Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المعاملات والتجارة

Business & Transactions

25059 hadiths

سنن دارمی · من كتاب الاستئذان ‹ باب · حديث 2725

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَلِيٍّ قَالَ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى وَضَعَ قَدَمَهُ بَيْنِي وَبَيْنَ فَاطِمَةَ فَعَلَّمَنَا مَا نَقُولُ إِذَا أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَسْبِيحَةً وَثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ تَحْمِيدَةً وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ تَكْبِيرَةً قَالَ عَلِيٌّ فَمَا تَرَكْتُهَا بَعْدُ فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ نے اپنا پاؤں مبارک میرے اور فاطمہ کے درمیان رکھا اور آپ نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ جب ہم بستر پر لیٹ جائیں تو ہمیں کیا پڑھنا چاہیے تینیتس مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس مرتبہ الحمدللہ اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر پڑھنا چاہیے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس دن سے میں نے کبھی اس عمل کو ترک نہیں کیا ایک شخص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ جنگ صفین کی رات بھی نہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا جنگ صفین کی رات بھی نہیں۔

عَلِيٍّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book permission › Door · Hadith 2725

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2746

أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے لئے اللہ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتا ہے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِيهِ ← عَبْدُ اللہِ بْنُ سَعِیْدِ بْنِ اَبِیْ ھنْدٍ ← إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2746

سنن دارمی · من كتاب الرقاق ‹ باب · حديث 2794

أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَنَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الدِّينُ النَّصِيحَةُ قَالَ قُلْنَا لِمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ارشاد فرمایا دین خیرخواہی کا نام ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہم نے دریافت کیا کس کے لئے یا رسول اللہ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اللہ کے لئے اس کے رسول کے لئے اس کی کتاب کے لئے مسلمانوں کے پیشواؤں اور عام مسلمانوں کے لئے خیرخواہی کا نام ہے۔

قُلْنَا لِمَنْ ← لَنَا رَسُولُ اللَّهِ الدِّينُ النَّصِيحَةُ ← ابْنِ عُمَرَ ← زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَنَافِعٍ ← هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book Al-Raqqa › Door · Hadith 2794

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3040

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ وَجَبَتْ الْحُقُوقُ لِأَهْلِهَا وَلَمْ يَجْعَلْ لِمَنْ أَسْلَمَ أَوْ أُعْتِقَ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ الْمِيرَاثُ شَيْئًا

ابراہیم بیان کرتے ہیں جب میت فوت ہوجائے تو حق حقداروں کے لے واجب ہوتا ہے اور جو شخص وراثت کی تقسیم سے پہلے اسلام قبول کرلے یا آزاد ہوجائے تو اسے کچھ نہیں ملتا۔

إِبْرَاهِيمَ، ← أَبِي مَعْشَرٍ، ← سَعِيدٌ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3040

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3047

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَوْلَى أَخٌ فِي الدِّينِ وَنِعْمَةٌ أَحَقُّ النَّاسِ بِمِيرَاثِهِ أَقْرَبُهُمْ مِنْ الْمُعْتِقِ

زہری روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آزاد کرنے والا شخص دینی اعتبار سے بھائی ہوتا ہے اور نعمت کا حق دار ہوتا ہے اور آدمی کی وراثت کا سب سے زیادہ حق دار وہ ہوگا جو آزاد کرنے والے سے سب سے زیادہ قریبی تعلق رکھتا ہو۔

الزُّهْرِيِّ، ← يُونُسَ ← سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3047

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3078

حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ الدِّيَةُ سَبِيلُهَا سَبِيلُ الْمِيرَاثِ

ابوقلابہ فرماتے ہیں دیت کی تقسیم کا طریقہ وہی ہے جو وراثت کی تقسیم کا ہے۔

الدِّيَةُ سَبِيلُهَا سَبِيلُ الْمِيرَاثِ ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← وُهَيْبٌ، ← مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3078

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3110

أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مُغِيرَةَ عَنْ الْحَارِثِ الْعُكْلِيِّ فِي رَجُلٍ أَقَرَّ عِنْدَ مَوْتِهِ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ مُضَارَبَةً وَأَلْفٍ دَيْنًا وَلَمْ يَدَعْ إِلَّا أَلْفَ دِرْهَمٍ قَالَ يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ فَإِنْ فَضَلَ فَضْلٌ كَانَ لِصَاحِبِ الْمُضَارَبَةِ

حارث عکلی ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو مرتے وقت ایک ہزار درہم مضاربت کا اعتراف کرے اور ایک ہزار روپے قرض ہونے کا اعتراف کرے اور وراثت میں صرف ایک ہزار درہم چھوڑے حارث عکلی فرماتے ہیں سب سے پہلے وہ اس کا قرض دیا جائے گا جو بچ جائے گا وہ مضاربت سے متعلق فریق وصول کریں گے۔

مُغِيرَةَ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3110

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3111

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا حَسَنٌ عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ فِي رَجُلٍ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَ مِائَةِ دِرْهَمٍ وَثَلَاثَةَ بَنِينَ فَجَاءَ رَجُلٌ يَدَّعِي مِائَةَ دِرْهَمٍ عَلَى الْمَيِّتِ فَأَقَرَّ لَهُ أَحَدُهُمْ قَالَ يَدْخُلُ عَلَيْهِمْ بِالْحِصَّةِ ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ مَا أُرَى أَنْ يَكُونَ مِيرَاثًا حَتَّى يُقْضَى الدَّيْنُ

شعبی فرماتے ہیں جو شخص فوت ہوجائے اس نے تین سو درہم چھوڑے ہوں اور تین بیٹے چھوڑے ہوں اور پھر ایک شخص آئے جو میت سے ایک سو درہم کی وصولی کا دعویدار ہو اور پھر ان تین بیٹوں میں سے کوئی اس کے حق میں اقرار کرے تو شعبی فرماتے ہیں اس بیٹے کے حصے میں اسے شامل کیا جائے گا پھر اس کے بعد شعبی نے فرمایا میرا یہ خیال ہے کہ وراثت اس وقت تک تقسیم نہیں ہوگی جب تک قرض ادانہ کر دیا جائے۔

مُطَرِّفٍ ← حَسَنٌ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3111

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3119

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ خِلَاسٍ عَنْ عَلِيٍّ قَالَ رَمَى رَجُلٌ أُمَّهُ بِحَجَرٍ فَقَتَلَهَا فَطَلَبَ مِيرَاثَهُ مِنْ إِخْوَتِهِ فَقَالَ لَهُ إِخْوَتُهُ لَا مِيرَاثَ لَكَ فَارْتَفَعُوا إِلَى عَلِيٍّ فَجَعَلَ عَلَيْهِ الدِّيَةَ وَأَخْرَجَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ

خلاس روایت کرتے ہیں ایک شخص نے اپنی ماں کو پتھر کے ذریعے مار کر قتل کر دیا پھر اس شخص نے اپنے بھائیوں سے اس خاتون کی وراثت کا طالبہ کیا تو اس کے بھائیوں نے اس سے کہا تمہیں وراثت نہیں ملے گی یہ لوگ مقدمہ لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو اس شخص نے دیت کی ادائیگی لازم قرار دی اور اسے وراثت سے محروم قرار دیا۔

رَمَى رَجُلٌ أُمَّهُ بِحَجَرٍ فَقَتَلَهَا فَطَلَبَ مِيرَاثَهُ مِنْ إِخْوَتِهِ ← عَلِيٍّ، ← خِلَاسٍ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3119

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3132

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنِي مَعْمَرٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْأَسِيرِ يُوصِي قَالَ أَجِزْ لَهُ وَصِيَّتَهُ مَا دَامَ عَلَى دِينِهِ لَمْ يَتَغَيَّرْ عَنْ دِينِهِ

جو قیدی وصیت کر دے اس کے بارے میں عمر بن عبدالعزیز نے یہ فرمایا تھا کہ ہم اس کی وصیت کو برقرار رکھیں گے جب تک وہ اپنے دین پر قائم رہے گا اور اپنے دین میں تبدیلی نہ کرے۔

دِينِهِ ← أَجِزْ لَهُ وَصِيَّتَهُ مَا دَامَ عَلَى دِينِهِ لَمْ يَتَغَيَّرْ ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي الْأَسِيرِ يُوصِي ← إِسْحَقَ بْنِ رَاشِدٍ ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَکِ ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3132

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3153

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى أَنَّ لِكُلِّ مُسْتَلْحَقٍ اسْتُلْحِقَ بَعْدَ أَبِيهِ الَّذِي ادَّعَاهُ وَرَثَتُهُ بَعْدَهُ فَقَضَى إِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ يَمْلِكُهَا يَوْمَ يَطَؤُهَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنْ اسْتَلْحَقَهُ وَلَيْسَ لَهُ مِمَّا قُسِمَ قَبْلَهُ مِنْ الْمِيرَاثِ شَيْءٌ وَمَا أَدْرَكَ مِنْ مِيرَاثٍ لَمْ يُقْسَمْ فَلَهُ نَصِيبُهُ وَلَا يَلْحَقُ إِذَا كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ أَنْكَرَهُ وَإِنْ كَانَ مِنْ أَمَةٍ لَا يَمْلِكُهَا أَوْ حُرَّةٍ عَاهَرَهَا فَإِنَّهُ لَا يَلْحَقُ وَلَا يَرِثُ وَإِنْ كَانَ الَّذِي يُدْعَى لَهُ هُوَ ادَّعَاهُ وَهُوَ وَلَدُ زِنَا لِأَهْلِ أُمِّهِ مَنْ كَانُوا حُرَّةً أَوْ أَمَةً

عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ جس شخص کا نسب مشکوک ہو اور اس کے باپ کے مرنے کے بعد اسے اس کے باپ کی طرف منسوب کرنے کا دعوی کیا جائے اور یہ دعوی مرحوم کے ورثاء کے مرنے کے بعد کریں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ اگر وہ بچہ کسی کنیز کی اولاد ہو جس کے ساتھ اس مرحوم نے صحبت کی تھی اس وقت وہ مرحوم اس کنیز کا مالک تھا تو اس بچے کانسب اس شخص کے ساتھ ثابت کیا جائے گا اور اس سے پہلے جو وراثت تقسیم ہوچکی ہو اس میں سے اس بچے کو کچھ بھی نہیں ملے گا البتہ جو وراثت ابھی تقسیم نہیں ہوئی اس میں سے اسے اس کا حصہ مل جائے گا جس شخص کے حوالے سے اس کے نسب کا دعوی کیا گیا تھا اگر وہ خود اس کا انکار کرچکا ہو تو بچے کا نسب اس سے ثابت نہیں ہوگا۔ اگر وہ بچہ کسی ایسی کنیز کی اولاد ہو جس کا وہ مرحوم شخص مالک نہیں تھا یا وہ کسی آزاد عورت کی اولاد ہو جس کے ساتھ اس مرحوم شخص نے زنا کیا تھا تو اس بچے کا نسب بھی ثابت نہیں ہوگا اور وہ بچہ وارث بھی نہیں بنے گا اگرچہ جس شخص کے ساتھ اس کا نسب ثابت کیا جا رہاہے اس نے خود اس بچے کے باپ ہونے کا دعوی کیا ہو وہ بچہ زنا کے نتیجے میں پیداہونے والا ہے اس لئے وہ اپنی ماں کے رشتہ داروں کو ملے گاخواہ وہ عورت آزاد ہو یا کنیز ہو۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، ← مُحَمَّدُ بْنُ رَاشِدٍ، ← زَيْدُ بْنُ يَحْيَى،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3153

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3165

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ عَنْ شُعْبَةَ قَالَ أَخْبَرَنِي مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ قَالَا لَا بَأْسَ بِبَيْعِ وَلَاءِ السَّائِبَةِ وَهِبَتِهِ

ابراہیم اور شعبی بیان کرتے ہیں سائبہ کی ولاء کو فروخت کرنے یا ہبہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

لَا بَأْسَ بِبَيْعِ وَلَاءِ السَّائِبَةِ وَهِبَتِهِ ← إِبْرَاهِيمَ وَالشَّعْبِيِّ ← مَنْصُورٌ، ← شُعْبَةُ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3165

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3166

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ الْقَاسِمِ قَالَ أَعْتَقَ رَجُلٌ غُلَامًا سَائِبَةً فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ وَقَالَ إِنِّي أَعْتَقْتُ غُلَامًا لِي سَائِبَةً وَهَذِهِ تَرِكَتُهُ قَالَ هِيَ لَكَ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا قَالَ فَضَعْهَا فَإِنَّ هَا هُنَا وَارِثًا كَثِيرًا

قاسم بیان کرتے ہیں ایک شخص نے ایک غلام کوسائبہ کے طور پر آزاد کردیا وہ شخص حضرت عبداللہ کے پاس آیا اور یہ بات بیان کی میں نے اپنے ایک غلام کو سائبہ کے طور پر آزاد کیا تھا یہ اس کا ترکہ ہے حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا یہ تمہیں ملے گا وہ شخص بولا مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے تو حضرت عبداللہ نے ارشاد فرمایا پھر اسے رہنے دو یہاں اس کے بہت سے وارث ہوں گے۔

فَضَعْهَا فَإِنَّ هَا هُنَا وَارِثًا كَثِيرًا ← لَا حَاجَةَ لِي فِيهَا ← هِيَ لَكَ ← إِنِّي أَعْتَقْتُ غُلَامًا لِي سَائِبَةً وَهَذِهِ تَرِكَتُهُ ← أَعْتَقَ رَجُلٌ غُلَامًا سَائِبَةً فَأَتَى عَبْدَ اللَّهِ ← الْقَاسِمِ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3166

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3197

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ يُحْرِزُ الْوَلَاءَ مَنْ يُحْرِزُ الْمِيرَاثَ

ہشام اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ولاء کا حق بھی وہی لے گا جو وراثت لینے کا حق دار ہوگا۔

يُحْرِزُ الْوَلَاءَ مَنْ يُحْرِزُ الْمِيرَاثَ ← أَبِيهِ ← هِشَامٍ ← أَبُو أُسَامَةَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3197

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3199

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے حق کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع کیا ہے۔

بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3199

سنن دارمی · من كتاب الفرائض ‹ باب · حديث 3200

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کے حق کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع کیا ہے۔

ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← شُعْبَةُ، ← مُّسْلِمٍ

Sunan Darmi · From the book of duties › Door · Hadith 3200

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3218

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ وَلَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں کسی مسلمان کو اس بات کا حق نہیں ہے کہ اس کے پاس کوئی ایسی چیز موجود ہو اس نے اس کی وصیت کرنی ہو اور وہ چیز اس کے پاس دو راتیں گزار دے ماسوائے اس کے کہ اس کی وصیت اس کے پاس تحریری موجود ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3218

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3219

حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ الْمُؤْمِنُ لَا يَأْكُلُ فِي كُلِّ بَطْنِهِ وَلَا تَزَالُ وَصِيَّتُهُ تَحْتَ جَنْبِهِ

حسن بیان کرتے ہیں مومن پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھاتا اور اس کی وصیت ہمیشہ اس کے پاس ہوتی ہے۔

الْمُؤْمِنُ لَا يَأْكُلُ فِي كُلِّ بَطْنِهِ وَلَا تَزَالُ وَصِيَّتُهُ تَحْتَ جَنْبِهِ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو الْأَشْهَبِ ← عَفَّانُ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3219

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3220

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ لِي ثُمَامَةُ بْنُ حَزْنٍ مَا فَعَلَ أَبُوكَ قُلْتُ مَاتَ قَالَ فَهَلْ أَوْصَى فَإِنَّهُ كَانَ يُقَالُ إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ كَانَ وَصِيَّتُهُ تَمَامًا لِمَا ضَيَّعَ مِنْ زَكَاتِهِ قَالَ أَبُو مُحَمَّد و قَالَ غَيْرُهُ الْقَاسِمُ بْنُ عَمْرٍو

قاسم بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ثمامہ بن حزن نے مجھ سے دریافت کیا تمہارے والد کا کیا حال ہے میں نے جواب دیا ان کا انتقال ہوگیا انہوں نے دریافت کیا انہوں نے وصیت کردی تھی کیونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ جب کوئی شخص وصیت کردیتا ہے تو اس کی زکوۃ کے حوالے سے جو کمی ہو یہ وصیت اسے پورا کردیتی ہے۔ امام دارمی فرماتے ہیں اس روایت کے راوی قاسم بن عمر رضی اللہ عنہ کو دیگر محدثین نے قاسم بن عمر رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے۔

الْقَاسِمِ بْنِ عُمَرَ ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3220

Sahih

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3221

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ كَانَ يُقَالُ مَنْ أَوْصَى بِوَصِيَّةٍ فَلَمْ يَجُرْ وَلَمْ يَحِفْ كَانَ لَهُ مِنْ الْأَجْرِ مِثْلُ مَا أَنْ لَوْ تَصَدَّقَ بِهِ فِي حَيَاتِهِ

شعبی ارشاد فرماتے ہیں جو شخص کوئی وصیت کرے اور اس میں کوئی کمی زیادتی یا ناانصافی نہ کرے تو اسے اتناہی اجر ملتا ہے جیسے وہ اپنی زندگی میں اس چیز کو صدقہ کرتا۔

الشَّعْبِيِّ، ← دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3221

chevron_left Previous
1…242526…1,253
Next chevron_right