Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطب والصحة

Medicine & Health

12931 hadiths

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضْلِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ · حديث 2068

2068 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ الْبُوزْنَجَرْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ الْحَنَفِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: حَدِّثْنِي عَنْ قِصَّةِ الشَّيْطَانِ حِينَ أَخَذْتَهُ، فَقَالَ: جَعَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى صَدَقَةِ الْمُسْلِمِينَ فَجَعَلْتُ الثَّمَرَ فِي غُرْفَةٍ، فَوَجَدْتُ فِيهِ نُقْصَانًا، فَأَخْبَرْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «هَذَا الشَّيْطَانُ يَأْخُذُهُ» قَالَ: فَدَخَلْتُ الْغُرْفَةَ فَأَغْلَقْتُ الْبَابَ عَلَيَّ فَجَاءَتْ ظُلْمَةٌ عَظِيمَةٌ فَغَشِيتُ الْبَابَ، ثُمَّ تَصَوَّرَ فِي صُورَةِ فِيلٍ، ثُمَّ تَصَوَّرَ فِي صُورَةٍ أُخْرَى، فَدَخَلَ مِنْ شَقِّ الْبَابِ فَشَدَدْتُ إِزَارِي عَلَيَّ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ، قَالَ: فَوَثَبْتُ إِلَيْهِ فَضَبَطْتُهُ فَالْتَقَتْ يَدَايَ عَلَيْهِ فَقُلْتُ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ، فَقَالَ: خَلِّ عَنِّي فَإِنِّي كَبِيرٌ ذُو عِيَالٍ كَثِيرٍ وَأَنَا فَقِيرٌ وَأَنَا مِنْ جِنِّ نَصِيبِينَ وَكَانَتْ لَنَا هَذِهِ الْقَرْيَةِ قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ صَاحِبُكُمْ، فَلَمَّا بُعِثَ أُخْرِجْنَا عَنْهَا فَخَلِّ عَنِّي، فَلَنْ أَعُودَ إِلَيْكَ فَخَلَّيْتُ عَنْهُ، وَجَاءَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَنَادَى مُنَادِيهِ أَيْنَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا فَعَلَ أَسِيرُكَ يَا مُعَاذُ؟» فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: «أَمَا إِنَّهُ سَيَعُودُ» فَعَادَ، قَالَ: فَدَخَلْتُ الْغُرْفَةَ، وَأَغْلَقْتُ عَلَيَّ الْبَابَ فَدَخَلَ مِنْ شَقِّ الْبَابِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ فَصَنَعْتُ بِهِ كَمَا صَنَعْتُ فِي الْمَرَّةِ الْأُولَى، فَقَالَ: خَلِّ عَنِّي فَإِنِّي لَنْ أَعُودَ إِلَيْكَ، فَقُلْتُ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ أَلَمْ تَقُلْ: لَا أَعُودُ؟ قَالَ: فَإِنِّي لَنْ أَعُودَ وَآيَةُ ذَلِكَ عَلَيَّ أَنْ لَا يَقْرَأَ أَحَدٌ مِنْكُمْ خَاتِمَةَ الْبَقَرَةِ فَيَدْخُلَ أَحَدٌ مِنَّا فِي بَيْتِهِ تِلْكَ اللَّيْلَةِ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَعَبْدُ الْمُؤْمِنِ بْنُ خَالِدٍ الْحَنَفِيُّ مَرْوَزِيٌّ ثِقَةٌ يُجْمَعُ حَدِيثُهُ، وَرَوَى عَنْهُ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ هَذَا الْحَدِيثَ بِعَيْنِهِ» .

ابوالاسودالد یلی فرماتے ہیں میں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے شیطان کا وہ قصہ سنائیں جب آپ نے اس کو پکڑ لیا تھا ۔ انہوں نے بتایا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے جمع کئے ہوئے ) صدقات کی نگرانی پر مقرر کیا۔ میں نے تمام پھل ایک کوٹھڑی میں رکھ دیئے ۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ پھل کم ہو گئے ہیں ، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہاں سے شیطان لے گیا ہے ۔ ( معاذ ) فرماتے ہیں : میں نے خودکوٹھڑی کے اندر داخل ہو کر اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ پھر ایک اندھیرا سا چھا گیا جس نے دروازے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا پھر مجھے ایک مرتبہ کسی ہاتھی کی صورت محسوس ہوئی ، دوبارہ کسی دوسری صورت میں محسوس ہوا پھر وہ دروازے کی پھٹن میں سے داخل ہوا ، میں نے اپنی چادر اپنے او پر کھینچ لی تو وہ آ کر کھجور یں کھانے لگ گیا۔ میں نے اچھل کر اس کو دبوچ لیا۔ میں نے اس کو کہا: اے اللہ! کے دشمن ! ( یہ کیا کر رہے ہو؟) اس نے جوابا کہا: مجھے مچھوڑ دو کیونکہ میں بوڑھا آدمی ہوں ، کثیر عیالدارشخص ہوں اور فقیر ہوں اور میں نصیبین کے جنات میں سے ہوں ۔ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے یہ علاقہ ہمارا مسکن ہوا کرتا تھا۔ جب ان کی بعثت ہوئی تو ہمیں یہاں سے نکال دیا گیا ۔ آپ مجھے چھوڑ دیں، میں دو بارہ ادھر نہیں آؤں گا۔ میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حضرت جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے اور پورا واقعہ بتادیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑ ھالی تو آواز دے کر پوچھا: معاذ بن جبل کہاں ہے؟ میں اٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ ! تیرے قیدی کا کیا بنا؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات والا قصہ سنایا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دوبارہ پھرآئے گا ۔ ( پھر حضرت معاز رضی اللہ عنہ ) لوٹ آئے۔ (معاذ ) فرماتے ہیں : میں نے پھر کوٹھری میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا۔ وہ پھر دروازے کی پھٹن میں سے داخل ہوا اور کھجور یں کھانے لگ گیا، میں نے اس کے ساتھ وہی والا معاملہ کیا جو پچھلی رات کیا تھا ۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دیں میں دوبارہ یہاں نہیں آؤں گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے دشمن تو نے گذشتہ رات بھی یہی بات کی تھی کہ میں لوٹ کر نہیں آؤں گا ؟ اس نے کہا: (اب میں پکاوعد ہ کر تا ہوں کہ) ہر گز لوٹ کر نہیں آؤں گا ۔ اور اس کی نشانی یہ ہے کہ جوشخص سورۂ بقرہ کی آخری آیات پڑھے تو اس رات ہم میں سے کوئی بھی اس گھر میں داخل نہیں ہوسکتا ۔یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔ اور عبدالمومن بن خالد المروزی حنفی ثقہ ہیں ، ان کی احادیث جمع کی جاتی ہیں اور بعینہ یہی حدیث زید بن الحباب نے ان سے روایت کی ہے ۔ ( جو کہ درج ذیل ہے)

أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيُّ، ← عَبْدِ الْمُؤْمِنِ بْنِ خَالِدٍ الْحَنَفِيِّ ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ الْبُوزَنْجَرْدِيُّ ← أَبُو الْعَبَّاسِ قَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News on the merits of Surat Al-Baqarah · Hadith 2068

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2192

2192 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَحِبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ بَيْعِ الْحَبِّ حَتَّى يَشْتَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ حَتَّى يَسْوَدَّ، وَعَنْ بَيْعِ التَّمْرِ حَتَّى يَحْمَرَّ وَيَصْفَرَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى حَدِيثِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِي النَّهْي عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ حَتَّى يَزْهِيَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2192 - على شرط مسلم

حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت ہونے سے پہلے گندم کو بیع سے ، سیاہ ہونے سے پہلے انگوروں کی بیع سے اور سرخ یا زرد ہونے سے پہلے کھجوروں کے بیع سے منع فرمایا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحین میں نقل نہیں کیا گیا تاہم اما م بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے نافع کے واسطے سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے پکنے سے پہلے کھجوروں کی خرید و فروخت سے ممانعت پر مشتمل حدیث نقل کی ہے ۔

أَنَسٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَ حُمَيْدٌ، ← عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، وَحِبَّانُ بْنُ هِلَالٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2192

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2236

2236 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَلَّامٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْتَاعَ مِنْ أَعْرَابِيٍّ جَزُورًا بِتَمْرٍ، وَكَانَ يَرَى أَنَّ التَّمْرَ عِنْدَهُ، فَإِذَا بَعْضُهُ عِنْدَهُ، وَبَعْضُهُ لَيْسَ عِنْدَهُ، فَقَالَ: «هَلْ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ بَعْضَ تَمْرِكَ وَبَعْضُهُ إِلَى الْجُذَاذِ» فَأَبَى، فَاسْتَسْلَفَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَهُ، فَدَفَعَهُ إِلَيْهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2236 - يحيى بن سلام ضعيف ولم يخرج له أحد

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دیہاتی سے کھجوروں کے بدلے اونٹ خریدا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال تھا کہ اونٹ کی پوری قیمت کی ) کھجوریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود ہیں لیکن جب دیکھا تو وہ کھجوریں کم تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس دیہاتی سے ) کہا : کیا آپ کے پاس یہ گنجائش ہے کہ کچھ کھجوریں ابھی لے لو اور بقیہ پھل آنے تک ( میں دے دوں گا )؟ اس نے انکار کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے ادھار کھجوریں پکڑ کر اس کو دیں ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← يحيى بن سلام ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2236

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2263

2263 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرِ، حَدَّثَهُ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الصُّبْرَةِ مِنَ التَّمْرِ، لَا يَعْلَمُ مَكِيلَهَا بِالْكَيْلِ الْمُسَمَّى مِنَ التَّمْرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2263 - على شرط مسلم

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے ایسے ڈھیر کو جس کی مقدار معلوم نہ ہو ان کھجورو کے عوض بیچنے سے منع کیا ہے جن کی مقدار معلوم ہو۔یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار مطابق صحیح ہے ۔ لیکن اسے صحیحین میں نقل نہ کیا گیا ۔

«نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ أَبَا الزُّبَيْرَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2263

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2264

2264 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ مَالِكٌ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَزِّيُّ، وَمُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الذُّهْلِيُّ، قَالُوا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَأَبُو مُحَمَّدِ بْنُ مُوسَى قَالَا: أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ فَحَدَّثَنَا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي عَيَّاشٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعْدًا عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ فَقَالَ: بَيْنَهُمَا فَضْلٌ. قَالُوا: نَعَمْ. فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، فَسَأَلَ مَنْ حَوْلَهُ: «أَيَنْقُصُ إِذَا جَفَّ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «فَلَا إِذًا» قَالَ أبو الْوَلِيدُ: وَسَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ مَرَّةً أُخْرَى قَالَ: فَكَرِهَهُ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2264 - رواه مالك مرة فكرهه

حضرت زید ابو عیاش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا جو کے بدلے گندم ( بیچنا کیسا ہے ؟) انہوں نے کہا : دونوں میں کمی زیادتی ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خشک کھجوروں کے عوض تر کھجوریں بیچنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نے اپنے قریب لوگوں سے پوچھا ، جب یہ خشک ہو جائیں تو کم ہو جاتی ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس صورت میں جائز نہیں ہے ۔ ابو ولید فرماتے ہیں میں نے حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ سے دوسری مرتبہ سنا تو انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نا پسند کیا ہے۔ یہ الفاظ ابو الولید کی روایت کے ہیں جبکہ یہی حدیث اسود بن سفیان کے غلام عبداللہ بن یزید کی روایت کرنے میں اسماعیل بن امیہ نے مالک بن انس کی متابعت کی ہے ۔ ( ان کی روایت درج ذیل ہیں )

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى الْأَسْوَدِ بْنِ سُفْيَانَ رواه مالك مرة فكرهه ← فَكَرِهَهُ. هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ تَابَعَهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ← مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ مَرَّةً أُخْرَى ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← «فَلَا إِذَا» ← نَعَمْ ← الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، فَسَأَلَ مَنْ حَوْلَهُ: «أَيَنْقُصُ إِذَا جَفَّ؟» ← نَعَمْ ← بَيْنَهُمَا فَضْلٌ. ← الْبَيْضَاءُ ← سَأَلْتُ سَعْدًا ← زَيْدِ أَبِي عَيَّاشٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← سَأَلْتُ مَالِکَ بْنَ أَنَسٍ ← أنبأ محمد بن أيوب أنبأ أبو الوليد الطيالسي ← أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ ← على مالك، ← يَحْيَی بْنُ يَحْيَی ← موسى بن محمد الذهلي، ← جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَزِّيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى الْحِيرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2264

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2266

2266 - ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، وَأَبُو حُذَيْفَةَ قَالَا: حَدَّثَنَاهُ سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ زَيْدٍ أَبِي عَيَّاشٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ فَقَالَ: «أَيَنْقُصُ إِذَا يَبِسَ؟» قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: «فَنَهَى عَنْهُ» وَقَدْ تَابَعَهُمَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَلَى رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ

حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خشک کھجوروں کے بدلے پکی ہوئی تازہ کھجوروں ( کی بیع ) کے متعلق پوچھا گیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا وہ خشک ہو کر کم ہو جاتی ہیں ؟ صحابہ نے جواب دیا جی ہاں ( سعد) نے فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے منع کر دیا ۔ اس حدیث کو عبداللہ بن یزید سے روایت کرتے ہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے اسماعیل بن امیہ اور مالک بن انس کی متابعت کی ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← «فَنَهَى عَنْهُ» وَقَدْ تَابَعَهُمَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَلَى رِوَايَتِهِ ← نَعَمْ ← الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ فَقَالَ أَيَنْقُصُ إِذَا يَبِسَ ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ ← زَيْدِ أَبِي عَيَّاشٍ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، ← سُفْيَانَ، ← أبو نعيم وأبو حذيفة ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْقَاضِي ← سُفْيَانُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ سَيَّارٍ، ← سُفْيَانُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2266

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2267

2267 - حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَعَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، قَالَا: ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ أَبَا عَيَّاشٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، يَقُولُ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ نَسِيئَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ، لِإِجْمَاعِ أَئِمَّةِ النَّقْلِ عَلَى إِمَامَةِ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، وَأَنَّهُ مُحْكَمٌ فِي كُلِّ مَا يَرْوِيهِ مِنَ الْحَدِيثِ، إِذْ لَمْ يُوجَدْ فِي رِوَايَاتِهِ إِلَّا الصَّحِيحُ خُصُوصًا فِي حَدِيثِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ لِمُتَابَعَةِ هَؤُلَاءِ الْأَئِمَّةِ إِيَّاهُ فِي رِوَايَتِهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ وَالشَّيْخَانِ لَمْ يُخَرِّجَاهُ لِمَا خَشَيَاهُ مِنْ جَهَالَةِ زَيْدٍ أَبِي عَيَّاشٍ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2267 - صحيح ولم يخرجاه لما خشيا من جهالة أبي عياش

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک کھجوروں کے بدلے تازہ پکی ہوئی کھجوریں ادھار کے طور پر بیچنے سے منع کیا ہے۔ یہ حدیث صحیح ہے کیونکہ ائمہ نقل کا مالک بن انس کی امامت پر اجماع ہے نیز یہ کہ تمام مرویات میں یہ محکم ہے کیونکہ ان کی روایت کردہ تمام احادیث صحیح ہیں ۔ بالخصوص اہل مدینہ کی روایت میں ۔ پھر ان تمام ائمہ کے اس حدیث کو عبداللہ بن یزید سے روایت کرنے مین ان کی متابعت کرنے کی وجہ سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو نقل نہیں کیا کیونکہ ان کو زید پر ابو عیاش کو مجہول رکھنے پر اعتراض ہے ۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ← هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ← أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حمشاذ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2267

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2282

2282 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا مِجْلَزٍ عَنِ الصَّرْفِ، فَقَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا زَمَانًا مِنْ عُمْرِهِ، مَا كَانَ مِنْهُ عَيْنًا، يَعْنِي يَدًا بِيَدٍ، فَكَانَ يَقُولُ: إِنَّمَا الرِّبَا فِي النَّسِيئَةِ فَلَقِيَهُ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَقَالَ لَهُ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ؟ إِلَى مَتَى تَوَكِّلُ النَّاسَ الرِّبَا؟ أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ وَهُوَ عِنْدَ زَوْجَتِهِ أُمِّ سَلَمَةَ: إِنِّي " لَأَشْتَهِي تَمْرَ عَجْوَةٍ، فَبَعَثَتْ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَجَاءَ بَدَلَ صَاعَيْنِ صَاعٌ مِنْ تَمْرٍ عَجْوَةٍ، فَقَامَتْ فَقَدَّمَتْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَآهُ أَعْجَبَهُ، فَتَنَاوَلَ تَمْرَةً، ثُمَّ أَمْسَكَ، فَقَالَ: «مِنْ أَيْنَ لَكُمْ هَذَا؟» فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: بَعَثْتُ صَاعَيْنِ مِنْ تَمْرٍ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَتَانَا بَدَلَ صَاعَيْنِ هَذَا الصَّاعُ الْوَاحِدُ، وَهَا هُوَ كُلْ فَأَلْقَى التَّمْرَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ: «رُدُّوهُ لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ التَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، يَدًا بِيَدٍ، عَيْنًا بِعَيْنٍ، مِثْلًا بِمِثْلٍ، فَمَنْ زَادَ فَهُوَ رِبًا» ثُمَّ قَالَ: «كَذَلِكَ مَا يُكَالُ وَيُوزَنُ أَيْضًا» فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: جَزَاكَ اللَّهُ يَا أَبَا سَعِيدٍ الْجَنَّةَ، فَإِنَّكَ ذَكَّرْتَنِي أَمْرًا كُنْتُ نَسِيتُهُ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ. فَكَانَ يَنْهَى عَنْهُ بَعْدَ ذَلِكَ أَشَدَّ النَّهْيِ. «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ السِّيَاقَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 2282 - حبان بن عبيد الله العدوي فيه ضعف وليس بالحجة

حضرت حبان بن عبیدہ اللہ عدی رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے میں نے ابو مجلز سے بیع صرف کے متعلق مسئلہ پوچھا تو انہوں نے جواباً کہا:ابن عباس رضی اللہ عنہ کا ایک زمانہ تک یہ موقف رہا ہے کہ اگر ہاتھوں ہاتھ ہوں تو کوئی حرج نہیں وہ کہا کرتے تھے کہ سود تو صرف ادھار میں ہوتا ہے ایک دفعہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا اے ابن عباس رضی اللہ عنہ تم اللہ سے نہیں ڈرتے ہو تم لوگوں کو گب تک سود میں مبتلا کیے رکھو گے؟ کیا تمہیں اس حدیث کی اطلاع نہیں ہے ؟ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عجوہ کھجور کھانے کی خواہش کا اظہار کیا تو انہوں نے دو صاع کھجوریں ایک انصاری کے پاس بھجیں تو وہ دو صاع کھجوروں کے بدلے ایک صاع عجوہ کھجوریں دے گیا ۔ پھر ام المومنین رضی اللہ عنہا نے یہ کھجوریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کھجوروں کو دیکھا تو بہت پسند کیا اور ان میں سے ایک کھجور اٹھا کر کھا لی اور پھر رک گئے اور پوچھا یہ کھجوریں تمہارے پاس کہاں سے آئیں ؟ ام المومین حضر ت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا میں نے دو صاع کھجوریں ایک انصاری آدمی کی طرف بھیجی تھیں تو وہ ان دو صاع کے بدلے ایک صاع عجوہ کھجوریں دے گیا۔ یہ وہی ہیں ۔ اپ تناول فرمایئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تمام کھجوریں پھینک دیں اور فرمایا یہ واپس بھیج دو مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے ۔ کھجور کھجور کے بدلے ، گندم گندم کے بدلے ، جو جو کے بدلے ، سونا سونے کے بدلے ، چاندی چاندی کے بدلے ہاتھوں ہاتھ ہو اور برابر ، برابر ہو تو جائز ہے جو زیادہ ہو گا وہ سود ہے پھر اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان چیزوں کے متعلق جن کو ماپا جاتا ہے اور جن کا وزن کیا جاتا ہے بھی یہی فرمایا۔ اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کا شرکیہ ادا کرتے ہوئے ان کو جنت کی دعائیں دیں اور کہنے لگے آج آپ نےمجھے وہ بات یاد دلا دی ہے جس کو میں بھلا چکا تھا میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اور معافی مانگتا ہوں اس کے بعد آپ بڑی شدت کے ساتھ بیع صرف سے منع کیا کرتے تھے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

حَيَّانُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَدَوِيُّ، ← رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ← الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ ← أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2282

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْبُيُوعِ ‹ ذِكْرُ فَضَائِلِ سُوَرٍ، وآيٍ مُتَفَرِّقَةٍ · حديث 2283

2283 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَيَّاشٍ، يَقُولُ: سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ عَنِ اشْتِرَاءِ السُّلْتِ بِالتَّمْرِ، فَقَالَ سَعْدٌ: أَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: لَا يَصِحُّ. وَقَالَ سَعْدٌ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اشْتِرَاءِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ؟» قَالُوا: نَعَمْ، الرُّطَبُ يَنْقُصُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَلَا يَصِحُّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «

حضرت ابو عیاش رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کھجوروں کے بدلے جو خریدنے کے متعلق مسئلہ پوچھا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کیا ان کے درمیان کمی زیادتی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا یہ بیع جائز نہیں ہے ۔ اور حضر ت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خشک کھجوروں کے عوض تر کھجوریں خریدنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا ان کے درمیان فرق ہے ؟ لوگوں نےکہا جی ہاں ! تر کھجوریں کم ہو جاتی ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو یہ جائز نہیں ہے ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

نَعَمْ، الرُّطَبُ يَنْقُصُ. ← رَسُولُ اللَّهِ «أَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ؟» ← اشْتِرَاءِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ، ← سَعْدٌ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ ← لَا يَصِحُّ. ← نَعَمْ ← سَعْدٌ: أَبَيْنَهُمَا فَضْلٌ؟ ← اشْتِرَاءِ السُّلْتِ بِالتَّمْرِ، ← سَأَلْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ← أَبَا عَيَّاشٍ، ← عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ1 ← أَبِيهِ ← مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Sales › Mentioning the virtues of Surah, and the verses that are separated · Hadith 2283

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ ذِكْرُ مَنَاقِبِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ الزُّهْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ · حديث 5332

5332 - وَحَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: " عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ زُهْرَةَ، وَأُمُّهُ وَأُمُّ أَخِيهِ الْأَسْوَدِ بْنِ عَوْفٍ: الشِّفَاءُ بِنْتُ عَوْفِ بْنِ عَبْدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ زُهْرَةَ بْنِ كِلَابٍ، وَكَانَتْ قَدْ هَاجَرَتْ قَبْلَ الْفَتْحِ، وَكَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ اسْمُهُ: عَبْدُ عَمْرٍو، فَسَمَّاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ "

مصعب بن عبداللہ ان کا نسب یوں بیان کرتے ہیں " عبدالرحمٰن بن عوف بن عبدالرحمٰن بن حارث بن زہرہ " ان کی اور ان کےبھائی اسود بن عوف کی والدہ " شفاء بنت عوف بن عبدالحارث بن زہرہ بن کلاب " ہیں ۔ انہوں نے فتح مکہ سے پہلے ہجرت کی تھی۔ حضرت عبدالرحمٰن کا اصلی نام " عبدالرحمٰن " رکھا۔

عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ زُهْرَةَ، ← مصعب بن عبد الله

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the governor of Abd al-Rahman bin Awf al-Zuhri, may God be pleased with him · Hadith 5332

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7138

7138 - حَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدٌ التَّيْمِيُّ، وَأَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاودَ الْعَتَكِيُّ، وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، قَالُوا، ثَنَا أَبُو زُكَيْرٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ عُرْوَةَ، يَذْكُرُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُوا الْبَلَحَ بِالتَّمْرِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا أَكَلَهُ ابْنُ آدَمَ غَضِبَ وَقَالَ بَقِيَ ابْنُ آدَمَ حَتَّى أَكَلَ الْجَدِيدَ بِالْخَلَقِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7138 - حديث منكر

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کچی کھجوروں کو پکی کھجوروں کے ساتھ کھایا کرو کیونکہ جب اس کو انسان کھاتا ہے تو شیطان کو بہت غصہ آتا ہے اور وہ کہتا ہے : انسان اس وقت تک باقی رہے گا جب تک نئی جنس کو پرانی کے ساتھ ملاکر کھاتا رہے گا ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هشام بن عروة يذكر ← أبو زكير يحيى بن محمد بن قيس ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ← أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَکِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدٌ التَّيْمِيُّ، ← أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7138

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7187

7187 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ الْبُرِّيِّ، ثَنَا أَبِي، ثَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَيُدْخِلُ بِلُقْمَةِ الْخُبْزِ وَقَبْضَةِ التَّمْرِ وَمِثْلِهِ مِمَّا يَنْفَعُ الْمِسْكِينَ ثَلَاثَةً الْجَنَّةَ: الْآمِرُ بِهِ وَالزَّوْجَةُ الْمُصْلِحَةُ وَالْخَادِمُ الَّذِي يُنَاوِلُ الْمِسْكِينَ " وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَنْسَ خَدَمَنَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7187 - سويد بن عبد العزيز متروك

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشادفرمایا : اللہ تعالی صرف ایک لقمے کے بدلے میں ، صرف ایک مٹھی کھجوروں کے بدلے میں اور اسی طرح کی کوئی چیز جو مسکینوں کے لئے نفع بخش ہو ، کے بدلے میں تین آدمیوں کو جنت عطاکردیتا ہے ۔ اس کام کا حکم دینے والے کو ، اس بیوی کو جو یہ تیار کرتی ہے ، او ر اس خادم کو جو یہ طعام وغیرہ مساکین تک پہنچاتا ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس اللہ کا شکر ہے جو ہماری خدمات کو بھولتا نہیں ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْمَقْبُرِیِّ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، ← سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← أَبِي ← الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ الْبَرِّيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7187

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7218

7218 - أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّبِيعِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ شَيْبَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ هُوَ الْخَمْرُ» يَعْنِي إِذَا انْتُبِذَا جَمِيعًا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7218 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : منقع اور کھجور شراب ہے ۔ یعنی جب کہ ان کا رس نچوڑ کر ان کو جوش دیا جائے ۔ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ ← الْاَعْمَشِ ← عبيد الله بن موسى أنبأ شيبان ← أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّبِيعِيُّ، بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Drink Book › The merits of all Arabs · Hadith 7218

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَشْرِبَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7239

7239 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثَنَا أَبِي، وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ، قَالَا: ثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ كَثِيرٍ الْهَمْدَانِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ السَّرِيَّ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْكُوفِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّ الشَّعْبِيَّ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا وَمِنَ الشَّعِيرِ خَمْرًا وَمِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا وَمِنَ التَّمْرِ خَمْرًا وَمِنَ الْعَسَلِ خَمْرًا وَأَنَا أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «آخِرُ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7239 - السري تركوه

نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشادفرمایا : گندم کی بھی شرب ہوتی ہے ، جو کی شراب ہو تی ہے ، منقع کی شراب بنتی ہے ، کھجوروں کی شراب بنتی ہے اور شہد کی بھی شراب بنتی ہے ۔ میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← أَنَّهُ ← أَنَّ الشَّعْبِيَّ، ← أَنَّ السَّرِيَّ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْكُوفِيَّ ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ كَثِيرٍ الْهَمْدَانِيَّ، ← اللَّيْثُ ← أَبِي وَشُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Drink Book › The merits of all Arabs · Hadith 7239

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ اللِّبَاسِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7374

7374 - حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سَالِمٍ اللَّخْمِيُّ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ الْأَسْوَدِ، قَالَ: بَلَغَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّهُ يُحَدَّثُ عَنْ ثَوْبَانَ حَدِيثُ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَحُمِلَ عَلَى الْبَرِيدِ قَالَ: فَلَمَّا انْتَهَى إِلَيْهِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ سَلَّمَ وَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقَدْ شَقَّ عَلَى رِجْلِي مَرْكَبِي مِنَ الْبَرِيدِ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ كَالْمُتَوَجِّعِ: مَا أَرَدْنَا الْمَشَقَّةَ عَلَيْكَ يَا أَبَا سَلَّامٍ، وَلَكِنْ بَلَغَنِي حَدِيثٌ تُحَدِّثُهُ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَوْضِ فَأَحْبَبْتُ أَنْ تُشَافِهَنِي بِهِ مُشَافَهَةً. قَالَ أَبُو سَلَّامٍ: سَمِعْتُ ثَوْبَانَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَوْضِي مَا بَيْنَ عَدَنٍ إِلَى عُمَانَ الْبَلْقَاءِ مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ وَأَكْوَابُهُ عَدَدُ النُّجُومِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا أَوَّلُ النَّاسِ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينِ الشُّعْثُ رُءُوسًا الدُّنْسُ ثِيَابًا الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُنَعَّمَاتِ وَلَا تُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ» قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «لَكِنِّي قَدْ نَكَحْتُ الْمُنَعَّمَاتِ فَاطِمَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمَلِكِ وَفُتِحَتْ لِي السُّدَدُ لَا جَرَمَ أَنِّي لَا أَغْسِلُ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ وَلَا ثَوْبِيَ الَّذِي يَلِي جَسَدِي حَتَّى يَتَّسِخَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7374 - صحيح

ابو سلام الاسود کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو ( میرے بارے میں) یہ اطلاع ملی کہ میں حضرت ثوبان کے واسطے سے ابو الاحوص کی حدیث بیان کرتا ہوں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اپنے آدمی بھیجے وہ ان کو حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس لے آئے انہوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کو سلام کرنے کے بعد کہا اے امیر المومنین سفر کی وجہ سے میرے پاؤں میں زخم ہو گیا ہے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہمارا ارادہ آ پکو تکلیف دینے کا نہ تھا ۔ اصل بات یہ ہے کہ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم حضرت ثوبان کے حوالے سے حوض کوثر کے بارے میں نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرمان روایت کرتے ہو مجھے یہ خواہش ہوئی کہ میں فرمان مصطفوی تم سے بالمشافہہ سنو ، اس لیے تمہیں یہاں لانے کی تکلیف دی ہے ابو سلا م نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میر احوض (مقام ) عدن ( یہ ساحلی پٹی کا علاقہ ہے جہاں ) پر یمن کا ساحل ختم ہوتا ہے اور ہند کا ساحل شروع ہوتا سے لے کے عمان البلقاء ( اس سے مراد یمن یا شام کی بستی ہے اور البلقاء سے مراد بعض مورخین کے نزدیک فلسطین کا ایک شہر ہے تک ہے اس حوض کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اس کے پیالوں کی تعداد ستاروں کے برابر ہے جو شخص اس کا ایک گھونٹ پی لے گا اس کو کبھی پیاس نہیں لگے گی اس حوض پر سب سے پہلے فقراء جہاجرین آئیں گے جو پرا گندہ بالوں والے بوسیدہ کپڑوں والے ہوں گے مالدار خواتین سے وہ نکاح نہیں کرتے اور نہ ان کے لیے مسدور رائیں کھلتی ہیں حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے فرمایا لیکن میں نے تو مالدار خاتون فاطمہ بنت عبدالملک سے نکاح کیا ہے اور میرے لیے مسدور راہیں کھول دی جاتی ہیں اب میں اپنا سر نہیں دھویا کرونگا تاکہ میرے بال پراگندہ ہو جائیں اور نہ میں اپنے جسم پر پہنے ہوئے کپڑے تبدیل کیا کروں گا تاکہ یہ بوسیدہ ہو جائیں ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

بَلَغَ عُمَرَ بنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← أبي سلام الأسود ← الْعَبَّاسُ بْنُ سَالِمٍ اللَّخْمِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ التِّنِّيسِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّنْعَانِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The clothing book › The merits of all Arabs · Hadith 7374

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ اللِّبَاسِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7389

7389 - قَالَ الْحَاكِمُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: وَفِيمَا كَتَبَ إِلَيَّ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، بِخَطِّ يَدِهِ يَذْكُرُ أَنَّ سَعْدَ بْنَ نَصْرٍ الْمُخَرِّمِيُّ، يُحَدِّثُهُمْ، ثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثَنَا أَبُو سَلَمَةَ مُحَمَّدُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسِبْتُ أَنَّ رِيحَنَا رِيحُ الضَّأْنِ مِمَّا لِبَاسُنَا الصُّوفُ وَطَعَامُنَا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7389 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم نبی اکرمصلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ہمار ےکپڑوں سے بھیڑ بکریوں کی سی بو آتی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم جانوروں کی اون کے کپڑے پہنتے تھے اور ہماری غذا پانی اور کھجور یں تھیں ۔

إِلَيَّ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، بِخَطِّ يَدِهِ يَذْكُرُ ← الْحَاكِمُ تَعَالَى: وَفِيمَا

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The clothing book › The merits of all Arabs · Hadith 7389

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7426

7426 - حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْهَاشِمِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: قَدْ أَخَذْتُ السُّنَنَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالشِّعْرَ وَالْعَرَبِيَّةَ عَنِ الْعَرَبِ، فَعَنْ مَنْ أَخَذْتِ الطِّبَّ؟ قَالَتْ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ رَجُلًا مِسْقَامًا وَكَانَ أَطِبَّاءُ الْعَرَبِ يَأْتُونَهُ فَأَتَعَلَّمُ مِنْهُمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7426 - صحيح على شرط البخاري ومسلم

حضرت عروہ فرماتے ہیں میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی آپ نے شریعت کا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیکھا ہے شعر اور عربی ادب اہل عرب سے سیکھا ہے آپ نے طب کا علم کس سے حاصل کیا ہے ؟ ام المومنین نے فرمایا حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری عمر میں بیمار ہو گئے تھے ۔ اور عرب کے بڑے بڑے طبیب آپ کے پاس ایا کرتے تھے میں نے ان کو باتیں سن سن کر ان سے طب کا علم حاصل کر لیا ۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔

الْعَرَبِ، فَعَنْ مَنْ أَخَذْتِ الطِّبَّ؟ ← رَسُولِ اللَّهِ وَالشِّعْرَ وَالْعَرَبِيَّةَ ← قُلْتُ لِعَائِشَةَ قَدْ أَخَذْتُ السُّنَنَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عبيد الله بن موسى أنبأ إسرائيل ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ← إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْهَاشِمِيُّ بِالْكُوفَةِ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7426

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7433

7433 - أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّاجِرُ، ثَنَا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الَّذِي أَنْزَلَ الدَّاءَ أَنْزَلَ الشِّفَاءَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ " [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7433 - على شرط مسلم

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے جو بیماری پیدا کی ہے اس کا علاج بھی پیدا کیا ہے ۔ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیاد کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّاجِرُ

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7433

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7435

7435 - حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الْحَافِظُ، قَالَا: ثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ، حِفْظًا، ثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ بِالشِّفَائَيْنِ: الْعَسَلُ وَالْقُرْآنُ «هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَقَدْ أَوْقَفَهُ وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ سُفْيَانَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7435 - على شرط البخاري ومسلم

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا دو شفاء دینے والی چیزوں کو لازم پکڑ لو شہد اور قرآن کریم ۔ یہ اسناد امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا اور وکیع بن جراح نے اس کو حضرت سفیان سے موقوفا روایت کیا ہے ۔

عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ← عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ، حِفْظًا، ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدٍ الْحَافِظُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7435

المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الطِّبِّ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7436

7436 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْعَدْلُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: " الشِّفَاءُ شِفَاءَانِ: قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ وَشُرْبُ الْعَسَلِ "

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دو چیزوں میں شفاء ہے قرآن کریم کی تلاوت کرنے میں شہداستعمال کرنے میں ۔

عَبْدُ اللَّهِ: الشِّفَاءُ شِفَاءَانِ: قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ وَشُرْبُ الْعَسَلِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← أَبِي إِسْحَاقَ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْعَدْلُ،

Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Medical writers › The merits of all Arabs · Hadith 7436

chevron_left Previous
1…424344…647
Next chevron_right