Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Monday, Jumada I 9, 1448 AH · Oct 19, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطب والصحة

Medicine & Health

12931 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23106

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ فَإِذَا اخْتَلَفَ فِيهِ الْأَوْصَافُ فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ

ابوالاشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مال غنیمت سے حاصل ہونے والی چاندی کو لوگ وظیفہ کی رقم حاصل ہونے پر موقوف کر کے بیچا کرتے تھے یہ دیکھ کر حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی سونے کے بدلے چاندی کی چاندی کے بدلے ، کجھور کی کجھور کے بدلے ، گندم کی گندم کے بدلے، جو کی جو کے بدلے ، اور نمک کے بدلے نمک کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ الاّ یہ کہ وہ برابر برابر ہو جو شخص اضافہ کرے یا اضافہ کی درخواست کرے تو اس نے سودی معاملہ کیا۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23106

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23108

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ وَقَدْ كَانَ يُدْعَى ابْنَ هُرْمُزَ قَالَ جَمَعَ الْمَنْزِلُ بَيْنَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ وَبَيْنَ مُعَاوِيَةَ إِمَّا فِي كَنِيسَةٍ وَإِمَّا فِي بِيعَةٍ فَقَامَ عُبَادَةُ فَقَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ بِالْوَرِقِ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ وَقَالَ أَحَدُهُمَا وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ وَقَالَ أَحَدُهُمَا مَنْ زَادَ أَوْ ازْدَادَ فَقَدْ أَرْبَى وَلَمْ يَقُلْهُ الْآخَرُ وَأَمَرَنَا أَنْ نَبِيعَ الذَّهَبَ بِالْفِضَّةِ وَالْفِضَّةَ بِالذَّهَبِ وَالْبُرَّ بِالشَّعِيرِ وَالشَّعِيرَ بِالْبُرِّ يَدًا بِيَدٍ كَيْفَ شِئْنَا

ایک مرتبہ حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کسی گرجے یا عبادت خانے میں جمع ہوئے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سونے کی سونے کے بدلے چاندی کی چاندی کے بدلے ، کجھور کی کجھور کے بدلے ، گندم کی گندم کے بدلے، جو کی جو کے بدلے اور نمک کے بدلے نمک کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ الاّ یہ کہ وہ برابر برابر ہو جو شخص اضافہ کرے یا اضافہ کی درخواست کرے تو اس نے سودی معاملہ کیا۔ البتہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس چیز کی اجازت دی ہے کہ سونے کو چاندی کے بدلے اور چاندی کو سونے کے بدلے گندم کو جو کے بدلے اور جو کو گندم کے بدلے ہاتھوں ہاتھ بیچ سکتے ہیں جیسے چاہیں ۔

عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدٍ، وَقَدْ كَانَ يُدْعَى ابْنَ هُرْمُزٍ، ← مُسْلِمِ بْنِ یَسَارٍ ← ابْنِ سِيرِينَ، ← سَلَمَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ، ← إِسْمَاعِيلُ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23108

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20311

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَبِي بَهْزٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْجَنَّةِ بَحْرُ اللَّبَنِ وَبَحْرُ الْمَاءِ وَبَحْرُ الْعَسَلِ وَبَحْرُ الْخَمْرِ ثُمَّ تَشَقَّقُ الْأَنْهَارُ مِنْهَا بَعْدَهُ

حضرت معاویہ بہزی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جنت میں دودھ کا سمندر ہو گا، پانی کا، شہد کا اور شراب کا سمندر ہو گا، جس سے نہریں پھوٹیں گی۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبِيهِ ← حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ أَبِي بَهْزٍ ← الْجُرَيْرِيِّ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20311

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20356

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا الْحَجَّامَ فَأَتَاهُ بِقُرُونٍ فَأَلْزَمَهُ إِيَّاهَا قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً بِقَرْنٍ ثُمَّ شَرَطَهُ بِشَفْرَةٍ فَدَخَلَ أَعْرَابِيٌّ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ أَحَدِ بَنِي جَذِيمَةَ فَلَمَّا رَآهُ يَحْتَجِمُ وَلَا عَهْدَ لَهُ بِالْحِجَامَةِ وَلَا يَعْرِفُهَا قَالَ مَا هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَامَ تَدَعُ هَذَا يَقْطَعُ جِلْدَكَ قَالَ هَذَا الْحَجْمُ قَالَ وَمَا الْحَجْمُ قَالَ هَذَا مِنْ خَيْرِ مَا تَدَاوَى بِهِ النَّاسُ

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی علیہ السلام نے حجام کو بلایا ہوا تھا، وہ اپنے ساتھ سینگ لے کر آ گیا، اس نے نبی علیہ السلام کے سینگ لگایا اور نشتر سے چیرا لگایا، اسی اثنا میں بنوفزارہ کا ایک دیہاتی بھی آ گیا، جس کا تعلق بنوجذیمہ کے ساتھ تھا، نبی علیہ السلام کو جب اس نے سینگی لگواتے ہوئے دیکھا تو چونکہ اسے سینگی کے متعلق کچھ معلوم نہیں تھا، اس لئے وہ کہنے لگا یا رسول اللہ! یہ کیا ہے؟ آپ نے اسے اپنی کھال کاٹنے کی اجازت کیوں دی ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا اسے "حجم" کہتے ہیں، اس نے پوچھا کہ "حجم" کیا چیز ہوتی ہے؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا علاج کا سب سے بہترین طریقہ، جس سے لوگ علاج کرتے ہیں۔

سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ ← حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ← عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20356

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20468

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ وَهَوْذَةُ حَدَّثَنَا عَوْفٌ حَدَّثَنَا شَيْخٌ مِنْ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ فِي مَجْلِسِ قَسَامَةٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى سَمُرَةَ وَهُوَ يَحْتَجِمُ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ خَيْرِ دَوَائِكُمْ الْحِجَامَةَ

بکر بن وائل کے ایک شیخ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے یہاں گیا تو وہ سینگی لگوا رہے تھے۔ انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے علاج کا سب سے بہترین طریقہ سینگی لگوانا ہے۔

إِنَّ مِنْ خَيْرِ دَوَائِكُمْ الْحِجَامَةَ ← رَسُولِ اللَّهِ ← دَخَلْتُ عَلَى سَمُرَةَ وَهُوَ يَحْتَجِمُ فَقَالَ ← شيخ من بكر بن وائل في مجلس قسامة ← عَوْفٌ، ← عَوْفٌ وَهَوْذَةُ ← إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20468

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20565

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ وَعَفَّانُ قَالَا حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بْنُ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيُّ قَالَ سَأَلْتُ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ عَنْ الشَّرَابِ فَقَالَ كُنَّا بِالْمَدِينَةِ وَكَانَتْ كَثِيرَةَ التَّمْرِ فَحَرَّمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَضِيخَ وَأَتَاهُ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ أُمٍّ لَهُ عَجُوزٍ كَبِيرَةٍ أَنَسْقِيهَا النَّبِيذَ فَإِنَّهَا لَا تَأْكُلُ الطَّعَامَ فَنَهَاهُ مَعْقِلٌ

ابو عبداللہ جسری کہتے ہیں میں نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مشروبات کے حوالے سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ مدینہ منوہ میں رہتے تھے جہاں کھجوریں کثرت سے ہوتی تھیں وہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر فضیح نامی شراب کو حرام قرار دے دیا تھا پھر ایک آدمی نے آکر حضرت معقل بن سیار سے اپنی بوڑھی والدہ کے متعلق پوچھا کہ کیا انہیں نبیذ پلائی جاسکتی ہے کیونکہ وہ کھانے کی کوئی چیز نہیں کھاسکتی تو حضرت معقل نے اس سے منع فرمایا۔

أَبُو عَبْدِ اللهِ الْجَسْرِيُّ ← الْمُثَنَّى بْنُ عَوْفَ ← عَبْدُ الصَّمَدِ، وَعَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20565

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23459

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ وَالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ إِبْقَاءً عَلَى أَصْحَابِهِ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوانے اور صوم وصال سے منع فرمایا ہے لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا تاکہ صحابہ کے لئے اس کی اجازت باقی رہے۔

الْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ وَالْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ إِبْقَاءً عَلَى أَصْحَابِهِ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا ← إنَّمَا نَهَى النَّبِيُّ ← بعض أَصْحَاب مُحَمَّد ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23459

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23472

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ وَالْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ إِبْقَاءً عَلَى أَصْحَابِهِ لَمْ يُحَرِّمْهُمَا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّكَ تُوَاصِلُ قَالَ إِنِّي لَسْتُ كَأَحَدِكُمْ إِنِّي أَظَلُّ يُطْعِمُنِي رَبِّي وَيَسْقِينِي

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوانے اور صوم وصال سے منع فرمایا ہے لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا تاکہ صحابہ کے لئے اس کی اجازت باقی رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ خود تو صوم وصال فرماتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔

الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ وَالْوِصَالِ فِي الصِّيَامِ إِبْقَاءً عَلَى أَصْحَابِهِ لَمْ يُحَرِّمْهُمَا ← إنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللهِ ← بعض أَصْحَاب مُحَمَّد ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ ← سُفْيَانَ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23472

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23479

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا يَحْيَى عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَخْبَرَهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ قَالَ وَالْعَرِيَّةُ النَّخْلَةُ وَالنَّخْلَتَانِ يَشْتَرِيهِمَا الرَّجُلُ بِخَرْصِهِمَا مِنْ التَّمْرِ فَيَضْمَنُهُمَا فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درخت پر لگے ہوئے پھل کو کٹے ہوئے پھل کے بدلے بیچنے سے منع فرمایا البتہ " عرایا " میں رخصت دی ہے اور''عرایا " کا مطلب یہ ہے کہ ایک آدمی کسی باغ میں ایک دو درخت خرید لے اور اس کے بدلے میں اندازے سے کٹی ہوئی کھجور دے دے اور وہ درخت اپنے درختوں میں شامل کرلے صرف اتنی مقدار میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے۔

وَالْعَرِيَّةُ النَّخْلَةُ وَالنَّخْلَتَانِ يَشْتَرِيهِمَا الرَّجُلُ بِخَرْصِهِمَا مِنْ التَّمْرِ فَيَضْمَنُهُمَا فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ ← بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرِيَّةِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَى ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23479

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23567

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ إِنَّ صُهَيْبًا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَمْرٌ وَخُبْزٌ قَالَ ادْنُ فَكُلْ فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنْ التَّمْرِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بِعَيْنِكَ رَمَدًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا آكُلُ مِنْ النَّاحِيَةِ الْأُخْرَى قَالَ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عبدالحمید بن صفی رحمتہ اللہ علیہ کے دادا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھجوریں اور روٹی رکھی ہوئی تھی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صہیب سے فرمایا کہ قریب آجاؤ اور کھاؤ چنانچہ وہ کھجوریں کھانے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں تو آشوب چشم ہے ؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم میں دوسری جانب سے کھا رہا ہوں اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرانے لگے۔

لَهُ النَّبِيُّ إِنَّ بِعَيْنِكَ رَمَدًا ← ادْنُ فَكُلْ فَأَخَذَ يَأْكُلُ مِنْ التَّمْرِ ← إِنَّ صُهَيْبًا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ وَبَيْنَ يَدَيْهِ تَمْرٌ وَخُبْزٌ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ صَيْفِيِّ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23567

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23706

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَ حَوْضِي كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَمُضَرَ آنِيَتُهُ أَكْثَرُ أَوْ قَالَ مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ مَاؤُهُ أَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَبْرَدُ مِنْ الثَّلْجِ وَأَطْيَبُ مِنْ الْمِسْكِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کی مسافت اتنی ہے جتنی ایلہ اور مضر کے درمیان ہے اس کے برتن آسمانوں کے ستاروں سے بھی زیادہ ہوں گے اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں دودھ سے زیادہ سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ مہک والا ہوگا جو شخص ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہ ہوگا۔

حُذَيْفَةَ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23706

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23736

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ قَالَ مَا بَيْنَ طَرَفَيْ حَوْضِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَمُضَرَ آنِيَتُهُ أَكْثَرُ أَوْ مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ مَاؤُهُ أَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَبْرَدُ مِنْ الثَّلْجِ وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنْ الْمِسْكِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کی مسافت اتنی ہے جتنی ایلہ اور مضر کے درمیان ہے اس کے برتن آسمانوں کے ستاروں سے بھی زیادہ ہوں گے اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں دودھ سے زیادہ سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ مہک والا ہوگا جو شخص ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہ ہوگا۔

حُذَيْفَةَ أَنَّهُ ← زِرٍّ ← عَاصِمٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23736

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23844

حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ عَاصِمًا عَنْ زِرٍّ عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ إِنَّ حَوْضَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَرَابُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ وَأَبْرَدُ مِنْ الثَّلْجِ وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنْ الْمِسْكِ وَإِنَّ آنِيَتَهُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے حوض کے برتن آسمانوں کے ستاروں سے بھی زیادہ ہوں گے اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں دودھ سے زیادہ سفید برف سے زیادہ ٹھنڈا اور مشک سے زیادہ مہک والا ہوگا۔

حُذَيْفَةَ ← زِرٍّ ← عاصما ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23844

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24040

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ فَقَرَأَهَا حَتَّى بَلَغَ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنْ النَّعِيمِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ وَإِنَّمَا هُمَا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ وَسُيُوفُنَا عَلَى رِقَابِنَا وَالْعَدُوُّ حَاضِرٌ فَعَنْ أَيِّ نَعِيمٍ نُسْأَلُ قَالَ إِنَّ ذَلِكَ سَيَكُونُ

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورت تکاثر نازل ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پڑھ کر سنایا تو جب " ثم لتسألن یومئذ عن النعیم" پر پہنچے تو لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم سے کن نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا؟ ہمارے پاس تو صرف پانی اور کھجوریں ہیں ہماری تلواریں ہماری گردنوں پر ہیں اور دشمن سامنے موجود ہے تو کون سی نعمتوں کے متعلق ہم سے پوچھا جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ ہو کر رہے گا۔

النعيم ← لَمَّا نَزَلَتْ أَلْهَاكُمْ التَّكَاثُرُ فَقَرَأَهَا حَتَّى بَلَغَ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ ← مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ← صَفْوَانُ بْنُ سُلَيْمٍ، ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24040

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 24429

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أُمِّهِ وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتْ الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى أَنْ يُنْتَبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا وَقَالَ انْتَبِذْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهَا وَحْدَهُ

معبد بن کعب اپنی والدہ سے " جنہوں نے دو قبلوں کی طرف رخ کر کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رکھی تھی " نقل کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور اور کشمش ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے ہوئے سنا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بنایا کرو ۔

انْتَبِذْ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهَا وَحْدَهُ ← رَسُولَ اللَّهِ يَنْهَى أَنْ يُنْتَبَذَ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا ← أُمِّهِ وَكَانَتْ قَدْ صَلَّتْ الْقِبْلَتَيْنِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ← مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 24429

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2935

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: أَتَتِ الْحُمَّى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ: "مَنْ أَنْتِ؟ " فَقَالَتْ: أَنَا أُمُّ مِلْدَمٍ؟ قَالَ: "انْهَدِي 1 إِلَى قُبَاءَ فَأْتِيهِمْ" قَالَ: فَأَتَتْهُمْ فَحُمُّوا أَوْ لَقُوا مِنْهَا شِدَّةً فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَرَى مَا لَقِينَا مِنَ الْحُمَّى قَالَ: "إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللَّهَ فَكَشَفَهَا عَنْكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ كَانَتْ طَهُورًا" قَالُوا: بَلْ تَكُونُ طهورا2. [2:1]

حضرت جابر رضی اللہ عنہہ بیان کرتے ہیں: بخار نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے جوا ب دیا: میں اُم ّ ملدم ہوں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم قباء کی طرف جاؤ اور وہاں چلے جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: وہ وہاں چلا گیا ان لوگوں کو بخار رہنے لگ پڑا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان لوگوں کو اس کی وجہ سے شدت کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہﷺ ! کیا آپ ﷺ نے یہ بات ملاحظہ کی ہے کہ ہمیں کتنا بخار رہنے لگا ہے؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تم لو گ چاہو، تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کردیتا ہوں و ہ اسے تم سے دور کر دے گا اور گر تم چاہو، تو یہ تمہارے لیے طہارت کے حصول کا ذریعہ بن جائے گا، تو ان لو گوں نے عرض کی: اسے طہارت کے حصول کا ذریعہ رہنے دیں۔

فَأَتَتْهُمْ فَحُمُّوا أَوْ لَقُوا مِنْهَا شِدَّةً فَقَالُوا: ← "انْهَدِي إِلَى قُبَاءَ فَأْتِيهِمْ" ← أُمُّ مِلْدَمٍ؟ ← أَتَتِ الْحُمَّى النَّبِيَّ فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ فَقَالَ: "مَنْ أَنْتِ؟ فَقَالَتْ: ← جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← جَرِيرٌ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2935

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ وَثَوَابِ الْأَمْرَاضِ وَالْأَعْرَاضِ · حديث 2938

أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ قَالَ: حَدَّثَنِي جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ السَّائِبِ أَوْ أُمِّ الْمُسَيَّبِ وَهِيَ تُرَفْرِفُ فَقَالَ: "مَا لَكِ يَا أُمَّ السَّائِبِ أَوْ يَا أُمَّ الْمُسَيَّبِ تَرَفْرِفِينَ1؟ " قَالَتِ: الْحُمَّى لَا بَارِكَ اللَّهُ فِيهَا، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا تَسُبِّي 2 الْحُمَّى فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَطَايَا ابْنِ آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ" 3. [2:1]

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: اُمّ سائب (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) اُمّ مسیّب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی وہ کپکپا رہی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا: اے اُمّ سائب (راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں) اے اُمّ مسیّب تمہیں کیا ہوا ہے تم کیوں کپکپا رہی ہو؟ اس نے عرض کی : بخار ہے اللہ تعالیٰ اس میں برکت نہ رکھے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بخار کو برانا کہو کیوں کہ یہ انسانوں کے گناہوں کو یوں ختم کر دیتا ہے ، جس طرح بھٹی لوہے کے میل کو ختم کر دیتی ہے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← أَبُو الزُّبَيْرِ ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← الْقَوَارِيرِيُّ ← أَبُو يَعْلَى

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › Chapter on what comes in patience, and the raiment of illnesses and symptoms · Hadith 2938

صیح ابن حبان · کتاب الجنائز ‹ 2 - بَابُ الْمَرِيضِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ · حديث 2962

أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ النُّكْرِيِّ1 عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كُنْتُ أُعَوِّذُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدُعَاءِ كَانَ جِبْرِيلُ يُعَوِّذُهُ بِهِ2 إِذَا مَرِضَ: "أَذْهِبِ الْبَأْسَ رَبَّ النَّاسِ تَنْزِلُ الشِّفَاءَ لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا" فَلَمَّا كَانَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ جَعَلْتُ أَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ارْفَعِي يَدَكِ فإنها كانت تنفعني في المدة" 3. [48:5]

سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کو وہی دعا پڑھ کر دم کر دیا کرتی تھی جو نبی اکرم ﷺ کے بیمار ہونے پر حضرت جبرائیل علیہ السّلام آپ ﷺ کو پڑھ کر دم کیا کرتے تھے (وہ یہ ہے) " تو تکلیف کو لے جا! اے لوگوں کے پروردگار ، تو شفا نازل کر دے، تیرے علاوہ اور کوئی شفا عطا کرنے والا نہیں ہے، تو ایسی شفا عطا کر دے ، جو بیماری کو نہ رہنے دے۔" سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم ﷺ جب اس بیماری میں مبتلا ہوئے جس میں آپﷺ کا انتقال ہوا تھا، تو میں یہ دعا پڑھ کر آپﷺ کو دم کرنے لگی، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تم اپنے ہاتھ کو اٹھا لو، کیونکہ یہ ایک طویل عرصہ مجھے فائدہ دیتی رہی ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِي الْجَوْزَاءِ ← عمرو بن مالك النكري، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← بِشْرُ بْنُ الْوَلِيدِ الْكِنْدِيُّ، ← عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ

Sahih Ibn Hibban · The funeral book › 2 - The door of the sick and what is related to it · Hadith 2962

صیح ابن حبان · کِتَابُ الرَّقَائقِ ‹ بَابُ فَرْضِ الْوُضُوءِ · حديث 1054

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ1 إِلَى رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ نُصَادِفْهُ فِي مَنْزِلِهِ، وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ، فَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ، وَأَتَتْنَا بِقِنَاعٍ -وَالْقِنَاعُ الطَّبَقُ فِيهِ التَّمْرُ- فَأَكَلْنَا فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقال: "هل ھَلْ اَصَبْتُمْ شَیْئًا ؟ اَوْ اٰمُرُلَکُمْ بِشَیْءٍ ؟ قُلْنَا: نَعَمْ یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَبَیْنَمَا نَحْنُ مِنْ رَسُوْلِ رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جُلُوسٌ ، اِذَ رَفَعَ الرَّاعِی غَنَمَہُ اِلَی الْمُرَاحِ وَمَعَہٗ سَخْلَۃٌ تَیْعْرُ ، فَقَالَ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: مَا وَلَّدْتَ ؟ قَالَ بَھْمَۃٌ قَالَ: اذْبَحْ مَکَانَھَا شَاۃً ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَیَّ فَقَالَ: لَا تحسِبَنَّ وَلَمْ یَقُلْ لَا تحسَبَنَّ اَنَّا مِنْ اَجَلِکَ ذَبَحْنَاھَا ، اِنَّ لَنَا غَنَمًا مِائَۃً لَا تَزِیْدُ ، فَمَا وَلَدَتْ بَھْمَۃً ذَبَحْنَا مَکَانَھَا شَاۃً قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، اِنَّ لِیَ امْرَاۃً فِیْ لِسَانِھَا شَیْءٌ ، قَالَ: فَطَلِّقْھَا اِذًا قَالَ :قُلْتُ :یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ لِیْ مِنْھَا وَلَدًا ، وَلَھَا صُحْبَۃً قَالَ: عِظْھَا، فَاِنْ یَکُ فِیْھَا خَیْرٌ ، فَسَتَقْبَلُ ، وَلَا تَضْرِبْ ظَعِیْنَتَکَ ضَرْبَکَ اَمَتَکَ قَالَ :قُلْتُ: یَا رَسُوْلُ اللہِ صَلّٰی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَخْبِرْنِیْ َعَنِ الْوُضُوْءِ ، قَالَ اَسْبِغِ الْوُضُوْءَ ، وَخَلِّلْ بَیقنَ اَصَابِعِکَ ، وَبَالِغْ فِی الْاِسْتِنْشَاقِ اِلَّا اَنْ تَکُونَ صَائِمًا ۔3:65

عاصم بن لقیط بن سمرہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں بنو مثفق کے وفد میں شامل ہو کےنبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے لیکن آپ ہمیں اپنے گھر میں نہیں ملے۔ ہم سیدہ عائشہ ؓ کے ہاں گئے تھے۔ انہوں نے ہمارے لئے خزیرہ تیار کرنے کا حکم دیا تھا ۔ وہ تیار ہو گیا وہ ہمارے پاس ایک تھال میں کھجوریں لے کر آئی۔ ہم انہیں کھا رہے تھے۔ اسی دوران نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے۔ آپ نے دریافت کیا : کیا تم نے کوئی چیز کھائی ہے یا میں تمہارے لئے کسی چیز کا حکم دوں۔ ہم نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ، ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران چرواہا نبی اکرم ﷺ کی بکریاں لے کر ان کے باڑے کی طرف جا رہا تھا ۔ اس کے ساتھ ایک بکری تھی جو آواز نکال رہی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا اس نے بچہ کو جنم دیا ہے۔ اس نے جواب دیا ؛ جی ہاں ، بچہ پیدا ہوا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس بچہ کی جگہ ایک بکری کو ذبح کر دوپھر نبی اکرم ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا: تم لوگ یہ نہ سمجھنا ہم تمہاری وجہ سے اسے ذبح کر رہے ہیں ۔ ہمارے پاس ایک سو بکریان ہیں ۔ اس سے زیادہ نہیں ہوتی جب بھی بچہ پیدا ہوتا ہےتوب ہم اس بچہ کی جگہ ایک بکری ذبح کر لیتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میری ایک بیوی ہے جس کی زبان میں کچھ تیزی ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے طلاق دے دو۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ! میرا اس سے بچہ بھی ہے اور بہت پرانا ساتھ ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اسے تصیحت کرو اگر اس میں بھلائی ہو گی ، تو وہ اسے قبول کر لے گی، تاہم تم اپنی بیوی کو اس طرح نہ مارو جس طرح کنیز کو مارا جاتا ہے۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے وضو کے لئے بتائیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم اچھی طرح وضو کرو انگلیوں کے درمیاں خلال کرو۔ ناک میں اچھی طرح پانی ڈالو البتہ اگر تم روزے کی حالت میں ہو ( ہو ، تو اس کا حکم مختلف ہے) ہے.

أَبِيهِ ← عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ ← إِسْمَاعِيلَ بْنِ كَثِيرٍ، ← يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، ← سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى،

Sahih Ibn Hibban · The Cheat Book › Chapter on the obligatory ablution · Hadith 1054

صیح ابن حبان · کتا ب الحج ‹ باب فضل المدينة · حديث 3724

أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ, عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا، فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ وَيَا بِلَالُ كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَتْ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تعالى عنه إذا أخذته الحمى يقول: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ ... وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَكَانَ بِلَالُ رَحِمَهُ اللَّهُ إذا أقلع عنه يرفع عقيرته1 ويقول: اَلَا لَیْتَ شِعْرِی ھَلْ اَبِیتَنَّ لَیْلَۃً بِوَادٍ وَّحَوْلِی اِذْ خِرٌ وَجَلِیلٌ وَھَلْ اَرِدَنْ یَّوْمًا مِیَاہَ مَجَنَّۃٍ وَھَلْ یَبْدُوَنْ لِی شَامَۃٌ وَطَفِیلٌ قَالَتْ عَائِشَۃُ : فَجِئْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَاَخْبَرْتُہُ ، فَقَالَ : اللّٰھُمَّ حَبِّبُ اِلَیْنَا الْمَدِیْنَۃَ کَجُبِّنَا مَکَّۃَ اَوْ اَشَدَّ ، وَصَحِّحْھَا لَنَا ، وَبَارِکْ لَنَا فِیْ صَاعِھَا وَمُدِّھَا ، وَاَنْقُلْ حُمَّاھَا وَاجْعَلْھَا بِالْجُحْفَۃِ ،قَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ : الْعِلَّۃُ فِیْ دُعَاء، النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بْنَقْلِ الْحُمَّی اِلَی الْجُحْفَۃِ ، اَنَّ الْجُحْفَۃَ حِینَئِذٍ کَانَتْ دَارَ الْبَھُودِ ، وَلَمْ یَکُنْ بِھَا مُسْلِمٌ ، فَمِنْ اَجْلِہٖ ، قَالَ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، وَانْقُلْ حُمَّاھَا اِلَی الْجُحْفَۃِ

سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے، تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہہ کو بخار ہو گیا۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں ان کے پاس آئی۔ میں نے پو چھا ابا جان آپ کا کیا حال ہے؟ اے بلال آپ کا کیا حال ہے ؟ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہہ کو بخار ہوا، تو وہ یہ شعر پڑھتے تھے۔ " ہر شخص اپنے گھر والوں کے پاس صبح کرتا ہے، حالانکہ موت اس کے جوتے کے تسمے سے بھی زیادہ قریب ہو تی ہے"۔ جب حضرت بلال رضی اللہ عنہہ، اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے ، ان کی طبیعت کچھ بہتر ہوتی تھی ، تو وہ بلند آواز میں یہ پڑھتے تھے۔ " ہائے افسوس کیا میں اس وادی میں کبھی رات بسر کر سکو ں گا کہ میرے اردگرد اذخر اور جلیل (مکہ کی مخصوص گھاس ) ہو گی کیا میں کبھی کسی دن مجنہ کے پانی تک پہنچ پاو ں گا کیا شامہ اور طفیل (نامی پہاڑ) میرے سامنے آئیں گے"۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہہ بیان کرتی ہیں: میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، توآپ نے دعا کی: " اے اللہ ! تو مدینہ کو بھی ہمارے نزدیک اسی طرح محبوب کردے جس طرح ہمیں مکہ سے محبت ہے بلکہ (مدینہ کو ) زیادہ محبوب کر دے اور اسے ہمارے لئے صحت افزاء بنا دے اور ہمارے لئے اس کے صاع اور اس کے مد میں برکت دیدے اور یہاں کے بخار کو یہاں سے منتقل کر دے اور اسے حجفہ منتقل کر دے"۔ (امام ابن حبان رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:) : نبی اکرم ﷺ کے، بخار کے حجفہ کی طرف منتقل ہونے، کی دعا کرنے کی علت یہ ہے: ان دنوں حجفہ یہودیوں کی بستی تھی۔ اس لئے نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی " کہ اس کے بخار کو حجفہ کی طرف منتقل کر دے"۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← مَالِكٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ← عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ،

Sahih Ibn Hibban · Hajj book › The door of the merit of the city · Hadith 3724

chevron_left Previous
1…343536…647
Next chevron_right