اسامہ بن شریک کہتے ہیں، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کے صحابہ آپ ﷺ کے پاس یوں بیٹھے ہوئے تھے گویا کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں ، میں ان کو سلام کہہ کر بیٹھ گیا ، پھر کچھ دیہاتی لوگ آپ ﷺ سے چند باتیں معلوم کرنے کے لئے آئے وہ کہنے لگے : کیا ہم ( بیماری کی ) دوا لے سکتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں دوا لیا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کا علاج رکھا ہے۔ پھر انہوں نے مزید کچھ سوالات کئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :ہاں ، دوا لیا کرو ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کا علاج رکھا ہے ۔ پھر انہوں نے مزید کچھ سوالات کئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ کے بندو ! حرج ختم کردیا گیا ہے ( یہ حرج) نہیں ہے بلکہ حرج تو یہ ہے کہ کوئی آدمی دوسرے سے ظلم کے ساتھ قرضہ لے۔ یہ حرج اور ہلاکت ہے۔پھر انہوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو جو کچھ عطا کیا گیا ہے اس میں سے سب سے بہتر کون سی چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھے اخلاق۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، امام مسلم کے نزدیک تو اس حدیث میں کمزوری یہ ہے کہ اسامہ بن شریک سے صرف زیاد ہی نے روایات نقل کرنے کے متعلق اپنا قانون بیان کردیا ہے اگرچہ ان سے روایت کرنے والا صرف ایک ہی شخص ہو ( امام حاکم رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں ) اس حدیث کے اور بھی طریق ہم جانتے ہیں ، ان طریق کے ساتھ یہ حدیث ہم ان شاءاللہ " کتاب الطب " میں ذکر کریں گے۔
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : چار مواقع پر غسل کرنا چاہیے ( 1) جنابت کا غسل (2) جمعہ کے دن کا غسل (3) غسل میت کے بعد غسل (4) پچھنے لگوانے کے بعد غسل ۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کھجوریں تناول فرما رہے تھے ، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ کھجوریں کھانے لگ گیا، اس وقت میں آشوب چشم کی بیماری میں مبتلا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے فرمایا: تمہیں آشوب چشم ہے اور تم کھجوریں کھا رہے ہو؟ میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں اس جانب سے کھا رہا ہوں جو جانب درست ہے، یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مسکرا دئیے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of Suhaib Ibn Sinan, the Guardian of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 5703
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتےہیں کہ رسول اللہﷺنےجنگ بدر کےدن فرمایا:اس جنت کی طرف بڑھو،جس کی چوڑائی زمین وآسمان کےبرابر ہے۔حضرت عمیر بن حمام رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی:یارسول اللہﷺ(کیا واقعی)اس کی چوڑائی زمیں اور آسمان کے برابر ہے،یہ کہہ کر اپنی سواری کو بٹھاکر(اس سے نیچے اترےاور)عرض کی:یارسول اللہﷺ میں تو لازمی جنتی ہونگا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the matchmaker of Umar ibn al-Hamam ibn al-Jamuh, may God be pleased with him · Hadith 5798
حضرت عبدالرحمٰن بن از ہر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا کسی در د میں مبتلاشخص یا بخاروالے آدمی کی مثال لو ہے کی سی ہے ،جس کو آگ کی بھٹی میں ڈال دیا گیا ہواور وہ اس کے زنگ اور میل کچیل کو دور کر کے اس کو پاک صاف کردے۔حضرت عبداللہ بن عدی بن حمرآ ثقفی رضی اللہ عنہ کا تذ کرہ
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، ← أَبُو الْحُسَيْنِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَلْخِيُّ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the performer of Abd al-Rahman bin Azhar, may God be pleased with him · Hadith 5824
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7848
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ کے اوپر اوڑھی ہوئی مخملی چادر کے اوپر رکھا ، مجھے اس کے اوپر سے حرارت محسوس ہوئی ، میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو تو بہت سخت بخار ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم انبیاء پر اس طرح کی تکالیف دوگنی آتی ہیں ، اور ان پر ہمیں اجر بھی دگنا ملتا ہے، میں نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس شخص پر سب سے زیادہ آزمائش آتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبیوں پر ۔ میں نے پوچھا: ان کے بعد ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : صالحین پر ۔ کسی آدمی کو فقر میں اس طرح آزمایا جاتا ہے کہ اس کے پاس صرف ایک ہی چاردر ہوتی ہے، وہ اسی کو لپیٹ کر لباس کے طور پر پہنتا ہے ، کسی کو جوؤں کے ساتھ آزمایا گیا، حتیٰ کہ جوؤں نے اس کو مار ڈالا۔ اور ان لوگوں کو نعمتوں سے زیادہ یہ آزمائشیں اچھی لگتی تھیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں چنا جائے گا جیسے کھجوروں کو ٹوکری سے کھجوروں کو چنا جاتا ہے، اچھے لوگوں کو اٹھا لیا جائے گا اور شریر لوگ بچ جائیں گے۔ اس لئے ہو سکے تو مر جانا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس کی سند میں ابو جمیل " طائی" ہیں ۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک نشئی کو لایا گیا، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں شراب نہیں پی بلکہ میں دباء (شراب پینے کے لئے استعمال ہونے والا برتن) میں زبیب اور کھجور کا جوس پیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا، اس کو ہاتھو ں کے ساتھ مارا گیا ،اس پر جوتے برسائے گئے، پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زبیب اور کھجور کےجو س سے بھی منع کر دیا اور دباء نامی برتن کے استعمال پر بھی پابندی لگا دی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔
حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک صاع کھجور صدقہ فطر ( کے طور پر دینے ) کا حکم دیاایک آدمی ردی قسم کی کھجوریں لے آیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کھجوروں کا اندازہ مت لگانا ، تب قرآن پاک کی یہ آیت نازل ہوئی :"اے ایمان والو اپنی پاک کمائیوں میں سے کچھ اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا اور " خاص ناقص کا ارادہ مت کرو کہ دو تو اس میں سے "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔
حضرت سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک آدمی یہ " سحل " لے آیا ، حضرت سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : "سحل " ردی قسم کی کھجور کو کہتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : یہ کون لایا ہے ؟ ( اور طریقہ یہی تھا کہ ) جو شخص بھی کچھ لاتا ، اس کی لائی ہوئی چیز کو اس لانے والے کی طرف منسوب کیا جاتا تھا ۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی : ﴿ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ ﴾ [البقرة: 267]" خاص ناقص کا ارادہ مت کرو کہ دو تو اس میں سے اور تمہیں ملے نہ تو لو گے جب تک اس میں چشم پوشی نہ کرو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اور رسول اللہ ﷺ نے "جعرور" اور "صبیق " دو رنگوں کی کھجوریں صدقہ میں وصول کرنے سے منع فرمایا ۔ زہری کہتے ہیں یہ دونوں مدینہ کی کھجوروں کی خاص( گھٹیا ) قسم کے رنگ ہیں ۔ یہ حدیث زہری سے روایت کرنے میں سلیمان بن کثیر نے سفیان بن حسین کی متابعت کی ہے ۔
حضرت سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رنگوں کی کجھوروں " جعر ور "اور" صبیق "سے منع فرمایا ہے ( جبکہ لوگوں کی عادت تھی کہ ) وہ گھٹیا اور ردی قسم کے پھل صدقہ میں بھیج دیا کرتے تھے ، تو ان کو ان دونوں قسم کی کجھوروں سے منع کیا اور یہ آیت نازل ہوئی :﴿ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ [البقرة: 267]" خاص ناقص کا ارادہ مت کرو کہ دو تو اس میں سے "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔
حضرت ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ کے غلام ابو سعد کا بیان ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع پہنچی کہ اہل مصر کا ایک وفد ان کے پاس آ رہا ہے تو آپ ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور جب ان لوگوں کو پتہ چلا ( کہ ہمارے آنے کی اطلاع حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئی ہے) تو وہ بھی ان کی جانب متوجہ ہو گئے جبکہ عثمان رضی اللہ عنہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ لوگ مدینہ منورہ میں آکر ان سے ملیں لیکن بہر حال وہ لوگ آئے اور آپ سے کہنے لگے: قرآن پاک منگوائیے اور " سابعہ" کھولئے، وہ لوگ سورہ یونس کہ "سابعہ" کہا کرتے تھے۔ آپ نے اس کو پڑھنا شروع کیا ۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے: "﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ٥٩﴾ (یونس:59)" تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو اللہ نے تمہارے لئے رزق اتارا، اس میں تم نے اپنی طرف سے حرام و حلال ٹھہرا لیا، تم فرماؤ کیا اللہ نے اس کی تمہیں اجازت دی یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تو وہ لوگ بولے: رک جائیے! کیا خیا ل ہے؟ آپ نے جو چراگاہ بنائی ہے کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی اجازت دی ہے تم نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے؟ آپ نے جواباً کہا: اس کو چھوڑ دو کیونکہ یہ آیت تو فلاں فلاں معاملہ میں نازل ہوئی ہے اور جہاں تک تعلق ہے چراگاہ کا تو مجھ سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صدقہ کو اونٹوں کے لئے چراگاہ بنائی تھی جب نظام خلافت میرے سپرد کیا گیا اور صدقہ کے اونٹوں کی تعداد بڑھ گئی تو میں نے چراگاہ میں بھی توسیع کر دی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← أَبِي سَعْدٍ، مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبُو نَضْرَةَ، ← أَبِي ← يحيى بن يحيى أنبأ المعتمر بن سليمان التيمي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Jonah's Surah · Hadith 3300
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3385
حضرت ابن مسعو د انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ملیکہ کے دو بیٹے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے دونوں انصاری ہیں۔ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ہماری والدہ اپنے شوہر کی خدمت کرتی ہیں اور مہمان نواز ہے۔ لیکن زمانہ جاہلیت میں انہوں نے ایک بچی کو زندہ درگور کیا تھا تو ہماری والدہ کس حالت میں ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری والدہ جہنم میں ہے ۔ وہ دونوں کھڑے ہوئے اور یہ بات ان دونوں پر بہت شاق گزری۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: میری والدہ بھی تمہاری والدہ کے ساتھ ہے تو ایک منافق نے مجھے کہا: یہ (نبی) اپنی والدہ کے بارے میں اتنا ہی اختیاررکھتا ہے جتنا ملیکہ کے دونوں بیٹے اپنی ماں کے بارے میں۔ یہ بات کرتے ہوئے ہم اس کے پیچھے چل رہے تھے۔ ایک انصاری نوجوان نے کہا: اور میرا خیال ہے اس نوجوان سے زیادہ کوئی شخص رسول اللہ ﷺ سے سوال نہیں کیا کرتا تھا ( اس نے کہا) یا رسول اللہ ﷺ ! میں تو آپ کے والدین کو جہنمی خیال کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے جو کچھ مانگا، اللہ تعالیٰ نے عطا کر دیا اور میں اس دن مقام محمود میں کھڑا ہوں گا۔ اس منافق نے انصاری نوجوان سے کہا: تو ان سے پوچھ کہ مقام محمود کیا ہے؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ " مقام محمود" کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس دن اللہ تعالیٰ اپنی اس کرسی پر ( اپنی شان کے لائق) جلوہ فرما ہو گااور وہ یوں جوش میں آئے گی جیسے کجا وہ تنگ ہونے کی وجہ سے جوش میں آتا ہے حالانکہ یہ اتنی وسیع ہے جتنی وسعت زمین اور آسمان کے درمیان ہے اور تمہیں ننگے پاؤں اور ننگے بدن لایا جائے گا اور سب غیر ختنہ شدہ ہوں گے۔ پھر سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے دوست کو جنت کی دو سفید چادریں پہناؤ پھر ان کے بعد اسی طرح مجھے لباس پہنایا جائے گا ۔ پھر میں اللہ عزوجل کی دائیں جانب ایسی جگہ پر کھڑا ہوں گا جہاں پر تمام اولین و آخرین میرے اوپر رشک کریں گے پھر کوثر سے میرے حوض تک ایک نہر بنائی جائے گی۔ منافق نے کہا: میں نے آج تک ایسی بات نہیں سنی ، بہت کم نہریں جاری ہوتی ہیں اور وہ بھی پکی ہوئی مٹی میں یا کنکریوں میں جاری ہوتی ہیں۔ تو ان سے پوچھ: وہ نہر کس میں رواں ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مشک حالہ اور کنکریوں میں۔ منافق نے کہا: ایسی بات تو میں نےاس سے پہلے آج تک نہیں سنی اور جہاں بھی نہر جاری ہوتی ہے اس میں پودے وغیرہ اگے ہوتے ہیں :اس نے کہا: جی ہاں ۔اس نے پوچھا: اس نہر کے پودے کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: سونے کی ٹہنیاں ہوں گی۔ منافق نے کہا: ایسی بات میں نے پہلے تو کبھی نہیں سنی۔ خدا کی قسم! کوئی بھی پودا اگتا ہے تو اس کے پھل ہوتے ہیں۔ تو ا ن سے پوچھ : ان ٹہنیوں پہ پھل ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہاں موتی اور جواہر اس کے پھل ہوں گے۔ اس نے کہا: ایسی بات میں نے پہلے کبھی نہیں سنی۔ تو ان سے حوض کے پانی کے متعلق پوچھ؟ اس انصاری نوجوان نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ حوض کا پانی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ، اللہ تعالیٰ جس کو اس کا ایک گھونٹ پلا دے گا اس کوپھر کبھی پیاس نہیں لگے گی اور جو اس سے محروم رہا وہ کبھی سیراب نہیں ہو سکتا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔ اور عثمان بن عمیر" ابن یقظان" ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص صحت مند ہو اور کوئی عذر اس کو لاحق نہ ہو، وہ اذان سننے کے باوجود اگر مسجد میں آ کر نماز نہیں پڑھتا تو اللہ تعالیٰ اس کی کسی دوسری جگہ (مسجد کے علاوہ) پڑھی ہوئی نماز قبول نہیں کرتا۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا: عذرکیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مرض یا خوف۔ متابع (3)۔
عبدالرحمنٰ بن ابی عمرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی حویلی میں ایک باغیچہ تھا جس میں کھجور یں جمع ہوتی تھیں ، اس کے بعد سابقہ پوری حدیث بیان کی ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Abu Ayyub al-Ansari, may God be pleased with him · Hadith 5933
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ طائف کے محاصرے کے موقع پر حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو تیرلگا تھا ، اس کے چالیس دن بعداس تیر کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگا اور یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا ہے ۔عبداللہ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئےاورفر مایا: اے میری پیاری بیٹی !خدا کی قسم ، یوں لگتا ہے جیسے کسی بکری کو کان سے پکڑ کر ہمارے گھر سے نکال دیا گیا ہو،ام المومنین نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے آپ کے دل کو مضبوطی عطافرمائی ہے اور آپ کو ہدایت پر ثابت قدم رکھا ہے، یہ کہہ کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ گھر سے باہر چلے گئے ، تھوڑی دیر بعد واپس آئےاورفرمایا: کیا تمہیں یہ خدشہ ہے کہ عبداللہ کو زندہ دفن کر دیا گیا ہے؟ ام المومنین نے کہا:ابا جی ! انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: استعيذ بالله السميع العليم من الشيطن الرجیم ( میں سننے والے اور علم رکھنے والے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں مردود شیطان سے )اے میری پیاری بیٹی ہر شخص کو دوطرح کے خیالات آتے ہیں۔ کچھ خیالات فرشتے کی طرف سے ہوتے ہیں اور کچھ شیطان کی طرف سے ۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ثقیف کا وفد آیا، ابھی تک وہ تیر ہمارے پاس سنبال کر رکھا ہوا تھا، حضرت ابوبکر صد یق رضی اللہ عنہ نے وہ تیر نکالا اورفرمایا: کیاتم میں سے کوئی شخص اس تیرکو پہچانتا ہے؟ بنی عجلان کے بھائی حضرت سعد بن عبید نے کہا: یہ تیرتو میرے ہاتھ کا تیار کیا ہوا ہے، اور یہ پھینکا بھی میں نے ہی تھا۔ تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ وہ تیر ہے جس نے عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ہے ۔شکر ہے اس ذات کا جس نے تمہارے ہاتھ سے اس کو عزت بخشی اوراُس کے ہاتھ سے تمہیں رسوانہیں کیا۔ بے شک اللہ رب العزت بہت برکت والا ہے۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Maqib Abdullah ibn Abi Bakr al-Siddiq, may God be pleased with them · Hadith 6021
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8221
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے بھائی کے پیٹ میں مروڑ ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے اس کو شہد پلایا ہے، اس سے اس کی بیماری بڑھ گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین یا چار مرتبہ شہد پلانے کا ہی کہا، تیسری یا چھوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ کہا اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس کے بعد اس کے بھائی کا پیٹ ٹھیک ہو گیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو چیزیں باعث شفاء ہیں ان کو لازمی استعمال کی کرو، شہد اور قرآن کریم۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
ابو حمزہ فرماتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےپاس سے لوگوں کی بھیڑ ختم کیا کرتا تھا، پھر کئی دن میں آپ کی خدمت میں نہ جاسکا ، جب کئی دنوں کے بعد میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو ، انہوں نے اتنے دن غیر حاضر رہنے کی وجہ پوچھی، میں نے بتایا کہ مجھے بخار تھا، آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بخار جہنم کی گرمی ہوتی ہے ، اس کو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کردیا کرو، یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بخار دوزخ کا ٹکڑا ہے ، اس کو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کردیا کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب بخار ہوتا تو آپ پانی کامشکیزہ منگواتے اور اپنے سر پر بہالیتے اور غسل کرلیتے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس زیادتی کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔