَ فَأَصَابَتْنَا السَّنَةُ فَأَحْمَلْتُ أُمِّي وَأَخِي، وَكَانَ اسْمُهُ أُنَيْسًا إِلَى أَصْهَارٍ لَنَا بِأَعْلَى نَجْدٍ، فَلَمَّا حَلَلْنَا بِهِمْ أَكْرَمُونَا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ رَجُلٌ مِنَ الْحَيِّ مَشَى إِلَى خَالِي، فَقَالَ: تَعْلَمُ أَنَّ أُنَيْسًا يُخَالِفُكَ إِلَى أَهْلِكَ، قَالَ: فَخَفِقَ فِي قَلْبِهِ، فَانْصَرَفْتُ فِي رَعِيَّةِ إِبِلِي، فَوَجَدْتُهُ كَئِيبًا حَزِينًا يَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا أَبْكَاكَ يَا خَالُ؟ فَأَعْلَمَنِي الْخَبَرَ، فَقُلْتُ: حَجَزَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ إِنَّا نَخَافُ الْفَاحِشَةَ، وَإِنْ كَانَ الزَّمَانُ قَدْ أَخَلَّ بِنَا، وَلَقَدْ كَدَّرْتَ عَلَيْنَا صَفْوَ مَا ابْتَدَأْتَنَا بِهِ، وَلَا سَبِيلَ إِلَى اجْتِمَاعٍ، فَاحْتَمَلْتُ أُمِّي وَأَخِي حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ، فَقَالَ أَخِي: إِنِّي رَجُلٌ مُدَافِعٌ عَلَى الْمَاءِ بِشِعْرٍ، وَكَانَ رَجُلًا شَاعِرًا، فَقُلْتُ: لَا تَفْعَلْ، فَخَرَجَ بِهِ اللَّجَاجُ حَتَّى دَافَعَ جُرَيْجَ بْنَ الصِّمَّةِ إِلَى صِرْمَتِهِ، وَايْمُ اللَّهِ لَجُرَيْجٌ يَوْمَئِذٍ أَشْعَرُ مِنْ أَخِي، فَتَقَاضَيَا إِلَى خِبَاءَ فَفَضَّلَتْ أَخِي عَلَى جُرَيْجٍ، وَذَلِكَ أَنَّ جُرَيْجًا خَطَبَهَا إِلَى أَبِيهَا، فَقَالَتْ: شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ، فَحَقَدَتْ عَلَيْهِ، فَضَمَمْنَا صِرْمَتَهُ إِلَى صِرْمَتِنَا، فَكَانَتْ لَنَا هَجْمَةٌ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ مَكَّةَ فَابْتَدَأْتُ بِالصَّفَا، فَإِذَا عَلَيْهَا رِجَالَاتُ قُرَيْشٍ وَلَقَدْ بَلَغَنِي أَنَّ بِهَا صَابِئًا، أَوْ مَجْنُونًا، أَوْ شَاعِرًا، أَوْ سَاحِرًا فَقُلْتُ: أَيْنَ هَذَا الَّذِي تَزْعُمُونَهُ؟ فَقَالُوا: هَا هُوَ ذَاكَ حَيْثُ تَرَى، فَانْقَلَبْتُ إِلَيْهِ، فَوَاللَّهِ مَا جُزْتُ عَنْهُمْ قِيدَ حَجَرٍ حَتَّى أَكَبُّوا عَلَيَّ كُلَّ عَظْمٍ وَحَجَرٍ وَمَدَرٍ فَضَرَّجُونِي بِدَمِي، وَأَتَيْتُ الْبَيْتَ فَدَخَلْتُ بَيْنَ السُّتُورِ وَالْبِنَاءِ وَصُمْتُ فِيهِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا، لَا آكُلُ وَلَا أَشْرَبُ إِلَّا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ حَتَّى كَانَتْ لَيْلَةٌ قَمْرَاءُ إِضْحِيَانٌ، أَقْبَلَتِ امْرَأَتَانِ مِنْ خُزَاعَةَ طَافَتَا بِالْبَيْتِ ثُمَّ ذَكَرَتَا إِسَافًا وَنَائِلَةَ، وَهُمَا وَثَنَانِ كَانُوا يَعْبُدُونَهُمَا، فَأَخْرَجْتُ رَأْسِي مِنْ تَحْتِ السُّتُورِ، فَقُلْتُ: احْمِلَا أَحَدَهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ، فَغَضِبَتَا ثُمَّ قَالَتَا: أَمَا وَاللَّهِ لَوْ كَانَتْ رِجَالُنَا حُضُورًا مَا تَكَلَّمْتَ بِهَذَا، ثُمَّ وَلَّتَا، فَخَرَجْتُ أَقْفُو آثَارَهُمَا حَتَّى لَقِيَتَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «مَا أَنْتُمَا، وَمِنْ أَيْنَ أَنْتُمَا؟ وَمِنْ أَيْنَ جِئْتُمَا؟ وَمَا جَاءَ بِكُمَا؟» فَأَخْبَرَتَاهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: «أَيْنَ تَرَكْتُمَا الصَّابِئَ؟» فَقَالَتَا: تَرَكْنَاهُ بَيْنَ السُّتُورِ وَالْبِنَاءِ، فَقَالَ لَهُمَا: «هَلْ قَالَ لَكُمَا شَيْئًا؟» قَالَتَا: نَعَمْ، وَأَقْبَلْتُ حَتَّى جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ عِنْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: «مَنْ أَنْتَ؟ وَمِمَّنْ أَنْتَ؟ وَمِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟ وَمِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ وَمَا جَاءَ بِكَ؟» فَأَنْشَأْتُ أُعْلِمُهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ: «مِنْ أَيْنَ كُنْتَ تَأْكُلُ وَتُشْرَبُ؟» فَقُلْتُ: مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ لَطَعَامُ طُعْمٍ» وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ائْذَنْ لِي أَنْ أُعَشِّيَهُ، قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي، وَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِي حَتَّى وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَابِ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ بَيْتَهُ، ثُمَّ أَتَى بِزَبِيبٍ مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ، فَجَعَلَ يُلْقِيهِ لَنَا، قَبْضًا قَبْضًا، وَنَحْنُ نَأْكُلُ مِنْهُ حَتَّى تَمْلَأَنَا مِنْهُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ» فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ، فَقَالَ لِي: «إِنَّهُ قَدْ رُفِعَتْ لِي أَرْضٌ، وَهِيَ ذَاتُ مَالٍ، وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا تِهَامَةَ، فَاخْرُجْ إِلَى قَوْمِكَ فَادْعُهُمْ إِلَى مَا دَخَلْتَ فِيهِ» ، قَالَ: فَخَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ أُمِّي وَأَخِي فَأَعْلَمْتُهُمُ الْخَبَرَ، فَقَالَا: مَا لَنَا رَغْبَةٌ عَنِ الدِّينِ الَّذِي دَخَلْتَ فِيهِ فَأَسْلَمَا، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى أَتَيْنَا الْمَدِينَةَ فَأَعْلَمْتُ قَوْمِي فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ صَدَقْنَاكَ، وَلَعَلَّنَا نَلْقَى مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقِينَاهُ، فَقَالَتْ لَهُ غِفَارٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبَا ذَرٍّ أَعْلَمَنَا مَا أَعْلَمْتَهُ، وَقَدْ أَسْلَمْنَا وَشَهِدْنَا أَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تَقَدَّمَتْ أَسْلَمُ، وَخُزَاعَةُ، فَقَالَتَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا قَدْ أَسْلَمْنَا، وَدَخَلْنَا فِيمَا دَخَلَ فِيهِ إِخْوَانُنَا وَحُلَفَاؤُنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا» ثُمَّ أَخَذَ أَبُو بَكْرٍ بِيَدِي، فَقَالَ: يَا أَبَا ذَرٍّ، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، فَقَالَ: هَلْ كُنْتَ تَأْلَهُ فِي جَاهِلِيَّتِكَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَقُومُ عِنْدَ الشَّمْسِ، فَلَا أَزَالُ مُصَلِّيًا حَتَّى يُؤْذِيَنِي حَرُّهَا فَأَخَرُّ كَأَنِّي خِفَاءٌ، فَقَالَ لِي: فَأَيْنَ كُنْتَ تَوَجَّهُ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي إِلَّا حَيْثُ وَجَّهَنِي اللَّهُ حَتَّى أَدْخَلَ اللَّهُ عَلَيَّ الْإِسْلَامَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5457 - إسناده صالح

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فر ماتے ہیں :شروع شروع میں میرے اسلام کی طرف مائل ہونے کی وجہ یہ تھی کہ ہم مسافر لوگ تھے ہمارے علاقے میں قحط پڑ گیا میں اپنی والدہ اور اپنے بھائی انیس کو ساتھ لے کر نجد کے بالائی علاقے میں اپنے سسرال چلا گیا، جب ہم ان کے پاس پہنچے تو انہوں ہماری بہت عزت کے اس محلے کے ایک آدمی نے مجھے دیکھا تو وہ میرے ماموں کے پاس گیا اور ان سے کہنے لگا: کیا تم جانتے ہو کہ انیس تمہارا مخالف ہے؟ (حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں: ان کے دل میں میرے بارے میں رنجش سی پیدا ہوگئی ، میں اونٹوں کے ریوڑ میں چلا گیا، میں نے ان کو شکستہ دل پریشان حال بیٹھے دیکھا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ اے ماموں آپ کیوں پریشان بیٹھے ہیں؟ انہوں نے سارا ماجرا کہہ سنایا۔ اللہ تعالی بچائے ، ہم گناہ سے ڈرتے ہیں ۔ زمانے نے ہمیں محتاج کر دیا ہے اور ابتداء میں آپ نے جس انداز میں ہمارا خیال کیا ہے اب اس تعلق میں دراڑ پڑ چکی ہے اس بناء پر لگتا ہے کہ اب اپنا اکٹھے رہناممکن نہیں ہے، میں نے اپنی والدہ اور بھائی کو ساتھ لیا اور مکہ کے قریب آکر ڈیرہ لگالیا۔ میرا بھائی شاعر تھا اس نے کہا: میں اپنے اشعار کی بدولت پانی پر قبضہ کر سکتا ہوں ، میں نے اس کو اس کام سے منع کیا لیکن وہ ضد کر کے چلا گیا اور جریج بن صمہ کے ساتھ اس کے اونٹوں کے گلہ میں جا کر مقابلہ شروع کر دیا۔ خدا کی قسم ! جریج میرے بھائی سے بڑا شاعر تھا۔ یہ دونوں خنساء کے پاس آ گئے اور اشعار کا مقابلہ کیا ، (خنساء ان میں منصف تھی ) اس نے میرے بھائی کو فاتح قرار دیا اور یہ اس لئے کیا کہ جریج نے اس کے باپ سے اس کا رشتہ مانگا تھالیکن اس نے آگے سے کہا: وہ بہت بوڑھا ہے مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے، اس وجہ سے اس کے دل میں کینہ پیدا ہوگیا تھا ، یہ شرط جیت کر ہم نے اس کا گلہ اپنے گلہ کے ساتھ ملا لیا، اس طرح ہمارے اونٹ سو سے بھی زیادہ ہو گئے ۔ آپ فرماتے ہیں: پھر میں مکہ میں آ گیا، سب سے پہلے میں صفا مروہ کی سعی کرنے لگا وہاں میں نے قریش کے بہت سارے قافلے دیکھے، مجھے کسی نے بتایا کہ وہاں پر ایک صابی (اپنے دین سے برگشتہ ) شخص ہے، يامجنون یا شاعر یا جادوگر موجود ہے۔ میں نے کہا: جس شخص کے بارے میں تم یہ گمان رکھتے ہو ، وہ کہاں ہے؟ لوگوں نے کہا: جس شخص کو تم دیکھ رہے ہو، یہی وہ ہے۔ میں پلٹ کر ان کے پاس گیا۔ خدا کی قسم! میں وہاں سے ایک پتھر کی مقدار بھی آگے نہیں بڑھا تھا کہ انہوں نے مجھ پر ہڈیوں، پتھروں اور گندگی کی بوچھاڑ کر دی۔ اور مجھے سر بسر خون سے نہلا دیا، میں بیت الله میں آیا اور کعبہ کے پردوں میں چھپ گیا، میں تین دن وہاں آب زم زم کے علاوہ بغیر کچھ کھائے، پیئے روزے کی حالت میں رہا۔ ایک روشن رات میں جب چاند خوب چمک رہا تھا بنی خزاعہ کی دو عورتیں بیت اللہ شریف کا طواف کرنے آئیں ، انہوں نے اساف اور نائلہ دو بتوں کا ذکر کیا یہ لوگ ان کی عبادت کیا کرتے تھے۔ میں نے پردوں سے اپنا سر باہر نکالا اور کہا تم میں سے ایک ، دوسری پر چڑھ جاؤ، یہ بات سن کر وہ شدید غضبناک ہوگئیں اور کہنے لگیں: اللہ کی قسم ! اگر آج ہمارے ساتھ ہمارے مرد ہوتے تو تم یہ بات نہ کہہ سکتے ، پھر وہ چلی گئیں۔ میں ان کے پیچھے پیچھے چل دیا، وہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں گئیں ۔ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ کس قبیلے سے تعلق رکھتی ہو؟ کہاں سے آئی ہو؟ اور تمہیں کیا کام ہے؟ انہوں نے سارا قصہ کہہ سنایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا: تم نے اس صابی کو کہاں چھوڑ ا ہے؟ انہوں نے کہا: کعبہ کی عمارت اور پردوں کے درمیان ۔ آپ نے ان سے پوچھا: کیا اس نے تم سے بھی کچھ کہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں پیش ہوگیا اور آپ کو سلام عرض کیا۔ آپ نے پوچھا تم کون ہو؟ کس قبیلے سے تعلق ہے؟ کہاں سے آئے ہو؟ اور کس لئے آئے ہو؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو ساراماجرا کہہ سنایا۔ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا: اتنے دن تم کہاں سے کھاتے پیتے رہے؟ میں نے کہا: یا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم میں صرف آب زم زم پر گزارا کرتارہا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ہاں، آب زم زم کھایا جانے والا طعام ہے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مجھے اجازت دیجیے میں ان کے لئے کھانے کا انتظام کرتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو اجازت دے دی ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم وہاں سے پیدل چل نکلے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ تھام لیا اور چلتے چلتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دروازے پر جا کر رکے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ گھر گئے اور طائف کادر آمد شدہ منقع لے کر آئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ایک ایک مٹھی بھر کر ہمیں دیتے رہے اور ہم کھاتے رہے حتی کہ ہمارا پیٹ بھر گیا۔ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے آواز دی، میں نے لبیک کہا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: بے شک ز مین میرے لئے بلند کی گئی ہے یہ مال ودولت سے بھری ہوئی ہے، میرا خیال ہے کہ یہ سرزمین مکہ ہے، اس لئے تم اپنے گھر والوں کے پاس چلے جاؤ اور جو دین تونے اختیار کیا ہے ان کو بھی اس کی دعوت دو، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں وہاں سے نکلا اور اپنی والدہ اور بھائی کے پاس آیا اور ان کو ساری کہانی سنائی ، انہوں نے کہا: تم جس دین میں داخل ہوئے ہو ہمیں اس دین سے کوئی نفرت نہیں ہے۔ چنانچہ ان دونوں نے بھی اسلام قبول کرلیا، پھر ہم لوگ وہاں سے نکلے اور مدینہ منورہ میں آ گئے، یہاں آ کر ہم نے اپنی قوم کو ساری بات بتائی، انہوں نے کہا: ہم تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ سعادت میں بھی نصیب ہوجائے اور ہم بھی بارگاہ مصطفی میں حاضر ہو جائیں ۔ پھر جب رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم ہجرت کر کے مدینہ شریف تشریف لائے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے قبیلہ غفار نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے کہا یا رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم ابوذر رضی اللہ عنہ نے ہمیں وہ سب کچھ بتا دیا تھا جو آپ نے بتایا ہے، اور ہم سب مسلمان ہو چکے ہیں اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ پھر قبیلہ اسلم اور خزاعہ کے لوگ بھی حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ہم بھی مسلمان ہیں اور اسی دین میں داخل ہیں جس میں ہمارے دوسرے بھائی اور ہمارے حلیف داخل ہوئے ہیں ۔ رسول الله صلی اللہ علیہ و سلم نے قبیلہ اسلم کے بارے میں کہا: اسلم کو الله تعالی سلامت رکھے ، اور غفار کے بارے میں فرمایا: غفار کی اللہ تعالی مغفرت فرمائے ۔ پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آواز دی تو میں نے لبیک کہا۔ آپ نے کہا: کیا تم جاہلیت کے دور میں بھی عبادت کیا کرتے تھے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ میں سورج کے سامنے کھڑا ہو کر عبادت شروع کر دیتا تھا اور میں اس وقت تک عبادت میں مصروف رہتا تھا جب تک دھوپ کی شدت کی وجہ سے میرے پاؤں جلنے نہ لگ جاتے۔ پھر میں سجدے میں گر جاتا ۔ انہوں نے مجھ سے کہا: تم اسلام کی جانب کسی طرح مائل ہوئے؟ میں نے کہا: یہ مجھے نہیں پتا بس جدھر اللہ تعالی نے مجھے متوجہ کیا میں ادھر ہی ہو گیا تھا کہ اللہ تعالی نے مجھے نعمت اسلام سے نواز دیا۔

أَبُو ذَرٍّ ← أَبَا لَيْلَى الْأَشْعَرِيَّ ← كَانَ مَعَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، ← عَامِرِ بْنِ لُدَيْنٍ الْأَشْعَرِيِّ ← عُرْوَةَ بْنَ رُوَيْمٍ اللَّخْمِيَّ الْأَشْعَرِيَّ ← أَبُو طَرْفَةَ عَبَّادُ بْنُ الرَّيَّانِ اللَّخْمِيُّ ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← محمد بن عائذ الدمشقي ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، ← أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the virtues of Abu Dhar al-Ghafari, may God be pleased with him · Hadith 5457

chevron_left Previous
1…434445…647
Next chevron_right