Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطب والصحة

Medicine & Health

12931 hadiths

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7188

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عُمَارَةُ بْنُ زَاذَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، كَانَ لَهُ ابْنٌ يُكَنَّى أَبَا عُمَيْرٍ، قَالَ: فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَبَا عُمَيْرٍ مَا فَعَلَ النُّغَيْرُ؟ » قَالَ: فَمَرِضَ وَأَبُو طَلْحَةَ غَائِبٌ فِي بَعْضِ حِيطَانِهِ، فَهَلَكَ الصَّبِيُّ، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَغَسَّلَتْهُ، وَكَفَّنَتْهُ وَحَنَّطَتْهُ وَسَجَّتْ عَلَيْهِ ثَوْبًا، وَقَالَتْ: لَا يَكُونُ أَحَدٌ يُخْبِرُ أَبَا طَلْحَةَ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أُخْبِرُهُ، فَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ كَالًّا، وَهُوَ صَائِمٌ، فَتَطَيَّبَتْ لَهُ وَتَصَنَّعَتْ لَهُ وَجَاءَتْ بِعَشَائِهِ، فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَبُو عُمَيْرٍ، فَقَالَتْ: تَعَشَّى وَقَدْ فَرَغَ، قَالَ: فَتَعَشَّى وَأَصَابَ مِنْهَا مَا يُصِيبُ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ، ثُمَّ قَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ أَهْلَ بَيْتٍ أَعَارُوا أَهْلَ بَيْتٍ عَارِيَّةً، فَطَلَبَهَا أَصْحَابُهَا أَيَرُدُّونَهَا أَوْ يَحْبِسُونَهَا، فَقَالَ: بَلْ يَرُدُّونَهَا [ص:159] عَلَيْهِمْ، قَالَتْ: احْتَسِبْ أَبَا عُمَيْرٍ، قَالَ: فَغَضِبَ وَانْطَلَقَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ بِقَوْلِ أُمِّ سُلَيْمٍ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا»، قَالَ: فَحَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حَتَّى إِذَا وَضَعَتْ وَكَانَ يَوْمُ السَّابِعِ، قَالَتْ لِي أُمُّ سُلَيْمٍ: يَا أَنَسُ اذْهَبْ بِهَذَا الصَّبِيِّ وَهَذَا الْمِكْتَلِ وَفِيهِ شَيْءٌ مِنْ عَجْوَةٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يَكُونَ هُوَ الَّذِي يُحَنِّكُهُ وَيُسَمِّيهِ، قَالَ: فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رِجْلَيْهِ وَأَضْجَعَهُ فِي حِجْرِهِ، وَأَخَذَ تَمْرَةً فَلَاكَهَا، ثُمَّ مَجَّهَا فِي فِيِّ الصَّبِيِّ، فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَبَتِ الْأَنْصَارُ إِلَّا حُبَّ التَّمْرِ»

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا تھا جس کی کنیت ابو عمیر تھی نبی اکرم ﷺ دریافت کیا کرتے تھے ' اے ابو عمر ! تمہاری چڑیا کا کیا حال ہے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: و ہ بیمار ہو گیا حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنے کسی باغ میں گئے ہوئے تھے اس بچے کا انتقال ہو گیا ۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ اٹھیں انہوں نے اس بچے کو غسل دیا اسے کفن دیا اسے خوشبو لگائی اور اسے کپڑے میں ڈھانپ دیا ۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کوئی بھی شخص ابو طلحہ کو ا س بار ے میں اطلاع نہ دے میں خود انہیں اس بات کی اطلاع دوں گی پھر حضرت ابو طلحہ تھکے ہوئے آئے انہوں نے روزہ رکھا ہوا تھا ۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے خوشبو لگائی اور ان کے لیے تیار ہوگئیں وہ کھانا لے آئیں ۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : ابو عمیر کا کیا حال ہے ۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ شام کا کھانا کھا کر فارغ ہو چکا ہے ۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے کھانا کھایا اس کے بعد انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ صحبت کی پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابو طلحہ آپ کا کیا خیال ہے اگر کسی گھر انے کے لوگ کسی دوسرے گھر والوں کو عاریت کے طور پر کوئی چیز دیں اور پھر اس چیز کے مالکان دوسرے لوگوں سے اس کا مطالبہ کریں تو کیا وہ دوسرے لوگ اس چیز کو واپس کر دیں گے یا اپنے پاس رکھیں گے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بلکہ انہیں وہ چیز انہیں واپس کرنی چاہئے تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ابو عمیر کے حوالے سے ثواب کی امید رکھیے تو حضرت ابو طلحہ غصے میں آگئے و ہ نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے اور آپ کو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ کے قول کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ تم دونوں کی گزشتہ رات میں تم دونوں کو برکت نصیب کرے ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے حاملہ ہو گئیں جب انہوں نے اس بچے کو جنم دیا تو اس کی پیدائش کے ساتویں دن سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے انس اس بچے کو لے جاؤ اور یہ برتن بھی لے جاؤ اس میں کچھ کھجوریں ہیں انہیں نبی اکر م ﷺ کے پاس لے جاؤ تا کہ نبی اکرمﷺ سے گھٹی دیں اور اس کا نام تجویز کریں ۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں اسے لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم ﷺ اس وقت پاؤں پھیلا کر بیٹھے ہوئے تھے آ پ نے اس بچے کو گود میں لٹایا آپ نے ایک کھجور لی اسے چبایا پھر وہ کھجور اس بچے کے منہ میں ڈال دی اس بچے نے اسے چوسنا شروع کر دیا ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : انصار واقعی کھجوروں سے محبت کرتے ہیں۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← عُمَارَةِ بْنِ زَاذَانَ ← شَيْبَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7188

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7212

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ، وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ وَقَدْ خَرَجُوا بِمَسَاحِيهِمْ وَفُؤُوسِهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ، وَقَالُوا: مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ، فَقَالَ رَسُولُ [ص:195] اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُ أَكْبَرُ خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ»، فَقَاتَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَزَمَهُمْ، فَلَمَّا قُسِمَتِ الْمَغَانِمُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ وَقَعَ فِي سَهْمِ دَحِيَّةَ الْكَلْبِيِّ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ، فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ، ثُمَّ دَفَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُهَيِّئُهَا، وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا بِالْأَنْطَاعِ، فَأُحْضِرَتْ، فَوَضَعَ الْأَنْطَاعَ وَجِيءَ بِالتَّمْرِ وَالسَّمْنِ، فَأَوْسَعَهُمْ حَيْسًا، فَأَكَلَ النَّاسُ حَتَّى شَبِعُوا، فَقَالَ النَّاسُ: تَزَوَّجَهَا أَمِ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ؟ فَقَالُوا: إِنْ حَجَبَهَا فَهِيَ امْرَأَتُهُ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ، فَلَمَّا أَرَادَتْ أَنْ تَرْكَبَ حَجَبَهَا حَتَّى قَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ خَلْفَهُ، ثُمَّ رَكِبَتْ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ، وَأَوْضَعَ النَّاسُ، وَأَشْرَفَتِ النِّسَاءُ يَنْظُرْنَ، فَعَثَرَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتُهُ، فَوَقَعَ وَوَقَعَتْ صَفِيَّةُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَبَهَا، فَقَالَتِ النِّسَاءُ: أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ، وَشَمِتْنَ بِهَا، قَالَ ثَابِتٌ: فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: يَا أَبَا حَمْزَةَ أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَاحِلَتِهِ؟ فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ يَا أَبَا مُحَمَّدِ

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7212

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7213

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: «أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ خَيْبَرَ وَالْمَدِينَةِ ثَلَاثًا يَبْنِي بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ، فَدَعَوْتُ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى وَلِيمَتِهِ، فَمَا كَانَ فِيهَا مِنْ خُبْزٍ، وَلَا لَحْمٍ أَمَرَنَا بِالْأَنْطَاعِ، فَأُلْقِيَ فِيهَا مِنَ التَّمْرِ وَالْأَقِطِ وَالسَّمْنِ، فَكَانَتْ وَلِيمَتَهُ»، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ هِيَ أَوْ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، وَقَالُوا: إِنْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِنَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ مِمَّا مَلَكَتْ يَمِينُهُ، فَلَمَّا ارْتَحَلَ وَطَّى لَهَا مِنْ خَلْفِهِ، وَمَدَّ الْحِجَابَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ النَّاسِ «

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے خبیر اور مدینہ منورہ کے درمیان کسی جگہ پر تین دن تک قیام کیا آپ نے سیدہ صفیہ بن حیی رضی اللہ عنہ کی رخصتی کروائی تھی میں اہل ایمان کو نبی اکرمﷺ کے ولیمے کے لئے بلا کر لا یا تھا اس میں روٹی یا گوشت نہیں تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے ہمیں دستر خواں لانے کا حکم دیا ' تو اس دستر خواں پر کھجوریں ، پنیر اور گھی رکھ دیا گیا یہ نبی اکرم ﷺ کا ولیمہ تھا ۔ مسلمانوں نے کہا: یہ امہات المومنین میں سے ایک شمار ہوں گی یا نبی اکرم ﷺ کی کنیز شمار ہوں گی ' تو دوسروں نے جواب دیا : اگر نبی اکرم ﷺ نے ان کا پردہ کروایا تو یہ امہات المومنین میں شمار ہوں گی اگر پردہ نہ کردایا تو یہ آپ کی کنیز شمار ہوں گی۔ (راوی بیان کرتے ہیں : ) جب نبی اکرمﷺ روانہ ہونے لگے تو آپ نے اس خاتون کے لئے اپنے پیچھے جگہ بنائی اور اس خاتون کے اور لوگوں کے درمیان پردہ کھینچ دیا ۔

«أَقَامَ النَّبِيُّ بَيْنَ خَيْبَرَ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7213

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6066

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ،: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہی : "بخار کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے ، تو تم پانی کے ذریعے اسے ٹھنٖڈا کرو۔"

«إِنَّ شِدَّةَ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ» ← النَّبِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6066

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6067

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْحُمَّى مِنْ فَوْرِ جَهَنَّمَ، فَأَطْفِئُوهَا بِالْمَاءِ»

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ ،نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں:

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← مَالِكٍ، ← الشَّافِعِیُّ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6067

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6068

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ [ص:432] أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَاحْتَبَسْتُ أَيَّامًا، فَقَالَ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: الْحُمَّى، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ، فَأَبْرِدُوهَا بِمَاءِ زَمْزَمَ»

۔ابو جمرہ بیان کرتےہیں: میں لوگوں کو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے پاس آکر (انہیں تنگ کرنے )سے روکتا تھا ایک مرتبہ میں کچھ دن تک نہیں آیا،تو انہوں نے دریافت کیا تم کیوں نہیں آئے میں نے جواب دیا : بخار کی وجہ سے ۔ انہوں نے بتایانبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "بے شک بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے، تو تم زم زم کے پانی کے ذریعے اسے ٹھنڈا کرو۔"

ابْنِ عَبَّاسٍ، فَاحْتَبَسْتُ أَيَّامًا، فَقَالَ: مَا حَبَسَكَ؟ قُلْتُ: الْحُمَّى، ← كُنْتُ أَدْفَعُ النَّاسَ ← أَبُو جَمْرَةَ، ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ، ← عُثْمَانُ بْنُ [ص:261] أَبِي شَيْبَةَ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6068

صیح ابن حبان · کِتَابُ الطِّبِ ‹ بَابُ ذَوِی الَا رحَامِ · حديث 6078

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا هِنْدٍ، حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَافُوخِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ، وَانْكِحُوا إِلَيْهِ» فَقَالَ: «إِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوَوْنَ بِهِ خَيْرٌ فَالْحِجَامَةُ»

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتےہیں :ابو ہندہ نے نبی اکرمﷺ کےیا فوخ پر پچھنے لگائے تھے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے انصار ! ابو ہند کی شادی کرو ادو (اپنے خاندان کی کسی لڑکی کے ساتھ ) اس کی شادی کردو۔نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم لوگ علاج کے طور پر جو چیز اختیار کرتےہو اس میں سے بہتر چیز پچھنے لگانا ہے۔

النَّبِيُّ «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ، وَانْكِحُوا إِلَيْهِ» ← أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا هِنْدٍ، حَجَمَ النَّبِيَّ فِي الْيَافُوخِ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · Medical book › Gate of those with mercy · Hadith 6078

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ ذِکْرُ اِبَاحَۃِ الشُّرْبِ فِی الْاَقْدَاحِ ضِدَّ قَوْلِ مَنْ کَرِھَہُ مِنَ الْمُتَصَوِّفَۃِ · حديث 5319

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، وَمُغِيرَةُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَرِبَ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ وَهُوَ قَائِمٌ»

حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے کھڑے ہو کر آب ِ زم زم پیا تھا۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٌ، وَمُغِيرَةُ، ← هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارٍ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Mentioning the permissibility of drinking in a blasphemy against the saying of those who hate it among the mystics · Hadith 5319

صیح ابن حبان · کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ ‹ کِتَاب ُ الرُّقٰی وَالتَّمَائِمِ · حديث 6096

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْقِي: «امْسَحِ الْبَأْسَ، رَبَّ النَّاسِ، بِيَدِكَ الشِّفَاءُ، لَا كَاشِفَ إِلَّا أَنْتَ»

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں :نبی اکرمﷺ یہ دم کیا کرتےتھے ۔ "اے لوگوں کے پروردگار ،تو تکلیف کو دور کردے شفاء تیرے دست قدرت میں ہے اس تکلیف کو صرف ، تو ہی دور کر سکتا ہے۔"

عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ ← عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im › The Book of Al-Raqi and Al-Tama’im · Hadith 6096

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5352

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا قَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ وَأَنَا أَصْغَرُهُمْ سِنًّا عَلَى عُمُومَتِي، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّهَا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ وَأَنَا قَائِمٌ عَلَيْهِمْ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ، فَقَالُوا: اكْفَأْهَا، فَكَفَأْتُهَا «فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا هُوَ؟ قَالَ: الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَنَسٍ: كَانَتْ خَمْرَهُمْ يَوْمَئِذٍ، فَلَمْ يُنْكِرْهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں: میں اپنے محلے میں اپنے چچاؤں کو ( شراب پلا رہا تھا ) میں وہاں سب سےکم سن تھا۔ اسی دوران ایک شخص آیا اور بولا شراب کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ میں وہاں کھڑا ہوا ان لوگوں کو فضیخ ( نامی شراب) پلا رہا تھا ۔ ان حضرات نے کہا: اسے گرا دو میں نے اسے گرا دیا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت انسؓ سے دریافت کیا وہ کس چیز کی شرب ہوتی تھی ؟ انہوں نے فرمایا: خشک اور تازہ کھجوروں سے بنی ہوئی۔ ابو بکر بن انس بیان کرتے ہیں: اس زمانے میں ان لوگوں کی شراب اسی چیز کی ہوتی تھی ‘تو حضرت انس بن مالکؓ نے ان کی اس بات کا انکار نہیں کیا۔

الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، ← اكْفَأْهَا، فَكَفَأْتُهَا «فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: مَا هُوَ؟ ← قَائِمٌ عَلَيْهِمْ أَسْقِيهِمْ مِنْ فَضِيخٍ لَهُمْ، ← إِنَّهَا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ ← أَصْغَرُهُمْ سِنًّا عَلَى عُمُومَتِي، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ ← قَائِمٌ عَلَى الْحَيِّ ← بَيْنَمَا ← سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← حِبَّانُ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5352

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5353

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ، عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، يَقُولُ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ: مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ، وَمَا خَامَرَ الْعَقْلَ فَهُوَ خَمْرٌ»، ثَلَاثٌ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْنَا عَهْدًا نَنْتَهِي إِلَيْهِ: الْجَدُّ، [ص:176] وَالْكَلَالَةُ، وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: میں نے حضرت عمرؓ کو اس منبر پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : اے لوگوں ! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا اس وقت یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی انگور ، شہد ، گندم اور جو ، جو بھی چیز عقل کو ڈھانپ لے وہ خمر ہے تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں میری یہ خواہش تھی کہ نبی اکرمﷺ ہمیں اس بارے میں زیادہ واضح طور پر بتا دیتے۔ ( وراثت کا مسئلہ) کلالہ کا مسئلہ اور سود کی کچھ صورتیں۔

عُمَرَ، عَلَى هَذَا الْمِنْبَرِ، ← ابْنِ عُمَرَ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5353

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5358

أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبُو جَابِرٍ، بِالْمَوْصِلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَسْقَلَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْفِرْيَابِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: خَطَبَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ الْخَمْرَ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا يَوْمَ نَزَلَ، وَهِيَ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ [ص:182] وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: حضرت عمر بن خطاب ؓ نے نبی اکرمﷺ کے منبر پر ہمیں خطبہ دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا ء بیان کی‘ پھر یہ بات بیان کی: جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا ‘ تو یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی۔ انگور، کھجور، شہد ، گندم اور جو ، ویسے خمر ہر اس چیز کو کہا جاتا ہے ‘ جو عقل کو ڈھانپ لے۔

ابْنِ عُمَرَ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي حَيَّانَ، ← يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ← الْفِرْيَابِيُّ، ← عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَسْقَلَانِيُّ، ← زَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَبُو جَابِرٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5358

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5359

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَابْنُ إِدْرِيسَ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ، عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «أَمَّا بَعْدُ، أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ: مِنَ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ، ثَلَاثٌ أَيُّهَا النَّاسُ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُفَارِقْنَا حَتَّى يَعْهَدَ إِلَيْنَا فِيهِنَّ عَهْدًا نَنْتَهِي إِلَيْهِ: الْكَلَالَةُ وَالْجَدُّ، وَأَبْوَابٌ مِنْ [ص:183] أَبْوَابِ الرِّبَا»

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: میں حضرت عمرؓ کو نبی اکرمﷺ کے منبر پر یہ بیان کرتے ہوئے سنا۔ ’’ اما بعد اے لوگوں ! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا ‘ تو یہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی‘ انگور ، کھجور، شہد ، گندم اور جو ‘ ویسے خمر ہو وہ چیز ہے‘ تو عقل کو ڈھانپ لے۔ اے لوگوں ! تین چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں میری یہ خواہش تھی کہ نبی اکرمﷺ ہم سے جدا ہونے سے پہلے ہمیں ان کے بارے میں زیادہ وضاحت سے بتا دیتے کلالہ،( وراثت میں ) دادا کا مسئلہ اور سود کی کچھ صورتیں۔

عمر على منبر رسول الله ← ابْنِ عُمَرَ ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ← عِيسَى بْنُ يُونُسَ، وَابْنُ إِدْرِيسَ وَيَحْيَى بْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5359

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5361

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَسُهَيْلُ بْنُ بَيْضَاءَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ وَأَنَا أَسْقِيهِمْ مِنْ شَرَابٍ حَتَّى كَادَ يَأْخُذُ فِيهِمْ، فَمَرَّ بِنَا مَارٌّ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَنَادَى أَلَا هَلْ شَعَرْتُمْ أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا انْتَظَرُوا أَنْ أَمَرُونِيَ أَنِ اكْفَأْ مَا فِي آنِيَتِكَ، فَفَعَلْتُ، فَمَا عَادُوا فِي شَيْءٍ مِنْهَا حَتَّى لَقُوا اللَّهَ، وَإِنَّهَا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ، وَإِنَّهَا لَخَمْرُنَا يَوْمَئِذٍ «

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں : حضرت ابو عبیدہ بن جراح ؓ ، حضرت سہیل بن بیضاءؓ اور حضرت اُبی بن کعبؓ حضرت ابو طلحہؓ کے ہاں موجود تھے۔ میں ان حضرات کو شراب پلا رہا تھا۔ وہ حضرات اسے پی ہی رہے تھے اسی دوران وہا ں ایک مسلمان گزرا اور اس نے اعلان کیا ‘ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ شراب کو حرا م قرار دے دیا گیا ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم انہوں نے اس بات کا انتظار نہیں کیا( اور فوراً ) مجھے یہ ہدایت کی کہ تم اپنے برتن میں موجود شراب کو انڈیل دو ‘ تو میں نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالی ٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک انہوں نے کبھی شراب نہیں پی۔ اس زمانے میں شراب تازہ اور خشک کھجوروں سے بنائی جاتی تھی۔ ان دنوں ہماری شراب یہی تھی۔

أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ ← سهيل بن بيضاء ← كَانَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ ← اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5361

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5363

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، وَثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: «كُنْتُ أَسْقِي أَبَا طَلْحَةَ وَأَبَا عُبَيْدَةَ وَكَعْبًا وَسُهَيْلَ بْنَ بَيْضَاءَ نَبِيذَ التَّمْرِ وَالْبُسْرِ حَتَّى أَسْرَعَتْ فِيهِمْ، فَإِذَا مُنَادٍ يُنَادِي: أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا انْتَظَرُوا أَنْ يَعْلَمُوا أَحَقًّا قَالَ أَمْ بَاطِلًا، فَقَالُوا: اكْفَأْ يَا أَنَسُ، قَالَ: فَكَفَأْتُهُ، فَوَاللَّهِ مَا رَجَعَتْ إِلَى رُءُوسِهِمْ حَتَّى لَقُوا اللَّهَ وَكَانَ خَمْرَهُمُ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ»

حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں :میں حضرت ابو طلحہؓ حضرت ابو عبیدہ ؓ حضرت کعب ؓ حضرت سہیل بن بیضاء ؓ کو خشک اور تازہ کھجور سے بنی ہوئی نبض پلا رہا تھا۔ اسی دوران ایک منادی نے یہ اعلان کیا خبر دار شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں :اللہ کی قسم انہوں نے اس بات کا انتظار نہیں کیا کہ وہ پہلے اس بات کی تحقیق کر لیں کہ یہ بات درست ہے یا غلط ہے۔ ان لوگوں نے کہا: اے انس! اسے بہا دو ‘ تو میں نے اسے بہا دیا۔ اللہ کی قسم اس کے بعد یہ حضرات مرتے دم تک دوبارہ کبھی شراب کی طرف نہیں گئے۔ ان دنوں شراب خشک اور تازہ کھجوروں سے بنائی جاتی تھی۔

أَنَسٍ، ← حُمَيْدٌ وَثَابِتٌ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5363

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5376

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، [ص:197] عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ، أَمَرَنَا أَنْ يَنْزِلَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَّا قَرِيبًا مِنْ صَاحِبِهِ، فَقَالَ لَنَا: «يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا، وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا» فَلَمَّا قُمْنَا قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفْتِنَا فِي شَرَابَيْنِ كُنَّا نَصْنَعُهُمَا: الْبِتْعُ مِنَ الْعَسَلِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ، وَالْمِزْرُ مِنَ الشَّعِيرِ وَالذُّرَةِ يُنْبَذُ حَتَّى يَشْتَدَّ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أُوتِيَ جَوَامِعَ الْكَلِمِ وَخَوَاتِمَهُ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حَرَامٌ عَلَيْكُمْ كُلُّ مُسْكِرٍ يُسْكِرُ عَنِ الصَّلَاةِ» قَالَ: «وَأَتَانِي مُعَاذٌ يَوْمًا وَعِنْدِي رَجُلٌ كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ تَهَوَّدَ، فَسَأَلَنِي مَا شَأْنُهُ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقُلْتُ لِمُعَاذٍ: اجْلِسْ» فَقَالَ: مَا أَنَا بِالَّذِي أَجْلِسُ حَتَّى أَعْرِضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ، فَإِنْ قَبِلَ وَإِلَّا ضَرَبْتُ عُنُقَهُ، فَعَرَضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامَ فَأَبَى أَنْ يُسْلِمَ، فَضَرَبَ عُنُقَهُ، فَسَأَلَنِي مُعَاذٌ يَوْمًا: كَيْفَ تَقْرَأُ الْقُرْآنَ؟ فَقُلْتُ: «أَقْرَؤُهُ قَائِمًا وَقَاعِدًا وَعَلَى فِرَاشِي أَتَفَوَّقُهُ تَفَوُّقًا» قَالَ: وَسَأَلْتُ مُعَاذًا: «كَيْفَ تَقْرَأُ أَنْتَ؟ » قَالَ: أَقْرَأُ وَأَنَامُ ثُمَّ أَقُومُ فَأَتَقَوَّى بِنَوْمَتِي عَلَى قَوْمَتِي، ثُمَّ أَحْتَسِبُ نَوْمَتِي بِمَا أَحْتَسِبُ بِهِ قَوْمَتِي

حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ نے مجھے اور حضرت معاذ بن جبل ؓ کو یمن بھیجا ‘ تو آپﷺ نے ہمیں یہ ہدایت کی کہ ہم میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے قریب رہے ۔آپﷺ نے ہم سے فرمایا تم دونوں آسانی فراہم کرنا تنگی کا شکار نہ کرنا خوشخبری سنانا متنفرنہ کرنا جب ہم اٹھنے لگے ‘ تو میں نے عرض کی :یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ہمیں دو طرح کے مشروبات کے بارے میں حکم بیان کر دیجئے جو ہم تیار کرتے ہیں۔ ایک بتع ہے‘جو شہد سے بنایا جاتا ہے ۔ اس کی نبیذ تیار کی جاتی ہے ‘ یہاں تک کہ وہ پختہ ہو جاتی ہے اور مزر ہے جسے جو اور مکئی سے بنایا جاتا ہے ‘ اس کی نبیذ ہوتی ہے‘ یہاں تک کہ اس میں شدت آ جاتی ہے ‘ تو نبی اکرمﷺ کو کیونکہ جامع اور مانع کلمات عطا کئےگئے تھے اس لئے آپﷺ نے ارشاد فرمایا: تم پر ہر وہ چیز حرام ہے ‘ جو نشہ آور ہو جو نماز سے روک دے۔ راوی بیان کرتے ہیں : ایک دن حضرت معاذ ؓ میرے پاس آئے اس وقت میرے پاس ایک شخص موجود تھا جو پہلے یہودی تھا ‘ پھر اس نے اسلام قبول کیا پھر یہودی ہو گیا۔ انہوں نے مجھ سے اس معاملے کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے انہیں اس بارے میں بتایا ‘ تو میں نے حضرت معاذ ؓ سے کہا آپ تشریف رکھیں۔ انہوں نے فرمایا : میں اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا‘ جب تک میں اس اسلام کی پیشکش نہیں کرتا اگر یہ اسے قبول کر لے گا‘ تو ٹھیک ہے ورنہ میں اس کی گردن اڑا دوں گا ۔ حضرت معاذ ؓ نے اسے اسلام کی پیشکش کی۔ اس نے اسلام قبو ل کرنے سے انکار کر دیا‘ تو حضرت معاذؓ نے اس کی گردن اڑا دی ایک دن حضرت معاذؓ نے مجھ سے دریافت کیا تم قرآن کیسے پڑھتے ہو۔ میں نے جواب دیا: میں قیام کی حالت میں بیٹھ کر اور بستر پر لیٹ کر بھی اسے پڑھ لیتا ہوں۔ حضرت ابو موسیٰؓ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت معاذؓ سے دریافت کیا آپ کیسے پڑھتے ہیں ۔ انہوں نے فرمایا: اس کی تلاوت کرتا ہوں پھر سو جاتا ہوں پھر قیام کی حالت میں پڑھتا ہوں ‘ تو میں اپنی نیند کے ذریعے اپنے قیام کے بارے میں قوت حاصل کرتا ہوں اور مجھے اپنی نیند سے بھی اسی ثواب کی امید ہے ‘ جو اپنے قیام کرنے کے حوالے سے ثواب کی امید ہے۔

أَبِي مُوسَی الأَشْعَرِيِّ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَحْطَبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5376

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5377

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةَ الْبِتْعِ وَالْمِزْرِ، قَالَ: «وَمَا الْبِتْعُ؟ » فَقُلْتُ: شَرَابٌ يَكُونُ مِنَ الْعَسَلِ، وَالْمِزْرُ شَرَابٌ يَكُونُ مِنَ الشَّعِيرِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ»

حضرت ابو اشعریؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے مجھے یمن بھیجا ‘ تو میں نے عرض کی:یا رسول اللہ ﷺ ! وہاں بتع اور مزر نامی شراب استعمال ہوتی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : بتع کیا ہے میں نے عرض کی: یہ شراب ہے ‘ جو شہد سے بنائی جاتی ہے اور مزر ایک شراب ہے ‘ جو جَو سے بنائی جاتی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: ہر نشہ آور چیز حرام ہے ۔

بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: ← أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← الشَّيْبَانِيِّ ← ابْنُ فُضَيْلٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5377

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5378

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ أَنْ يُخْلَطَا»

حضرت ابو سعید خدریؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے کھجور اورکشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا ہے۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِي نَضْرَةَ ← سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5378

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5379

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، «عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الزَّبِيبُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا، وَأَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالرُّطَبُ جَمِيعًا»

حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے ‘ کشمش اور کھجور کو ملا کر نبیذ تیا ر کی جائے یا تازہ اور خشک کھجور کو ملا کر نبیذ تیار کی جائے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَطَاءُ بْنُ اَبِیْ رَبَاحٍ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5379

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَشْرِبَۃِ ‹ فَصْلٌ فِی الْاَشْرِبَۃِ · حديث 5380

أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُخْلَطَ التَّمْرُ بِالزَّهْوِ، ثُمَّ يُشْرَبَ، وَإِنَّ ذَلِكَ عَامَّةُ خُمُورِهِمْ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ»

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ نے اس بات سے منع کیاہے ‘ خشک کھجور کو تازہ کے ساتھ ملا کر ( نبیذ تیا ر کی جائے) اور پھر اسے پیا جائے کیونکہ جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا ‘ تو زیادہ تر شراب اسی طرح بنائی جاتی تھی۔

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← أَنَّهُ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ دِعَامَةَ، ← ابْنُ وَهْبٍ، ← حَرْمَلَةُ، ← ابْنُ سَلْمٍ،

Sahih Ibn Hibban · The Drinking Book › Drinking chapter · Hadith 5380

chevron_left Previous
1…383940…647
Next chevron_right