Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطب والصحة

Medicine & Health

12931 hadiths

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5381

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، قَالَ: [ص:202] حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَنْبِذُوا التَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا، وَلَا الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا، وَانْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَةٍ»

حضرت ابو ہریرہؓ روایت کرتے ہیں’نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’ کھجور اور کشمش کو ملا کر نبیذ تیار نہ کرو تازہ اور خشک کھجور کو ملا کر نبیذ تیار نہ کرو۔ ان میں سے ہر ایک کی نبیذ علیحدہ تیار کرو‘‘۔

أَبُو هُرَيْرَةَ ← [ص:149] ← أَبُو كَثِيرٍ السُّحَيْمِيُّ، ← عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5381

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5388

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَابْنُ إِدْرِيسَ وَابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، سَمِعَ عُمَرَ عَلَى الْمِنْبَرِ، مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، وَهِيَ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عمرؓ کو نبی اکرمﷺ کے منبر پر یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ ’’ اما بعد ! اے لوگوں جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا ‘ تو یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی۔ انگور ، کھجور،شہد ،گندم اور جَو اور ویسے خمر ہر اس چیز کو کہتے ہیں: جو عقل کو ڈھانپ لے۔

عُمَرَ عَلَى الْمِنْبَرِ، مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَابْنُ إِدْرِيسَ وَابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5388

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5394

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: لَقَدْ سَقَيْتُ بِقَدَحِي هَذَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّبَنَ وَالْمَاءَ وَالْعَسَلَ وَالنَّبِيذَ «

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: میں نے اپنے اس پیالے کے ذریعے نبی اکرمﷺ کو دودھ اور پانی اور شہد اور نبیذ پلائی ہیں۔

لَقَدْ سَقَيْتُ بِقَدَحِي هَذَا رَسُولَ اللَّهِ اللَّبَنَ وَالْمَاءَ وَالْعَسَلَ وَالنَّبِيذَ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5394

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5398

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى الْفُضَيْلِ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ عَامِرًا، حَدَّثَهُ [ص:220] أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ خَطَبَ النَّاسَ بِالْكُوفَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْخَمْرَ مِنَ الْعَصِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ، وَإِنِّي أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ»

حضرت نعمان بن بشیرؓ نے کوفہ میں خطبہ دیتے ہوئے یہ بات بیا ن کی۔ میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ بے شک خمر انگور، کھجور، گندم اور جَو اور مکئی سے بنائی جاتی ہے اور میں تمہیں ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں‘‘۔

كُلِّ مُسْكِرٍ» ← «إِنَّ الْخَمْرَ مِنَ الْعَصِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ، وَإِنِّي أَنْهَاكُمْ ← رَسُولِ اللَّهِ ← [ص:220] أَنَّ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ خَطَبَ النَّاسَ بِالْكُوفَةِ، فَقَالَ: ← أَبِي حَرِيزٍ، أَنَّ عَامِرًا، ← عَلَى الْفُضَيْلِ، ← مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُجَيْرٍ"1" الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5398

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6684

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَكَانَ لَهُ بِهَا - يَعْنِي - عَرِيفٌ، نَزَلَ عَلَى عَرِيفِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ بِهَا عَرِيفٌ [ص:78] نَزَلَ الصُّفَّةَ، قَالَ: فَكُنْتُ فِيمَنْ نَزَلَ الصُّفَّةَ، قَالَ: فَرَافَقْتُ رَجُلًا فَكَانَ يُجْرَى عَلَيْنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ يَوْمٍ مُدٌّ مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الصَّلَاةِ، فَنَادَاهُ رَجُلٌ مِنَّا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أَحْرَقَ التَّمْرُ بُطُونَنَا، قَالَ: فَمَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مِنْبَرِهِ، فَصَعِدَ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ، قَالَ: حَتَّى مَكَثْتُ أَنَا وَصَاحِبِي بِضْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْبَرِيرُ - وَالْبَرِيرُ ثَمَرُ الْأَرَاكِ - فَقَدِمْنَا عَلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ وَعُظْمُ طَعَامِهِمُ التَّمْرُ، فَوَاسَوْنَا فِيهِ، وَاللَّهِ لَوْ أَجِدُ لَكُمُ الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ، لَأَطْعَمْتُكُمُوهُ، وَلَكِنْ لَعَلَّكُمْ تُدْرِكُونَ زَمَانًا - أَوْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ - يَلْبَسُونَ فِيهِ مِثْلَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، وَيُغْدَى عَلَيْهِمْ، وَيُرَاحُ بِالْجِفَانِ «

حضرت طلحہ بن عمر و رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے جب کوئی شخص مدینہ منورہ آتا ۔ اس کا وہاں کوئی دوست ہوتا تو وہ اپنے دوست کے ہاں پڑاؤ کرتا تھا اور اگر اس کا کوئی دوست نہ ہوتا تو وہ صفا کے چبوترے پر پڑاؤ کرتا ۔ راوی کہتے ہیں : میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جنہوں نے صفاء کے چبوترے ہر پڑاؤ کیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی طرف سے روزانہ کھجوروں کا ایک مد ہماری طرف آیا کرتا تھا ۔ ایک دن نبی اکرم ﷺ نے نماز پڑھنے کے بعد سلام پھیرا تم ہم نے اس ایک شخص نے بلند آواز میں آپ کو مخاطب کیا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ ! کھجوروں نے ہمارے پیٹو ں کو جلا دیا ۔ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ منبر کی طرف تشریف لے گئے آپ اس پر چڑھے آپ نے اللہ تعالی کی حمدو ثنا ء بیان کی ۔ پھر آپ نے اپنی قوم کی طرف سے پیش آنے والی (مشکلات ) کا ذکر کیا' یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشادفرمایا: میرے اور میرے ساتھی پر دس سے زیادہ دن ایسے بھی گزرے کہ ہمارے پاس کھانے کے لئے صرف بریر ہوتا تھا ( راوی کہتے ہیں: ) بریر سے مراد پیلو کا پھل ہے۔ (نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) پھر ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آئے تو ان کی زیادہ تر خوراک کھجور ہوتی تھی ۔ انہوں نے اس بارے میں ہمارا ساتھ دیا۔ اللہ کی قسم ! اگر مجھے تمہارے لئے روٹی اور گوشت ملے تو میں وہ بھ کھلاؤں گا اور عنقریب تمہیں ایک ایسا زمانہ ملے گا ۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) تم میں سے جو شخص اس زمانے تک پہنچے گا تو لوگ اس میں کعبہ کے پردوں جیسا (عمدہ لباس ) پہنیں گے' اور صبح شام ان کے پاس پیالوں میں (مختلف قسم کی کھانے کی چیزیں ) آئیں گی۔

طَلْحَةَ بْنِ عَمْرٍو، ← أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6684

صیح ابن حبان · کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ ‹ بَابٌ فَضلُ الاُ مَّۃِ · حديث 7241

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ حَوْضِي لَأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ إِلَى عَدْنَ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ، وَلَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَذُودُ عَنْهُ الرِّجَالَ كَمَا يَذُودُ الرَّجُلُ الْإِبِلَ الْغَرِيبَةَ عَنْ حَوْضِهِ»، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَتَعْرِفُنَا؟ قَالَ: «نَعَمْ، تَرِدُونَ عَلَيَّ غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ لَيْسَ لِأَحَدٍ غَيْرِكُمْ» قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأَبْعَدُ مِنْ أَيْلَةَ إِلَى عَدْنَ» تَأْكِيدٌ فِي الْقَصْدِ لَا أَنَّهُ أَبْعَدُ مِنْهُمَا.

حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

حُذَيْفَةَ ← رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ← سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them › The door is the preference of the mother · Hadith 7241

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7406

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: [ص:420] كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ، فَنَزَلَ جِبْرِيلُ فَفَرَجَ صَدْرِي، ثُمَّ غَسْلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا، فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي، ثُمَّ أَطْبَقَهُ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي، فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ، فَلَمَّا جِئْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا، قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ سَمَاءِ الدُّنْيَا: افْتَحْ، قَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا جِبْرِيلُ، قَالَ: هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ؟ قَالَ: نَعَمْ مَعِي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَفُتِحَ، فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى، قَالَ: مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ، وَالِابْنِ الصَّالِحِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا آدَمُ، وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ، فَأَهْلُ الْيَمِينِ مِنْهُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ، وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ، فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ، وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى، ثُمَّ قَالَ: خَرَجَ بِي جِبْرِيلُ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ لِخَازِنِهَا: افْتَحْ، فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَفَتَحَ»، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَاوَاتِ آدَمَ، وَإِدْرِيسَ، وَعِيسَى، وَمُوسَى، وَإِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُثْبِتْ كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ، غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا، وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، وَأَبَا حَبَّةَ الْأَنْصَارِيَّ، كَانَا يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ثُمَّ عَرَجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ [ص:421] لِمُسْتَوًى أَسْمَعُ فِيهِ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ»، قَالَ ابْنُ حَزْمٍ، وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَفَرَضَ اللَّهُ عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً، فَرَجَعْتُ كَذَلِكَ حَتَّى مَرَرْتُ بِمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى مَا فَرَضَ رَبُّكَ عَلَى أُمَّتِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً، فَقَالَ لِي مُوسَى: فَرَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَوَضَعَ شَطْرَهَا، فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ، فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ، قَالَ: فَرَاجَعْتُ رَبِّي، فَقَالَ: هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ، قَالَ: فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: رَاجِعْ رَبَّكَ، فَقُلْتُ: قَدِ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَى بِي سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى، فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لَا أَدْرِي مَا هِيَ، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ»

۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میں مکہ میں موجود تھا۔ میرے گھر کی چھت کو کھولا گیا حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے انہوں نے میرے سینے کو کھولا اسے آب زم زم کے ذریعے دھویا۔ پھر وہ ایک طشت لے کر آئے، جو حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے اسے میرے سینے میں انڈیل کر پھر اسے سی دیا۔ پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لے کر آسمان کی طرف چڑھ گئے جب ہم آسمان دنیا پر آئے، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آسمان دنیا کے نگران سے کہا: دروازہ کھولو ۔ اس نے کہا: کون ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل ہوں۔ اس نے دریافت کیا: آپ کے ساتھ کوئی ہے۔ا نہوں نے جواب دیا: میرے ساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ اس نے دریافت کیا: کیا انہیں پیغام بھجوایا گیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، تو دروازے کو کھول دیا گیا۔ جب ہم آسمان دنیا پر چڑھے، تو وہاں ایک شخص موجود تھا، جس کے دائیں طرف بہت سارے لوگ تھے اور بائیں طرف بہت سارے لوگ تھے۔ جب ہو اپنے دائیں طرف دیکھتا تھا، تو ہنسنے لگتا تھا، اور جب وہ اپنے بائیں طرف دیکھتا تھا، تو رونے لگتا تھا۔ اس نے کہا: نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نےدریافت کیا: اے جبرائیل یہ کون ہے؟ انہوں نے بتایا: یہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور یہ ان کے دائیں طرف اور بائیں طرف موجود لوگوں سے مراد ان کی اولاد ہے۔ ان لوگوں میں سے دائیں طرف والے جنتی ہیں اور بائیں طرف والے جہنمی ہیں۔ جب یہ اپنے دائیں طرف دیکھتے ہیں، تو ہنسنے لگتے ہیں اور جب اپنے بائیں طرف دیکھتے ہیں ،تو رونے لگتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر جبرائیل مجھے لے کر دوسرے آسمان پر آئے انہوں نے اس کے نگران سے کہا: دروازہ کھولو۔ اس کے نگران نے ان سے دریافت کیا، وہی کچھ جو آسمان دنیا کے نگران نےکہا تھا: پھر اس نے دروازہ کھول دیا۔ حضر ت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات ذکر کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمانوں میں حضرت آدم علیہ السلام ، حضرت ادریس علیہ السلام ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات کی۔ اللہ تعالیٰ کا درود حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان حضرات پر نازل ہو۔ البتہ راوی نے یہ وضاحت نہیں کی کہ ان حضرات کے مقامات کون کون سے تھے؟ صرف یہ بات ذکر کی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان دنیا پر حضرت آدم علیہ السلام کو پایا تھا، اور چھٹے آسمان پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پایا تھا۔ ابن شہاب زہری کہتے ہیں: ابن حزم نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ حضر عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابو حبہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: "پھر وہ مجھے لے کر اوپر چڑھے، یہاں تک کہ میں مقام مستوی تک پہنچ گیا جہاں میں نے قلموں کے چلنے کی آواز سنی"۔ ابن حزام کہتے ہیں: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہاں اللہ تعالیٰ نے میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں، میں واپس آیا، تو میرا گزر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس ہوا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا: آپ کے پروردگار نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے جواب دیا۔ اس نے ان لوگوں پر پچاس نمازیں فرض کی ہیں، تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مڑ کر کہا۔ آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت اتنی طاقت نہیں رکھے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں اپنے پروردگار کے پاس واپس آیا ، تو اس نے نصف کردیں۔ میں پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، توانہوں نے کہا: آپ اپنے پروردگار کے پاس واپس جائیں کیونکہ آپ کی امت اتنی طاقت نہیں رکھے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں نے اپنے پروردگار کی طرف رجوع کیا، تو اس نے فرمایا:یہ پانچ نمازیں ہوں گی مگر پچاس شمار ہوں گی۔ ہمارا فرمان تبدیل نہیں ہوتا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس واپس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے کہا: اپنے پروردگار سے رجوع کیجئے میں نے یہ کہا: مجھے اپنے پروردگار سے حیا آتی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ (یعنی جبرائیل) مجھے ساتھ لے کر روانہ ہوئے، یہاں تک کہ وہ مجھے سدرۃ المتہنیٰ تک لے آئے جسے مختلف رنگوں نے ڈھانپا ہوا تھا۔ مجھے نہیں معلوم کہ وہ کیا چیز ہے۔ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا، تو اس میں موتیوں سے بنی ہوئی عمارتیں تھیں اور اس کی مٹی مشک جیسی تھی۔

[ص:420] كَانَ أَبُو ذَرٍّ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7406

صیح ابن حبان · بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا ‹ بَابُ وَصفِ الجَنَّۃِ وَاَھلِھَا · حديث 7409

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَحْرَ الْمَاءِ، وَبَحْرَ الْعَسَلِ، وَبَحْرَ الْخَمْرِ، وَبَحْرَ اللَّبَنِ، ثُمَّ يَنْشَقُّ مِنْهَا بَعْدُ الْأَنْهَارُ»

۔ حکیم بن معاویہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: "جنت میں پانی کا دریا ہے۔ شہد کا دریا ہے۔ مشروب کا دریا ہے۔ دودھ کا دریا ہے اور پھر ان دریاؤں سے نہریں نکلتی ہیں"۔

أَبِيهِ ← حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، ← الْجُرَيْرِيِّ، ← خَالِدٌ، ← وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Chapter Description Heaven and its people › Chapter Description Heaven and its people · Hadith 7409

صیح ابن حزیمیہ · 1-1- كتاب الطهارة ‹ جَمَاعُ اَبوَابِ غُسلِ التَّطھِیرِ وَالاِستِحبَابِ مِن غَیرِ فَرضٍ وَلَا اِیجَابٍ · حديث 256

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ، نَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْخُزَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ [37 - أ] عَنْ عَائِشَةَ -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا- أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ؛ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "يُغْتَسَلُ مِنْ أَرْبَعٍ: مِنَ الْجَنَابَةِ، وَيَوْمِ الْجُمُعَةِ، وَغُسْلِ الْمَيِّتِ، وَالْحِجَامَةِ".

’’حضرت عبداللہ زبیر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے انہیں بیان فرمایا:’’چار کاموں سے غسل کیا جائے گا :(1)جنابت سے ،(2)جمعہ کے دن ، (3)میت کوغسل دینے سے اور (4)سینگی لگوانے سے ۔‘‘

عَائِشَةَ أَنَّهَا حَدَّثَتْهُ؛ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أ] ← طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، ← مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ← زَکَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُزَاعِيُّ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The Ablution Book › The intercourse of the doors of washing cleansing and desirability without an obligation or an obligation · Hadith 256

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ کِتَابُ الصَّلَاۃِ · حديث 301

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ، نَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ -رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ-؛ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "بَيْنَمَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ، إِذْ سَمِعْتُ قَائِلًا يَقُولُ: خُذْ بَيْنَ الثَّلَاثَةِ، فَأُوتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ فِيهَا مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ، قَالَ: "فَشُرِحَ صَدْرِي إِلَى كَذَا وَكَذَا". قَالَ قَتَادَةُ: قُلْتُ: مَا يَعْنِي بِهِ؟ قَالَ: إِلَى أَسْفَلِ بَطْنِهِ - " فَاسْتُخْرِجَ قَلْبِي، فَغُسِلَ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ أُعِيدَ مَكَانَهُ، ثُمَّ حُشِيَ إِيمَانَا وَحِكْمَةً. ثُمَّ أُوتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ، يُقَالُ لَهُ: الْبُرَاقُ، فَوْقَ الْحِمَارِ وَدُونَ الْبَغْلِ يَقَعُ [44 - ب] خُطَاهُ أَقْصَى طَرْفِهِ، فَحُمِلْتُ عَلَيْهِ. ثُمَّ انْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا، وَاسْتَفْتَحَ جِبْرِيلُ، فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: جِبْرِيلُ. قِيلَ: مَنْ مَعَكَ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ، [قِيلَ]: وَبُعِثَ إِلَيْهِ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَفُتِحَ لَنَا، قَالَ: مَرْحَبًا بِهِ، وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جاء. فَأَتَيْتُ عَلَى آدَمَ، فَقُلْتُ: فَقُلْتُ لَهُ: لَمْ يُرِدْ بِهِ، فَقُلْتُ لِأَنَسٍ، إِنَّمَا أَرَادَ فَقُلْتُ لِلْجَارُودِ.

"حضرت انس بن مالک سے روایت ہے اپنی قوم کے ایک شخص حضرت مالک بن صعصعہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے فرمایا:"اس اثنا میں کہ میں بیت اللہ کے پاس سونے اور بیدار ہونے کی درمیانی حالت میں تھا جب میں نے ایک کہنے والے کو کہتے ہونے سنا : تین میں سے درمیان والے کو لے لو۔ چنانچہ میرے پاس سونے کا ایک تھال لایا گیا جس میں آب زمزم تھا۔ آپ نے فرمایا : میرا سینہ یہاں سے یہاں تک کھولا گیا۔"قتادہ کہتے ہیں : میں نے عرض کی: آپ کا سینہ پیٹ کے نچلے حصے تک چیرا گیا "تو میرا دل نکالا گیا، اسے آب زمزم سے دھویا گیا پھر اس سے اس کی جگہ لوٹا دیا گیا۔ پھر اسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا۔ پھر میرے پاس گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ایک سفید جانور لایا گیا جسے براق کہا جاتا ہے مجھے اس پر سوار کیا گیا، پھر میں چل پڑا حتی کہ ہم آسمان دنیا پر پہنچ گئے ۔ جبرائیل ؑ نے دروازہ کھلوایا تو کہا گیا : کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل ؑ ہوں ۔ پوچھا گیا : آپ کے ساتھ کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا: کیا انہیں بلایا گیا ہے ؟ جبرائیل ؑ نے جواب دیا: ہاں۔ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا(فرشتوں نے) کہا :خوش آمدید ، آپ کا تشریف لانا مبارک ہو۔ پھر میں آدمﷺ کے پاس آیا تو میں نے پوچھا:اے جبرائیل یہ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا: یہ آپ کے والد بزرگوار آدمؑ ہیں۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا: نیک بیٹے اور نیک بخت نبی کو خوش آمدید۔ فرمایا: پھر ہم چلتے رہے حتی کہ دوسرے آسمان پر آگئے ۔ جبرائیل نے دروازہ کھلوایا، کہاگیا کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا: جبرائیل ہوں۔ پوچھا گیا: اور آپ کے ساتھ کون ہیں؟ جواب دیا کہ محمد (ﷺ) ہیں۔ پوچھا گیا : کہ انہیں بلایا گیا ہے ؟ کہا: ہاں۔ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا(فرشتوں نے) کہا: خوش آمدید ، آپ کا آنا مبارک ہو۔ پھر میں حضرت یحییٰ اور عیسیٰ ؑ کے پاس گیا تو میں نے کہا: اے جبرائیل یہ کون حضرات ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : یحییٰ اور عیسیٰؑ ہیں۔ سعید کہتے ہیں کہ میرے خیال میں انہوں نے اپنی روایت میں کہا تھا:"دو خالہ زاد بھائی"تو میں نے کہا ان دونوں کو سلام کیا۔"او رانہوں نے فرمایا:نیک بھائی اور برگذیدہ نبی کو خوش آمدید ۔ آپ نے فرمایا : پھر ہم چلتے ہوئے تیسرے آسمان پر پہنچے تو جبرائیل ؑ نے دروازہ کھلوایا تو کہا گیا: کون ہے : انہوں نے جواب دیا: جبرائیل ہوں ۔ پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا:محمد(ﷺ) ہیں۔ پوچھا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں ۔ تو ہمارے لیے دروازہ کھول دیا گیا اور فرشتوں نے کہا: خوش آمدید ، خوش آمدید ، آپ نے فرمایا: پھر میں حضرت یوسف ؑ کے پاس آیا تو میں نے انہیں سلام کیا۔ تو انہوں نے فرمایا : نیک نبی اور صالح بھائی کو خوش آمدید۔ پھر ہم چوتھے آسمان کی طرف چل پڑے وہاں بھی جبرائیل اور دربانوں کو سابقہ کلام کی طرف بات چیت ہوئی۔ پھر میں حضرت ادریس ؑ کے پاس آیا تو میں نے انہیں سلام کیا، انہوں نے فرمایا: صالح بھائی اور برگزدیہ نبی کو خوش آمدید۔ پھر ہم پانچویں آسمان پر پہنچے تو میں حضرت ہارون ؑ کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا ۔ تو انہوں نے فرمایا : نیک بخت بھائی اور صالح نبی کو خوش آمدید ۔ پھر ہم چھٹے آسمان کی طرف چل پڑے ۔پھر میں موسیٰ کے پاس آیا ۔ ان سب پر اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہوں۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا: نیک بھائی اور نیک نبی کو خوش آمدید۔ پھر میں آگے بڑھا تو وہ رونے لگے ۔ فرمایا: پھر میں سدرۃ المنتہی کی طرف لوٹ آیا۔ اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ اس ( بیری) کے بیر ہجر بستی کے مٹکوں جیسے ہیں ۔ اور اس کے پتے ہاتھی کے کانوں کے برابر ہیں ۔ اور اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے بیان فرمایا کہ آپ نے چار نہریں سدرہ کی جڑ سے نکلتی بیان فرمایا کہ آپ نے چار نہریں سدرہ کی جڑ سے نکلتی ہوئی دیکھیں ۔ دو نہریں ظاہری ہیں اور دو باطنی ہیں۔ تو میں نے پوچھا : اے جبرائیل! یہ نہریں کیسی ہیں؟ انہوں نےجواب دیا: یہ دو باطنی (ڈھانپی ہوئی) نہریں تو جنت میں گئی ہین۔ اور یہ دو ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں ۔ پھر ہمارے لیے بیت المعمور بلند کر دیا گیا ۔ میں نے کہا : جبرائیل ؑ یہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ بیت المعمور ہے ۔ ہر روز ستر ہزار فرشتے اس میں داخل ہوتے ہیں۔ جب وہ اس سے نکل جاتے ہیں تو پھر دوبارہ کبھی اس میں نہیں لوٹتے ۔ آپ نے فرمایا: پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے ایک میں شراب اور دوسرے میں دودھ تھا۔ دونوں برتن مجھے پیش کیے گئے تو میں نے دودھ کو اختیار کیا۔ تو مجھے کہا گیا:آپ نے ٹھیک انتخاب کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے آ پ کو خیر بھلائی والی چیز اختیار کرنے کی راہنمائی کی ہے ۔ آپ کی امت بھی آپ کی پیروی کرے گی۔ پھر مجھ پر ہر روز پچاس نمازیں فرض کی گئی ،میں انہیں لے کر حضرت موسیٰ ؑ کے پاس پہنچا تو انہوں نے پوچھا : آپ کو کس چیز کا حکم دیا گیا ہے ؟ میں نے کہا: ہر روز پچاس نمازوں کا حکم دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا: بے شک آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی، میں نے آپ سے پہلے بنی اسرائیل کو آزمایا ہے اور انہیں بڑی اچھی طرح پرکھا ہے ( ان کی اصلاح کی بھرپو کو شش کی ہے ) آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور اپنی امت کےلیے تخفیف کا مطالبہ کریں۔ میں واپس گیا( اور کمی کا مطالبہ کیا ) تو مجھ سے پانچ نمازیں کم کردی گئیں پھر میں مسلسل اپنے رب اور موسیٰؑ کے درمیان چکر لگا تا رہا ، اللہ تعالیٰ مجھے کمی سے نوازتے رہے اور موسیٰؑ مجھے( مزید) کمی کا مطالبہ کرنے کا کہتے رہے ۔ حتی کہ میں ہر روز پانچ نمازوں کی ادائیگی کا حکم لے کر لوٹ آیا۔ انہوں نے فرمایا: بے شک آپ کی امت اس کی طاقت نہیں رکھتی ، میں نے آپ سے پہلے بنی اسرائیل کو آزمایا ہے اور بنی اسرائیل کا بڑا سخت امتحان لیا ہے ۔ آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور اپنی امت کےلیے کمی کا سوال کریں۔ آپ نے فرمایا: میں رب کے پاس متعدد بار گیا ہوں حتی کہ مجھے شرم آنے لگی ہے ۔ لہٰذا اب میں راضی ہوں اور ( اس حکم کو) تسلیم کرتا ہوں ۔ مجے آواز دی گئی : بے شک میں نے اپنا فریضہ جاری کر دیا ہے اور اپنے بندوں سے تخفیف کر دی ہے اور ہر نیکی کا ثواب دس گنا کر دیا ہے ۔

مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، رَجُلٌ مِنْ قَوْمِهِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ بُنْدَارٌ ← أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ، ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The Book of Prayer · Hadith 301

صیح ابن حزیمیہ · 2-الهمزة مع الفاء ‹ جُمَّاعُ أَبوَابِ قِیَامِ المُأمُومِینَ خَلفَ الاِمَامِ وَمَا فِیھٖ مِنَ السُّنَنِ · حديث 1621

أخبرنا أبو طاهر نا أبو بكر نا بندار ثنا بدل بن المحبر ثنا شعبة عن موسى بن أبي عائشة عن عبيد الله بن عبد الله عن عائشة : أن أبا بكر صلى بالناس و رسول الله صلى الله عليه و سلم في الصف خلفه قال أبو بكر : فلم يصح الخبر أن النبي صلى الله عليه و سلم كان هو الإمام في المرض الذي توفي فيه في الصلاة التي كان هو فيها قاعدا و و أبو بكر و القوم قيام لأن في خبر مسروق و عبيد الله بن عبد الله عن عائشة أن أبا بكر كان الإمام و النبي صلى الله عليه و سلم مأموم و هذا ضد خبر هشام عن أبيه عن عائشة و خبر إبراهيم بن الأسود عن عائشة على أن شعبة بن الحجاج قد بين في روايته عن الأعمش عن إبراهيم عن الأسود عن عائشة أن من الناس من يقول : كان أبو بكر المقدم بين يدي رسول الله صلى الله عليه و سلم و منهم من قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم المقدم بين يدي أبي بكر و إذا كان الحديث الذي به احتج من زعم أن فعله الذي كان في سقطته من الفرس و أمره صلى الله عليه و سلم بالاقتداء بالأئمة و قعودهم في الصلاة إذا صلى إمامهم قاعدا منسوخ غير صحيح من جهة النقل فغير جائز لعالم أن يدعي نسخ ما قد صح عن النبي صلى اله عليه و سلم بالأخبار المتواترة بالأسانيد الصحاح من فعله و أمره بخبر مختلف فيه على أن النبي صلى الله عليه و سلم قد زجر عن هذا الفعل الذي ادعته هذه الفرقة في خبر عائشة الذي ذكرنا أنه مختلف فيه عنها و أعلم أنه فعل فارس و الروم بعظمائها يقومون و ملوكهم قعود و قد ذكرنا هذا الخبر في موضعه فكيف يجوز أن يؤمر بما قد صح عن النبي صلى الله عليه و سلم من الزجر عنها استنانا بفارس والروم من غير أن يصح عنه صلى الله عليه و سلم الأمر به و إباحته بعد الزجر عنه و لا خلاف بين أهل المعرفة بالأخبار أن النبي قد صلى قاعدا و أمر القوم بالقعود و هم قادرون على القيام لو ساعدهم القضاء و قد أمر النبي صلى الله عليه و سلم المأموين بالاقتداء بالإمام والقعود إذا صلى الإمام قاعدا و زجر عن القيام في الصلاة إذا صلى الإمام قاعدا و اختلفوا في نسخ ذلك و لم يثبت خبر من جهة النقل بنسخ ما قد صح عنه صلى الله عليه و سلم مما ذكرنا من فعله و أمره فما صح عن النبي صلى الله عليه و سلم واتفق أهل العلم على صحته يقين و ما اختلفوا فيه و لم يصح فيه خبر عن النبي صلىالله عليه و سلم شك و غير جائز ترك اليقين بالشك و إنما يجوز ترك اليقين باليقين فإن قال قائل غير منعم الروية : كيف يجوز أن يصلي قاعدا من يقدر على القيام ؟ قيل له : إن شاء الله يجوز ذلك أن يصلي بأولى الأشياء أن يجوز به و هي سنة النبي صلى الله عليه و سلم أمر باتباعها ووعد الهدى على اتباعها فأخبر أن طاعته صلى الله عليه و سلم طاعته عز و جل و قوله : كيف يجوز لما قد صح عن النبي صلى الله عليه و سلم الأمر به و ثبت فعله له بنقل العدل عن العدل موصولا إليه بالأخبار المتواترة جهل من قائله و قد صح عن النبي صلى الله عليه و سلم عند جميع أهل العلم بالأخبار الأمر بالصلاة قاعدا إذا صلى الإمام قاعدا و ثبت عندهم أيضا أنه صلى الله عليه و سلم صلى قاعدا بقعود أصحابه لا مرض بهم و لا بأحد منهم و ادعى قوم نسخ ذلك فلم تثبت دعواهم بخبر صحيح لا معارض له فلا يجوز ترك ما قد صح من أمره صلى الله عليه و سلم و فعله في وقت من الأوقات إلا بخبر صحيح عنه ينسخ أمره ذلك و فعله و وجود نسخ ذلك بخبر صحيح معدوم و في عدم وجود ذلك بطلان ما ادعت فجازت الصلاة قاعدا إذا صلى الإمام قاعدا اقتداء به على أمر النبي صلى الله عليه و سلم و فعله و الله الموفق للصواب

"جناب عبید اللہ بن عبداللہ ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر ؓ نے صحابہ کرام ؓ کو نماز پڑھائی جبکہ رسول اللہ ﷺ ان کے پیچھے صف میں موجود تھے۔ امام ابوبکر ؒ فرماتے ہیں:چنانچہ یہ روایت درست نہیں ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی آخری بیمار ی میں ادا کی گئی نماز میں امام تھے، اور آپ بیٹھے ہوۓ تھے جبکہ ابوبکر ؓ اور صحابہ کرام ؓ کھڑے تھے۔کیونکہ جناب مسروق اور عبید اللہ کی حضرت عائشہ سے روایت کردہ احادیث میں مذکور ہے کہ امام حضرت ابوبکر ؓ تھے اور نبی کریم ﷺ مقتدی تھے اور یہ روایت جناب عروہ اور اسود کی حضرت عائشہ سے مروی روایات کے خلاف ہے۔ اس بنا پر کی امام شعبہ بن حجاج نے اپنی سند سے حضرت عائشہ ؓ سے مروی روایت میں بیان کر دیا ہے کہ کچھ لوگ کہتے ہیں:ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے امام تھے۔جبکہ کچھ لوگوں کو کہنا ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرتا ابوبکر ؓ کے امام تھے جب وہ حدیث جس سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جس کا خیال ہے کہ آپ ﷺ کا یہ فعل اس و قت کا ہے جب آپ گھوڑے سے گر گئے تھے، اور آپ ﷺ کا یہ حکم کی ائمہ کی اقتداء کی جاۓ اور جب وہ بیٹھ کر نماز پڑھائیں تو مقتدی بھی بیٹھ کر نماز پڑھیں، یہ منسوخ ہے۔جبکہ یہ پات نقل کے اعتبار سے صحیح ثانت نہیں ہے۔لہٰذا کسی عالم دین کے لیے ایک مختلف فیہ حدیث کے ساتھ آپ کے کسی ایسے فعل اور حکم کو منسوخ قرارد دینا درست نہیں، جو آپ سے صحیح اور متواتر اسانید کے ساتھ ثانت ہو۔کیونکہ محدثین کے اس گروہ نے جو دعویٰ کیا ہے اس فعل سے نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کی حدیث میں منع کیا ہے اور ہم نے بیان کیا ہے کہ وہ روایت مختلف فیہ ہے اور آپ نے بیان کیا ہے کہ یہ کام ایرانی اور رومی اپنے بادشاہوں کے ساتھ کرتے ہیں کہ جب ان کے بادشاہ بیٹھے ہوتے ہیں تو یہ(ان کے تعظیم کے لیے) کھڑے رہتے ہیں۔ ہم اس حدیث کو اس کے مقام پر بیان کر چکے ہیں۔لہٰذا جس کام سے رسول اللہ ﷺ منع کر چکے ہون۔ایرانیوں اور رومیوں کی اتباع کرتے ہوۓ اس کام کا حکم دیان کسی طرح درست ہوسکتا ہے جبکہ نبی کریمﷺ کے منع کرنے کے بعد یہ بات بھی صحیح ثابت نہ ہو کہ آپ نے اس کام کا حکم دیا ہو اور اسے جائز قراردیا ہو۔احادیث کی مورفت رکھنے والے علاۓ کرام کا اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بیٹھ کر نماز ادا کی ہے، اور لوگوں کو بھی بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے، جبکہ وہ قیام کی قدرت رکھتے ہوں اور ان کے لیے بیٹھ کر نماز کی ادائیگی ممکن ہو۔یقیناً نبی اکرم ﷺ نے مقتدیوں کو امام کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے ، جبکہ امام بھی بیٹھ کر نماز پڑھ رہا ہو اور جب امام بیٹھ کر نماز پڑھا ریا ہو تو مقتدیوں کو نماز میں کھڑے ہونے سے منع کیا ہے۔اس حکم کے منسوخ ہونے میں علماء نے اختلاف کیا ہے لیکن نقل کے اعتبار سے نبی کریم سے ایسی کوئی روایت ثابت نہیں ہے جو نبی کریم ﷺ سے ثابت آپ کے فعل اور حکم کو منسوخ کرے۔جسے ہم نے بیان کیا ہے۔لہٰذا جو چیز آپ سے صحیح ثابت ہے اور اہل علم کا اس کی صحت پر اتفاق ہے وہ چیز یقینی ہے، اور جس چیز میں علماۓ کرام کا اختلاف ہے اور اس کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے بھی کوئی چیز ثابت نہیں تو وہ چیز مشکوک ہے اور مشکوک چیز کے ساتھ یقینی اور پختہ چیز کو ترک کرنا جائز نہیں ہے بلکہ یقنی چیز کو یقینی چیز کے ساتھ یہ ترک کیا جاتا ہے۔اگر (احکام دین میں) گہراغورفکر کرنے والا شخص یہ کہے کہ قیام کی قدرت رکھنے والے شخص کےلیے بیٹھ کر نماز پڑھنا کس طرح جائز ہو سکتا ہے؟ اسے جواب دیا جاۓ گا کہ اگر اللہ چاہے تو اس کے لیے یہ جائز ہو گا کہ وہ بہترین چیز کے ساتھ نماز پڑھ لے جبکہ یہ تو نبی ﷺ کی سنت ہے جس کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے اور اس کی اتباع پر ہدایت نصیت کرنے کا وعدہ کیا ہے۔چجانچہ بتایا ہے کہ آپ ﷺ کی اطاعت در حقیت اللہ عزوجل ہی کی اطاعت ہے اور سائل کا یہ کہنا:(بیٹھ کر مقتدی کا نماز پڑھنا) کیسے جائز ہو سکتا ہے جبکہ نبی کریم ﷺ سے عادل راویوں کی متواتر سانید سے صحیح ثابت ہے آ پ نے (کھڑے ہو کر، بیٹھے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا)حکم دیا ہے اور آپ کے فعل سے بھی ثابت ہے۔یہ قائل کی لا علمی ہے، کیونکہ تما ماہرین علم حدیث کے نزدیک نبی کریم ﷺ سے صحیح ثابت ہے کہ آُ ﷺ نے بیٹھ کر نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے جبکہ امام بیٹھ کر نماز پڑھاۓ اور ان کے نزدیک یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ سمیت بیٹھ کر نماز ادا کی ہے ، جبکہ صحابہ کرام یا ان میں سے کوئی ایک بھی بیمار نہیں تھا۔(سب بیٹھ کر نماز پڑھنے پر قادر تھے) ایک گروہ نے اس کے منسوخ ہونے کا دعوٰی کیا ہے۔لیکن ان کا یہ دعویٰ کسی ایسی صحیح روایت سے ثابت نہیں جس روایت کی کوئی معارض ومخالف روایت موجود نہ ہو۔لہٰذا جو چیز رسول اللہ ﷺ کے حکم اور آپ کے فعل سے صحیح ثانت ہو اس کی مخالفت کرنا اس وقت تک جائز نہیں جب تک آپ کے حکم اور فعل کو منسوخ کرنے والی کوئی صحیح روایت موجود نہ ہو اور اس حکم کو منسوخ کرنے والی کوئی صحیح روایت موجود نہ ہو اور اس حکم کو منسوخ کرنے والی صحیح روایت معدوم ہے۔ایسی روایت کا دستیاب نہ ہونا، اہل محدثین کے اس گروہ کے دعویٰ کو باطل کرتا ہے۔لہٰذا جب امام بیٹھ کر نماز پڑھاے ٔ تو مقتدیوں کے لیے رسول اللہ ﷺ کے حکم اور فعل کے مطابق امام کی اقتداء میں بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے۔ واللہ الموفق للصواب (اللہ تعالٰی ہی درست راہ کی توفیق بخشتا ہے۔) "

عَائِشَةَ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ← شُعْبَةُ، ← بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَبُو طَاهِرٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · 2- Al-Hamzah with Faa'a › The groups of the gates of the people standing behind the imam and the Sunnahs therein · Hadith 1621

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1965

حدثنا أحمد بن الحسين الشياني ببغداد قال : و حدثني عمار بن مطر أبو عثمان الرهاوي ثنا معاوية بن سلام : قد خرجت هذا الباب بتمامه في كتاب الكبير قال أبو بكر : فقد ثبت الخبر عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : أفطر الحاج و المحجوم فقال بعض من خالفنا في هذه المسألة : إن الحجامة لا تفطر الصائم و احتج بأن النبي صلى الله عليه و سلم احتجم و هو صائم محرم و هذا الخير غير دال على أن الحجامة لا تفطر الصائم لأن النبي صلى الله عليه و سلم إنما احتجم و هو صائم في سفر لا في حضر لأنه لم يكن قط محرما مقيما ببلده إنما كان محرما و هو مسافر و المسافر و إن كان ناويا للصوم قد مضى عليه بعض النهار و هو صائم عن الأكل و الشرب و أن الأكل و الشرب يفطرانه لا كما توهم بعض العلماء أن المسافر إذا دخل الصوم لم يكن له أن يفطر إلى أن يتم صوم ذلك اليوم الذي دخل فيه فإذا كان له أن يأكل و يشرب و قد نوى الصوم و قد مضى بعض النهار و هو صائم يفطر بالأكل و الشرب جاز له أن يحتجم و هو مسافر في بعض نهار الصوم و إن كانت الحجامة مفطرة و الدليل على أن للصائم أن يفطر بالأكل و الشرب في السفر في نهار قد مضى بعضه و هم صائم

''امام صاحب نے معاویہ بن سلام کی حدیث کی سند بیان کی ہے اور کہتے ہیں کہ میں نے یہ مکمل باب کتاب الکبیر میں بیان کیا ہے۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں :''یقیناً نبی کریم ﷺ سے یہ حدیث صحیح ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا : ''سینگی لگانے اور لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔'' اس مسئلہ میں ہمارے ایک مخالف نے یہ کہا ہے کہ سینگی لگوانے سے روزے دار کا روزہ نہیں ٹوٹتا اور اس نے دلیل یہ دی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روزے کی حالت میں سینگی لگوائی ہے جبکہ آپ حالت احرام میں بھی تھے اور یہ روایت اس بات پر دلالت نہیں کرتی کہ سینگی لگوانے سے روزے دار کا روزہ نہیں ٹوٹتا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس وقت سینگی لگوائی تھی جبکہ آپ سفر کےدوران روزہ رکھے ہوئے تھے۔آپ ا س وقت مقیم نہیں تھے۔کیونکہ آپ حالت احرام میں اپنے شہر میں کبھی مقیم نہیں رہے بلکہ آپ حالت احرام میں سفر میں تھے۔ جبکہ مسافر نے اگرچہ روزے کی نیت کی ہو اور دن کا کچھ حصہ گزر بھی چکا ہو اور یہ کھانے پینے سے رکا ہو ا ہو تو کھانے پینے سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا ۔ اور بعض علما ء کو جو وہم ہوا ہے وہ صحیح نہیں ہے کہ مسافر جب روزہ رکھ لےتو پھر اس کےلیے اس روزے کو مکمل کیے بغیر کھولنا جائز نہیں ہے۔ لہٰذا اگر مسافر کےلیے روزے کی نیت کرنے کے بعد کھانا پینا جائز ہے جبکہ دن کا کچھ حصہ گزر بھی چکا ہو اور وہ روزہ رکھے ہوئے ہو تو کھانے پینے سے اس کا روزہ ختم ہو جائے گا، تو پھر اس کےلیے سفر کے دوران روزے کی حالت میں سینگی لگوانا بھی جائز ہے اگر چہ سینگی لگوانے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہو۔ اوراس بات کی دلیل کہ مسافر کےلیے دوران سفر کھانا کھا کر یا مشروب پی کر روزہ کھولنا جائز ہے جبکہ وہ روزے کی حالت میں دن کا کچھ حصہ گزار بھی چکا ہو ۔(درج ذیل حدیث ہے۔)

أفطر الحاج و المحجوم ← أَبُو بَكْرٍ: فَقَدْ ثَبُتَ الْخَبَرُ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَامٍ، قَدْ خَرَّجْتُ هَذَا الْبَابَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الْكَبِيرِ ← عمار بن مطر أبو عثمان الرهاوي ← و، ← أحمد بن الحسين الشياني

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1965

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1966

أن أحمد بن عبدة حدثنا قال : ثنا يزيد بن زريع ثنا سعيد الجريري عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أتى على نهر من ماء السماء في يوم صائف و المشاة كثير و الناس صيام فوقف عليه فإذا فئام من الناس فقال : يا أيها الناس اشربوا فجعلوا ينظرون إليه قال : إني لست مثلكم إني راكب و أنتم مشاة و إني أيسركم اشربوا فجعلوا ينظرون إليه ما يصنع فلما أبوا حول وركه فنزل و شرب و شرب الناس و خبر ابن عباس و أنس بن مالك خرجتهما في كتاب الصيام في كتاب الكبير أفيجوز لجاهل أن يقول : الشرب جائز للصائم و لا يفطر الشرب الصائم إذ النبي صلى الله عليه و سلم قد أمر أصحابه و هو صائم بالشرب فلما امتنعوا شرب و هو صائم و شربوا فمن يعقل العلم و يفهم الفقه يعلم أن النبي صلى الله عليه و سلم صار مضطرا و أصحابه لشرب الماء و قد كانوا نووا الصوم و مضى بهم بعض النهار و كان لهم أن يفطروا إذ كانوا في السفر لا في الحضر و كذلك كان للنبي صلى الله عليه و سلم أن يحتجم و هو صائم في السفر و إن كانت الحجامة تفطر الصائم لأن من جاز له الشرب و إن كان الشرب مفطرا جاز له الحجامة و إن كان بالحجامة مفطرا فأما ما احتج به بعض العراقيين في هذه المسألة أن الفطر مما يدخل و ليس مما يخرج فهذا جهل و إغفال من قائله و تمويه على من لا يحسن العلم و لا يفهم الفقه و هذا القول من قائله خلاف دليل كتاب الله و خلاف سنة النبي صلى الله عليه و سلم و خلاف قول أهل الصلاة من أهل الله جميعا إذا جعلت هذه اللفظة على ظاهرها قد دل الله في محكم تنزيله أن المباشرة هي الجماع في نهار الصيام و النبي المصطفى صلى الله عليه و سلم قد أوجب على على المجامع في رمضان عتق رقبة إن وجدها و صيام شهرين متتابعين إن لم يجد الرقبة أو إطعام ستين مسكينا إن لم يستطيع الصوم و المجامع لا يدخل جوفه شيء في الجماع إنما يخرج منه مني إن أمنى و قد يجامع من غير إمناء في الفرج فلا يخرج من جوفه أيضا مني و التقاء الختاتين من غير إمناء يفطر الصائم و يوجب الكفارة و لا يدخل جوف المجامع شيء و لا يخرج من جوفه شيء إذا كان المجامع هذه صفته و النبي المصطفى صلى الله عليه و سلم قد أعلم أن المستقيء عامدا يفطره الاستقاء على العمد و اتفق أهل الصلاة و أهل العلم على أن الاستقاء على العمد يفطر الصائم و لو كان الصائم لا يفطره إلا ما يدخل جوفه كان الجماع و الاستقاء لا يفطران الصائم و جاء بعض أهل الجهل بإعجوبة في هذه المسألة فزعم أن النبي صلى الله عليه و سلم إنما قال : أفطر الحاجم و المحجوم لأنهما كانا يغتابان فإذا قيل له : فالغيبة تفطر الصائم ؟ زعم أنها لا تفطر الصائم فيقال له : فإن كان النبي صلى الله عليه و سلم عندك إنما قال : أفطر الحاجم و المحجوم لأنهما كانا يغتابان و الغيبة عندك لا تفطر الصائم فهل يقول هذا القول من يؤمن بالله يزعم أن النبي صلى الله عليه و سلم أعلم أمته أن المغتابين مفطران و يقول هو : بل هما صائمان غير مفطرين فخالف النبي صلى الله عليه و سلم الذي أوجب الله على العباد طاعته و اتباعه و وعد الهدى على اتباعه و أوعد على مخالفيه و نفى الإيمان عمن وجد في نفسه حرجا من حكمه فقال : { فلا و ربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم } الآية و لم يجعل الله جل و علا لأحد خيرة فيما قضى الله و رسوله فقال تبارك و تعالى : { و ما كان لمؤمن و لا مؤمنة إذا قضى الله و رسوله أمرا أن يكون لهم الخيرة من أمرهم } و المحتج بهذا الخبر إنما صرح بمخالفة النبي صلى الله عليه و سلم عند نفسه بلا شبهة و لا تأويل يحتمل الخبر الذي ذكره إذا زعم أن النبي صلى الله عليه و سلم إنما قال للحاجم و المحجوم : مفطران لعلة غيبتهما ثم هو زعم أن الغيبة لا تفطر فقد جرد مخالفة النبي صلى الله عليه و سلم بلا شبهة و لا تأويل و قد روي عن المعتمر بن سليمان عن حميد عن أبي المتوكل عن أبي سعيد رخص النبي صلى الله عليه و سلم في القبلة للصائم و الحجامة للصائم

''حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک شدید گرمی والے دن بارش کے پانی کی نہر پر تشریف لائے جبکہ پیدل چلنے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ تھی اور لوگوں نے روزہ بھی رکھا ہو ا تھا تو آپ نے اس نہر پر کھڑے ہو گئے تو نا گہاں لوگوں کی ایک جماعت بھی پہنچ گئی تو آپ نے فرمایا :'' اے لوگو! پانی پی لو۔''تو وہ آپ کی طرف دیکھنے لگے(کہ آپ خود کیا عمل کرتے ہیں)آپ نے فرمایا : ''میں تمہاری طرح نہیں ہوں ۔ بے شک میں سورا ہوں اور تم پیدل چل رہے ہو، اور میں تمہاری نسبت آسانی اور سہولت میں ہوں ، تم پانی پی لو۔'' وہ آپ کی طرف دیکھتے رہے کہ آپ کیا عمل کرتے ہیں ۔ پھر جب انہوں نے پانی پینے سے احتراز کیا تو آپ نے اپنا قدم موڑ ا اور سواری سے نیچے اترآئے اور پانی پی لیا ۔ اور (یہ دیکھ کر) لوگوں نے بھی پانی پی لیا ۔''امام صاحب فرماتے ہیں :''میں نے حضرت ابن عباس اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایات ''کتاب الکبیر'' کی کتاب الصیام میں بیان کر دی ہیں۔ کیا کسی جاہل آدمی کےلیے یہ کہنا جائز ہے کہ روزے دار کےلیے مشروب پینا جائز ہے اور مشروب پینے سے اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا ، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اپنے صحابہ کو پانی پینے سے احتراز کیا تو آپ نے روزے کی حالت میں ہی پانی پی لیا اور انہوں نے بھی پی لیا ۔لہٰذا جو شخص علمی بصیر ت رکھتا ہو اور فقہی سو جھ بوجھ کامالک ہے وہ جانتا ہے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام پانی پینے پر مجبور ہوگئے تھے حالانکہ انہوں نے روزے کی نیت کی ہوئی تھی اور دن کا کچھ حصہ وہ گزار چکے تھے۔ اور ان کےلیے روزہ کھولنا جائز تھا کیونکہ وہ سفر میں تھے مقیم نہیں تھے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کےلیے سفر کے دوران روزے کی حالت میں سینگی لگوانا جائز تھا اگر چہ سینگی لگواے وے روزہ ختم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ جس شخص کےلیے پانی پینا جائز ہے اگرچہ پانی سے روزہ ختم ہو جاتا ہے تو اس شخص کےلیے سینگی لگوانا بھی جائز ہے اگر چہ سینگی لگوانے سے روزہ ٹوٹ کاتا ہے۔ البتہ عراقی علما ء کی اس مسئلہ میں یہ دلیل کہ روزہ پیٹ میں داخل ہونے والی چیز سے ٹوٹتا ہے اور پیٹ سے نکلنے والی چیز سے نہیں ٹوٹتا تو یہ قول قاہل کی جہالت اور غفلت کی دلیل ہے۔ اور کم علم ، کم فہم لوگوں کو دھوکہ دینے کی کوشش ہے اس شخص کا یہ قول اللہ تعالی ٰکی کتاب ، نبی کریم ﷺ کی سنت اور تمام اہل الہ مسلمانوں کے قول کے خلاف ہے۔ جبکہ ان الفاظ کو ان کے ظاہر پر محمول کیا جائے ۔ اللہ تعالہ نےاپنی محکم کتاب میں فرمایا ہے کہ روزے کے دن میں مباشرت کرنا جما ع کے حکم میں ہے۔ اور نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک میں (دن کے وقت)جماع کرنے والے شخص پر ایک گردن آزاد کرنا واجب کیا ہے اگر اس کے پاس طاقت ہو۔ اور اگر گردن آزاد کرنے کی طاقت نہ ہو تو وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنے اور اگر روزے نہ رکھ سکتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانے کا کفارہ واجب کیا ہے ۔ حالانکہ جماع کرنے والے کے پیٹ میں کوئی چیز داخل نہیں ہوتی بلکہ اس سے منی نکلتی ہے اگر منی کا خروج ہو اور کبھی بغیر منی نکالے بھی عورت کی شرم گاہ میں جماع کر سکتا ہے تو اس وقت اس کے پیٹ سے بھی منی نہیں نکلتی حالانکہ دونوں شرم گاہوں کا بغیر منی ٹپکائے مل جانے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور کفارہ واجب ہو جاتا ہے۔ جبکہ اس حالت میں جماع کرنے والے کے پیٹ میں نہ کوئی چیز داخل ہوتی ہے اور نہ کچھ نکلتا ہے۔ اور نبی کریم ﷺ نے بتایا ہے کہ قصیداً قے کرنے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔ اہل علم اور مسلمان کا اتفاق ہے کہ عمداً قے کرنے سے روزے دار کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اگر روزے دارکا روزہ صرف پیٹ میں داخل ہونے والی چیز ہی سے ٹوٹتا ہو تو پھر جماع اور قے سے روزہ نہیں ٹوٹتا چاہیے ۔ کچھ جاہل لوگوں نے اس مسئلے میں ایک اور عجوبہ بیان کیا ہے ان کے خیال میں نبی کریم ﷺ نے سینگی لگانے اور سینگی لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے'' یہ فرمان اس لیے جاری کیا تھا کہ وہ دونوں غیبت کر رہے تھے۔ جب اس شخص سے کہا جاتا ہے: کیا غیبت سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ تو کہتا ہے غیبت سے روزہ نہیں ٹوٹتا تو اس شخص سے کہا جائے گا:''اگر تمہارے نزدیک نبی کریم ﷺ کے اس فرمان ''سینگی لگانے والے اور سینگی لگوانے والے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔''کی وجہ یہ ہے کہ وہ دونوں غیبت کررہے تھے۔ اور غیبت سے تمہارے نزدیک روزہ نہیں ٹوٹتا تو کیا کوئی ایسا شخص جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو وہ یہ بات کرسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو بتایا ہو کہ غیبت کرنے والے دونوں افراد کا روزہ ٹوٹ گیا ہے اور یہ شخص کہے کہ دو دونوں روزے دار ہیں ان کا روزہ نہیں ٹوٹا ۔ اس طرح اس شخص نے نبی کریم ﷺ کی مخالفت کی ہے حالانکہ اللہ تعالی ٰ نے اپنے بندوں پر اپنے رسو ل کی اطاعت و اتباع واجب کی ہے اور آپ کی اتباع کرنے پر ہدایت دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ آپ کے مخالفین کو وعید سنائی ہے اور آپ کے فیصلے پر دلی تنگی محسوس کرنے والے کے ایمان کی نفی کی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:(فَلَا وَرَبِّکَ لَا یُؤْ مِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَھُمْ)'' آپ کے رب کی قسم ! وہ مومن نہیں ہوسکتےجب تک کہ وہ اپنے باہمی اختلافات میں آپ کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں ۔''اور اللہ تعالی نے اپنے اور اپنے رسول کے فیصلہ شدہ امور میں کسی شخص کو اختیار نہیں دیا اللہ تعالی فرماتے ہیں (وَمَاکَانَ لِمُؤْ مِنٍ وَلَا مُؤْ مِنَۃٍ اِذَا قَضَی اللہُ وَرَسُوْلُہُ أَمُرّاأَن یَّکُوْن لَھُمُ الْخِیَرَۃُ مِن أَمْرِھِمْ) ''اور کسی مومن مرد اور کسی مومنہ عورت کو یہ خق نہیں کہ جب اللہ اور اس کارسو ل کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو ان کےلیے اپنے معاملے میں ان کا کوئی اختیار رہے۔''اور اس حدیث میں استدلال کرنے والے شخص نے اپنے پاس موجود کسی شبیہ اور تاویل کے بغیر صریحاً نبی کریم ﷺ کی مخالفت کی ہے ۔ اس حدیث میں اس کی اس تاویل کی کوئی گنجائش نہیں کہ آپ نے سینگی لگانے اور سینگی لگوانے والے کو غیبت کرنے کی وجہ سے کہا کہ ان کا روزہ ٹوٹ گیا ہے۔ پھر خود اس شخص کا گمان ہے کہ غیبت سے روزہ نہیں ٹوٹتا اس طرح اس شخص نے بغیر کسی شہے اور تاویل کے نبی کریم ﷺ کی واضح مخالفت کی ہے ۔ جناب معتمر بن سلیمان کی سند سے حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے روزے دار کےلیے (اپنی بیوی) بوسہ لونے اور سینگی لگوانے کی رخصت دی ہے۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← سَعِیْدٍ الْجُرَیْرِیِّ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أن أحمد بن عبدة

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1966

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1967

حدثنا يعقوب بن إبراهيم الدورقي ثنا المعتمر : و هذه اللفظة و الحجامة للصائم إنما هو من قول أبي سعيد الخدري لا عن النبي صلى الله عليه و سلم أدرج في الخبر لعل المعتمر حدث بهذا حفظا فاندرج هذه الكلمة في خبر النبي صلى الله عليه و سلم أو قال قال أبو سعيد : و رخص في الحجامة للصائم فلم يضبط عنه قال أبو سعيد فأدرج هذا القول في الخبر

''امام صاحب فرماتے ہیں : ''الفاظ روزے دار کےلیے سینگی لگوانے کی رخصت ہے: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے الفاظ ہیں جو حدیث میں اٖضافہ کر دئیے گئے ہیں اور یہ نبی کریم ﷺ کے الفاظ نہیں ہیں ۔ شاید کہ معتمر راوی نے یہ حدیث اپنے حافظے سے بیان کی ہو تو نبی کریم ﷺ کی حدیث میں الفاظ کا اندراج ہو گیا ہو یا انہوں نے حدیث بیان کرتے ہوئے یہ الفاظ کہے ہوں :''حضرت ابو سعید نے فرمایا: روزے دار کو سینگی لگوانے کی رخصت دی گئی ہے۔'' تو شاگردوں نے ''حضرت ابو سعید نے فرمایا:''کے الفاظ اچھی طرح لکھے نہ ہوں ۔،اس طرح اس حدیث میں ان الفاظ کا اضافہ ہو گیا ہے۔''

يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1967

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1968

حدثنا بهذا الخبر محمد بن عبد الأعلى الصنعاني و بشر بن معاذ قالا : ثنا المعتمر بن سليمان قال سمعت حميدا يحدث عن أبي المتوكل الناجي عن أبي سعيد الخدري : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رخص في القبلة للصائم قال أبو بكر تريدا على هذا قلت للصنعاني : و الحجامة ؟ فغضب فأنكر أن يكون أن يكون في الخبر ذكر الحجامة و الدليل على أنه ليس في الخبر عن النبي صلى الله عليه و سلم ذكر الحجامة

''حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہﷺ نے روزے دار کو بوسہ لینے کی رخصت دی ہے۔''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں : اس سے زیادہ الفاظ مذکورہ نہیں ہیں۔میں نے امام صنعانی سے پوچھا : اور سینگی لگوانے کی رخصت ہے؟ تو وہ سخت نارض ہوئے اور اس حدیث میں ''سینگی لگوانے کی رخصت کے الفاظ مذکورہ ہونے کا انکار کیا اور اس بات کی دلیل کہ نبی کریم ﷺ کی روایت میں سینگی لگوانے کاذکر موجو د نہیں (وہ درج ذیل روایت ہے)۔''

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← حُمَيْدًا، ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← بهذا الخبر محمد بن عبد الأعلى الصنعاني و بشر بن معاذ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1968

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1969

أن علي بن سعيد حدثنا أيضا قال : ثنا أبو النضر نا الأشجعي عن سفيان عن خالد الحذاء عن أبي المتوكل الناجي عن أبي سعيد الخدري قال : رخص للصائم في الحجامة و القبلة فهذا الخبر رخص للصائم في الحجامة و القبلة دال على أنه ليس فيه ذكر النبي صلى الله عليه و سلم

''حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ روزے دار کو سینگی لگوانے اور بوسہ لینے کی رخصت دی گئی ہے ۔''یہ روایت کہ روزے دار کو سینگی لگوانے اور بوسہ لینے کی رخصت دی گئی ''یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس روایت میں نبی کرم ﷺ کا ذکر مبارک موجود نہیں ہے(کہ آپ نے یہ رخصت دی ہو)۔''

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانَ، ← الْأَشْجَعِيُّ ← أَبُو النَّضْرِ، ← أيضا ← أَنَّ عَلِيَّ بْنَ سَعِيدٍ،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1969

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1970

و قد ثنا أيضا محمد بن عبد الله بن بزيع ثنا أبو يحيى ثنا حميد الطويل و الضحاك بن عثمان عن أبي المتوكل الناجي عن أبي سعيد الخدري أنه قال : في الحجامة : إنما كانوا يكرهون قال : أو قال : يخافون الضعف

''حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سینگی لگوانے کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام سینگی لگوانا نا پسند کرتے تھے۔ یا فرمایا :'' وہ کمزوری سے ڈرتے تھے(اس لیے سینگی نہیں لگواتے تھے۔)''

يخافون الضعف ← أو ← في الحجامة إنما كانوا يكرهون ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← حميد الطويل و الضحاك بن عثمان ← أبو يحيى ← أيضا محمد بن عبد الله بن بزيع ← و قد

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1970

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1971

و حدثنا بندار نا محمد نا شعبة عن قتادة عن أبي المتوكل الناجي عن أبي سعيد الخدري قال : إنما كرهت الحجامة للصائم مخافة الضعف قال أبو بكر : فخبر قتادة و خبر أبي يحيى عن حميد و الضحاك ابن عثمان دالان على أن أبا سعيد لم يحك عن النبي صلى الله عليه و سلم الرخصة في الحجامة للصائم إذ غير جائز أن يروي أبو سعيد أن النبي صلى الله عليه و سلم رخص في الحجامة للصائم و يقول : كانوا يكرهون ذاك مخافة الضعف إذ ما قد أباحه صلى الله عليه و سلم أباحه مطلقا لا استثناء و لا شريطة فمباح لجميع الخلق غير جائز أن يقال : أباح النبي صلى الله عليه و سلم الحجامة للصائم و هو مكروه مخافة الضعف و لم يستثن النبي صلى الله عليه و سلم في إباحتها من يأمن الضعف دون من يخافه فإن صح عن أبي سعيد أن النبي صلى الله عليه و سلم رخص في الحجامة للصائم كان مؤدى هذا القول أن أبا سعيد قال : كره للصائم ما رخص النبي صلى الله عليه و سلم له فيها و غير جائز أن يتأول هذا على أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يرووا عن النبي صلى الله عليه و سلم رخصة في الشيء و يكرهونه و قد روي أيضا عن عبد الرحمن بن زيد بن أسلم عن أبيه عن عطاء بن يسار عن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث يفطرن الصائم : الحجامة و القيء و الحلم

''حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سینگی لگوانے کو صرف کمزوری کے ڈر کی وجہ سے ناپسند کیا گیا ہے۔ ''امام ابو بکر ؒ فرماتے ہیں: لہٰذا جناب قتادہ کی حدیث اور جناب یحییٰ کی حمید اور ضحاک بن عثمان سے حدیث اس بات ر دالالت کرتی ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے روزے دار کےلیے سینگی کگوانے کی رخصت نبی کریم ﷺ نے بیان نہیں کی۔ کیونکہ یہ ممکن ہی نہیں کہ حضرت ابو سعد خدری رضی اللہ عنہ ، نبی کریم ﷺ سے روزے دار کے لیے سینگی لگوانے کی رخصت نقل کریں اور پھر خود ہی کہہ دیں کہ صحابہ کرام کمزور ی کے ڈر سے سینگی لگوانا نا پسند کرتھے تھے۔ کیونکہ جب نبی کویم ﷺ نے سینگی لگوانا بغیر کسی استثناء اور شرط کے جائز قرار دیا جاہے تو پھر یہ ساری مخلوق کےلیے جائز اور مباح ہے ۔ پھر یہ کہنا جائز اور درست نہیں کہ نبی کریم ﷺ نے روزے دار کو سینگی لگوانے کی رخصت دی ہے جبکہ کمزوری کے ڈر کی وجہ سے یہ مکروہ ہے حالانکہ نبی کریم ﷺ نے اس کی رخصت اور اباحت سے اس شخص کو مستثنیٰ قرار نہیں دیا جسے کمزوری کا ڈر ہو ۔ لہذا اگر حضرت ابو بکر سعید رضی اللہ عنہ سے یہ بات صحیح ثابت ہو کہ نبی کریم ﷺ نے روزے دار کو سینگی لگوانے کی رخصت دی ہے تو پھر اس قول کی ز د او ر انجام یہ ہو گا کہ حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ روزے دار کے لیے سینگی لگوانے کو مکروہ قرار دیتے ہیں جبکہ نبی کریمﷺ نے روزے دار کو اس کی رحصت دی ہے۔'' اور یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے بارے میں کہناقعطاً جائز نہیں کہ وہ نبی کریم ﷺ سے ایک چیز کی رحصت نقل کریں اور خود اسے مکروہ اور نا پسند یدہ خیال کریں۔ جناب زید بن اسلم عطاء بن یسارکے واسطے سے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:''تین چیزیں روزے دار کا روزہ ٹور دیتی ہیں : ''سینگی لگوانا، قے کرنا، اور احتلام کا ہونا۔''

حميد و الضحاك ابن عثمان دالان على أن أبا سعيد لم يحك ← أبو بكر فخبر قتادة و خبر أبي يحيى ← إنما كرهت الحجامة للصائم مخافة الضعف ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيِّ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← بُنْدَارٌ ← و،

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1971

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1978

حدثنا محمد ثنا أبو نعيم ثنا هشام عن زيد بن أسلم عن عطاء بن يسار قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث لا يفطرن الصائم الاحتلام و القيء و الحجامة سمعت محمد بن يحيى يقول : هذا الخبر غير محفوظ عن أبي سعيد و لا عن عطاء بن يسار و المحفوظ عندنا حديث سفيان و معمر

'' جناب عطاء بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تین چیزیں روزے دار کا روزہ نہیں ٹورٹیں : ''احتلام کا ہونا، قے کاآنا اور سینگی لگوانا ۔'' جناب محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ اور عطا بن یسار کے واسطے سے غیر محفوظ ہے۔ ہمارے نزدیف محفوظ روایت اما م سفیان ثوری اور معمر کی ہے۔''

عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، ← هِشَامٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← مُحَمَّدٍ

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1978

صیح ابن حزیمیہ · کِتَابُ الصِّیَامِ ‹ کِتَابُ الصِّیَامِ · حديث 1979

حدثنا محمد بن يحيى نا محمد بن عبد الله الأنصاري عن أبي المتوكل عن أبي سعيد الخدري قال : لا بأس بالحجامة للصائم

'حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ روزے دار کے لیے سینگی لگوانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔''

لا بأس بالحجامة للصائم ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى

Sahih Ibn Khuzamia · The fasting book › The fasting book · Hadith 1979

chevron_left Previous
1…394041…647
Next chevron_right