Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطب والصحة

Medicine & Health

12931 hadiths

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْعِلْمِ ‹ باب · حديث 416

416 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَحدثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الزَّيْدِيُّ، ثنا بَكْرُ بْنُ بَكَّارٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، سَمِعَ أُسَامَةَ بْنَ شَرِيكٍ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ كَأَنَّمَا عَلَى رُءُوسِهِمُ الطَّيْرُ فَسَلَّمْتُ وَقَعَدْتُ فَجَاءَ أَعْرَابٌ يَسْأَلُونَهُ عَنْ أَشْيَاءَ حَتَّى قَالُوا: أَنَتَدَاوَى، قَالَ: «تَدَاوَوْا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلَّا وَضَعَ لَهُ دَوَاءً» فَسَأَلُوهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَقَالَ: «عِبَادَ اللَّهِ وُضِعَ الْحَرَجُ، لَا امْرَأً اقْتَرَضَ امْرَأً ظُلْمًا فَذَلِكَ حَرَجٌ وَهَلَكَ» فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ النَّاسُ؟ قَالَ: «خُلُقٌ حَسَنٌ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَالْعِلَّةُ عِنْدَ مُسْلِمٍ فِيهِ أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ شَرِيكٍ مَا رَوَى عَنْهُ غَيْرُ زِيَادٍ وَقَدْ رَوَى عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ عَنْهُ عَلَى أَنِّي قَدْ أَصَّلْتُ كِتَابِي هَذَا عَلَى إِخْرَاجِ الصَّحَابَةِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُمْ غَيْرُ رَاوٍ وَاحِدٍ، وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ سَبِيلُنَا أَنْ نُخَرِّجَهَا بِمَشِيئَةِ اللَّهِ تَعَالَى فِي كِتَابِ الطِّبِّ» .

اسامہ بن شریک کہتے ہیں، میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کے صحابہ آپ ﷺ کے پاس یوں بیٹھے ہوئے تھے گویا کہ ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہوں ، میں ان کو سلام کہہ کر بیٹھ گیا ، پھر کچھ دیہاتی لوگ آپ ﷺ سے چند باتیں معلوم کرنے کے لئے آئے وہ کہنے لگے : کیا ہم ( بیماری کی ) دوا لے سکتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں دوا لیا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کا علاج رکھا ہے۔ پھر انہوں نے مزید کچھ سوالات کئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا :ہاں ، دوا لیا کرو ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کا علاج رکھا ہے ۔ پھر انہوں نے مزید کچھ سوالات کئے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ کے بندو ! حرج ختم کردیا گیا ہے ( یہ حرج) نہیں ہے بلکہ حرج تو یہ ہے کہ کوئی آدمی دوسرے سے ظلم کے ساتھ قرضہ لے۔ یہ حرج اور ہلاکت ہے۔پھر انہوں نے پوچھا : یا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو جو کچھ عطا کیا گیا ہے اس میں سے سب سے بہتر کون سی چیز ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اچھے اخلاق۔ یہ حدیث صحیح ہے لیکن امام بخاری رحمۃاللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃاللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا، امام مسلم کے نزدیک تو اس حدیث میں کمزوری یہ ہے کہ اسامہ بن شریک سے صرف زیاد ہی نے روایات نقل کرنے کے متعلق اپنا قانون بیان کردیا ہے اگرچہ ان سے روایت کرنے والا صرف ایک ہی شخص ہو ( امام حاکم رحمۃاللہ علیہ کہتے ہیں ) اس حدیث کے اور بھی طریق ہم جانتے ہیں ، ان طریق کے ساتھ یہ حدیث ہم ان شاءاللہ " کتاب الطب " میں ذکر کریں گے۔

أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ ← زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبِي ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، ← يَحْيَی بْنُ مُحَمَّدٍ ← أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ← شُعْبَةُ، ← بكر بن بكار ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الزَّيْدِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ ← شُعْبَةُ، ← سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Science Book › Door · Hadith 416

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطَّهَارَةِ ‹ باب · حديث 582

582 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَمُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يُغْتَسَلُ مِنْ أَرْبَعٍ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَيَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَمِنْ غَسْلِ الْمَيِّتِ، وَالْحِجَامَةِ» . «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 582 - رواه أبو نعيم عنها على شرط البخاري ومسلم

ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : چار مواقع پر غسل کرنا چاہیے ( 1) جنابت کا غسل (2) جمعہ کے دن کا غسل (3) غسل میت کے بعد غسل (4) پچھنے لگوانے کے بعد غسل ۔ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ؛ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، ← زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، وَمُصْعَبُ بْنُ شَيْبَةَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّرْسِيُّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Purity › Door · Hadith 582

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ · حديث 5703

5703 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ، مِنْ وَلَدِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ صُهَيْبٍ قَالَ: قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهِجْرَةِ وَهُوَ يَأْكُلُ تَمْرًا، فَأَقْبَلْتُ آكُلُ مِنَ التَّمْرِ وَبِعَيْنِي رَمَدٌ، فَقَالَ: «أَتَأْكُلُ التَّمْرَ وَبِكَ رَمَدٌ؟» فَقُلْتُ: إِنَّمَا آكُلُ عَلَى شِقِّي الصَّحِيحِ لَيْسَ بِهِ رَمَدٌ، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5703 - صحيح

حضرت صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا ، اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کھجوریں تناول فرما رہے تھے ، میں بھی آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے ہمراہ کھجوریں کھانے لگ گیا، اس وقت میں آشوب چشم کی بیماری میں مبتلا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے مجھے فرمایا: تمہیں آشوب چشم ہے اور تم کھجوریں کھا رہے ہو؟ میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں اس جانب سے کھا رہا ہوں جو جانب درست ہے، یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم مسکرا دئیے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

جده صهيب ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ صَيْفِيٍّ، مِنْ وَلَدِ صُهَيْبٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning of Suhaib Ibn Sinan, the Guardian of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 5703

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ عُمَيْرِ بْنِ الْحَمَّامِ بْنِ الْجَمُوحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5798

5798 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثَنَا أَبُو النَّضْرِ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ: «قُومُوا إِلَى جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ» ، قَالَ عُمَيْرُ بْنُ الْحَمَّامِ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَرْضُهَا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، بَخٍ بَخٍ، لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا بُدَّ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَهْلِهَا. قَالَ: «فَإِنَّكَ مِنْ أَهْلِهَا» ، فَأَخْرَجَ تُمَيْرَاتٍ فَجَعَلَ يَأْكُلُ، ثُمَّ قَالَ: لَئِنْ حَيِيتُ حَتَّى آكُلَ تَمَرَاتِي إِنَّهَا لَحَيَاةٌ طَوِيلَةٌ قَالَ: فَرَمَى بِمَا كَانَ مَعَهُ مِنَ التَّمْرِ، ثُمَّ قَاتَلَهُمْ حَتَّى قُتِلَ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5798 - على شرط مسلم

حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتےہیں کہ رسول اللہﷺنےجنگ بدر کےدن فرمایا:اس جنت کی طرف بڑھو،جس کی چوڑائی زمین وآسمان کےبرابر ہے۔حضرت عمیر بن حمام رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی:یارسول اللہﷺ(کیا واقعی)اس کی چوڑائی زمیں اور آسمان کے برابر ہے،یہ کہہ کر اپنی سواری کو بٹھاکر(اس سے نیچے اترےاور)عرض کی:یارسول اللہﷺ میں تو لازمی جنتی ہونگا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← أَبُو النَّضْرِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the matchmaker of Umar ibn al-Hamam ibn al-Jamuh, may God be pleased with him · Hadith 5798

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5824

5824 - أَخْبَرَنِي أَبُو الْحُسَيْنِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَلْخِيُّ بِبَغْدَادَ، ثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثَنَا نَافِعُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّمَا مَثَلُ الْعَبْدِ حِينَ يُصِيبُهُ الْوَعْكُ أَوِ الْحُمَّى كَمَثَلِ حَدِيدَةٍ أُدْخِلَتِ النَّارَ فَيَذْهَبُ خَبَثُهَا وَيَبْقَى طِيبُهَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5824 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت عبدالرحمٰن بن از ہر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا کسی در د میں مبتلاشخص یا بخاروالے آدمی کی مثال لو ہے کی سی ہے ،جس کو آگ کی بھٹی میں ڈال دیا گیا ہواور وہ اس کے زنگ اور میل کچیل کو دور کر کے اس کو پاک صاف کردے۔حضرت عبداللہ بن عدی بن حمرآ ثقفی رضی اللہ عنہ کا تذ کرہ

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← نَافِعُ بْنُ یَزِیدَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل، ← أَبُو الْحُسَيْنِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَلْخِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the performer of Abd al-Rahman bin Azhar, may God be pleased with him · Hadith 5824

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7848

7848 - حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا خَالِدُ بْنُ خِدَاشِ بْنِ عَجْلَانَ الْمُهَلَّبِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مَحْمُومٌ فَوَضَعْتُ يَدِي مِنْ فَوْقِ الْقَطِيفَةِ فَوَجَدْتُ حَرَارَةَ الْحُمَّى فَقُلْتُ: مَا أَشَدَّ حُمَّاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: «إِنَّا كَذَلِكَ مَعْشَرَ الْأَنْبِيَاءِ، يُضَاعَفُ عَلَيْنَا الْوَجَعُ لَيُضَاعَفُ لَنَا الْأَجْرُ» قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ‍‍‍‍، أَيُّ النَّاسِ أَشَدُّ بَلَاءً؟ قَالَ: «الْأَنْبِيَاءُ» قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ: «ثُمَّ الصَّالِحُونَ، إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيُبْتَلَى بِالْفَقْرِ حَتَّى مَا يَجِدُ إِلَّا الْعَبَاءَ فَيَحْوِيهَا وَيَلْبَسُهَا، وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمْ لَيُبْتَلَى بِالْقُمْلِ حَتَّى يَقْتُلَهُ الْقَمْلُ، وَكَانَ ذَلِكَ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ الْعَطَاءِ إِلَيْكُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7848 - على شرط مسلم

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیمار تھے، میں نے اپنا ہاتھ آپ کے اوپر اوڑھی ہوئی مخملی چادر کے اوپر رکھا ، مجھے اس کے اوپر سے حرارت محسوس ہوئی ، میں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو تو بہت سخت بخار ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہم انبیاء پر اس طرح کی تکالیف دوگنی آتی ہیں ، اور ان پر ہمیں اجر بھی دگنا ملتا ہے، میں نے کہا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس شخص پر سب سے زیادہ آزمائش آتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نبیوں پر ۔ میں نے پوچھا: ان کے بعد ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : صالحین پر ۔ کسی آدمی کو فقر میں اس طرح آزمایا جاتا ہے کہ اس کے پاس صرف ایک ہی چاردر ہوتی ہے، وہ اسی کو لپیٹ کر لباس کے طور پر پہنتا ہے ، کسی کو جوؤں کے ساتھ آزمایا گیا، حتیٰ کہ جوؤں نے اس کو مار ڈالا۔ اور ان لوگوں کو نعمتوں سے زیادہ یہ آزمائشیں اچھی لگتی تھیں ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← خالد بن خداش بن عجلان المهلبي، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Slave Book › The merits of all Arabs · Hadith 7848

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الرِّقَاقِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7886

7886 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ قَالَا: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي جَمِيلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَتُنْتَقُنَّ كَمَا تُنْتَقَى التَّمْرُ مِنَ الْجَفْنَةِ فَلَيَذْهَبَنَّ خِيَارُكُمْ وَلَيَبْقَيَنَّ شِرَارُكُمْ فَمُوتُوا إِنِ اسْتَطَعْتُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ. وَأَبُو جَمِيلٍ هُوَ الطَّائِيُّ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7886 - صحيح

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہیں چنا جائے گا جیسے کھجوروں کو ٹوکری سے کھجوروں کو چنا جاتا ہے، اچھے لوگوں کو اٹھا لیا جائے گا اور شریر لوگ بچ جائیں گے۔ اس لئے ہو سکے تو مر جانا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور اس کی سند میں ابو جمیل " طائی" ہیں ۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِي جَمِيلٍ، أَنَّهُ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Slave Book › The merits of all Arabs · Hadith 7886

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْحُدُودِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8129

8129 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَا أَشْرَبُ نَبِيذَ الْجَرِّ بَعْدَ إِذْ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَشْوَانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَرِبْتُ خَمْرًا لَكِنِّي شَرِبْتُ نَبِيذَ زَبَيبِ وَتَمْرٍ فِي دُبَّاءَ، «فَأَمَرَ بِهِ فَنُهِزَ بِالْأَيْدِي وَخُفِقَ بِالنِّعَالِ، وَنَهَى عَنِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَعَنِ الدُّبَّاءِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8129 - صحيح

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک نشئی کو لایا گیا، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں شراب نہیں پی بلکہ میں دباء (شراب پینے کے لئے استعمال ہونے والا برتن) میں زبیب اور کھجور کا جوس پیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا، اس کو ہاتھو ں کے ساتھ مارا گیا ،اس پر جوتے برسائے گئے، پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زبیب اور کھجور کےجو س سے بھی منع کر دیا اور دباء نامی برتن کے استعمال پر بھی پابندی لگا دی۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا۔

لَا أَشْرَبُ نَبِيذَ الْجَرِّ بَعْدَ إِذْ أُتِيَ النَّبِيُّ بِنَشْوَانَ، فَقَالَ: ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْوَدَّاكِ، ← أَبِي التَّيَّاحِ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Boundaries Book › The merits of all Arabs · Hadith 8129

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3122

3122 - حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ حَمْدَوَيْهِ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا قَيْسُ بْنُ أُنَيْفٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: " أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ، بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ بِتَمْرٍ رَدِيءٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَوَاحَةَ: «لَا تَخْرُصْ هَذَا التَّمْرَ» فَنَزَلَ الْقُرْآنُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَمِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ} [البقرة: 267] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3122 - على شرط مسلم

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک صاع کھجور صدقہ فطر ( کے طور پر دینے ) کا حکم دیاایک آدمی ردی قسم کی کھجوریں لے آیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان کھجوروں کا اندازہ مت لگانا ، تب قرآن پاک کی یہ آیت نازل ہوئی :"اے ایمان والو اپنی پاک کمائیوں میں سے کچھ اور اس میں سے جو ہم نے تمہارے لئے زمین سے نکالا اور " خاص ناقص کا ارادہ مت کرو کہ دو تو اس میں سے "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَمَرَ النَّبِيُّ بِزَكَاةِ الْفِطْرِ، بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ بِتَمْرٍ رَدِيءٍ، ← جَابِرٍ ← أَبِيهِ ← جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ← حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ← قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← قيس بن أنيف ← أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ حَمْدَوَيْهِ الْفَقِيهُ، بِبُخَارَى،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3122

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3124

3124 - حَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ الضَّبِّيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَدَقَةٍ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ هَذَا السَّحْلِ - قَالَ سُفْيَانُ: يَعْنِي الشِّيصَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَاءَ بِهَذَا؟» وَكَانَ لَا يَجِيءُ أَحَدٌ بِشَيْءٍ إِلَّا نُسِبَ إِلَى الَّذِي جَاءَ بِهِ، فَنَزَلَتْ: {وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ، تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ، إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ} [البقرة: 267] " وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لَوْنَيْنِ مِنَ التَّمْرِ، أَنْ يُؤْخَذَا فِي الصَّدَقَةِ: الْجُعْرُورِ، وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ " قَالَ الزُّهْرِيُّ: «وَاللَّوْنَيْنِ مِنْ تَمْرِ الْمَدِينَةِ» تَابَعَهُ سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ

حضرت سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کا حکم دیا تو ایک آدمی یہ " سحل " لے آیا ، حضرت سفیان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : "سحل " ردی قسم کی کھجور کو کہتے ہیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا : یہ کون لایا ہے ؟ ( اور طریقہ یہی تھا کہ ) جو شخص بھی کچھ لاتا ، اس کی لائی ہوئی چیز کو اس لانے والے کی طرف منسوب کیا جاتا تھا ۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی : ﴿ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ ﴾ [البقرة: 267]" خاص ناقص کا ارادہ مت کرو کہ دو تو اس میں سے اور تمہیں ملے نہ تو لو گے جب تک اس میں چشم پوشی نہ کرو " ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) اور رسول اللہ ﷺ نے "جعرور" اور "صبیق " دو رنگوں کی کھجوریں صدقہ میں وصول کرنے سے منع فرمایا ۔ زہری کہتے ہیں یہ دونوں مدینہ کی کھجوروں کی خاص( گھٹیا ) قسم کے رنگ ہیں ۔ یہ حدیث زہری سے روایت کرنے میں سلیمان بن کثیر نے سفیان بن حسین کی متابعت کی ہے ۔

أَبِيهِ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ← الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ الضَّبِّيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3124

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ مِنْ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 3125

3125 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الشَّهِيدُ، وَالسَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لَوْنَيْنِ مِنَ التَّمْرِ الْجُعْرُورِ، وَلَوْنِ الْحُبَيْقِ» قَالَ: وَكَانَ نَاسٌ يَتَيَمَّمُونَ شَرَّ ثِمَارِهِمْ، فَيُخْرِجُونَهَا فِي الصَّدَقَةِ، فَنُهُوا عَنْ لَوْنَيْنِ مِنَ التَّمْرِ وَنَزَلَتْ: {وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ} [البقرة: 267] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3125 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت سھل بن حنیف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دو رنگوں کی کجھوروں " جعر ور "اور" صبیق "سے منع فرمایا ہے ( جبکہ لوگوں کی عادت تھی کہ ) وہ گھٹیا اور ردی قسم کے پھل صدقہ میں بھیج دیا کرتے تھے ، تو ان کو ان دونوں قسم کی کجھوروں سے منع کیا اور یہ آیت نازل ہوئی :﴿ وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ﴾ [البقرة: 267]" خاص ناقص کا ارادہ مت کرو کہ دو تو اس میں سے "۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ ) یہ حدیث امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمتہ اللہ علیہمانے اسے نقل نہیں کیا ۔

أَبِيهِ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الشَّهِيدُ، وَالسَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › From Surat Al-Baqarah · Hadith 3125

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ تَفْسِيرُ سُورَةِ يُونُسَ · حديث 3300

3300 - حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أَنْبَأَ الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَبُو نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعْدٍ، مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَمِعَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ وَفْدَ أَهْلِ مِصْرَ قَدْ أَقْبَلُوا، فَاسْتَقْبَلَهُمْ، فَلَمَّا سَمِعُوا بِهِ، أَقْبَلُوا نَحْوَهُ قَالَ: وَكَرِهَ أَنْ يَقْدَمُوا عَلَيْهِ الْمَدِينَةَ، قَالَ: فَأَتَوْهُ فَقَالُوا لَهُ: ادْعُ بِالْمُصْحَفِ، وَافْتَتَحِ السَّابِعَةَ، وَكَانُوا يُسَمُّونَ سُورَةَ يُونُسَ السَّابِعَةَ، فَقَرَأَهَا حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ " {قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ} [يونس: 59] فَقَالُوا لَهُ: قِفْ، أَرَأَيْتَ مَا حَمَيْتَ مِنَ الْحِمَى آللَّهُ أَذِنَ لَكَ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرِي؟ قَالَ: فَقَالَ: امْضِهْ، نَزَلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا فَأَمَّا الْحِمَى فَإِنَّ عُمَرَ حَمَى الْحِمَى قَبْلِي لِإِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا وُلِّيتُ، وَزَادَتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ، فَزِدْتُ فِي الْحِمَى، لَمَا زَادَ فِي الصَّدَقَةِ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3300 - على شرط مسلم

حضرت ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ کے غلام ابو سعد کا بیان ہے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع پہنچی کہ اہل مصر کا ایک وفد ان کے پاس آ رہا ہے تو آپ ان کی طرف متوجہ ہو گئے اور جب ان لوگوں کو پتہ چلا ( کہ ہمارے آنے کی اطلاع حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تک پہنچ گئی ہے) تو وہ بھی ان کی جانب متوجہ ہو گئے جبکہ عثمان رضی اللہ عنہ یہ نہیں چاہتے تھے کہ وہ لوگ مدینہ منورہ میں آکر ان سے ملیں لیکن بہر حال وہ لوگ آئے اور آپ سے کہنے لگے: قرآن پاک منگوائیے اور " سابعہ" کھولئے، وہ لوگ سورہ یونس کہ "سابعہ" کہا کرتے تھے۔ آپ نے اس کو پڑھنا شروع کیا ۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے: "﴿قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ٥٩﴾ (یونس:59)" تم فرماؤ بھلا بتاؤ تو وہ جو اللہ نے تمہارے لئے رزق اتارا، اس میں تم نے اپنی طرف سے حرام و حلال ٹھہرا لیا، تم فرماؤ کیا اللہ نے اس کی تمہیں اجازت دی یا اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو"۔ (ترجمہ کنز الایمان، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ) تو وہ لوگ بولے: رک جائیے! کیا خیا ل ہے؟ آپ نے جو چراگاہ بنائی ہے کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کی اجازت دی ہے تم نے اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھا ہے؟ آپ نے جواباً کہا: اس کو چھوڑ دو کیونکہ یہ آیت تو فلاں فلاں معاملہ میں نازل ہوئی ہے اور جہاں تک تعلق ہے چراگاہ کا تو مجھ سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صدقہ کو اونٹوں کے لئے چراگاہ بنائی تھی جب نظام خلافت میرے سپرد کیا گیا اور صدقہ کے اونٹوں کی تعداد بڑھ گئی تو میں نے چراگاہ میں بھی توسیع کر دی۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، ← أَبِي سَعْدٍ، مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ← أَبُو نَضْرَةَ، ← أَبِي ← يحيى بن يحيى أنبأ المعتمر بن سليمان التيمي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › Interpretation of Jonah's Surah · Hadith 3300

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ التَّفْسِيرِ ‹ وَمِنْ تَفْسِيرِ سُورَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ · حديث 3385

3385 - حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَبْسِيُّ، ثنا الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: جَاءَ ابْنَا مُلَيْكَةَ وَهُمَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّنَا تَحْفَظُ عَلَى الْبَعْلِ، وَتُكْرِمُ الضَّيْفَ، وَقَدْ وَأَدَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَأَيْنَ أُمُّنَا؟ قَالَ: «أُمُّكُمَا فِي النَّارِ» فَقَامَا وَقَدْ شَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمَا فَدَعَاهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَا فَقَالَ: «إِنَّ أُمِّي مَعَ أُمِّكُمَا» فَقَالَ مُنَافِقٌ مِنَ النَّاسِ لِي: مَا يُغْنِي هَذَا عَنْ أُمِّهِ إِلَّا مَا يُغْنِي ابْنَا مُلَيْكَةَ عَنْ أُمِّهِمَا وَنَحْنُ نَطَأُ عَقِبَيْهِ، فَقَالَ رَجُلٌ شَابٌّ مِنَ الْأَنْصَارِ لَمْ أَرْ رَجُلًا كَانَ أَكْثَرَ سُؤَالًا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَى أَبَوَاكَ فِي النَّارِ فَقَالَ: «مَا سَأَلْتُهُمَا رَبِّي فَيُعْطِينِي فِيهِمَا وَإِنِّي لَقَائِمٌ يَوْمَئِذٍ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ» قَالَ: فَقَالَ الْمُنَافِقُ لِلشَّابِّ الْأَنْصَارِيِّ: سَلْهُ وَمَا الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ؟ قَالَ: " يَوْمَ يَنْزِلُ اللَّهُ فِيهِ عَلَى كُرْسِيِّهِ يَئِطُّ بِهِ كَمَا يَئِطُّ الرَّحْلُ مِنْ تَضَايُقِهِ كَسَعَةِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ وَيُجَاءُ بِكُمْ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا فَيَكُونُ أَوَّلَ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمُ يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْسُوا خَلِيلِي رَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ مِنْ رِيَاطِ الْجَنَّةِ، ثُمَّ أُكْسَى عَلَى أَثَرِهِ فَأَقُومُ عَنْ يَمِينِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَقَامًا يَغْبِطُنِي فِيهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ وَيُشَقُّ لِي نَهَرٌ مِنَ الْكَوْثَرِ إِلَى حَوْضِي " قَالَ: يَقُولُ الْمُنَافِقُ: لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ قَطُّ، لَقَلَّ مَا جَرَى نَهَرٌ قَطُّ إِلَّا وَكَانَ فِي فَخَّارَةٍ أَوْ رَضْرَاضٍ فَسَلْهُ فِيمَا يَجْرِي النَّهَرُ؟ قَالَ: «فِي حَالَةٍ مِنَ الْمِسْكِ وَرَضْرَاضٍ» قَالَ: يَقُولُ الْمُنَافِقُ: لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ قَطُّ، لَقَلَّ مَا جَرَى نَهَرٌ قَطُّ إِلَّا كَانَ لَهُ نَبَاتٌ قَالَ: «نَعَمْ» قَالَ: مَا هُوَ؟ قَالَ: «قُضْبَانُ الذَّهَبِ» قَالَ: يَقُولُ الْمُنَافِقُ: لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ قَطُّ، وَاللَّهِ مَا نَبَتَ قَضِيبٌ إِلَّا كَانَ لَهُ ثَمَرٌ فَسَلْهُ هَلْ لِتِلْكَ الْقُضْبَانِ ثِمَارٌ؟ قَالَ: «نَعَمْ، اللُّؤْلُؤُ وَالْجَوْهَرُ» قَالَ: فَقَالَ الْمُنَافِقُ: لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ قَطُّ، سَلْهُ عَنْ شَرَابِ الْحَوْضِ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا شَرَابُ الْحَوْضِ؟ قَالَ: «أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ مَنْ سَقَاهُ اللَّهُ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا وَمَنْ حَرَمَهُ لَمْ يَرْوِ بَعْدَهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ هُوَ ابْنُ الْيَقْظَانِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 3385 - لا والله فعثمان ضعفه الدراقطني والباقون ثقات

حضرت ابن مسعو د انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ملیکہ کے دو بیٹے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے دونوں انصاری ہیں۔ انہوں نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ ہماری والدہ اپنے شوہر کی خدمت کرتی ہیں اور مہمان نواز ہے۔ لیکن زمانہ جاہلیت میں انہوں نے ایک بچی کو زندہ درگور کیا تھا تو ہماری والدہ کس حالت میں ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری والدہ جہنم میں ہے ۔ وہ دونوں کھڑے ہوئے اور یہ بات ان دونوں پر بہت شاق گزری۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کو اپنے پاس بلایا اور فرمایا: میری والدہ بھی تمہاری والدہ کے ساتھ ہے تو ایک منافق نے مجھے کہا: یہ (نبی) اپنی والدہ کے بارے میں اتنا ہی اختیاررکھتا ہے جتنا ملیکہ کے دونوں بیٹے اپنی ماں کے بارے میں۔ یہ بات کرتے ہوئے ہم اس کے پیچھے چل رہے تھے۔ ایک انصاری نوجوان نے کہا: اور میرا خیال ہے اس نوجوان سے زیادہ کوئی شخص رسول اللہ ﷺ سے سوال نہیں کیا کرتا تھا ( اس نے کہا) یا رسول اللہ ﷺ ! میں تو آپ کے والدین کو جہنمی خیال کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے جو کچھ مانگا، اللہ تعالیٰ نے عطا کر دیا اور میں اس دن مقام محمود میں کھڑا ہوں گا۔ اس منافق نے انصاری نوجوان سے کہا: تو ان سے پوچھ کہ مقام محمود کیا ہے؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ " مقام محمود" کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: جس دن اللہ تعالیٰ اپنی اس کرسی پر ( اپنی شان کے لائق) جلوہ فرما ہو گااور وہ یوں جوش میں آئے گی جیسے کجا وہ تنگ ہونے کی وجہ سے جوش میں آتا ہے حالانکہ یہ اتنی وسیع ہے جتنی وسعت زمین اور آسمان کے درمیان ہے اور تمہیں ننگے پاؤں اور ننگے بدن لایا جائے گا اور سب غیر ختنہ شدہ ہوں گے۔ پھر سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے دوست کو جنت کی دو سفید چادریں پہناؤ پھر ان کے بعد اسی طرح مجھے لباس پہنایا جائے گا ۔ پھر میں اللہ عزوجل کی دائیں جانب ایسی جگہ پر کھڑا ہوں گا جہاں پر تمام اولین و آخرین میرے اوپر رشک کریں گے پھر کوثر سے میرے حوض تک ایک نہر بنائی جائے گی۔ منافق نے کہا: میں نے آج تک ایسی بات نہیں سنی ، بہت کم نہریں جاری ہوتی ہیں اور وہ بھی پکی ہوئی مٹی میں یا کنکریوں میں جاری ہوتی ہیں۔ تو ان سے پوچھ: وہ نہر کس میں رواں ہو گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مشک حالہ اور کنکریوں میں۔ منافق نے کہا: ایسی بات تو میں نےاس سے پہلے آج تک نہیں سنی اور جہاں بھی نہر جاری ہوتی ہے اس میں پودے وغیرہ اگے ہوتے ہیں :اس نے کہا: جی ہاں ۔اس نے پوچھا: اس نہر کے پودے کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: سونے کی ٹہنیاں ہوں گی۔ منافق نے کہا: ایسی بات میں نے پہلے تو کبھی نہیں سنی۔ خدا کی قسم! کوئی بھی پودا اگتا ہے تو اس کے پھل ہوتے ہیں۔ تو ا ن سے پوچھ : ان ٹہنیوں پہ پھل ہو گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ہاں موتی اور جواہر اس کے پھل ہوں گے۔ اس نے کہا: ایسی بات میں نے پہلے کبھی نہیں سنی۔ تو ان سے حوض کے پانی کے متعلق پوچھ؟ اس انصاری نوجوان نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ حوض کا پانی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ، اللہ تعالیٰ جس کو اس کا ایک گھونٹ پلا دے گا اس کوپھر کبھی پیاس نہیں لگے گی اور جو اس سے محروم رہا وہ کبھی سیراب نہیں ہو سکتا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اسے نقل نہیں کیا ۔ اور عثمان بن عمیر" ابن یقظان" ہے۔

جَاءَ ابْنَا مُلَيْكَةَ وَهُمَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَا: ← ابْنِ مَسْعُودٍ، ← أَبِي وَائِلٍ ← عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ، ← الصَّعْقُ بْنُ حَزْنٍ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُبَارَكِ الْعَبْسِيُّ، ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Tafsir Book › And from the interpretation of the wall of the children of Israel · Hadith 3385

المستدرك على الصحيحين · أَوَّلُ كِتَابِ الصَّلَاةِ ‹ بَابُ التَّأْمِينِ · حديث 897

897 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْفَضْلِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الصَّيْدَلَانِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ، عَنْ أَبِي جَنَابٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ سَمِعَ الصَّلَاةَ يُنَادَى بِهَا صَحِيحًا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ، فَلَمْ يَأْتِهَا لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ لَهُ صَلَاةً فِي غَيْرِهَا» قِيلَ: وَمَا الْعُذْرُ؟ قَالَ: «الْمَرَضُ أَوِ الْخَوْفُ» وَمِنْهَا:

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص صحت مند ہو اور کوئی عذر اس کو لاحق نہ ہو، وہ اذان سننے کے باوجود اگر مسجد میں آ کر نماز نہیں پڑھتا تو اللہ تعالیٰ اس کی کسی دوسری جگہ (مسجد کے علاوہ) پڑھی ہوئی نماز قبول نہیں کرتا۔ آپ ﷺ سے پوچھا گیا: عذرکیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: مرض یا خوف۔ متابع (3)۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ← أَبِي جَنَابٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ قَرْمٍ ← يَحْيَی بْنُ حَسَّانَ ← الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْجَرَوِيُّ ← أَبُو الْفَضْلِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الصَّيْدَلَانِيُّ، بِبَغْدَادَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of prayer › Insurance section · Hadith 897

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5933

5933 - وَحَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَبَا أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيَّ، كَانَ لَهُ مِرْبَدٌ لِلتَّمْرِ فِي حَدِيقَةٍ فِي بَيْتِهِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوٍ مِنْهُ [ص:520]. [التعليق - من تلخيص الذهبي] 5933 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

عبدالرحمنٰ بن ابی عمرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی حویلی میں ایک باغیچہ تھا جس میں کھجور یں جمع ہوتی تھیں ، اس کے بعد سابقہ پوری حدیث بیان کی ۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ ← عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Mentioning the virtues of Abu Ayyub al-Ansari, may God be pleased with him · Hadith 5933

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا · حديث 6021

6021 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الشَّهِيدُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، ثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الدَّغُولِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ، ثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: رُمِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ بِسَهْمٍ يَوْمَ الطَّائِفِ، فَانْتُقِضَتْ بِهِ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَرْبَعِينَ لَيْلَةً، فَمَاتَ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَ: «أَيْ بُنَيَّةُ، وَاللَّهِ لَكَأَنَّمَا أُخِذَ بِأُذُنِ شَاةٍ، فَأُخْرِجَتْ مِنْ دَارِنَا» ، فَقَالَتِ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَبَطَ عَلَى قَلْبِكَ، وَعَزَمَ لَكَ عَلَى رُشْدِكَ» ، فَخَرَجَ ثُمَّ دَخَلَ، فَقَالَ: «أَيْ بُنَيَّةُ، أَتَخَافُونَ أَنْ تَكُونُوا دَفَنْتُمْ عَبْدَ اللَّهِ وَهُوَ حَيٌّ؟» فَقَالَتْ: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ يَا أَبَتِ» ، فَقَالَ: " أَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، أَيْ بُنَيَّةُ إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ إِلَّا وَلَهُ لِمَّتَانِ: لِمَّةٌ مِنَ الْمَلَكِ وَلِمَّةٌ مِنَ الشَّيْطَانِ ". قَالَ: فَقَدِمَ عَلَيْهِ وَفْدُ ثَقِيفٍ، وَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ السَّهْمُ عَنَاهُ فَأَخْرَجَ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ: «هَلْ يَعْرِفُ هَذَا السَّهْمَ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟» فَقَالَ: سَعْدُ بْنُ عُبَيْدٍ أَخُو بَنِي الْعَجْلَانِ هَذَا سَهْمٌ أَنَا بَرَيْتُهُ وَرِشْتُهُ وَعَقَّبْتُهُ، وَأَنَا رَمَيْتُ بِهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: «فَإِنَّ هَذَا السَّهْمَ الَّذِي قَتَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَكْرَمَهُ بِيَدِكَ، وَلَمْ يَهْنِكَ بِيَدِهِ، فَإِنَّهُ وَاسِعُ الْحِمَى»

قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ طائف کے محاصرے کے موقع پر حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو تیرلگا تھا ، اس کے چالیس دن بعداس تیر کی وجہ سے ان کا انتقال ہوگا اور یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد کا ہے ۔عبداللہ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئےاورفر مایا: اے میری پیاری بیٹی !خدا کی قسم ، یوں لگتا ہے جیسے کسی بکری کو کان سے پکڑ کر ہمارے گھر سے نکال دیا گیا ہو،ام المومنین نے کہا: تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے آپ کے دل کو مضبوطی عطافرمائی ہے اور آپ کو ہدایت پر ثابت قدم رکھا ہے، یہ کہہ کر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ گھر سے باہر چلے گئے ، تھوڑی دیر بعد واپس آئےاورفرمایا: کیا تمہیں یہ خدشہ ہے کہ عبداللہ کو زندہ دفن کر دیا گیا ہے؟ ام المومنین نے کہا:ابا جی ! انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: استعيذ بالله السميع العليم من الشيطن الرجیم ( میں سننے والے اور علم رکھنے والے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں مردود شیطان سے )اے میری پیاری بیٹی ہر شخص کو دوطرح کے خیالات آتے ہیں۔ کچھ خیالات فرشتے کی طرف سے ہوتے ہیں اور کچھ شیطان کی طرف سے ۔ راوی کہتے ہیں: حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ثقیف کا وفد آیا، ابھی تک وہ تیر ہمارے پاس سنبال کر رکھا ہوا تھا، حضرت ابوبکر صد یق رضی اللہ عنہ نے وہ تیر نکالا اورفرمایا: کیاتم میں سے کوئی شخص اس تیرکو پہچانتا ہے؟ بنی عجلان کے بھائی حضرت سعد بن عبید نے کہا: یہ تیرتو میرے ہاتھ کا تیار کیا ہوا ہے، اور یہ پھینکا بھی میں نے ہی تھا۔ تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ وہ تیر ہے جس نے عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ہے ۔شکر ہے اس ذات کا جس نے تمہارے ہاتھ سے اس کو عزت بخشی اوراُس کے ہاتھ سے تمہیں رسوانہیں کیا۔ بے شک اللہ رب العزت بہت برکت والا ہے۔

الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← الْهَيْثَمُ بْنُ عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ← أبو العباس الدغولي، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الشَّهِيدُ تَعَالَى

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the Maqib Abdullah ibn Abi Bakr al-Siddiq, may God be pleased with them · Hadith 6021

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8221

8221 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَخِي يَشْتَكِي بَطْنَهُ، فَقَالَ: «اسْقِهِ الْعَسَلَ» فَقَالَ: قَدْ سَقَيْتُهُ فَلَمْ يَزِدْهُ إِلَّا اسْتِطْلَاقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّالِثَةِ أَوِ الرَّابِعَةِ: «صَدَقَ اللَّهُ، وَكَذَبَ بَطْنُ أَخِيكَ» فَذَهَبَ فَسَقَاهُ فَبَرَأَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8221 - على شرط مسلم

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے بھائی کے پیٹ میں مروڑ ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کو شہد پلاؤ، اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے اس کو شہد پلایا ہے، اس سے اس کی بیماری بڑھ گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین یا چار مرتبہ شہد پلانے کا ہی کہا، تیسری یا چھوتھی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ کہا اور تیرے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے، اس کے بعد اس کے بھائی کا پیٹ ٹھیک ہو گیا۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ فَقَالَ: ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 8221

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8225

8225 - أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَلَيْكُمْ بِالشِّفَائَيْنِ الْعَسَلِ وَالْقُرْآنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8225 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو چیزیں باعث شفاء ہیں ان کو لازمی استعمال کی کرو، شہد اور قرآن کریم۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 8225

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8228

8228 - حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ، ثَنَا عَفَّانُ، ثَنَا هَمَّامٌ، ثَنَا أَبُو حَمْزَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَدْفَعُ الزِّحَامَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: فَاحْتَبَسْتُ عَنْهُ أَيَّامًا، فَقَالَ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: الْحُمَّى، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8228 - على شرط البخاري ومسلم

ابو حمزہ فرماتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کےپاس سے لوگوں کی بھیڑ ختم کیا کرتا تھا، پھر کئی دن میں آپ کی خدمت میں نہ جاسکا ، جب کئی دنوں کے بعد میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو ، انہوں نے اتنے دن غیر حاضر رہنے کی وجہ پوچھی، میں نے بتایا کہ مجھے بخار تھا، آپ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ بخار جہنم کی گرمی ہوتی ہے ، اس کو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کردیا کرو، یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا۔

فَاحْتَبَسْتُ عَنْهُ أَيَّامًا، فَقَالَ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: الْحُمَّى، فَقَالَ: ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← كُنْتُ أَدْفَعُ الزِّحَامَ ← أَبُو حَمْزَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ الْبَجَلِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 8228

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 8229

8229 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ الْوَزِيرِ، ثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ الْحُمَّى قِطْعَةٌ مِنَ النَّارِ، فَأَبْرِدُوهَا عَنْكُمْ بِالْمَاءِ» قَالَ: «وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حُمَّ دَعَا بِقِرْبَةٍ مِنْ مَاءٍ فَأَفْرَغَهَا عَلَى قَرْنِهِ فَاغْتَسَلَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخْرِجَاهُ بِهَذِهِ الزِّيَادَةِ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 8229 - صحيح

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بخار دوزخ کا ٹکڑا ہے ، اس کو پانی کے ساتھ ٹھنڈا کردیا کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب بخار ہوتا تو آپ پانی کامشکیزہ منگواتے اور اپنے سر پر بہالیتے اور غسل کرلیتے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس زیادتی کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← الْحَسَنِ، ← إسْمَاعِيلَ بْنِ مُسْلِمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ الْوَزِيرِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 8229

chevron_left Previous
1…444546…647
Next chevron_right