Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Saturday, Jumada I 7, 1448 AH · Oct 17, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

المعاملات والتجارة

Business & Transactions

25059 hadiths

سنن دارمی · 2-الهمزة مع الفاء ‹ باب · حديث 1041

أَخْبَرَنَا أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ قَالَ سَمِعْتُ ذَرًّا عَنْ وَائِلِ بْنِ مُهَانَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِلنِّسَاءِ تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ لِمَ أَوْ بِمَ أَوْ فِيمَ قَالَ إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ قَالَ وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَا مِنْ نَاقِصِي الدِّينِ وَالْعَقْلِ أَغْلَبَ لِلرِّجَالِ ذَوِي الْأَمْرِ عَلَى أَمْرِهِمْ مِنْ النِّسَاءِ قَالَ رَجُلٌ لِعَبْدِ اللَّهِ مَا نُقْصَانُ عَقْلِهَا قَالَ جُعِلَتْ شَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ بِشَهَادَةِ رَجُلٍ قَالَ سُئِلَ مَا نُقْصَانُ دِينِهَا قَالَ تَمْكُثُ كَذَا وَكَذَا مِنْ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ لَا تُصَلِّي لِلَّهِ صَلَاةً

حضرت عبداللہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے فرمایا تھا تم صدقہ کیا کرو کیونکہ جہنم میں اکثریت تمہاری ہے تو ایک خاتون جو کسی بڑے خاندان سے تعلق نہیں رکھتی تھی نے عرض کی کیوں۔ کس وجہ سے یا کس لیے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کیونکہ تم بکثرت لعنت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو۔ راوی کہتے ہیں حضرت عبداللہ نے فرمایا دین اور عقل کے اعتبار سے ناقص لوگوں میں کوئی ایسا نہیں ہے جو عورتوں کی طرح عقل مند مردوں پر غالب آجائے ایک شخص نے دریافت کیا کہ ان عورتوں کی عقل میں کیا کمی ہے تو حضرت عبداللہ نے جواب دیا دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر قرار دی گئی ہے ان سے سوال کیا گیا ان عورتوں کے دین میں کیا کمی ہے تو حضرت عبداللہ نے جواب دیا وہ عورت حیض آنے پر کئی دن تک اللہ کی بارگاہ میں نماز ادا نہیں کرسکتی۔

عَبْدُ اللَّهِ ← وائل بن مهانة ← ذَرًّا، ← الْحَكَمِ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو زَيْدٍ سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ

Sunan Darmi · From the book of Purity › Door · Hadith 1041

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1439

أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي زَيْدٍ الْكُوفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَبِيعُ أَوْ يَبْتَاعُ فِي الْمَسْجِدِ فَقُولُوا لَا أَرْبَحَ اللَّهُ تِجَارَتَكَ وَإِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَنْشُدُ فِيهِ الضَّالَّةَ فَقُولُوا لَا أَدَّى اللَّهُ عَلَيْكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ نے فرمایا جب تم کسی شخص کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے دیکھو تو یہ کہو اللہ تمہاری تجارت میں فائدہ نہ دے اور جب تم کسی کو مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرتے ہوئے دیکھو تو یہ کہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں وہ چیز واپس نہ دے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ← يَزِيدُ بْنُ خُصَيْفَةَ1 ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ← الْحَسَنُ بْنُ أَبِي زَيْدٍ الْكُوفِيُّ

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1439

سنن دارمی · کتاب ‹ باب · حديث 1453

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ يَعْنِي عَلَى أَتَانٍ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِمِنًى أَوْ بِعَرَفَةَ فَمَرَرْتُ عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ عَنْهَا وَتَرَكْتُهَا تَرْعَى وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں (میں اور میرا بھائی) فضل آئے راوی کہتے ہیں یعنی یہ دونوں صاحبان گدھی پر سوار تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منی میں نماز ادا کر رہے تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہں میں ایک صف کے کچھ حصے کے آگے سے گزر گیا پھر اس سے اتر گیا میں نے اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہوگیا۔

جِئْت ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the prayer book › Door · Hadith 1453

سنن دارمی · من كتاب الزكاة ‹ باب · حديث 1664

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ صَدَقَةَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ الصَّدَقَةَ فَلَمْ تُخْرَجْ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قُبِضَ أَخَذَهَا أَبُو بَكْرٍ فَعَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِ فَلَمَّا قُبِضَ أَبُو بَكْرٍ أَخَذَهَا عُمَرُ فَعَمِلَ بِهَا مِنْ بَعْدِهِمَا وَلَقَدْ قُتِلَ عُمَرُ وَإِنَّهَا لَمَقْرُونَةٌ بِسَيْفِهِ أَوْ بِوَصِيَّتِهِ وَكَانَ فِي صَدَقَةِ الْإِبِلِ فِي كُلِّ خَمْسٍ شَاةٌ إِلَى خَمْسٍ وَعِشْرِينَ فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَإِذَا زَادَتْ فَفِيهَا فِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ کے احکام تحریر کروائے آپ نے انہیں اپنے ریاستی اہلکاروں کو نہیں بھجوایا تھا کہ اس سے پہلے ہی آپ کا وصال ہوگیا آپ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس تحریر کو حاصل کرکے اس پر عمل کیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے وصال کے بعد حضرت عمر نے اسے حاصل کیا اور ان دونوں کے بعد وہ بھی اس پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت عمر شہید ہوگئے وہ تحریر ان کی تلوار میں (راوی کو شک ہے یا شاید الفاظ یہ ہیں) ان کی وصیت کے ہمراہ موجود تھی (وہ تحریر یہ تھی) اونٹوں کی زکوۃ کے بارے میں حکم یہ ہے کہ ہر پانچ اونٹوں سے پچیس اونٹوں تک میں ایک بکری وصول کی جائے گی جب ان کی تعداد پچیس ہوجائے تو ان میں سے دوسرے سال میں داخل ہونے والی ایک اونٹنی دی جائے گی پچیس سے پینتیس تک یہ ہوگی اگر ایسی اونٹنی نہ ہو تو دو سال کا ہو کر تیسرے سال میں داخل ہونے والا ایک اونٹ لیا جائے گا جب اونٹوں کی تعداد اس سے زیادہ ہوجائے تو پینتالیس سے ساٹھ تک ایک ایسی اونٹنی لی جائے گی جو چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہو جب اونٹوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو تو پچھتر تک میں ایسی اونٹنی لی جائے گی جو پانچویں سال میں داخل ہوچکی ہو اگر اونٹوں کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو تو نوے تک اس میں دو ایسی اونٹنیاں لی جائیں گی جو دو سال کی ہو کر تیسرے سال میں داخل ہوچکی ہوگی اگر ان کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو تو ایک سو بیس تک میں دو ایسی اونٹنیاں لی جائیں گی جو چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہوں گی اگر ان کی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو تو ہر پچاس کے اضافے میں ایک ایسی اونٹنی مزید لی جائے گی جو چوتھے سال میں شامل ہوچکی ہو اور ہر چالیس کے اضافہ میں ایک ایسی اونٹنی لی جائے گی جوتیسرے سال میں داخل ہوچکی ہو۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ صَدَقَةَ ← الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ،

Sunan Darmi · From the book of zakat › Door · Hadith 1664

سنن دارمی · من كتاب الاطعمة ‹ باب · حديث 2108

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ فَقَالَ اصْنَعْ لِي طَعَامًا أَدْعُو رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ قَالَ فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ دَعَوْتَنَا خَامِسَ خَمْسَةٍ وَهَذَا رَجُلٌ قَدْ تَبِعَنِي فَإِنْ شِئْتَ أَذِنْتَ لَهُ وَإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ قَالَ فَأَذِنَ لَهُ

حضرت ابومسعود بیان کرتے ہیں ایک صاحب جن کا نام ابوشعیب تھا اور ان کا لڑکا یا غلام گوشت بنانے کا کام کرتا تھا اس نے اپنے بیٹے سے کہا تم کھانا تیار کرو میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کرتا ہوں پھر اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت پانچ آدمیوں کی دعوت کی ان حضرات کے ساتھ ایک اور صاحب بھی چلے گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم پانچ آدمیوں کی دعوت تھی یہ صاحب بھی ہمارے پیچھے آگئے ہیں اگر تم چاہو تو اسے اجازت دے دو۔ اور اگر چاہو نہ دو تو میزبان نے اس شخص کو بھی اجازت دے دی۔

فَأَذِنَ لَهُ ← فَدَعَا رَسُولَ اللَّهِ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ ← اصْنَعْ لِي طَعَامًا أَدْعُو رَسُولَ اللَّهِ خَامِسَ خَمْسَةٍ ← جَاءَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبٍ وَكَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَّامٌ ← أَبِي مَسْعُودٍ، ← أَبِي وَائِلٍ ← الْاَعْمَشِ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the food book › Door · Hadith 2108

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2192

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَا إِذَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ وَمِنْهَا مَا يَبْلُغُ دُونَ ذَلِكَ وَعُرِضَ عَلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعَلَيْهِ قَمِيصٌ يَجُرُّهُ فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ فَمَاذَا تَأَوَّلْتَ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ الدِّينَ

حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے میں سورہا تھا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا انہیں میرے سامنے پیش کیا گیا انہوں نے قمیصیں پہنی ہوئی تھیں ان میں کچھ کی قمیص سینوں تک تھی اور کچھ کی ان سے لمبی تھی پھر میرے سامنے عمر بن خطاب کو لایا گیا ان کی قمیص پاؤں کے نیچے گھسٹ رہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرین نے عرض کی یا رسول اللہ آپ نے اس کی تعبیر کیا کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا دین۔

نَائِمٌ رَأَيْتُ النَّاسَ يُعْرَضُونَ عَلَيَّ وَعَلَيْهِمْ قُمُصٌ مِنْهَا مَا يَبْلُغُ الثُّدِيَّ ← بَيْنَا إِذَا ← أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّهُ ← أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← إِبْرَاهِيمُ هُوَ ابْنُ سَعْدٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Sunan Darmi · From the Book of Roya › Door · Hadith 2192

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2201

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ أَكْرَهُ الْغُلَّ وَأُحِبُّ الْقَيْدَ الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں میں خواب میں " طوق" دیکھنے کو نہ پسند کرتا ہوں اور بیڑی دیکھنے کو پسند کرتا ہوں بیڑی سے مراد دین میں ثابت قدمی ہے۔

أَكْرَهُ الْغُلَّ وَأُحِبُّ الْقَيْدَ الْقَيْدُ ثَبَاتٌ فِي الدِّينِ ← النَّبِيِّ أَنَّهُ كَانَ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ

Sunan Darmi · From the Book of Roya › Door · Hadith 2201

سنن دارمی · من كتاب الرويا ‹ باب · حديث 2204

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ حَدَّثَنَا يُونُسُ هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ إِسْحَقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ كَانَتْ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَهَا زَوْجٌ تَاجِرٌ يَخْتَلِفُ فَكَانَتْ تَرَى رُؤْيَا كُلَّمَا غَابَ عَنْهَا زَوْجُهَا وَقَلَّمَا يَغِيبُ إِلَّا تَرَكَهَا حَامِلًا فَتَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَقُولُ إِنَّ زَوْجِي خَرَجَ تَاجِرًا فَتَرَكَنِي حَامِلًا فَرَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ أَنَّ سَارِيَةَ بَيْتِي انْكَسَرَتْ وَأَنِّي وَلَدْتُ غُلَامًا أَعْوَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرٌ يَرْجِعُ زَوْجُكِ عَلَيْكِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى صَالِحًا وَتَلِدِينَ غُلَامًا بَرًّا فَكَانَتْ تَرَاهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ تَأْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُ ذَلِكَ لَهَا فَيَرْجِعُ زَوْجُهَا وَتَلِدُ غُلَامًا فَجَاءَتْ يَوْمًا كَمَا كَانَتْ تَأْتِيهِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَائِبٌ وَقَدْ رَأَتْ تِلْكَ الرُّؤْيَا فَقُلْتُ لَهَا عَمَّ تَسْأَلِينَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَمَةَ اللَّهِ فَقَالَتْ رُؤْيَا كُنْتُ أُرَاهَا فَآتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلُهُ عَنْهَا فَيَقُولُ خَيْرًا فَيَكُونُ كَمَا قَالَ فَقُلْتُ فَأَخْبِرِينِي مَا هِيَ قَالَتْ حَتَّى يَأْتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْرِضَهَا عَلَيْهِ كَمَا كُنْتُ أَعْرِضُ فَوَاللَّهِ مَا تَرَكْتُهَا حَتَّى أَخْبَرَتْنِي فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَئِنْ صَدَقَتْ رُؤْيَاكِ لَيَمُوتَنَّ زَوْجُكِ وَتَلِدِينَ غُلَامًا فَاجِرًا فَقَعَدَتْ تَبْكِي وَقَالَتْ مَا لِي حِينَ عَرَضْتُ عَلَيْكِ رُؤْيَايَ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي فَقَالَ لَهَا مَا لَهَا يَا عَائِشَةُ فَأَخْبَرْتُهُ الْخَبَرَ وَمَا تَأَوَّلْتُ لَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْ يَا عَائِشَةُ إِذَا عَبَرْتُمْ لِلْمُسْلِمِ الرُّؤْيَا فَاعْبُرُوهَا عَلَى الْخَيْرِ فَإِنَّ الرُّؤْيَا تَكُونُ عَلَى مَا يَعْبُرُهَا صَاحِبُهَا فَمَاتَ وَاللَّهِ زَوْجُهَا وَلَا أُرَاهَا إِلَّا وَلَدَتْ غُلَامًا فَاجِرًا

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں مدینہ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کا شوہر تاجر تھا جو مختلف علاقوں میں جایا کرتا تھا۔ وہ عورت جب بھی اس کا شوہر کہیں جاتا تو خواب دیکھتی تھی جب بھی اس کا شوہر باہر جاتا تو اسے حمل کی حالت میں چھوڑ کر جاتا وہ عورت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی میرا شوہر تجارت کے لئے گیا ہواہے اور مجھے حمل کی حالت میں چھوڑ گیا ہے میں نے خواب دیکھا کہ میرے گھر کا ایک ستون ٹوٹ گیا ہے اور میں نے ایک کانے بیٹے کو جنم دیاہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہتر خواب ہے اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو تمہارا شوہر واپس آجائے گا صحیح حالت میں اور تم ایک نیک بچے کو جنم دو گی اس عورت نے دو یا تین مرتبہ یہی خواب دیکھا وہ جب بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے یہی جواب دیتے اس کا شوہر واپس آگیا اور اس نے ایک لڑکے کو جنم دیا۔ پھر ایک دن وہ آیا وہ عورت پہلے کی طرح آپ کی خدمت میں آئی آپ موجود نہیں تھے اس عورت نے وہی خواب دیکھا تھا میں نے اس عورت سے دریافت کیا اے اللہ کی کنیز۔ تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا سوال کرنا چاہتی ہو اس نے عرض کیا میں نے ایک خواب دیکھا تھا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ہوں تاکہ آپ اس خواب کے بارے میں دریافت کروں تو آپ نے مثبت جواب دیا تھا اور اسی طرح ہوا جس طرح آپ نے ارشاد فرمایا تھا سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں میں نے کہا تم مجھے وہ خواب بتاؤ وہ عورت بولی جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لے آئیں اور میں آپ کے سامنے وہ خواب بیان نہ کردوں جیسے پہلے میں نے بیان کیا تھا اس وقت تک میں آپ کو نہیں بتاؤں گی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہتی ہیں میں اس سے تقاضا کرتی رہی یہاں تک کہ اس نے مجھے خواب سنادیا میں نے کہا اللہ کی قسم اگر تمہاراخواب درست ہے تو عنقریب تمہارا شوہر فوت ہوجائے گا اور تم ایک گناہ گاربچے کو جنم دوگی۔ وہ عورت بیٹھ کر رونے لگی اور بولی کاش آپ کے سامنے میں نے اپنا خواب بیان نہ کیا ہوتا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو وہ عورت بیٹھی رورہی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے دریافت کیا اسے کیا ہوا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا اور جو خواب کی تعبیر بتائی تھی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا باز رہو جب تم کسی مسلمان کو خواب کی تعبیر بتاؤ تو اسے اچھی تعبیر بتاؤ۔ کیونکہ تعبیر اس صورت ہوتی جوتعبیر کرنے والے نے بیان کی ہوتی ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں اللہ کی قسم اس عورت کا شوہر بھی فوت ہوگیا اور اس نے ایک گناہ گار لڑکے کو جنم دیا۔

عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ← ابْنِ إِسْحَقَ ← يُونُسُ, هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ, ← عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ

Sunan Darmi · From the Book of Roya › Door · Hadith 2204

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2211

أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ لِلدِّينِ وَالْجَمَالِ وَالْمَالِ وَالْحَسَبِ فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں خواتین کے ساتھ چارباتوں کی وجہ سے نکاح کیا جاتا ہے دین کی خوبصورتی مال اور نسب تمہیں چاہیے کہ دین دار عورت کے ساتھ نکاح کرو تمہارے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں۔

تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ لِلدِّينِ وَالْجَمَالِ وَالْمَالِ وَالْحَسَبِ فَعَلَيْكَ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ،

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2211

سنن دارمی · 13-13-13- كِتَابُ السَّهْوِ. ‹ باب · حديث 2287

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَكُنْ فَرَضَ لَهَا شَيْئًا وَلَمْ يَدْخُلْ بِهَا وَمَاتَ عَنْهَا قَالَ فِيهَا لَهَا صَدَاقُ نِسَائِهَا وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الْمِيرَاثُ قَالَ مَعْقِلٌ الْأَشْجَعِيُّ قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ امْرَأَةٍ مِنْ بَنِي رُوَاسٍ بِمِثْلِ مَا قَضَيْتَ قَالَ فَفَرِحَ بِذَلِكَ قَالَ مُحَمَّدٌ وَسُفْيَانُ نَأْخُذُ بِهَذَا

علقمہ بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ بن مسعود سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا جو کسی خاتون کے ساتھ شادی کرے اور اس کا مہر مقرر کرنے اور رخصتی سے پہلے ہی فوت ہوجائے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں یہ فتوی دیا اس عورت کو اس جیسی دیگر خواتین جتنا مہر ملے گا عورت عدت بسر کرے گی اور اسے وراثت میں بھی حصہ ملے گا حضرت معقل اشجعی بولے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو رواس سے تعلق رکھنے والی خاتون بروع بنت واشق کے بارے میں اسی طرح کا فیصلہ فرمایا تھا جو آپ نے فیصلہ دیاہے۔ راوی بیان کرتے ہیں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ یہ سن کربہت خوش ہوئے اس حدیث کے راوی محمد بن یوسف اور سفیان کہتے ہیں ہم اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں۔

عَلْقَمَةَ ← إِبْرَاهِيمَ، ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ

Sunan Darmi · From the book of marriage › Door · Hadith 2287

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2453

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَخَطَبَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ ذَكَرَ الْجِهَادَ فَلَمْ يَدَعْ شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْهُ إِلَّا الْفَرَائِضَ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ مَنْ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهَلْ ذَلِكَ مُكَفِّرٌ عَنْهُ خَطَايَاهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ إِذَا قُتِلَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ إِلَّا الدَّيْنَ فَإِنَّهُ مَأْخُوذٌ بِهِ كَمَا زَعَمَ لِي جِبْرِيلُ

عبداللہ بن ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے خطبہ دینا شروع کیا اللہ تعالیٰ کی حمدوثناء کی پھر جہاد کا ذکر کیا اس سے افضل صرف فرائض ہیں ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کی یا رسول اللہ آپ کے خیال میں جو شخص اللہ کی راہ میں مارا جائے تو کیا اس کے گناہ ختم ہوجائیں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جب وہ صبر کرتے ہوئے اور ثواب کے حصول کی نیت کرتے ہوئے دشمن کا سامنا کرتے ہوئے پیٹھ پھیرے بغیر ماراجائے تو اس کے تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے البتہ قرض معاف نہیں ہوگا اسے اس کی وجہ سے پکڑا جائے گا جبرائیل نے مجھے اسی طرح بتایاہے۔

أَبِيهِ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ← الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ،

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2453

سنن دارمی · من كتاب الجهاد ‹ باب · حديث 2475

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ بَعْدِي مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ حَلَاقِيمَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنْ الدِّينِ كَمَا يَخْرُجُ السَّهْمُ مِنْ الرَّمِيَّةِ ثُمَّ لَا يَعُودُونَ فِيهِ هُمْ شَرُّ الْخَلْقِ وَالْخَلِيقَةِ قَالَ سُلَيْمَانُ قَالَ حُمَيْدٌ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الصَّامِتِ فَلَقِيتُ رَافِعًا أَخَا الْحَكَمِ بْنِ عَمْرٍو الْغِفَارِيِّ فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ قَالَ رَافِعٌ وَأَنَا أَيْضًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

حضرت ابوذر بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے میرے بعد میری امت میں ایک فرقہ پیدا ہوگا وہ لوگ قرآن پڑھیں گے لیکن وہ قرآن صرف ان کے حلق تک ہوگا وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر نشانے کے پار ہوجاتا ہے پھر واپس دین میں نہیں آئیں گے وہ لوگ مخلوق میں سب سے بدتر افردا ہوں گے۔

اَبِیْ ذَرٍّ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ← حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، ← سُلَيْمَانُ هُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ

Sunan Darmi · From the book of jihad › Door · Hadith 2475

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2557

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ هَذَا الدِّينَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے بے شک اللہ تعالیٰ کسی گنہگار کے ذریعے بھی اس دین کی مدد کرتا ہے۔

سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبٌ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2557

سنن دارمی · من كتاب السير ‹ باب · حديث 2561

أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ مَا أَقَامُوا الدِّينَ

حضرت معاویہ بیان کرتے ہیں اس وقت ان کے پاس قریش کا ایک وفد بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے حکومت قریش میں باقی رہے گی جو بھی شخص ان کی مخالفت کرے اللہ تعالیٰ اسے ذلیل اور رسوا کرے گا اس وقت تک جب تک وہ دین کو قائم رکھیں)

رَسُولِ اللَّهِ ← وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ إِنِّي ← مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ ← كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ،

Sunan Darmi · From the book biography › Door · Hadith 2561

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2575

أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي قَيْسٍ عَنْ هُزَيْلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے اور اسے کھلانے والے پر لعنت کی ہے۔

لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ آکِلَ الرِّبَا وَمُؤْکِلَهُ ← عَبْدُ اللَّهِ ← هُزَيْلٍ ← أَبِي قَيْسٍ، ← سُفْيَانَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ،

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2575

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2609

أَخْبَرَنَا يَعْلَى حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَةُ فِي آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي الرِّبَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاهُنَّ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ حَرَّمَ التِّجَارَةَ فِي الْخَمْرِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں جب سورت بقرہ کے آخر میں ربا سے متعلق آیت نازل ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ نے اس آیت کو لوگوں کے سامنے پڑھا پھر آپ نے شراب کی خرید و فروخت کو حرام قرار دیدیا۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← مُّسْلِمٍ ← الْاَعْمَشِ ← يعلى

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2609

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2610

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا نَزَلَتْ الْآيَاتُ مِنْ أَوَاخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاقْتَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ ثُمَّ نَهَى عَنْ التِّجَارَةِ فِي الْخَمْرِ

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں جب سورت بقرہ کے آخر میں ربا سے متعلق آیات نازل ہوئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ نے ان آیات کو لوگوں کے سامنے پڑھا پھر آپ نے انہیں شراب کی خرید و فروخت سے منع کردیا اور شراب کی خرید و فروخت حرام قرار دے دی۔

عَائِشَةَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← مَنْصُورٌ، ← جَرِيرٌ ← إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2610

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2612

أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ قَالَ عَبْد اللَّهِ الْأَمْرُ عَلَى هَذَا لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو فروخت کرنے اور اسے ہبہ کرنے سے منع کیا ہے۔ امام ابومحمد عبداللہ دارمی فرماتے ہیں حکم یوں ہی ہے ولاء کو نہ تو فروخت کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ہبہ کیا جاسکتا ہے۔

عَبْد اللَّهِ الْأَمْرُ عَلَى هَذَا لَا يُبَاعُ وَلَا يُوهَبُ ← بَيْعِ الْوَلَاءِ وَعَنْ هِبَتِهِ» ← «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ← ابْنِ عُمَرَ ← عبد الله بن دينار ← مَالِكٍ، ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2612

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2620

أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الرِّبَا فِي الدَّيْنِ قَالَ عَبْد اللَّهِ مَعْنَاهُ دِرْهَمٌ بِدِرْهَمَيْنِ

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں حضرت اسامہ بن زید نے مجھے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سود ادھار میں ہوتا ہے امام محمد دارمی فرماتے ہیں اس کا مفہوم یہ ہے کہ دو درہم کے عوض میں ایک درہم (قرض دیا جائے)

أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ1 بْنِ أبي يزيد، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← أَبُو عَاصِمٍ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2620

سنن دارمی · من كتاب البيوع ‹ باب · حديث 2632

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ فَارَقَ الرُّوحُ الْجَسَدَ وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْ ثَلَاثٍ دَخَلَ الْجَنَّةَ مِنْ الْكِبْرِ وَالْغُلُولِ وَالدَّيْنِ

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی روح جسم سے جدا ہو اور وہ شخص تین چیزوں سے بری ہو تو وہ جنت میں داخل ہوجائے تکبر سے خیانت سے اور قرض سے ۔

ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ ← مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ

Sunan Darmi · From the book of sales › Door · Hadith 2632

chevron_left Previous
1…232425…1,253
Next chevron_right