حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا تھا جس کی کنیت ابو عمیر تھی نبی اکرم ﷺ دریافت کیا کرتے تھے ' اے ابو عمر ! تمہاری چڑیا کا کیا حال ہے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: و ہ بیمار ہو گیا حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنے کسی باغ میں گئے ہوئے تھے اس بچے کا انتقال ہو گیا ۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ اٹھیں انہوں نے اس بچے کو غسل دیا اسے کفن دیا اسے خوشبو لگائی اور اسے کپڑے میں ڈھانپ دیا ۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کوئی بھی شخص ابو طلحہ کو ا س بار ے میں اطلاع نہ دے میں خود انہیں اس بات کی اطلاع دوں گی پھر حضرت ابو طلحہ تھکے ہوئے آئے انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا ۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے خوشبو لگائی اور ان کے لیے تیار ہوگئیں وہ کھانا لے آئیں ۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : ابو عمیر کا کیا حال ہے ۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ شام کا کھانا کھا کر فارغ ہو چکا ہے ۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کھانا کھایا اس کے بعد انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ صحبت کی پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابو طلحہ آپ کا کیا خیال ہے اگر کسی گھر انے کے لوگ کسی دوسرے گھر والوں کو عاریت کے طور پر کوئی چیز دیں اور پھر اس چیز کے مالکان دوسرے لوگوں سے اس کا مطالبہ کریں تو کیا وہ دوسرے لوگ اس چیز کو واپس کر دیں گے یا اپنے پاس رکھیں گے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بلکہ انہیں وہ چیز انہیں واپس کرنی چاہئے تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ابو عمیر کے حوالے سے ثواب کی امید رکھیے تو حضرت ابو طلحہ غصے میں آگئے و ہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور آپ کو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ کے قول کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گزشتہ رات میں تم دونوں کو برکت نصیب کرے ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے حاملہ ہو گئیں جب انہوں نے اس بچے کو جنم دیا تو اس کی پیدائش کے ساتویں دن سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے انس اس بچے کو لے جاؤ اور یہ برتن بھی لے جاؤ اس میں کچھ کھجوریں ہیں انہیں نبی اکر م ﷺ کے پاس لے جاؤ تا کہ نبی اکرمﷺ سے گھٹی دیں اور اس کا نام تجویز کریں ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم ﷺ اس وقت پاؤں پھیلا کر بیٹھے ہوئے تھے آ پ نے اس بچے کو گود میں لٹایا آپ نے ایک کھجور لی اسے چبایا پھر وہ کھجور اس بچے کے منہ میں ڈال دی اس بچے نے اسے چوسنا شروع کر دیا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : انصار واقعی کھجوروں سے محبت کرتے ہیں۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7188
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7212
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7212
صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7213
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے خبیر اور مدینہ منورہ کے درمیان کسی جگہ پر تین دن تک قیام کیا آپ نے سیدہ صفیہ بن حیی رضی اللہ عنہ کی رخصتی کروائی تھی میں اہل ایمان کو نبی اکرمﷺ کے ولیمے کے لئے بلا کر لا یا تھا اس میں روٹی یا گوشت نہیں تھا ۔
نبی اکرمﷺ نے ہمیں دستر خواں لانے کا حکم دیا ' تو اس دستر خواں پر کھجوریں ، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا یہ نبی اکرم ﷺ کا ولیمہ تھا ۔ مسلمانوں نے کہا: یہ امہات المومنین میں سے ایک شمار ہوں گی یا نبی اکرم ﷺ کی کنیز شمار ہوں گی ' تو دوسروں نے جواب دیا : اگر نبی اکرم ﷺ نے ان کا پردہ کروایا تو یہ امہات المومنین میں شمار ہوں گی اگر پردہ نہ کردایا تو یہ آپ کی کنیز شمار ہوں گی۔
(راوی بیان کرتے ہیں : ) جب نبی اکرمﷺ روانہ ہونے لگے تو آپ نے اس خاتون کے لئے اپنے پیچھے جگہ بنائی اور اس خاتون کے اور لوگوں کے درمیان پردہ کھینچ دیا ۔
Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7213
صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6066
۔ابو جمرہ بیان کرتےہیں: میں لوگوں کو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس آکر (انہیں تنگ کرنے )سے روکتا تھا ایک مرتبہ میں کچھ دن تک نہیں آیا،تو انہوں نے دریافت کیا تم کیوں نہیں آئے میں نے جواب دیا : بخار کی وجہ سے ۔ انہوں نے بتایانبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے:
"بے شک بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے، تو تم زم زم کے پانی کے ذریعے اسے ٹھنڈا کرو۔"
حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں :ابو ہندہ نے نبی اکرمﷺ کےیا فوخ پر پچھنے لگائے تھے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے انصار ! ابو ہند کی شادی کرو ادو (اپنے خاندان کی کسی لڑکی کے ساتھ ) اس کی شادی کردو۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم لوگ علاج کے طور پر جو چیز اختیار کرتےہو اس میں سے بہتر چیز پچھنے لگانا ہے۔
Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Mentioning the permissibility of drinking in a blasphemy against the saying of those who hate it among the mystics · Hadith 5319
صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6096
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :نبی اکرمﷺ یہ دم کیا کرتےتھے ۔
"اے لوگوں کے پروردگار ،تو تکلیف کو دور کردے شفاء تیرے دست قدرت میں ہے اس تکلیف کو صرف ، تو ہی دور کر سکتا ہے۔"
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: میں اپنے محلے میں اپنے چچاؤں کو ( شراب پلا رہا تھا ) میں وہاں سب سےکم سن تھا۔ اسی دوران ایک شخص آیا اور بولا شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ میں وہاں کھڑا ہوا ان لوگوں کو فضیخ ( نامی شراب) پلا رہا تھا ۔ ان حضرات نے کہا: اسے گرا دو میں نے اسے گرا دیا۔
راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت انسؓ سے دریافت کیا وہ کس چیز کی شرب ہوتی تھی ؟ انہوں نے فرمایا: خشک اور تازہ کھجوروں سے بنی ہوئی۔
ابو بکر بن انس بیان کرتے ہیں: اس زمانے میں ان لوگوں کی شراب اسی چیز کی ہوتی تھی ‘تو حضرت انس بن مالکؓ نے ان کی اس بات کا انکار نہیں کیا۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عمرؓ کو اس منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اے لوگوں ! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا اس وقت یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی انگور ، شہد ، گندم اور جو ، جو بھی چیز عقل کو ڈھانپ لے وہ خمر ہے تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں میری یہ خواہش تھی کہ نبی اکرمﷺ ہمیں اس بارے میں زیادہ واضح طور پر بتا دیتے۔ ( وراثت کا مسئلہ) کلالہ کا مسئلہ اور سود کی کچھ صورتیں۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ نے نبی اکرمﷺ کے منبر پر ہمیں خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا ء بیان کی‘ پھر یہ بات بیان کی: جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا ‘ تو یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی۔ انگور، کھجور، شہد ، گندم اور جو ، ویسے خمر ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے ‘ جو عقل کو ڈھانپ لے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: میں حضرت عمرؓ کو نبی اکرمﷺ کے منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔
’’ اما بعد اے لوگوں ! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا ‘ تو یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی‘ انگور ، کھجور، شہد ، گندم اور جو ‘ ویسے خمر ہو وہ چیز ہے‘ تو عقل کو ڈھانپ لے۔ اے لوگوں ! تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں میری یہ خواہش تھی کہ نبی اکرمﷺ ہم سے جدا ہونے سے پہلے ہمیں ان کے بارے میں زیادہ وضاحت سے بتا دیتے کلالہ،( وراثت میں ) دادا کا مسئلہ اور سود کی کچھ صورتیں۔
عمر على منبر رسول الله ← ابْنِ عُمَرَ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَابْنُ إِدْرِيسَ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ
Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5359
صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5361
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ ، حضرت سہیل بن بیضاءؓ اور حضرت اُبی بن کعبؓ حضرت ابو طلحہؓ کے ہاں موجود تھے۔ میں ان حضرات کو شراب پلا رہا تھا۔ وہ حضرات اسے پی ہی رہے تھے اسی دوران وہا ں ایک مسلمان گزرا اور اس نے اعلان کیا ‘ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ شراب کو حرا م قرار دے دیا گیا ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم انہوں نے اس بات کا انتظار نہیں کیا( اور فوراً ) مجھے یہ ہدایت کی کہ تم اپنے برتن میں موجود شراب کو انڈیل دو ‘ تو میں نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالی ٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک انہوں نے کبھی شراب نہیں پی۔ اس زمانے میں شراب تازہ اور خشک کھجوروں سے بنائی جاتی تھی۔ ان دنوں ہماری شراب یہی تھی۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں :میں حضرت ابو طلحہؓ حضرت ابو عبیدہ ؓ حضرت کعب ؓ حضرت سہیل بن بیضاء ؓ کو خشک اور تازہ کھجور سے بنی ہوئی نبض پلا رہا تھا۔ اسی دوران ایک منادی نے یہ اعلان کیا خبر دار شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں :اللہ کی قسم انہوں نے اس بات کا انتظار نہیں کیا کہ وہ پہلے اس بات کی تحقیق کر لیں کہ یہ بات درست ہے یا غلط ہے۔ ان لوگوں نے کہا: اے انس! اسے بہا دو ‘ تو میں نے اسے بہا دیا۔ اللہ کی قسم اس کے بعد یہ حضرات مرتے دم تک دوبارہ کبھی شراب کی طرف نہیں گئے۔ ان دنوں شراب خشک اور تازہ کھجوروں سے بنائی جاتی تھی۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ نے مجھے اور حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یمن بھیجا ‘ تو آپﷺ نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے قریب رہے ۔آپﷺ نے ہم سے فرمایا تم دونوں آسانی فراہم کرنا تنگی کا شکار نہ کرنا خوشخبری سنانا متنفرنہ کرنا جب ہم اٹھنے لگے ‘ تو میں نے عرض کی :یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ہمیں دو طرح کے مشروبات کے بارے میں حکم بیان کر دیجئے جو ہم تیار کرتے ہیں۔ ایک بتع ہے‘جو شہد سے بنایا جاتا ہے ۔ اس کی نبیذ تیار کی جاتی ہے ‘ یہاں تک کہ وہ پختہ ہو جاتی ہے اور مزر ہے جسے جو اور مکئی سے بنایا جاتا ہے ‘ اس کی نبیذ ہوتی ہے‘ یہاں تک کہ اس میں شدت آ جاتی ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ کو کیونکہ جامع اور مانع کلمات عطا کئےگئے تھے اس لئے آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تم پر ہر وہ چیز حرام ہے ‘ جو نشہ آور ہو جو نماز سے روک دے۔
راوی بیان کرتے ہیں : ایک دن حضرت معاذ ؓ میرے پاس آئے اس وقت میرے پاس ایک شخص موجود تھا جو پہلے یہودی تھا ‘ پھر اس نے اسلام قبول کیا پھر یہودی ہو گیا۔ انہوں نے مجھ سے اس معاملے کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے انہیں اس بارے میں بتایا ‘ تو میں نے حضرت معاذ ؓ سے کہا آپ تشریف رکھیں۔ انہوں نے فرمایا : میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا‘ جب تک میں اس اسلام کی پیشکش نہیں کرتا اگر یہ اسے قبول کر لے گا‘ تو ٹھیک ہے ورنہ میں اس کی گردن اڑا دوں گا ۔ حضرت معاذ ؓ نے اسے اسلام کی پیشکش کی۔ اس نے اسلام قبو ل کرنے سے انکار کر دیا‘ تو حضرت معاذؓ نے اس کی گردن اڑا دی ایک دن حضرت معاذؓ نے مجھ سے دریافت کیا تم قرآن کیسے پڑھتے ہو۔ میں نے جواب دیا: میں قیام کی حالت میں بیٹھ کر اور بستر پر لیٹ کر بھی اسے پڑھ لیتا ہوں۔ حضرت ابو موسیٰؓ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت معاذؓ سے دریافت کیا آپ کیسے پڑھتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا: اس کی تلاوت کرتا ہوں پھر سو جاتا ہوں پھر قیام کی حالت میں پڑھتا ہوں ‘ تو میں اپنی نیند کے ذریعے اپنے قیام کے بارے میں قوت حاصل کرتا ہوں اور مجھے اپنی نیند سے بھی اسی ثواب کی امید ہے ‘ جو اپنے قیام کرنے کے حوالے سے ثواب کی امید ہے۔
حضرت ابو اشعریؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے مجھے یمن بھیجا ‘ تو میں نے عرض کی:یا رسول اللہ ﷺ ! وہاں بتع اور مزر نامی شراب استعمال ہوتی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : بتع کیا ہے میں نے عرض کی: یہ شراب ہے ‘ جو شہد سے بنائی جاتی ہے اور مزر ایک شراب ہے ‘ جو جَو سے بنائی جاتی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔
حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے ‘ کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ تیا ر کی جائے یا تازہ اور خشک کھجور کو ملا کر نبیذ تیار کی جائے۔
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے اس بات سے منع کیاہے ‘ خشک کھجور کو تازہ کے ساتھ ملا کر ( نبیذ تیا ر کی جائے) اور پھر اسے پیا جائے کیونکہ جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا ‘ تو زیادہ تر شراب اسی طرح بنائی جاتی تھی۔