Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطب والصحة

Medicine & Health

12931 hadiths

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6456

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قَالَ: [ص:369] حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ عَنْهُ لِأَهْلِ الْيَمَنِ، أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ»، فَسُئِلَ عَنْ عَرَضِهِ، فَقَالَ: «مِنْ مَقَامِي هَذَا إِلَى عَمَّانَ»، وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ، فَقَالَ: «أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، فِيهِ مِيزَابَانِ يُمَدَّانِ مِنَ الْجَنَّةِ، أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ، وَالْآخَرُ مِنْ وَرِقٍ» قَالَ بُنْدَارٌ: فَقُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ: هَذَا حَدِيثُ أَبِي عَوَانَةَ؟ فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي عَوَانَةَ أَيْضًا، فَقُلْتُ: انْظُرْ لِي فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، فَنَظَرَ فِيهِ، فَحَدَّثَنِي بِهِ «

حضرت ثوبان ؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " میں اپنے حوض کے قریب کھڑے ہو کر اس سے ( کچھ ) اہل یمن کو پرے کروں گا ۔ میں اپنے عصا کے ذریعے انہیں ماروں گا تاکہ وہ پیچھے ہٹ جائیں ۔" ( راوی بیان کرتے ہیں ) نبی اکرمﷺ سے اس حوض کی چوڑائی کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپﷺ نے فرمایا: میرے کھڑے ہونے کی جگہ سے لے کر عمان تک ( جتنا فاصلہ ہے وہ اتنا چوڑا ہوگا ) نبی اکرمﷺ اسے اس کے مشروب کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپﷺ نے فرمایا: وہ مشروب دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا ۔ اس حوض میں دو پر نالے ہوں گے جو جنت سے آرہے ہوں گے ۔ ان میں سے ایک سونے کا بنا ہوا ہوگا اور ایک چاندی کا بنا ہوگا ۔ بندار نامی راوی کہتے ہیں : میں نے یحیٰ بن حماد سے کہا: کیا یہ ابوعوانہ کی نقل کر دہ روایت ہے ، تو انہو ں نے بتایا میں نے یہ روایت ابوعوابہ سے ہی سنی ہے ۔ میں نے کہا: آپ میرے لیے شعبہ کی نقل کر دہ روایت کا جائز لے لیجئے ۔ انہو ں نے اس میں اس روایت کو تلاش کیا اور پھر یہ حدیث بیان کی ۔ اس بارے میں اطلاع کا تذکرہ کہ جو شخص نبی اکرمﷺ کے حوض سے پانی پی لے گا وہ اس کے بعد چہرے کے سیاہ ہونے سے محفوظ ہوگا ( کیونکہ قرآن میں ذکر ہے کہ قیامت کے دن کچھ لوگوں کے چہرے سفید ہوں گے ، اور کچھ لوگوں کے سیاہ ہوں گے )

ثَوْبَانَ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ← بُنْدَارٌ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6456

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6457

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي الْيَمَانِ الْهَوْزَنِيِّ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ الْأَخْنَسِ السُّلَمِيَّ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا سَعَةُ [ص:370] حَوْضِكَ؟ قَالَ: «كَمَا بَيْنَ عَدْنٍ إِلَى عَمَّانَ، وَأَنَّ فِيهِ مَثْعَبَيْنِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ» قَالَ: فَمَا حَوْضُكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: «أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مَذَاقَةً مِنَ الْعَسَلِ، وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنَ الْمِسْكِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا، وَلَمْ يَسْوَدْ وَجْهُهُ أَبَدًا». قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي هَذَا الْخَبَرِ: «مَثْعَبَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ»، وَفِي خَبَرِ ثَوْبَانَ الَّذِي ذَكَرْنَا: «مِيزَابَانِ أَحَدُهُمَا دُرٌّ وَالْآخَرُ ذَهَبٌ»، وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا تَضَادٌّ، لِأَنَّ أَحَدَ الْمَثْعَبَيْنِ يَكُونُ مِنْ ذَهَبٍ، وَالْآخَرُ مِنْ فِضَّةٍ قَدْ رُكِّبَ عَلَيْهِ الدُّرُّ حَتَّى لَا يَكُونَ بَيْنَهَا تَضَادٌّ «

حضرت ابوامامہ باہلی ؓ بیان کرتے ہیں : حضرت یزید بن اخنس ؓ نے دریافت کیا: یا رسول اللہ(ﷺ)! آپﷺ کے حوض کی وسعت کتنی ہے ، تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جتنا عدن اور عمان کے درمیان فاصلہ ہے اور اس میں دو پرنالے ہیں ، جو سونے اور چاندی کے بنے ہوئے ہیں۔ ا نہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے نبی آپﷺ کے حوض ( کا مشرو ب ) کیسا ہوگا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: وہ دودھ سے زیادہ سفید ہوگا ۔اور چکھنے میں شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ پاکیزہ ہوگی ، جو شخص اس میں سے پی لیے گا ۔ وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا ۔ اور اس کا چہرہ بھی سیاہ نہیں ہوگا۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں:) اس روایت میں یہ بات مذکورہ ہے کہ اس کے دو پر نالے سونے اور چاندی کے بنے ہوئے ہین جبکہ حضرت ثوبان ؓ کے حوالے سے ہماری ذکر کردہ روایت میں یہ بات مذکور ہے ۔ کہ اس کے دو پرنالے ہیں ۔ جن میں سے ایک موتی سے بنا ہوا ہے ۔ اور ایک سونے سے بنا ہوا ہے ، تو ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں ہے ۔ کیونکہ ان دو پرنالوں میں سے ایک سونے کا بنا ہوا ہوگا ۔ اور دوسرے کے بارے میں ہوسکتا ہے کہ وہ چاندی سے بنا ہوا اور اس پر موتی لگا دیئے ہوں ۔ اس طرح ان دونوں روایات میں تضاد باقی نہیں رہے گا ۔

أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، أَنَّ يَزِيدَ بْنَ الْأَخْنَسِ السُّلَمِيَّ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ، وَأَبِي الْيَمَانِ الْهَوْزَنِيِّ، ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6457

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6458

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، زَاجْ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْوَازِعِ جَابِرَ بْنَ عَمْرٍو أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا بَرْزَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا بَيْنَ نَاحِيَتَيْ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى صَنْعَاءَ مَسِيرَةَ شَهْرٍ، عَرْضُهُ كَطُولِهِ، فِيهَا مِزْرَابَانِ يَنْثَعِبَانِ مِنَ الْجَنَّةِ مِنْ وَرِقٍ وَذَهَبٍ، أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، فِيهِ أَبَارِيقُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ»

حضرت ابوبرزہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : "میرے حوض کے دو کناروں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا ایلہ سے لے کر صنعاء تک کا فاصلہ ہے ، جو ایک ماہ کی مسافت جتنا ہے ۔ اس حوض کی چوڑائی اس حوض کی لمبارئی جتنی ہے اس میں دو پر نالے ہیں ، جو جنت سے آتے ہیں ۔جوچاندی اور سونے کے بنے ہوئے ہیں ( اس کا مشروب یا پانی ) دودھ سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا او ربرف سے زیادہ ٹھنڈا ہے ۔ اس حوض کے پاس آسمان کے ستاروں جتنے کوزے ہیں ۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبَا بَرْزَةَ ← أَبَا الْوَازِعِ جَابِرَ بْنَ عَمْرٍو أَنَّهُ ← شَدَّادُ بْنُ سَعِيدٍ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← اَحْمَدُ بْنُ مَنْصْوْرٍ زَاجٌ ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6458

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مِن صِفَتِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ ، وَاَخبَارِہِ · حديث 6473

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا أَنَا بِنَهَرٍ يَجْرِي، بَيَاضُهُ بَيَاضُ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَحَافَّتَاهُ خِيَامُ اللُّؤْلُؤِ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي، فَإِذَا الثَّرَى مِسْكٌ أَذْفَرُ، فَقُلْتُ لِجِبْرِيلَ: مَا هَذَا؟ فَقَالَ: هَذَا الْكَوْثَرُ الَّذِي أَعْطَاكَهُ اللَّهُ»

حضرت انس بن مالک ؓ ، نبی اکرمﷺ کایہ فرمان نقل کرتے ہیں : " میں جنت میں داخل ہوا ، تو وہاں ایک نہر بہہ رہی تھی جس کا پانی دودھ کی طرح سفید تھا۔ اور وہ شہد سے زیادہ میٹھا تھا۔ اس کے دونوں کناروں پر موتیوں سے بنے ہوئے خیمے موجود تھے ۔ میں نے اپنا ہاتھ لگایا ، تو وہاں کی مٹی مشک کی طرح تھی ۔ میں نے حضرت جبرائیل ؑ سے دریافت کیا یہ کیا ہے انہوں نے بتایا یہ وہ کوثر ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو عطا کی ہے ۔"

اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، ← حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← یَحْیَی بْنُ اَیُّوْبَ الْمَقَابِرِیُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Characteristics of the Prophet, peace and blessings of God be upon him, and the news · Hadith 6473

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْاَطْعِمَۃِ ‹ بَابُ الضِّیَافَۃِ · حديث 5297

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ، قَالَ: جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِي فَنَزَلَ عَلَيْهِ، فَأَتَاهُ بِطَعَامٍ وَحَيْسٍ وَسَوِيقٍ وَتَمْرٍ، ثُمَّ أَتَاهُ بِشَرَابٍ فَنَاوَلَ مَنْ عَنْ يَمِينِهِ، قَالَ: وَكَانَ يَأْكُلُ التَّمْرَ وَيَضَعُ النَّوَى عَلَى ظَهْرِ أُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوسْطَى، ثُمَّ يَرْمِي بِهِ، ثُمَّ دَعَا لَهُمْ، فَقَالَ: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ»

حضرت عبد اللہ بن بسر سلمی ؓ بیان کرتے ہیں :نبی اکرمﷺ میرے والد کے ہمراہ تشریف لائے۔ آپﷺ نے وہاں قیام کیا۔ آپﷺ کی خدمت میں کھانا ، حیس، ستو اور کھجور پیش کئے گئے پھر نبی اکرمﷺ کی خدمت میں مشروب پیش کیا گیا ‘تو آپ نے اپنے دائیں طرف والے شخص کی طرف بڑھا دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ کھجور کھاتے تھے اور گٹھلی کو اپنی شہادت کی انگلی اور درمیان والی انگلی کے درمیان رکھ دیتے تھے پھر آپ ﷺ اسے پھینک دیتے تھے پھر آپﷺ نے ان لوگوں کے لئے دعائے رحمت کی اور یہ دعاکی۔ ’’ اے اللہ ! جو رزق ‘ تو نے انہیں عطا کیا ہے اس میں ان کے لئے برکت رکھ دے ان کی مغفرت کر اور ان پر رحم کر دے‘‘۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ السُّلَمِيِّ ← يَزِيدُ بْنُ خُمَيْرٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Food Book › Guest door · Hadith 5297

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6528

أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ*، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي دُكَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُزَنِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْبٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَقَالَ لِعُمَرَ: «انْطَلِقْ فَجَهِّزْهُمْ»، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ هِيَ إِلَّا آصُعٌ مِنْ تَمْرٍ، فَانْطَلَقَ، فَأَخْرَجَ مِفْتَاحًا مِنْ حُزْتِهِ فَفَتَحَ [ص:463] الْبَابَ، فَإِذَا شِبْهُ الْفَصِيلِ الرَّابِضِ مِنَ التَّمْرِ، فَأَخَذْنَا مِنْهُ حَاجَتَنَا، قَالَ: فَلَقَدِ الْتَفَتُّ إِلَيْهِ، وَإِنِّي لَمِنْ آخِرِ أَصْحَابِي كَأَنَّا لَمْ نَرْزَأَهْ تَمْرَةً «

امام شعبی بیان کرتےہیں : میں نے علقمہ بن قیس سے قیس سے دریافت کیا: کیا جنات سے ملاقات کی رات حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے تو علقمہ نے جواب دیا : میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے یہ سوال کیا کیا آپ ( یعنی صحابہ کرام) میں سے کوئی نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھا جب جنات سے ملاقات ہوئی تھی تو انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ۔ ایک رات ہم نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے ۔ ہم نے آپ کو غیر موجود پایا تو ہم نے وہ رات بدترین حالت میں گزاری ۔ صبح کے قریب نبی اکرمﷺ غار حرا کی طرف سے تشریف لائے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جنات کا پیغام رساں میرے پاس آیا تو میں اس کے ساتھ چلا گیا ۔ میں نے ان کے سامنے قرآنبی اکرمﷺ کی تلاوت کی پھر نبی اکرمﷺ تشریف لے گئے پھر آپ نے ہمیں جنات کے آگ جلانے اور دیگر چیزوں کے نشانات ہمیں دکھائے ۔ ان جنات نے نبی اکرمﷺ سے زادراہ کے بارے میں دریافت کیا: تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا: ہر وہ کھانا جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اس کی ہر ہڈی جب تمہارے ہاتھ میں آئے گی تو اس پر پہلے سے زیادہ گوشت لگا ہوا ہوگا اور ہر مینگنی تمہارے جانوروں کا چار ا ہوگی ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: تم ان دو چیزوں سے استنجاء نہ کرو کیونکہ یہ تمہارے جنات بھائیوں کی خوراک ہے

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ فِي رَكْبٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، فَقَالَ لِعُمَرَ: «انْطَلِقْ فَجَهِّزْهُمْ»، ← دُكَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُزَنِيُّ، ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ*، ← ابْنُ خُزَيْمَةَ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6528

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6530

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، شَكَّ الْأَعْمَشُ، قَالَ: لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ [ص:465] اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ أَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا، فَأَكَلْنَا، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «افْعَلُوا»، فَجَاءَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُمْ إِنْ فَعَلُوا قَلَّ الظُّهْرُ، وَلَكِنِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوِدَتِهِمْ، ثُمَّ ادْعُ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ، قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَطْعٍ، فَبَسَطْتُهُ، ثُمَّ دَعَاهُمْ بِفَضْلِ أَزْوِدَتِهِمْ، قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ الذُّرَةِ، وَالْآخَرُ بِكَفِّ التَّمْرِ، وَالْآخَرُ بِكَسْرَةٍ حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النَّطْعِ مِنْ ذَلِكَ يَسِيرٌ، قَالَ فَدَعَا عَلَيْهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: «خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ»، فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ حَتَّى مَا تَرَكُوا فِي الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ، وَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَفَضَلَ مِنْهُ فَضْلَةً، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍ فَيُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ»

حضرت سمرہ بن جند بؓ بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ کی خدمت میں ثرید کا پیالہ پیش کیا گیا وہ لوگوں کے سامنے رکھا گیا تو لوگ صبح سے لے کر دوپہر تک یکے بعد دیگرے اس کے پاس آتے رہے ۔ کچھ لوگ اٹھتے تو دوسرے آکر بیٹھ جاتے ۔ ایک شخص نے حضرت سمرہ ؓ سے دریافت کیا: کیا وہ بڑھ رہا تھا ؟ حضرت سمرہ ؓ نے فرمایا: تمہیں کس بات پر حیرانگی ہر رہی ہے ۔ وہ صرف اس طر ف سے بڑھ رہا تھا ۔ انہوں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے آسمان کی طرف اشارہ کر کے کہا۔

يَا رَسُولَ [ص:465] اللَّهِ لَوْ أَذِنْتَ لَنَا فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا، فَأَكَلْنَا، ← لَمَّا کَانَ غَزْوَةُ تَبُوکَ أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ ← أبي هريرة شك الأعمش ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَوْ ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ ← أَبُو خَيْثَمَةَ ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6530

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6532

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُهَاجِرِ أَبِي مَخْلَدٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَمَرَاتٍ قَدْ صَفَفْتُهُنَّ فِي يَدَيَّ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، فَدَعَا لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ، وَقَالَ: «إِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَأْخُذَ شَيْئًا فَأَدْخِلْ يَدَكَ، وَلَا تَنْثُرْهُ نَثْرًا»، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «فَحَمَلْتُ مِنْ ذَلِكَ التَّمْرِ كَذَا وَكَذَا وَسْقًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَكُنَّا نَطْعَمُ مِنْهُ وَنُطْعِمُ، وَكَانَ فِي حِقْوِي حَتَّى انْقَطَعَ مِنِّي لَيَالِيَ عُثْمَانَ»

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرمﷺ نے قریش سے صلح کر لی ( اور آپ عمرہ کرنے کےلئے مکہ کی طرف روانہ ہوئے ) تو جب آپ "مرا الظہر ان "کے مقام پر پہنچے تو نبی اکرمﷺ کے اصحاب کو یہ اطلاع ملی کہ قریش یہ کہتے ہیں کہ حضرت محمد ﷺ کے ہاتھ پر ان کے ایسے اصحاب نے بیعت کی ہے ، جو کمزور ہیں تو نبی اکرمﷺ کے اصحاب نے عرض کی: اے اللہ کے نبی اگر ہم اپنی سواریوں کو قربان کر کے ان کا گوشت اور چربی کھائیں اور ان کا شوربا پئیں تو کل جب ہم ان کے سامنے جائیں گے ، تو ہماری حالت ایسی ہوگی کہ ہم طاقتور محسوس ہوں گے ۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: جی نہیں تم لوگ میرے پاس اپنا بچ جانے والا ( کھانے پینے کا ) سامان لے کر آؤ ان لوگوں نے دستر خوان بچھا دئیے اور اس پر اپنا بچ جانے والا ( کھانے پینے کا ) سامان ڈال دیا ۔ نبی اکرمﷺ نے ان کےلئے برکت کی دعا کی ۔ ان لوگوں نے اسے کھایا ، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے اور بچ جانے والا کھانے پینے کا سامان انہوں نے اپنے تھیلوں میں ڈال لیا پھر وہ اگلے دن ( کفار قریش ) کے سامنے آئے تو نبی اکرمﷺ نے ان سے فرما دیا وہ لوگ ( تمہارے اندر) کوئی کمزوری نہ دیکھیں پھر نبی اکرمﷺ اور آپ کے اصحاب نے اضطباع ( کے طور پر احرام کی چادر کو ) لپیٹا ان حضرات نے تین چکروں میں رمل کیا اور چار چکروں میں عام رفتار سے چلے مشرکین اس وقت حطیم میں اور دار الندوہ کے قریب موجود تھے جب نبی اکرمﷺ کے اصحاب ان کے دوسری طرف رکن یمانی اور ہجر اسود کے درمیان آتے تو عام رفتار سے چلتے پھر جب ان کے سامنے آتے ( تو دوڑ نے لگتے ) تو قریش نے کہا: اللہ کی قسم! یہ تو ہرنوں کی طرح ہیں ۔ ( حضرت عبداللہ بن عباسؓ کہتے ہیں :) تو یہ طریقہ سنت قرار پایا ۔

أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ بِتَمَرَاتٍ قَدْ صَفَفْتُهُنَّ فِي يَدَيَّ، فَقُلْتُ: ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي الْعَالِيَةِ ← مُهَاجِرِ أَبِي مَخْلَدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6532

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ المُعجِزَاتِ · حديث 6536

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ، بِوَاسِطٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ [ص:474] أَنْ يَأْخُذُوا التَّمْرَ بِمَا عَلَيْهِ، فَأَبَوْا، وَلَمْ يَرَوْ أَنَّ فِيهِ وَفَاءً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «إِذَا جَدَدْتَهُ فَوَضَعْتُهُ فِي الْمِرْبَدِ، فَآذِنِّي»، فَلَمَّا جَدَدْتَهُ، وَوَضَعْتُهُ فِي الْمِرْبَدِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ فَجَلَسَ عَلَيْهِ، فَدَعَا بِالْبَرَكَةِ، ثُمَّ قَالَ: «ادْعُ غُرَمَاءَكَ، فَأَوْفِهِمْ»، قَالَ: فَمَا تَرَكْتُ أَحَدًا لَهُ عَلَى أَبِي دَيْنٌ إِلَّا قَضَيْتُهُ، وَفَضَلَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ وَسْقًا سَبْعَةٌ عَجْوَةٌ، وَسِتَّةٌ لَوْنٌ، فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَضَحِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «ائْتِ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَأَخْبِرْهُمَا ذَلِكَ»، فَأَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَأَخْبَرْتُهُمَا، فَقَالَا: إِذْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ قَدْ عَلِمْنَا أَنَّهُ سَيَكُونُ ذَلِكَ

مجاہد بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوہریرہؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ ( بعض اوقات ) میرا یہ عالم ہوتا تھا کہ میں بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنا کلیجہ زمین کے ساتھ لگا لیا کرتا تھا ۔ ایک دن میں لوگوں کے راستے مین بیٹھ گیا جہاں سے وہ گزرا کرتے تھے ۔ حضرت ابوبکرؓ میرےپاس سے گزرے میں نےان سے اللہ کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں دریافت کیا ۔ میں نے ان سے صرف اس لئے سوال کیا تھا ، تاکہ وہ مجھے کھانا کھلا دیں لیکن وہ تشریف لے گئے ۔ انہوں نے کچھ نہیں کیا پھر حضرت عمر بن خطاب ؓ میرےپاس سے گزرے ۔ میں نے ان سے بھی اللہ کی کتاب کی ایک آیت کے بارے میں دریافت کیا۔ میں نے ان سے صرف اس لئے یہ سوال کیا تھا ، تاکہ وہ مجھے کھانا کھلا دیں لیکن وہ چلے گئے ۔ انہو ں نے ایسا نہیں کیا ۔ پھر میرے پاس سے حضرت ابوالقاسمﷺگزرے جب آپ نے میرے چہرے کو دیکھا اور جو کچھ میرے من میں تھا ملاحظہ کیا تو آپ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں حاضر ہوں ۔ نبی اکرمﷺنے فرمایا: میرے ساتھ آؤ۔ میں آپ کے ساتھ چل پڑا ۔ نبی اکرمﷺ اپنے گھر تشریف لے گئے ۔ آپ نے (مجھے اندر آنے کی ) اجازت دی تو میں اندر آیا ۔ وہاں ایک پیالے میں دودھ موجود تھا ۔ نبی اکرمﷺ نے اپنی اہلیہ سے دریافت کیا: یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا ہے ۔ انہوں نے جواب دیا ۔ فلاں نے ہدیہ بھیجا ہے ۔ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) فلاں نے بھیجا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! اہل صفہ کے پاس جاؤاور انہیں بلا لاؤ(حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں ) اہل صفہ اسلام کے مہمان تھے ۔ ان کا کوئی گھر بار کوئی مال منال نہیں تھا جب بھی نبی اکرمﷺ کی خدمت میں کوئی صدقہ آتا تھا تو آپ وہ ان لوگوں کی طرف بھجوا دیتے تھے ۔ آپ اس صدقے مں حصہ دار نہیں بنتے تھے لیکن جب آپ کی خدمت میں کوئی تحفہ آتا تھا تو آپ وہ ان کی طرف بھجوایا کرتے تھے اور اس تحفے میں ان کے ساتھ حصہ دار ہوتے تھے ۔ آپ سے میں سے خود روہ چیز استعمال کر لیتے تھے ۔ (حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں :) اللہ کی قسم! مجھے یہ بات بہت بری لگی میں نے سوچا بھلا اتنا سا دودھ اہل صفہ کے اور میرے اور نبی اکرمﷺکے ( کیا کام آئے گا ) لیکن میں چلا گیا میں ان لوگوں کو بلا لایا۔ نبی اکرمﷺ نے انہیں اندر آنے کی اجازت دی وہ لوگ اندر آگئے ۔ تمام لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! میں حاضر ہوں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم ( دودھ کا پیالہ ) لو اور اسے ان لوگوں کو پکڑاؤ ۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں میں نے ( وہ پیالہ ) ایک ایک شخص کی طرف بڑھانا شروع کیا ۔ وہ شخص اسے لیتا جب وہ سیر ہوجاتا تو میں اسے سے واپس لے لیتا اور دوسرے شخص کی طرف بڑھا دیتا ، یہاں تک کہ سب لوگ سیر ہوگئے پھر میں نبی اکرمﷺ کے پا س آیا۔ نبی اکرمﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور آپ مسکرا دیئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اے ابوہریرہ! اب میں اور تم ( باقی رہ گئے ہیں ) میں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ! آپ نے سچ فرمایا ہے ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: تم اسے لو اور اسے پی لو اس کے بعد نبی اکرمﷺ مسلسل یہی کہتے رہے "اور" پیو یہاں تک کہ میں نےعرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ۔ مجھے اس کے لئے کوئی راستہ نہیں ملتا ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: پھر یہ برتن مجھے دکھاؤ ۔ میں نے وہ آپ کی خدمت میں پیش کیا پھر نبی اکرمﷺ نے بقی رہ جانے والا ( دودھ ) پی لیا اور اپنے پروردگار کی حمد بیان کی ۔

تُوُفِّيَ أَبِي ← جَابِرٍ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ← الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ

Sahih Ibn Hibban · History book › Miracles section · Hadith 6536

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ مَرَضِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ · حديث 6591

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أُغْمِيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ فِي [ص:556] حِجْرِي، فَجَعَلْتُ أَمْسَحُهُ وَأَدْعُو لَهُ بِالشِّفَاءِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا بَلْ أَسْأَلُ اللَّهَ الرَّفِيقَ الْأَعْلَى مَعَ جِبْرِيلَ، وَمِيكَائِيلَ، وإِسْرَافِيلَ»

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم ﷺ بیمار ہوتے تو آپ اپنے اوپر موذات پر ھ کر دم کیا کرتے تھے اور اپنا دست مبارک پھیر ا کرتے تھے ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم ﷺ اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپ کا وصال ہوا تو میں معوذات پرھ کر آپ پر دم کرنا شروع کیا جنہیں پرھ کر آپ اپنے اوپر دم کرتے تھے اور میں نبی اکرم ﷺ کا دست مبارک آپ کے جسم پر پھیرتی رہی۔

عَائِشَةَ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي1 خَالِدٍ ← سُفْيَانَ، ← قَبِيصَةُ، ← أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُصْعَبٍ،

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the Prophet, may God’s prayers and peace be upon him · Hadith 6591

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ بَابُ السَّحُورِ · حديث 3475

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَدَنِيُّ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قال: "نعم سحور المؤمن التمر" (1) .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: " مومن کی بہترین سحری کھجور ہے"۔

"نعم سحور المؤمن التمر" ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْمَدَنِيُّ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْوَزِيرِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › Chapter of the dawn · Hadith 3475

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب الكفارة · حديث 3529

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكَتُ. قَالَ: "وَمَا لَكَ"؟ قَالَ: وَقَعْتُ عَلَى امْرَأَتِي وَأَنَا صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَلْ تَجِدُ رَقَبَةً تُعْتِقُهَا"؟ قَالَ: لَا، قَالَ: "فَهَلْ تَسْتَطِيعُ أَنْ تَصُومَ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ"؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "هَلْ تَجِدُ إِطْعَامَ سِتِّينَ مِسْكِينًا"؟ قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: بَيْنَا نَحْنُ عَلَى ذَلِكَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَقٍ فِيهِ تَمْرٌ -وَالْعَرَقُ: الْمِكْتَلُ- فقال: "أين السَّائِلُ آنِفًا ؟ ، خُذْ ھٰذَا التَّمْرَ فَتَصَدَّقْ بِہٖ ، فَقَالَ الرَّجُلُ ، عَلٰی اَفْقَرَ مِنْ اَھْلِی یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَاللہِ مَا بَیْنَ لَا بَتَیْھَا یُرِیْدُ الْحَرَّتَیْنِ ، اَھْلُ بَیْتٍ اَفْقَرُ مِنْ اَھْلِ بَیْتِی ، قَالَ : فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی بَدَتْ اَنْیَابُہُ ، ثُمَّ قَالَ : اَطْعِمْہُ اَھْلَکَ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! میں ہلاکت کا شکا ر ہو گیا ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا: میں نے روزے کے دوران اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کر لی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس آزاد کرنے کے لئے کوئی غلام ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تم مسلسل دو ماہ کے روزے رکھ سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں۔ اللہ کی قسم! یا رسول اللہ ﷺ ! ( میں روزے نہیں رکھ سکتا ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کیا تم ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکتے ہو؟ اس نے جواب دیا : یا رسول اللہ ﷺ ! جی نہیں۔ نبی اکرم ﷺ خاموش رہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ابھی ہم وہاں بیٹھے ہی ہوئے تھے کہ اسی دوران نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک ٹوکرا پیش کیا گیا جس میں کھجوریں تھیں۔ عرق ٹوکرے کو کہتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا ۔ سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟( پھر آپ نے اس سے فرمایا) تم اسے لو اور انہیں صدقہ کر دو۔ اس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ ! کیا میں اپنے گھر والوں سے زیادہ غریب لوگوں کو صدقہ کروں ۔ اللہ کی قسم! پورے شہر میں ہم سے زیادہ غریب اور کوئی نہیں ہے۔ راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دئیے، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ پھر آپ نے ارشاد فرمایا: اسے تم اپنے گھر والوں کو کھلا دو۔

بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: ← حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← أَبِي ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ الْكَلَاعِيُّ بِحِمْصَ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door of penance · Hadith 3529

صیح ابن حبان · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب حجامة الصائم · حديث 3535

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُومُ" (1) . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رضي الله تعالى عَنْهُ: هَذَانِ خَبَرَانِ قَدْ أَوْهَمَا عَالَمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّهُمَا مُتَضَادَّانِ، وَلَيْسَا كَذَلِكَ، لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ مُحْرِمٌ، وَلَمْ يَرْوَ عَنْهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَبَرٍ صَحِيحٍ أَنَّهُ احْتَجَمَ وَهُوَ صَائِمٌ دُونَ الْإِحْرَامِ، وَلَمْ يَكُنْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا قَطُّ إِلَّا وَهُوَ مُسَافِرٌ، وَالْمُسَافِرُ قَدْ أُبِيحَ لَهُ الْإِفْطَارُ: إِنْ شَاءَ بِالْحِجَامَةِ، وَإِنْ شَاءَ بِالشَّرْبَةِ مِنَ الْمَاءِ، وَإِنْ شَاءَ بِالشَّرْبَةِ مِنَ اللَّبَنِ، أَوْ بِمَا شَاءَ مِنَ الأشياء (2) . وَقَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : اَفْطَرَ الْحَاجِمُ وَالْمَحْجُوْمُ لَفْظَۃُ اِخْبَارٍ عَنْ فِعْلٍ مُرَادُھَا الزَّجْرُ عَنِ اسْتِعْمَالِ ذٰلِکَ الْفِعْلِ نَفْسِہِ

: حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " پچھنے لگانے والے اور لگوانے کا روزہ ٹوٹ جاتا ہے"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) ان دونوں روایات نے ایک عالم کو غلط فہمی کا شکار کیا کہ یہ دونوں متضاد ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ جب نبی اکرم ﷺ نے پچھنے لگوائے تھے۔ اس وقت آپ روزے کی حالت میں تھےاحرام باندھے ہوئے تھے۔ اور کسی بھی مستند روایت میں نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل نہیں کی گئی ہے کہ آپ نے احرام کے علاوہ روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے ہوں اور نبی اکرمﷺ احرام اسی وقت باندھے ہوئے تھے جب آپ مسافر تھے مسافر شخص کے لئے روزے کے ختم کرنا مباح ہے۔ خواہ وہ پانی کا گھونٹ پی کر کرے۔ اگر وہ چاہے ، تو وہ دودھ کا گھونٹ پی کر یا کوئی اور چیز (کھا یا پی کر ) روزے کو ختم کر سکتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان " پچھنے لگانےوالے اور لگوانےوالےکا روزہ ٹوٹ گیا" لفظی طور پر کسی فعل کے بارے میں اطلاع دینا ہے لیکن اس کے ذریعے مراد یہ ہے: اس فعل پر عمل کرنے سے منع کیا جائے۔

رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ← السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ← إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَارِظٍ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Fasting › The door to cupping fasting · Hadith 3535

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6851

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَبُو الْوَلِيدِ بِصَيْدَا: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ، حَدَّثَنَا جُنَادَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُرِّيُّ، حَدَّثَنَا [ص:265] ابْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَتُنْتَقَوْنَ كَمَا يُنَقَّى التَّمْرُ مِنْ حُثَالَتِهِ»

حضرت ابوہریرہؓ ، نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتےہیں : " عنقریب تم لوگوں نے یوں چن لیا جائے گا ، جس طرح کھجور کو اس کے ( چھلکوں وغیرہ میں سے ) چن لیا جاتا ہے "۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← الْاَوْزَاعِیُّ ← [ص:265] ابْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ، ← جُنَادَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُرِّيُّ، ← إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَبُو الْوَلِيدِ بِصَيْدَا:

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6851

صیح ابن حبان · کِتَابُ التَّارِیخِ ‹ بَابُ اِخبَارِہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَمَّا یَکّونُ فِی اُمَّتِہِ مِنَ الفِتَنِ وَالحَوَادِثِ · حديث 6852

أَخْبَرَنَا الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانٍ السُّكَّرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ بَيَانِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يُقْبَضُ الصَّالِحُونَ أَسْلَافًا، وَيَفْنَى الصَّالِحُونَ الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ، حَتَّى [ص:266] لَا يَبْقَى إِلَّا مِثْلُ حُثَالَةِ التَّمْرِ وَالشَّعِيرِ لَا يُبَالِي اللَّهُ بِهِمْ»

حضرت مرداس اسلمی ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : "نیک لوگوں کو اسلاف کے طور پر ( دنیا سے ) قبض کر لیا جائے گا اور نیک لوگ ایک ، ایک کر کے ختم ہو جائیں گے ، یہاں تک کہ ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے جو کھجور کے چھلکوں کی طرح ( بے کار اور فضول ہوں گے) اللہ تعالیٰ کو ان کی کوئی پرواہ نہیں ہوگی ۔"

رَسُولِ اللَّهِ ← مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ ← قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ2 ← بَيَانُ بْنُ بِشْرٍ ← خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَيَانَ السُّكَّرِيُّ، ← الْخَلِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ بِنْتِ تَمِيمِ بْنِ الْمُنْتَصِرِ

Sahih Ibn Hibban · History book › Chapter of the news, peace and blessings of God be upon me, about what will happen in the nation in terms of temptation and accidents · Hadith 6852

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 6919

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ، [ص:358] عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: سَمِعَ عُثْمَانُ، أَنَّ وَفْدَ أَهْلَ مِصْرَ قَدْ أَقْبَلُوا، فَاسْتَقْبَلَهُمْ، فَلَمَّا سَمِعُوا بِهِ، أَقْبَلُوا نَحْوَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي هُوَ فِيهِ، فَقَالُوا لَهُ: ادْعُ الْمُصْحَفَ، فَدَعَا بِالْمُصْحَفِ، فَقَالَ لَهُ: افْتَحِ السَّابِعَةَ، قَالَ: وَكَانُوا يُسَمُّونَ سُورَةَ يُونُسَ السَّابِعَةَ، فَقَرَأَهَا حَتَّى أَتَى عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ {قُلْ أَرَأَيْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لَكُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْهُ حَرَامًا وَحَلَالًا قُلْ آللَّهُ أَذِنَ لَكُمْ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرُونَ} [يونس: 59] قَالُوا لَهُ: قِفْ، أَرَأَيْتَ مَا حَمَيْتَ مِنَ الْحِمَى، آللَّهُ أَذِنَ لَكَ بِهِ أَمْ عَلَى اللَّهِ تَفْتَرِي؟ فَقَالَ: أَمْضِهِ، نَزَلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا، وَأَمَّا الْحِمَى لِإِبِلِ الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا وَلَدَتْ زَادَتْ إِبِلُ الصَّدَقَةِ، فَزِدْتُ فِي الْحِمَى لَمَّا زَادَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ، أَمْضِهِ، قَالُوا: فَجَعَلُوا يَأْخُذُونَهُ بِآيَةٍ آيَةٍ، فَيَقُولُ: أَمْضِهِ نَزَلَتْ فِي كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ لَهُمْ: مَا تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: مِيثَاقَكَ، قَالَ: فَكَتَبُوا عَلَيْهِ شَرْطًا، فَأَخَذَ عَلَيْهِمْ أَنْ لَا يَشُقُّوا عَصًا، وَلَا يُفَارِقُوا جَمَاعَةً مَا قَامَ لَهُمْ بِشَرْطِهِمْ، وَقَالَ لَهُمْ: مَا تُرِيدُونَ؟ قَالُوا: نُرِيدُ أَنْ لَا يَأْخُذَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ عَطَاءً، قَالَ: لَا إِنَّمَا هَذَا الْمَالُ لِمَنْ قَاتَلَ عَلَيْهِ وَلِهَؤُلَاءِ الشِّيُوخِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَرَضُوا، وَأَقْبَلُوا مَعَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ رَاضِينَ، قَالَ: فَقَامَ، فَخَطَبَ، فَقَالَ: أَلَا مَنْ كَانَ لَهُ زَرْعٌ فَلْيَلْحَقْ بِزَرْعِهِ، وَمَنْ كَانَ لَهُ ضَرْعٌ فَلْيَحْتَلِبْهُ، أَلَا إِنَّهُ لَا مَالَ لَكُمْ عِنْدَنَا، إِنَّمَا [ص:359] هَذَا الْمَالُ لِمَنْ قَاتَلَ عَلَيْهِ، وَلِهَؤُلَاءِ الشِّيُوخِ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَغَضِبَ النَّاسُ وَقَالُوا: هَذَا مَكْرُ بَنِي أُمَيَّةَ، قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ الْمِصْرِيُّونَ، فَبَيْنَمَا هُمْ فِي الطَّرِيقِ إِذَا هُمْ بِرَاكِبٍ يَتَعَرَّضُ لَهُمْ، ثُمَّ يُفَارِقُهُمْ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ يُفَارِقُهُمْ وَيَسُبُّهُمْ، قَالُوا: مَا لَكَ، إِنَّ لَكَ الْأَمَانَ، مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: أَنَا رَسُولُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَامِلِهِ بِمِصْرَ، قَالَ: فَفَتَّشُوهُ، فَإِذَا هُمْ بِالْكِتَابِ عَلَى لِسَانِ عُثْمَانَ عَلَيْهِ خَاتَمُهُ إِلَى عَامِلِهِ بِمِصْرَ أَنْ يَصْلِبَهُمْ أَوْ يَقْتُلَهُمْ أَوْ يَقْطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ، فَأَقْبَلُوا حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، فَأَتَوْا عَلِيًّا، فَقَالُوا: أَلَمْ تَرَ إِلَى عَدُوِّ اللَّهِ كَتَبَ فِينَا بِكَذَا وَكَذَا، وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَحَلَّ دَمَهُ، قُمْ مَعَنَا إِلَيْهِ، قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَقُومُ مَعَكُمْ، قَالُوا: فَلِمَ كَتَبْتَ إِلَيْنَا؟ قَالَ: وَاللَّهِ مَا كَتَبْتُ إِلَيْكُمْ كِتَابًا قَطُّ، فَنَظَرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ، ثُمَّ قَالَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ: أَلِهَذَا تُقَاتِلُونَ؟ - أَوْ لِهَذَا تَغْضَبُونَ - فَانْطَلَقَ عَلِيٌّ فَخَرَجَ مِنَ الْمَدِينَةِ إِلَى قَرْيَةٍ، وَانْطَلَقُوا حَتَّى دَخَلُوا عَلَى عُثْمَانَ، فَقَالُوا: كَتَبْتَ بِكَذَا وَكَذَا؟ فَقَالَ: إِنَّمَا هُمَا اثْنَتَانِ، أَنْ تُقِيمُوا عَلَيَّ رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، أَوْ يَمِينِي بِاللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مَا كَتَبْتُ وَلَا أَمْلَيْتُ وَلَا عَلِمْتُ، وَقَدْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْكِتَابَ يُكْتَبُ عَلَى لِسَانِ الرَّجُلِ، وَقَدْ يُنْقَشُ الْخَاتَمُ عَلَى الْخَاتَمِ، فَقَالُوا: وَاللَّهِ، أَحَلَّ اللَّهُ دَمَكَ، وَنَقَضُوا الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ فَحَاصَرُوهُ، فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَمَا أَسْمَعُ [ص:360] أَحَدًا مِنَ النَّاسِ رَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ، إِلَّا أَنْ يَرُدَّ رَجُلٌ فِي نَفْسِهِ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ، هَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ رُومَةَ مِنْ مَالِي، فَجَعَلْتُ رِشَائِي فِيهَا كَرِشَاءِ رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ؟ قِيلَ: نَعَمْ، قَالَ: فَعَلَامَ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا حَتَّى أُفْطِرَ عَلَى مَاءِ الْبَحْرِ؟ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ هَلْ عَلِمْتُمْ أَنِّي اشْتَرَيْتُ كَذَا وَكَذَا مِنَ الْأَرْضِ فَزِدْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ؟ قِيلَ: نَعَمْ، قَالَ: فَهَلْ عَلِمْتُمْ أَنَّ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ مُنِعَ أَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ قَبْلِي؟ أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ هَلْ سَمِعْتُمْ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ كَذَا وَكَذَا؟ أَشْيَاءَ فِي شَأْنِهِ عَدَّدَهَا، قَالَ: وَرَأَيْتُهُ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مَرَّةً أُخْرَى فَوَعَظَهُمْ وَذَكَّرَهُمْ، فَلَمْ تَأْخُذْ مِنْهُمُ الْمَوْعِظَةُ، وَكَانَ النَّاسُ تَأْخُذُ مِنْهُمُ الْمَوْعِظَةُ فِي أَوَّلِ مَا يَسْمَعُونَهَا، فَإِذَا أُعِيدَتْ عَلَيْهِمْ لَمْ تَأْخُذْ مِنْهُمْ فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: افْتَحِي الْبَابَ، وَوَضَعَ الْمُصْحَفَ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَذَلِكَ أَنَّهُ رَأَى مِنَ اللَّيْلِ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ لَهُ: «أَفْطِرْ عِنْدَنَا اللَّيْلَةَ» فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ، فَقَالَ: بَيْنِي وَبَيْنَكَ كِتَابُ اللَّهِ، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَيْهِ آخَرُ فَقَالَ: بَيْنِي وَبَيْنَكَ كِتَابُ اللَّهِ، وَالْمُصْحَفُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قَالَ: فَأَهْوَى لَهُ بِالسَّيْفِ، فَاتَّقَاهُ بِيَدِهِ فَقَطَعَهَا، فَلَا أَدْرِي أَقْطَعَهَا وَلَمْ يُبِنْهَا، أَمْ أَبَانَهَا؟ قَالَ عُثْمَانُ: أَمَا وَاللَّهِ إِنَّهَا لَأَوَّلُ كَفٍّ خَطَّتِ الْمُفَصَّلَ - وَفِي غَيْرِ حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ: فَدَخَلَ عَلَيْهِ التُّجِيبِيُّ فَضَرَبَهُ مِشْقَصًا، فَنَضَحَ الدَّمُ [ص:361] عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ {فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ} [البقرة: 137]، قَالَ: وَإِنَّهَا فِي الْمُصْحَفِ مَا حُكَّتْ، قَالَ: وَأَخَذَتْ بِنْتُ الْفُرَافِصَةِ - فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ - حُلِيَّهَا وَوَضَعَتْهُ فِي حِجْرِهَا، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُقْتَلَ، فَلَمَّا قُتِلَ، تَفَاجَّتْ عَلَيْهِ، قَالَ بَعْضُهُمْ: قَاتَلَهَا اللَّهُ، مَا أَعْظَمَ عَجِيزَتَهَا، فَعَلِمْتُ أَنَّ أَعْدَاءَ اللَّهِ لَمْ يُرِيدُوا إِلَّا الدُّنْيَا. *

ابو سعید جو حضرت ابو اسید انصاری رضی اللہ عنہ کے غلام ہیں وہ بیان کرتےہیں : انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو سنا اہل مصر کا وفد آیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اسکا استقبال کیا جب انہوں نے آپ کے احکام سن لیے تو وہ اس مقام کی طرف گئے جس میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ موجو د تھے ان لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ قرآن پاک منگوائیے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن منگوایا تو انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا : آپ ساتویں سورت کھو لیے وہ لوگ سورۃ یونس کو ساتویں سورت کا نام دیتے تھے انہوں نے: تلاوت شروع کی یہاں تک اس آیت تک پہنچے۔ ''تم یہ فرما دو تمہارا کیا خیال ہے اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو رزق نازل کیا ہے اور اس میں سے کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے اورکچھ کو حلال قرار دیا ہے 'تو تم یہ فرما دو کہ کیا اللہ تعالی نے تمہیں اس بات کی اجازت دی ہے یا تم اللہ تعالی کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتے ہو۔'' ان لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: ٹھہرجائیے آپ کا کیا خیال ہے کیا آپ نے کوئی چراہ گاہ مخصوص کی ہے کیا اللہ تعالی نے آپ کو اس بات کی اجازت دی ہے کہ آپ اللہ تعالی کی طرف جھوٹی بات منسوب کر رہے ہیں ۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم لوگ آگے چلو یہ آیت فلاں فلاں چیز کے بارے میں نازل ہوئی تھی 'جہاں تک چراہ گاہ کا تعلق ہے تو وہ صدقے کے اونٹوں کےلیے ہے'جب وہ بچے کو جنم دیں گے تو صدقے کے اونٹ زیادہ ہو جائیں گے توصدقے کے اونٹوں میں اضافہ ہونے کی وجہ سے میں نے چراہ گاہ میں بھی اضافہ کر دیا تم لوگ آگے چلو تو وہ لوگ ایک ایک آیت لیتےرہے اورحضرت عثمان رضی اللہ عنہ یہ کہتے رہے تم لوگ آگے چلو (یا تم جاری رکھو) یہ آیت فلاں فلاں چیز کےبارے میں نازل ہوئی تھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : تم لوگ کیا چاہتے ہو۔ انہوں نےکہا : ہم آپ سے پختہ عہد لینا چاہتے ہیں ۔راوی کہتے ہیں : تو ان لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے شرائط تحریر کیں ۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نےان سےعہد لیا کہ وہ عصا کو (یعنی مسلمانوں کی اجتماعیت کو) توڑ دیں گے نہیں اور ان کی جماعت سے علیحدگی اختیار نہیں کریں 'جب تک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ان کی شرائط کی پاس داری کرتے رہیں گے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : تم لوگ کیا چاہتے ہو انہوں نے کہا : ہم یہ چاہتے ہیں کہ اہل مدینہ تنخواہ نہ لیا کریں ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ نہیں ہو سکتا ' کیونکہ یہ وہ مال ہے ' جو اس شخص کو ملے گا جس نے جنگ میں حصہ لیا ہو اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے عمر رسیدہ افراد کو ملے گا ۔ راوی کہتے ہیں : تو وہ لوگ راضی ہو گئے اور وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سا تھ مدینہ منورہ کی طرف راضی ہوتے ہوئے آئے۔ راوی کہتے ہیں :پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے خطبہ دیا اور فرمایا : حبردار جس شخص کی زرعی زمین ہو وہ اپنی زرعی زمین پر چلا جائے اور جس شخص کے پاس جانور ہیں وہ ان کا دودھ دوہ لے خبر دار تمہارا کوئی مال ہمارے پاس نہیں ہے یہ مال اس شخص کو ملے گا ' جس نے جنگ میں حصہ لیا ہو اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے بزرگوں کو ملے گا ۔راوی کہتے ہیں : تو وہ لوگ غصے میں آگئے اور بولے یہ تو بنو امیہ کا فریب ہے راوی کہتے ہیں پھر مصری لوگ واپس چلے گئے ابھی وہ راستے میں ہی تھے کہ اسی دوران ایک سوار ان کے سامنے آیا پھر وہ ان سے جدا ہو گیا پھر وہ واپس آپا پھر وہ ان سے جد ا ہو گیا اور انہیں برا کہنے لگا ۔ ان لوگوں نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے تمہیں امان حاصل ہے تمہارا کیا معاملہ ہےاس نے کہا :میں امیر المومنین کا قاصدہوں جومصر کے گورنر کی طرف جارہا ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : ان لوگوں نے اس شخص کی تلاشی لی تو اس کے پاس ایک خط موجود تھا ' جو حضرت عثما ن رضی اللہ عنہ کی طرف سے لکھا گیا تھا اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مہر بھی لگی ہوئی تھی یہ مصر کے گورنر کے نام خط تھا کہ وہ ان مصریوں کو پھانسی دیدے یا انہیں قتل کروا دے یا ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دے تو وہ لوگ واپس آئے 'یہاں تک کہ مدینہ منورہ آگئے وہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے کہ آپ نے اللہ کے اس دشمن کی طرف دیکھا کہ اس نے ہمارے بارے میں اس ؛اس طر ح کا خط لکھا ہے۔ بے شک اللہ تعالی ٰ نے اس کے خون کو حلال قرار دیا ہے۔ آپ ہمارے ساتھ اٹھ کر ان کی طرف جائیے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تمہارے ساتھ نہیں اٹھوں گا ۔ ان لوگوں نے کہا :پھر آپ نے ہماری طرف خط کیو ں لکھا تھا ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمایا اللہ کی قسم! میں نے کبھی تمہیں کوئی خط نہیں لکھا تو وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے پھران میں سے کسی ایک نے دوسرے سے کہا : کیا تم اس شخص کےلیے جنگ کرنا چاہتے ہو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) اس شخص کے لیے غصہ کرتے ہو۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اٹھے اور مدینہ منورہ ے باہر ایک بستی کیطرف تشریف لے گئے وہ لوگ اٹھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے آپ نے اس اس طرحکا خط لکھا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : دو صورتیں ہیں یا تو یہ ہے: تم مسلمانوں میں سے دو آدمیوں کو میرے خلاف گواہ کے طور پر پیش کر دیا پھر یہ ہے میں اللہ کے نا م کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے کہ نہ تو میں نے خط لکھا ہے اور نہ اسے املاء کروایا ہے اور نہ ہی مجھے اس کا علم ہے تملوگ یہ بات جانتے ہو کہ کسی دوسرے کے نام سے بھی خط لکھا جا سکتا ہے اور ایک انگوٹھی کے مطابق دوسری انگوٹھی کا نقش بنوایا جا سکتا ہے ان لوگوں نے کہا:اللہ کی قسم اللہ تعالی نےآپ کے خون کو حلال قرار دیدیا ہے' پھر ان لوگوں نے عہد اور کیے اور معاہدے کو توڑ دیا اور حضر عثمان رضی اللہ عنہ کا محاصر ہ کر لیا ۔ ایک دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ا ن لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھا اور بولے السلام علیکم (راوی کہتے ہیں : ) میں نے کسی شخص کو نہیں سنا جس نے ان سے سلام کا جواب دیا ہو ماسوائے اس کے کہ کسی نے دل میں سلام کا جواب دیدیا ہو۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تم لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر دیافت کرتا ہوں کیا تم لوگ یہ بات جانتےہوکہ میں نے رومہ نامی کنواں اپنے مال میں سے خرید ا تھا اور ا سکے بارے میں اپنے ڈول کو مسلمانوں کے عام فرد کے ڈول کی مانند کر دیا تھا (یعنی اس کے پانی کو سب کےلیے وقف کر دیا تھا) تو کہا گیا جی ہاں ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر تم کس بنیاد پر مجھے اس بات سے روک رہے ہو کہ میں ا س میں سے پیوں ' یہاں تک کہ میں نے سمندر کے پانی (یعنی کھار ے پانی) کے ذریعے افطاری کی ہے میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ میں نے اتنی اتنی رقم کے عوض میں زمین خرید کر مسجد میں ' توسیع کی تھی جوا ب دیا گیا : جی ہاں ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ مجھ سے پہلے کسی شخص کو اس مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا گیاہو میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں کیاتم نے اللہ کے نبی کو یہ بات ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی ذات کے بارے میں کچھ چیزوں کا ذکر کیا اور انہیں شمار کروایا ۔ راوی کہتے ہیں :پھر میں نے انہیں دیکھا کہ انہوں نے دوسری مرتبہ جھانک کر لوگو ں کی طرف دیکھا انہیں وعظ ونصیحت کی انہیں تلقین کی لیکن کسی نے ان کے وعظ کو قبول نہیں کیا جب انہوں نے پہلی مرتبہ حضرت عثمانرضی اللہ عنہ سے وعظ سنا تھا اور لوگوں نے اسے قبول کیا تھا 'لیکن جب دوبارہ ان کے سامنے دہرایا گیا تو پھر لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا ،حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی اہلیہ سے کہا: تم دروازہ کھولو انہوں نے مصحف اپنے آگے رکھ لیا اس کی وجہ ی تھی انہوں نے رات خواب میں نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ ان سے فرما رہے ہیں آج شام تم نے ہمارے سارتھ افطاری کرنی ہے' پھر ایک شخص اندر ان کے پا س آیا ' تو انہوں نے فرمایا میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے' تو وہ شخص نکل گیا اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا پھر دوسرا شخص ان کے پاس اندر آیا ' تو حضرت عثمانرضی اللہ عنہ نے کہا : میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتا موجود ہے ا س وقت قرآن مجید ان کے آگے رکھا ہوا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : تو اس شخص نے اپنی تلوار کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف لہرایا ۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے بچنے کی کوشش کی اس نے ان کا ہاتھ کاٹ دیا مجھے نہیں معلوم کہ اس نے اسے مکمل طور پر کاٹ دیا یا کچھ حصہ کاٹا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا اللہ کی قسم ! یہ وہ پہلی ہتھیلی تھی ' جس نے مفصل (سورتوں ) کو تحریر کیا تھا۔ ابو سعید کے علاو ہ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں : تحبیبی نامی شخص اند ر داخل ہوا اس نےحضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قینچی ماری اس کے نتیجے میں خون نکل کر اس آیت پر گر ا۔ ''تو عنقریب ان لوگوں کے مقابلے میں اللہ تعالی ٰ تمہارے لئے کافی ہوگا اور وہ سننے والا اور علم رکھنے والا ہے۔'' خون کا یہ نشان اس قرآن مجید میں موجود ہے اسے مٹایا نہیں گیا ۔ ابو سعید کی روایت میں یہ الفاظ موجود ہیں : فرافصہ کی صاحب زاد ی (شاید اس سے مراد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اہلیہ ہے) نے اپنا زیور لیا اور اسے اپنی گود میں رکھ لیا یہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے شہید ہونے سے پہلے کی بات ہے' جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا تو وہ ان پر اہ وبکاہ کرنے لگی اس پر کسی نے کہا : اللہ تعالیٰ اسے برباد کرے اس کے سر ین کتنے بڑے ہیں ' اس سے مجھے پتہ چلا کہ اللہ کے دشمنوں کا مقصد صرف دنیا ہوتی ہے۔

عُثْمَانَ، ← أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى أَبِي أُسَيْدٍ الأنصاري ← أَبُو نَضْرَةَ، ← أَبِي ← الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 6919

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ باب الا دعیۃ · حديث 945

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ بُرَيْدَ (1) بْنَ أَبِي مَرْيَمَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قَالَ: أَذْكُرُ أَنِّي أَخَذْتُ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ، فَجَعَلْتُهَا فِي فِيَّ، فَانْتَزَعَهَا بِلُعَابِهَا، فَطَرَحَهَا فِي التَّمْرِ، وَكَانَ يُعَلِّمُنَا هَذَا الدُّعَاءَ: «اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ، إِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ، إِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ» ، قَالَ شُعْبَةُ وَأَظُنُّهُ قَالَ: «تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ» (2) . [1: 104] قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو الْحَوْرَاءِ رَبِيعَةُ بْنُ شَيْبَانَ السَّعْدِيُّ، وَأَبُو الْجَوْزَاءِ (1) اسْمُهُ: أَوْسُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُمَا جَمِيعًا تَابِعِيَّانِ بَصْرِيَّانِ

ابو حوارا سعدی بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت امام حسن بن علی ؓ سے دریافت کیا : آپ کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کیا بات یاد ہے، تو انہوں نے فرمایا: مجھے یہ بات یاد ہے، ایک دفعہ میں نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور لے لی تھی ۔ اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس کھجور کو لعاب سمیت باہر نکال دیا تھا اور انہیں کھجورون میں رکھ دیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ تعلیم دیا کرتے تھے۔ " اے اللہ ! جنہیں ، تو نے ہدایت عطا کی ہے ان میں مجھے بھی ہدایت عطا کر اور جنہیں تو نے عافیت عطا کی ہے ان میں مجھے بھی عافیت عطا کر اور جن کا تو نگران ہے ان میں سے میرا بھی نگران بن جا ، تو نے جو کچھ عطا کیا ہے اس میں میرے لئے برکت رکھ دے اور تو نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے شر سے مجھے بچا لے۔ بے شک تو فیصلہ کرتا ہے تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا جس کا تو نگران ہو وہ ذلیل نہیں ہوتا۔" شعبہ نامی راوی کہتے ہیں میرا یہ خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں ۔ " تو برکت والا اور بلند و برتر ہے"۔ ( امام ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ) ابو الجوزا ربیعہ بن شعبان سعدی ہیں اور ابو الجوزا کا نام اوس بن عبد اللہ ہے، اور یہ دونوں حضرات تابعی ہیں اور دونوں بصرہ کے رہنے والے ہیں)

قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: مَا تَذْكُرُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ، ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door is not inviting · Hadith 945

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7133

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، وَعِدَّةٌ، قَالُوا: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: [ص:78] قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَرَجْنَا فِي قَوْمِنَا غِفَارٍ، وَكَانُوا يَحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ وَأُمُّنَّا، فَنَزَلْنَا عَلَى خَالٍ لَنَا، فَأَكْرَمَنَا خَالُنَا، وَأَحْسَنَ إِلَيْنَا، فَحَسَدَنَا قَوْمُهُ، فَقَالُوا: إِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ عَنْ أَهْلِكَ خَالَفَكَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ، فَجَاءَ خَالُنَا فَذَكَرَ الَّذِي قِيلَ لَهُ، فَقُلْتُ: أَمَّا مَا مَضَى مِنْ مَعْرُوفِكَ، فَقَدْ كَدَّرْتَهُ وَلَا حَاجَةَ لَنَا فِيمَا بَعْدُ، قَالَ: فَقَدَّمْنَا صِرْمَتَنَا فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ، قَالَ: وَقَدْ صَلَّيْتُ يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ لِمَنْ؟ قَالَ: لِلَّهِ، قُلْتُ: فَأَيْنَ تَوَجَّهُ؟ قَالَ: أَتَوَجَّهُ حَيْثُ يُوَجِّهُنِي رَبِّي أُصَلِّي عَشِيًّا حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ حَتَّى تَعْلُوَنِي الشَّمْسُ، قَالَ أُنَيْسٌ: إِنَّ لِيَ حَاجَةً بِمَكَّةَ، فَانْطَلَقَ أُنَيْسٌ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ، فَقُلْتُ: مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: لَقِيتُ رَجُلًا بِمَكَّةَ عَلَى دِينِكَ يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا يَقُولُ النَّاسُ؟ قَالَ: يَقُولُونَ شَاعِرٌ كَاهِنٌ سَاحِرٌ، قَالَ: فَكَانَ أُنَيْسٌ أَحَدَ الشُّعَرَاءِ، قَالَ أُنَيْسُ: لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ، وَمَا هُوَ بِقَوْلِهِمْ، وَلَقَدْ [ص:79] وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَى أَقْرَاءِ الشَّعْرِ، فَمَا يَلْتَئِمُ عَلَى لِسَانِ أَحَدٍ بَعْدِي أَنَّهُ شِعْرٌ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ، وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ، قَالَ: قُلْتُ: فَاكْفِنِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ، فَأَتَيْتُ مَكَّةَ، فَتَضَيَّفْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ، فَقُلْتُ: أَيْنَ هَذَا الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئَ؟ قَالَ: فَأَشَارَ إِلَيَّ، وَقَالَ: الصَّابِئَ، قَالَ: فَمَالَ عَلَيَّ أَهْلُ الْوَادِي بِكُلِّ مَدَرَةٍ، وَعَظْمٍ حَتَّى خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَيَّ، فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ كَأَنِّي نَصْبٌ أَحْمَرٌ، فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ، فَغَسَلْتُ عَنِّي الدِّمَاءَ وَشَرِبْتُ مِنْ مَائِهَا، وَقَدْ لَبِثْتُ مَا بَيْنَ ثَلَاثِينَ مِنْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ مَالِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ، فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي، وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ، [ص:80] قَالَ: فَبَيْنَا أَهْلُ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَاءَ إِضْحِيَانَ إِذْ ضُرِبَ عَلَى أَسْمِخَتِهِمْ، فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَحَدٌ وَامْرَأَتَانِ مِنْهُمْ تَدْعُوَانِ إِسَافًا، وَنَائِلَةَ، قَالَ: فَأَتَتَا عَلَيَّ فِي طَوَافِهِمَا، فَقُلْتُ: أَنْكِحَا أَحَدَهُمَا الْآخَرَ، قَالَ: فَمَا تَنَاهَتَا عَنْ قَوْلِهِمَا فَأَتَتَا عَلَيَّ، فَقُلْتُ: هُنَّ مِثْلُ الْخَشَبَةِ، فَرَجَعَتَا تَقُولَانِ لَوْ كَانَ هَاهُنَا أَحَدٌ، فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا هَابِطَانِ، فَقَالَ: «مَا لَكُمَا؟ » قَالَتَا: الصَّابِئُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا، قَالَا: «مَا قَالَ لَكُمَا؟ » قَالَتَا: إِنَّهُ قَالَ لَنَا كَلِمَةً تَمْلَأُ الْفَمَ، [ص:81] قَالَ: وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ هُوَ وَصَاحِبُهُ، ثُمَّ صَلَّى، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الْإِسْلَامِ، قَالَ: «وَعَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ»، ثُمَّ قَالَ: «مِمَّنْ أَنْتَ؟ »، فَقُلْتُ: مِنْ غِفَارٍ، قَالَ: فَأَهْوَى بِيَدِهِ، وَوَضَعَ أَصَابِعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي: كَرِهَ أَنِّي انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، وَقَالَ: «مُذْ مَتَى كُنْتَ هَاهُنَا؟ »، قَالَ: كُنْتُ هَاهُنَا مِنْ ثَلَاثِينَ بَيْنَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ، قَالَ: «فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ؟ » قُلْتُ: مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ، فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ»، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا، فَفَتَحَ أَبُو بَكْرٍ بَابًا، فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ، فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلُ طَعَامٍ أَكَلْتُهُ بِهَا، ثُمَّ غَبَرْتُ مَا غَبَرْتُ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّهُ قَدْ وُجِّهَتْ لِي أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ مَا أُرَاهَا إِلَّا يَثْرِبَ، فَهَلْ أَنْتَ مُبَلَّغٍ عَنِّي قَوْمَكَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمُ بِكَ وَيَأْجُرَكَ فِيهِمْ»، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ فَلَقِيتُ أُنَيْسًا، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ؟ قُلْتُ: صَنَعْتُ أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ، قَالَ: مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكِ، فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ، قَالَ: فَأَتَيْنَا أُمَّنَا، فَقَالَتْ: مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ [ص:82] دِينِكُمَا، فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ، فَاحْتَمَلْنَا حَتَّى أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ إِيمَاءُ بْنُ رَحَضَةَ وَكَانَ سَيِّدَهُمْ، وَقَالَ نِصْفُهُمْ: إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَسْلَمْنَا، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَسْلَمَ نِصْفُهُمُ الْبَاقِي وَجَاءَتْ أَسْلَمُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِخْوَانُنَا نُسَلِّمُ عَلَى الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ»

عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں : حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم لوگ اپنی قوم بنو غفار کے ساتھ تھے وہ لوگ حرمت والے مہینوں کو حلال قرار دیتے تھے ایک مرتبہ میں میرا بھائی انیس اور ہماری والدہ روانہ ہوئے ہم نے اپنے ماموں کے ہاں پڑاؤکیا ہمارے ماموں نے ہماری عزت افزائی کی انہوں نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا ' تو ان کی قوم کے افراد کو ہم سے حسد ہوا نہوں نے کہا: جب تم اپنی بیوی کو چھوڑ کر جاتے ہو تو تمہارے پیچھے انیس ان کے پاس چلا جاتا ہے۔ ہمارے ماموں آئے انہوں نے وہ بات ذکر کی جو ان سے کہی گئی تھی تو میں نے کہا: آپ نے پہلے جو اچھائی کی تھی وہ آ پ نے خود ہی گدلی کتر دی ہے اب اس کے بعد ہمیں اس کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ اپنے سواری کے پالان کے پاس آئے ان پر سامان لادا اور روانہ ہو گئے ' یہاں تک کہ ہم مکہ آگئے ۔ حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا : اے میرے بھتیجے میں نے نبی اکرم ﷺ سے ملاقات سے پہلے بھی نماز ادا کی ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا: کس کے لیے انہوں نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ کے لئے ۔ میں نے دریافت کیا: آپ کس طرف رخ کرتے تھے ۔ انہوں نے فرمایا : میں اسی طرف رخ کرلیتا تھا ' جس طرف میرا پروردگار میرارخ پھیر دیتا تھا میں شام کے وقت نماز ادا کرتا تھا پھر جب رات کا آخری حصہ ہوتا تھا تو میں پھر نماز پڑھنے لگتا تھا یہاں تک کہ سورج مجھ پر غالب آجاتا تھا۔ انیس نے کہا : مجھے مکہ میں ایک کام ہے انیس چلا گیا وہ مکہ آیا پھروہ واپس آیا ' تو میں نے کہا " تم نے کیا کیا ۔ اس نے کہا : مکہ میں میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جو تمہارے دین کی طرح کے نظریات رکھتا ہے وہ اس بات کا دعوے دار ہے کہ اللہ تعالی نے اسے مبعوث کیا ہے میں نے دریافت کیا : تو لوگ کیا کہتے ہیں ۔ اس نے جواب دیا : لوگ یہ کہتے ہیں ' کہ یہ شاعر کاہن ہے اور جادو گر ہے۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انیس بھی شاعر تھا ۔ انیس نے کہا: میں نے کاہنوں کا قول سنا ہے لیکن اس شخص کا کلام کاہنوں کے قول کی طرح نہیں ہے میں نے اس کے کلام کو پڑھے لکھے شاعروں کے کلام پر پیش کیا لیکن کوئی بھی شخص یہ نہیں ' کہہ سکتا کہ وہ شعر ہے اللہ کی قسم وہ شخص ( اپنے دعوے میں ) سچا ہے اور لوگ ( اس کے بارے میں ) جھوٹ بولتے ہیں ۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا : میری جگہ تم کفالت کرو میں خود جا کر اس کا جائز لیتا ہوں پھر میں مکہ آیا میں وہاں ایک شخص کے ہاں مہمان ٹھہرا ۔ میں نے دریافت کیا : وہ شخص کہاں ہوتا ہے جس کے بارے میں تم لوگ کہہ رہے ہو کہ وہ بے دین ہے۔ حضرت ابوذر غفاری کہتے ہیں : اس شخص نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ بھی بے دین ہے ۔حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتےہیں تو وہاں کے سارے لوگ اینٹیں اور ہڈیاں لے کر مجھ پر حملہ آور ہوئے ' یہاں تک کہ میں گر گیا اور مجھ پر بے ہوشی طار ی ہو گئی پھر میں اٹھا جب میں اٹھا تو یوں لگتا تھا جیسے میں سرخ رنگ کا بت ہوں پھر میں زم زم کے پاس آیا میں نے اپنے خون کو دھویا اور زم زم کا پانی پیا پھر میں نے تیس دن ایسی حالت میں گزار دئیے میری خوراک صرف آب زم زم تھا ۔ میں اتناموٹا ہو گیا کہ میرے پیٹ پر سلوٹیں بننے لگیں اور مجھے اپنے جگر پر بھوک کی پریشانی محسوس نہیں ہوتی تھی ۔حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک چاندنی رات میں جب کہ اہل مکہ سو چکے تھے اور کوئی شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کر رہا تھا مکہ کی دو عورتیں ( طواف کرتے ہوئے ) اساف اور نائلہ(نامی بتوں ) کو پکار رہی تھیں ۔ وہ اپنے طواف کےدرمیان جب میرے پاس آئیں تو میں نے کہا : ان دونوں (بتوں ) کی شادی کروا دو لیکن وہ پھر بھی اپنی پکار سے باز نہیں آئیں پھر جب وہ (طواف کرتے ہوئے ) میرے پاس پہنچیں تو میں نے کہا یہ تو لکڑیوں کی مانند ہیں تو وہ دونوں یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئیں کہ کاش یہاں کوئی ہاتا (تو پھر ہم تمہاری خبرلیتے ) ان دونوں کا سامنا نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سے ہوا یہ دونوں حضرات بالائی علاقے سے نیچے کی طرف آرہے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم دونوں کا کیا معاملہ ہے ان دونوں نے کہا: ایک بے دین شخص خانہ کعبہ او اس کے پردوں کے درمیان موجود ہے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : اس نے تم دونوں کو کیا کہا ہے۔ ان دونوں عورتوں نے جواب دیا اس نے ہم سے ایسا کلمہ کہا ہے جو منہ کو بھر دیتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ نے حجرا اسود کا استلام کیا پھر آپ نے اور آپ کے ساتھی نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر نماز ادا کی۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں وہ پہلا شخص تھا جس نے اسلامی طریقے کے مطابق نبی اکرمﷺ کو سلام کیا تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم پر بھی ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بھی نازل ہوں پھر آپ نےدریافت کیا : تمہارا تعلق کون سے قبیلے سے ہے۔ میں نے کہا: غفار قبیلے سے پھر نبی ا کرم ﷺ نے اپنا دست مبارک بڑھایا اور اپنی انگلیاں اپنی پیشانی پر رکھ لیں میں نے دل میں سوچا شاید انہیں یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میری نسبت غفار قبیلے سے ہے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور دریافت کیا : تم کب سے یہاں ہو ' حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا میں تیس دن اور راتوں سے یہاں ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں کھانا کون دیتا ہے ۔ میں نے کہا: میری خوراک صرف آب زم زم ہے اسی کی وجہ سے میں موٹا ہو گیا ہوں یہاں تک کہ میرے پیٹ پر سلوٹیں پڑنے لگی ہیں ۔ راوی کہتے ہیں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ برکت والا ہے اور کھانے کا کھانا ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہﷺ آپ مجھے اجازت دیجئےکہ آج رات کا کھاناانہیں میں کھلاتا ہوں پھر نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے ان دونوں حضرات کے ساتھ میں بھی چل پڑا ۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دروازہ کھولا انہوں نے طائف کی کشمش مٹھی بھر کر ہمیں دی یہ وہ پہلا کھانا تھا جو میں نے وہاں (یعنی مکہ میں ) کھایا پھر کچھ عرصہ گزر گیا میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا' تو آپ نے ارشاد فرمایا: مجھے کھجوروں والی سر زمین کی طرف (ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے) میرا خیال ہے وہ یثرب ہی ہو گا تو کیا تم میری طرف سے اپنی قوم کو تبلیغ کرو گے ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے ان لوگوں کو ہدایت نصیب کر دے اور ان کے حوالے سے تمہیں اجر عطا کرے۔حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں : میں وہاں سے روانہ ہوا میری ملاقات انیس سے ہوی اس نے دریافت کیا : تم نے کیا کیا ۔ میں نے کہا : میں نے یہ کیا کہ اسلام قبول کر لیا اور تصدیق کر دی تو اس نے کہا : مجھے بھی تمہارے دین سے بے رغبتی نہیں ہے میں بھی اسلام قبول کرتا ہوں اور میں بھی تصدیق کرتا ہوں ۔راوی کہتے ہیں : پھر ہم اپنی والدہ کے پاس آئے (انہیں اسلا م کی پیشکش کی) تو انہوں نے کہا: مجھے بھے تمہارے دین سے بے رغبتی نہیں ہے میں بھی اسلام قبول کرتی ہوں اور تصدیق کرتی ہوں پھر ہم وہاں سے سوار ہو کر اپنی قوم بنو غفار میں آئے تو ان کے نصف حصے نے اسلام قبول کر لیا ۔ حضرت ایماءبن رحضہرضی اللہ عنہ ان کی امانت کیا کرتے تھے وہ اس قبیلے کے سردار تھے جبکہ نصف لوگوں نے یہ کہا : نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئیں گے' تو ہم اسلام قبول کر لیں گے ' تو جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو باقی وہ جانے والے نصف حصے نے بھی اسلام قبول کر لیا پھر اسلم قبیلے کے لوگ (نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں مدینہ منورہ) حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ (بنو غفار قبیلے لے لوگ ) ہمارے بھائی ہیں' جس طرح انہوں نے اسلام قبول کیا ہے اسی طرح ہم بھی اسلام قبول کرتے ہیں ' تو نبی اکرم ﷺ نے (اس موقع پر) یہ فرمایا : غفار قبیلے کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے اور اسلم قبیلے کو اللہ تعالی سلامت رکھے۔

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، وَعِدَّةٌ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7133

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7139

أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ، حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، [ص:89] عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: تُوُفِّيَ أَبِي وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، فَعَرَضْتُ عَلَى غُرَمَائِهِ، أَنْ يَأْخُذُوا التَّمْرَ بِمَا عَلَيْهِ فَأَبَوْا، وَلَمْ يُعْرَفُوا أَنَّ فِيهِ وَفَاءً، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ: «إِذَا جَدَدْتَهُ وَوَضَعْتَهُ فَآذِنْ لِي»، فَلَمَّا جَدَدْتُ وَوَضَعْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ آذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَجَلَسَ فَدَعَا لَهُ بِالْبَرَكَةِ، وَقَالَ: «ادْعُ غُرَمَاءَكَ وَأَوْفِهِمْ»، فَمَا تَرَكْتُ أَحَدًا لَهُ عَلَى أَبِي دَيْنٌ إِلَّا قَضَيْتُهُ، وَفَضَلَ لِي ثَلَاثَةَ عَشَرَ وَسْقًا عَجْوَةً، قَالَ: فَوَافَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَضَحِكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «ائْتِ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ، فَأَخْبِرْهُمَا»، فَقَالَا: قَدْ عَلِمْنَا إِذْ صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا صَنَعَ أَنْ يَكُونَ ذَلِكَ

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے والد کا انتقال ہو گیا ان کے ذمے قرض تھا میں نے قرض خواہوں کے سامنے یہ پیش کش رکھی کہ میرے والد کے ذمے جو ادائیگی تھی اس کے بدلے میں وہ کھجوریں حاصل کر لیں ' تو انہوں نے اس بات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ان کا یہ خیال تھا اس طرح پوری ادائیگی نہیں ہو سکے گی۔ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ ' کیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم کھجوریں ' توڑ لو اور انہیں رکھ لو ' تو مجھے اطلاع کر دینا جب میں نے کھجوریں ' تو ڑ لیں اور انہیں مسجد میں رکھ لیا تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس بار ے میں اطلاع دی۔ نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے نبی اکرمﷺ تشریف فرما ہوئے آپ نے ان کے لیے دعائے برکت کی پھر آپ نے فرمایا : اپنے قرض خواہوں کو بلاؤ انہیں پوری ادائیگی کرو(حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) تو جس بھی شخص نے میرے والد سے قرض لینا تھا میں نےا سے مکمل ادائیگی کر دی پھر بھی میرے پاس عجوہ کھجوروں کے تیرہ وسق بچ گئے ۔ راوی کہتے ہیں : میں مغرب کی نماز میں نبی اکر م ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو امیں نے آپ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا تو نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے آپ نے ارشاد فرمایا : ابو بکر اور عمر کے پاس جاؤ اور ان دونوں کو اس بارے میں بتاؤ تو ان دونوں نے کہا: جب نبی اکرم ﷺ نے وہ عمل کیا تھا ہمیں اسی وقت پتہ ل گیا تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔

تُوُفِّيَ أَبِي ← جَابِرٍ ← وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← بُنْدَارٌ ← أَبُو عَرُوبَةَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7139

صیح ابن حبان · کتاب المناقب ‹ کِتَابُ اِخبَارِہٖ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَن مَنَاقِبِ الصَّحَابَۃِ رِجَالِھُم وَنِسَائِم بِذِکرِ اَسمَائِھِم رَضوَانُ اللہِ عَلَیھِم اَجمَعِینَ · حديث 7187

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ، حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: خَطَبَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَتْ لَهُ: مَا مِثْلُكَ يَا أَبَا طَلْحَةَ يُرَدُّ وَلَكِنِّي امْرَأَةٌ مَسْلِمَةٌ، وَأَنْتَ رَجُلٌ كَافِرٌ، وَلَا يَحِلُّ لِي أَنْ أَتَزَوَّجَكَ، فَإِنْ تُسْلِمْ فَذَلِكَ مَهْرِي لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهُ، فَأَسْلَمَ، فَكَانَتْ لَهُ فَدَخَلَ بِهَا، فَحَمَلَتْ فَوَلَدَتْ غُلَامًا صَبِيحًا، وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا، فَعَاشَ حَتَّى تَحَرَّكَ فَمَرِضَ، فَحَزِنَ [ص:156] عَلَيْهِ أَبُو طَلْحَةَ حُزْنًا شَدِيدًا حَتَّى تَضَعْضَعَ، قَالَ: وَأَبُو طَلْحَةَ يَغْدُو عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَرُوحُ، فَرَاحَ رَوْحَةً وَمَاتَ الصَّبِيُّ، فَعَمَدَتْ إِلَيْهِ أُمُّ سُلَيْمٍ، فَطَيَّبَتْهُ وَنَظَّفْتُهُ وَجَعَلَتْهُ فِي مِخْدَعِنَا، فَأَتَى أَبُو طَلْحَةَ، فَقَالَ: كَيْفَ أَمْسَى بُنَيَّ؟ قَالَتْ: بِخَيْرٍ مَا كَانَ مُنْذُ اشْتَكَى أَسْكَنَ مِنْهُ اللَّيْلَةَ، قَالَ: فَحَمِدَ اللَّهَ وَسُرَّ بِذَلِكَ، فَقَرَّبَتْ لَهُ عَشَاءَهُ، فَتَعَشَّى ثُمَّ مَسَّتْ شَيْئًا مِنْ طِيبٍ، فَتَعَرَّضَتْ لَهُ حَتَّى وَاقَعَ بِهَا، فَلَمَّا تَعَشَّى وَأَصَابَ مِنْ أَهْلِهِ، قَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ رَأَيْتَ لَوَ أَنَّ جَارًا لَكَ أَعَارَكَ عَارِيَّةً، فَاسْتَمْتَعْتَ بِهَا، ثُمَّ أَرَادَ أَخْذَهَا مِنْكَ أَكُنْتَ رَادَّهَا عَلَيْهِ؟ فَقَالَ: إِي وَاللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ لَرَادُّهَا عَلَيْهِ، قَالَتْ: طَيْبَةً بِهَا نَفْسُكَ؟ قَالَ: طَيْبَةً بِهَا نَفْسِي، قَالَتْ: فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ أَعَارَكَ بُنَيَّ وَمَتَّعَكَ بِهِ مَا شَاءَ، ثُمَّ قُبِضَ إِلَيْهِ، فَاصْبِرْ وَاحْتَسَبَ، قَالَ: فَاسْتَرْجَعَ أَبُو طَلْحَةَ وَصَبَرَ، ثُمَّ أَصْبَحَ غَادِيًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثَهُ حَدِيثَ أُمِّ سُلَيْمٍ كَيْفَ صَنَعَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا»، قَالَ: وَحَمَلَتْ تِلْكَ الْوَاقِعَةَ فَأَثْقَلَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ: «إِذَا وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَجِئْنِي بِوَلَدِهَا»، فَحَمَلَهُ أَبُو طَلْحَةَ فِي خِرْقَةٍ، فَجَاءَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَمَضَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً، فَمَجَّهَا فِي فِيهِ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ: «حِبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ» فَحَنَّكَهُ وَسَمَّى عَلَيْهِ، وَدَعَا لَهُ، [ص:157] وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ابو طلحہ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ کو شادی کا پیغام بھیجا تو انہوں نے جواب دیا :ابو طلحہ آپ جیسے شخص کے پیغام کو مسترد نہیں کیا جا سکتا لیکن میں ایک مسلمان عورت ہوں اور آپ ایک کافرشخص ہیں میرے لیے آپ کے ساتھ شادی کرنا جائز نہیں ہے اگر آپ اسلام قبول کر لیتے ہیں ' تو یہی میرا مہرہوگا میں اس کے علاوہ کسی چیز کا آپ سے مطالبہ نہیں کروں گی' تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کر لیا پھر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ کی رخصتی ہو گئی وہ حاملہ ہو گئیں انہوں نے ایک خوبصورت بچے کو جنم دیا ۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اس بچے سے بہت محبت کرتے تھے کچھ عرصہ بعد وہ بچہ بیمار ہو گیا ۔حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کو ا سکی وجہ ست انتہائی افسوس ہوا ' یہاں تک کہ وہ کمزور ہو گئے۔

لَهُ: مَا مِثْلُكَ يَا أَبَا طَلْحَةَ يُرَدُّ ← خَطَبَ أَبُو طَلْحَة أم سليم ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← الصَّلْتُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The Book of Virtues › The Book of the Chronicles, peace and blessings of God be upon him, on the authority of their companions, their husbands, and their sleep by mentioning their names, the blessing of all of them · Hadith 7187

chevron_left Previous
1…373839…647
Next chevron_right