Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Friday, Jumada I 6, 1448 AH · Oct 16, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شرح معنی الآثار الطحاوي

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi

by Al Tahavi

7,324 Hadith365 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1830

1731 - حدثنا أبو بكرة وابن مرزوق قالا ثنا أبو عاصم عن الأشعث عن الحسن عن أبى بكرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى بهم صلاة الخوف فصلى بطائفة منهم ركعتين ثم انصرفوا وجاء الآخرون فصلى بهم ركعتين فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم أربعا وصلى كل طائفة ركعتين

حسن نے ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ہمیں صلاۃ خوف پڑھائی پس ایک طائفہ کو دو رکعت پڑھائی پھر وہ لوٹ گئے (دشمن کے سامنے جا کرکھڑے ہوئے) اب دوسرا گروہ آیا پس انکو دو رکعت پڑھائی اس طرح جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے چار رکعت ادا فرمائی اور ہر جماعت نے دو دو رکعت ادا کی۔

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← الْأَشْعَثِ ← أَبُو عَاصِمٍ ← أبو بكرة وابن مرزوق

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1830

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1831

1732 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا أبو داود قال ثنا أبو حرة عن الحسن عن أبى بكرة عن النبي صلى الله عليه و سلم مثله

ابو حرہ نے حسن سے انہوں نے ابو بکرہ سے انہوں نے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سےاسی طرح روایت نقل کی ہے۔

النبي صلى الله عليه و سلم مثله ← أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← أَبُو حُرَّةَ ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1831

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1832

1733 - حدثنا بن أبى داود قال ثنا موسى بن إسماعيل قال ثنا أبان قال ثنا يحيي عن أبى سلمة عن جابر بن عبد الله قال كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم بذات الرقاع فأقيمت الصلاة ثم ذكر مثله

ابو سلمہ نے کہا کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے کہ ہم جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں تھے پس جماعت کرائی گئی پھر اس کا طریقہ مندرجہ بالا روایت والا نقل کیا ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← اَبِیْ سَلَمَۃَ ← يَحْيَى ← أَبَانُ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← بن أبي داود

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1832

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1833

1734 - حدثنا بن خزيمة قال ثنا محمد بن عبد الملك بن أبى الشوارب قال ثنا أبو عوانة عن أبى بشر عن سليمان بن قيس عن جابر بن عبد الله قال كان رسول الله صلى الله عليه و سلم محارب خصفة فصلى بهم صلاة الخوف فذكر مثل ذلك أيضا فقال قوم بهذا وزعموا أن صلاة الخوف كذلك ولا حجة لهم عندنا في هذه الآثار لأنه يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم صلاها كذلك لأنه لم يكن في سفر يقصر في مثله الصلاة فصلى بكل طائفة ركعتين ثم قضوا بعد ذلك ركعتين ركعتين وهكذا نقول نحن إذا حضر العدو في مصر فأراد أهل ذلك المصر أن يصلوا صلاة الخوف فعلوا هكذا يعنى بعد أن يكون تلك الصلاة ظهرا أو عصرا أو عشاء قالوا فإن القضاء ما ذكر قيل لهم قد يجوز أن يكونوا قد قضوا ولم ينقل ذلك في الخبر وقد يجيء في الأخبار مثل هذا كثيرا وان كانوا لم يقضوا فإن ذلك عندنا لاحجة فيه أيضا لأنه يجوز أن يكون ذلك كان من رسول الله صلى الله عليه و سلم والفريضة تصلى حينئذ مرتين فيكون كل واحدة منهما فريضة وقد كان ذلك يفعل في أول الإسلام ثم نسخ

سلیمان بن قیس نے حضرت جابر بن عبداللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم حصفہ کے ساتھ جنگ میں مصروف تھے پس صحابہ کو نما ز خوف پڑھائی پس اسی طرح روایت نقل کی جیسے اوپر گزری کچھ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ نماز خوف اسی طرح ہے ۔ ہمارے ہاں ان آچار میں ہمارے لیے کوئی حجت نہیں ہے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے اس کو ادا کیا ہو اور آپ سفر میں نہ ہوں کہ جس میں قصر کی جاتی ہے ۔ اس سے آپ نے ہر جماعت کو دو دو رکعت پڑھائیں اور بقیہ دو دو رکعتیں بعد میں انہوں نے پوری کر لیں ۔ اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ جب دشمن شہر میں حملہ کر دے اور شہر کےلوگ نماز خوف ادا کرنا چاہتے ہوں تو وہ اسی طرح کریں یعنی اس کے بعد کہ وہ نماز ظہر یا عصر یا عشاء ہو ۔ وہ کہتے ہیں کہ قضا ء کا تو یہاں تذکرہ نہیں تو ان سے کہا جائے گا ممکن ہے کہ انہوں نے قضاء کی ہو مگر روایت میں مذکور نہیں اور روایات میں ایسا کثرت سے آتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ قضاء نہ کی ہو مگر ہمارے ہاں اس کے لیے بھی کوئی دلیل روایت میں موجود نہیں۔ کیونکہ یہ ممکن ہے کہ یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے کیا ہو اور اس زمانے میں فریضہ دو مرتبہ ادا کیا جاتا ہو۔ پس ان میں سے ہر ایک فرض ہوابتداء اسلام میں ایسا کا گیا پھر منسوخ ہو گیا ۔ چنانچہ آئندہ روایت ملاحظہ کریں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← سليمان بن قيس ← أَبِي بِشْرٍ، ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، ← بْنِ خُزَيْمَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1833

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1834

1735 - حدثنا حسين بن نصر قال سمعت يزيد بن هارون قال أنا حسين المعلم عن عمرو بن شعيب عن سليمان مولى ميمونة رضي الله عنها قال أتيت المسجد فرأيت بن عمر جالسا والناس في الصلاة فقلت ألا تصلى مع الناس فقال قد صليت في رحلى إن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى أن تصلى فريضة مرتين فالنهى لا يكون الا بعد الإباحة فقد كان المسلمون هكذا يصنعون في بدء الإسلام يصلون في منازلهم ثم يأتون المسجد فيصلون تلك الصلاة التي أدركوها على أنها فريضة فيكونوا قد صلوا فريضة مرتين حتى نهاهم رسول الله صلى الله عليه و سلم عن ذلك وأمر بعد ذلك من جاء الى المسجد فأدرك تلك الصلاة أن يصليها ويجعلها نافلة وترك بن عمر الصلاة مع القوم يحتمل عندنا ضربين يحتمل أن يكون تلك الصلاة صلاة لا يتطوع بعدها فلم يكن يجوز أن يصليها الا على أنها فريضة فقال نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يصلى فريضة في يوم مرتين أي فلا يجوز أن أصليها فريضة لأنى قد صليتها مرة ولا أدخل معهم لأنى لا يجوز لي التطوع في ذلك الوقت ويحتمل أن يكون سمع من النبي صلى الله عليه و سلم النهى عن إعادتها على هذا المعنى الذي نهى عنه ثم رخص رسول الله صلى الله عليه و سلم بعد ذلك أن تصلى على أنها نافلة فلم يسمع ذلك بن عمر رضي الله عنهما فنظرنا في ذلك

سلیمان مولیٰ میمونہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں مسجد نبوی میں آیا اور میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کودیکھا کہ وہ بیٹھے ہیں جبکہ دوسرے لوگ نماز میں مشغول ہیں تو میں نے کہا کیا آپ لوگوں کے ساتھ نماز نہ پڑھیں گے ؟ تو انہوں نے جواب دیا میں اپنے گھر میں نماز پڑھ چکا ہوں جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ایک فرض کو دو مرتبہ پڑھنے سے منع فرمایا ہے ممانعت کا قاعدہ یہ ہے کہ وہ اباحت کے بعد ہوا کرتی ہے ابتداء اسلام میں مسلمان اسی طرح کرتے تھے وہ اپنے گھروں میں نماز ادا کرتے پھر وہ مسجد میں آتے اور جو نماز وہ جماعت کے ساتھ پاتے وہ فرض کے طور پر ادا کرتے پس وہ دو مرتبہ فرض ادا کرنے والے ہوتے یہاں تک کہ جناب رسو ل اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ان کو اس سے روک دیا اور ان کو حکم دیا کہ جو شخص مسجد میں آئے جبکہ وہ پہلے گھر میں نماز ادا کر چکا ہو تو اس نماز میں شامل ہو کر اس کو نفل بنائے باقی اس روایت میں مذکورہ ہے ابن عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے ساتھ نماز کو چھوڑ دیا اس میں دو احتمال ہیں ۔(1) ممکن ہے کہ وہ نماز ایسی ہو جس کے بعد نوافل نہیں پڑھے جاتے ۔ پس یہ جائز نہیں کہ اسے فرض کے علاوہ کسی دوسری نیت سے ادا کر لے اس وجہ سے انہوں نے فرمایا ۔ نھی رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ان یصلی فریضۃ فی یوم مرتین" یعنی یہ جائز نہیں ہے کہ میں اسے فرض کی نیت سے ادا کروں کیونکہ میں اسے اس طور پر تو ایک مرتبہ ادا کر چکا اور ان کے ساتھ میں فرض میں شامل نہ ہوں گا کیونکہ اس وقت نفل میرے لیے جائز نہیں اور دوسرا احتمال یہ بھی ہے کہ انہوں نے جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم سے اس کا لوٹانے کی ممانعت اس معنی میں سنی ہو جس پر آپ نے ممانعت فرمائی اور بعد میں آپ نے نفلی طور پر اجازت مرحمت فرمائی وہ انہوں نے نہ سنی ہو۔ پس دونوں احتمالات کو روایات کی روشنی میں دیکھتے ہیں ۔

قد صليت في رحلى ← أتيت المسجد فرأيت بن عمر جالسا والناس في الصلاة فقلت ألا تصلى مع الناس ← سُلَيْمَانَ، مَوْلَى مَيْمُونَةَ، ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ، ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← حسين بن نصر

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1834

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1835

1736 - فإذا بن أبى داود قد حدثنا قال ثنا الوهبي قال ثنا الماجشون عن عثمان بن سعيد بن أبى رافع قال أرسلنى محرز بن أبى هريرة رضي الله عنه الى بن عمر أسأله إذا صلى الرجل الظهر في بيته ثم جاء الى المسجد والناس يصلون فصلى معهم أيتهما صلاته فقال بن عمر رضي الله عنهما صلاته الأولى ففي هذا الحديث أن بن عمر قد رأى أن الثانية تكون تطوعا فدل ذلك على أن تركه للصلاة في حديث سليمان إنما كان لأنها صلاة لا يجوز أن يتطوع بعدها فإن كانت في حديث أبى بكرة وجابر اللذين ذكرنا كان أولى الحكم ما وصفنا أن من صلى فريضة جاز أن يعيدها فتكون فريضة فلذلك صلاها رسول الله صلى الله عليه و سلم مرتين بالطائفتين وذلك هو جائز لو بقي الحكم على ذلك فأما إذا نسخ فنهى أن تصلى فريضة مرتين فقد ارتفع ذلك المعنى الذي له صلى بكل طائفة ركعتين وبطل العمل به فلا حجة لهم في حديث أبي بكرة وجابر لاحتمالهما ما ذكرنا

عثمان بن سعید بن ابی رافع کہتے ہیں کہ مجھے محرزبن ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیجا کہ ( میں ان سے یہ مسئلہ دریافت کروں) جب آدمی ظہر اپنے گھر میں ادا کرے پھر مسجد میں آئے اور لوگ ابھی نماز میں مصروف ہوں اور وہ ان کے ساتھ مل کر بھی نماز پڑھے تو اس کے فرض کون سے شمار ہوں گے؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا فرض پہلی نماز والے ہوں گے اس روایت میں یہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ خیال فرمایا کہ دوسری نماز نفل ہو گی ۔ پس اس سے یہ دلالت مل گئی کہ ان کا نماز چھوڑنا جسکا تذکرہ سیلمان رضی اللہ عنہ کی روایت میں آیا ہے ۔ وہ اس بنا ء پر تھا کہ وہ ایسی نماز تھی کہ جس کے بعد نفل ادا نہیں ہو سکتے پس اگر ابو بکرہ اور جابر رضی اللہ عنہ والی روایات جن کا ہم نے تذکرہ کیا ان میں پہلا معنی مراد لیا جائے جو ہم نے بیان کیا کہ جو شخص فرض نماز ادا کر لے اس کو اسے دوبارہ پڑھتا درست ہے ۔ پس اس صورت میں یہ فرض قرار پائیں گے ۔ اسی وجہ سے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم دو مرتبہ دو جماعتوں کو نماز پڑھائی اور یہ بشرطیکہ اس پر حکم باقی ہے اور اگر منسوخ ہو چکا ہو اور فرض کو دو مرتبہ پڑھنا ممنوع قرار دیا گیا ہو تو یہ مفہوم خود ختم ہو گیا جس کی وجہ سے دو گرو ہوں کو دو دورکعت پڑھائیں اور اس پر عمل کرنا جائز نہ ہوا ۔ پس ان دو احتمالات کی وجہ سے حضرت ابو بکرہ اور جابر رضی اللہ عنہ کی روایات سے استدلال کی گنجائش نہ رہی ۔

عثمان بن سعيد بن أبى رافع ← الْمَاجِشُونُ، ← الوهبي ← فإذا بن أبي داود قد

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1835

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1836

1737 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا حبان يعنى بن هلال قال ثنا همام قال ثنا قتادة عن عامر الأحول عن عمرو بن شعيب عن خالد بن أيمن المعافري قال كان أهل العوالي يصلون في منازلهم ويصلون مع النبي صلى الله عليه و سلم فنهاهم رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يعيدوا الصلاة في يوم مرتين قال عمرو قد ذكرت ذلك لسعيد بن المسيب فقال صدق وقد روى عن جابر بن عبد الله في هذا ما يدل على غير هذا المعنى

عمروبن شعیب نے خالد بن ایمن المعا فری رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ اہل موالی اپنے گھروں میں نماز پڑھتے اور پھر آکر جناب نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرتے پھر آپ صلی اللہ عیہ وسلم نے ان کو دن میں دو مرتبہ ایک فرض نماز پڑھنے سے منع فرمایا عمرو کہتے ہیں میں نے یہ بات سعید بن المسیب رحمۃ اللہ علیہ کو نقل کی تو انہوں نے کہا خالد نے سچ فرمایا ہے اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اس کے خلاف روایت آئی ہے جو اور مفہوم پر دلالت کرتی ہے ۔

كان أهل العوالي يصلون في منازلهم ← خالد بن أيمن المعافري ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← حبان، يعني بن هلال، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1836

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1837

1738 - حدثنا يزيد بن سنان قال ثنا معاذ بن هشام قال حدثني أبى عن قتادة عن سليمان اليشكري أنه سأل جابر بن عبد الله عن اقصار الصلاة في الخوف أي يوم أنزل وأين هو قال انطلقنا نتلقى عير قريش آتية من الشام حتى إذا كنا بنخل جاء رجل من القوم الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال أنت محمد قال نعم قال ألا تخافني قال لا قال فمن يمنعك منى قال الله يمنعني منك قال فسل السيف قال فتهدده القوم وأوعدوه فنادى رسول الله صلى الله عليه و سلم بالرحيل وأخذوا السلاح ثم نودى بالصلاة فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بطائفة من القوم وطائفة أخرى يحرسونهم فصلى بالذين يلونه ركعتين ثم سلم ثم تأخر الذين يلونه على أعقابهم فقاموا في مصاف أصحابهم وجاء الآخرون فصلى بهم ركعتين والآخرون يحرسونهم ثم سلم فكان للنبي صلى الله عليه و سلم أربع ركعات وللقوم ركعتان ركعتان ففي يومئذ أنزل الله عز و جل اقصار الصلاة وأمر المؤمنين بأخذ السلاح ففي هذا الحديث ما يدل على أن رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى بهم أربعا يومئذ قبل إنزال الله عليه في قصر الصلاة ما أنزل عليه وأن قصر الصلاة إنما أمره الله تعالى به بعد ذلك فكانت الأربع يومئذ مفروضة على رسول الله صلى الله عليه و سلم وكان المؤتمون به فرضهم أيضا فيها كذلك لأن حكمهم حينئذ كان في سفرهم كحكمهم في حصرهم ولا بد إذا كان ذلك كذلك من أن يكون كل طائفة من هاتين الطائفتين قد قضت ركعتين ركعتين كما تفعل لو كانت في الحضر فإن قال قائل ففي هذا الحديث ما يدل على خروج رسول الله صلى الله عليه و سلم من الصلاة بعد فراغه من الركعتين اللتين صلاهما بالطائفة الأولى واستقباله الصلاة في وقت دخول الطائفة الثانية معه فيها لأن في الحديث ثم سلم قيل له قد يحتمل أن يكون ذلك السلام المذكور في هذا الموضع هو سلام التشهد الذي لا يراد به قطع الصلاة ويحتمل أن يكون سلاما أراد به اعلام الطائفة الأولى بأوان انصرافها والكلام حينئذ مباح له في الصلاة غير قاطع لها على ما قد روى في ذلك عن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه وعن أبى سعيد الخدري وعن يزيد بن أرقم على ما قد روينا عن كل واحد منهم في الباب الذي ذكرنا فيه وجوه حديث ذي اليدين في غير هذا الموضع من هذا الكتاب وقد روى عن جابر بن عبد الله عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه صلاها على غير هذا المعنى

سلیمان یشکری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نماز خوف میں قصد کا سوال کیا کہ یہ حکم کب نازل ہوا اور کہاں نازل ہوا؟ تو جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم شام سے آنے والے قریش کے قافلہ کا سامنا کرنے نکلے جب ہم مقام نخل میں پہنچے تو ایک آدمی قبیلے سے جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے سوال کیا کیا تم محمد ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! اس نے کہا کہ کیا تم مجھ سے نہیں ڈرتے؟ آپ نے فرمایا نہیں ۔ تو اس نے کہا تمہیں مجھ سے کون بچائے گا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مجھے تم سے بچائے گا پھر اس تلوار سونت لی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کو ڈانٹا اور دھمکایا پھر جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے کوچ کا حکم فرمایا انہوں نے ہتھیار تھام لیے پھر اذان د ی گئی پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم ایک جماعت کو نماز پڑھائی اور ایک جماعت ان کی حفاظت کرتی رہی جو جماعت آپ کے قریب تھی ا ن کو دو رکعت پڑھائی سلام پھیرا (علامتی سلام) پھر یہ جماعت الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گئی اور اپنے ساتھیوں کی جگہ جا کھڑے ہوئے اور دوسری جماعت آئی پس ان کو دو رکعت پڑھائی اور پہلی جماعت انکی حفاظت کر رہی تھی اور ہر گروہ کی دو رکعت ہوئیں پس اسی دن اللہ تعالیٰ نے نماز قصر اتاری اور مسلمانوں کو اسلحہ سمیت نماز کا حکم دیا ۔

سُلَيْمَانَ الْيَشْكُرِيِّ ← قَتَادَةَ ← أَبِي ← مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ← يَزِيدُ بْنُ سِنَانٍ،

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1837

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1838

1739 - حدثنا أحمد بن عبد الله بن عبد الرحيم قال ثنا سعيد بن أبى مريم قال أنا يحيى بن أيوب قال حدثني يزيد بن الهاد قال حدثني شرحبيل بن سعد أبو سعد عن جابر بن عبد الله عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في صلاة الخوف قال قام رسول الله صلى الله عليه و سلم وطائفة من خلفه من وراء الطائفة التي خلف رسول الله صلى الله عليه و سلم قعود وجوههم كلهم الى رسول الله صلى الله عليه و سلم فكبر رسول الله صلى الله عليه و سلم وكبرت الطائفتان وركع وركعت الطائفة التي خلفه والآخرون قعود ثم سجد فسجدوا أيضا والآخرون قعود ثم قام وقاموا فنكصوا خلفه حتى كانوا مكان أصحابهم وأتت الطائفة الأخرى فصلى بهم رسول الله صلى الله عليه و سلم ركعة وسجدتين والآخرون قعود ثم سلم فقامت الطائفتان كلتاهما فصلوا لأنفسهم ركعة وسجدتين ركعة وسجدتين فهذا الحديث عندنا من المحال الذي لا يجوز كونه لأن فيه أنهم دخلوا في الصلاة وهم قعود وقد أجمع المسلمون أن رجلا لو افتتح الصلاة قاعدا ثم قام فأتمها قائما ولا عذر له في شيء من ذلك أن صلاته باطلة فكان الدخول لا يجوز الا على ما يكون عليه الركوع والسجود فاستحال أن يكون الذين كانوا خلف النبي صلى الله عليه و سلم في الصف الثاني دخلوا في الصلاة وهم قعود فثبت عن جابر بن عبد الله ما رويناه عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم في غير هذا الحديث وذهب آخرون في صلاة الخوف الى ما

شرحبیل بن سعد ابو سعد نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے نماز خوف کے سلسلہ میں نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم اور ایک جماعت آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے اور ایک گروہ اس گروہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا جو آپ کے پیچھے تھا مگر ان کے چہرے آپ کی طرف تھے پس جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے تکبیر کہی اور دونوں گروہوں نے تکبیر کہی آپ نے رکوع کیا اور جماعت کے بھی رکوع کیا جو آپ کے پیچھے تھی اور دوسری جماعت نے آپ کے پیچھے بیٹھے تھے پھر آپ نے سجدہ کیا اور انہوں نے بھی سجدہ کیا اور دوسرے بیٹھے رہے پھر آپ نے قیام کیا اور انہوں نے بھی قیام کیا اور پیچھے کی طرف ہٹ گئے اور بیٹھے والوں کی جگہ پہنچ گئے دوسرا گروہ آیا اور ان کو جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے دو سجدوں سمیت ادا کی ۔ اس روایت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ان کو نماز قصر کے نزول سے پہلے ان کو چار رکعت نماز پڑھائی۔ قصر کا حکم اس کے بعد نازل ہوا ۔ پس اس وقت آپ صلی اللہ عیہ وسلم پر چار رکعت ہی فرض تھیں اور آپ کے مقتدیوں کی فرض نماز بھی اسی طرح تھی اس لیے کہ اس وقت تک ان کے حق میں سفر و حضر کا ھکم برابر تھا ۔ جب ایسی صورت تھی تو دونوں گروہوں نے دو دو رکعارت پور ی کیں جیسا کہ اگر مقیم ہوتے تو دو دو رکعت کو پورا کرنا لازم آتا ۔ اگر کوئی شخص یہ اعتراض کرے کہ یہ حدیث دلالت کر رہی ہے کہ دو رکعت ادا کرنے کے بعد آپ نماز سے باہر ہے ، کیونکہ حدیث پہلے گروہ کے ساتھ دو رکعت پر سلام پھیرنا مذکور ہے ۔ اس کے جواب میں ہم عرض کریں گے کہ یہ مذکورہ سلام تشہد والا ہو جس سے نماز سے نکلنے کا ارادہ نہیں اور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سلام سے اس جماعت کو نماز سے لوتنے کا مقام بتانا ہو اور اس زمانے مین گفتگو جائز تھی اس سے نماز قطع نہ ہوتی تھی ۔ جیسا کہ حضرت ابن مسعود ابو سعید خدری اور زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم نے کسی دوسرے موقعہ پر اس کتاب میں ان روایا ت کو ذکرکیا ہے ۔ جہاں حدیث والیدین رضی اللہ عنہ کی وجوہ ذکر کی گئی ہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے نماز خوف کو جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے اس طریقہ کے علاوہ طریقہ سے بھی نقل کیا ہے ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← شرحبيل بن سعد أبو سعد ← یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1838

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1839

1740 - حدثنا على بن شيبة قال ثنا قبيصة قال ثنا سفيان الثوري عن منصور عن مجاهد عن أبىعياش الزرقي قال صلى بنا رسول الله صلى الله عليه و سلم الظهر ب عسفان والمشركون بينه وبين القبلة فيهم أو عليهم خالد بن الوليد فقال المشركون لقد كانوا في صلاة لو أصبنا منهم لكانت الغنيمة فقال المشركون انها ستجىء صلاة هى أحب إليهم من آبائهم وأبنائهم قال فنزل جبريل عليه السلام بالآيات فيما بين الظهر والعصر قال فصلى رسول الله صلى الله عليه و سلم العصر وصف الناس صفين وكبر وكبروا معه جميعا ثم ركع وركعوا معه جميعا ثم رفع ورفعوا معه جميعا ثم سجد وسجد الصف الذي يلونه وقام الصف يحرسونهم بسلاحهم ثم رفع ورفعوا جميعا ثم سجد الصف الآخر ثم رفعوا وتأخر الصف المقدم وتقدم الصف المؤخر فكبر وكبروا معه جميعا ثم ركع وركعوا معه جميعا ثم رفع ورفعوا معه جميعا ثم سلم عليهم وصلاها مرة أخرى في أرض بنى سليم

مجاہد نے ابو عیاش زرقی رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے ہمین مقام عسفان میں ظہر کی نماز پڑھائی جبکہ مشرکین آپ کے سامنے قبلہ والی جانب تھے ان کے کمانڈر خآلد بن ولید تھے ( جو اس وقت تک مسلمان نہ ہوئے تھے ) مشرکین نے نے کہا کہ یہ لوگ نماز میں تھے اگر ہم ان پر حملہ کرتے تو بڑی غنیمت بات تھی پھر مشرکین کہنے لگے ابھی ان کی دوسری نماز آرہی ہے وہ ان کو اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہے ۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ ظہر و عصر کے درمیان جبرائیل علیہ السلام نماز خوف کا حکم لے کر نازل ہوئے ابو عیاش کہتے ہیں جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھائی لوگوں کی دو جماعتیں بنا دیں آپ نے تکبیر کہی اور تمام نے آپ کے ساتھ تکبیر کہی پھر آپ نے رکوع کیا اور سب نے آپ کے ساتھ رکوع کیا پھر آپ نے رکوع سے سر اٹھایا سب نے رکوع سے سر اٹھایا پھر آپ نے سجدہ کیا تو صف اول نے سجدہ کیا اور پچھلی صف کھڑی رہی وہ اپنے ہتھیاروں سے ان کی حفاظت کر رہی تھی پھر آپ نے سجدہ سے سر اٹھایا اور انہوں نے بھی سجدہ سے سر اٹھایا پھر دوسری صف والوں نے سجدے کر کے اس سے سر اٹھایا ۔ اب پہلی صف پیچھے ہٹ گئی اور دوسری آگے آگئی آپ نے دوسری رکعت کی تکبیر کہی تمام نے آپ کے ساتھ تکبیر کہی پھر جب آپ نے رکوع کیا تو تمام نے آپ کے ساتھ رکوع کیا پھر آپ نے سر اٹھایا تو تمام نے آپ کے ساتھ سر اٹھایا پھر آپ نے سلام پھیرا پھر آپ نے دوسری مرتبہ سر زمین بنی سلیم میں یہ نماز ادا فرمائی ۔

أبىعياش الزرقي ← مُجَاهِدٍ ← مَنْصُورٌ، ← سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ← قَبِيصَةُ، ← علي بن شيبة

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1839

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1840

1741 - حدثنا أبو بكرة قال ثنا مؤمل قال ثنا سفيان عن أبى الزبير عن جابر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه صلاها فذكر نحوا من هذا وكان بن أبى ليلى ممن ذهب الى هذا الحديث وتركه أبو حنيفة ومحمد بن الحسن لأن الله عز و جل قال ولتأت طائفة أخرى لم يصلوا فليصلوا معك وفي هذا الحديث أنهم صلوا جميعا وفي حديث بن عمر رضي الله عنهما وعبيد الله بن عبد الله عن بن عباس رضي الله عنهما وفي حديث حذيفة وزيد بن ثابت دخول الطائفة الثانية في الركعة الثانية لم يكونوا صلوا قبل ذلك فالقرآن يدل على ما جاءت به الرواية عنهم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في ذلك فكانت عنده أولى من حديث أبىعياش وجابر هذين وذهب أبو يوسف الى أن العدو إذا كان في القبلة فالصلاة كما روى أبو عياش وجابر رضي الله عنه وان كانوا في غير القبلة فالصلاة كما روى بن عمر رضي الله عنه وحذيفة وزيد بن ثابت لأن في حديث أبىعياش أنهم كانوا في القبلة وحديث بن عمر وحذيفة وزيد لم يذكر فيه شيء من ذلك الا انه قد روى عن بن مسعود رضي الله عنه في ذلك ما يوافق ما رووا وقال كان العدو في غير القبلة قال أبو يوسف رحمه الله فأصحح الحديثين فأجعل حديث بن مسعود رضي الله عنه وما وافقه إذا كان العدو في غير القبلة وحديث أبى عياش وجابر إذا كان العدو في القبلة وليس هذا بخلاف التنزيل عندنا لأنه قد يجوز أن يكون قوله ولتأت طائفة أخرى لم يصلوا فليصلوا معك إذا كان العدو في غير القبلة ثم أوحى الله اليه بعد ذلك كيف حكم الصلاة إذا كانوا في القبلة ففعل الفعلين جميعا كما جاء الخبران وهذا أصح الأقاويل عندنا في ذلك وأولاها لأن تصحيح الآثار يشهد له وقد دل على ذلك أيضا أن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قد روى عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم في صلاة الخوف ما قد ذكرنا في أول هذا الباب مما رواه عنه عبيد الله بن عبد الله من صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم بذي قرد فكان ذلك موافقا لما روى عبد الله بن مسعود رضي الله عنه وعبد الله بن عمر وحذيفة وزيد عن النبي صلى الله عليه و سلم في ذلك ثم روى عن عبد الله بن عباس رضي الله عنه في ذلك من رأيه ما

ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم سے کہ آپ نے نماز خوف اسی طرح ادا فرمائی ۔ ہمار ے نزدیک اس روایت کا ہونا ناممکنات سے ہے ۔ کیونکہ اس میں مذکور ہے کہ وہ قعدہ کی حالت میں نماز میں داخل ہوئے حالانکہ اس بات پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ اگر کوئی بیٹھنے کی حالت نماز کو شروع پھر وہ کھڑا ہو جائے اور اکا بیٹھنا عذر کی وجہ سے نہ ہو وہ نماز کو مکمل کرے تو اس کی نامز باطل ہو گی پس ایسی حالت کے ساتھ داخل ہونا جائز ہے ۔ جس میں رکوع ار سجدہ میں داخلہ ناممکن ہے ۔جو کچھ ہم نے روایت کیا یہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں جناب رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم سے اس روایت کے علاوہ دوسری روایت میں موجود ہے نماز خوف کے متعلق دوسرے حضرات نے اور راہ اپنایا ہے ۔ ملاحظہ ہو ۔

محمد بن الحسن لأن الله عز و جل ← تركه أبو حنيفة ← نحوا من هذا وكان بن أبى ليلى ممن ذهب الى هذا الحديث ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← سُفْيَانَ، ← مُؤَمَّلٍ، ← أَبُو بَکْرَةَ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1840

شرح معنی الآثار الطحاوي · ( 2 كتاب الصلاة ) ‹ ( 36 باب صلاة الخوف كيف هى ) · حديث 1841

1742 - حدثنا سليمان بن شعيب قال ثنا عبد الله بن محمد بن صالح بن لهيعة عن الأعرج أنه سمع عبيد الله بن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما يقول كان بن عباس رضي الله عنهما يقول في صلاة الخوف فذكر مثل ما فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم في حديث أبى عياش وحديث جابر بن عبد الله الذي وافقه فلما كان بن عباس رضي الله عنهما قد علم من فعل رسول الله صلى الله عليه و سلم ما علم على ما روينا عنه في حديث عبيد الله وقال كان المشركون بينه وبين القبلة ثم قال هذا برأيه استحال أن يكون يصلون هكذا والعدو في غير القبلة ويصلون إذا كان العدو في القبلة كما روى عنه عبيد لأنهم إذا كانوا لا يستدبرون القبلة والعدو في ظهورهم كان أحرى أن لا يستدبروها إذا كانوا في وجوههم ولكن ما ذكرنا عنه من ترك الاستدبار هو إذا كان العدو في القبلة ويحتمل أن يكون أيضا كذلك إذا كان العدو أيضا في غير القبلة كما قال بن أبى ليلى فقد أحاط علمنا بقوله بخلاف ما روى عنه عبيد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم إذا كان العدو في القبلة ولم يكن ليقول ذلك الا بعد ثبوت نسخ ذلك عنده إذا كان العدو في غير القبلة فجعلنا هذا الذي رويناه عنه من قوله هو في العدو إذا كانوا في القبلة وتركنا حكم العدو إذا كانوا في غير القبلة على مثل ما روى عنه عبيد الله عن النبي صلى الله عليه و سلم وقد كان أبو يوسف رحمه الله قال مرة لا يصلى صلاة الخوف بعد رسول الله صلى الله عليه و سلم وزعم أن الناس إنما صلوها مع رسول الله صلى الله عليه و سلم كما صلوها لفضل الصلاة معه وهذا القول عندنا ليس بشيء لأن أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم قد صلوها بعده قد صلاها حذيفة بطبرستان وما في ذلك فأشهر من أن يحتاج الى أن نذكره هاهنا فإن احتج في ذلك بقوله وإذا كنت فيهم فأقمت لهم الصلاة الآية فقال إنما أمر بذلك إذا كان فيهم فإذا لم يكن فيهم انقطع ما أمر به من ذلك قيل له فقد قال عز و جل خذ من أموالهم صدقة تطهرهم وتزكيهم بها وصل عليهم الآية فكان الخطاب ها هنا له وقد أجمع أن ذلك كان معمولا به من بعده كما كان يعمل به في حياته ولقد حدثني أحمد بن أبى عمران أنه سمع أبا عبد الله محمد بن شجاع الثلجى يعيب قول أبى يوسف رحمه الله هذا ويقول إن الصلاة مع النبي صلى الله عليه و سلم وإن كانت أفضل من الصلاة مع الناس جميعا فإنه لا يجوز لأحد أن يتكلم فيها بكلام يقطعها فلا ينبغي أن يفعل فيها شيء لا يفعله في الصلاة مع غيره وأن يقطعها ما يقطع الصلاة خلف غيره من الأحداث كلها فلما كانت الصلاة خلفه لا يقطعها الذهاب والمجىء واستدبار القبلة إذا كانت صلاة خوف كانت خلف غيره كذلك أيضا

اعرج نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے صلاۃ خوف کے سلسلہ میں اسی طریق کو نقل کیا جو ابو عیاش رضی اللہ عنہ کی روایت میں مذکور ہے ۔ جب ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فعل رسول اللہ صلی اللہ عیہ وسلم وہی جانا جو ہم نے حدیث عبیداللہ میں نقل کیا تو اس روایت میں یہ صاف موجود ہے کہ دشمن آپ کے اور قبلہ کے درمیان حائل تھے پھر یہ فتویٰ انہوں نے اپنے اجتہاد سے دیا کہ بظاہر فعل رسول کے خلاف ہے حالانکہ وہ فعل رسول کی اصل صورت کو خوب جانتے تھے تو ایک ساتھ نیت باندھنے پر انکا فتویٰ ناممکن ہے کیونکہ دشمن غیر قبلہ کی طرف ہو اور سب لوگ ایک ساتھ نیت باندھ لیں حالانکہ دشمن سے حفاظت بھی مقصود ہو تو یہ ناممکن ہے اور یہ بھی نا ممکن ہے کہ دشمن قبلہ کی جانب ہو اور نماز سی طرح ادا کی جائے یسا کہ عبید اللہ کی روایت میں مذکور ہے جب دشمن غیر قبلہ میں ہو تو تب بھی مسلمان قبلہ سے پشت نہیں پھیرتے پھر دشمن قبلہ کی جانب ہو تو قبلہ سے رخ موڑنے کی ضرورت نہیں بلکہ دونوں گروہ ایک ساتھ نیت کر لیں بس سجدہ آگے پیچھے کریں گے ایک گروہ امام کے ساتھ سجدہ کرے اور دوسرا اس کے بعد لیکن رک استدبار اس وقت ہو جبکہ دشمن قبلہ کی طر ہو اور غیر قبلکہ میں ابی لیلیٰ والی روایت کا بھی احتمال ہے رجعت قہقری ہم اس کی وضاحت اور جواب ذکر کر آئے ہیں البتہ عبید اللہ عن النبی صلی اللہ عیہ وسلم سے جو روایت ثابت ہے وہ ان سے ثبوت تسخ کی صورت میں ہے یہ روایت عبید اللہ تو دشمن کے قبلہ کی طرف ہونے سے متعلق ہے ہم نے غیر قبلہ میں دشمن کے پائے جانے والی صورت کو چھوڑ دیا ہے جیسا کہ عبید اللہ نے جناب بنی اکرم صلی اللہ عیہ وسلم سے نقل کیا ہے ۔

الْأَعْرَجِ ← عبد الله بن محمد بن صالح بن لهيعة ← سُلَيْمَانُ بْنُ شُعَيْبٍ

Sharah Maani Al Aasaar Al Tahavi · Book › Chapter · Hadith 1841

chevron_left Previous
1…888990…124
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter8. Chapter9. Chapter10. Chapter11. Chapter12. Chapter13. Chapter14. Chapter15. Chapter16. Chapter17. Chapter18. Chapter19. Chapter20. Chapter21. Chapter22. Chapter23. Chapter24. Chapter25. Chapter26. Chapter27. Chapter
2. Book
    28. Chapter29. Chapter30. Chapter31. Chapter32. Chapter33. Chapter34. Chapter35. Chapter36. Chapter37. Chapter38. Chapter
39. Chapter
40. Chapter
41. Chapter
42. Chapter
43. Chapter
44. Chapter
45. Chapter
46. Chapter
47. Chapter
48. Chapter
49. Chapter
50. Chapter
51. Chapter
52. Chapter
53. Chapter
54. Chapter
55. Chapter
56. Chapter
57. Chapter
58. Chapter
59. Chapter
60. Chapter
61. Chapter
62. Chapter
63. Chapter
64. Chapter
65. Chapter
66. Chapter
67. Chapter
68. Chapter
69. Chapter
70. Chapter
71. Chapter
72. Chapter
73. Chapter
74. Chapter
75. Chapter
76. Chapter
77. Chapter
78. Chapter
79. Chapter
80. Chapter
81. Chapter
82. Chapter
83. Chapter
2. Book
    84. Chapter85. Chapter86. Chapter87. Chapter88. Chapter89. Chapter90. Chapter91. Chapter92. Chapter93. Chapter94. Chapter95. Chapter96. Chapter97. Chapter98. Chapter99. Chapter
3. Book
    100. Chapter101. Chapter102. Chapter103. Chapter104. Chapter105. Chapter106. Chapter107. Chapter108. Chapter109. Chapter110. Chapter
4. Book
    111. Chapter112. Chapter113. Chapter114. Chapter115. Chapter116. Chapter117. Chapter118. Chapter119. Chapter120. Chapter121. Chapter122. Chapter123. Chapter124. Chapter125. Chapter126. Chapter127. Chapter128. Chapter129. Chapter130. Chapter131. Chapter132. Chapter133. Chapter134. Chapter135. Chapter
5. Book
    136. Chapter137. Chapter138. Chapter139. Chapter140. Chapter141. Chapter142. Chapter143. Chapter144. Chapter145. Chapter146. Chapter147. Chapter148. Chapter149. Chapter150. Chapter151. Chapter152. Chapter153. Chapter154. Chapter155. Chapter156. Chapter157. Chapter158. Chapter159. Chapter160. Chapter161. Chapter162. Chapter163. Chapter164. Chapter165. Chapter166. Chapter167. Chapter168. Chapter169. Chapter170. Chapter171. Chapter172. Chapter173. Chapter
6. Book
    174. Chapter175. Chapter176. Chapter177. Chapter178. Chapter179. Chapter180. Chapter181. Chapter182. Chapter183. Chapter184. Chapter185. Chapter
7. Book
    186. Chapter187. Chapter188. Chapter189. Chapter190. Chapter191. Chapter192. Chapter193. Chapter194. Chapter195. Chapter
8. Book
    196. Chapter197. Chapter198. Chapter199. Chapter
9. Book
    200. Chapter201. Chapter202. Chapter203. Chapter204. Chapter
10. Book
    205. Chapter206. Chapter207. Chapter208. Chapter209. Chapter210. Chapter211. Chapter212. Chapter213. Chapter214. Chapter215. Chapter216. Chapter217. Chapter218. Chapter
11. Book
    219. Chapter220. Chapter221. Chapter222. Chapter223. Chapter224. Chapter