Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Tuesday, Jumada I 10, 1448 AH · Oct 20, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطب والصحة

Medicine & Health

12931 hadiths

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ نَوَاقِضِ الْوُضُوءِ · حديث 1160

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ خَالُ النُّفَيْلِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، عَنْ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّهُمْ كَانُوا يَأْكُلُونَ تَمْرًا عَلَى تُرْسٍ، فَمَرَّ بِنَا النَّبِيُّ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْنَا: سلم، فَتَقَدَّمَ فَأَكَلَ مَعَنَا مِنَ التَّمْرِ، وَلَمْ يَمَسَّ ماء1. 1:4

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں : وہ لوگ ایک ڈھال پر کھجوریں رکھ کر لارہے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس سے گزرے، ہم نے عرض کی : آپ آگے تشریف لے آئیں ، آپ آگے تشریف لے آئے آپ نے ہمارے ہمراہ کھجوریں کھائیں اور آپ نے پانی کو نہیں چھوا ( یعنی از سر نو وضو نہیں کیا)

أَبِي الزُّبَيْرِ ← عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← سَعِيدُ بْنُ حَفْصٍ خَالُ النُّفَيْلِيِّ ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door that breaks ablution · Hadith 1160

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ بَابُ دُخُولِ مَكَّةَ · حديث 3838

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا بن الْمُبَارَكِ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: سَقَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَہُ ، وَھُوَ قَائِمٌ

حضرت عبداللہ بن عبا س رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم ﷺ کو آب زمزم پیش کیا، تو آپ نے اسے پی لیا آپ نے کھڑے ہو کر اسے پیا تھا۔

سَقَیْتُ رَسُوْلُ اللہِ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَشَرِبَہُ وَھُوَ قَائِمٌ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ← بن الْمُبَارَكِ، ← عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › Entry to Makkah · Hadith 3838

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ فَصْلٌ فِي الشَّهِيدِ · حديث 3193

أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ1 عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ: حَدَّثَتْنَا اُمُّ سَلَمَۃَ، اَنَّ الَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَا ھُوَ فِیْ بَیْتِھَا وَعِنْدَہُ نَفَرٌ مِنْ اَصْحَابِہٖ اِذْ جَائَہٗ رَجُلٌ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَمْ صَدَقَۃُ کَذَا وَکَذَا مِنَ التَّمْرِ ؟ قَالَ : کَذَا وَکَذَا قَالَ الرَّجُلُ : فَاِنَّ فُلَانًا تَعَدَّی عَلَیَّ ، وَاَخَذَ مِنِّیْ کَذَا وَکَذَا ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : فَکَیْفَ اِذَا سَعَی عَلَیْکُمْ مَنْ یَّتَعَدَّی عَلَیْکُمْ اَشَدَّ مِنْ ھٰذَا التَّعِدِّی ، فَخَاضَ الْقَوْمُ فِیْ ذٰلِکَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ مِنْھُمْ ،فَکَیفَ بِنَا یَا رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا کَانَ الرَّجُلُ مِنَّا غَائِبًا فِیْ اِبِلِہٖ وَمَاشِیَتِہٖ وَزَرِْعِہٖ وَنَخْلِہِ ، فَاَدَّی زَکَاۃَ مَالِہِ ، فَتَعَدَّی عَلَیْہِ الْحَقََ ، فَکَیْفَ یَصنَعُ یَا رَسُوْلَ اللہِ ؟ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ اَدَّی زَکَاۃَ مَالِہٖ طَیْبَۃً بِھَا نَفْسُہُ یُرَیْدُ بِھَا وَجْہَ اللہِ وَالدَّارَ الْاٰخِرَۃَ ، ثُمَّ لَمْ یُغَیِّبُ مِنْھَا شَیْئًا ، وَاَقَامَ الصَّلَاۃَ ، وَآتَی الزَّکَاہَ فَتَعَدَّی عَلَیْہِ الْحَقَّ ، فَاَخَذَ سِلَاحَہُ ، فَقَاتَلَ فَقُتِلَ ، فَھُوَ شَھِیْدٌ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : مَعْنٰی ھٰذَا الْخَبَرِ ، اِذَا تَعَدَّی عَلَی الْمَرْءِ فِیْ اَخَذِ صَدَقَتِہٖ ، اَوْ مَایُشْبِہُ ھٰذِہِ الْحَالَۃَ ، وَکَانَ مَعَہ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ الَّذِی یُوَاطِئُونَہٗ عَلٰی ذٰلِکَ ، وَفِیْھِمْ کِفَایَۃٌ بَعْدَ اَنْ لَّا یَکُوْنَ قَصْدُھُمُ الدُّنْیَا ، وَلَا شَیْئًا مِنْھَا دُونَ اِلْقَاءِ الْمَرْءِ نَفْسَہٗ اِلَی التَّھْلُکَۃِ اِذِ الْمُصْطَفٰی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِاَبِیْ ذَرٍ : اسْمَعْ وَاَطِعْ وَلَوْ عَبْدًا حَبَشِیًّا مُجَدَّعًا وَقَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مَنْ حَمَلَ عَلَیْنَا السِّلَاحَ فَلَیْسَ مِنَّا

امام زین العابدین رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: سیّدہ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں موجود تھے آپ ﷺ کے پاس آپ ﷺ کے کچھ اصحاب بھی موجود تھے اسی دوران ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اتنی کھجوروں کا صدقہ (یعنی زکوٰۃ) کتنا ہو گا۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: اتنا۔ اس نے عرض کی: فلاں صاحب نے میرے ساتھ زیادتی کی ہے انہوں نے مجھ سے اتنی، اتنی وصو لی کر لی ہے۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: اس وقت کیا عالم ہو گا، جب تم پر ایسے حکمران مسلط ہوں گے جو تمہارے ساتھ اس سے زیادہ زیادتی کریں گے، تو لوگ اس بات پر پریشان ہو گئے ان میں سے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! اس وقت ہمارا کیا بنے گا، جب کوئی شخص اپنے اونٹوں میں یا جانوروں میں یا کھیت میں یا باغ میں موجود نہیں ہو گا اور وہ اپنے مال کی زکوٰۃ اد ا کرے گا اس کے ساتھ زیادتی ہو جائے گی، یا رسول اللہﷺ ! تو اسے کیا کرنا چاہئے؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرے اور اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہو، آخرت کا حصول ہو اور وہ اس میں سے کوئی چیز غائب نہ کرے اور وہ نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے اور پھر اس کے ساتھ زیادتی ہو، تو وہ اپنا اسلحہ پکڑے اور لڑائی کرتے ہوئے مارا جائے، تو وہ شہید ہو گا۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : اس روایت کا مطلب یہ ہے: جب زکوٰۃ وصولی یا ا س جیسی کسی اور صورتحال میں کسی شخص کے خلاف زیادتی کی جائے اور پھر اس شخص کے ہمراہ مسلمان موجود ہوں جو اس بارے میں اس کا ساتھ دیں اور اس میں کفایت بھی موجود ہو اور ان کا مقصد دنیاوی فائدے کا حصول نہ ہو۔ اس سے مراد یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنے آپ کو ہلاکت کا شکار کر لے کیونکہ نبی کرمﷺ نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہہ سے یہ فرمایا تھا: "تم اطاعت و فرمانبرداری سے کام لو۔ اگرچہ ناک کان کٹا ہوا حبشی (حکمران ہو)" اور نبی اکرم ﷺ نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی ہے" جو شخص ہم پر ہتھیار اٹھاتا ہے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔" اس شخص کے لیے جنت واجب ہونے اور شہادت کے اثبات کا تذکرہ جو اپنےمال کی وجہ سے قتل ہو جاتا ہے خواہ وہ مقابلہ کرے یا مقابلہ نہ کرے

عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ ← زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ ← اَیُّوْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَزّانُ ← الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › A chapter in the martyr · Hadith 3193

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4531

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ حِينَ وُلِدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، فَقَالَ: «هَلْ مَعَكَ تَمْرٌ؟ »، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ، فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ، ثُمَّ فَغَرَفَا الصَّبِيِّ فَمَجَّهُ فِي [ص:394] فِيهِ، فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُهُ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «حِبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرُ»، وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ عنہ کے ہاں صاحب زادے عبداللہ کی پیدائش پر اسے ساتھ لے کر ایک چادر میں لپیٹ کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گیا نبی اکرم ﷺ اس وقت (صدقے کے) اونٹوں پر نشان لگا رہے تھے۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کھجور ہے میں نے جواب دیا : جی ہاں میں نے کچھ کھجوریں آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کیں۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اپنے منہ میں ڈالا انہیں چبایا پھر آپﷺ نے وہ بچے کے منہ میں ڈال دی بچے نے اسے چوسنا شروع کر دیا۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: انصار کھجوروں سے محبت کرتے ہیں پھر نبی اکرم ﷺ نے اس بچے کا نام عبداللہ تجویز کیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4531

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 683

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ1 بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ مَا كان طعامنا على عهد رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلَا الأسودان التمر والماء ۔(47:5)

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ بیان کرتے ہیں: نبی اکرمﷺ کے زمانہ اقدس میں ہماری خوراک صرف دو سیاہ چیزیں ہوتی ہیں کھجور اور پانی۔

مَا كان طعامنا على عهد رَسُوْلُ اللہِ اَلَا الأسودان التمر والماء ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← دَاوُدَ بْنِ فَرَاهِيجَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of poverty, asceticism and persuasion · Hadith 683

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْفَقْرِ وَالزُّھْدِ وَالْقَنَاعَۃِ · حديث 684

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا عَمِّي حدثنا أبي عن بن إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: "مَنْ حَدَّثَكُمْ أَنَّا كُنَّا نَشْبَعُ مِنَ التَّمْرِ فَقَدْ كَذَبَكُمْ فَلَمَّا افْتَتَحَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْظَةَ أصبنا شيئا من التمر والودك"1. [5: 47]

سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں : جو شخص تمہیں یہ بات بتائے کہ ہم پیٹ بھر کر کھجوریں کھا لیا کرتے تھے۔ اس نے تمہارے ساتھ غلط بیانی کی ہے‘ جب نبی اکرمﷺ نے قریظہ کو فتح کیا ‘ تو ہمیں کچھ کھجوریں اور چربی ملی تھی۔

مَنْ حَدَّثَکُمْ ← عَائِشَةَ ← عَمْرَةَ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ اَبِیْ بَکْرِ ← بن إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← عَمِّي، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter of poverty, asceticism and persuasion · Hadith 684

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3276

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا يَحِلُّ فِي الْبُرِّ وَالتَّمْرِ زَكَاةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَلَا يَحِلُّ فِي الْوَرِقِ زَكَاةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَ أَوَاقٍ، وَلَا يَحِلُّ فِي الْإِبِلِ زَكَاةٌ حَتَّى يَبْلُغَ خمس ذود" (1) .

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: " گندم اور کھجور میں اس وقت تک زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی جب تک کہ وہ پانچ وسق نہ ہو جائے۔ چاندی میں اس وقت تک زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی جب تک اس کی تعداد پانچ اوقیہ نہ ہو جائے۔ اونٹوں میں اس وقت تک زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی جب تک وہ پانچ اونٹ نہ ہو جائیں۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ بْنِ إِسْحَاقَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3276

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فِي الْخِلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ · حديث 4541

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا غَيْرُ وَاحِدٍ مِمَّنْ لَقِيَ الْوَفْدَ، وَذكَرَ أَبَا نَضْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا حَيٌّ مِنْ رَبِيعَةَ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَكَ كُفَّارُ مُضَرَ، وَإِنَّا لَا نَقْدِرُ عَلَيْكَ إِلَّا فِي الشَّهْرِ الْحَرَامِ، فَمُرْنَا بِأَمْرٍ نَدْعُو لَهُ مَنْ وَرَاءِنَا مِنْ قَوْمِنَا، وَنَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ إِذَا نَحْنُ أَخَذْنَا بِهِ أَوْ عَمِلْنَا، فَقَالَ: «آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: أَنْ تَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُوا [ص:406] الصَّلَاةَ، وَتُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَتَصُومُوا رَمَضَانَ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْمَغْنَمِ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ: عَنِ الدُّبَّاءِ، وَالْحَنْتَمِ، وَالْمُزَفَّتِ، وَالنَّقِيرِ»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا عِلْمُكَ بِالنَّقِيرِ؟، قَالَ: «الْجِذْعُ تَنْقُرُونَهُ وَتُلْقُونَ فِيهِ مِنَ الْقُطَيْعَاءِ، أَوِ التَّمْرِ، ثُمَّ تَصُبُّونَ عَلَيْهِ الْمَاءَ كَيْ يَغْلِيَ، فَإِذَا سَكَنَ شَرِبْتُمُوهُ، فَعَسَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَضْرِبَ ابْنَ عَمِّهِ بِالسَّيْفِ»، قَالَ: وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ بِهِ ضَرْبَةٌ كَذَلِكَ، قَالَ: كُنْتُ أُخَبِّأَهَا حَيَاءً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَفِيمَ تَأْمُرُنَا أَنْ نَشْرَبَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، قَالَ: «اشْرَبُوا فِي أَسْقِيَةِ الْأَدَمِ الَّتِي تُلَاثُ عَلَى أَفْوَاهِهَا»، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضُنَا كَثِيرُ الْجِرْذَانِ لَا يَبْقَى بِهَا أَسْقِيَةُ الْأَدَمِ، قَالَ: «وَإِنْ أَكَلَهَا الْجِرْذَانُ»، مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَشَجِّ عَبْدِ الْقَيْسِ: «إِنَّ فِيكَ لَخَصْلَتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمُ، وَالْأَنَاةُ»

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عبدالقیس قبیلے کا وفد جب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! ہم ربیعہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے کے کفار رہتے ہیں اس لیے ہم صرف حرمت والے مہینے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں آپ ہمیں ایسی چیز کا حکم دیجئے جس کی ہم اپنے پیچھے موجود اپنی قوم کے افراد کو تعلیم دیں اور اس وقت جب ہم اس کو اختیار کریں اور اس پر عمل کریں۔ اس کے ذریعے جنت میں داخل ہو جائیں۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: میں تمہیں چار چیزوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں ( میں تمہیں یہ حکم دیتا ہوں) تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو اور مالِ غنیمت میں سے خمس ادا کرو اور میں چار چیزوں سے تمہیں منع کرتا ہوں دباء، حنتم، مزفت، نقیر۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! نقیر کے بارے میں آپ ﷺ کیا جانتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کھجور کے تنے کو سوراخ کر کے اس میں تم لوگ چھوہارے یا کھجور ڈال دیتے ہو پھر تم اس پر پانی انڈیل دیتے ہو تا کہ اس میں جوش آ جائے پھر جب وہ پر سکون ہو جائے، تو تم اسے پی لیتے ہو، تو ہو سکتا ہے (اسے پینے کے بعد نشے کی حالت میں ) کوئی شخص اپنے چچا زاد کو اپنی تلوار کے ذریعے قتل کر دے۔ راوی بیان کرتے ہیں: حاضرین میں سے ایک شخص نے ایسا کیا ہوا تھا وہ صاحب کہتے ہیں میں نبی اکرم ﷺ سے حیا کرتے ہوئے اس بات کو چھپایا ہوا تھا۔ لوگوں نے عرض کی: پھر آپﷺ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں اللہ کے نبی ہم کیا پئیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم لوگ چمڑے سے بنے ہوئے مشکیزے میں پانی پیو جس کے منہ کو بند کیا گیا ہے۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ! ہماری سرزمین پر چوہے بہت زیادہ ہیں وہ چمڑے کی کسی چیز کو باقی نہیں رہنے دیتے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگرچہ اسے چوہے نے کاٹ لیا ہو یہ بات آپ ﷺ نے دو مرتبہ یا تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے عبدالقیس قبیلے کے سردار سے فرمایا: تمہارے اندر دو خصوصیات ہیں، جنہیں اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے برباری اور مروت۔

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ وَفْدَ عَبْدِ الْقَيْسِ، لَمَّا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ← غَيْرُ وَاحِدٍ مِمَّنْ لَقِيَ الْوَفْدَ، وَذكَرَ أَبَا نَضْرَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ← أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ الْعِجْلِيُّ ← عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Gate in the Caliphate and the Emirate · Hadith 4541

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3280

أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا خُبَيْبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ يُحَدِّثُ، قَالَ: جَاءَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ إِلَى مَسْجِدِنَا، فَحَدَّثَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا خَرَصْتُمْ، فَخُذُوا، وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَدْعُوا الثُّلُثْ، فَدَعُوا الرُّبُعَ" (1) . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لِهَذَا الْخَبَرِ مَعْنَيَانِ، أَحَدُهُمَا: أَنْ يُتْرَكَ الثُّلُثُ أَوِ الرُّبُعُ مِنَ الْعُشْرِ. وَالثَّانِي: أَنْ يُتْرَكَ ذَلِكَ مِنْ نَفْسِ التَّمْرِ قَبْلَ أَنْ يُعَشَّرَ إِذَا كان ذلك حائطا كبيرا يحتمله.

عبدالرحمٰن بن مسعود بیان کرتے ہیں: حضرت سہل بن ابو حثمہ رضی اللہ عنہہ ہماری اس مسجد میں تشریف لائے انہوں نے ہمیں یہ حدیث بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "جب تم پیداوار کا اندازہ لگاو ، تو وصولی کر لو اور ایک تہائی حصے کو چھوڑ دو اگر تم ایک تہائی کو نہیں چھوڑتے ، تو چوتھے حصے کو چھوڑ دو۔" (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:): اس روایت کے دومفہوم ہو سکتے ہیں ایک یہ ہے: وہ عشر میں سے ایک تہائی یا ایک چوتھائی کو تر ک کر دے اور دوسرا مفہوم یہ ہے: وہ عشر لینے سے پہلے کھجوروں میں سے ہی اسے ترک کر دے جبکہ وہ باغ بڑا ہو۔

جَاءَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ إِلَى مَسْجِدِنَا، فَحَدَّثَنَا ← عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ نِيَارٍ ← خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ← الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3280

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3281

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضرير، حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ زُرَیْعٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، وَسَعِیْدٌ ، جَمِیْعًا عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیٰی ، عَنْ اَبِیْہِ ، عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: فلَیْسَ فِی الْفِضَّۃِ شَیْءٌ حَتّٰی یَبْلُغَ خَمْسَ اَوَاقٍ ، وَلَیْسَ فِی التَّمْرِ شَیْءٌ حَتّٰی یَبْلُغَ خَمْسَۃَ اَوْسُقٍ ، وَلَیْسَ فِی الْاِبِلِ شَیْءٔ حَتّٰی یَبْلُغَ خَمْسَۃً مِنَ الذَّوْدِ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے: "چاندی میں اس وقت تک زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی جب تک وہ پانچ اوقیہ تک نہ پہنچ جائے۔ کھجور میں اس وقت تک زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی جب تک وہ پانچ وسق نہ ہو جائے۔ اونٹوں میں اس وقت تک زکوٰۃ لازم نہیں ہوتی جب تک وہ پانچ اونٹ نہ ہو جائیں۔"

أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ وَسَعِیْدٌ جَمِیْعًا ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضرير، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3281

صیح ابن حبان · کتاب الزکاۃ ‹ بَابُ الْعُشْرِ · حديث 3289

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنِ ابْنِ اِسْحَاقَ ، عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی بْنِ حِبَّانِ ، عَنْ عَمِّہِ ، وَاسِعِ بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، قَالَ: اَمَرَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ کُلِّ جَادٍّ عَشَرَۃِ اَوْسُقٍ مِنَ التَّمْرِ بِقِنْوٍ یُعَلَّقُ فِیْ الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاکِیْنَ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم دیا تھا کہ کھجوروں کے ہر دس وسق میں سے ایک خوشہ مسجد میں غریبوں کے لئے لٹکا دیا جائے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمِّهِ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← هَارُونُ بن معروف ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Book of Zakat › Chapter of the ten · Hadith 3289

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 721

أخبرنا محمد بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا يزيد بن زريع حدثنا بن عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيَّنٌ وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ وَرُبَّمَا قَالَ مُتَشَابِهَةٌ وَسَأَضْرِبُ لَكُمْ فِي ذَلِكَ مَثَلًا إِنَّ اللَّهَ حَمَى حِمًى وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمَهُ وَإِنَّهُ مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يُخَالِطَ الْحِمَى وَرُبَّمَا قَالَ مَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يَرْتَعَ وَإِنَّ مَنْ خَالَطَ الرِّيبَةَ يُوشِكُ أن يجسر" 1. [3: 28]

حضرت نعمان بن بشیر ؓ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ حلال واضح ہے اور حرام بھی وا ضح ہے اور ان کےد رمیان کچھ مشتبہ امور ہیں۔ (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) میں تمہارے سامنے اس کی مثال بیان کرتا ہوں ۔ بیشک اللہ تعالیٰ کی چراگاہ ہی چراگاہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ اشیاء ہیں ‘ تو جو شخص چراگاہ کے ادر گرد جانور چرانے کی کوشش کرتا ہے ‘ تو ہو سکتا ہے وہ چراگاہ کے اندر داخل ہو جائیں( بعض اوقات راوی نے یہ الفاظ استعمال کئے) جو شخص چراگاہ کےارد گرد جانور چراتا ہے ‘ توآ گے جا کر وہ چراگاہ کے اندر چرنے لگ پڑتے ہیں ‘ تو جو شخص مشکوک چیزوں کے ساتھ ملاپ اختیار کرتا ہے وہگے چل کر اسے عبور بھی کر لیتا ہے‘‘۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← بن عون ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ← محمد بْنُ عُمَيْرِ بْنِ يُوسُفَ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of godliness and trust · Hadith 721

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 722

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَدِّثْكَ بِهِ أَحَدٌ قَالَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يَقُولُ "دَعْ مَا يُرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يريبك" قال " الخير طمأنينة والشر ريبة".ذِكْرُ الزَّجْرِ عَمَّا يُرِيبُ الْمَرْءَ مِنْ أَسْبَابِ هَذِهِ الدُّنْيَا الْفَانِيَةِ الزَّائِلَةِ [722] أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ قَالَ قُلْتُ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ حَدِّثْنِي بِشَيْءٍ حَفِظْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَدِّثْكَ بِهِ أَحَدٌ قَالَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يَقُولُ "دَعْ مَا يُرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يُرِيبُكَ" قَالَ " الْخَيْرُ طُمَأْنِينَةٌ وَالشَّرُّ رِيبَةٌ". وَاُتِیَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِشَیْءٍ مِّنْ تَمْرِ الصَّدَقَۃِ فَاَخَذْتُ تَمْرَۃً فَاَلْقَیْتُھَا فِیْ فِیْ فَاَخَذَھَا بِلْعَابِھَا حَتّٰی اَعَادَھَا فِی التَّمْرِ فَقِیْلَ لَہٗ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا کَانَ عَلَیْکَ مِنْ ھٰذِہِ التَّمْرَۃِ مِنْ ھٰذَا الصَّبِیِّ فقَالَ: اِنَّا اٰلَ مُحَمَّدٍ لَا یَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَۃُ وَسَمِعقتُ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَدْعُوْ بِھٰذَا الدُّعَاءِ: اَللہُمَّ اھْدِنَا فِیمَنْ ھَدَیْتَ وَعَافِنَا فِیمَنْ عَافِیْتَ وَتَوَلَّنَا فِیمَنْ تَوَلَّیْتَ وَبَارِکْ لَنَا فِیمَا اَعْطَیْتَ وَقِنَا شَرَّمَا قَضَیْتَ اِنَّکَ تَقْضِی وَلَا یُقْضَی عَلَیْکَ اِنَّہٗ لا یذل من والیت تبارکت وتعالیت۔(23:2)

ابو حوراء سعدی بیان کرتےہیں: میں نے حضرت امام حسن ؓ سے کہا : آپ مجھے کوئی ایسی حدیث سنائیے جو آپ نے نبی اکرمﷺ کی زبانی سن کر یار رکھی ہو ‘ وہ کسی اور نے آپ کو نہ سنائی ہو‘ تو حضرت امام حسن ؓ نے بتایا : میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’’ تم اس چیز کو چھوڑ دو ‘ جو تمہیں شک میں مبتلا کرتی ہے اور اس چیز کی طرف جاؤ جو تمہیں شک میں مبتلانہیں کرتی ہے ‘‘۔ نبی اکرمﷺ نے یہ بار ت ارشاد فرمائی ہے: ’’ بھلائی اطمینان ہوتا ہے اور برائی مشکوک ہوتی ہے ‘‘۔ ( حضرت امام حسنؓ نے یہ بھی بتایا ) ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں صدقے کی کچھ کھجوریں پیش کی گئیں میں نے ان میں سے ایک کھجور لی اور اپنے منہ میں ڈال لی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے اس کھجور کو پکڑا اس کا لعاب لیا اور واپس اس کھجور میں ڈال دیا۔ آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ! اس بچے نے جو کھجور لی تھی اس کے حوالے سے آپ کو ‘ تو کوئی نقصان نہیں ہوتا ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : ہمارے ‘ آل محمد کے لئے صدقہ حلال نہیں ہے۔ (حضرت امام حسنؓ نے یہ بات بھی بتائی) میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا ہے : ’’ اے اللہ ! جنہیں ‘ تو نے ہدایت عطا کی ہے ان میں ہمیں بھی ہدایت پر ثابت قدم رکھ ! جنہیں ‘ تو نے عطا کی ہے ان میں ہمیں بھی عافیت عطا کر ‘ جب کو تونگران بنا ہے ان میں سے ہمارا بھی نگران بن ‘ ہمیں تو نے جو کچھ عطا کیا ہے ان میں ہمارے لئے برکت رکھ د ے اور جو تونے فیصلہ کیا ہے ‘ اس کے شر سے ہمیں بچا لے۔ بیشک تو فیصلہ دیتا ہے تیرے خلاف فیصلہ نہیں دیا جاسکتا ‘ جس کا تو نگران ہو ‘ وہ رسوا نہیں ہو سکتا ‘ تو برکت والا اور بلند وبرتر ہے‘‘۔

أَبِي الْحَوْرَاءِ السَّعْدِيِّ، ← بُرَيْدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ: ← شُعْبَةُ، ← مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ التِّرْمِذِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of godliness and trust · Hadith 722

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ الْوَرَعِ وَالتَّوَکُّلِ · حديث 729

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ لَقَدْ کَانَ اٰلُ مُحَمَّدٍ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرَوْفَ ثَلَاثَۃَ اَشْھُرٍ مَا یَسْتَوْقِدُوْنَ فِیْہِ بِنَارٍ مَا ھُوَ اِلَّا الْمَاءُ وَالتَّمْرُ وَکَانَ حَوْلَنَا اَھْلُ دُورٍ مِّنْ الْاَنْصَارِ لَھُمْ دَوَاجِنُ فِیْ حَوَائِطِھِمْ فَکَانَ اَھْلُ کُلِّ دَارٍ یَبْعَثُونَ اِلٰی رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِغَزِیرِ شَاتِھِمْ فَکَانَ لِرَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ ذٰلِکَ اللبن۔(27:5)

سیدہ عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں : حضرت محمد ﷺ کے گھر والوں کو تین مہینے بعض اوقات ایسے گز ر جاتے تھے کہ اس دوران وہ آگ نہیں جلا پاتے تھے۔۔ ان کی خوراک صرف پانی اور کھجور ہوتی تھی۔ ہمارے ارد گرد انصار کے کچھ گھرانے تھے جن کے باغات میں ان کی بکریاں ہوتی تھیں ‘ تو بعض اوقات ان میں سے کسی گھرانے کے لوگ اپنی بکریوں کا تازہ دودھ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں بھجوا دیا کرتے تھے ‘ تو نبی اکرمﷺ اس دودھ کو پہ لیا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ، ← الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › The door of godliness and trust · Hadith 729

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْعِلْمِ ‹ کِتَابُ الْعِلْمِ · حديث 111

اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَقَالَ حَدَّثَنَا حَرْمَلَۃُ بْنُ یَحْیَی قَالَ حَدَّثَنَا بْنُ وَھَبٍ قَالَ أَخْبَرْنَ یُوْنُسُ عَنِ ابْنِ شِھَابٍ اَنَّ عُبَیْدَ اللہِ بْنُ عَبْدِ اللہِ أَخْبَرَہٗ اَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ یُحَدِّثُ اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: یَا رسول اللہِ اِنّیْ رَاَیْتُ اللَّیْلَۃَ فِی الْمَنَامِ ظُلَّۃً تَنْطِفُ السَّمْنَ وَالْعَسَلَ وَاِذَا النَّاسُ یَتَکَفَّفُوْنَ مِنْھَا بِاَیْدِیِھِمْ فَالْمُسْتَکْثِرُ وَالْمُسْتَقِلُّ وَاَرٰی سَبَبًا وَاصِلًا مِنَ السَّمَاءِ اِلَی الْاَرْضِ فَاَرَاکَ اَخَذْتَ بِہٖ فَعَلَوْتَ ثُمَّ اَخَذَ بِہٖ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِکَ فَعَلَا ثُمَّ اَخَذَ بِہٖ رَجُلٌ اٰخَرُ فَعَلَا ثُمَّ اَخَذَ بِہٖ رَجُلٌ اٰخَرُ فَانْقَطَعَ بِہٖ ثُمَّ وُصِلَ لَہٗ فَعَلَا قَالَ: اَبُوْ بَکْرٍ: یَا رَسُوْلَ اللہِ بِاَبِیْ اَنْتَ وَاللہِ لَتَدَعَنِّیْ فَلَا عْبُرُہٗ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: عَبِّرْقَالَ: اَبُوْ بَکْرٍ اَمَّا الظُّلَّۃُ فَظُلَّۃُ الْاِسْلَامِ وَاَمَّا الَّذِیْ یَنْطِفُ مِنَ لسَّمْنِ وَالْعَسَلِ فَالْقُرْآنُ حَلَاوَتُہٗ وَلِینُہُ وَاَمَّا مَا یَتَکَفَّفُ النَّاسُ مِنْ ذٰلِکَ فَالْمُسْتَکْثِرُ مِنَ الْقُرْآنِ وَالْمُسْتَقِلُّ وَاَمَّا السَّبَبُ الْوَاصِلُ مِنَ السَّمَاءِ اِلَی الْاَرْضِ فَالْحَقُّ الَّذِیْ اَنْتَ عَلَیْہِ اَخَذْتَہٗ فَیُعْلِیکَ اللہُ ثُمَّ یَاْخُذُ بِہٖ رَجُلٌ مِنْ بَعْدِکَ فَیَعْلُوبِہٖ ثُمَّ یَاْخُذُ بِہٖ رَجُلٌ اٰخَرُ فَیَعْلُو بِہٖ ثُمَّ یَاْخُذُ بِہٖ رَجُلٌ اٰخَرُ فَیَنْقَطِعُ بِہٖ ثُمَّ یُوصَلُ لَہٗ فَیَعْلُو فَاَخْبِرْنِیْ یَا رَسُوْلَ اللہِ بِاَبِیْ اَنْتَ اَصَبْتُ اَمْ اَخْطَاْتُ ؟ قَالَ رَسْوُلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَصَیْتَ بَعْضًا وَاَخْطَاْتَ بَعْضًا قَالَ: وَاللہِ یَا رَسُوْلَ اللہِ لَتُخْبِرَنِّیْ بِالَّذِیْ اَخْطَاْتُ قَالَ: لَا تقْسِمْ۔(3:65)

عبید اللہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبد اللہ بن عباسؓ یہ بیان کیا کرتے تھے: ایک مرتبہ ایک شخص نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے گزشتہ رات ایک بادل دیکھا ہے ‘ جس سے گھی اور شہد کی بارش ہو رہی تھی اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں میں لے رہے تھے۔کوئی شخص زیادہ لے رہا تھا ‘ اور کوئی کم لے رہا تھا۔ پھر میں نے آسمان سے زمین کی طرف لٹکی ہوئی ایک رسی دیکھی۔ پھر میں نےآپ کو دیکھا کہ آپ نے اسے پکڑا اور اوپر تشریف لے گئے۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا۔ پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا اور وہ بھی اوپر چلا گیا پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑا ‘ تو وہ رسی ٹوٹ گئی۔ پھر اس شخص کے لئے اسے ملا دیا گیا ‘تو وہ بھی اوپر چلا گیا۔ (راوی کہتے ہیں ) حضرت ابو بکر ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد آپ پر قربان ہوں۔ اللہ کی قسم ! آپ مجھے موقع دیجئے کہ میں اس کی تعبیر بیان کروں۔ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا : تم تعبیر بیان کرو ! تو حضرت ابو بکر ؓ نےعرض کی : بادل سے مراد اسلام کا بادل ہے ‘ اور اس سے ٹپکنے والے گھی اور شکر (سے مراد ) قرآن ہے ۔ اس کی حلاوت اور نرمی مراد ہے۔ جہاں تک لوگوں کا اسے ہاتھوں میں لینے کا تعلق ہے ‘ تو کچھ لوگ قرآن کا زیادہ علم حاصل کرتے ہیں اور کچھ لوگ اس کا کم علم حاصل کرتے ہیں۔ جہاں تک آسمان سے نیچے لٹکنے والی رسی کا تعلق ہے ‘تو یہ وہ حق ہے ‘ جس پر آپ گامزن ہیں۔ آپ نے اس کو اختیار کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سر بلندی عطا کی۔ پھر آپ کے بعد ایک شخص نے اسے پکڑ لیا ‘ تو اس نے اس کے ذریعے سر بلندی حاصل کی۔ پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑ لیا ‘ تو اس نے اس کے ذریعے سر بلندی حاصل کی۔ پھر ایک اور شخص نے اسے پکڑ لیا ‘ تو رسی منقطع ہو گئی۔ پھر اس شخص کے لئے اسےملا دیا گیا ‘ تو اس نے بھی سر بلندی حاصل کی۔ یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتایئے۔ میرے والد آپ پر قربان ہوں کیا میں نے ٹھیک تعیر بیان کی ہے یا غلط بیان کی ہے ؟ تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : تم نے کچھ تعبیر غلط بیان کی ہے ‘ اور کچھ ٹھیک بیان کی ہے۔ حضرت ابو بکرؓ نے عرض کی : اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ ! مجھے بتایئے کہ میں نے کہاں غلطی کی ہے ؟ نبی اکرمﷺ نے ارشاد رفرمایا : ’’تم قسم نہ دو‘‘۔

اَنَّ رَجُلًا اَتَی النَّبِیَّ فَقَالَ: ← اَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ کَانَ ← ابْنِ شِھَابٍ اَنَّ عُبَیْدَ اللہِ بْنُ عَبْدِ اللہِ ← أَخْبَرْنَ یُوْنُسُ ← بن وَهْبٍ ← حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ← مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَیْبَۃَقَالَ

Sahih Ibn Hibban · The Science Book › The Science Book · Hadith 111

صیح ابن حبان · کتاب السیر ‹ بَابُ فَرْضِ الْجِهَادِ · حديث 4714

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِالرَّيِّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ كُنَّا فِي غَزَاةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَقَدْ شَهِدَكُمْ أَقْوَامٌ بِالْمَدِينَةِ، حَبَسَهُمُ الْمَرَضُ»

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ ایک جنگ میں حصہ لے رہے تھے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تمہارے ساتھ کچھ ایسے لوگ بھی اس میں شامل ہوئے ہیں جو مدینے میں موجود ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بیماری کی وجہ سے (جنگ میں شرک نہیں ہو سکے)

كُنَّا فِي غَزَاةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ «لَقَدْ شَهِدَكُمْ أَقْوَامٌ بِالْمَدِينَةِ، حَبَسَهُمُ الْمَرَضُ» ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← أَبِي ← مُحَمَّدُ بْنُ عِصَامِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ عَجْلَانَ، ← عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سَلْمٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، بِالرَّيِّ،

Sahih Ibn Hibban · Biography › Chapter on the duty of jihad · Hadith 4714

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2916

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ، قَالَ : دَخَلَ اَعْرَبِیٌّ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: اَخَذَتْکَ اُمُّ مِلْدَمٍ ؟ قَالَ: وَمَا اُمُّ مِلْدَمٍ ؟ قَالَ: حَرٌّیَکُوْنُ بَیْنَ الْجِلقدِ وَاللَّحْمِ قَالَ : وَمَا وَجَدْتُ ھٰذَا قَطُّ۔ قِالَ : فَھَلْ وَجَدْتَ ھٰذَا الصُّدَاعَ ؟ قَالَ : وَمَا الصُّدَاعُ ؟ قَالَ: عِرْقٌ یَضْرِبُ عَلَی الْاِنْسَانِ فِیْ رَاْسِہِ قَالَ : وَمَا وَجَدْتَ ھٰذَا قَطُّ۔ فَلَمَّا وَلّٰی قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : مِنْ اَحَبَّ اَنْ یَّنْظُرَ اِلٰی رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی ھٰذَا۔ قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ : قَوْلُہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ اَحَبَّ اَنْ یَّنْظُرَ اِلٰی رَجُلٍ مِنْ اَھْلِ النَّارِ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی ھٰذَا لَفْظَۃُ اِخْبَارٍ عَنْ شَیْءٍ مُرَادُ ھَا الزَّجْرُ عَنِ الرُّکُوْنِ اِلٰی ذٰلِکَ الشَّیْءِ ، وَقِلَّۃِ الصَّبْرِ عَلٰی ضِدِّہِ ، وَذٰلِکَ اَنَّ اللہَ جَلَّ وَعَلَ وَعَلَا جَعَلَ الْعِلَلَ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا وَالْغُمُومِ وَالْاَحْزَانِ سَبَبَ تَکْفِیرِ الْخَطَایَا عَنِ الْمُسْلِمِیْنَ ، فَاَرَادَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِعْلَامَ اُمَّتِہٖ اَنَّ الْمَرْءَ لَا یَکَادُ یَتَعَرَّی عَنْ مُّقَارَفَۃِ فَا نَھَی اللہُ عَنْہُ فِیْ اَیَّامِہٖ وَلَیَالِیہِ وَاِیجَابِ النَّارِ لَہٗ بِذٰلِکَ اِنْ لَّمْ یُتَفَضَّلَ عَلَیْہِ بِالْعَفْوِ ، فَکَانَّ کُلَّ اِنْسَانِ مُرْتَھَنٌ بِمَا کَسَبَتْ یَدَاہُ ، وَالْعِلَلُ تُکَفَّرُ بَعْضُھَا عَنْہُ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا لَا اَنَّ مَنْ عُوفِیَ فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا یَکُوْنُ مِنْ اَھْلِ النَّارِ

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہیں اُمّ ملدم نے جکڑ لیا ہے اس نے دریافت کیا: اُمّ ملدم کیا ہوتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: یہ ایک تپش ہے، جو جلد اور گوشت کے درمیان ہوتی ہے اس نے کہا: مجھے، تو یہ صورت حال کبھی لا حق نہیں ہوئی۔ نبی اکرمﷺ نے دریافت کیا: کیا تمہیں صداع کی شکایت ہے اس نے دریافت کیا: صداع کیا ہوتا ہے۔ نبی اکر ﷺ نے فرمایا: یہ ایک رگ ہے، جو آدمی کے سر میں آدمی پر ضرب لگاتی ہے اس نے کہا: مجھے یہ صورت حال کبھی درپیش نہیں آئی جب وہ شخص چلا گیا، تو نبی اکر م ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی جہنمی کو دیکھنا چاہے وہ اس شخص کو دیکھ لے۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان: " جو شخص اہل جہنم سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کی طرف دیکھنا چاہتا ہو و ہ اس شخص کو دیکھ لے"۔ اس میں لفظی طور پر ایک چیز کے بارے میں اطلاع دی گئی ہے لیکن اس سے مراد یہ ہے: اس چیز کی طرف مائل ہونے سے منع کیا جائے اور اس کی متضاد چیز پر صبر کی کمی( سے منع کیا جائے) اس کی وجہ یہ ہے: اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں غم اور پریشانیاں رکھی ہیں تا کہ یہ مسلمانوں کے گناہواں کا کفارہ بن جائیں تو نبی اکرم ﷺ اپنی اُمت کو یہ اطلاع دینا چاہتے ہیں کہ آدمی دن اوررات میں بعض اوقات ان چیزوں سے اجتناب نہیں کرتا جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے اور اس وجہ سے اس کے لیے جہنم واجب ہوجاتی ہے وہ اس کے بعد معافی نہیں مانگتا تو ہر شخص اپنے عمل کے بدلے میں رہن ہوتا ہے اور یہ علتیں اس دنیا میں اس کےبعض گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے: جس شخص کو اس دنیا میں عافیت نصیب ہو جائے وہ جہنمی ہوتا ہے۔

وَمَا وَجَدْتَ ھٰذَا قَطُّ۔ فَلَمَّا وَلّٰی ← عِرْقٌ یَضْرِبُ عَلَی الْاِنْسَانِ فِیْ رَاْسِہِ ← وَمَا الصُّدَاعُ ← فَھَلْ وَجَدْتَ ھٰذَا الصُّدَاعَ ← وَمَا وَجَدْتُ ھٰذَا قَطُّ۔ ← حَرٌّیَکُوْنُ بَیْنَ الْجِلقدِ وَاللَّحْمِ ← وَمَا اُمُّ مِلْدَمٍ ← دَخَلَ اَعْرَبِیٌّ عَلَی النَّبِیِّ فَقَالَ النَّبِیُّ اَخَذَتْکَ اُمُّ مِلْدَمٍ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ← هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2916

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5569

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشٍ الْقِتْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْعُكْلِيِّ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْحَرَامِ سُتْرَةً مِنَ الْحَلَالِ، مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ اسْتَبْرَأَ لِعِرْضِهِ وَدِينِهِ، وَمَنْ أَرْتَعَ فِيهِ كَانَ كَالْمُرْتِعِ إِلَى جَنْبِ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَقَعَ فِيهِ، وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ فِي الْأَرْضِ مَحَارِمُهُ»

حضرت نعمان بن بشیرؓ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرمﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ۔ ’’ اپنے اور حرام کے درمیان حلال کے ذریعے رکاوٹ بنا لو جو شخص ایسا کر لے گا وہ اپنی عزت اور دین کو محفوظ کر لے گا اور جو شخص اس میں چرنے کی کوشش کرے گا ‘ تو وہ چراگاہ کے پہلو میں چرنے والا ہو گا اور اس بات کا احتمال موجود ہے ‘ وہ چراگاہ کے اندر داخل ہو جائے ہر بادشاہ چراگاہ ہوتی ہے ۔ زمین میں اللہ تعالیٰ کی مخصوص چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں‘‘۔

رَسُولِ اللَّهِ ← النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ ← الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْعُكْلِيِّ، ← ابْنِ عَجْلَانَ، ← عبد الله بن عياش القتباني، ← الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ، ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5569

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ ذِکْرُ الْاِخْبَارِ عَنْ تَحْرِیمِ اللہِ جَلَّ وَعَلَا خِصَالًا مَعْلُومَۃً عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ · حديث 5602

أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ «أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ، اسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحِجَامَةِ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا طَيْبَةَ أَنْ يَحْجُمَهَا، وَقَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: كَانَ أَخَاهَا مِنَ الرَّضَاعَةَ، أَوْ غُلَامًا لَمْ يَحْتَلِمْ»

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں: سیدہ ام سلمہ ؓ نے نبی اکرمﷺ سے پچھنے لگوانے کی اجازت مانگی ‘ تو نبی اکرمﷺ نے ابو طیبہ کو یہ ہدایت کی کہ وہ سیدہ ام سلمہ ؓ کو پچھنے لگا دے۔ راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات بھی بیان کی تھی کہ یہ صاحب سیدہ ام سلمہ ؓ کے رضاعی بھائی تھے یا یہ کوئی ایسے لڑکے تھے جو ابھی بالغ نہیں ہوئے تھے۔

جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← الليثي ← يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ← ابْنُ قُتَيْبَةَ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › Recalling the reports about the prohibition of Allah, the Great and the Most High, and give a certain characteristic to the Muslims · Hadith 5602

صیح ابن حبان · کِتَابُ الْحَظْرِ وَالْاِبَاحَۃِ ‹ بَابُ الْکَذِبِ · حديث 5737

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ قَطُّ إِلَّا ثَلَاثًا، اثْنَتَيْنِ فِي ذَاتِ اللَّهِ: قَوْلُهُ {إِنِّي سَقِيمٌ} [الصافات: 89]، وَقَوْلُهُ: {بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا} [الأنبياء: 63]، قَالَ: وَمَرَّ عَلَى جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ وَمَعَهُ امْرَأَتُهُ سَارَةُ، فَقِيلَ لَهُ إِنَّ [ص:46] رَجُلًا هَاهُنَا مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَتَاهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: هَذِهِ أُخْتِي، قَالَ: فَأَتَاهَا، فَقَالَ لَهَا: إِنَّ هَذَا قَدْ سَأَلَنِي عَنْكِ، وَإِنِّي أَنْبَأْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي، وَإِنَّكَ أُخْتِي فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَلَا تُكَذِّبِينِي، قَالَ: فَلَمَّا رَآهَا ذَهَبَ لِيَأْتِيَهَا، فَدَعَتِ اللَّهَ فَأُخِذَ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي، وَلَكِ عَلَيَّ أَنْ لَا أَعُودَ، فَدَعَتْ لَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ لِيَأْتِيَهَا، فَدَعَتْ فَأُخِذَ أَخْذَةً هِيَ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي، وَلَكِ عَلَيَّ أَنْ لَا أَعُودَ، فَدَعَتْ لَهُ، فَذَهَبَ لِيَأْتِيَهَا، فَدَعَتْ فَأُخِذَ أَخْذَةً هِيَ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَيَيْنِ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي، وَلَكِ عَلَيَّ أَنْ لَا أَعُودَ، فَدَعَتْ لَهُ، فَأُرْسِلَ، فَقَالَ لِأَدْنَى حَجَبَتِهِ عِنْدَهُ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِإِنْسَانٍ، إِنَّمَا أَتَيْتَنِي بِشَيْطَانٍ، وَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ، فَلَمَّا رَآهَا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: مَهْيَمْ، قَالَتْ: كَفَى اللَّهُ كَيَدَ الْكَافِرِ الْفَاجِرِ، وَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ»، قَالَ: فَكَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: تِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ قَالَ: وَمَدَّ النَّضْرُ صَوْتَهُ « قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: » كُلُّ مَنْ كَانَ مِنْ وَلَدِ هَاجَرَ يُقَالُ لَهُ: وَلَدُ مَاءِ السَّمَاءِ، لِأَنَّ إِسْمَاعِيلَ مِنْ هَاجَرَ، وَقَدْ رُبِّيَ بِمَاءِ زَمْزَمَ، وَهُوَ مَاءُ السَّمَاءِ الَّذِي أَكْرَمَ اللَّهُ بِهِ إِسْمَاعِيلَ، حَيْثُ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ هَاجَرُ، فَأَوْلَادُهَا أَوْلَادُ مَاءِ السَّمَاءِ «

حضرت ابو ہریرہؓ ‘ نبی اکرمﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : حضرت ابراہیم نے کبھی غلط بیانی نہیں کی صرف تین مرتبہ انہوں نے ( ذو معنیٰ کی) دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں جب انہوں نے یہ کہا: ’’میں بیمار ہوں ‘‘ اور یہ کہا ’’ بلکہ ان میں سے بڑے نے ایسا کیا ہے‘‘۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں ایک مرتبہ ان کا گزر ایک ظالم حکمران کے پاس سے ہوا حضرت ابراہیمؑ کے ساتھ ان کی اہلیہ سیدہ سارہ ؓ بھی تھیں اس بادشاہ کو بتایا گیا کہ یہاں ایک شخص ہے ‘ جس کے ساتھ ایک انتہائی خوبصورت خاتون ہے ۔ نبی اکرمﷺ اس شخص نے حضرت ابراہیمؑ کو بلوایا حضرت ابراہیم ؑ اس کے پاس گئے اس نےان سے سوالات کئے ‘ تو حضرت ابراہیمؑ نے بتایا : یہ میری (دینی) بہن ہے ۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں حضرت ابراہیمؑ سیدہ سارہ ؓ کے پاس آئے اور انہیں بتایا کہ حکمران نے مجھے سے تمہارے بارے میں دریافت کیا تھا ‘ تو میں نے اسے بتایا : تم میری بہن ہو ‘ تو تم اللہ کی کتاب میں میری بہن ہو اس لئے تم مجھے جھوٹا قرار نہ دینا۔ نبی اکرمﷺ فرماتے ہیں جب حکمران نے سیدہ سارہؓ کو دیکھا ‘ تو وہ ان کے پاس آنے لگا سیدہ سارہ ؓ نے اس کےلئے دعائے ضرر کی ‘ تو وہ گرفت میں آ گیا اس شخص نے کہا: اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا کیجئے میرے اوپر یہ بات لازم ہے ‘ میں دوبارہ یہ غلطی نہیں کروں گا پھر سیدہ سارہ ؓ نے اس کے حق میں دعا کی وہ دوبارہ سیدہ سارہ ؓ کے قریب آنے لگا سیدہ سارہ ؓ نے پھر بد دعا کی: تو اس پر دوبارہ گرفت ہوئی جو پہلی سے زیادہ سخت تھی اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں دعا کیجئے مجھ پر یہ بات لازم ہے ‘ میں دوبارہ یہ حرکت نہیں کروں گا۔ سیدہ سارہ ؓ نے پھر اس کے لئے دعا کی وہ پھر آگے آنے لگا سیدہ سارہؓ نے پھر دعاء ضرر کی ‘ تو اس کو دوبارہ گرفت میں لیا گیا جو پہلی دونوں مرتبہ کی گرفت سے زیادہ سخت تھی ‘ تو اس نے کہا: آپ اللہ تعالیٰ سے میرے حق میں دعا کیجئے مجھ پر یہ بات لازم ہے ‘ میں دوبارہ یہ حرکت نہیں کروں گا۔ سیدہ سارہ ؓ نے اس کے حق میں دعا کی ‘ تو اس کی طبیعت ٹھیک ہو گئی اس نے اپنے پاس موجود اپنےو زیر سے یہ کہا تم میرے پاس کسی انسان کو نہیں لے کر آئے تم میرے پاس شیطان کو لے کر آئے ہو پھر اس نے سیدہ سارہ ؓ کو خادمہ کے طور پر سیدہ حاجرہ ؓ دے دیں جب حضرت ابراہیم ؑ نے اس خاتون کو دیکھا ‘ تو فرمایا یہ کہاں سے آئی ہے سیدہ سارہ ؓ نے بتایا اللہ تعالیٰ نے کافر گنہگار شخص کے فریب کا توڑ کیا اور حاجرہ ؓ کو خادمہ کے طور پر دے دیا۔ حضرت ابو ہریرہؓ جب یہ حدیث بیان کرتے تھے ‘ تو ساتھ یہ بھی کہتے تھے : اے آسمانی پانی سے سیراب ہونے والے لوگوں وہ تمہاری والدہ ہیں ۔ نضر نامی راوی یہ الفاظ بلند آواز میں بیان کرتے تھے۔ ( امام ابن حبان ؒ فرماتے ہیں : ) سیدہ حاجرہ ؓ کی اولاد کے لئے آسمانی پانی سے سیراب ہونے والے کا لفظ اس لئے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ حضرت اسماعیلؑ سیدہ حاجرہؓ کے صاحبزادے تھے اور ان کی نشو و نما آب زم زم کے ذریعے ہوئی تھی اور یہ آسمانی پانی ہے ‘ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل ؑ کی عزت افزائی کی تھی اس وقت جب ا ن کی والدہ سیدہ حاجرہ ؓ نے انہیں جنم دیا تھا ‘تو ان کی اولاد وہ اولاد ہے ‘ جس نے آسمانی پانی کے ذریعے ( نشو نما پائی تھی)

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدٍ ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأَزْدِيُّ

Sahih Ibn Hibban · The prohibition and prohibition book › The door to lying · Hadith 5737

chevron_left Previous
1…353637…647
Next chevron_right