Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطب والصحة

Medicine & Health

12931 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19041

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ وَالْمُوَاصَلَةِ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا عَلَى أَصْحَابِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ قَالَ إِنْ أُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ فَرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوانے اور صوم وصال سے منع فرمایا ہے لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا تاکہ صحابہ کے لئے اس کی اجازت باقی رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ خود تو صوم وصال فرماتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔

الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ وَالْمُوَاصَلَةِ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا عَلَى أَصْحَابِهِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19041

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19079

حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَتَمَضْمَضَ فَمَجَّ فِيهِ أَطْيَبَ مِنْ الْمِسْكِ أَوْ قَالَ مِسْكٌ وَاسْتَنْثَرَ خَارِجًا مِنْ الدَّلْوِ

حضرت وائل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ڈول پیش کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کچھ پانی پیا اور ڈول میں کلی کردی ، پھر اس ڈول کو کنوئیں میں الٹا دیا یا ڈول میں سے پانی پی کر کنوئیں میں کلی کردی جس سے وہ کنواں مشک کی طرح مہکنے لگا، اور ڈول سے ہٹا کر ناک صاف کی ۔

أَبِيهِ ← عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ ← مِسْعَرٍ، ← أَبُو أَحْمَدَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19079

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22508

حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنِي صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ الْخَبَائِرِيِّ وَأَبِي الْيَمَانِ الْهَوْزَنِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ فَقَالَ يَزِيدُ بْنُ الْأَخْنَ السُّلَمِيُّ وَاللَّهِ مَا أُولَئِكَ فِي أُمَّتِكَ إِلَّا كَالذُّبَابِ الْأَصْهَبِ فِي الذِّبَّانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ قَدْ وَعَدَنِي سَبْعِينَ أَلْفًا مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا وَزَادَنِي ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ قَالَ فَمَا سِعَةُ حَوْضِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ كَمَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى عُمَانَ وَأَوْسَعَ وَأَوْسَعَ يُشِيرُ بِيَدِهِ قَالَ فِيهِ مَثْعَبَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ قَالَ فَمَا حَوْضُكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ قَالَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مَذَاقَةً مِنْ الْعَسَلِ وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنْ الْمِسْكِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا وَلَمْ يَسْوَدَّ وَجْهُهُ أَبَدًا

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میری امت کے ستر ہزار آدمیوں کو بلاحساب کتاب جنت میں داخل فرمائے گا، یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ یہ سن کر کہنے لگے بخدا! یہ تو آپ کی امت میں سے صرف اتنے ہی لوگ ہوں گے جیسے مکھیوں میں سرخ مکھی ہوتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے رب نے مجھ سے ستر ہزار کا وعدہ اس طرح کیا ہے کہ ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار ہوں گے اور اس پر تین گنا کا مزید اضافہ ہوگا، یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے پوچھا اے اللہ کے نبی ! آپ کے حوض کی وسعت کتنی ہوگی ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جتنی عدن اور عمان کے درمیان ہے اس سے بھی دوگنی جس میں سونے چاندی کے دو پرنالوں سے پانی گرتا ہوگا ، انہوں نے پوچھا اے اللہ کے نبی ! آپ کے حوض کا پانی کیسا ہوگا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ شیرین اور مشک سے زیادہ مہکتا ہوا جو شخص ایک مرتبہ اس کا پانی پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اور اس کے چہرے کا رنگ کبھی سیاہ نہ ہوگا۔

اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ الْخَبَائِرِيِّ وَأَبِي الْيَمَانِ الْهَوْزَنِيِّ ← صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو، ← عِصَامُ بْنُ خَالِدٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22508

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22518

حَدَّثَنَا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِي الْحَصِينِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْحُمَّى مِنْ كِيرِ جَهَنَّمَ فَمَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِنْهَا كَانَ حَظَّهُ مِنْ النَّارِ

حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بخار جہنم کی بھٹی کا اثر ہوتا ہے اگر مسلمان کو بخار ہوتا ہے تو وہ جہنم سے اس کا حصہ ہوتا ہے (جو دنیا میں اسے دے دیا جاتا ہے اور آخرت میں اسے جہنم سے پچالیا جاتا ہے)

الحمى من كير جهنم فما أصاب المؤمن منها كان حظه من النار ← النَّبِيِّ ← اَبِیْ اُمَامَۃَ، ← أَبِي صَالِحٍ الْأَشْعَرِيِّ، ← أَبِي الْحُصَيْنِ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، ← يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22518

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19333

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ حَدَّثَنِي شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي الْمُجَالِدِ قَالَ اخْتَلَفَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فِي السَّلَفِ فَبَعَثَانِي إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ كُنَّا نُسْلِفُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِي الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ أَوْ التَّمْرِ شَكَّ فِي التَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَمَا هُوَ عِنْدَهُمْ أَوْ مَا نَرَاهُ عِنْدَهُمْ ثُمَّ أَتَيْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبْزَى فَقَالَ مِثْلَ ذَلِكَ

عبداللہ بن ابی المجاہد کہتے ہیں کہ ادھاربیع کے مسئلے میں حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ اور ابوبردہ رضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا ان دونوں نے مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا میں نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرات شخین رضی اللہ عنہم کے دور میں گندم ، جو، کشمش یا جو چیزیں بھی لوگوں کے پاس ہوتی تھیں ، ان سے ادھار بیع کرلیا کرتے تھے ، پھر میں حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے بھی یہی بات فرمائی ۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، ← شُعْبَةُ، ← شُعْبَةُ وَحَجَّاجٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19333

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19615

حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَنْبَأَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ قَالَ أَرْسَلَنِي ابْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ فَقَالَا انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى فَقُلْ لَهُ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ شَدَّادٍ وَأَبَا بُرْدَةَ يُقْرِئَانِكَ السَّلَامَ وَيَقُولَانِ هَلْ كُنْتُمْ تُسَلِّفُونَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ قَالَ نَعَمْ كُنَّا نُصِيبُ غَنَائِمَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنُسَلِّفُهَا فِي الْبُرِّ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ فَقُلْتُ عِنْدَ مَنْ كَانَ لَهُ زَرْعٌ أَوْ عِنْدَ مَنْ لَيْسَ لَهُ زَرْعٌ فَقَالَ مَا كُنَّا نَسْأَلُهُمْ عَنْ ذَلِكَ قَالَ وَقَالَا لِي انْطَلِقْ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى فَاسْأَلْهُ قَالَ فَانْطَلَقَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى

عبداللہ بن ابی المجاہد کہتے ہیں کہ ادھاربیع کے مسئلے میں حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ اور ابوبردہرضی اللہ عنہ کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا ان دونوں نے مجھے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بھیج دیا کہ ابن شداد اور ابوبردہ آپ کوسلام کہتے ہیں اور پوچھ رہے ہیں کہ کیا آپ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور باسعادت میں گندم جو اور زیتون کی ادھاربیع کرتے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا ہاں ! ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں مال غنیمت حاصل کرکے گندم ، جو کشمش یا جو چیزیں بھی لوگوں کے پاس ہوتی تھیں ، ان سے ادھاربیع کرلیا کرتے تھے میں نے ان سے پوچھا جس کے پاس کھیت ہوتا تھا یا جس کے پاس کھیت نہیں ہوتا تھا ؟ انہوں نے فرمایا ہم یہ بات ان سے نہیں پوچھتے تھے پھر ان دونوں حضرات نے مجھے حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا میں نے ان سے یہ مسئلہ پوچھا تو انہوں نے بھی وہی جواب دیا جو حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ نے دیا تھا ۔

انْطَلِقْ إِلَى ابْنِ أَبِي أَوْفَى فَقُلْ لَهُ ← أَرْسَلَنِي ابْنُ شَدَّادٍ وَأَبُو بُرْدَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ، مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ← الشَّيْبَانِيِّ ← هُشَيْمٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19615

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12896

حَدَّثَنَا قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ قَرَأْتُ عَلَى أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ وَجَدَهُ فَأَقَرَّ بِهِ وَحَدَّثَنَا بِبَعْضِهِ فِي مَكَانٍ آخَرَ قَالَ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هِلَالٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَةَ أُمَّ سُلَيْمٍ وَهِيَ أُمُّ أَنَسٍ وَالْبَرَاءِ قَالَ فَوَلَدَتْ لَهُ ابْنًا قَالَ فَكَانَ يُحِبُّهُ حُبًّا شَدِيدًا قَالَ فَمَرِضَ الصَّبِيُّ مَرَضًا شَدِيدًا فَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَقُومُ صَلَاةَ الْغَدَاةِ يَتَوَضَّأُ وَيَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُصَلِّي مَعَهُ وَيَكُونُ مَعَهُ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ وَيَجِيءُ يَقِيلُ وَيَأْكُلُ فَإِذَا صَلَّى الظُّهْرَ تَهَيَّأَ وَذَهَبَ فَلَمْ يَجِئْ إِلَى صَلَاةِ الْعَتَمَةِ قَالَ فَرَاحَ عَشِيَّةً وَمَاتَ الصَّبِيُّ قَالَ وَجَاءَ أَبُو طَلْحَةَ قَالَ نَسَجَتْ عَلَيْهِ ثَوْبًا وَتَرَكَتْهُ قَالَ فَقَالَ لَهَا أَبُو طَلْحَةَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ كَيْفَ بَاتَ بُنَيَّ اللَّيْلَةَ قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا كَانَ ابْنُكَ مُنْذُ اشْتَكَى أَسْكَنَ مِنْهُ اللَّيْلَةَ قَالَ ثُمَّ جَاءَتْهُ بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ وَطَابَتْ نَفْسُهُ قَالَ فَقَامَ إِلَى فِرَاشِهِ فَوَضَعَ رَأْسَهُ قَالَتْ وَقُمْتُ أَنَا فَمَسِسْتُ شَيْئًا مِنْ طِيبٍ ثُمَّ جِئْتُ حَتَّى دَخَلْتُ مَعَهُ الْفِرَاشَ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَجَدَ رِيحَ الطِّيبِ كَانَ مِنْهُ مَا يَكُونُ مِنْ الرَّجُلِ إِلَى أَهْلِهِ قَالَ ثُمَّ أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ يَتَهَيَّأُ كَمَا كَانَ يَتَهَيَّأُ كُلَّ يَوْمٍ قَالَ فَقَالَتْ لَهُ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا اسْتَوْدَعَكَ وَدِيعَةً فَاسْتَمْتَعْتَ بِهَا ثُمَّ طَلَبَهَا فَأَخَذَهَا مِنْكَ تَجْزَعُ مِنْ ذَلِكَ قَالَ لَا قَالَتْ فَإِنَّ ابْنَكَ قَدْ مَاتَ قَالَ أَنَسٌ فَجَزِعَ عَلَيْهِ جَزَعًا شَدِيدًا وَحَدَّثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ مِنْ أَمْرِهَا فِي الطَّعَامِ وَالطِّيبِ وَمَا كَانَ مِنْهُ إِلَيْهَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبِتُّمَا عَرُوسَيْنِ وَهُوَ إِلَى جَنْبِكُمَا قَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا قَالَ فَحَمَلَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَالَ فَتَلِدُ غُلَامًا قَالَ فَحِينَ أَصْبَحْنَا قَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ احْمِلْهُ فِي خِرْقَةٍ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحْمِلْ مَعَكَ تَمْرَ عَجْوَةٍ قَالَ فَحَمَلْتُهُ فِي خِرْقَةٍ قَالَ وَلَمْ يُحَنَّكْ وَلَمْ يَذُقْ طَعَامًا وَلَا شَيْئًا قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلَدَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ قَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ مَا وَلَدَتْ قُلْتُ غُلَامًا قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ فَقَالَ هَاتِهِ إِلَيَّ فَدَفَعْتُهُ إِلَيْهِ فَحَنَّكَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ لَهُ مَعَكَ تَمْرُ عَجْوَةٍ قُلْتُ نَعَمْ فَأَخْرَجْتُ تَمَرَاتٍ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَمْرَةً وَأَلْقَاهَا فِي فِيهِ فَمَا زَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُوكُهَا حَتَّى اخْتَلَطَتْ بِرِيقِهِ ثُمَّ دَفَعَ الصَّبِيَّ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَجَدَ الصَّبِيُّ حَلَاوَةَ التَّمْرِ جَعَلَ يَمُصُّ بَعْضَ حَلَاوَةِ التَّمْرِ وَرِيقَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ أَوَّلُ مَنْ فَتَحَ أَمْعَاءَ ذَلِكَ الصَّبِيِّ عَلَى رِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرُ فَسُمِّيَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ فَخَرَجَ مِنْهُ رَجُلٌ كَثِيرٌ قَالَ وَاسْتُشْهِدَ عَبْدُ اللَّهِ بِفَارِسَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے " جو کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں " شادی کرلی، ان کے یہاں ایک بیٹا پیدا ہوا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو اس سے بڑی محبت تھی، ایک دن وہ بچہ انتہائی شدید بیمار ہوگیا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا معمول تھا کہ وہ فجر کی نماز پڑھنے کے لئے اٹھتے تو وضو کر کے بارگاہ نبوت میں حاضر ہوتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز ادا کرتے، نصف النہار کے قریب تک وہیں رہتے، پھر گھر آکر قیلولہ کرتے، کھانا کھاتے، اور ظہر کی نماز کے بعد تیار ہو کر چلے جاتے، پھر عشاء کے وقت ہی واپس آتے، ایک دن وہ دوپہر کو گئے، تو ان کے پیچھے ان کا بیٹا فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہ نے اسے کپڑا اوڑھا دیا، جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے تو انہوں نے بچے کے بارے پوچھا، انہوں نے بتایا کہ پہلے سے بہتر ہے، پھر ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا، انہوں نے کھانا کھایا، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بناؤ سنگھار کیا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اپنے بستر پر سر رکھ کر لیٹ گئے، وہ کہتی ہیں کہ میں کھڑی ہوگئی، اور خوشبو لگا کر آئی اور ان کے ساتھ بستر پر لیٹ گئی، جب انہیں خوشبو کی مہک پہنچی تو انہیں وہی خواہش پید اہوئی جو ہر مرد کو اپنی بیوی سے ہوتی ہے، صبح ہوئی تو وہ حسب معمول تیاری کرنے لگے، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ! اگر کوئی آدمی آپ کے پاس کوئی چیز امانت رکھوائے آپ اس سے فائدہ اٹھائیں پھر وہ آپ سے اس کا مطالبہ کرے اور وہ چیز آپ سے لے لے تو کیا اس پر آپ جزع فزع کریں گے، انہوں نے کہا نہیں ، انہوں نے کہا پھر آپ کا بیٹا فوت ہوگیا ہے، اس پر وہ سخت ناراض ہوئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کھانے کا، خوشبو لگانے کا اور خلوت کا سارا واقعہ بیان کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تعجب ہے کہ وہ بچہ تمہارے پہلو میں پڑا رہا اور تم دونوں نے ایک دوسرے سے خلوت کی، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ایسا ہی ہوا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تمہاری رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اسی رات امید سے ہوگئیں ، اور ان کے یہاں لڑکا پیدا ہوا، صبح ہوئی تو حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا کہ اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے جاؤ اور اپنے ساتھ کچھ عمدہ کھجوریں بھی لے جانا، انہوں نے خود اسے گھٹی دی اور نہ ہی کچھ چکھایا، میں نے اسے اٹھا کر ایک کپڑے میں لپیٹا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا لڑکا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے الحمدللہ کہہ کر فرمایا اسے میرے پاس لاؤ، میں نے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گھٹی دینے کے لئے پوچھا کہ تمہارے پاس عجوہ کھجوریں ہیں ؟ میں نے عرض کی جی ہاں ! اور کجھوریں نکال لیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اپنے منہ میں رکھی اور اسے چباتے رہے، جب وہ لعاب دہن میں مل گئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو اس سے گھٹی دی، اسے کھجور کا مزہ آنے لگا اور چوسنے لگا، گویا اس کی انتڑیوں میں سب سے پہلی جو چیز گئی وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب دہن تھا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصار کو کجھور سے بڑی محبت ہے، پھر اس کا نام عبداللہ بن ابی طلحہ رکھا، اس کی نسل خوب چلی اور وہ ایران میں شہید ہوا۔

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12896

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12900

حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ وَسُهَيْلَ ابْنَ بَيْضَاءَ وَنَفَرًا مِنْ أَصْحَابِهِ عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ وَأَنَا أَسْقِيهِمْ حَتَّى كَادَ الشَّرَابُ أَنْ يَأْخُذَ فِيهِمْ فَأَتَى آتٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ أَوَمَا شَعَرْتُمْ أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَمَا قَالُوا حَتَّى نَنْظُرَ وَنَسْأَلَ فَقَالُوا يَا أَنَسُ اكْفِ مَا بَقِيَ فِي إِنَائِكَ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا عَادُوا فِيهَا وَمَا هِيَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْبُسْرُ وَهِيَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ، ابی کعب رضی اللہ عنہ، سہیل بن بیضاء رضی اللہ عنہ اور دیگر کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم کو حرمت خمر کا حکم نازل ہونے سے پہلے پلایا کرتا تھا، اور اتنی پلاتا تھا کہ اس کا اثر ان پر نظر آتا تھا، ایک دن ایک مسلمان آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ لوگوں کو خبر نہیں ہوئی کہ شراب حرام ہوگئی ، انہوں نے یہ سن کر یہ نہیں کہا کہ ٹھہرو، پہلے تحقیق کرتے ہیں ، بلکہ کہنے لگے انس! تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو، بخدا! اس کے بعد وہ کبھی اس کے قریب نہیں گئے، اور وہ بھی صرف کچی اور پکی کھجور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی، یہی اس وقت شراب تھی۔

أَسْقِيهِمْ حَتَّى كَادَ الشَّرَابُ ← نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِهِ عِنْدَ أَبِي طَلْحَةَ ← سُهَيْلِ ابْنِ بَيْضَاءَ، ← أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ← كُنْتُ أَسْقِي أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ ← أَنَسٍ، ← حُمَيْدٍ ← يَحْيَى

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12900

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 12914

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ عَنْ كَسْبِ الْحَجَّامِ قَالَ احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَمَهُ أَبُو طَيْبَةَ فَأَمَرَ لَهُ بِصَاعٍ مِنْ شَعِيرٍ وَكَلَّمَ مَوَالِيَهُ أَنْ يُخَفِّفُوا عَنْهُ مِنْ ضَرِيبَتِهِ وَقَالَ أَمْثَلُ مَا تَدَاوَيْتُمْ بِهِ الْحِجَامَةُ وَالْقُسْطُ الْبَحْرِيُّ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے سینگی لگوانے کی اجرت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ابوطیبہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سینگی لگائی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو صاع جَو دینے کا حکم دیا اور اس کے مالک سے بات کی تو انہوں نے اس پر تخفیف کر دی۔ اور فرمایا بہترین علاج سینگی لگوانا اور قسط بحری کا استعمال ہے۔

حُمَيْدٍ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 12914

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13054

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَنَسٌ قَالَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ فِي مَقْسَمِهِ وَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَيَقُولُونَ مَا رَأَيْنَا فِي السَّبْيِ مِثْلَهَا قَالَ فَبَعَثَ إِلَى دِحْيَةَ فَأَعْطَاهُ بِهَا مَا أَرَادَ ثُمَّ دَفَعَهَا إِلَى أُمِّي فَقَالَ أَصْلِحِيهَا قَالَ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ حَتَّى إِذَا جَعَلَهَا فِي ظَهْرِهِ نَزَلَ ثُمَّ ضَرَبَ عَلَيْهَا الْقُبَّةَ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كَانَ عِنْدَهُ فَضْلُ زَادٍ فَلْيَأْتِنَا بِهِ قَالَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِفَضْلِ التَّمْرِ وَفَضْلِ السَّوِيقِ وَبِفَضْلِ السَّمْنِ حَتَّى جَعَلُوا مِنْ ذَلِكَ سَوَادًا حَيْسًا فَجَعَلُوا يَأْكُلُونَ مِنْ ذَلِكَ الْحَيْسِ وَيَشْرَبُونَ مِنْ حِيَاضٍ إِلَى جَنْبِهِمْ مِنْ مَاءِ السَّمَاءِ قَالَ فَقَالَ أَنَسٌ فَكَانَتْ تِلْكَ وَلِيمَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا وَانْطَلَقْنَا حَتَّى إِذَا رَأَيْنَا جُدُرَ الْمَدِينَةِ هَشِشْنَا إِلَيْهَا فَرَفَعْنَا مَطِيَّنَا وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَطِيَّتَهُ قَالَ وَصَفِيَّةُ خَلْفَهُ قَدْ أَرْدَفَهَا قَالَ فَعَثَرَتْ مَطِيَّةُ رَسُولِ اللَّهِ فَصُرِعَ وَصُرِعَتْ قَالَ فَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْ النَّاسِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وَلَا إِلَيْهَا حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَتَرَهَا قَالَ فَأَتَيْنَاهُ فَقَالَ لَمْ تُضَرَّ قَالَ فَدَخَلَ الْمَدِينَةَ فَخَرَجَ جَوَارِي نِسَائِهِ يَتَرَاءَيْنَهَا وَيَشْمَتْنَ بِصَرْعَتِهَا حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيمَةً مَا فِيهَا خُبْزٌ وَلَا لَحْمٌ حِينَ صَارَتْ صَفِيَّةُ لِدِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ فِي مَقْسَمِهِ فَجَعَلُوا يَمْدَحُونَهَا فَذَكَرَ مَعْنَاهُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا حضرت دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھیں ، کسی شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! دحیہ کے حصے میں ایک نہایت خوبصورت باندی آئی ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تمنا کے عوض انہیں خرید کر حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیج دیا، تاکہ وہ انہیں بنا سنوار کر دلہن بنائیں ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم خیبر سے نکلے تو انہیں سواری پر بٹھا کر پردہ کرایا اور انہیں اپنے پیچھے بٹھالیا ۔ صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس زائد توشہ ہو وہ اسے ہمارے پاس لے آئے، چنانچہ لوگ زائد کھجوریں ، ستو اور گھی لانے لگے، پھر انہوں نے اس کا حلوہ بنایا، اور وہ حلوہ کھایا اور قریب کے حوض سے پانی پیا جس میں بارش کا پانی جمع تھا، یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ولیمہ تھا، پھر ہم روانہ ہوگئے اور مدینہ منورہ کے قریب پہنچ کر لوگ اپنے رواج کے مطابق سواریوں سے کود کر اترنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح اترنے لگے لیکن اونٹنی پھسل گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر گر گئے، کسی شخص نے بھی حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا، ادھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور انہیں پردہ کرایا، پھر اپنے پیچھے بٹھا لیا ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور فرمایا کوئی نقصان نہیں ہوا، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں داخل ہوگئے، بچیاں نکل نکل کر حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیکھنے لگیں اور ان کے گرنے پر ہنسنے لگیں ۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13054

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13057

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ فَقَالَتْ لِأَهْلِهَا لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا أُحَدِّثُهُ قَالَ فَجَاءَ فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ عَشَاءً فَأَكَلَ وَشَرِبَ قَالَ ثُمَّ تَصَنَّعَتْ لَهُ أَحْسَنَ مَا كَانَتْ تَصَنَّعُ قَبْلَ ذَلِكَ فَوَقَعَ بِهَا فَلَمَّا رَأَتْ أَنَّهُ قَدْ شَبِعَ وَأَصَابَ مِنْهَا قَالَتْ يَا أَبَا طَلْحَةَ أَرَأَيْتَ أَنَّ قَوْمًا أَعَارُوا عَارِيَتَهُمْ أَهْلَ بَيْتٍ وَطَلَبُوا عَارِيَتَهُمْ أَلَهُمْ أَنْ يَمْنَعُوهُمْ قَالَ لَا قَالَتْ فَاحْتَسِبْ ابْنَكَ فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِمَا كَانَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارَكَ اللَّهُ لَكُمَا فِي غَابِرِ لَيْلَتِكُمَا قَالَ فَحَمَلَتْ قَالَ فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهِيَ مَعَهُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَتَى الْمَدِينَةَ مِنْ سَفَرٍ لَا يَطْرُقُهَا طُرُوقًا فَدَنَوْا مِنْ الْمَدِينَةِ فَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ وَاحْتَبَسَ عَلَيْهَا أَبُو طَلْحَةَ وَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ يَا رَبِّ إِنَّكَ لَتَعْلَمُ أَنَّهُ يُعْجِبُنِي أَنْ أَخْرُجَ مَعَ رَسُولِكَ إِذَا خَرَجَ وَأَدْخُلَ مَعَهُ إِذَا دَخَلَ وَقَدْ احْتَبَسْتُ بِمَا تَرَى قَالَ تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ يَا أَبَا طَلْحَةَ مَا أَجِدُ الَّذِي كُنْتُ أَجِدُ فَانْطَلَقْنَا قَالَ وَضَرَبَهَا الْمَخَاضُ حِينَ قَدِمُوا فَوَلَدَتْ غُلَامًا فَقَالَتْ لِي أُمِّي يَا أَنَسُ لَا يُرْضِعَنَّهُ أَحَدٌ حَتَّى تَغْدُوَ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ احْتَمَلْتُهُ وَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَصَادَفْتُهُ وَمَعَهُ مِيْسَمٌ فَلَمَّا رَآنِي قَالَ لَعَلَّ أُمَّ سُلَيْمٍ وَلَدَتْ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَوَضَعَ الْمِيسَمَ قَالَ فَجِئْتُ بِهِ فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ قَالَ وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَجْوَةٍ مِنْ عَجْوَةِ الْمَدِينَةِ فَلَاكَهَا فِي فِيهِ حَتَّى ذَابَتْ ثُمَّ قَذَفَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ فَجَعَلَ الصَّبِيُّ يَتَلَمَّظُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْظُرُوا إِلَى حُبِّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ قَالَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، وہ فوت ہوگیا، ان کی زوجہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے گھر والوں سے کہہ دیا کہ تم میں سے کوئی بھی ابوطلحہ کو ان کے بیٹے کی موت کی خبر نہ دے، چنانچہ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ واپس آئے ان کے سامنے رات کا کھانا لا کر رکھا انہوں نے کھانا کھایا، اور پانی پیا، پھر حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خوب اچھی طرح بناؤ سنگھار کیا ، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے خلوت کی، جب انہوں نے دیکھا کہ وہ اچھی طرح سیراب ہو چکے ہیں تو انہوں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوطلحہ! دیکھیں تو سہی فلاں لوگوں نے عاریۃً کوئی چیز لی، اس سے فائدہ اٹھاتے رہے جب ان سے واپسی کا مطالبہ ہو، کیا وہ انکار کر سکتے ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں ، انہوں نے کہا کہ پھر اپنے بیٹے پر صبر کیجئے۔ صبح ہوئی تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تم دونوں میاں بیوی کے لئے اس رات کو مبارک فرمائے، چنانچہ وہ امید سے ہوگئیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا بھی ان کے ہمراہ تھیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا کہ سفر سے واپس آنے کے بعد رات کے وقت مدینہ میں داخل نہیں ہوتے تھے، وہ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو درد کی شدت نے ستایا، حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ ان کے ساتھ رک گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ مجھے یہ بات بڑی محبوب ہے کہ تیرے رسول جب مدینہ سے نکلیں تو میں ان کے ساتھ نکلوں اور جب داخل ہوں تو میں بھی داخل ہوں اور اب تو دیکھ رہا ہے کہ میں کیسے رک گیا ہوں ، حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ اے ابوطلحہ ! اب مجھے درد کی شدت محسوس نہیں ہو رہی، لہٰذا ہم روانہ ہوگئے، اور مدینہ پہنچ کر ان کی تکلیف دوبارہ بڑھ گئی، اور بالآخر ان کے یہاں ایک لڑکا پیدا ہوا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ انس! اسے کوئی عورت دودھ نہ پلائے، بلکہ تم پہلے اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر جاؤ، چنانچہ صبح کو میں اس بچے کو اٹھا کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا شاید ام سلیم کے یہاں بچہ پیدا ہوا ہے، میں نے عرض کیا جی ہاں ! اور اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھ دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عجوہ کھجوریں منگوائیں ، ایک کجھور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے، اور اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔

أحدثه: ← لِأَهْلِهَا لَا تُحَدِّثُوا أَبَا طَلْحَةَ بِابْنِهِ حَتَّی أَکُونَ ← مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ مِنْ أُمِّ سُلَيْمٍ ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13057

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13144

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ تَلَقَّيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حِينَ قَدِمَ مِنْ الشَّامِ فَلَقِينَاهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى دَابَّتِهِ لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ فَقُلْنَا لَهُ إِنَّكَ تُصَلِّي إِلَى غَيْرِ الْقِبْلَةِ فَقَالَ لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ ذَلِكَ مَا فَعَلْتُ

انس بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ جب شام سے واپس آئے تو ہماری ان سے ملاقات ہوئی، عین القمر نامی جگہ میں ہمارا آمنا سامنا ہوا، اس وقت وہ اپنی سواری پر قبلہ کی طرف رخ کئے بغیر نماز پڑھ رہے تھے، ہم نے ان سے کہا کہ آپ قبلہ کی طرف رخ کئے بغیر نماز پڑھ رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا کہ اگر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (نوافل میں ) اس طرح کرتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں بھی (نوافل میں ) ایسا نہ کرتا۔

أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ← هَمَّامٌ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13144

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13228

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْبَذَ الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ جَمِيعًا

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور کو اکٹھا کر کے نبیذ بنانے سے منع فرمایا ہے۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13228

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13242

حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حِينَ وُلِدَ وَهُوَ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ وَعَلَيْهِ عَبَاءَةٌ فَقَالَ مَعَكَ تَمْرٌ فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ فَأَلْقَاهُنَّ فِي فِيهِ فَلَاكَهُنَّ ثُمَّ فَغَرَ فَاهُ ثُمَّ أَوْجَرَهُنَّ إِيَّاهُ فَجَعَلَ يَتَلَمَّظُ الصَّبِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُبُّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبداللہ کو لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اونٹوں کو قطران مل رہے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہارے پاس کچھ ہے؟ میں نے عرض کیا عجوہ کھجوریں ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے منہ میں چبا کر نرم کیا، اور تھوک جمع کر کے اس کے منہ میں ٹپکا دیا، جسے وہ چاٹنے لگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کھجور انصار کی محبوب چیز ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا۔

أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ، ← عَبْدُ الصَّمَدِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13242

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13308

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ثَابِتٍ وَقَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا حُرِّمَتْ الْخَمْرُ قَالَ إِنِّي يَوْمَئِذٍ لَأَسْقِيهِمْ لَأَسْقِي أَحَدَ عَشَرَ رَجُلًا فَأَمَرُونِي فَكَفَأْتُهَا وَكَفَأَ النَّاسُ آنِيَتَهُمْ بِمَا فِيهَا حَتَّى كَادَتْ السِّكَكُ أَنْ تُمْتَنَعَ مِنْ رِيحِهَا قَالَ أَنَسٌ وَمَا خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ مَخْلُوطَيْنِ قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهُ كَانَ عِنْدِي مَالُ يَتِيمٍ فَاشْتَرَيْتُ بِهِ خَمْرًا أَفَتَأْذَنُ لِي أَنْ أَبِيعَهُ فَأَرُدَّ عَلَى الْيَتِيمِ مَالَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ حُرِّمَتْ عَلَيْهِمْ الثُّرُوبُ فَبَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا وَلَمْ يَأْذَنْ لَهُمْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْخَمْرِ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس دن شراب حرام ہوئی میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں گیا وہ آدمی کو پلا رہا تھے، جب اس کی حرمت معلوم ہوئی تو انہوں نے مجھے حکم دیا کہ تمہارے برتن میں جتنی جتنی شراب ہے سب انڈیل دو، بخدا! دوسرے لوگوں نے بھی اپنے برتنوں کی شراب انڈیل دی، حتیٰ کہ مدینہ کی گلیوں سے شراب کی بدبو آنے لگی، اور ان کی اس وقت شراب بھی صرف کچی اور پکی کھجور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی بارگاِ نبوت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ میرے پاس ایک یتیم کا مال تھا، میں نے اس سے شراب خرید لی تھی، کیا آپ مجھے اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ میں اسے بیچ کر اس یتیم کو اس کا مال لوٹا دوں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی مار ہو یہودیوں پر کہ ان پر چربی کو حرام قرار دیا گیا تو وہ اس کو بیچ کر اس کی قیمت کھانے لگے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب کو بیچنے کی اجازت نہیں دی۔

لَمَّا حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، ← أَنَسٍ، ← ثابت وقتادة ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13308

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13339

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ أَخْبَرَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْكَوْثَرِ فَقَالَ نَهَرٌ أَعْطَانِيهِ رَبِّي أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ وَفِيهِ طَيْرٌ كَأَعْنَاقِ الْجُزُرِ فَقَالَ عُمَرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ تِلْكَ لَطَيْرٌ نَاعِمَةٌ فَقَالَ أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا يَا عُمَرُ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے " کوثر " کے متعلق پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ایک نہر کا نام ہے جو میرے رب نے مجھے عطاء فرمائی ہے، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہوگا، اور اس میں اونٹوں کی گردنوں کے برابر پرندے ہوں گے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر تو وہ پرندے خوب صحت مند ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عمر! انہیں کھانے والے ان سے بھی زیادہ صحت مند ہوں گے۔

أَنَسٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُسْلِمٍ، ← عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، ← يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ← لَيْثٌ، ← أَبُو سَلَمَةَ الْخُزَاعِيُّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13339

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 13409

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتْ الْخَمْرُ قَالَ وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ قَدْ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ قَالَ فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ اخْرُجْ فَانْظُرْ قَالَ فَخَرَجْتُ فَنَظَرْتُ فَسَمِعْتُ مُنَادِيًا يُنَادِي أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ قَالَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَاذْهَبْ فَأَهْرِقْهَا قَالَ فَجِئْتُ فَأَهْرَقْتُهَا قَالَ فَقَالَ بَعْضُهُمْ قَدْ قُتِلَ سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ وَهِيَ فِي بَطْنِهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا إِلَى آخِرِ الْآيَةَ قَالَ وَكَانَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ الْبُسْرَ وَالتَّمْرَ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی کہ جس دن شراب حرام ہوئی، میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے یہاں ان کے کچھ دوستوں کو پلا رہا تھا، ایک مسلمان آیا اور کہنے لگا کہ کیا آپ لوگوں کو یہ خبر نہیں ہوئی کہ شراب حرام ہوگئی، انہوں نے یہ سن کر مجھ سے کہا کہ باہر نکل کر دیکھو، میں نے باہر نکل کر دیکھا تو ایک منادی کی یہ آواز سنائی دی کہ لوگو! شراب حرام ہوگئی، میں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کو بتا دیا، وہ کہنے لگے کہ جا کر تمہارے برتن میں جتنی شراب ہے سب انڈیل دو، چنانچہ میں نے جا کر اسے بہا دیا، اس موقع پر بعض لوگ کہنے لگے کہ سہیل بن بیضاء مارے گئے کیونکہ ان کے پیٹ میں شراب تھی، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی " ایمان لانے والوں اور نیک اعمال کرنے والوں پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جو وہ پہلے کھاپی چکے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ " اس موقع پر صرف کچی اور پکی کجھور ملا کر بنائی گئی نبیذ تھی، یہی اس وقت شراب تھی۔

بَعْضُهُمْ: قَدْ قُتِلَ سُهَيْلُ ابْنُ بَيْضَاءَ وَهِيَ فِي بَطْنِهِ، ← فَجِئْتُ فَأَهْرَقْتُهَا ← فَاذْهَبْ فَأَهْرِقْهَا، ← فَأَخْبَرْتَهُ ← مناديا ينادي ألا إن الخمر قد حرمت ← فَخَرَجْتُ فَنَظَرْتُ ← لِي أَبُو طَلْحَةَ: اخْرُجْ فَانْظُرْ، ← ألا إن الخمر قد حرمت ← وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ قَدِ اجْتَمَعَ إِلَيْهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ، فَجَاءَ رَجُلٌ ← كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ يَوْمَ حُرِّمَتِ الْخَمْرُ، ← أَنَسٍ، ← ثَابِتٍ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 13409

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26770

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَهِيَ وَبِيئَةٌ ذُكِرَ أَنَّ الْحُمَّى صَرَعَتْهُمْ فَمَرِضَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ قَالَتْ وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ وَهَلْ أَرِدْنَ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ وَهَلْ يَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ اللَّهُمَّ الْعَنْ عُتْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَشَيْبَةَ بْنَ رَبِيعَةَ وَأُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ كَمَا أَخْرَجُونَا مِنْ مَكَّةَ فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَقُوا قَالَ اللَّهُمَّ حَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ اللَّهُمَّ صَحِّحْهَا وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِهَا وَمُدِّهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا إِلَى الْجُحْفَةِ قَالَ فَكَانَ الْمَوْلُودُ يُولَدُ بِالْجُحْفَةِ فَمَا يَبْلُغُ الْحُلُمَ حَتَّى تَصْرَعَهُ الْحُمَّى

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ اور بلال بھی بیمار ہوگئے، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ان لوگوں کی عیادت کے لئے جانے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی ، انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اپنی صحت کیسی محسوس کر رہے ہیں؟ انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے۔ " پھر میں نے عامر سے پوچھا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا " کہ موت کا مزہ چکھنے سے پہلے موت کو محسوس کر رہا ہوں اور قبرستان منہ کے قریب آگیا ہے۔ " پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے ان کی طبیعت پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہائے ! مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ " فخ " میں رات گزار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور " جلیل " نامی گھاس ہوگی اور کیا شامہ اور طفیل میرے سامنے واضح ہو سکیں گے؟ اے اللہ! عتبہ بن ربیعہ ، شیبہ بن ربیعہ اور امیہ بن خلف پر لعنت فرما جیسے انہوں نے ہمیں مکہ مکرمہ سے نکال دیا " حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئیں اور ان لوگوں کی باتیں بتائیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا اے اللہ ! مدینہ منورہ کو ہماری نگاہوں میں اسی طرح محبوب بنا جیسے مکہ کو بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اس سے بھی زیادہ، اے اللہ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکتیں عطاء فرما، اور اس کی وباء حجفہ کی طرف منتقل فرما۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26770

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26773

حَدَّثَنَا يُونُسُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أُعَوِّذُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدُعَاءٍ إِذَا مَرِضَ كَانَ جِبْرِيلُ يُعِيذُهُ بِهِ وَيَدْعُو لَهُ بِهِ إِذَا مَرِضَ قَالَتْ فَذَهَبْتُ أُعَوِّذُهُ بِهِ أَذْهِبْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا شَافِيَ إِلَّا أَنْتَ اشْفِ شِفَاءً لَا يُغَادِرُ سَقَمًا قَالَتْ فَذَهَبْتُ أَدْعُو لَهُ بِهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ فَقَالَ ارْفَعِي عَنِّي قَالَ فَإِنَّمَا كَانَ يَنْفَعُنِي فِي الْمُدَّةِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار ہوئے تو میں ان پر وہی کلمات پڑھ کر دم کرنے لگی جن سے حضرت جبرائیل علیہ السلام انہیں دم کرے تھے " اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما۔ اسے شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی، ایسی شفاء دے دے کہ جو بیماری کا نام نشان بھی نہ چھوڑے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑ کر یہ دعاء پڑھنے لگی، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنا ہاتھ اٹھا لو، یہ ایک خاص وقت تک ہی مجھے نفع دے سکتی تھی۔

أَبِي الْجَوْزَاءِ ← عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ مَالِكٍ ← حَمَّادٌ -يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ-، ← يُونُسَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26773

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26843

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ ابْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَجُلٍ مِنْ الْأَعْرَابِ جَزُورًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخِرَةِ وَتَمْرُ الذَّخِرَةِ الْعَجْوَةُ فَرَجَعَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بَيْتِهِ وَالْتَمَسَ لَهُ التَّمْرَ فَلَمْ يَجِدْهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ إِنَّا قَدْ ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزُورًا أَوْ جَزَائِرَ بِوَسْقٍ مِنْ تَمْرِ الذَّخْرَةِ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ قَالَ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ وَا غَدْرَاهُ قَالَتْ فَنَهَمَهُ النَّاسُ وَقَالُوا قَاتَلَكَ اللَّهُ أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا ثُمَّ عَادَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا عَبْدَ اللَّه إِنَّا ابْتَعْنَا مِنْكَ جَزَائِرَكَ وَنَحْنُ نَظُنُّ أَنَّ عِنْدَنَا مَا سَمَّيْنَا لَكَ فَالْتَمَسْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ وَا غَدْرَاهُ فَنَهَمَهُ النَّاسُ وَقَالُوا قَاتَلَكَ اللَّهُ أَيَغْدِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعُوهُ فَإِنَّ لِصَاحِبِ الْحَقِّ مَقَالًا فَرَدَّدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَلَمَّا رَآهُ لَا يَفْقَهُ عَنْهُ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِهِ اذْهَبْ إِلَى خُوَيْلَةَ بِنْتِ حَكِيمِ بْنِ أُمَيَّةَ فَقُلْ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَكِ إِنْ كَانَ عِنْدَكِ وَسْقٌ مِنْ تَمْرِ الذَّخِرَةِ فَأَسْلِفِينَاهُ حَتَّى نُؤَدِّيَهُ إِلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فَذَهَبَ إِلَيْهَا الرَّجُلُ ثُمَّ رَجَعَ الرَّجُلُ فَقَالَ قَالَتْ نَعَمْ هُوَ عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَابْعَثْ مَنْ يَقْبِضُهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ اذْهَبْ بِهِ فَأَوْفِهِ الَّذِي لَهُ قَالَ فَذَهَبَ بِهِ فَأَوْفَاهُ الَّذِي لَهُ قَالَتْ فَمَرَّ الْأَعْرَابِيُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَقَالَ جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا فَقَدْ أَوْفَيْتَ وَأَطْيَبْتَ قَالَتْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُولَئِكَ خِيَارُ عِبَادِ اللَّهِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُوفُونَ الْمُطِيبُونَ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک یا کئی اونٹ خریدے اور اس کا بدلہ ایک وسق ذخیرہ کھجور ( عجوہ) قرار دی اور اسے لے کر اپنے گھر کی طرف چل پڑے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں کجھوریں تلاش کیں تو نہیں مل سکیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس باہر آئے اور فرمایا اے اللہ کے بندے ! میں نے تم سے ایک وسق ذخیرہ کجھور کے عوض اونٹ خریدے ہیں لیکن میرے پاس اس وقت کجھوریں نہیں ہیں، وہ اعرابی کہنے لگا ہائے! میرے ساتھ دھوکہ ہوگیا لوگوں نے اسے ڈانٹا اور کہنے لگے تجھ پر اللہ کی مار ہو، کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم دھوکہ دیں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے چھوڑ دو، کیونکہ حقدار بات کہہ سکتا ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو تین مرتبہ اپنی بات دہرائی اور ہر مرتبہ اس نے یہی کہا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسے ڈانٹا، بالآخر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دیکھا کہ وہ بات سمجھ نہیں پا رہا تو اپنے کسی صحابی سے فرمایا خویلہ بنت حکیم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں اگر تمہارے پاس ایک وسق ذخیرہ کجھور ہوں تو ہمیں ادھار دے دو، ہم تہمیں واپس لوٹا دیں گے، ان شاء اللہ۔ وہ صحابی چلے گئے ، پھر واپس آکر بتایا کہ وہ کہتی ہیں یا رسول اللہ! صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس کجھوریں موجود ہیں ، آپ کسی آدمی کو بھیج دیجئے جو آکر لے جائے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے لے جاؤ اور پوری کر کے دے دو، وہ صحابی اس اعرابی کو لے گئے اور اسے پوری پوری کجھوریں دے دیں، پھر اس اعرابی کا گذر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ہوا جو صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ بیٹھے تھے تو وہ کہنے لگا " جزاک اللہ خیرا " آپ نے پورا پورا ادا کر دیا اور خوب عمدہ ادا کر دیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین بندے وہی پورا کرنے والے اور عمدہ طریقے سے ادا کرنے والے ہی ہوں گے۔

عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26843

chevron_left Previous
1…323334…647
Next chevron_right