Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطب والصحة

Medicine & Health

12931 hadiths

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1980

نا محمد نا حجاج بن منهال عن حماد عن حميد عن أبي المتوكل عن أبي سعيد الخدري : أنه كان لا يرى بالحجامة للصائم بأسا

''حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ روزہ دار کی سینگی لگوانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔''

أبي سعيد الخدري أنه كان لا يرى بالحجامة للصائم بأسا ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادٌ، ← حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ← مُحَمَّدٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1980

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1981

حدثنا محمد نا نعيم بن حماد عن ابن المبارك عن خالد الحذاء عن أبي المتوكل عن أبي سعيد الخدري قال : لا بأس بالحجامة للصائم

''حضرت ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ روزے دار کے سینگی لگوانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔''

لا بأس بالحجامة للصائم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ← مُحَمَّدٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1981

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 2131

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ أَمْلَى بِبَغْدَادَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَة قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ صَائِمًا؟ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ: "مَنْ أَطْعَمَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مِسْكِينًا؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ: "مَنْ تَبِعَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ جَنَازَةً؟ " فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. قَالُ: "مَنْ عَادَ مِنْكُمُ الْيَوْمَ مَرِيضًا؟ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّه - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَا اجْتَمَعَتْ هَذِهِ الْخِصَالُ قَطُّ فِي رَجُل إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَبَر مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي بَيَّنْتُ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ فَلَوْ كَانَ فِي قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه دَخَلَ الْجَنَّةَ" دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ جَمِيعَ الْإِيمَانِ قَوْلُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّه لَكَانَ فِي هَذَا الْخَبَر دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ جَمِيعَ الْإِيمَانِ صَوْمُ يَوْمٍ، وَإِطْعَامُ مِسْكِينٍ، وَشُهُودُ جَنَازَةٍ، وَعِيَادَةُ الْمَرِيضِ، لَكِنْ هَذِهِ فَضَائِلُ لِهَذِهِ الْأَعْمَالِ، لَا كَمَا يَدَّعِي مَنْ لَا يَفْهَمُ الْعِلْمَ، وَلَا يُحْسِنُهُ.

''حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:''تم میں سے کس نے آج صبح روزے کی حالت میں کی ہے۔؟ حضرت ابو بکرؓ نے جواب دیا : میں نے ۔ آپ نے فرمایا: ''تم میں سے کس شخص نے آج کسی مسکین کو کھاناکھلایا ہے؟ حضرت ابوبکر ؓ نے کہا: میں نےکھلایاہے۔آپ نے پھر یوچھا: تم میں سے کس شخص نے آج جنازے میں شرکت کی؟ حضرت ابو بکر ؓ نے عرض کی: میں نے شرکت کی ہے۔آپ نے دریافت فرمایا: ''تم میں سے کسی نےمریض کی عیادت کی ہے؟ حضرت ابو بکر ؓ نے جواب دیا: میں نے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :''جس شخص میں بھی یہ خوبیاں جمع ہو جائیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔''اما م ابو بکرؒ فرماتے ہیں: ''یہ روایت اس قسم سے ہے جسے میں نے کتاب الا یمان مین بیان کیا ہے۔لہذا اگر آپ کے اس فرمان : ''جس شخص نے لاالہ الا اللہ کا اقرار کیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔''میں اس بات کی دلیل ہوتی کہ لا الہ الا اللہ کا اقرار ہی مکمل ایما ن ہے پھر اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہوتی کہ مکمل ایمان ایک روزہ روزہ کھنا ، مسکین کو کھانا کھلانا، جنازے میں شریک ہونا اور بیمار کی تیمارداری کرنا ہے۔ لیکن یہ تو ان اعمال کے فضائل ہیں ۔ ان سے مقصود وہ نہیں ہے جیساکہ کم علم نا تجربہ کار لوگوں نے دعویٰ کیا ہے۔''

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي حَازِمٍ ← يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← الْعَبَّاسُ بْنُ يَزِيدَ الْبَحْرَانِيُّ أَمْلَى بِبَغْدَادَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 2131

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2300

حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، قَالَ يُونُسُ -يَعْنِي-: "لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ ذَوْدٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْحَدِيثُ فِي كِتَابِ ابْنِ وَهْبٍ فِي عَقِبِ خَبَرِ مَالِكٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ فِي خَبَرِ عِيَاضٍ: مِثْلَهُ -يَعْنِي- مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ. جُمَّاعُ أَبْوَابِ صَدَقَةِ الْحُبُوبِ وَالثِّمَارِ

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ سے کم اونٹوں میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ وسق سے کم کھجوروں میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے ۔"ابو بکر ابن خزیمہ کہتے ہیں یہ حدیث ابن وہب کی کتاب میں مالک عن محمد۔۔۔۔۔عن ابی سعید عن النبی کے بعد ہے ۔ عیاض والی حدیث بھی ابوسعید کی حدیث کے مثل ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْاِعْلٰی

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2300

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2302

حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "لَا تَحِلُّ فِي الْبُرِّ وَالتَّمْرِ زَكَاةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَلَا تَحِلُّ فِي الْوَرِقِ زَكَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ أَوَاقٍ (1)، وَلَا تَحِلُّ فِي الْإِبِلِ زَكَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَةَ ذَوْدٍ".

حضرت ابوسعید خدری ؓ رسول اللہﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "جب تک گندم اور کھجور پانچ دسق نہ ہوجائیں ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی اور جب تک چاندی پانچ اوقیے نہ ہوجائے اس میں بھی زکوٰۃ نہیں ہے اور اونٹوں میں اس وقت تک زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی جب تک ان کی تعداد پانچ نہ ہوجائے ۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَی بْنِ عُمَارَةَ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَی

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2302

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2304

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ أَخْبَرَهُ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَ ذَوْدٍ مِنَ الْإِبِلِ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةُ أَوْسَاقٍ مِنَ التَّمْرِ صَدَقَةٌ".

ابو سعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ فرمایا: "پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ نہیں ہے اور نہ پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ ہے اور نہ ہی پانچ وسق سے کم کھجوروں میں زکوٰۃ ہے ۔"

اَنَّ اَبَا سَعِیْدٍ الْخُدْرِیَّ ← أَنَّ أَبَاهُ ← مَالِكٌ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2304

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2307

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: "لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ الْحَبِّ صَدَقَةٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ مِنَ الْحُلْوِ صَدَقَةٌ". قَالَ [235 - أ] أَبُو بَكْرٍ: يَعْنِي بِالْحُلْوِ التَّمْرَ وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، لَا رِوَايَةَ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الطَّائِفِيِّ، وَابْنُ جُرَيْجٍ أَحْفَظُ مِنْ عَدَدٍ مِثْلِ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ.

حضرت جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ "پانچ وسق سے کم اناج میں زکوٰۃ نہیں ہے اور نہ پانچ وسق سے کم کھجور میں زکوٰۃ ہے ۔"امام ابوبکرؒ فرماتے ہیں : حلو سے مراد کھجور ہے اور یہی صحیح معنی ہے ۔ محمد بن مسلم طائفی کی روایت درست نہیں ہے اور ابن جریج ؒ محمد بن مسلم جیسے کئی راویوں سے بڑھ کر حدیث کو یاد اور محفوظ رکھنے والے ہیں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← غَيْرُ وَاحِدٍ، ← جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2307

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2315

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: -وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ-: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ أَوَّلُ التمَرِ [قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ، ثُمَّ يُخَيِّرُ الْيَهُودَ بِأَنْ يَأْخُذُوهَا بِذَلِكَ الْخَرْصِ] أَمْ يَدْفَعُونَهُ الْيَهُودُ بِذَلِكَ. وَإِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِالْخَرْصِ لِكَيْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ التمَرَةُ وَتُفَرَّقَ.

حضرت ابوحمید الساعدی ؓ بیان کرتےہیں کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ تبوک والے سال ( جنگ تبوک کےلیے ) نکلے حتیٰ کہ ہم وادی القریٰ میں پہنچے تو ہم نے ایک عورت کو اس کے باغ میں کھڑے دیکھا تو رسول اللہﷺ نے اپنے صحابہ کرام سے کہا: "(اس باغ میں موجود پھل کا ) اندازہ لگاؤ۔" تو صحابہ کرام نے اپنا اپنا اندازہ بیان کیا اور رسول اللہﷺ نے اس کا تخمینہ د س وسق لگایا ۔ پھر رسول اللہﷺ نے اس عورت کو حکم دیا کہ " اس باغ سے جتنی کھجوریں حاصل ہوں انہیں شمار کر کے رکھنا حتیٰ کہ میں تمہارے پاس لوٹ کر آؤں ۔ ان شاء اللہ۔"( تو مجھے بتانا) پھر رسول اللہﷺ تبوک کی طرف تشریف لے گئے پھر آپ واپس آئے تو ہم بھی آپ کے ساتھ واپس پلٹے ۔ حتیٰ کہ ہم وادی القریٰ میں پہنچے تو آپ نے اس عورت سے پوچھا : " تمہارے باغ سے کتنی کھجوریں حاصل ہوئیں؟ " اس نے عرض کیا: رسول اللہﷺکے تخمینے کے مطابق دس وسق کھجوریں حاصل ہوئی ہیں۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2315

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2316

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: -وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ-: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْعَثُ ابْنَ رَوَاحَةَ فَيَخْرُصُ النَّخْلَ حِينَ يَطِيبُ أَوَّلُ التمَرِ [قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ، ثُمَّ يُخَيِّرُ الْيَهُودَ بِأَنْ يَأْخُذُوهَا بِذَلِكَ الْخَرْصِ] أَمْ يَدْفَعُونَهُ الْيَهُودُ بِذَلِكَ. وَإِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ بِالْخَرْصِ لِكَيْ تُحْصَى الزَّكَاةُ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ التمَرَةُ وَتُفَرَّقَ.

حضرت عائشہ ؓ خبیر ( کے باغات ) کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں: رسول اللہﷺ حضرت ابن رواحہ ؓ کو کھجوروں کے پکتے ہی ( خبیر ) بھیجتے اور وہ کھجوریں کھائی جانے سے پہلے ان کی مقدار کا تخمینہ لگا لیتے۔ پھر وہ یہودیوں کو اختیار دیتے کہ وہ اس تخمینے کے مطابق ( اپنا حصہ ) وصول کر لیں یا یہودی ( مسلمانوں کو ) اس اندازے کے مطابق ( ان کا حصہ) ادا کردیں اور بلاشبہ رسول اللہﷺ نے تخمینہ لگانے کا حکم اس لیے دیا تھا تاکہ کھجوریں کھانے اور انہیں تقسیم کرنے سے پہلے ان کی زکوٰۃ کا اندازہ معلوم ہوسکے۔

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2316

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2337

حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ وَعَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ جَمِيعًا، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْجَزَرِيُّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الْبَكْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَمَا هُوَ يَوْمٌ فِي بَيْتِهَا وَعِنْدَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَتَحَدَّثُونَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا مِنَ التَّمْرِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "كَذَا وَكَذَا". قَالَ الرَّجُلُ: فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدَّى عَلَيَّ فَأَخَذَ مِنِّي كَذَا وَكَذَا فَازْدَادَ صَاعًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "فَكَيْفَ إِذَا سَعَى عَلَيْكُمْ مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي؟ " فَخَاضَ النَّاسُ وَبَهَرَهُمُ الْحَدِيثُ حَتَّى قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنْ كَانَ رَجُلًا غَائِبًا عِنْدَ إِبِلِهِ وَمَاشِيَتِهِ وَزَرْعِهِ فَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَتَعَدَّي عَلَيْهِ الْحَقَّ، فَكَيْفَ يَصْنَعُ وَهُوَ غَائِبٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا يُرِيدُ وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةِ لَمْ يُغَيِّبْ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَدَّى الزَّكَاةَ، فَتَعَدَّى عَلَيْهِ الْحَقَّ، فَأَخَذَ سِلَاحَهُ فَقَاتَلَ، فَقُتِلَ؛ فَهُوَ شَهِيدٌ".

حضرت ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں اس اثناء میں کہ رسول اللہﷺ ان کے گھر میں تشریف فرما تھے اور آپ کے پاس آپ کے کچھ صحابہ کرام بھی موجود تھے اور باہمی گفتگو کر رہے تھے جب ایک شخص آیا اور اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! اگر کھجوروں کی اتنی اتنی مقدار ہو تو ان میں کتنی زکوٰۃ ہے ؟ آپ نے فرمایا: "اتنی مقدار زکوٰۃ فرض ہے ۔"اس شخص نے کہا: بے شک فلاں عامل نے مجھ پر ظلم کیا ہے اور اس نے مجھ سے اتنی زکوٰۃ وصول کی ہے اور ایک صاع زائد لے لیا ہے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: "اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب تمہارا تحصیل دار تم پر اس سے بھی زیادہ ظلم کرے گا؟"پھر لوگ باتوں میں مشغول ہوگئے اور انہیں اس بات نے حیران وپریشان کر دیا کہ حتیٰ کہ ایک شخص نے عرض کی : اے اللہ کے رسولﷺ! اگر کوئی شخص ( بستی سے دور) اپنے اونٹوں ، جانوروں اور کھیتی کے پاس ہو اور وہ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کر دے پھر تحصیل دار اس پر ظلم کرے تو وہ کیا کرے جبکہ وہ آپ سے بہت دور رہتا ہو؟ تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: "جس شخص نے اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کے لیے بخوشی زکوٰۃ ادا کی اور اپنے مال میں سے کوئی چیز ( تحصیل دار سے ) غائب نہ کی ، اور نماز قائم کی ، پھر اس نے زکوٰۃ ادا کر دی اور تحصیل دار نے اس پر ظلم کیا تو اس نے اپنے ہتھیار اٹھا کر لڑائی لڑی اور مارا گیا تو وہ شہید ہے ۔"

عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ: ← الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الْبَكْرِيِّ، ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الْجَزَرِيُّ، ← عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ وَعَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ جَمِيعًا، ← زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبَانَ الْمِصْرِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2337

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2349

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي مَرْيَمَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: أَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلْتُهَا فِي فِيَّ فَانْتَزَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلُعَابِهَا فَأَلْقَاهَا فِي التَّمْرِ. فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا عَلَيْكَ مِنْ هَذِهِ التَّمْرَةِ لِهَذَا الصَّبِيِّ. قَالَ: "إِنَّا آلَ مُحَمَّدٍ لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ". وَكَانَ يَقُولُ: "دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكُ، فَإِنَّ الْخَيْرَ طُمَأْنِينَةٌ، وَإِنَّ الْكَذِبَ رِيبَةٌ"، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ.

جناب ابو الحوراء بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن ؓ سے کہا: آپ کو رسول اللہﷺ کی کون سی بات یاد ہے ؟ انہوں نے فرمایا:مجھے رسول اللہﷺ کی یہ بات یاد ہے کہ میں نے زکوٰۃ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے کر منہ میں ڈال لی تو رسول اللہﷺ نے وہ کھجور لعاب سمیت کھینچ کر زکوٰۃ کی کھجوروں میں پھینک دی ۔ اس پر رسول اللہﷺ سے عرض کی گئی : اس بچے میں جو کھجور لے لی تھی اس پر آپ پر تو کوئی حرج نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا : بے شک ہم آل محمد کے لیے زکوٰۃ کا مال حلال نہیں ہے اور آپ فرمایا کرتے تھے ۔ جو چیز تمہیں شک وشبہ میں ڈالے اسے چھوڑ کر وہ چیز اختیار کر و جو تمہیں شک میں نہ ڈالے کیونکہ خیروبرکت اطمینان قلب میں ہے اور جھوٹ شک وشبہ والا ہوتا ہے ۔ "پھر مکمل حدیث بیان کی ۔

قُلْتُ لِلْحَسَنِ: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي الْحَوْرَاءِ ← ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ← بُنْدَارٌ وَأَبُو مُوسَى،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2349

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2352

وَفِي خَبَرِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، إِنَّمَا كَانَ ذَلِكَ التَّمْرُ مِنَ الْعُشْرِ أَوْ مِنْ نِصْفِ الْعُشْرِ، الصَّدَقَةُ الَّتِي يَجِبُ فِي التَّمْرِ.

حضرت حسن بن علی ؓ کی روایت میں ہے: میں نے زکوٰۃ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھالی اور یہ کھجور ، کھجوروں کی فرض زکوٰۃ دسویں یا بیسیویں حصے میں سے تھی۔

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2352

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ کِتَابُ الزّکاۃ · حديث 2392

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ حِينَ فَرَضَ صَدَقَةَ الْفِطْرِ: "صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ"، فَكَانَ لَا يُخْرِجُ إِلَّا التَّمْرَ.

حضر ت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا جبکہ آپ نے صدقہ فطر کو فرض کیا تھا ۔ آپ فرما رہے تھے:( صدقہ فطر ) کھجور سے ایک صاع اور جو سے بھی ایک صاع فرض ہے ۔ چنانچہ حضرت ابن عمرؓ صدقہ فطر میں کھجور ہی دیا کرتے تھے ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَبِيهِ ← الْمُعْتَمِرُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Book of Zakat · Hadith 2392

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ الفِطرِ فِی رَمَضَانَ · حديث 2395

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَمُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ: ابْنُ عُلَيَّةَ، قَالَ أَحْمَدُ وَزِيَادٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، وَقَالَ مُؤَمَّلٌ وَالزَّعْفَرَانِيُّ: عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، صَاعَ تَمْرٍ أَوْ صَاعَ شَعِيرٍ. قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ نِصْفَ صَاعِ بُرٍّ. لَمْ يَقُلْ أَحْمَدُ وَمُؤَمَّلٌ بَعْدُ. زَادَ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالَ: فَقَالَ نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي التَّمْرَ إِلَّا عَامًا وَاحِدًا أَعْوَزَ مِنَ التَّمْرِ فَأَعْطَى الشَّعِيرَ.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ہر مرد ، عورت ، آزاد اور غلام شخص پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو صدقہ رمضان فرض کیا ہے ۔ پھر لوگوں نے گندم کا نصف صاع اس کے برابر قرار دے دیا ۔ اس کے بعد کی کلام جناب احمد اور مؤمل کی روایت میں موجو نہیں ہے ۔ جبکہ زیاد بن ایوب کی روایت میں بعد والا اضافہ موجو د ہے کہتے ہیں : امام نافع ؒ نے فرمایا: حضرت ابن عمر ؓ کھجور ہی سے صدقہ فطر دیا کرتے تھے ۔ سوائے ایک سال کے کہ اس سال کھجوریں نایا ب ہوگئیں تو انھوں نے جو سے صدقہ فطر ادا کیا۔

وَالْأُنْثَى، وَالْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، صَاعَ تَمْرٍ أَوْ صَاعَ شَعِيرٍ. ← فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صَدَقَةَ رَمَضَانَ عَلَى ال ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← مُؤَمَّلٌ وَالزَّعْفَرَانِيُّ: ← أَيُّوبَ، ← أَحْمَدُ وَزِيَادٌ ← الزَّعْفَرَانِيُّ: ابْنُ عُلَيَّةَ، ← إِسْمَاعِيلُ ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ، ← زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan · Hadith 2395

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ الفِطرِ فِی رَمَضَانَ · حديث 2397

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَكَاةَ رَمَضَانَ عَنِ الْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ، وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ. أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ. قَالَ: فَعَدَلَ النَّاسُ بِهِ نِصْفَ صَاعِ بُرٍّ. قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا أَعْطَى أَعْطَى التَّمْرَ إِلَّا عَامًا وَاحِدًا أَعْوَزَ مِنَ التَّمْرِ فَأَعْطَى شَعِيرًا. قَالَ: قُلْتُ: مَتَى كَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي الصَّاعَ؟ قَالَ: إِذَا قَعَدَ الْعَامِلُ. قُلْتُ: مَتَى كَانَ الْعَامِلُ [245 - أ] يَقْعُدُ؟ قَالَ: قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ہر آزاد ، غلام ، مرد اور عورت کی طر ف سے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو صدقہ فرض کیا ۔ پھر لوگوں نے نصف صاع گندم کو ایک صاع ( کھجور یا جو) قرار دے دیا ۔ اور حضرت ابن عمر ؓ جب صدقہ فطر ادا کر تے تو کھجور ہی سے ادا ئیگی کرتے سوائے ایک سال کے اس سال کھجور کمیاب ہوگئی تو انہوں نے جَو سے صدقہ فطر ادا کیا۔ جناب ایوب کہتے ہیں : میں نے پوچھا : حضرت ابن عمر صدقہ فطر کا ایک صاع کب ادا کرتے تھے ؟ امام نافع نے جواب دیا: جب صدقہ فطر وصول کرنے والا عامل وصولی کےلیے بیٹھ جاتا ۔ میں نے پوچھا : وصولی کا عامل کب بیٹھتا تھا؟ انھوں نے جواب دیا : عیدالفطر سے ایک یا دو دن پہلے بیٹھتا تھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَارِثِ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى الْقَزَّازُ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan · Hadith 2397

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ الفِطرِ فِی رَمَضَانَ · حديث 2404

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَامَةُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّهُ كَانَ يُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، وَأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ: جَعَلَ النَّاسُ عَدْلَ الشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ.

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ رسول اللہﷺ سے روایت کر تے ہیں کہ آپ ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو صدقہ فطر اد اکرتے تھے ۔ اور حضرت عبداللہ فرماتے ہیں : لوگوں نے جَو اور کھجور ( کے ایک صاع) کے برابر گندم کے دو مد( نصف صاع) قرار دے دیے۔"

جَعَلَ النَّاسُ عَدْلَ الشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ مُدَّيْنِ مِنْ حِنْطَةٍ. ← عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ مَوْلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ← عَقِیلٍ ← سلامة ← مُحَمَّدُ بْنُ عُزَيْزٍ الْأَيْلِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan · Hadith 2404

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ الفِطرِ فِی رَمَضَانَ · حديث 2405

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزْعَةَ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ بِالصَّاعِ مِنَ التَّمْرِ، وَالصَّاعِ مِنَ الشَّعِيرِ، قَالَ: وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ يَقُولُ: جَعَلَ النَّاسُ عَدْلَ بِمُدَّيْنِ (1) مِنْ حِنْطَةٍ.

"حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے ۔ اور حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: لوگوں نے کھجور اور جَو کے ایک صاع کو گندم کے دو مد( نصف صاع) کے برابر کر دیا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، ← الْفُضَیْلُ بْنُ سُلَیْمَانَ ← الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan · Hadith 2405

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الزّکاۃ ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ صَدَقَۃَ الفِطرِ فِی رَمَضَانَ · حديث 2406

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي الزَّرَدِ الْأُبُلِّيُّ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا فُضَيْلُ بْنُ غَزَوَانَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمْ تَكُنِ الصَّدَقَةُ [245 - ب] عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا التَّمْرُ، وَالزَّبِيبُ، وَالشَّعِيرُ، وَلَمْ تَكُنِ الْحِنْطَةُ.

حضرت ابن عمر ؓ بیان کرتےہیں کہ رسول اللہﷺ عہد مبارک میں صدقہ فطر کھجور کشمش اور جَو سے ادا کیا جاتا تھا ۔ گندم صدقے صدقے میں ادا نہیں کی جاتی تھی۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← فُضَيْلُ بْنُ غَزْوَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ← مُحَمد بن سفيان بن أبي الزرد الأبلي،

Sahih Ibn Khuzamia · The Book of Zakat › The Gates of Gates Sadaqed Al-Fitr in Ramadan · Hadith 2406

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2945

ثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثَنَا سُفْيَانُ، ثَنَا عَاصِمٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَرِبَ دَلْوًا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ قَائِمًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَرَادَ شَرِبَ مِنْ دَلْوٍ، لَا أَنَّهُ شَرِبَ الدَّلْوَ كُلَّهُ، وَهَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي قَدْ أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ اسْمَ الشَّيْءِ قَدْ يَقَعُ عَلَى بَعْضِ أَجْزَائِهِ، كَقَوْلِهِ: (وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ) [الإسراء: 110] فَأَوْقَعَ اسْمَ الصَّلَاةِ عَلَى الْقِرَاءَةِ خَاصَّةً. وَكَقَوْلِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "قَالَ اللَّهُ: "قَسَمْتُ الصَّلَاةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ"، ثُمَّ ذَكَرَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ خَاصَّةً، فَأَوْقَعَ اسْمَ الصَّلَاةِ عَلَى قِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي الصَّلَاةِ خَاصَّةً.

حضرت ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر ایک ڈول سے آب زمزم پیا۔ اما م ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : حضرت ابن عباس ؓکا مطلب یہ ہے کہ آپ نے ایک ڈول سے آب زمزم پیا ، یہ مطلب نہیں کہ پورا ڈول ہی پی لیا۔ اور یہ بات اسی جنس سے ہے جسے میں اپنی کتابوں میں کئی جگہ بیان کر چکا ہوٖں کہ بعض دفعہ کسی چیز کا نام لے کر اس کے کسی حصے کو مراد لیا جاتا ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے (وَلَا تَجْھَرْ بِصَلَا تِکَ ) (الا سراء۱۱۰)"اور اپنی نماز زیادہ بلند آواز سے نہ پڑھیں" اس طرح نماز کا لفظ صرف قراءت پر بولا گیا ہے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان "اللہ تعالیٰ فرماتےہیں : میں نے اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نماز آدھی تقسیم کر لی ہے : پھر سورۂ فاتحہ کا تزکرہ کیا ۔ اس طرح لفظ نماز سے نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنا مراد لیا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ، ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2945

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ المَنَاسِکِ ‹ کِتَابُ المَنَاسِکِ · حديث 2947

ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ؛ ح وَثَنَا أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ثَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ بَكْرٍ -وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ-: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى السِّقَايَةِ فَشَرِبَ نَبِيذًا، فَقَالَ: مَا بَالُ أَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ يَسْقُونَ النَّبِيذَ وَبَنُو عَمِّهِمْ يَسْقُونَ اللَّبَنَ وَالْعَسَلَ، أَمِنْ بُخْلٍ أَمْ مِنْ حَاجَةٍ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ، وَذَاكَ بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُهُ: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ. فأتي بِهِ. فَقَالَ: إِنَّهُ لَيْسَتْ بِنَا حَاجَةٌ، وَلَا بُخْلٌ، وَلَكِنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ، وَخَلْفَهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، فَاسْتَسْقَى، فَسَقَيْنَاهُ نَبِيذًا، فَشَرِبَ، ثُمَّ نَاوَلَ فَضْلَهُ أُسَامَةَ، فَقَالَ: "قَدْ أَحْسَنْتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ، وَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا". فَنَحْنُ لَا نُرِيدُ أَنْ نُغَيِّرَ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا الْخَبَرُ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ فِي كُتُبِنَا: إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُبِيحُ الشَّيْءَ بِذِكْرٍ مُجْمَلٍ وَيُبَيِّنُ فِي آيَةٍ أُخْرَى عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ مَا أَبَاحَهُ بِذِكْرٍ مُجْمَلٍ أَرَادَ بِهِ بَعْضَ ذَلِكَ الشَّيْءِ الَّذِي ذَكَرَهُ مُجْمَلًا، لَا جَمِيعَهُ. وَكَذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُبِيحُ الشَّيْءَ بِذِكْرٍ مُجْمَلٍ وَيُبَيِّنُهُ فِي وَقْتٍ تَالٍ أَنَّ مَا أَجْمَلَ ذِكْرَهُ أَرَادَ بِهِ بَعْضَ ذَلِكَ الشَّيْءِ لَا جَمِيعَهُ كَقَوْلِهِ: (وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ) [البقرة: 187]. فَأَجْمَلَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ ذِكْرَ الْمَأْكُولِ وَالْمَشْرُوبِ وَبَيَّنَ فِي غَيْرِ هَذَا الْمَوْضِعِ أَنَّهُ إِنَّمَا أَبَاحَ بَعْضَ الْمَأْكُولِ وَبَعْضَ الْمَشْرُوبِ لَا جَمِيعَهُ، وَهَذَا بَابٌ طَوِيلٌ قَدْ بَيَّنْتُهُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا، فَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّمَا أَبَاحَ الشُّرْبَ مِنْ نَبِيذِ السِّقَايَةِ إِذَا لَمْ يَكُنْ مُسْكِرًا لِأَنَّهُ أَعْلَمَ أَنَّ الْمُسْكِرَ حَرَامٌ.

جناب بکر بن عبداللہ ؒ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی شخص سبیل پر آیا اور اس نے نبیذ پی۔ تو وہ کہنے لگا:اس گھر والوں کو کیا ہوا ہے کہ یہ لوگوں کو نبیذ پلارہے ہیں حالانکہ ان کے چچا زاد تو دودھ اور شہد پلارہے ہیں کیا یہ بخل کی وجہ سے کر رہے ہیں یا خود ضرورت مند ہیں؟ تو حضرت ابن عباس ؓ کہا: اس شخص کو میرے پاس لاؤ ، اس وقت ان کی بینائی ختم ہو چکی تھی اس شخص کو آپ کے پاس لایا گیا تو فرمایا: ہم محتاج نہیں ہیں اور نہ بخیل ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ مسجد حرام میں داخل ہوئے جبکہ آپ اونٹ پر سوار تھے اور آپ کے پیچھے حضرت اسامہ بن زید ؓ سوار تھے۔ آپ نے پانی مانگا تو ہم نے آپ کو نبیذ پلائی، آپ نے اسے پی لیا اور باقی نبیذ حضرت اسمامہ کو دے دی پھر فرمایا: " تم نے بہت اچھا اور خوبصورت کام کیا ہے ۔ اسی طرح کیا کرو"، لہٰذا ہم اس کام کو تبدیل کرنا نہیں چاہتے ۔ اما م ابوبکر ؒ فرماتے ہیں : یہ روایت اسی قسم سے ہے جس کے بارے میں ہم اپنی کتب میں بیان کر چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو مجمل طور پر جائز قرار دیتے ہیں پھر دوسری آیت کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی زبانی وضاحت فرمادیتے ہیں کہ اجمالی طور پر جائز قرار دی جانے والی چیز مکمل طور پر جائز نہیں بلکہ اس کا کچھ حصہ جائز ہے اسی طرح نبی اکرم ﷺ کسی چیز کو اجمالاً جائز قرار دیتے ہیں پھر اس کے بعد وضاحت کر دیتے ہیں کہ اجمالاً جائز قرار پانے والی چیز سے آپ کی مراد اس چیز کا کچھ حصہ ہے ، ساری چیز جائز نہیں ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے : (وَکُوْر وَ شْرَ بُوْ احَتَّی یَتَبَیَّنَ لَکُمُ الْخَیْطُ الْاَبْیَضُ مِنَ الْخَیْطِ الْاَسْوَدِ)( البقرۃ:۱۸۷) کھاؤ اور پیو حتی کہ صبح کی سفید دھاری سیاہ دھاری سے واضح ہو جائے ۔ " اس آیت میں اجمالاً کھانے پینے کا ذکر ہے لیکن دوسرے مقام پر بیان فرما دیا کہ کچھ کھانے اور کچھ مشرابات حلال کیے ہیں تمام مشرابات اور ماکولات جائز نہیں ۔ یہ ایک طویل باب ہے جسے ہم اپنی کتب میں کئی جگہ ذکر کر چکے ہیں ۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ نے سبیل کی وہ نبیذپینا حلال کیا ہے جو نشہ آور نہ ہو کیونکہ آپ نے بتایا ہے کہ نشہ آور چیز حرام ہے۔

ابْنُ عَبَّاسٍ، وَذَاكَ بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُهُ: عَلَيَّ بِالرَّجُلِ. فأتي بِهِ. ← الْعَسَلَ، أَمِنْ بُخْلٍ أَمْ مِنْ حَاجَةٍ؟ ← مَا بَالُ أَهْلِ هَذَا الْبَيْتِ يَسْقُونَ النَّبِيذَ وَبَنُو عَمِّهِمْ يَسْقُونَ اللَّ بَنَ ← بَكْرٍ -وَهَذَا حَدِيثُ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ-: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى السِّقَايَةِ فَشَرِبَ نَبِيذًا، ← حُمَيْدٍ ← خَالِدٌ، ← أَبُو بِشْرٍ الْوَاسِطِيُّ، ← بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ،

Sahih Ibn Khuzamia · The book of rituals › The book of rituals · Hadith 2947

chevron_left Previous
1…404142…647
Next chevron_right