Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطب والصحة

Medicine & Health

12931 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26850

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ قَالَتْ فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرَضَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ قَالَتْ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے جس نبی کی روح قبض ہونے کا وقت آتا تھا، ان کی روح قبض ہونے کے بعد انہیں ان کا ثواب دکھایا جاتا تھا پھر واپس لوٹا کر انہیں اس بات کا اختیار دیا جاتا تھا کہ انہیں اس ثواب کی طرف لوٹا کر اس سے ملا دیا جائے ( یا دنیا میں بھیج دیا جائے) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض الوفات میں دیکھا کہ آپ کی گردن ڈھلک گئی ہے، میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا " ان لوگوں کے ساتھ جن پر اللہ نے انعام فرمایا مثلا انبیاء کرام علیہم السلام اور صدیقین ، شہداء اور صالحین اور ان کی رفاقت کیا خوب ہے، میں سمجھ گئی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت اختیار دیا گیا ہے۔ "

فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ ← مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ← فَلَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ الْمَرَضَ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ فَسَمِعْتُهُ ← مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلَّا خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← أَبِيهِ ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26850

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26932

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَرْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْعَيْنِ امْسَحْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نظر بد سے یوں دم کرتی تھی " اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی " ۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26932

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26982

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ حَفْصَةَ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهَا الشَّفَّاءُ كَانَتْ تَرْقِي مِنْ النَّمْلَةِ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِّمِيهَا حَفْصَةَ

حضرت حفصہ سے مروی ہے کہ قریش کی شفاء نامی ایک خاتون موجود تھیں جو پہلو کی پھنسیوں کا جھاڑ پھونک سے علاج کرتی تھیں نبی علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ یہ طریقہ حفصہ کو بھی سکھا دو۔

لَهَا النَّبِيُّ عَلِّمِيهَا حَفْصَةَ ← حَفْصَةَ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهَا: الشِّفَاءُ، كَانَتْ تَرْقِي مِنَ النَّمْلَةِ، ← أبي بكر بن سليمان بن أبي حثمة ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26982

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27038

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ قَالَ حَدَّثَتْنِي رَيْطَةُ عَنْ كَبْشَةَ ابْنَةِ أَبِي مَرْيَمَ قَالَتْ قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ أَخْبِرِينِي مَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ قَالَتْ نَهَانَا أَنْ نَعْجُمَ النَّوَى طَبْخًا وَأَنْ نَخْلِطَ الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ

کبشہ بنت ابی مریم کہتی ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پوچھا کہ یہ بتائیے نبی علیہ السلام نے اپنے اہل خانہ کو کس چیز سے منع کیا تھا انہوں نے فرمایا کہ نبی علیہ السلام نے ہمیں کھجور کو اتنا پکانے سے منع فرمایا تھا کہ اس کی گٹھلی بھی پگھل جائے نیز اس بات سے کہ ہم کشمس اور کھجور ملاکرنبیذ بتائیں۔

نَهَانَا أَنْ نَعْجُمَ النَّوَى طَبْخًا وَأَنْ نَخْلِطَ الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ ← قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ أَخْبِرِينِي مَا نَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ أَهْلَهُ ← كَبْشَةَ ابْنَةِ أَبِي مَرْيَمَ ← حَدَّثَتْنِي رَيْطَةُ ← ثَابِتُ بْنُ عُمَارَةَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27038

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22591

حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ عَنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مِنْ تَمَامِ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ أَنْ يَضَعَ أَحَدُكُمْ يَدَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ أَوْ يَدِهِ فَيَسْأَلُهُ كَيْفَ هُوَ وَتَمَامُ تَحِيَّاتِكُمْ بَيْنَكُمْ الْمُصَافَحَةُ

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مریض کی مکمل بیمار پرسی یہ ہے کہ تم اس کی پیشانی یا ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر پوچھو کہ وہ کیسا ہے ؟ اور تمہاری باہمی ملاقات کے آداب کا مکمل ہونا " مصافحہ " سے ہوتا ہے۔

النَّبِيِّ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← الْقَاسِمِ، ← عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ ← عُبَيْدُ اللهِ بْنُ زَحْرٍ، ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ← خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22591

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22630

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ اللَّيْثِيُّ عَنْ أَبِي الْحَصِينِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحُمَّى كِيرٌ مِنْ جَهَنَّمَ فَمَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِنْهَا كَانَ حَظَّهُ مِنْ جَهَنَّمَ

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار جہنم کی بھٹی کا اثر ہوتا ہے اگر مسلمان کو بخار ہوتا ہے تو وہ جہنم سے اس کا حصہ ہوتا ہے (جو دنیا میں اسے دے دیا جاتا ہے اور آخرت میں اسے جہنم سے پچا لیا جاتا ہے۔

الْحُمَّى كِيرٌ مِنْ جَهَنَّمَ فَمَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِنْهَا كَانَ حَظَّهُ مِنْ جَهَنَّمَ ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ، ← أَبِي الْحُصَيْنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ أَبُو غَسَّانَ اللَّيْثِيُّ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22630

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22725

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ المُهَاجِرِ عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَالِمٍ اللَّخْمِيِّ قَالَ بَعَثَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَبِي سَلَّامٍ الْحَبَشِيِّ فَحُمِلَ إِلَيْهِ عَلَى الْبَرِيدِ يَسْأَلُهُ عَنْ الْحَوْضِ فَقُدِمَ بِهِ عَلَيْهِ فَسَأَلَهُ فَقَالَ سَمِعْتُ ثَوْبَانَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ حَوْضِي مِنْ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ الْبَلْقَاءِ مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ وَأَكَاوِيبُهُ عَدَدُ النُّجُومِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا أَوَّلُ النَّاسِ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ هُمْ الشُّعْثُ رُءُوسًا الدُّنْسُ ثِيَابًا الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ وَلَا تُفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السُّدَدِ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ لَقَدْ نَكَحْتُ الْمُتَنَعِّمَاتِ وَفُتِحَتْ لِي السُّدَدُ إِلَّا أَنْ يَرْحَمَنِي اللَّهُ وَاللَّهِ لَا جَرَمَ أَنْ لَا أَدْهُنَ رَأْسِي حَتَّى يَشْعَثَ وَلَا أَغْسِلَ ثَوْبِي الَّذِي يَلِي جَسَدِي حَتَّى يَتَّسِخَ

حضرت عمربن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے ڈاکیے کے ذریعے ایک مرتبہ ابو سلام حبشی رحمۃ اللہ علیہ کی طرف پیغام بھیجا وہ ابو سلام سے حوض کوثر کے متعلق پوچھنا چاہتے تھے چنانچہ وہ آگئے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میرے حوض کی لمبائی چوڑائی اتنی ہے جتنی عدن اور عمان بلقاء کے درمیان ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا اس کے کٹورے آسمان کے ستاروں کے برابر ہوں گے جو اس کا ایک گھونٹ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا سب سے پہلے اس حوض پر فقراء مہاجرین آئیں گے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ ! (صلی اللہ علیہ وسلم) وہ کون لوگ ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے سروں کے بال بکھرے ہوئے اور کپڑے میلے ہوں گے جو نازونعم میں پلی ہوئی عورتوں سے نکاح نہیں کر سکے ہوں گے اور نہ ہی ان کے لئے بند دروازے کھولے جاتے ہوں گے۔ حضرت عمربن عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے یہ سن کر فرمایا کہ میں نے تو نازونعم میں پلی ہوئی عورتوں سے نکاح کیا ہے اور میرے لئے تو بند دروازے بھی کھولے جاتے ہیں اب اللہ ہی مجھ پر رحم فرمائے واللہ اب میں اس وقت تک اپنے سر پر تیل نہیں لگاؤں گا جب تک وہ پراگندہ نہ ہو جائے اور اپنے جسم پر پہنے ہوئے کپڑے اس وقت تک نہیں دھوؤں گا جب تک وہ میلے نہ ہوجائیں ۔ ی

الْعَبَّاسُ بْنُ سَالِمٍ اللَّخْمِيُّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ← ابْنُ عَيَّاشٍ ← حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22725

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27619

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ عَنْ عَمَّتِهِ فَاطِمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعُودُهُ فِي نِسَاءٍ فَإِذَا سِقَاءٌ مُعَلَّقٌ نَحْوَهُ يَقْطُرُ مَاؤُهُ عَلَيْهِ مِنْ شِدَّةِ مَا يَجِدُ مِنْ حَرِّ الْحُمَّى قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ دَعَوْتَ اللَّهَ فَشَفَاكَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءَ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ

حضرت فاطمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم کچھ خواتین نبی علیہ السلام کی عیادت کے لئے حاضر ہوئیں تو دیکھا کہ ایک مشکیزہ نبی علیہ السلام کے قریب لٹکا ہوا ہے اور اس کا پانی نبی علیہ السلام پر ٹپک رہا ہے کیونہ نبی علیہ السلام کو بخار کی حرارت شدت سے محسوس ہو رہی تھی، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر اپ اللہ سے دعاء کرتے تو وہ آپ کو شفاء دیدیتا؟ نبی علیہ السلام نے فرمایا تمام لوگوں میں سب سے زیادہ سخت مصیبتیں انبیاء کرام پر آتی رہی ہیں پھر دردہ بدردہ ان کے قریب لوگوں پر آتی ہیں۔

عمته فاطمة أنها ← أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ← حُصَيْنٍ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27619

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22789

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا مَرْزُوقٌ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ حَدَّثَنَا ثَوْبَانُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ الْحُمَّى وَإِنَّ الْحُمَّى قِطْعَةٌ مِنْ النَّارِ فَلْيُطْفِئْهَا عَنْهُ بِالْمَاءِ الْبَارِدِ وَلْيَسْتَقْبِلْ نَهَرًا جَارِيًا يَسْتَقْبِلُ جِرْيَةَ الْمَاءِ فَيَقُولُ بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ وَصَدِّقْ رَسُولَكَ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَيَغْتَمِسُ فِيهِ ثَلَاثَ غَمَسَاتٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي ثَلَاثٍ فَخَمْسٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي خَمْسٍ فَسَبْعٍ فَإِنْ لَمْ يَبْرَأْ فِي سَبْعٍ فَتِسْعٍ فَإِنَّهُ لَا يَكَادُ يُجَاوِزُ التِّسْعَ بِإِذْنِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی کو بخار ہو جائے " جو کہ آگ کا ایک حصہ ہے " تو اسے چاہئے کہ اسے ٹھنڈے پانی سے بجھائے اور کسی بہتی ہوئے نہر کے سامنے پانی کے بہاؤ کی سمت رخ کر کے کھڑا ہو جائے اور یوں کہے "بِسْمِ اللَّهِ اللَّهُمَّ اشْفِ عَبْدَكَ وَصَدِّقْ رَسُولَكَ" اے اللہ ! اپنے بندے کو شفاء عطاء فرما اور اپنے رسول کو سچا کر دکھا " اور یہ عمل طلوع آفتاب سے پہلے اور نماز فجر کے بعد ہونا چاہئے اس کے بعد اس بہتی نہر میں تین مرتبہ غوطہ زنی کرے اور یہ عمل تین دن تک کرے اگر تین دن میں ٹھیک نہ ہوا تو پانچ دن تک ورنہ سات ، ورنہ نو دن تک یہ عمل کرے ، وہ نو دن سے آگے نہ بڑھنے پائے گا ان شاء اللہ (تندرست ہو جائے گا)

ثَوْبَانَ، ← سَعِيدٌ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ ← مرزوق أبو عبد الله الشامي ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22789

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22790

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ ثَوْبَانَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي لَبِعُقْرِ حَوْضِي أَذُودُ عَنْهُ لِأَهْلِ الْيَمَنِ أَضْرِبُ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَلَيْهِمْ فَسُئِلَ عَنْ عَرْضِهِ فَقَالَ مِنْ مُقَامِي إِلَى عُمَانَ وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ فَقَالَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ يَنْشَعِبُ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ مِنْ الْجَنَّةِ أَحَدُهُمَا مِنْ ذَهَبٍ وَالْآخَرُ مِنْ وَرِقٍ

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میں اپنے حوض کے پچھلے حصے میں ہوں گا اور اہل یمن کے لئے لوگوں کو ہٹا رہا ہوں گا اور انہیں اپنی لاٹھی سے ہٹاؤں گا یہاں تک کہ وہ چھٹ جائیں گے کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اس کی وسعت کتنی ہوگی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس جگہ سے عمان تک فاصلے کے برابر پھر کسی نے اس کے پانی کے متعلق پوچھا تو فرمایا دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا جس میں دو پرنالے گرتے ہوں گے اور اس کے پانی میں اضافہ کرتے ہوں گے۔ ان میں سے ایک سونے کا ہوگا اور دوسراچاندی کا۔

ثَوْبَانَ، ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← هِشَامٍ ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22790

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19827

حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ حَدَّثَنَا الْأَجْلَحُ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ قَالَ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِهَا أَشْرِبَةً فَمَا أَشْرَبُ وَمَا أَدَعُ قَالَ وَمَا هِيَ قُلْتُ الْبِتْعُ وَالْمِزْرُ فَلَمْ يَدْرِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هُوَ فَقَالَ مَا الْبِتْعُ وَمَا الْمِزْرُ قَالَ أَمَّا الْبِتْعُ فَنَبِيذُ الذُّرَةِ يُطْبَخُ حَتَّى يَعُودَ بِتْعًا وَأَمَّا الْمِزْرُ فَنَبِيذُ الْعَسَلِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَشْرَبَنَّ مُسْكِرًا

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں میں ان میں سے کون سا مشروب پیوں اور کون ساچھوڑوں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مشروبات کے نام پوچھے میں نے بتایا " تبع اور مزر " لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ نہیں پائے کہ یہ کیسے مشروبات ہوتے ہیں اس لئے پوچھا کہ تبع اور مزر کسے کہتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ تبع تو جو کی اس نبیذ کو کہتے جسے خوب پکایا جاتا ہے اور مزر شہد کی نبیذ کو کہتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی نشہ آور چیز مت پینا۔

بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ إِلَى الْيَمَنِ، فَقُلْتُ: ← أَبِيهِ ← أَبِي بَکْرِ بْنِ أَبِي مُوسَی ← الأَجْلَحِ، ← مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19827

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22811

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنِّي لَبِعُقْرِ الْحَوْضِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ لِأَهْلِ الْيَمَنِ أَضْرِبُهُمْ بِعَصَايَ حَتَّى يَرْفَضَّ عَلَيْهِمْ قَالَ فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَرْضِهِ فَقَالَ مِنْ مُقَامِي هَذَا إِلَى عُمَانَ وَسُئِلَ عَنْ شَرَابِهِ فَقَالَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ يَصُبُّ فِيهِ مِيزَابَانِ يَمُدَّانِهِ مِنْ الْجَنَّةِ أَحَدُهُمَا ذَهَبٌ وَالْآخَرُ وَرِقٌ

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن میں اپنے حوض کے پچھلے حصے میں ہوں گا اور اہل یمن کے لئے لوگوں کو ہٹا رہا ہوں گا اور انہیں اپنی لاٹھی سے ہٹاؤں گا یہاں تک کہ وہ چھٹ جائیں گے کسی شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ اس کی وسعت کتنی ہوگی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس جگہ سے عمان تک فاصلے کے برابر پھر کسی نے اس کے پانی کے متعلق پوچھا تو فرمایا دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا جس میں دو پرنالے گرتے ہوں گے اور اس کے پانی میں اضافہ کرتے ہوں گے۔ ان میں سے ایک سونے کا ہوگا اور دوسرا چاندی کا۔

ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22811

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19881

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ عَن أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِيهِ قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِأَهْلِ الْيَمَنِ شَرَابَيْنِ أَوْ أَشْرِبَةً هَذَا الْبِتْعُ مِنْ الْعَسَلِ وَالْمِزْرُ مِنْ الذُّرَةِ وَالشَّعِيرِ فَمَا تَأْمُرُنِي فِيهِمَا قَالَ أَنْهَاكُمْ عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے یمن کی طرف بھیجا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں ایک تو تبع جو شہد سے بنتی ہے اور ایک مزر ہے اور وہ جو سے بنتی ہے آپ مجھے اس کے متعلق کیا حکم دیتے ہیں ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی نشہ آور چیز مت پینا۔

قُلْتُ لِلنَّبِيِّ ← أَبِيهِ ← أَبِي بُرْدَةَ، ← سَيَّارٌ أَبُو الْحَکَمِ ← قُرَّۃَ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19881

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19909

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِيهِ عَن أَبِي مُوسَى قَالَ بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ شَرَابًا يُصْنَعُ بِأَرْضِنَا يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ مِنْ الشَّعِيرِ وَشَرَابٌ يُقَالُ لَهُ الْبِتْعُ مِنْ الْعَسَلِ فَقَالَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے یمن کی طرف بھیجا) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں ، مثلاًجوکی نبیذ ہے جسے مزر کہا جاتا ہے اور شہد کی نبیذ ہے جسے " تبع " کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَی الْيَمَنِ فَقُلْتُ ← بَعَثَنِي النَّبِيُّ ← اَبِیْ مُوْسیٰ ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← شُعْبَةُ، ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19909

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19980

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ ثَنَا شُعْبَةُ عَن سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَن أَبِيهِ عَن جَدِّهِ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا مُوسَى وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ لَهُمَا يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا قَالَ أَبُو مُوسَى يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا بِأَرْضٍ يُصْنَعُ فِيهَا شَرَابٌ مِنْ الْعَسَلِ يُقَالُ لَهُ الْبِتْعُ وَشَرَابٌ مِنْ الشَّعِيرِ يُقَالُ لَهُ الْمِزْرُ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجتے ہوئے فرمایا خوشخبری دینا، نفرت مت پھیلانا، آسانی پیدا کرنا، مشکلات میں نہ ڈالنا، ایک دوسرے کی بات ماننا اور آپس میں اختلاف نہ کرنا، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! صلی اللہ علیہ وسلم وہاں کچھ مشروبات رائج ہیں ، مثلاً جو کی نبیذ ہے جسے مزر کہا جاتا ہے اور شہد کی نبیذ ہے جسے " تبع " کہا جاتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔

أَبُو مُوسَى، ← لَهُمَا يَسِّرَا وَلَا تُعَسِّرَا وَبَشِّرَا وَلَا تُنَفِّرَا وَتَطَاوَعَا ← بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ أَبَا مُوسَى وَمُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الْيَمَنِ ← جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19980

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22992

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ عَنِ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ خَلِيطِ الْبُسْرِ وَالتَّمْرِ وَعَنْ خَلِيطِ الزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ وَعَنْ خَلِيطِ الزَّهْوِ وَالرُّطَبِ لَهُ

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کشمش اور کجھور سرخ کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔

أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← أَبَانُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22992

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23005

حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنْتَبِذُوا الرُّطَبَ وَالزَّهْوَ وَالتَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَتِهِ

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کشمش اور کجھور سرخ کچی کھجور اور تر کھجور کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔

لَا تَنْتَبِذُوا الرُّطَبَ وَالزَّهْوَ وَالتَّمْرَ وَالزَّبِيبَ جَمِيعًا وَانْتَبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ عَلَى حِدَتِهِ ← أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← يَحْيَى، يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← رَوْحٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23005

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23023

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ هِشَامٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ سَمِعَ أَبَاهُ أَبَا قَتَادَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْتَبَذَ الرُّطَبُ وَالزَّهْوُ جَمِيعًا أَوْ التَّمْرُ وَالزَّبِيبُ جَمِيعًا وَقَالَ انْبِذُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى حِدَتِهِ

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (کھجور کی مختلف اقسام کو) ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر نبیذ بنانے سے منع کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ علیحدہ علیحدہ ان کی نبیذ بنائی جا سکتی ہے۔

أَبَاهُ أَبَا قَتَادَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← هِشَامٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23023

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 20042

وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ لِي حَوْضًا مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى صَنْعَاءَ عَرْضُهُ كَطُولِهِ فِيهِ مِيزَابَانِ يَنْثَعِبَانِ مِنْ الْجَنَّةِ مِنْ وَرِقٍ وَالْآخَرُ مِنْ ذَهَبٍ أَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ وَأَبْرَدُ مِنْ الثَّلْجِ وَأَبْيَضُ مِنْ اللَّبَنِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ فِيهِ أَبَارِيقُ عَدَدَ نُجُومِ السَّمَاءِ

اور میں نے نبی علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے کہ میرا ایک حوض ہوگا جس کی مسافت اتنی ہوگی جتنی ایلہ اور صنعاء کے درمیان ہے، اور اس کی لمبائی اور چوڑائی دونوں برابر ہوں گی، اس میں جنت سے دو پر نالے بہتے ہوں گے جن میں سے ایک چاندی کا اور دوسرا سونے کا ہوگا، اس کا پانی شہد سے زیادہ شیریں، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور دودھ سے زیادہ سفید ہوگا، جو شخص ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ جنت میں داخل ہونے تک پیاسا نہ ہوگا اور اس کے کٹورے آسمان کے ستاورں کے برابر ہوں گے۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 20042

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 23059

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ قَالَ كَانَ أُنَاسٌ يَبِيعُونَ الْفِضَّةَ مِنْ الْمَغَانِمِ إِلَى الْعَطَاءِ فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الذَّهَبِ بِالذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ بِالْفِضَّةِ وَالتَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَالْبُرِّ بِالْبُرِّ وَالشَّعِيرِ بِالشَّعِيرِ وَالْمِلْحِ بِالْمِلْحِ إِلَّا سَوَاءً بِسَوَاءٍ مِثْلًا بِمِثْلٍ فَمَنْ زَادَ وَاسْتَزَادَ فَقَدْ أَرْبَى

ابوالاشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مال غنیمت سے حاصل ہونے والی چاندی کو لوگ وظیفہ کی رقم حاصل ہونے پر موقوف کر کے بیچا کرتے تھے یہ دیکھ کر حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی سونے کے بدلے چاندی کی چاندی کے بدلے ، کجھور کی کجھورکے بدلے ، گندم کی گندم کے بدلے، جو کی جو کے بدلے ، اور نمک کے بدلے نمک کی بیع سے منع فرمایا ہے۔ الاّ یہ کہ وہ برابر برابر ہو جو شخص اضافہ کرے یا اضافہ کی درخواست کرے تو اس نے سودی معاملہ کیا۔

عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: «نَهَى رَسُولُ اللهِ ← كَانَ أُنَاسٌ يَبِيعُونَ الْفِضَّةَ مِنْ الْمَغَانِمِ إِلَى الْعَطَاءِ ← أَبِي الأَشْعَثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 23059

chevron_left Previous
1…333435…647
Next chevron_right