حضرت شعبہ رضی اللہ عنہ اپنی سند کے ہمراہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کر تے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سترھویں روزے ایک شخص کے پاس سے گزرے تو وہ پچھنے لگوار ہاتھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پچھنے لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روز ہ جا تار ہا۔ (امام حاکم فرماتے ہیں) ابومحمدالحسن بن محمد بن اسحاق الاسفرائنی نے محمد بن احمد البراء کے حوالے سے علی بن المدینی کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ شداد بن اوس کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ حدیث کہ’’ آپ نے رمضان میں ایک شخص کو پچھنے لگواتے دیکھا‘‘ اس کو عاصم الاحوال نے ابوقلا بہ کے واسطے سے ابوالاشعث سے روایت کیا ہے اوراسی کو یحیٰ بن ابی کثیر نے ابوقلا بہ کے بعد ابوا سماء کے واسطے سے ابوالاشعث سے روایت کیا ہے ۔ اور میرے نزدیک یہ دونوں حدیثیں صحیح ہیں ۔ اور یہ ممکن ہے کہ انہوں نے اس حدیث کا دونوں سے سماع کیا ہو ۔ اور روزہ دار کے لئے پچھنے لگوانے کی اجازت پرمشتمل حدیث درج ذیل ہے ۔اور اس کو امام بخاری رحمتہ اللہ نے بخاری میں نقل کیا ہے ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کی حالت میں پچھنے لگوائے ۔ اور اب اپنے زمانے کے امام المحد ثین کا اس حدیث کے متعلق کلام سنئے، تا کہ اس کے ذریعے حقیقت تک رسائی ممکن ہو سکے ۔ ( امام حاکم فرماتے ہیں )ابوبکر بن جعفر المز کی ، ابوبکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ ا حادیث ثابت ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پچھنے لگانے اورلگوانے والے دونوں کا روز ہ جا تا رہا۔ جبکہ بعض وہ لوگ جن کو اس مسئلہ میں ہمارے ساتھ اختلاف ہے وہ کہتے ہیں کہ پچھنے لگانے کے عمل سے روز نہیں ٹو ٹتا اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے ہیں ۔ حالانکہ یہ حدیث اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ پچھنے لگوانے کاعمل مفطر صوم نہیں ہے کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر عالت احرام میں پچھنے لگوائے ،ا قامت میں ایسانہیں کیا ، کیونکہ آپ اپنے شہر میں مقیم رہتے ہوئے کبھی بھی محرم نہیں ہوئے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی محرم ہوئے ، حالت سفر میں ہی ہوئے ، اور مسافراگر چہ روزہ کی نیت کر چکا ہو اور اس پر دن کا بعض وقت گز ربھی چکا ہو اور اس کے باوجوداس کے لئے کھانا پینا جائز ہے اگر چہ اس طرح کھانے پینے سے اس کا روز ہ ٹوٹ جائے گا ۔اور و ہ بات درست نہیں ہے جس کا بعض علماءکو وہم ہوا ہے کہ مسافر نے جب روز ہ شروع کر دیا ،اس کو پورا کر نا ضروری ہو جا تا ہے اور اس کو توڑ نہیں سکتا ۔ اور جب مسافر کے لئے روز ہ شروع کر نے کے باوجود،اس کی نیت کرنے کے باوجوداور دن کا کچھ وقت گزر جانے کے باوجود ، عین روزے کے حالت میں اس کے لئے اکل وشرب (یعنی کھانا پینا )حلال ہے تو اسی طرح روزہ دار کے لئے دن کا کچھ وقت گزر جانے کے بعد پچھنے لگوانا بھی حلال ہو گا ۔اگر چہ پچھنے لگوانے سے اس کا روز ہ ٹوٹ جائے گا ۔ جس طرح روزہ کی حالت میں مسافر کے لئے کھانا پینا حلال ہے اگر چہ اس سے روز ہ ٹوٹ جاتا ہے۔
حضرت سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا : جب کوئی روز ہ سے ہوتو اس کو چاہئے کہ کھجور کے ہمراہ روزہ افطار کرے اورا گر کھجور میسر نہ ہوتو پانی سے افطار کر لے کیونکہ پانی پاک کر نے والا ہے ۔ تبصر : یہ حد یث امام مسلم رحمتہ اللہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: آب زم زم پینے سے مراد یں پوری ہوتی ہیں ۔اگرتم اس کو حصول شفا کی نیت سے پیو گے تو اللہ تعالی اس کے ذریعے تمہیں شفاد یگا اور اگر تم اسے حصول پناہ کی نیت سے پیو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تمہیں پناہ دیگا اوراگرتم اسے صرف پیاس بجھانے کے لے پیو گے تو یہ تمہاری( صرف) پیاس بجھائے گا ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ آب زم زم پینے کے بعد یوں دعا مانگا کر تے تھے "اللهم أسالك علما نافعا، ورزقا واسعا، وشفاء من كل داء‘‘ اے اللہ میں تجھ سے علم نافع ، وسیع رزق اور ہر بیماری سے شفاء کا سوال کرتا ہوں‘‘ اگر یہ سند جارودی کی طرف سے سلامت رہے تو یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اور امام مسلم رحمتہ اللہ نے اس کونقل نہیں کیا ۔
حضرت ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ام المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہ اپنے ہمراہ آب زم زم رکھا کرتی تھیں اورفر مایا کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے ۔
أبيه أن عائشة كانت تحمل ماء زمزم وتخبر ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُعْفِيُّ ← خلاد بن يزيد الجعفي ← مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، وَأَنَا سَأَلْتُهُ ← الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The first book of the rituals › Insurance section · Hadith 1783
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ مَعْرِفَةِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ ‹ مِنْ كِتَابِ الْهِجْرَةِ الْأُولَى إِلَى الْحَبَشَةِ · حديث 4816
حضرت عمیر بن اسحاق سےروایت ہے کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے ، میرے جگر کو کوئی چیز کاٹ رہی ہے۔ مجھے کئی مرتبہ زہر دیا گیا لیکن اس جیسا زہر پہلے کبھی نہیں دیا گیا۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › From the Book of the First Hijra to Habash · Hadith 4816
مسلم بن صبیح بیان کرتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت ان کے پاس ایک ادمی سمٹا ہوا بیٹھا تھا، ام المومنین اس کے لیے لیموں کاٹ کاٹ کر دے رہی تھی اور اس کو شہد ملا کر کھلا رہی تھی ، میں نے پوچھا : اے ام المومنین ! اس کی انتی خدمت کیوں ہو رہی ہے ؟ ام المومنین رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ ابن مکتوم رضی اللہ عنہ ہیں ، ان کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر عتاب فرمایا : یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے ، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس عتبہ اور شیبہ بیٹھے ہوئے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عتبہ اور شیبہ کی جانب متوجہ رہے ، تب سورۃ " عبس وتولیٰ ان جاء الاعمی " نازل ہوئی ، اس میں اعمیٰ سے مراد " ابن ام مکتوم " ہیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of Amr Ibn Umm Maktoum, the muezzin, may God be pleased with him, and it is said Abdullah · Hadith 6671
ہشام بن عروہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ میں نے کوئی شخص ایسا نہیں دیکھا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ حلال و حرام ، علم ، شعر اور طب کو جانتا ہو ۔
أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← إسحاق بن إبراهيم أنبأ عيسى بن يونس ← أَبُو سَعِيدِ بْنِ شَاذَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Male Sahaabiyaat of the Messenger of Allah pairs peace be upon him, and others may Allah be pleased about them, the first of them to begin friendly girl friend Aisha girl Abu Bakr, may Allah be pleased · Hadith 6733
ابن ابی ملیکہ سے مروی ہے ، آپ فرماتے ہیں : میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی ہو کر شعر کہتی ہیں ؟ آپ کو کچھ پرواہ نہیں ہے ؟ اور اپ کا طب کے متعلق علم کتنا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب بیمار ہوئے تو عرب کے بہت وفود آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عیادت کے لئے آتے تھے ، وہ لوگ اپنے اپنے علم کے مطابق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو علاج بتایا کرتے تھے ، میں نے وہ تمام سن کر یاد کر لئے ہیں ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › Male Sahaabiyaat of the Messenger of Allah pairs peace be upon him, and others may Allah be pleased about them, the first of them to begin friendly girl friend Aisha girl Abu Bakr, may Allah be pleased · Hadith 6737
قریش کی صحابیات میںْ ْحضرت شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہ ہیں ،آ پ سلیمان بن ابی حشمہ قرشی رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں اور ابو بکر بن سلیمان بن ابی حشمہ رضی اللہ عنہ کی دادی ہیں۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the healing of the daughter of Abdullah al-Qurrashiya, may God be pleased with her · Hadith 6886
محمد بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ْاور شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہ فتح مکہ سے پہلے اسلام لائیں ،اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بیعت کی ۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the healing of the daughter of Abdullah al-Qurrashiya, may God be pleased with her · Hadith 6887
ابو بکر بن سلیمان بن ابی حشمہ قرشی ؒایک انصاری کے بارے مین بیان کرتے ہیں کہ اُس کو چیونٹی نے کاٹ لیا ،کسی نے اس کو بتایا کہ شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہ چیونٹی کے کاٹے کا دم کرتی ہے ،وہ حضرت شفاء بنت عبداللہ کے پاس آگئے ،اور ان سے دم کرنے کا کہا ،(انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کہا :) میں جب سے اسلام لائی ہوں ،تب سے کھبی بھی دم نہیں کیا ۔وہ انصاری شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہو گیا،اور شفائ بنت عبداللہ کی شکایت کی ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے شفاء بنت عبداللہ کو بلوایا (جب وہ آگئیں تو )آپ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا :وہ دم میرے سامنے پیش کرو،انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو وہ دم سنایا ۔حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا :اس کو دم کردو(کیونکہ اس دم میں کوئی کفریہ کلمات نہیں تھے )اور یہ دم حفصہ کو بھی سکھا دو۔
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of Knowledge of the Companions, may God be pleased with them › The mention of the healing of the daughter of Abdullah al-Qurrashiya, may God be pleased with her · Hadith 6888
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7075
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: حضرت ام سلیم کے پاس ایک پیالہ ہوتا تھا، میں نے اس میں حضور صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کو شہد، دودھ، نبیذ ، پانی اور ہر طرح کے مشروبات پلائے ہیں۔
معاویہ بن قرہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے بتایا ہے :ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے ہمراہ غزوات میں شر کت کی ہے ہمارے پاس کھانے کے لئے دو سیاہ چیزوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا تھا، راوی کہتے ہیں :تمہیں پتا ہے کہ "سیاہ چیز میں کیا ہیں"؟ انہوں نے کہا: جی نہیں ۔راوی نے کہا :پانی اور کھجور۔
اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں:محمد صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے گھر والوں پر آدھا آدھا اور پورا پور امبینہ گزر جاتا تھا، ان کے پاس ( کھانا پکانے اور ) چراغ جلانے تک کے لئے آگ نہ ہوتی تھی ۔ ( قاسم بن محمد کہتے ہیں ) میں نے پوچھا: آپ لوگ کھاتے پیتے کیا تھے؟ اُم المومنین رضی اللہ عنہ نے فرمایا:کھجور اور پانی۔
حضرت عروہ روایت کرتے ہیں کہ اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں: ( کبھی کبھی) ہم پر چالیس دن گزرجاتے اور رسول اللہ ان کے گھر میں چراغ تک جلانے کے لئے کچھ نہیں ہوتا تھا۔( حضرت عروہ) کہتے ہیں: میں نے عرض کی :اے ای جان! تو آپ زندہ کیسے رہتے تھے؟ انہوں نے کہا: دو سیاه چیزوں یعنی کھجور اور پانی کے ساتھ۔
عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← محمد بن أبي حميد ← ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← الحسين بن محمد القباني ← عَلِيُّ بْنُ عِيسَى
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7080
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ الْأَطْعِمَةِ ‹ فَضْلُ كَافَّةِ الْعَرَبِ · حديث 7081
محمد بن حمزہ بن عبد اللہ بن سلام اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم اپنے صحابہ کرام میں موجود تھے، کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اونٹ چلاتے ہوئے وہاں پہنچے، ان پر دو بور ے ڈالے ہوئے تھے، اونٹ کی لگام کو اپنی کمر سے باندھے ہوئے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان سے پوچھا: تمھارے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا: آٹا ،گھی اور شہد ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے فرمایا: اونٹ کو بٹھا ؤ، انہوں نے اونٹ کو بٹھایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے بڑا سا تھال منگوایا ، اس میں کچھ آٹا، گھی اور شہد ڈالا ، پھر ان کو پکالیا، اس میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے بھی کھایا اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کوبھی کھلایا، حضورصلی اللہ علیہ و الہ و سلم نے ان کو کہا: کھاؤ، کیونکہ یہ اہل فارس کے خبیص( کھانے سے ملتا جلتا ہے)
جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← محمد بن حمزة بن عبد الله بن سلام ← الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الرَّمْلِيُّ ← عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ← عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · Food Book › The merits of all Arabs · Hadith 7093
المستدرك على الصحيحين · كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ ‹ أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً · حديث 2040
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفر مایا: بے شک یہ قرآن ، اللہ تعالی کا دستر خوان ہے ۔اس کے دستر خوان سے جو کھانا چا ہو پسند کرلو۔ بے شک یہ قرآن اللہ کی رسی ہے اور نور مبین ہے اور نفع دینے والی شفاء ہے، جو ان پرعمل پیرا ہوں ، یہ ان کا محافظ ہے، اپنی اتباع کر نے والوں کے لئے نجات ( دہندہ ) ہے ۔ یہ جھکے بغیر رضا مند کر لیتا ہے اور ٹیڑھا ہوئے بغیر سیدھا کر دیتا ہے ۔اس کے عجائبات ختم نہیں ہوتے اور یہ بہت کثرت کے ساتھ پڑھے جانے سے بوسید ہ نہیں ہوتا ، اس کی تلاوت کیا کرو کیونکہ اللہ تعالی تمہیں اس کے ہر حرف کے بدلے میں دس نیکیاں عطا فر ما تا ہے ۔اور میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف (الگ )لام (الگ )اور میم (الگ ) حرف ہے۔ یہ حدیث الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمتہ اللہ اورامام مسلم رحمتہ اللہ نے صالح بن عمر کی روایات نقل نہیں کی ہیں ۔
النَّبِيِّ ← عَبْدُ اللَّهِ ← أَبِي الْأَحْوَصِ، ← صَالِحُ بْنُ عُمَرَ، أَنْبَأَ إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ، ← دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ← مسدد بن قطن بن إبراهيم ← أبو الوليد حسان بن محمد القرشي الفقيه،
Al Mustadrak Al Hakim Al Sahihain · The Book of the Virtues of the Qur’an › News about the virtues of the Qur’an as a whole · Hadith 2040