Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المعاملات والتجارة

Business & Transactions

25059 hadiths

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3223

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ الْيَامِيِّ قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى أَوْصَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا قُلْتُ فَكَيْفَ كُتِبَ عَلَى النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أَوْ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ فَقَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ و قَالَ هُزَيْلُ بْنُ شُرَحْبِيلَ أَبُو بَكْرٍ كَانَ يَتَأَمَّرُ عَلَى وَصِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَّ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ وَجَدَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا فَخَزَمَ أَنْفَهُ بِخِزَامَةٍ

طلحہ بن مصرف یامی بیان کرتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ سے دریافت کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت کی تھی انہوں نے جواب دیا نہیں میں نے پوچھا پھر لوگوں پر وصیت کرنا لازم کیوں کیا گیا یا انہیں وصیت کرنے کا حکم کیوں دیا گیا انہوں نے جواب دیا آپ نے اللہ کی کتاب کے مطابق وصیت کی تھی۔ ہزیل بن شرحبیل بیان کرتے ہیں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کی مکمل طور پر پیروی کرتے تھے ان کی یہ خواہش تھی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی بھی حکم پائیں تو اسے اپنے ناک میں لگام کے طور پر لگائیں یعنی اس کی مکمل پیروی کریں۔

أَوْصَى بِكِتَابِ اللَّهِ و ← عَلَی النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أَوْ أُمِرُوا بِالْوَصِيَّةِ ← لا قُلْتُ فَكَيْفَ ← سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى أَوْصَى رَسُولُ اللهِ ← طلحةَ بنِ مصرفٍ الياميِّ، ← مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3223

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3224

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ قَالَ الْخَيْرُ الْمَالُ كَانَ يُقَالُ أَلْفًا فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ

قتادہ کے بارے میں منقول ہے انہوں نے یہ آیت تلاوت کی۔ تو اگر وہ بھلائی چھوڑ کر جارہا ہو تو والدین اور قریبی رشتہ داروں کے بارے میں مناسب طور پر وصیت کردے یہ بات متقین پر لازم ہے۔ قتادہ فرماتے ہیں یہاں بھلائی سے مراد مال ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ خواہ وہ ایک ہزار ہو یا اس سے زیادہ ہو۔ (وصیت کرنی چاہیے)

الْخَيْرُ الْمَالُ كَانَ يُقَالُ أَلْفًا فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ ← قَتَادَةَ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ ← هَمَّامٌ، ← يَزِيدُ:

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3224

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3225

أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّهُ أَوْصَى ذِكْرُ مَا أَوْصَى بِهِ أَوْ هَذَا ذِكْرُ مَا أَوْصَى بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ بَنِيهِ وَأَهْلَ بَيْتِهِ أَنْ اتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ وَأَوْصَاهُمْ بِمَا أَوْصَى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمْ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ وَأَوْصَاهُمْ أَنْ لَا يَرْغَبُوا أَنْ يَكُونُوا مَوَالِيَ الْأَنْصَارِ وَإِخْوَانَهُمْ فِي الدِّينِ وَأَنَّ الْعِفَّةَ وَالصِّدْقَ خَيْرٌ وَأَتْقَى مِنْ الزِّنَا وَالْكَذِبِ إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ فِي مَرَضِي هَذَا قَبْلَ أَنْ أُغَيِّرَ وَصِيَّتِي هَذِهِ ثُمَّ ذَكَرَ حَاجَتَهُ

محمد بن سیرین کے بارے میں منقول ہے انہوں نے وہ ہی وصیت کی تھی جو محمد بن ابی عمرہ نے اپنے بچوں اور اہل خانہ کو کی تھی۔ اور وہ قرآن کی یہ آیت تھی۔ اللہ سے ڈرو اور اپنے درمیان اصلاح قائم رکھو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔ اور انہوں نے وہ وصیت بھی کی تھی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے کی تھی جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے۔ اور اس بات کی وصیت ابراہیم نے اپنے بچوں کو کی تھی اور یعقوب نے بھی اے میرے بچو بے شک اللہ نے تمہارے لئے ایک خاص دین کو پسند کر لیا ہے لہذا تم مرتے وقت مسلمان ہی رہنا۔ انہوں نے اپنے اہل خانہ کو یہ وصیت کی تھی وہ انصار کے حمایتی اور دینی بھائی بن کر رہیں گے بے شک پاکیز سیرت اور سچائی بہترہے اور زیادہ باقی رہنے والی ہے جھوٹ کے مقابلے میں۔ اگر میری اس بیماری کے دوران میرے ساتھ کوئی واقعہ پیش آجائے اور میری اس وصیت کو تبدیل کرنے سے پہلے میں مرجاؤں تو یہ کردینا پھر انہوں نے اس کام کا تذکرہ کیا۔

مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← ابْنِ عَوْنٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3225

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3226

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ هَكَذَا كَانُوا يُوصُونَ هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ أَنَّهُ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ وَأَوْصَى مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ مِنْ أَهْلِهِ أَنْ يَتَّقُوا اللَّهَ وَيُصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِهِمْ وَأَنْ يُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنْ كَانُوا مُؤْمِنِينَ وَأَوْصَاهُمْ بِمَا أَوْصَى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمْ الدِّينَ فَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ وَأَوْصَى إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ مِنْ وَجَعِهِ هَذَا أَنَّ حَاجَتَهُ كَذَا وَكَذَا

انس بیان کرتے ہیں پہلے اس طرح کی وصیت کی جاتی تھی یہ وہ وصیت ہے جو فلاں بن فلاں نے کی ہے اور وہ یہ گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور وہ ہی ایک معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور بے شک حضرت محمد اللہ کے خاص بندے اور رسول ہیں بے شک قیامت آنے والی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور اللہ ان لوگوں کو زندہ کرے گا جو قبروں میں ہیں۔ اس کے بعد وہ شخص اپنے بعض اہل خانہ کو وصیت کرتا تھا وہ اللہ سے ڈرتے رہیں اور اپنے درمیان بھلائی کو برقرار رکھیں گے اور اللہ کے اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہیں اگر وہ مومن ہیں اور انہیں بھی وصیت کرتا تھا جو حضرت ابراہیم اور حضرت یعقوب نے اپنے بچوں کو کی تھی۔ اے بچو۔ بے شک اللہ نے تمہارے لئے دین کو پسند کیا ہے لہذا تم مرتے وقت مسلمان ہی رہنا۔ اور وہ یہ بھی وصیت کرتا تھا کہ اگر اس بیماری کے دوران میرے ساتھ کوئی واقعہ پیش آجائے یعنی وہ فوت ہوجائیں تو اس کا یہ کام کردیا جائے اور اس کے بعد وہ کام کا ذکر کردیا کرتا تھا۔

أَنَسٍ، ← ابْنِ سِيرِينَ، ← هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ← أَبُو بَکْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3226

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3227

حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ عَنْ حَفْصِ بْنِ غَيْلَانَ عَنْ مَكْحُولٍ حِينَ أَوْصَى قَالَ تَشَهُّدُ هَذَا مَا شَهِدَ بِهِ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَيُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَيَكْفُرُ بِالطَّاغُوتِ عَلَى ذَلِكَ يَحْيَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَيَمُوتُ وَيُبْعَثُ وَأَوْصَى فِيمَا رَزَقَهُ اللَّهُ فِيمَا تَرَكَ إِنْ حَدَثَ بِهِ حَدَثٌ وَهُوَ كَذَا وَكَذَا إِنْ لَمْ يُغَيِّرْ شَيْئًا مِمَّا فِي هَذِهِ الْوَصِيَّةِ حَدَّثَنَا الْحَكَمُ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مَكْحُولٍ قَالَ هَذِهِ وَصِيَّةُ أَبِي الدَّرْدَاءِ

مکحول کے بارے میں منقول ہے کہ جب انہوں نے وصیت کی تو یہ بولے میں اس بات کی گواہی دیتاہوں اور تم بھی اس پر گواہی دو ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور وہی ایک معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے حضرت محمد اس کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں اور طاغوت کا انکار کرتے ہیں اگر اللہ نے چاہا تو اس عقیدے پر زندہ رہیں گے اور اس پر ان کی موت ہوگی اور اسی پر انہیں زندہ کیا جائے گا پھر انہوں نے یہ وصیت کی کہ اللہ نے انہیں جو رزق عطا کیا ہے وہ جو چھوڑ کر جارہے ہیں اگر ان کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آجائے تو اسے اس طرح کیا جائے اگر وہ اس وصیت میں مرنے سے پہلے کوئی اور تبدیلی نہیں کرتے۔مکحول روایت کرتے ہیں یہ حضرت ابودرداء کی وصیت ہے۔

مكحول حين أوصى ← حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، ← الْوَلِیْدُ ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3227

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3228

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَتَبَ الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ وَصِيَّتَهُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا أَوْصَى بِهِ الرَّبِيعُ بْنُ خُثَيْمٍ وَأَشْهَدَ اللَّهَ عَلَيْهِ وَكَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا وَجَازِيًا لِعِبَادِهِ الصَّالِحِينَ وَمُثِيبًا بِأَنِّي رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَإِنِّي آمُرُ نَفْسِي وَمَنْ أَطَاعَنِي أَنْ نَعْبُدَ اللَّهَ فِي الْعَابِدِينَ وَنَحْمَدَهُ فِي الْحَامِدِينَ وَأَنْ نَنْصَحَ لِجَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ

ابوحیان تیمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت ربیع بن خثیم نے یہ وصیت تحریر کی تھی۔ اللہ کے نام سے آغاز کرتا ہوں وہ جو رحمن اور رحیم ہے۔ یہ وہ وصیت ہے جو ربیع بن خیثم نے کی ہے وہ اس پر اللہ کو گواہ بناتا ہے اور اللہ ہی گواہ کے طور پر کافی ہے اور اپنے نیک بندوں کو جزاء اور ثواب دینے کے لئے کافی ہے میں اللہ کے رب ہونے اور اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد کے نبی ہونے سے راضی ہوں میں اپنے آپ کو اور اپنے پیر وکاروں کو یہ حکم دیتاہوں کہ ہم عبادت گزاروں کے ہمراہ صرف اللہ کی عبادت کریں اور حمد کرنے والوں کے ہمراہ اس کی حمد بیان کریں اور مسلمانوں کی جماعت کی خیرخواہی کریں۔ جن حضرات کے نزدیک تھوڑے مال کی وصیت کرنا ضروری نہیں ہے۔

أَبِيهِ ← أَبُو حَيَّانَ التَّيْمِيُّ، ← جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3228

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3231

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ فَذَكَرُوا لَهُ الْوَصِيَّةَ فَقَالَ عَلِيٌّ قَالَ اللَّهُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا وَلَا أُرَاهُ تَرَكَ خَيْرًا قَالَ حَمَّادٌ فَحَفِظْتُ أَنَّهُ تَرَكَ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِ مِائَةٍ

ہشام اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک بیمار آدمی کے پاس تشریف لے گئے لوگوں نے ان کے سامنے وصیت کا تذکرہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا اللہ نے ارشاد فرمایا ہے اگر وہ بھلائی یعنی مال کو چھوڑ کر جائے۔ میرا خیال ہے اس نے بھلائی یعنی مال نہیں چھوڑا۔ حماد نامی روای بیان کرتے ہیں مجھے یاد ہے کہ اس شخص نے سات سو سے زیادہ ترکہ چھوڑا تھا۔

حَمَّادٌ فَحَفِظْتُ أَنَّهُ تَرَكَ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِ مِائَةٍ ← اللَّهُ إِنْ تَرَكَ خَيْرًا وَلَا أُرَاهُ تَرَكَ خَيْرًا ← أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ فَذَكَرُوا لَهُ الْوَصِيَّةَ فَقَالَ عَلِيٌّ ← هِشَامٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3231

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3234

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَأَلْتُ الْحَكَمَ وَحَمَّادًا عَنْ الْأَوْلِيَاءِ يُجِيزُونَ الْوَصِيَّةَ فَإِذَا مَاتَ لَمْ يُجِيزُوا قَالَا لَا يَجُوزُ

شعبہ بیان کرتے ہیں میں نے حکم اور حماد سے سوال کیا جو اولیاء وصیت کو درست قرار دیدیں اور پھر وصیت کرنے والے شخص کو فوت ہونے کے بعد اسے درست قرار نہ دیں تو حکم اور حماد دونوں نے جواب دیا یہ جائز نہیں ہے۔

لاَ يَجُوزُ. ← الْأَوْلِيَاءِ يُجِيزُونَ الْوَصِيَّةَ فَإِذَا مَاتَ لَمْ يُجِيزُوا ← سَأَلْتُ الْحَكَمَ وَحَمَّادًا ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3234

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3240

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ سُوَيْدٍ عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّ أَبَاهُ زِيَادَ بْنَ مَطَرٍ أَوْصَى فَقَالَ وَصِيَّتِي مَا اتَّفَقَ عَلَيْهِ فُقَهَاءُ أَهْلِ الْبَصْرَةِ فَسَأَلْتُ فَاتَّفَقُوا عَلَى الْخُمُسِ

علاء بن زیادہ بیان کرتے ہیں ان کے والد زیاد بن مطر نے یہ وصیت کی تھی میری وصیت وہ ہے جس پر اہل بصرہ کے فقہاء کا اتفاق ہے میں نے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا یہ حضرات پانچویں حصے کی ادائیگی کی وصیت کرنے پر متفق ہیں۔

الْعَلَاءِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّ أَبَاهُ زِيَادَ بْنَ مَطَرٍ أَوْصَى ← إِسْحَقُ بْنُ سُوَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3240

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3243

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ بَكْرٍ قَالَ أَوْصَيْتُ إِلَى حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ مَا كُنْتُ لِأَقْبَلَ وَصِيَّةَ رَجُلٍ لَهُ وَلَدٌ يُوصِي بِالثُّلُثِ

بکر بیان کرتے ہیں میں نے حمید بن عبدالرحمن کو یہ وصیت کی تو وہ بولے میں کسی ایسے شخص کی وصیت قبول نہیں کرتا جس کی اولاد ہو اور وہ ایک تہائی حصے کی وصیت کردے۔

أَوْصَيْتُ إِلَى حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← بَكْرٌ، ← حُمَيْدٍ ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3243

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3253

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ الشَّعْبِيِّ قَالَ يُغَيِّرُ صَاحِبُ الْوَصِيَّةِ مِنْهَا مَا شَاءَ غَيْرَ الْعَتَاقَةِ

شعبی بیان کرتے ہیں وصیت کرنے والا شخص (غلام یا کنیز کو) آزاد کرنے کے علاوہ کسی بھی معاملے مٰں جب چاہے وصیت تبدیل کرسکتا ہے۔

يُغَيِّرُ صَاحِبُ الْوَصِيَّةِ مِنْهَا مَا شَاءَ غَيْرَ الْعَتَاقَةِ ← الشَّعْبِيِّ، ← الشَّيْبَانِيِّ ← زَائِدَۃَ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3253

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3254

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ يُحْدِثُ الرَّجُلُ فِي وَصِيَّتِهِ مَا شَاءَ وَمِلَاكُ الْوَصِيَّةِ آخِرُهَا

عبداللہ بن ابوربیعہ بیان کرتے ہیں حضرت عمر بن خطاب ارشاد فرماتے ہیں آدمی اپنی وصیت میں جو چاہے تبدیل کرسکتا ہے آخری وقت کی وصیت قابل قبول ہوگی۔

الرَّجُلُ فِي وَصِيَّتِهِ مَا شَاءَ وَمِلَاكُ الْوَصِيَّةِ آخِرُهَا ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3254

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3257

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِوَصِيَّةٍ ثُمَّ يُوصِي بِأُخْرَى قَالَ هُمَا جَائِزَتَانِ فِي مَالِهِ

زہری بیان کرتے ہیں جو شخص وصیت کرے اور پھر اس کے بعد دوسری وصیت کردے تو اس کے مال کے بارے میں یہ دونوں وصیتیں درست ہوں گی۔

هُمَا جَائِزَتَانِ فِي مَالِهِ ← الزُّهْرِيِّ فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِوَصِيَّةٍ ثُمَّ يُوصِي بِأُخْرَى ← مَعْمَرٌ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← سَعِيدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3257

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3258

حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِلَاكُ الْوَصِيَّةِ آخِرُهَا

حضرت عمر بن خطاب ارشاد فرماتے ہیں آخری وصیت معتبر ہوتی ہے۔

عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مِلَاكُ الْوَصِيَّةِ آخِرُهَا ← قَتَادَةَ ← مَعْمَرٌ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← سَعِيدٌ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3258

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3267

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ بِالثُّلُثِ وَالرُّبُعِ فَفِي الْعَيْنِ وَالدَّيْنِ وَإِذَا أَوْصَى بِخَمْسِينَ أَوْ سِتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ فَفِي الْعَيْنِ حَتَّى يَبْلُغَ الثُّلُثَ

ابراہیم ارشاد فرماتے ہیں جب کوئی شخص تہائی مال کی وصیت کرے تو یہ نقد اور ادھار دونوں میں شمار ہوگی لیکن اگر وہ پچاس ساٹھ یا سو تک کی وصیت کرتا ہے توہ نقد شمار ہوگی یہاں تک کہ کل مال کا تیسرا حصہ بن جائے۔

إِبْرَاهِيمَ، ← الْاَعْمَشِ ← أَبُو شِهَابٍ عَبْدُ رَبِّهِ بْنُ نَافِعٍ ← أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3267

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3272

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا الْمُعَافَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَطَاءٍ قَالَ مَنْ أَوْصَى أَوْ أَعْتَقَ فَكَانَ فِي وَصِيَّتِهِ عَوْلٌ دَخَلَ الْعَوْلُ عَلَى أَهْلِ الْعَتَاقَةِ وَأَهْلِ الْوَصِيَّةِ قَالَ وَقَالَ عَطَاءٌ إِنَّ أَهْلَ الْمَدِينَةِ غَلَبُونَا يَبْدَءُونَ بِالْعَتَاقَةِ قَبْلُ

عطاء بیان کرتے ہیں جو شخص کوئی وصیت کرے یا کسی غلام کو آزاد کرے اور اس کی وصیت میں عول ہو تو وہ عول اہل عتاقہ اور اہل وصیت دونوں میں شامل ہوگا۔

عَطَاءٍ، ← عُثْمَانُ بْنُ الْأَسْوَدِ، ← الْمُعَافَي ← الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3272

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3275

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ يُبْدَأُ بِالْعَتَاقَةِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ

ابراہیم فرماتے ہیں وصیت سے پہلے غلام آزاد کیا جائے گا۔

يُبْدَأُ بِالْعَتَاقَةِ قَبْلَ الْوَصِيَّةِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← اِسْرَائِیْلُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3275

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3282

حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَمَّنْ سَمِعَ إِبْرَاهِيمَ قَالَ يُبْدَأُ بِالْكَفَنِ ثُمَّ الدَّيْنِ ثُمَّ الْوَصِيَّةِ

ابراہیم فرماتے ہیں مرحوم کے مال میں سے سب سے پہلے کفن دیا جائے گا پھر قرض ادا کیا جائے اور پھر جو وصیت کی تھی وہ نافذ کی جائے گی۔

يُبْدَأُ بِالْكَفَنِ ثُمَّ الدَّيْنِ ثُمَّ الْوَصِيَّةِ ← إِبْرَاهِيمَ، ← سُفْيَانُ عَمَّنْ ← قَبِيصَةُ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3282

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3285

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ الْكَفَنُ مِنْ وَسَطِ الْمَالِ يُكَفَّنُ عَلَى قَدْرِ مَا كَانَ يَلْبَسُ فِي حَيَاتِهِ ثُمَّ يُخْرَجُ الدَّيْنُ ثُمَّ الثُّلُثُ

حسن فرماتے ہیں کفن کو میت کے اصل مال سے دیا جائے گا اور وہ کفن مرحوم کی زندگی میں استعمال کرنے والے کپڑوں کے حساب سے ہوگا اس کے بعد قرض ادا کیا جائے گا پھر تہائی حصہ کا حساب ہوگا۔

الْحَسَنِ، ← إِسْمَعِيلُ ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3285

سنن دارمی · من كتاب الوصايا ‹ باب · حديث 3286

حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا مَنْصُورٌ عَنْ الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ إِلَى الرَّجُلِ وَهُوَ غَائِبٌ فَلْيَقْبَلْ وَصِيَّتَهُ وَإِنْ كَانَ حَاضِرًا فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ قَبِلَ وَإِنْ شَاءَ تَرَكَ

حسن بیان کرتے ہیں جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے بارے میں وصیت کرے اور وہ شخص اس وقت موجود نہ ہو تو وہ اس وصیت کو قبول کرلے اگر وہ موجود ہوتا تو اسے اختیار ہوتا اگر چاہے تو قبول کرلے اور اگر چاہتا تو قبول نہ کرتا۔

الْحَسَنِ أَنَّهُ كَانَ ← مَنْصُورٌ، ← هُشَيْمٌ ← أَبُو النُّعْمَانِ،

Sunan Darmi · From the book of commandments › Door · Hadith 3286

chevron_left Previous
1…252627…1,253
Next chevron_right