Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
قرة العينين برفع اليدين في الصلاة

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah

by Imam Bukhari

124 Hadith4 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 71

71 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ قَالَ , سَمِعْتُ عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ وَائِلَ بْنَ حُجْرٍ يَقُولُ: " قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ قُلْتُ لَأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَافْتَتَحَ الصَّلَاةَ فَكَبَّرَ , وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ "

ہمیں عبداللہ بن محمد ( المسندی) نے حدیث بیان کی: ہمیں (عبداللہ) بن ادریس نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے عاصم بن کلیب کو اپنے باپ (کلیب) سے روایت کرتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے میں نے وائل بن حجر کو (یہ) فرماتے ہوئے سنا کہ: میں مدینہ آیا میں نے کہا کہ میں رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کو ضرور بالضرور دیکھوں گا۔ پس آپ نے نماز شروع کی تو تکبیر کہی اور رفع یدین کیا ۔ پھر جب (رکوع سے )سر اٹھایا تورفع یدین کیا۔

وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ← أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَهُ ← عَاصِمِ بْنِ کُلَیْبٍ، ← ابْنُ إِدْرِيسَ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 71

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 72

72 - حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ

ہمیں اسماعیل بن ابی اویس نے حدیث بیان کی: ہمیں ( امام )مالک نے حدیث بیان کی، وہ نافع سے بیان کرتے ہیں کہ بے شک عبداللہ بن عمر جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے (تورفع یدین کرتے)۔

مَالِكٍ، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ اَبِیْ اُوَیْسٍ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 72

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 73

73 - حَدَّثَنَا عَيَّاشٌ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ الرُّكُوعِ

ہمیں عیاش ( بن الوليد) نے حدیث بیان کی: ہمیں عبدالاعلى (بن عبدالاعلیٰ) نے حدیث بیان کی، ہمیں حمید (الطویل) نے انس (بن مالک )سے حدیث بیان کی، وہ رکوع کے وقت رفع یدین کرتے تھے۔

أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ عِنْدَ الرُّكُوعِ ← حُمَيْدٍ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عَيَّاشٌ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 73

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 74

74 - حَدَّثَنَا آدَمُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عُتَيْبَةَ قَالَ: " رَأَيْتُ طَاوُسًا يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا كَبَّرَ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: " مَنْ زَعَمَ أَنَّ رَفْعَ الْأَيْدِي بِدْعَةٌ فَقَدْ طَعَنَ فِي أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالسَّلَفِ، وَمَنْ بَعْدَهُمْ، وَأَهْلِ الْحِجَازِ، وَأَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَأَهْلِ مَكَّةَ، وَعِدَّةٍ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، وَأَهْلِ الشَّامِ، وَأَهْلِ الْيَمَنِ، وَعُلَمَاءِ أَهْلِ خُرَاسَانَ مِنْهُمُ ابْنُ الْمُبَارَكِ حَتَّى شُيُوخِنَا عِيسَى بْنُ مُوسَى أَبُو أَحْمَدَ , وَكَعْبِ بْنِ سَعِيدٍ , وَالْحَسَنِ بْنِ جَعْفَرٍ , وَمُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ إِلَّا [ص:55] أَهْلَ الرَّأْيِ مِنْهُمْ وَعَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ , وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ , وَيَحْيَى بْنِ يَحْيَى , وَصَدَقَةَ , وَإِسْحَاقَ , وَعَامَّةِ أَصْحَابِ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَكَانَ الثَّوْرِيُّ , وَوَكِيعٌ , وَبَعْضُ الْكُوفِيِّينَ لَا يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ , وَقَدْ رَوَوْا فِي ذَلِكَ أَحَادِيثَ كَثِيرَةً , وَلَمْ يُعَنِّفُوا عَلَى مَنْ رَفَعَ يَدَيْهِ , وَلَوْلَا أَنَّهَا حَقٌّ مَا رَوَوْا تِلْكَ الْأَحَادِيثَ لِأَنَّهُ لَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَمْ يَقُلْ , وَمَا لَمْ يَفْعَلْ

ہمیں آدم ( بن ابی ایاس) نے حدیث بیان کی:ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی :ہمیں حکم بن عتیبہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے طاؤس کو دیکھا جب وہ (رکوع کے لئے ) تکبیر کہتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے تھے۔ (امام )بخاری نے فرمایا: جوشخص یہ گمان کرتا ہے کہ رفع یدین بدعت ہے تو اس نے يقينا، نبی صلى الله عليه وسلم کے صحابہ، سلف (صالحین) ان کے بعد آنے والوں، اہل حجاز، اہل مدینہ، اہل مکہ، اہل عراق کی ایک (بڑی) تعداد، اہل شام، اہل یمن اور اہل خراسان کے علماء پر بشمول (امام )ابن المبارک پرطعن کیا ہے۔ حتیٰ کہ ہمارے استاد عیسی بن موسٰی ، ابواحمد ، کعب بن سعید حسن بن جعفر،محمد بن سلام ، علی بن الحسن (بن شقیق) عبداللہ بن عثمان، یحیٰی بن یحیٰی ، صدقہ ، اسحاق (بن راہویہ) اور (عبدالله )بن المبارک کے تمام شاگرد (رفع الیدین کرتے تھے ) سوائے اہل الرائے کے۔ (سفیان )ثوری، وکیع اور بعض کوفی رفع یدین نہیں کرتے تھے اور انہوں نے (رفع یدین کے اثبات میں ) بہت سی احادیث بیان کی ہیں۔ انہوں نے رفع یدین کرنے والے کو نہیں ڈانٹا۔ اور اگر یہ حق نہ ہوتا تو وہ یہ حدیثیں بیان نہ کرتے کیونکہ کسی آدمی کورسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایسی بات نہیں کہنی چاہئے جوآپ نے نہیں کہی۔

الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، ← شُعْبَةُ، ← آدَمُ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 74

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 75

75 - لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ تَقَوَّلَ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ» وَلَمْ يَثْبُتْ عَنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ , وَلَيْسَ أَسَانِيدُهُ أَصَحَّ مِنْ رَفْعِ الْأَيْدِي

کیونکہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جو شخص مجھ پر ایسی بات کہتا ہے جو میں نے نہیں کہی تو و شخص آگ میں اپنا ٹھکانا تلاش کرے (یعنی وہ جہنمی ہے۔) اور نبی صلى الله عليه وسلم کے صحابہ میں سے کسی ایک سے بھی یہ ثابت نہیں کہ وہ رفع یدین نہیں کرتا تھا۔ اور رفع یدین سے زیادہ صحیح سندیں کوئی بھی نہیں ہیں۔

لَيْسَ أَسَانِيدُهُ أَصَحَّ مِنْ رَفْعِ الْأَيْدِي ← أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ أَنَّهُ لَا يَرْفَعُ يَدَيْهِ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 75

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 76

76 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ , حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ , وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ , وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَفْعَلُهُ

ہمیں محمد بن ابی بکر المقدمی نے حدیث بیان کی :ہمیں معتمر ( بن سلیمان) نے حدیث بیان کی وہ عبید اللہ بن عمر سے وہ ابن شہاب (زہری) سے وہ سالم بن عبداللہ سے وہ اپنے ابا (عبداللہ بن عمر) سے بیان کرتے ہیں کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز میں داخل ہوتے تو رفع یدین کرتے ۔ اور جب رکوع کا ارادہ کرتے اور جب سر اٹھاتے اور جب دو رکعتوں سے اٹھتے تو ان سب میں رفع یدین کرتے اور عبدالله (بن عمربھی) ایسا(ہی) کرتے تھے۔

أَبِيهِ ← سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← مُعْتَمِرٌ ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 76

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 77

77 - حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ , حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ , وَإِذَا رَكَعَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ»

ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی: ہمیں ہشیم (بن بشیر) نے حدیث بیان کی وہ زہری سے وہ سالم سے وہ اپنے ابا (عبداللہ بن عمر) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے تھے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے (تو رفع یدین کرتے تھے )

أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← هُشَيْمٌ ← قُتَيْبَةُ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 77

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 78

78 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ , حَدَّثَنِي اللَّيْثُ , حَدَّثَنَا عَقِيلٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ , وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ , وَبَعْدَمَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ "

ہمیں عبداللہ بن صالح( کاتب اليث) نے حدیث بیان کی : مجھے لیث (بن سعد) نے حدیث بیان کی :ہمیں عقیل (بن خالد)نے ابن شہاب (زہری) سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے کہا: مجھے سالم بن عبد اللہ نے خبر دی ۔ بے شک عبداللہ بن عمر نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے حتی کہ آپ کے ہاتھ دونوں کندھوں کے برابر ہو جاتے ۔ اور جب رکوع کا ارادہ کرتے اور رکوع کے بعد سراٹھاتے (تورفع یدین کرتے)۔

سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 78

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 79

79 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ , وَإِذَا رَكَعَ , وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ [ص:58] لِمَنْ حَمِدَهُ , وَإِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ يَرْفَعُهُمَا وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ وَزَادَ وَكِيعٌ عَنِ الْعُمَرِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «أَنَّهُ كَانَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا رَكَعَ , وَإِذَا سَجَدَ»

ہمیں محمد بن عبدالله بن حوشب نے حدیث بیان کی: ہمیں عبدالوہاب (الثقفی) نے حدیث بیان کی: ہمیں عبیدالله (بن عمر) نے حدیث بیان کی وہ نافع سے وہ ابن عمر سے بیان کرتے ہیں کہ وہ ( ابن عمر) جب نماز میں داخل ہوتے اور جب رکوع ( کا ارادہ )کرتے اور جب سمع الله لمن حمدہ کہتے اور جب دو رکعتوں سے کھڑے ہوتے تو (ان سب مقامات پر رفع یدین کرتے۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 79

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 80

80 - قَالَ الْبُخَارِيُّ: «وَالْمَحْفُوظُ مَا رَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ وَأَيُّوبُ , وَمَالِكٌ وَابْنُ جُرَيْجٍ وَاللَّيْثُ وَعِدَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ» فِي رَفْعِ الْأَيْدِي عِنْدَ الرُّكُوعِ , وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَلَوْ صَحَّ حَدِيثُ الْعُمَرِيِّ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ [ص:59] عُمَرَ لَمْ يَكُنْ مُخَالِفًا لِلْأَوَّلِ لِأَنَّ أُولَئِكَ قَالُوا: إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ فَلَوْ ثَبَتَ اسْتَعْمَلْنَا كِلَيْهِمَا , وَلَيْسَ هَذَا مِنَ الْخِلَافِ الَّذِي يُخَالِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا لِأَنَّ هَذِهِ زِيَادَةٌ فِي الْفِعْلِ , وَالزِّيَادَةُ مَقْبُولَةٌ إِذَا ثَبَتَتَ

بخاری نے کہا:محفوظ (اور صحیح) وہی ہے جو عبیداللہ (بن عمر)، ایوب (السختیانی) مالک (بن انس)، ابن جریح، لیث ( بن سعد) اہل حجاز اور اہل عراق کی ایک (بڑی) تعداد نے نافع عن ابن عمر (کی سند) سے بیان کیا ہے۔ کہ (انہوں نے) رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع یدین (کیا) اور اگر العمری (عبداللہ بن عمر) کی عن نافع عن ابن عمر والی حدیث صحیح ہوتی تو پہلی روایت کے مخالف نہیں تھی۔ کیونکہ انہوں نے کہا: جب رکوع سے سر اٹھایا۔ اور اگر یہ ثابت ہو جاتی تو ہم نے دونوں کو استعمال کیا ہے اور یہ ایسا اختلاف نہیں ہے جس میں ایک راوی دوسرے کی (علانیہ) مخالفت کرتا ہے۔ کیونکہ یہ تو ایک عمل میں اضافہ ہے۔ اور زیادت (رادی کا متن یا سند میں اضافہ ) مقبول ہوتی ہے۔ بشرطیکہ (اس کی عدالت وثقاہت ) ثابت ہوجائے۔

ابْنِ عُمَرَ لَمْ يَكُنْ مُخَالِفًا لِلْأَوَّلِ لِأَنَّ أُولَئِكَ ← نَافِعٍ ← إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ وَلَوْ صَحَّ حَدِيثُ الْعُمَرِيِّ ← ابْنِ عُمَرَ» فِي رَفْعِ الْأَيْدِي عِنْدَ الرُّكُوعِ ← نَافِعٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ وَاللَّيْثُ وَعِدَّةٌ مِنْ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ ← الْبُخَارِيُّ: «وَالْمَحْفُوظُ مَا رَوَى عُبَيْدُ اللَّهِ وَأَيُّوبُ وَمَالِكٌ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 80

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 81

81 - وَقَالَ وَكِيعٌ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , وَعَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنِ الْحَكَمِ , عَنْ مِقْسَمٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا تُرْفَعُ الْأَيْدِي إِلَّا فِي سَبْعَةِ مَوَاطِنَ فِي افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ , وَاسْتِقْبَالِ الْكَعْبَةِ , وَعَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , وَبِعَرَفَاتٍ , وَبِجَمْعٍ وَفِي الْمَقَامَيْنِ وَعِنْدَ الْجَمْرَتَيْنِ» [ص:60]

اور وکیع نے عن ( محمد بن عبدالرحمٰن) بن ابی لیلیٰ عن نافع عن ابن عمر سے اور (محمد بن عبدالرحمن )بن ابی لیلیٰ عن ا لحكم( عن عتیبہ ) عن مقسم عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ( کی سند) سے بیان کیا ہے کہ ہاتھ صرف سات مقامات پر اٹھائے جاتے ہیں: نماز کے شروع میں اور خانہ کعبہ کے استقبال کے وقت، صفا اور مروہ پر ،عرفات اور مزدلفہ میں، دونوں مقاموں اور حجروں کو (کنکریاں مارنے )کے وقت

النَّبِيِّ ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← وَكِيعٌ،

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 81

قرة العينين برفع اليدين في الصلاة · کتاب ‹ باب · حديث 82

82 - قَالَ عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَالْمُحَارِبِيُّ عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنِ الْحَكَمِ , عَنْ مِقْسَمٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَقَالَ شُعْبَةُ إِنَّ الْحَكَمَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مِقْسَمٍ إِلَّا أَرْبَعَةَ أَحَادِيثَ لَيْسَ فِيهَا هَذَا الْحَدِيثُ , وَلَيْسَ هَذَا مِنَ الْمَحْفُوظِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ أَصْحَابَ نَافِعٍ خَالَفُوا , وَحَدِيثُ الْحَكَمِ عَنْ مِقْسَمٍ مُرْسَلٌ "

(اسے) علی بن مسہر اور محاربی نے (محمد بن عبدالرحمن )بن ابی لیلی عن الحکم ( بن عتیبہ ) عن مقسم عن ابن عباس عن النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ( کی سند) سے بیان کیا ہے۔ شعبہ نے کہا:حکم(بن عتیبہ ) نے مقسم سے صرف چار احادیث سنی ہیں، جن میں یہ حدیث نہیں ہے۔ اور یہ (روایت) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محفوظ (اور ثابت )نہیں ہے کیونکہ نافع کے شاگردوں نے (محمد بن ابی لیلی ٰکی مخالفت کی ہے۔ اور حکم ( بن عتیبہ ) کی مقسم سے روایت مرسل (یعنی منقطع )ہے۔ طاوس، ابوحمزہ اور عطاء (بن ابی رباح)نے روایت کیا ہے کہ انہوں نے (عبداللہ ) بن عباس کو رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ باوجود اس کے کہ اگر (محمد) بن ابی لیلی کی (یہ ) حدیث ( بفرض محال )صحیح ہوتی، اس کی بات کہ سات مقامات پر رفع یدین کیا جائے۔ اور وکیع کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ رفع یدین نہ کیا جائے مگر صرف ان مقامات پر، پس ان مقامات پر رفع یدین (برائے دعا )کیا جائے گا اور رکوع کے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد (بھی) رفع یدین کیا جائے گا تا کہ تمام احادیث پر عمل ہوجائے۔ یہ تضاد میں سے نہیں ہے۔ اور یہ لوگ (منکرین رفع یدین )کہتے ہیں کہ عید الفطر اور عیدالاضحٰی کی تکبیروں میں رفع یدین کرنا چاہئے اور ان کے قول میں یہ چودہ تکبیریں ہیں (یا چھ تکبیریں ہیں)۔ اور یہ (تکبیریں) ابن ابی لیلی کی حدیث میں نہیں ہیں ۔ اور یہ بات اس کی دلیل ہے کہ انہوں نے (محمد ) بن ابی لیلی کی حدیث پراعتما نہیں کیا ۔ اور بعض کوفیوں کا یہ قول ہے کہ جنازے کی تکبیروں میں رفع یدین کرنا چاہئے اور یہ چار تکبیریں ہیں۔ اور یہ سب (تکبیرات مع رفع یدین) ابن لیلی کی حدیث پراضافہ ہیں۔ اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئی سندوں سے روایت کیا گیا ہے کہ آپ ان سات مقامات کے علاوہ (بھی) رفع یدین کرتے تھے۔

شُعْبَةُ، ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← مِقْسَمٍ، ← الْحَكَمِ ← ابْنِ أَبِي لَيْلَی ← عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَالْمُحَارِبِيُّ

Qurah Al Aeneen Bar Raffa Yaddain Fi Salah · Book › Door · Hadith 82

chevron_left Previous
1…678…11
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Door