98 - حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ , وَإِذَا رَكَعَ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ حِذَاءَ أُذُنَيْهِ
قَالَ الْبُخَارِيُّ: " وَالَّذِي يَقُولُ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ الرُّكُوعِ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ , وَمَا زَادَ عَلَى ذَلِكَ أَبُو حُمَيْدٍ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا قَامَ مِنَ السَّجْدَتَيْنِ كُلُّهُ صَحِيحٌ لِأَنَّهُمْ لَمْ يَحْكُوا صَلَاةً , وَاحِدَةً فَيَخْتَلِفُوا فِي تِلْكَ الصَّلَاةِ بِعَيْنِهَا مَعَ أَنَّهُ لَا اخْتِلَافَ فِي ذَلِكَ إِنَّمَا زَادَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ , وَالزِّيَادَةُ مَقْبُولَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ وَالَّذِي قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: «مَا رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ إِلَّا فِي التَّكْبِيرَةِ الْأُولَى» فَقَدْ خُولِفَ فِي ذَلِكَ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ وَكِيعٌ عَنِ [ص:71] الرَّبِيعِ بْنِ صُبَيْحٍ قَالَ رَأَيْتُ مُجَاهِدًا: يَرْفَعُ يَدَيْهِ " وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , عَنِ الرَّبِيعِ رَأَيْتُ مُجَاهِدًا: يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ " وَقَالَ جَرِيرٌ عَنْ لَيْثٍ عَنْ مُجَاهِدٍ «أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ» وَهَذَا أَحْفَظُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ
قَالَ صَدَقَةُ: إِنَّ الَّذِي رَوَى حَدِيثَ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ لَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا فِي أَوَّلِ التَّكْبِيرَةِ كَانَ صَاحِبُهُ قَدْ تَغَيَّرَ بِأُخْرَةٍ , وَالَّذِي رَوَاهُ الرَّبِيعُ , وَاللَّيْثُ أَوْلَى مَعَ أَنَّ طَاوُسًا , وَسَالِمًا , وَنَافِعًا , وَأَبَا الزُّبَيْرِ , وَمُحَارِبَ بْنَ دِثَارٍ , وَغَيْرَهُمْ قَالُوا رَأَيْنَا ابْنَ عُمَرَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ , وَإِذَا رَكَعَ
ہمیں آدم بن ابی ایاس نے حدیث بیان کی: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، وہ نصر بن عاصم سےوہ مالک بن الحویرث سے، انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ جب تکبیر کہتے (اور جب رکوع کرتے) اور جب رکوع سے سر اُٹھاتے تو رفع یدین کرتے تھے۔ہمیں آدم بن ابی ایاس نے حدیث بیان کی : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی: ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، وہ نصر بن عاصم سےوہ مالک بن الحویرث سے بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا: نبی ﷺ جب تکبیر کہتے ہر جب رکوع سے سر اُٹھاتے کانوں کے برابر رفع یدین کرتے تھے۔(امام) بخاری نے فرمایا: اور جو کہتا ہے کہ نبی ﷺ رکوع کے وقت اور رکوع سے جب سر اُٹھاتے رفع یدین کرتے تھے اور اس پر ابو حمید(الساعدی) نے جو دس صحابہ میں زیا دہ الفاظ بیان کئے کہ نبی ﷺ جب دو سجدوں (یعنی دو رکعتوں) سے کھڑے ہوتے تو رفع یدین کرتے تھے۔ یہ سب صحیح ہے کیونکہ انہوں نے صرف ایک ہی نماز (مثلاً ایک رکعت وتر) کی حکایت نہیں کی تاکہ انہیں اس نماز میں باہم مختلف سمجھا جائے۔لہٰذا اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ بعض نے(جو الفاظ زیا دہ سنے تھے یا زیادہ عمل دیکھا تھا) بعض پر ( روایت میں) اضافہ کر دیا ۔ اور علماء کے نزدیک (ثقہ کی) زیادہ مقبول ہوتی ہے۔ ابو بکر بن عیاش نےحصین بن مجاہد سے جو روایت بیان کی ہے کہ: میں نے ابن عمر کو تکبیر اولیٰ کے علاوہ نماز میں کہیں بھی رفع یدین کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ تو اس میں (ابو بکر بن عیاش) کی مجاہد سے مخالفت موجود ہے۔
مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ: ← نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ،