Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الطب والصحة

Medicine & Health

12931 hadiths

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25476

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس وقت رخصت ہوئے جب ہم لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کھجور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔

تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ ← عَائِشَةَ ← أُمِّهِ2، ← مَنْصُورُ ابْنُ صَفِيَّةَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25476

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25509

حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَرْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْعَيْنِ فَأَضَعُ يَدِي عَلَى صَدْرِهِ وَأَقُولُ امْسَحْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نظر بد سے حفاظت کے لئے دم کرتی تھی اور وہ اس طرح کہ میں اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھتی اور یہ دعا کرتی اے لوگوں کے رب! اس کی تکلیف کو دور فرما، شفاء عطا فرما کیونکہ تو ہی شفاء دینے والا ہے، تیرے علاوہ کہیں سے شفاء نہیں مل سکتی۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← هِشَامٍ ← حَمَّادٌ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25509

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15780

حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ أَبِيهِ وَكَانَ بَدْرِيًّا قَالَ لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُنَا فِي السَّرِيَّةِ يَا بُنَيَّ مَا لَنَا زَادٌ إِلَّا السَّلْفُ مِنْ التَّمْرِ فَيَقْسِمُهُ قَبْضَةً قَبْضَةً حَتَّى يَصِيرَ إِلَى تَمْرَةٍ تَمْرَةٍ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ يَا أَبَتِ وَمَا عَسَى أَنْ تُغْنِيَ التَّمْرَةُ عَنْكُمْ قَالَ لَا تَقُلْ ذَلِكَ يَا بُنَيَّ فَبَعْدَ أَنْ فَقَدْنَاهَا فَاخْتَلَلْنَا إِلَيْهَا

حضرت عامر بن ربیعہ جو بدری صحابی تھے مروی ہے کہ بعض مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کسی دستے کے ساتھ روانہ فرماتے تو بیٹا ہمارے پاس سوارئے چند کھجوروں کے اور کوئی چیز نہ ہوتی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان ایک ایک مٹھی تقسیم کر دیتے یہاں تک کہ ایک ایک کھجور تک نوبت آجاتی عبداللہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا اباجان ایک کھجور آپ کے کس کام آتی ہوگی انہوں نے فرمایا کہ بیٹا یوں نہ کہو جب ہمیں ایک کھجور بھی نہ ملی تو ہمیں اس کی قدر آئی۔

أَبِيه وَكَانَ بَدْرِيًّا ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ← أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15780

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25581

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُقَيْلٍ عَنْ بُهَيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكُمْ بِالْحَبَّةِ السَّوْدَاءِ فَإِنَّ فِيهَا شِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ إِلَّا السَّامَ يَعْنِي الْمَوْتَ وَالْحَبَّةُ السَّوْدَاءُ الشُّونِيزُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کلونجی کو اپنے اوپر لازم کر لو، کیونکہ اس میں موت کے علاوہ ہر بیماری کی شفاء ہے۔

عَائِشَةَ ← بُهَيَّةَ ← أَبُو عَقِيلٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25581

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15903

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْحُمَّى فَوْرُ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بخار جہنم کی تپش کا اثر ہوتا ہے اسے پانی سے ٹھنڈا کیا کرو۔

إِنَّ الْحُمَّى فَوْرُ جَهَنَّمَ فَابْرُدُوهَا بِالْمَاءِ ← رَسُولِ اللَّهِ ← جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، ← عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، ← سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ← أَبُو الْأَحْوَصِ، ← عَفَّانُ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15903

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25705

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ يُغْتَسَلُ مِنْ أَرْبَعٍ مِنْ الْجُمُعَةِ وَالْجَنَابَةِ وَالْحِجَامَةِ وَغَسْلِ الْمَيِّتِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا چار چیزوں کی بناء پر غسل کیا جائے گا، جمعہ کے دن اور جنابت کی وجہ سے اور سینگی لگوانے کی وجہ سے اور میت کو غسل دینے کی وجہ سے۔

يُغْتَسَلُ مِنْ أَرْبَعٍ مِنْ الْجُمُعَةِ وَالْجَنَابَةِ وَالْحِجَامَةِ وَغَسْلِ الْمَيِّتِ ← النَّبِیِّ اَنَّہٗ ← عَائِشَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، ← طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ، ← مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25705

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 15978

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنْ عَمْرِو بْنِ حَسَّانَ يَعْنِي الْمُسْلِيَّ قَالَ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْكُوفَةِ أَوَّلَ مَا بُنِيَ مَسْجِدُهَا وَهُوَ فِي أَصْحَابِ التَّمْرِ يَوْمَئِذٍ وَجُدُرُهُ مِنْ سِهْلَةٍ فَإِذَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ النَّاسَ قَالَ بَلَغَنِي حَجَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةُ الْوَدَاعِ فَاسْتَتْبَعْتُ رَاحِلَةً مِنْ إِبِلِي ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى جَلَسْتُ لَهُ فِي طَرِيقِ عَرَفَةَ أَوْ وَقَفْتُ لَهُ فِي طَرِيقِ عَرَفَةَ قَالَ فَإِذَا رَكْبٌ عَرَفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ بِالصِّفَةِ فَقَالَ رَجُلٌ أَمَامَهُ خَلِّ لِي عَنْ طَرِيقِ الرِّكَابِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَهُ فَأَرَبٌ مَا لَهُ فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى اخْتَلَفَتْ رَأْسُ النَّاقَتَيْنِ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُنْجِينِي مِنْ النَّارِ قَالَ بَخٍ بَخٍ لَئِنْ كُنْتَ قَصَّرْتَ فِي الْخُطْبَةِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ فِي الْمَسْأَلَةِ افْقَهْ إِذًا تَعْبُدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ وَتَحُجُّ الْبَيْتَ وَتَصُومُ رَمَضَانَ خَلِّ طَرِيقَ الرِّكَابِ

عبداللہ یشکری کہتے ہیں کہ جب کوفہ کی جامع مسجد میں پہلی مرتبہ تعمیر ہوئی تو میں وہاں گیا اس وقت وہاں کھجوروں کے درخت بھی تھے اور اس کی دیواریں ریت جیسی مٹی کی تھیں وہاں ایک صاحب یہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حجتہ الوداع کی خبر ملی تو میں نے اپنے اونٹوں میں سے ایک قابل سواری اونٹ چھانٹ کر نکالا اور روانہ ہوگیا یہاں تک کہ عرفہ کے راستے میں ایک جگہ پہنچ کر بیٹھ گیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سواری پر سوار ہوئے تو میں نے آپ کو آپ کے حلیہ کی وجہ سے پہنچانا۔ اسی دوران ایک آدمی جو ان سے آگے تھا کہنے لگا کہ سواریوں کے راستے سے ہٹ جاؤ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو سکتا ہے کہ اسے کوئی کام ہو چنانچہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب ہوا کہ دونوں سواریوں کے سر ایک دوسرے کے قریب آگئے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجیے جو مجھے جنت میں داخل کر سکے اور جہنم سے نجات کا سبب بن جائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ واہ میں نے خطبہ میں اختصار سے کام لیا تھا اور تم نے بہت عمدہ سوال کیا اگر تم سمجھ دار ہوئے تو تم صرف اللہ کی عبادت کرنا اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا نماز قائم کرنا ، بیت اللہ کا حج کرنا ماہ رمضان کے روزے رکھنا اب سواریوں کے لئے راستہ چھوڑ دو۔

أَبِيهِ ← الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ، ← عَمْرِو بْنِ حَسَّانَ يَعْنِي الْمُسْلِيَّ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 15978

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25759

حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا دَوُادُ يَعْنِي الْعَطَّارَ حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعَ النَّاسُ مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس وقت رخصت ہوئے جب لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کھجور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔

تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ حِينَ شَبِعَ النَّاسُ مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← أُمِّهِ2، ← مَنْصُورٌ، ← دَوُادُ يَعْنِي الْعَطَّارَ ← أَبُو النَّضْرِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25759

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25820

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْهُ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ حِينَ يَطِيبُ أَوَّلُ التَّمْرِ وَقَالَ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خیبر کے متعلق مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو یہودیوں کے پاس بھیجتے تھے، جب کھجور کھانے کے قابل ہو جاتی تو وہ اس کا اندازہ لگاتے تھے، پھر یہودیوں کو اس بات کا اختیار دے دیتے تھے کہ وہ اس اندازے کے مطابق اسے لیتے ہیں یا مسلمانوں کو دیتے ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اندازہ لگانے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ پھل کھانے اور الگ کرنے سے پہلے زکوۃ کا حساب لگا لیا جائے۔

حِينَ يَطِيبُ أَوَّلُ التَّمْرِ وَقَالَ قَبْلَ أَنْ تُؤْكَلَ الثِّمَارُ ← وَهِيَ تَذْكُرُ شَأْنَ خَيْبَرَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ ← عَائِشَةَ أَنَّهَا ← عُرْوَةَ ← ابْنِ شِهَابٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْهُ ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25820

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 25849

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْفُثُ عَلَى نَفْسِهِ فِي الْمَرَضِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ مِنْهُ بِالْمُعَوِّذَاتِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مرض الوفات میں"معوذات" پڑھ پڑھ کر اپنے اوپر دم کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← عُرْوَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 25849

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16084

قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي حَرْبٍ أَنَّ طَلْحَةَ حَدَّثَهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ لِي بِهَا مَعْرِفَةٌ فَنَزَلْتُ فِي الصُّفَّةِ مَعَ رَجُلٍ فَكَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ كُلَّ يَوْمٍ مُدٌّ مِنْ تَمْرٍ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ الصُّفَّةِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَحْرَقَ بُطُونَنَا التَّمْرُ وَتَخَرَّقَتْ عَنَّا الْخُنُفُ فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَ ثُمَّ قَالَ وَاللَّهِ لَوْ وَجَدْتُ خُبْزًا أَوْ لَحْمًا لَأَطْعَمْتُكُمُوهُ أَمَا إِنَّكُمْ تُوشِكُونَ أَنْ تُدْرِكُوا وَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ أَنْ يُرَاحَ عَلَيْكُمْ بِالْجِفَانِ وَتَلْبَسُونَ مِثْلَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ قَالَ فَمَكَثْتُ أَنَا وَصَاحِبِي ثَمَانِيَةَ عَشَرَ يَوْمًا وَلَيْلَةً مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْبَرِيرَ حَتَّى جِئْنَا إِلَى إِخْوَانِنَا مِنْ الْأَنْصَارِ فَوَاسَوْنَا وَكَانَ خَيْرَ مَا أَصَبْنَا هَذَا التَّمْرُ

حضرت طلحہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ میں حاضر ہوا میری وہاں کوئی جان پہچان نہ تھی چنانچہ میں ایک آدمی کے ساتھ صفہ نامی چبوترے پر آکر پڑ گیا میں اور وہ روزانہ صرف ایک مد کھجور اپنے درمیان تقسیم کرلیتے تھے ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی نماز سے فارغ ہو کر اصحاب صفہ میں سے ایک آدمی کہنے لگا یا رسول اللہ کھجوروں نے ہمارے پیٹ میں آگ لگا دی ہے اور ہمارے جسم پر دانے نکل آئے ہیں اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر رونق افروز ہوئے اور خطبہ دیتے ہوئے فرمایا واللہ اگر میرے اپنے پاس روٹی گوشت ہوتا تو وہ بھی تمہیں کھلا دیتا عنقریب تمہیں یہ سب چیزیں ملیں گے کہ تمہارے پاس بڑے بڑے پیالے ہوں گے اور غلام کعبہ جیسے کپڑے پہننے کے لئے تمہارے پاس ہوں گے اس کے بعد صرف اٹھارہ دن ہمارے ساتھ غم خواری کی اس وقت تک ہمیں جو سب سے بہترین چیز ملی تھی وہ یہی کھجور تھی۔

أَبِي حَرْبٍ، ← دَاوُدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي هِنْدٍ ← أَبِي ← عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16084

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21613

حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسَيَّبِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ كَانَ أَبُو ذَرٍّ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فُرِجَ سَقْفُ بَيْتِي وَأَنَا بِمَكَّةَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهُ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئٍ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ بِي إِلَى السَّمَاءِ فَلَمَّا جَاءَ السَّمَاءَ الدُّنْيَا فَافْتَتَحَ فَقَالَ مَنْ هَذَا قَالَ جِبْرِيلُ قَالَ هَلْ مَعَكَ أَحَدٌ قَالَ نَعَمْ مَعِي مُحَمَّدٌ قَالَ أُرْسِلَ إِلَيْهِ قَالَ نَعَمْ فَافْتَحْ فَلَمَّا عَلَوْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا إِذَا رَجُلٌ عَنْ يَمِينِهِ أَسْوِدَةٌ وَعَنْ يَسَارِهِ أَسْوِدَةٌ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ تَبَسَّمَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَسَارِهِ بَكَى قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ قَالَ قُلْتُ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا آدَمُ وَهَذِهِ الْأَسْوِدَةُ عَنْ يَمِينِهِ وَشِمَالِهِ نَسَمُ بَنِيهِ فَأَهْلُ الْيَمِينِ هُمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ وَالْأَسْوِدَةُ الَّتِي عَنْ شِمَالِهِ أَهْلُ النَّارِ فَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ يَمِينِهِ ضَحِكَ وَإِذَا نَظَرَ قِبَلَ شِمَالِهِ بَكَى قَالَ ثُمَّ عَرَجَ بِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام حَتَّى جَاءَ السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ فَقَالَ لِخَازِنِهَا افْتَحْ فَقَالَ لَهُ خَازِنُهَا مِثْلَ مَا قَالَ خَازِنُ السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَفَتَحَ لَهُ قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ فِي السَّمَوَاتِ آدَمَ وَإِدْرِيسَ وَمُوسَى وَعِيسَى وَإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمْ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَلَمْ يُثْبِتْ لِي كَيْفَ مَنَازِلُهُمْ غَيْرَ أَنَّهُ ذَكَرَ أَنَّهُ وَجَدَ آدَمَ فِي السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَإِبْرَاهِيمَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ قَالَ أَنَسٌ فَلَمَّا مَرَّ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِدْرِيسَ قَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قَالَ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِدْرِيسُ قَالَ ثُمَّ مَرَرْتُ بِمُوسَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا مُوسَى ثُمَّ مَرَرْتُ بِعِيسَى فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالْأَخِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَالَ ثُمَّ مَرَرْتُ بِإِبْرَاهِيمَ فَقَالَ مَرْحَبًا بِالنَّبِيِّ الصَّالِحِ وَالِابْنِ الصَّالِحِ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالَ هَذَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ ابْنُ شِهَابٍ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَزْمٍ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا حَبَّةَ الْأَنْصَارِيَّ يَقُولَانِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ عُرِجَ بِي حَتَّى ظَهَرْتُ بِمُسْتَوًى أَسْمَعُ صَرِيفَ الْأَقْلَامِ قَالَ ابْنُ حَزْمٍ وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَضَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى أُمَّتِي خَمْسِينَ صَلَاةً قَالَ فَرَجَعْتُ بِذَلِكَ حَتَّى أَمُرَّ عَلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ مَاذَا فَرَضَ رَبُّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عَلَى أُمَّتِكَ قُلْتُ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسِينَ صَلَاةً فَقَالَ لِي مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام رَاجِعْ رَبَّكَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ فَرَاجَعْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَوَضَعَ شَطْرَهَا فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ فَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ ذَلِكَ قَالَ فَرَاجَعْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ هِيَ خَمْسٌ وَهِيَ خَمْسُونَ لَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ قَالَ فَرَجَعْتُ إِلَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام فَقَالَ رَاجِعْ رَبَّكَ فَقُلْتُ قَدْ اسْتَحْيَيْتُ مِنْ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ ثُمَّ انْطَلَقَ بِي حَتَّى أَتَى بِي سِدْرَةَ الْمُنْتَهَى قَالَ فَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ مَا أَدْرِي مَا هِيَ قَالَ ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا فِيهَا جَنَابِذُ اللُّؤْلُؤِ وَإِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ هَذَا آخِرُ مُسْنَدِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ معراج بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جس زمانے میں میں مکہ مکرمہ میں تھا ایک رات میرے گھر کی چھت کھل گئی اور حضرت جبرائیل علیہ السلام نیچے اترے انہوں نے میرا سینہ چاک کیا اسے آب زمزم سے دھویا پھر سونے کی ایک طشتری لائے جو ایمان وحکمت سے بھرپور تھی اور اسے میرے سینے میں انڈیل کر اسے بند کر دیا پھر میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے آسمانوں پر لے گئے اور آسمان دنیا پر پہنچ کر دروازہ بجایا اندر سے کسی نے پوچھا کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا جبرائیل ہوں ، اس نے پوچھا کیا آپ کے ساتھ کوئی اور بھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ! میرے ساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، اس نے پوچھا کیا انہیں بلایا گیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ہاں دروازہ کھولو جب ہم وہاں پہنچے تو ایک آدمی نظر آیا جس کے دائیں بائیں کچھ لوگ بھی تھے دائیں طرف جب وہ دیکھتا تو مسکراتا اور بائیں طرف دیکھتا تو رونے لگتا، اس نے مجھے دیکھ کر " خوش آمدید" نیک نبی اور نیک بیٹے کو " کہا میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون ہیں ؟ انہوں نے بتایا کہ یہ حضرت آدم علیہ السلام ہیں اور یہ جو دائیں بائیں لوگ نظر آرہے ہیں ، وہ ان کی اولاد کی روحیں ہیں دائیں ہاتھ والے جنتی ہیں اور بائیں ہاتھ والے جہنمی ہیں ۔ پھر جبرائیل علیہ السلام مجھے دوسرے آسمان پر لے گئے اور اس کے دربان سے دروازے کھولنے کے لئے کہا اور یہاں بھی حسب سابق سوال وجواب ہوئے حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت ابی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ آسمانوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت آدم ، ادریس ، موسی ، عیسیٰ اور ابراہیم علیہم السلام سے ملاقات کی لیکن انہوں نے آسمانوں کی تعین نہیں کی صرف اتنا ہی ذکر کیا کہ آسمان دنیا میں حضرت آدم علیہ السلام کو پایا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھٹے آسمان پر پایا۔ جب حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس سے گذرے تو انہوں نے کہا " نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید " میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا یہ حضرت ادریس علیہ السلام ہیں پھر میں حضرت موسی علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا " نیک نبی اور نیک بھائی خوش آمدید " میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں پھر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا " نیک نبی اور نیک بھائی کو خوش آمدید " میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہیں پھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گذرا تو انہوں نے کہا " نیک نبی اور نیک بیٹے کو خوش آمدید " میں نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہیں پھر مجھے مزید اوپر لے جایا گیا یہاں تک کہ میں ایسے مقام پر پہنچ گیا جہاں میں قلموں کے چلنے کی آواز سن رہا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر میری امت پر پچاس نمازیں فرض کیں میں اس تحفے کو لے کر واپس ہوا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گذر ہوا انہوں نے پوچھا کہ آپ کے رب نے آپ کی امت پر کیا فرض کیا؟ میں نے انہیں بتایا کہ پچاس نمازیں فرض کی ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مجھ سے کہا کہ اپنے رب کے پاس واپس جائیے آپ کی امت میں اتنی نمازیں ادا کرنے کی طاقت نہیں ہوگی چنانچہ میں نے اپنے رب کے پاس واپس جا کر اس سے درخواست کی تو اس نے اس کا کچھ حصہ معاف کر دیا (جو بالآخر ہوتے ہوتے پانچ نمازوں پر رک گیا) لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر واپس جانے کا مشورہ دیا اس مرتبہ ارشاد ہوا کہ نمازیں پانچ ہیں اور ان پر ثواب پچاس کا ہے میرے یہاں بات بدلا نہیں کرتی واپسی پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے مجھے پھر تخفیف کرانے کا مشورہ دیا لیکن میں نے ان سے کہہ دیا کہ اب مجھے اپنے رب سے شرم آتی ہے پھر مجھے سدرۃ المنتہی پر لے جایا گیا جیسے ایسے رنگوں نے ڈھانپ رکھا تھا جن کی حقیقت مجھے معلوم نہیں پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو وہاں موتیوں کے خیمے نظر آئے اور وہاں کی مٹی مشک تھی۔

أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ:‏‏‏‏ كَانَ أَبُو ذَرٍّ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ ← أَنَسَ بْنَ عِيَاضٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْمُسَيَّبِيُّ ← عَبْدُ اللَّهِ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21613

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26006

حَدَّثَنَا يَزِيدُ قَالَ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ الشَّهْرُ مَا يُرَى فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ الدُّخَانُ قُلْتُ يَا أُمَّهْ وَمَا كَانَ طَعَامُهُمْ قَالَتْ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَاءُ غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ جِيرَانُ صِدْقٍ مِنْ الْأَنْصَارِ وَكَانَ لَهُمْ رَبَائِبُ فَكَانُوا يَبْعَثُونَ إِلَيْهِ مِنْ أَلْبَانِهَا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گزر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے، اور ہمارے گزارے کے لئے صرف دو ہی چیزیں ہوتی تھیں یعنی پانی اور کجھور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے، اللہ انہیں ہمیشہ جزائے خیر دے، کہ وہ روزانہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنی بکری کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسے نوش فرما لیا کرتے تھے۔

عَائِشَةَ ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ← يَزِيدُ:

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26006

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16190

قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُشْتَرَى بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا قَالَ سُفْيَانُ قَالَ لِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَمَا عِلْمُ أَهْلِ مَكَّةَ بِالْعَرَايَا قُلْتُ أَخْبَرَهُمْ عَطَاءٌ سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ

حضرت سہل بن ابی حثمہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پکے ہوئے پھل کی درخت پر لگے ہوئے پھل کے بدلے بیع سے منع فرمایا ہے اور عرایا میں اندازے سے خریدنے کی اجازت دی ہے تاکہ اس کے اہل خانہ بھی تر کھجور کھا سکیں۔

عَطَاءٌ سَمِعَهُ مِنْ جَابِرٍ ← لِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَمَا عِلْمُ أَهْلِ مَكَّةَ بِالْعَرَايَا قُلْتُ ← سُفْيَانَ، ← بَيْعِ التَّمْرِ بِالتَّمْرِ وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُشْتَرَى بِخَرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، ← بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16190

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21653

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا آنِيَةُ الْحَوْضِ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَآنِيَتُهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ وَكَوَاكِبِهَا فِي اللَّيْلَةِ الْمُظْلِمَةِ الْمُصْحِيَةِ آنِيَةُ الْجَنَّةِ مَنْ شَرِبَ مِنْهَا لَمْ يَظْمَأْ آخِرَ مَا عَلَيْهِ يَشْخَبُ فِيهِ مِيزَابَانِ مِنْ الْجَنَّةِ مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ مَا بَيْنَ عَمَّانَ إِلَى أَيْلَةَ مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ اللَّبَنِ وَأَحْلَى مِنْ الْعَسَلِ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا کہ حوض کوثر پر کتنے برتن ہوں گے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تاریک رات میں آسمان کے نجوم و کواکب کی تعداد سے بھی زیادہ اس کے برتن ہوں گے وہ جنت کے برتن ہوں گے جو شخص اس حوض کا پانی ایک مرتبہ پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا اس پر جنت کے دو پرنالے بہہ رہے ہوں گے جو اس کا پانی پی لے گا اسے دوبارہ کبھی پیاس نہ لگے گی ۔ اس کی چوڑائی بھی لمبائی کے برابر ہوگی اور اس کی مسافت اتنی ہوگی جتنی عمان سے ایلہ تک ہے اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ شیریں ہوگا۔

قُلْتُ ← اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21653

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26147

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے اس وقت رخصت ہوئے جب ہم لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کجھور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔

تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِ ← عَائِشَةَ ← أُمِّهِ2، ← مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26147

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26259

حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ امْسَحْ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكِ الشِّفَاءُ لَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا أَنْتَ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے " اے لوگوں کے رب! شفاء تیرے ہی قبضے میں ہے، اس بیماری کو تیرے علاوہ کوئی بھی دور نہیں کر سکتا "۔

امْسَحِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ بِيَدِكَ الشِّفَاءُ لاَ كَاشِفَ لَهُ إِلاَّ أَنْتَ. ← كَانَ النَّبِيُّ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← وَكِيعٌ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26259

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 16352

قَالَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا رَوْحٌ قَالَ حَدَّثَنَا بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ قَالَ أَبِي لَقَدْ عَمَّرْنَا مَعَ نَبِيِّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ ثُمَّ قَالَ هَلْ تَدْرِي مَا الْأَسْوَدَانِ قُلْتُ لَا قَالَ التَّمْرُ وَالْمَاءُ

حضرت قرہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک وقت ایسابھی گذارا بھی ہے کہ ہمارے پاس کھانے کے لئے اسودین کے علاوہ کچھ نہ ہوتا تھا پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اسودین سے کیا مراد ہے میں نے کہا نہیں فرمایا کھجور اور پانی۔

التَّمْرُ وَالْمَاءُ. ← هَلْ تَدْرِي مَا الْأَسْوَدَانِ قُلْتُ لَا ← أَبِي لَقَدْ عَمَّرْنَا مَعَ نَبِيِّنَا وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ ثُمَّ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ← بِسْطَامُ بْنُ مُسْلِمٍ ← رَوْحٌ، ← سُلَیْمَانَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 16352

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 26321

حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَاءِ وَالتَّمْرِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے رخصت ہوئے جب ہم لوگ دو سیاہ چیزوں یعنی پانی اور کجھور سے اپنا پیٹ بھرتے تھے۔

تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَاءِ وَالتَّمْرِ ← عَائِشَةَ ← أُمِّهِ2، ← مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 26321

مسند امام احمد بن حنبل · کتاب ‹ باب · حديث 21858

حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَامِتٍ قَالَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غِفَارٍ وَكَانُوا يُحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ وَأُمُّنَا فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا عَلَى خَالٍ لَنَا ذِي مَالٍ وَذِي هَيْئَةٍ فَأَكْرَمَنَا خَالُنَا فَأَحْسَنَ إِلَيْنَا فَحَسَدَنَا قَوْمُهُ فَقَالُوا إِنَّكَ إِذَا خَرَجْتَ عَنْ أَهْلِكَ خَلَفَكَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ فَجَاءَنَا خَالُنَا فَنَثَا عَلَيْهِ مَا قِيلَ لَهُ فَقُلْتُ أَمَّا مَا مَضَى مِنْ مَعْرُوفِكَ فَقَدْ كَدَّرْتَهُ وَلَا جِمَاعَ لَنَا فِيمَا بَعْدُ قَالَ فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا وَتَغَطَّى خَالُنَا ثَوْبَهُ وَجَعَلَ يَبْكِي قَالَ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ قَالَ فَنَافَرَ أُنَيْسٌ رَجُلًا عَنْ صِرْمَتِنَا وَعَنْ مِثْلِهَا فَأَتَيَا الْكَاهِنَ فَخَيَّرَ أُنَيْسًا فَأَتَانَا بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِهَا وَقَدْ صَلَّيْتُ يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ سِنِينَ قَالَ فَقُلْتُ لِمَنْ قَالَ لِلَّهِ قَالَ قُلْتُ فَأَيْنَ تَوَجَّهُ قَالَ حَيْثُ وَجَّهَنِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ وَأُصَلِّي عِشَاءً حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ كَأَنِّي خِفَاءٌ قَالَ أَبِي قَالَ أَبُو النَّضْرِ قَالَ سُلَيْمَانُ كَأَنِّي خِفَاءٌ حَتَّى تَعْلُوَنِي الشَّمْسُ قَالَ فَقَالَ أُنَيْسٌ إِنَّ لِي حَاجَةً بِمَكَّةَ فَاكْفِنِي حَتَّى آتِيَكَ قَالَ فَانْطَلَقَ فَرَاثَ عَلَيَّ ثُمَّ أَتَانِي فَقُلْتُ مَا حَبَسَكَ قَالَ لَقِيتُ رَجُلًا يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَهُ عَلَى دِينِكَ قَالَ فَقُلْتُ مَا يَقُولُ النَّاسُ لَهُ قَالَ يَقُولُونَ إِنَّهُ شَاعِرٌ وَسَاحِرٌ وَكَاهِنٌ قَالَ وَكَانَ أُنَيْسٌ شَاعِرًا قَالَ فَقَالَ قَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكُهَّانِ فَمَا يَقُولُ بِقَوْلِهِمْ وَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَى أَقْرَاءِ الشِّعْرِ فَوَاللَّهِ مَا يَلْتَامُ لِسَانُ أَحَدٍ أَنَّهُ شِعْرٌ وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ هَلْ أَنْتَ كَافِيَّ حَتَّى أَنْطَلِقَ فَأَنْظُرَ قَالَ نَعَمْ فَكُنْ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ عَلَى حَذَرٍ فَإِنَّهُمْ قَدْ شَنِفُوا لَهُ وَتَجَهَّمُوا لَهُ وَقَالَ عَفَّانُ شِيفُوا لَهُ وَقَالَ بَهْزٌ سَبَقُوا لَهُ وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ شَفَوْا لَهُ قَالَ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى قَدِمْتُ مَكَّةَ فَتَضَعَّفْتُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَقُلْتُ أَيْنَ هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئَ قَالَ فَأَشَارَ إِلَيَّ قَالَ الصَّابِئُ قَالَ فَمَالَ أَهْلُ الْوَادِي عَلَيَّ بِكُلِّ مَدَرَةٍ وَعَظْمٍ حَتَّى خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَيَّ فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ كَأَنِّي نُصُبٌ أَحْمَرُ فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ فَشَرِبْتُ مِنْ مَائِهَا وَغَسَلْتُ عَنِّي الدَّمَ فَدَخَلْتُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا فَلَبِثْتُ بِهِ ابْنَ أَخِي ثَلَاثِينَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سَخْفَةَ جُوعٍ قَالَ فَبَيْنَا أَهْلُ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَاءَ أَضْحِيَانٍ وَقَالَ عَفَّانُ أَصْخِيَانٍ وَقَالَ بَهْزٌ أَصْخِيَانٍ وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ فَضَرَبَ اللَّهُ عَلَى أَصْمِخَةِ أَهْلِ مَكَّةَ فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ غَيْرُ امْرَأَتَيْنِ فَأَتَتَا عَلَيَّ وَهُمَا تَدْعُوَانِ إِسَافَ وَنَائِلَ قَالَ فَقُلْتُ أَنْكِحُوا أَحَدَهُمَا الْآخَرَ فَمَا ثَنَاهُمَا ذَلِكَ قَالَ فَأَتَتَا عَلَيَّ فَقُلْتُ وَهَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَةِ غَيْرَ أَنِّي لَمْ أُكَنِّ قَالَ فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلَانِ وَتَقُولَانِ لَوْ كَانَ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا قَالَ فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا هَابِطَانِ مِنْ الْجَبَلِ فَقَالَ مَا لَكُمَا فَقَالَتَا الصَّابِئُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا قَالَا مَا قَالَ لَكُمَا قَالَتَا قَالَ لَنَا كَلِمَةً تَمْلَأُ الْفَمَ قَالَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَصَاحِبُهُ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ صَلَّى قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ أَهْلِ الْإِسْلَامِ فَقَالَ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ اللَّهِ مِمَّنْ أَنْتَ قَالَ قُلْتُ مِنْ غِفَارٍ قَالَ فَأَهْوَى بِيَدِهِ فَوَضَعَهَا عَلَى جَبْهَتِهِ قَالَ فَقُلْتُ فِي نَفْسِي كَرِهَ أَنِّي انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ قَالَ فَأَرَدْتُ أَنْ آخُذَ بِيَدِهِ فَقَذَعَنِي صَاحِبُهُ وَكَانَ أَعْلَمَ بِهِ مِنِّي قَالَ مَتَى كُنْتَ هَاهُنَا قَالَ كُنْتُ هَاهُنَا مُنْذُ ثَلَاثِينَ مِنْ بَيْنِ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ قَالَ فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ قُلْتُ مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلَّا مَاءُ زَمْزَمَ قَالَ فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَ عُكَنُ بَطْنِي وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ وَإِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ قَالَ أَبُو بَكْرٍ ائْذَنْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ قَالَ فَفَعَلَ قَالَ فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَانْطَلَقَ أَبُو بَكْرٍ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا حَتَّى فَتَحَ أَبُو بَكْرٍ بَابًا فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ قَالَ فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ طَعَامٍ أَكَلْتُهُ بِهَا فَلَبِثْتُ مَا لَبِثْتُ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي قَدْ وُجِّهَتْ إِلَيَّ أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ وَلَا أَحْسَبُهَا إِلَّا يَثْرِبَ فَهَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّي قَوْمَكَ لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَنْفَعَهُمْ بِكَ وَيَأْجُرَكَ فِيهِمْ قَالَ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَتَيْتُ أُنَيْسًا قَالَ فَقَالَ لِي مَا صَنَعْتَ قَالَ قُلْتُ إِنِّي صَنَعْتُ أَنِّي أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ قَالَ قَالَ فَمَا لِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكَ إِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ثُمَّ أَتَيْنَا أُمَّنَا فَقَالَتْ فَمَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكُمَا فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ فَتَحَمَّلْنَا حَتَّى أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا فَأَسْلَمَ بَعْضُهُمْ قَبْلَ أَنْ يَقْدَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَقَالَ يَعْنِي يَزِيدَ بِبَغْدَادَ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِذَا قَدِمَ فَقَالَ بَهْزٌ إِخْوَانُنَا نُسْلِمُ وَكَذَا قَالَ أَبُو النَّضْرِ وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ خُفَافُ بْنُ إِيمَاءِ بْنِ رَحَضَةَ الْغِفَارِيُّ وَكَانَ سَيِّدَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَقَالَ بَقِيَّتُهُمْ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْلَمْنَا فَقَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَأَسْلَمَ بَقِيَّتُهُمْ قَالَ وَجَاءَتْ أَسْلَمُ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِخْوَانُنَا نُسْلِمُ عَلَى الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ فَأَسْلَمُوا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ وَقَالَ بَهْزٌ وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ إِيمَاءُ بْنُ رَحَضَةَ فَقَالَ أَبُو النَّضْرِ إِيمَاءٌ

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم اپنی قوم غفار سے نکلے اور وہ حرمت والے مہینے کو بھی حلال جانتے تھے۔ پس میں اور میرا بھائی انیس اور ہماری والدہ نکلے ہم ماموں کے ہاں اترے جو بڑے مالدار اور اچھی حالت میں تھے ہمارے ماموں نے ہمارا اعزاز و اکرام کیا اور خوب خاطر مدارت کی جس کی وجہ سے ان کی قوم نے ہم پر حسد کیا اور انہوں نے کہا (ماموں سے) کہ جب تو اپنے اہل سے نکل کر جاتا ہے تو انیس ان سے بدکاری کرتا ہے ہمارے ماموں آئے اور ان سے جو کچھ کہا گیا تھا وہ الزام ہم پر لگایا، میں نے کہا کہ آپ نے ہمارے ساتھ جو احسان و نیکی کی تھی اسے اس الزام کی وجہ سے خراب کر دیا ہے پس اب اس کے بعد ہمارا آپ سے تعلق اور نبھاؤ نہیں ہوسکتا چنانچہ ہم اپنے اونٹوں کے قریب آئے اور ان پر اپنا سامان سوار کیا اور ہمارے ماموں نے کپڑا ڈال کر رونا شروع کر دیا، اور ہم چل پڑے یہاں تک کہ مکہ کے قریب پہنچے پھر پس انیس ہمارے اونٹوں میں مزید اتنے ہی اور اونٹوں کو لے کر آیا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات سے تین سال پہلے سے ہی اے بھتیجے نماز پڑھا کرتا تھا حضرت عبداللہ بن صامت کہتے ہیں میں نے کہا کس کی رضا کے لیے؟ انہوں نے کہا اللہ کی رضا کے لئے ، میں نے کہا آپ اپنا رخ کس طرف کرتے تھے ؟ انہوں نے کہ جہاں میرا رب میرا رخ کر دیتا اسی طرف میں عشاء کی نماز ادا کر لیتا تھا یہاں تک کہ جب رات کا آخری حصہ ہوتا تو میں اپنے آپ کو اس طرح ڈال لیتا گویا کہ میں چادر ہی ہوں یہاں تک کہ سورج بلند ہوجاتا۔ انیس نے کہا مجھے مکہ میں ایک کام ہے تو میرے معاملات کی دیکھ بھال کرنا چنانچہ انیس چلا یہاں تک کہ مکہ آیا اور کچھ عرصہ کے بعد واپس آیا تو میں نے کہا تونے کیا کیا اس نے کہا میں مکہ میں ایک آدمی سے ملا جو تیرے دین پر ہے اور دعوی کرتا ہے کہ اللہ نے اسے (رسول بنا کر) بھیجا ہے میں نے کہا لوگ کیا کہتے ہیں ؟ اس نے کہا کہ لوگ اسے شاعر کاہن اور جادوگر کہتے ہیں اور انیس خود شاعروں میں سے تھا انیس نے کہا، میں کاہنوں کی باتیں سن چکا ہوں لیکن اس کا کلام کاہنوں جیسا نہیں ہے اور تحقیق میں نے اس کے اقوال کا شعراء کے اشعار سے بھی موازنہ کیا لیکن کسی شخص کی زبان پر ایسے شعر بھی نہیں ہیں ، اللہ کی قسم ! وہ سچا ہے اور دوسرے لوگ جھوٹے ہیں میں نے کہا تم میرے معاملات کی نگرانی کرو یہاں تک کہ میں جا کر دیکھ آؤں چنانچہ میں مکہ آیا اور ان میں سے ایک کمزور آدمی سے مل کر پوچھا وہ کہاں ہے جسے تم صابی کہتے ہو؟ پس اس نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، یہ دین بدلنے والا ہے ، وادی والوں میں سے ہر ایک یہ سنتے ہی مجھ پر ڈھیلوں اور ہڈیوں کے ساتھ ٹوٹ پڑا یہاں تک کہ میں بے ہوش ہو کر گر پڑا، پس جب میں بیہوشی سے ہوش میں آکر اٹھا تو میں گویا سرخ بت (خون میں لت پت) تھا۔ میں زمزم کے پاس آیا اور اپنا خون دھویا پھر اس کا پانی پیا اور میں اے بھتیجے ! تیس رات اور دن وہاں ٹھہرا رہا اور میرے پاس زمزم کے پانی کے سوا کوئی خوارک نہ تھی ، پس میں موٹا ہوگیا یہاں تک کہ میرے پیٹ کی سلوٹیں بھی ختم ہوگئیں اور نہ ہی میں نے اپنے جگر میں بھوک کی وجہ سے گرمی محسوس کی ۔ اسی دوران ایک چاندنی رات میں جب اہل مکہ سوگئے اور اس وقت کوئی بھی بیت اللہ کا طواف نہیں کرتا تھا صرف دو عورتیں اساف اور نائلہ (بتوں ) کو پکار رہی تھیں جب وہ اپنے طواف کے دوران میرے قریب آئیں تو میں نے کہا اس میں سے ایک (بت) کا دوسرے کے ساتھ نکاح کردو (اساف مرد اور نائلہ عورت تھی اور باعتقاد مشرکین مکہ یہ دونوں زنا کرتے وقت مسخ ہو کر بت ہوگئے تھے ) لیکن وہ اپنی بات سے باز نہ آئیں پس جب وہ میرے قریب آئیں تو میں نے بغیر کنایہ اور اشارہ کے یہ کہہ دیا کہ فلاں کے (فرج میں ) لکڑی، پس وہ چلاتی ہوئی تیزی سے بھاگ گئیں کہ کاش اس وقت ہمارے لوگوں میں سے کوئی موجود ہوتا، راستہ میں انہیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ پہاڑی سے اترتے ہوئے ملے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ انہوں نے کہا کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان ایک دین کو بدلنے والا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس نے کیا کہا ہے ؟ انہوں نے کہا اس نے ہمیں ایسی بات کہی ہے جو منہ کو بھر دیتی ہے یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھی کے ہمراہ آئے ، حجر اسود کا استلام کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھی نے طواف کیا پھر نماز ادا کی ، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں وہ پہلا آدمی تھا جس نے اسلام کے طریقہ کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا میں نے کہا اے اللہ کے رسول! آپ پر سلام ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر بھی سلامتی اور اللہ کی رحمتیں ہوں ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا میں قبیلہ غفار سے ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا ہاتھ اٹھایا اور اپنی انگلیاں پیشانی پر رکھیں ، میں نے اپنے دل میں کہا کہ آپ کو میرا قبیلہ غفار سے ہونا ناپسند ہوا ہے ، پس میں آپ کا ہاتھ پکڑنے کے لئے آگے بڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی نے مجھے پکڑ لیا اور وہ مجھ سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں واقفیت رکھتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا تم یہاں کب سے ہو؟ میں نے عرض کیا میں یہاں تیس دن رات سے ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کھانا کون کھلاتا ہے ؟ میں نے عرض کیا میرے لئے زمزم کے پانی کے علاوہ کوئی کھانا نہیں پس اسی سے موٹا ہوگیا ہوں ، یہاں تک کہ میرے پیٹ کے بل مڑگئے ہیں اور میں اپنے جگر میں بھوک کی وجہ سے گرمی بھی محسوس نہیں کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پانی بابرکت ہے اور کھانے کی طرح پیٹ بھی بھر سکتا ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اس کے رات کے کھانے کی اجازت مجھے دے دیں ، چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ چلے اور میں بھی ان کے ساتھ چلا، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دروازہ کھولا اور میرے لئے طائف کی کشمش نکالنے لگے اور یہ میرا پہلا کھانا تھا جو میں نے مکہ میں کھایا پھر میں رہا جب تک رہا پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مجھے کھجوروں والی زمین دکھائی گئی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ یثرب (مدینہ) کے علاوہ کوئی اور علاقہ نہیں ہے کیا تم میری طرف سے اپنی قوم کو (دین اسلام کی ) تبلیغ کرو گے عنقریب اللہ انہیں تمہاری وجہ سے فائدہ عطا کرے گا اور تمہیں ثواب عطا کیا جائے گا۔ پھر میں انیس کے پاس آیا تو اس نے کہا تونے کیا کیا؟ میں نے کہا میں اسلام قبول کرچکا ہوں اور (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی) تصدیق کرچکا ہوں ۔ اس نے کہا میں تمہارے دین سے اعراض نہیں کرتا بلکہ میں بھی مسلمان ہوتا ہوں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کرتا ہوں پھر ہم اپنی والدہ کے پاس آئے تو انہوں نے کہا کہ مجھے تم دونوں کے دین سے نفرت نہیں ، میں بھی اسلام قبول کرتی اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تصدیق کرتی ہوں ، پھر ہم نے اپنا سامان لادا اور اپنی قوم غفار کے پاس آئے تو ان میں سے آدھے لوگ مسلمان ہوگئے اور ان کی امامت ان کے سردار خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری کراتے تھے اور باقی آدھے لوگوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائیں گے تو ہم مسلمان ہوجائیں گے چنانچہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو باقی آدھے لوگ بھی مسلمان ہوگئے اور قبیلہ اسلم کے لوگ بھی حاضر ہوئے اور انہوں نے نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ہم بھی اس بات پر اسلام قبول کرتے ہیں جس پر ہمارے بھائی مسلمان ہوئے ہیں پس وہ بھی مسلمان ہوگئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قبیلہ غفار کی اللہ بخشش فرمائے اور قبیلہ اسلم کو اللہ سلامت رکھے۔

عبد الله بن صامت ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Musnad Imam Ahmad Bin Hanble · Book › Chapter · Hadith 21858

chevron_left Previous
1…303132…647
Next chevron_right