Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطب والصحة

Medicine & Health

12931 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26416

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ الْبِتْعِ فَقَالَ كُلُّ شَرَابٍ يُسْكِرُ فَهُوَ حَرَامٌ وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی نیند کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، وہ حرام ہے۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26416

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21917

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ فَأَخْبَرَهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے درختوں پر لگی ہوئی کھجور کو کٹی ہوئی کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا ہے تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے " عرایا " میں اس کی اجازت دے دی ہے۔

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21917

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27694

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَى الْكُوفَةِ لِأَجْلِبَ بِغَالًا قَالَ فَأَتَيْتُ السُّوقَ وَلَمْ تُقَمْ قَالَ قُلْتُ لِصَاحِبٍ لِي لَوْ دَخَلْنَا الْمَسْجِدَ وَمَوْضِعُهُ يَوْمَئِذٍ فِي أَصْحَابِ التَّمْرِ فَإِذَا فِيهِ رَجُلٌ مِنْ قَيْسٍ يُقَالُ لَهُ ابْنُ الْمُنْتَفِقِ وَهُوَ يَقُولُ وُصِفَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحُلِّيَ فَطَلَبْتُهُ بِمِنًى فَقِيلَ لِي هُوَ بِعَرَفَاتٍ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَزَاحَمْتُ عَلَيْهِ فَقِيلَ لِي إِلَيْكَ عَنْ طَرِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعُوا الرَّجُلَ أَرِبَ مَا لَهُ قَالَ فَزَاحَمْتُ عَلَيْهِ حَتَّى خَلَصْتُ إِلَيْهِ قَالَ فَأَخَذْتُ بِخِطَامِ رَاحِلَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ زِمَامِهَا هَكَذَا حَدَّثَ مُحَمَّدٌ حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَعْنَاقُ رَاحِلَتَيْنَا قَالَ فَمَا يَزَعُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ مَا غَيَّرَ عَلَيَّ هَكَذَا حَدَّثَ مُحَمَّدٌ قَالَ قُلْتُ ثِنْتَانِ أَسْأَلُكَ عَنْهُمَا مَا يُنَجِّينِي مِنْ النَّارِ وَمَا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ قَالَ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ نَكَسَ رَأْسَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيَّ بِوَجْهِهِ قَالَ لَئِنْ كُنْتَ أَوْجَزْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ لَقَدْ أَعْظَمْتَ وَأَطْوَلْتَ فَاعْقِلْ عَنِّي إِذًا اعْبُدْ اللَّهَ لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا وَأَقِمْ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ وَأَدِّ الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ وَصُمْ رَمَضَانَ وَمَا تُحِبُّ أَنْ يَفْعَلَهُ بِكَ النَّاسُ فَافْعَلْهُ بِهِمْ وَمَا تَكْرَهُ أَنْ يَأْتِيَ إِلَيْكَ النَّاسُ فَذَرْ النَّاسَ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ خَلِّ سَبِيلَ الرَّاحِلَةِ

عبداللہ یشکری کہتے ہیں کہ جب کوفہ کی جامع مسجد پہلی مرتبہ تعمیر ہوئی تو میں وہاں گیا، اس وقت وہاں کھجوروں کے درخت بھی تھے، اور اس کی دیواریں ریت جیسی مٹکی تھیں وہاں ایک صاحب جن کا نام ابن منتفق تھا' یہ حدیث بیان کرنے لگے کہ مجھے نبی علیہ السلام کے حجۃ الوداع کی خبرملی تو میں نے اپنے اونٹوں میں سے ایک قابل سواری اونٹ چھانٹ کر نکالا اور روانہ ہو گیا، یہاں تک کہ عرفہ کے راستے میں ایک جگہ پہنچ گیا، جب نبی علیہ السلام سوار ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے حلیہ کی وجہ سے پہچان لیا۔ اسی دوران ایک آدمی جو ان سے آگے تھا، کہنے لگا کہ سواریوں کے راستے سے ہٹ جاؤ! نبی علیہ السلام نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ اسے کوئی کام ہو چنانچہ میں نبی علیہ السلام کے اتنا قریب ہوا کہ دونوں سواریوں کے سر ایک دوسرے کے قریب آگئے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں داخل کردے اور جہنم سے نجات کا سبب بن جائے، نبی علیہ السلام نے فرمایا واہ واہ! تم نے اگرچہ بہت مختصر لیکن بہت عمدہ سوال کیا ، اگر تم سجھ دار ہوئے تو تم صرف اللہ کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا بیت اللہ کا حج کرنا، ماہ رمضان کے روزے رکھنا اب سواریوں کے لئے راستہ چھوڑ دو!

أَبِيهِ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27694

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 27695

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ حَسَّانَ يَعْنِي الْمَسْلِيَّ قَالَ حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْكُوفَةِ أَوَّلَ مَا بُنِيَ مَسْجِدُهَا وَهُوَ فِي أَصْحَابِ التَّمْرِ يَوْمَئِذٍ وَجُدُرُهُ مِنْ سِهْلَةٍ فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ النَّاسَ قَالَ بَلَغَنِي حَجَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةُ الْوَدَاعِ قَالَ فَاسْتَتْبَعْتُ رَاحِلَةً مِنْ إِبِلِي ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى جَلَسْتُ لَهُ فِي طَرِيقِ عَرَفَةَ أَوْ وَقَفْتُ لَهُ فِي طَرِيقِ عَرَفَةَ قَالَ فَإِذَا رَكْبٌ عَرَفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ بِالصِّفَةِ فَقَالَ رَجُلٌ أَمَامَهُ خَلِّ عَنْ طَرِيقِ الرِّكَابِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَهُ دَعْهُ فَأَرِبَ مَا لَهُ فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى اخْتَلَفَتْ رَأْسُ النَّاقَتَيْنِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُنَجِّينِي مِنْ النَّارِ قَالَ بَخٍ بَخٍ لَئِنْ كُنْتَ قَصَّرْتَ فِي الْخُطْبَةِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ اتَّقِ اللَّهَ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ خَلِّ عَنْ طَرِيقِ الرِّكَابِ

عبداللہ یشکری کہتے ہیں کہ جب کوفہ کی جامع مسجد پہلی مرتبہ تعمیر ہوئی تو میں وہاں گیا، اس وقت وہاں کھجوروں کے درخت بھی تھے، اور اس کی دیواریں ریت جیسی مٹکی تھیں وہاں ایک صاحب جن کا نام ابن منتفق تھا' یہ حدیث بیان کرنے لگے کہ مجھے نبی علیہ السلام کے حجۃ الوداع کی خبرملی تو میں نے اپنے اونٹوں میں سے ایک قابل سواری اونٹ چھانٹ کر نکالا اور روانہ ہو گیا، یہاں تک کہ عرفہ کے راستے میں ایک جگہ پہنچ گیا، جب نبی علیہ السلام سوار ہوئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کے حلیہ کی وجہ سے پہچان لیا۔ اسی دوران ایک آدمی جو ان سے آگے تھا، کہنے لگا کہ سواریوں کے راستے سے ہٹ جاؤ! نبی علیہ السلام نے فرمایا ہوسکتا ہے کہ اسے کوئی کام ہو چنانچہ میں نبی علیہ السلام کے اتنا قریب ہوا کہ دونوں سواریوں کے سر ایک دوسرے کے قریب آگئے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے کوئی ایسا عمل بتادیجئے جو مجھے جنت میں داخل کردے اور جہنم سے نجات کا سبب بن جائے، نبی علیہ السلام نے فرمایا واہ واہ! تم نے اگرچہ بہت مختصر لیکن بہت عمدہ سوال کیا ، اگر تم سجھ دار ہوئے تو تم صرف اللہ کی عبادت کرنا، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا بیت اللہ کا حج کرنا، ماہ رمضان کے روزے رکھنا اب سواریوں کے لئے راستہ چھوڑ دو!

أَبِيهِ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ حَسَّانَ يَعْنِي الْمُسْلِيَّ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 27695

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26532

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يُرَى فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ الدُّخَانُ قَالَ قُلْتُ يَا أُمَّهْ فَمَا كَانَ طَعَامُهُمْ قَالَتْ الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ جِيرَانُ صِدْقٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَكَانَتْ لَهُمْ رَبَائِبُ فَكَانُوا يَبْعَثُونَ إِلَيْهِ مِنْ أَلْبَانِهَا

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے، اور ہمارے گذارے کے لئے صرف دو ہی چیزیں ہوتی تھیں یعنی پانی اور کجھور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے، اللہ انہیں ہمیشہ جزائے خیر دے، کہ وہ روزانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بکری کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرما لیا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدٍ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26532

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18608

حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي فَرْوَةَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالٌ بَيِّنٌ وَحَرَامٌ بَيِّنٌ وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ فَمَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهِ مِنْ الْإِثْمِ أَوْ الْأَمْرِ فَهُوَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أَتْرَكُ وَمَنْ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ مَا اسْتَبَانَ وَمَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكْ أَنْ يُوَاقِعَهُ

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ متشابہات ہیں جو شخص ان متشابہات کو چھوڑ دے گا وہ حرام کو بآسانی چھوڑ سکے گا اور اللہ کے محرمات اس کی چراگاہیں ہیں اور جو شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ میں گھس جائے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← أَبِي فَرْوَةَ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18608

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18624

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ إِذَا اشْتَكَى رَأْسُهُ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ الْجَسَدِ بِالْحُمَّى وَالسَّهَرِ

حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال باہمی محبت ، ہمدردی اور شفقت میں جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے توسارے جسم کو شب بیداری اور بخار کا احساس ہوتا ہے۔

النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← الْاَعْمَشِ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18624

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26585

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ كِلَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَنْبِذُوا فِي الدُّبَّاءِ وَلَا فِي الْحَنْتَمِ وَلَا فِي النَّقِيرِ وَلَا فِي الْمُزَفَّتِ وَلَا تَنْبِذُوا الزَّبِيبَ وَالتَّمْرَ جَمِيعًا وَلَا تَنْبِذُوا الْبُسْرَ وَالرُّطَبَ جَمِيعًا

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وباء ، حنتم، نقیر اور مزفت میں نبیذ نہ بنایا کرو، کشمش اور کجھور کو ملا کر یا کچی اور پکی کجھور کو ملا کر نبیذ نہ بنایا کرو۔

أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ ← ثُمَامَةَ بْنِ كِلَابٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ ← يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ← عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ ← عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26585

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22071

حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ فَقَالَ بِالصِّحَّةِ لَا بِالْمَرَضِ فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الصُّدَاعَ وَالْمَلِيلَةَ لَا تَزَالُ بِالْمُؤْمِنِ وَإِنَّ ذَنْبَهُ مِثْلُ أُحُدٍ فَمَا تَدَعُهُ وَعَلَيْهِ مِنْ ذَلِكَ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ

حضرت انس جہنی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے تو انہیں دعاء دی کہ اللہ آپ کو ہر مرض سے بچا کر صحت کے ساتھ رکھے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان آدمی سر درد اور دیگر بیماریوں میں مسلسل مبتلا ہوتا رہتا ہے اور اس کے گناہ احد پہاڑ کے برابر ہوتے ہیں لیکن یہ بیماریاں اسے اس وقت چھوڑتی ہیں جب اس پر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی گناہ نہیں رہتے ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← أَبُو الدَّرْدَاءِ ← بالصحة لا بالمرض ← أَبِيهِ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ، ← يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنُ بْنُ مُوسَی

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22071

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18698

حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ قَالَ فَذَكَرَ مَا أَمَرَهُمْ مِنْ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَنَهَانَا عَنْ آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَعَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ قَالَ حَلْقَةِ الذَّهَبِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالْمِيثَرَةِ وَالْقَسِّيِّ

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے منع کیا ہے پھر انہوں نے حکم والی چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے مریض کی بیمار پرسی کا تذکرہ کیا نیز یہ کہ جنازے کے ساتھ جاناچھینکنے والے کو جواب دینا سلام کا جواب دینا قسم کھانے والے کو سچا کرنا، دعوت کو قبول کرنا مظلوم کی مدد کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاندی کے برتن سونے کی انگوٹھی ، استبرق ، حریر، دیباج (تینوں ریشم کے نام ہیں ) سرخ خوان پوش سے اور ریشمی کتان سے منع فرمایا ہے۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ← الأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ← شُعْبَةُ، ← بَهْزٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18698

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22079

حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا زَبَّانُ عَنْ سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ أَتَاهُ عَائِدًا فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ لِأَبِي بَعْدَ أَنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ بِالصِّحَّةِ لَا بِالْوَجَعِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ يَقُولُ ذَلِكَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا يَزَالُ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ بِهِ الْمَلِيلَةُ وَالصُّدَاعُ وَإِنَّ عَلَيْهِ مِنْ الْخَطَايَا لَأَعْظَمَ مِنْ أُحُدٍ حَتَّى يَتْرُكَهُ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ الْخَطَايَا مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ

حضرت انس جہنی رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے یہاں آئے تو انہیں دعاء دی کہ اللہ آپ کو ہر مرض سے بچا کر صحت کے ساتھ رکھے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مسلمان آدمی سر درد اور دیگر بیماریوں میں مسلسل مبتلا ہوتا رہتا ہے اور اس کے گناہ احد پہاڑ کے برابر ہوتے ہیں لیکن یہ بیماریاں اسے اس وقت چھوڑتی ہیں جب اس پر ایک رائی کے دانے کے برابر بھی گناہ نہیں رہتے ۔

رَسُولِ اللَّهِ ← ذَلِكَ» ثُمَّ ← أَبُو الدَّرْدَاءِ لِأَبِي بَعْدَ أَنْ سَلَّمَ عَلَيْهِ بِالصِّحَّةِ لَا بِالْوَجَعِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ← أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ أَتَاهُ عَائِدًا ← أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذٍ، ← زَبَّانَ ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← حَسَنٌ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22079

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18731

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ عَنْ أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَى عَنْ سَبْعٍ قَالَ نَهَى عَنْ التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ وَعَنْ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَآنِيَةِ الذَّهَبِ وَعَنْ لُبْسِ الدِّيبَاجِ وَالْحَرِيرِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَعَنْ لُبْسِ الْقَسِّيِّ وَعَنْ رُكُوبِ الْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ وَأَمَرَ بِسَبْعٍ عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے منع کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاندی کے برتن سونے کی انگوٹھی ، استبرق ، حریر، دیباج (تینوں ریشم کے نام ہیں ) سرخ خوان پوش سے اور ریشمی کتان سے منع فرمایا ہے۔ پھر انہوں نے حکم والی چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے مریض کی بیمار پرسی کا تذکرہ کیا نیز یہ کہ جنازے کے ساتھ جانا چھینکنے والے کو جواب دینا سلام کا جواب دینا قسم کھانے والے کو سچا کرنا، دعوت کو قبول کرنا مظلوم کی مدد کرنا۔

لُبْسِ الْقَسِّيِّ.(1/491) ← لُبْسِ الدِّيبَاجِ وَالْحَرِيرِ وَالْإِسْتَبْرَقِ، ← الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ وَآنِيَةِ الذَّهَبِ ← التَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ. ← نُهِيَ ← سَبْعٍ ← أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ بِسَبْعٍ وَنَهَى ← الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← الشَّيْبَانِيِّ ← أَبُو مُعَاوِيَةَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18731

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18847

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَن أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ عَن مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَإِفْشَاءِ السَّلَامِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَإِبْرَارِ الْقَسَمِ وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَنَهَانَا عَنْ خَوَاتِيمِ الذَّهَبِ وَآنِيَةِ الْفِضَّةِ وَالْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَالْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ وَالْقَسِّيِّ

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے منع کیا ہے پھر انہوں نے حکم والی چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے مریض کی بیمار پرسی کا تذکرہ کیا نیز یہ کہ جنازے کے ساتھ جاناچھینکنے والے کو جواب دینا سلام کا جواب دینا قسم کھانے والے کو سچا کرنا، دعوت کو قبول کرنامظلوم کی مدد کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاندی کے برتن سونے کی انگوٹھی ، استبرق ، حریر، دیباج (تینوں ریشم کے نام ہیں ) سرخ خوان پوش سے اور ریشمی کتان سے منع فرمایا ہے۔

الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ← أَشْعَثَ بْنِ أَبِي الشَّعْثَاءِ ← سُفْيَانَ، ← يَحْيَی بْنُ آدَمَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18847

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 18852

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَن أَبِيهِ وَعَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ عَن أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ عَن مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ أَبِي وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَن أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدٍ عَن الْبَرَاءِ قَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَاتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ وَرَدِّ السَّلَامِ وَإِجَابَةِ الدَّاعِي وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ وَنَهَانَا عَنْ آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالتَّخَتُّمِ بِالذَّهَبِ وَلُبْسِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ وَالْقَسِّيِّ وَالْمَيَاثِرِ الْحُمْرِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَلَمْ يَذْكُرْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ آنِيَةَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ

حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات چیزوں کا حکم دیا ہے اور سات چیزوں سے منع کیا ہے پھر انہوں نے حکم والی چیزوں کا ذکر کرتے ہوئے مریض کی بیمار پرسی کا تذکرہ کیا نیز یہ کہ جنازے کے ساتھ جاناچھینکنے والے کو جواب دینا سلام کا جواب دینا قسم کھانے والے کوسچا کرنا، دعوت کو قبول کرنا مظلوم کی مدد کرنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں چاندی کے برتن سونے کی انگوٹھی ، استبرق ، حریر، دیباج (تینوں ریشم کے نام ہیں ) سرخ خوان پوش سے اور ریشمی کتان سے منع فرمایا ہے۔

أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا ← الْبَرَاءِ، ← مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ← أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، ← شُعْبَةُ، ← أَبِي وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ← أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، ← أَبِيهِ وَعَلِيِّ بْنِ صَالِحٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 18852

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22231

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي بَشِيرٍ وَابْنَةَ أَبِي بَشِيرٍ يُحَدِّثَانِ عَنْ أَبِيهِمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْحُمَّى أَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ فَإِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ

حضرت ابو بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بخار کے متعلق فرمایا کہ اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو کیونکہ یہ جہنم کی تپش کا اثر ہوتا ہے ۔

فِي الْحُمَّى أَبْرِدُوهَا بِالْمَاءِ فَإِنَّهَا مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← أَبِيهِمَا، ← ابْنَ أَبِي بَشِيرٍ وَابْنَةَ أَبِي بَشِيرٍ يُحَدِّثَانِ ← حَبِيبٍ الْأَنْصَارِيِّ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22231

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 22338

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مَوْهَبٍ عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ إِنَّمَا أَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنْ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ

موسیٰ بن طلحہ رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا ایک خط ہے جس میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گندم ، جو کشمش اور کھجور میں سے بھی زکوۃ وصول فرماتے تھے۔

النَّبِيِّ «أَنَّهُ إِنَّمَا أَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ» ← عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذٍ ← مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، ← عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مَوْهَبٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 22338

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19025

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور اور کشمش اور کھجور سے منع فرمایا ہے ۔

الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالتَّمْرِ ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَنَّهُ نَهَى ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19025

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19027

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْحِجَامَةِ وَالْمُوَاصَلَةِ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا إِبْقَاءً عَلَى أَصْحَابِهِ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ فَقَالَ إِنْ أُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ فَرَبِّي يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوانے اور صوم وصال سے منع فرمایا ہے لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا تاکہ صحابہ کے لئے اس کی اجازت باقی رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ خود تو صوم وصال فرماتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔

رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19027

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19028

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ وَالْمُوَاصَلَةِ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ تُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ فَقَالَ إِنِّي أُوَاصِلُ إِلَى السَّحَرِ وَإِنَّ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِي

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگی لگوانے اور صوم وصال سے منع فرمایا ہے لیکن اسے حرام قرار نہیں دیا تاکہ صحابہ کے لئے اس کی اجازت باقی رہے کسی نے پوچھا یا رسول اللہ ! آپ خود تو صوم وصال فرماتے ہیں ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر میں ایسا کرتا ہوں تو مجھے میرا رب کھلاتا اور پلاتا ہے۔

الْحِجَامَةِ لِلصَّائِمِ وَالْمُوَاصَلَةِ وَلَمْ يُحَرِّمْهَا عَلَى أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَابِسٍ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19028

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 19031

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنِ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَى يُحَدِّثُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ نَهَى عَنْ الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ

ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچی اور پکی کھجور اور کشمش اور کھجور سے منع فرمایا ہے ۔

الْبَلَحِ وَالتَّمْرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ ← رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَنَّهُ نَهَى ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 19031

chevron_left Previous
1…313233…647
Next chevron_right