محمد بن ابو مجالد بیان کرتے ہیں : عبد اللہ بن شداد اور ابو بردہ نے مجھے بھیجا ان دونوں نے مجھ سے کہا : تم حضرت عبد اللہ بن ابواوفیٰؓ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو۔ عبد اللہ بن شداد اور ابو بردہ نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور ان دونوں نے یہ کہا ہے : کیا آپ لوگ گندم ، جو اور کشمش میں بیع سلف کر لیا کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں ہمیں مال غنیمت حاصل ہوتا تھا ‘ تو ہم گندم م جو ، کھجور اور کشمش میں بیع سلف کر لیا کرت تھے۔ میں نے دریافت کیا اس شخص کے ساتھ کرتے تھے جس کے پاس کھیت ہوتے تھے یا اس کے ساتھ کرتے تھے جس کے پاس کھیت نہیں ہوتا تھا ‘ تو انہوں نے فرمایا : ہم اس بارے میں تحقیق نہیں کرتے تھے ۔ ( یعنی دونوں قسم کے لوگوں سے بیع سلف کر لیتے تھے )
حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں ‘ جس دن شراب کو حرام قرار دیا گیا۔ میں اس دن گیارہ آدمیوں کو شراب پلا رہا تھا۔ حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: ( جب اس کی حرمت کا حکم پہنچ گیا ) ‘ تو ان لوگوں نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اس شراب کو گرا دوں ۔ لوگوں نے اپنے برتنوں میں موجود شراب کو بھی گرا دیا ‘ یہاں تک کہ اس شراب کی بو کی وجہ سے گلیوں میں سے گزرنا مشکل ہو گیا۔
حضرت انسؓ بیان کرتے ہیں: اس زمانے میں شراب صرف خشک اور تازہ کھجوروں سے بنائی جاتی تھی۔ ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: میرے پاس ایک یتیم کا مال ہے ۔ میں نے اس کے ذریعے شراب خریدی ہوئی ہے آپ کی کیا رائے ہے ۔ میں اسے فروخت کر کے اس یتیم کا مال اسے واپس کر دوں۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں کو برباد کرے ۔ جب ان پر چربی کو حرام د یا گیا ‘ تو انہوں نے اسے فروخت کر دیا اور اس کی قیمت کھا گئے۔ ( راوی کہتے ہیں ) ‘ تو نبی اکرمﷺ نے مجھے شرب کو فروخت کرنے کی اجازت نہیں دی۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں : نبی اکرمﷺ نے مزابنہ سے منع کیا ہے۔
( راوی کہتے ہیں ) مزابنہ سے مراد یہ ہے : کھجور کو کھجور کے عوض میں ماپ کر فروخت کیا جائے اور انگور کو کشمش کے عوض میں ماپ کر فروخت کیا جائے۔
حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ نے کھجور کے درخت پر لگے ہوئے پھل کو کھجور کے عوض میں ماپ کر فروخت کرنے اور انگور کو کشمش کے عوض میں ماپ کر فروخت کرنے اور ( گندم کے ) کھیت کو گندم کے عوض میں ماپ کر فروخت کرنے سے منع کیا ہے۔
ابو عیاش زید بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ سے جَو کی ایک قسم کے عوض میں دوسری قسم کے لین دین کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو انہوں نے دریافت کیا ان دونوں میں سےکون زیادہ فضیلت رکھتا ہے انہوں نے جواب دیا : سفید والا ‘ تو حضرت سعد بن ابی وقاص ؓ نے انہیں اس سے منع کر دیا اور یہ بات بتائی کہ میں نے نبی اکرمﷺ کو سنا ۔ آپ سے ترکھجور کے عوض میں خشک کھجور کو فروخت کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا : کیا تر کھجور خشک ہو کر کم ہو جاتی ہے ؟ سائل نے جواب دیا : جی ہاں ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اسے اس سے منع کر دیا۔
حضرت مالک بن اوس ؓ بیان کرتے ہیں :انہوں نے ایک سود دینار کی بیع صرف کرنا چاہی ‘ وہ کہتے ہیں : حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ نے مجھے بلوایا ہم دونوں نے سود ا طے کر لیا ۔ انہوں نے میرے ساتھ بیع صرف کر لی اور سونا حاصل کر لیا وہ اسے اپنے ہاتھ میں اُلٹ رہے تھے۔ انہوں نے کہا: میرا منشی غابہ ( جنگل ) سے آتا ہے ( تو میں تمہیں ادائیگی کرتا ہوں ) حضرت عمر بن خطابؓ نے یہ بات سن لی حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم تم اس سے اس وقت تک جدا نہیں ہو گے ‘ جب تک تم اس سے وصولی نہیں کر لیتے پھر حضرت عمرؓ نے بتایا نبی اکرمﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔
’’ چاندی کے عوض میں سونے کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو گندم کے عوض میں گندم کا لین دین سود ہے۔ ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو کھجور کے عوض میں کھجور کا لین دین سود ہے۔ ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو جو کے عوض میں جو کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بدست ہو۔
ابو اشعث بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ مال غنیمت میں سے چاندی کے کسی برتن کی ‘ تنخواہ ملنے تک ‘ خریدو فروخت کر لیتے تھے ‘ تو حضرت عبادہ نے بتایا نبی اکرمﷺ نے سونے کے عوض میں سونے اور چاندی کے عوض میں چاندی گندم کے عوض میں گندم جو کے عوض میں جو کھجور کے عوض میں کھجور نمک کے عوض میں نمک کا لین دین کرنے سے منع کیا ہے۔ ماسوائے اس کے جو برابر برابر ہو اور دست بدست ہو جو شخص زیادہ ادائیگی کرے یا زیادہ ادائیگی کا طلب گار ہو وہ سود کا کام کرے گا۔
حضرت مالک بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں: میں ایک سو دینار لے کر نکلا میری اوقات حضرت طلحہ بن عبید اللہ ؓ سے ہوئی جو ایک دیوار کے سائے میں موجود تھے انہوں نے میرے ساتھ اس کا بھاؤ طے کیا اور یہ بات بیان کی کہ جب ان کا خادم غابہ سے آئے گا ؟ ‘ تو وہ ادائیگی کر دیں گے حضرت عمرؓ نے یہ بات سنی ۔ انہوں نے حضرت طلحہ ؓ سے اس بارے میں دریافت کیا‘ تو انہوں نے بتایا : کچھ دینار ہیں ( جو میں خرید رہا ہوں ) میں یہ چاہتا ہوں کہ جب میرا خادم غابہ سے ؟ آئے گا ( تو میں ادائیگی کر دو ں گا ) ‘ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: تم اس سے جدا نہ ہونا تم اس سے جدا نہ ہونا ‘ جب تک تم اسے ادائیگی نہیں کر دیتے۔ نبی اکرمﷺ ے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : چاندی کے عوض میں سونے کا لین دین سود ہے۔ ماسوائے ان کے جو دست بہ دست ہو گندم کے عوض میں گندم کا لین دین سود ہے ماسوائے اس کے جو دست بہ دست ہو جو کے عوض میں جو کا لین دین سود ہے۔ ماسوائے اس کے جو دست بہ دست ہو کھجور کےک عوض میں کھجور کا لین دین سود ہے ۔ ماسوائے اس کے جو دست بہ دست ہو۔
أن مالك بن أوس بن الحدثان ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْأَوْزَاعِيُّ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ، ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ← هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ
Sahih Ibn Hibban · The Book of Sales › Chapter of usury · Hadith 5019
صیح ابن حبان · کِتَابُ الْبُیُوْعِ ‹ بَابُ الرِّبَا · حديث 5026
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ کے پاس حضرت جبرائیل آئے۔ نبی اکرمﷺ اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔(یعنی یہ نبی اکرمﷺ کےبچپن کا واقعہ ہے) انہوں نے نبی اکرمﷺ کو پکڑا آپﷺ کو لٹایا آپﷺ کے دل کو چیرا اور اس میں سے جما ہوا خون نکالا اور بولے: یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا،پھر انہوں نے نبی اکرمﷺ کا قلب مبارک سونے سے بنے ہوئے طشت میں رکھ کر آبِ زم زم کے ذریعے دھویا،پھر اسے واپس اس کی جگہ پر رکھ دیا ۔ بچے دوڑتے ہوئے آپ کی والدہ یعنی آپ کی دائی اماں کےپاس آئے اور انہوں نے کہا:حضرت محمدﷺ کو قتل کر دیا گیا وہ لوگ آپﷺ کے پاس آئے ،تو اس کی رنگت تبدیل ہو چکی تھی،
حضرت انس ؓ بیان کرتےہیں:میں نے نبی اکرمﷺ کے سینہ مبارک ،میں ،سیے جانے کا نشان دیکھا ہے۔
(امام ابن حبان بیان کرتےہیں :) نبی اکرمﷺ کے سینہ مبارک کو شق کرنے کا واقعہ (پہلی مرتبہ) اس وقت ہوا،جب آپ بچے تھے اور بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے۔ تو آپ کے اندر سے جما ہوا خون نکالا گیا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو معراج پر لے جانے کا ارادہ کیا ،تو اس نے حضرت جبرائیل ؑ کو حکم دیا انہوں نے دوسری مرتبہ آپ ﷺ کا شق صدر کیا۔ آپ ﷺ کےدل کو نکال کر دوبارہ اسے دھویا اور پھر اسے اس کی جگہ پر رکھ دیا ،تو ایسا دو مرتبہ ہوا اور دو مختلف موقعوں پر ہوا۔ ان دونوں روایات میں کوئی تضاد نہیں۔
حضرت انس ؓبیان کرتےہیں :حضرت جبرائیل ؑ نبی اکرمﷺ کے پاس آئے (یہ نبی اکرمﷺ کے بچپن کی بات ہے) نبی اکرمﷺ اس وقت بچوں کے ساتھ کھیل رہے تھے ۔حضرت جبرائیل ؑ نے نبی اکرمﷺ کو پکڑا آپ کو لٹایا۔ آپ کے قلب مبارک کو چیردیا۔ اس میں سےکوئی لوتھڑا نکالا اور بولے:یہ آپ کے اندر شیطان کا حصہ تھا، پھر انہوں نےسونے کے بنے ہوئے طشت میں آبِ زم زم کے ذریعے آپ کے قلب مبارک کو دھویا اور پھر اسے دوبارہ اس کی جگہ رکھ دیا۔ بچے دوڑتےہوئے نبی اکرمﷺ کی والدہ دائی اماں کے پاس آئے اور بولے :حضرت محمدﷺ کو قتل کر دیا گیا ہے ۔ وہ لوگ نبی اکرمﷺ کے پاس آئے ،تو آپ کے چہرے کی رنگت بدلی ہوئی تھی۔
حضرت انس ؓبیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ کے سینہ مبارک میں اس سینے کا نشان میں نے دیکھا ہے۔
حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتےہیں :نبی اکرمﷺ کے گھر والوں نے کبھی بھی تین دن تک پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا،یہاںتک کہ نبی اکرمﷺ کا وصال ہو گیا آپ کی خوراک صرف دو سیاہ چیزیں یعنی کھجور اور پانی تھے۔
سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں :ہم کچھ لوگ پہلی کا ایک چاند دیکھ لیتے تھے پھر اگلی پہلی کا چاند دیکھ لیتے تھے پھر اگلی پہلی کا چاند دیکھ لیتے تھے یعنی دو مہینوں میں تین چاند دیکھ لیتے تھے ،لیکن اس دوران نبی اکرمﷺ کے گھر وں میں آگ نہیں جلتی تھی۔
راوی کہتےہیں : میں نے دریافت کیا: خالہ جان آپ لوگوں کا گزارا کیسے ہوتا تھا؟ انہوں نے جواب دیا دو سیاہ چیزوں پر کھجوروں اور پانی پر ،البتہ نبی اکرمﷺ کے کچھ انصاری پڑوسی تھے جو بہت اچھے پڑوسی تھے ۔ان لوگوں کے پاس دودھ دینے والے جانور تھے وہ ان کا دودھ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں تحفے کے طور پر بھجوادیتےتھے ،تو ہم وہ پی لیا کرتےتھے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ ؓبیان کرتی ہیں : نبی اکرمﷺ کا بستر چمڑے کا بنا ہوا تھا جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوتے تھے ۔ سیدہ عائشہؓ بیان کرتی ہیں :بعض اوقات ہم پہ ایسا مہینہ بھی آجاتا تھا کہ ہم پورا مہینہ آگ نہیں جلا پاتےتھے۔ ہماری خوراک صرف دو سیاہ چیزیں یعنی کھجور اور پانی ہوتاتھا، البتہ بعض اوقات ہمارے پڑوسی اپنی بکریوں کا دودھ ہمیں بھیج دیتے تھے۔
حضرت عبد اللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں: دن چڑھنے کے بعد حضرت ابو بکرؓ مسجد تشریف لائے حضرت عمرؓ نے ان کی آواز سنی ‘ تو بولے‘ اے ابو بکر آپ اس وقت ‘ تو نہیں آتے ہیں۔ حضرت ابو بکرؓ نے بتایا میں شدید بھوک کی وجہ سے اس وقت آیا ہوں ‘ تو حضرت عمرؓ نے کہا: اللہ کی قسم میں بھی صرف اسی وجہ سے آیا ہوں ابھی یہ دونوں حضرات اسی حالت میں تھے کہ نبی اکرمﷺ ان دونوں کے پاس تشریف لے آئے۔ آپ نے دریافت کیا تم دونوں اس وقت کیوں آئے ہو ؟ ان دونوں نے عرض کی: اللہ کی قسم ہم شدید ترین بھوک کی وجہ سے اس وقت باہر نکلے ہیں ۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہیں ۔ میں بھی صرف اسی وجہ سے باہر آیا ہوں تم دونوں اٹھو پھر یہ دونوں حضرات حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر تشریف لے گئے۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ نبی اکرمﷺ کے لئے کھانا اور دودھ وغیرہ سنبھال کر رکھتے تھے۔ اس دن تاخیر ہو گئی تھی وہ اس وقت نہیں آئے تھے۔ انہوں نے اپنے گھر والوں کو کھانا کھلایا اور خود کھجور کےباغ میں چلے گئے تاکہ وہاں کام کرتے رہیں ۔ جب یہ حضرات حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے گھر پہنچے ‘ تو حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کی اہلیہ باہر آئیں۔ انہوں نے عرض کی: اللہ کے نبی اور ان کے ساتھیوں کو خوش آمدید نبی کریم ﷺ نے اس خاتون سے دریافت کیا: ابو ایوبن کہاں ہے؟ حضرت ابو ایوبؓ نے آپ کی آواز سن لی وہ اس وقت اپنے باغ میں کام کر رہےتھے۔ وہ جلدی سے چلتے ہوئے آئے اور عرض کی اللہ کے نبی اور ان کے ساتھیوں کو خوش آمدید اے اللہ کے نبی آپ عام طور پر اس وقت تشریف نہیں لاتے ہیں نبی اکرمﷺ نے ان سے فرمایا تم نے ٹھیک کہا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت ابو ایوب انصاریؓ گئے اور کھجور کے باغ میں سے ہر قسم کی کھجوریں خشک ‘ تازہ اور تر کھجوریں لے کر آئے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: میں یہ نہیں چاہتا تھا تم نے ہمارے لئے صرف خشک کھجوریں لے آنی تھیں ۔ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی میں یہ چاہتا تھا کہ آپ خشک اور تازہ ہر طرح کی کھجوریں کھائیں۔ میں اس کے ہمراہ آپ کے لئے جانور بھی ذبح کرتا ہوں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم نےذبح کرنا ہے‘ تو دودھ دینے والا جانور ذبح نہ کرنا پھر انہوں نے ایک بکری یا بھیڑ کا بچہ ذبح کیا اور اپنی بیوی سے کہا تم روٹی پکاؤ اور ہمارے لئے آٹا گوندھ لو ‘ تمہیں اچھی روٹی پکانی آتی ہے پھر انہوں نے بھیڑ کا بچہ لے کر اس کو پکایا اور اسکا نصف حصہ بھون لیا جب کھانا تیار ہوا ‘ تو وہ نبی اکرمﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے سامنے رکھا گیا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے کچھ گوشت لے کر اس کے ساتھ روٹی رکھی اور فرمایا: اے ابو ایوب ! یہ فاطمہ تک پہنچا دو کیوں کہ اس نے بھی کئی دن سے کھانا نہیں کھایا۔ حضرت ابو ایوب انصاریؓ وہ کھانا سیدہ فاطمہ ؓ تک پہنچانے چلے گئے جب ان حضرات نے کھانا کھا لیا اور سیر ہو گئے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: روٹی اور گوشت خشک تازہ کھجوریں ‘ پھر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے۔ یہ وہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں تم سے دریافت کیا جائے گا ۔ ارشادباری تعالیٰ ہے۔
’’ اس دن تم سے ضرور نعمتوں کے بارے میں دریافت کیا جائے گا ‘‘۔
( نبی اکرمﷺ نے فرمایا ) ‘ تو یہ نعمتیں ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے حساب لیا جائے گا۔ یہ بات آپﷺ کے ساتھیوں کو گراں گزری‘ تو آپ نے ارشا د فرمایا: جب تمہیں اس طرح کی نعمتیں نصیب ہوں ‘ تو تم اپنے ہاتھ آگے بڑھاؤ اور بسم اللہ پڑھ لو اور جب تم سیر ہو جاؤ ‘ تو یہ پڑھو۔
’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے مخصوص ہے ‘ جس نے ہمیں سیر کیا اور اس نے ہم پر نعمتیں کیں اور فضل کیا‘‘۔
تو یہ ان کے لئے کفایت کر جائےگا۔
جب یہ حضراب اٹھنے لگے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے حضرت ابو ایوبؓ سے فرمایا: تم کل ہمارے ہاں آنا نبی اکرمﷺ کے ساتھ جب بھی کوئی اچھائی کی جاتی تھی‘ تو آپ کو یہ بات پسند تھی کہ آپ اس کا بدلہ دیں۔ راوی بیا ن کرتے ہیں: حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے یہ بات نہیں سنی ‘ تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: نبی اکرمﷺ نے آپ کو یہ ہدایت کی ہے ‘ آپ کل ان کی خدمت میں حاضر ہوں۔ اگلے دن حضرت ابو ایوب انصاریؓ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اپنی کنیز انہیں عطا کی آپ نے ارشاد فرمایا: اے ابو ایوب اس کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو کیونکہ یہ ‘ جب تک ہمارے پاس رہی ۔ ہم نے اس میں صرف بھلائی دیکھی ہے ‘ جب حضرت ابو ایوب انصاریؓ اس کنیز کو نبی اکرمﷺ کے پاس سے لے آئے ‘ تو انہوں نے کہا: نبی اکرمﷺ نے اس کے بارے میں جو بھلائی کی تلقین کی ہے۔ اس کے حوالے سے مجھے اس سے بہتر کوئی چیز نہیں ملتی کہ میں اسے آزاد کر دوں ‘ تو حضرت ابو ایوب انصاریؓ نے اس کنیز کو آزاد کر دیا۔
عبد الرحمٰن بن ابو عمرہ انصاری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم ایک غزوہ میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ تھے‘ لوگوں کو شدید بھوک لاحق ہو گئی۔ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے اجازت مانگی کہ وہ اپنے سواری کے بعض جانور قربان کر دیں۔
تو حضرت عمر ؓ نے عرض کی: یا رسول اللہ ! اگر ہم بھوک کے عالم میں پیادہ ہو کر دشمن کا سامنا کریں گے‘ تو پھر ہمارا کیا بنے گا۔
یا رسول اللہ ! اگر آپ مناسب سمجھیں ‘تو آپ لوگوں کو کہیں ‘ ان کے پاس جو کچھ بھی کھانے پینے کی چیز بچی ہوئی ہے‘ وہ لے آئیں ۔ (نبی اکرمﷺ نے بہ حکم دے دیا ) تو لوگ وہ چیزیں لانے لگے‘ ایک شخص نے مٹھی اناج یا اس سے زیادہ لے آیا۔
جو شخص سب سے زیادہ لے کر آیا تھا‘ وہ ایک صاع کھجور لے کر آیا تھا۔
نبی اکرمﷺ نے اس سب کو ایک دستر خوان پر جمع کروایا : پھر جو اللہ تعالیٰ کو منظور تھا‘ وہ آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی ‘ پھر آپ نے لوگوں کو بلایا کہ اپنے برتن لے آئیں اور آپ نے وہ اناج ان میں ڈالنا شروع کیا‘ تو لشکر میں موجود کوئی برتن ایسا باقی نہیں رہا‘ جو بھر نہ گیا ہو‘ اور وہ اناج پھر اتنا ہی باقی تہ گیا۔
تو نبی اکرمﷺ مسکرا دئیے یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے آپ ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی:
’’میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور میں اس بات کو گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ جو مومن بندہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان دو باتوں کے ہمراہ حاضر ہو گا‘ تو یہ دونوں چیزیں اس شخص کے لئے قیامت کے دن جہنم سے بچاؤ کا ذریعہ بن جائیں گی‘‘۔
حضرت ابو عمرہ انصاری کا نام ثعلبہ بن عمر و بن محصن ہے۔
حضرت ثوبانؓ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : " میں اپنے حوض کے پاس کھڑا ہو کر کچھ لوگوں کو اس سے دور کروں گا میں ان لوگوں کو اپناعصا کے ذریعے ماروں گا تا کہ وہ لوگ پیچھے ہٹ جائیں ۔ راوی بیان کرتےہیں : نبی اکرمﷺ سے اس حوض کی وسعت کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: وہ میری ( اس ) جگہ سے لے کر عمان جتنا ہے ۔ ان دونوں کے درمیان ایک ماہ کا یا اس سے قریب کا فاصلہ ہے ۔"