Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad

by Imam Baihaqee

359 Hadith39 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 218

أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ , أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ , ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الشَّعْرَانِيُّ , ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ , (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحُرْفِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ , ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ , ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، قَالَ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِي رِوَايَةِ الْحُرْفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَحْيَا سُنَّةً مِنْ سُنَّتِي قَدْ أُمِيتَتْ بَعْدِي فَإِنَّ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلَ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنَ النَّاسِ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ أُجُورِ النَّاسِ شَيْئًا، وَمَنِ ابْتَدَعَ بِدْعَةً لَا يَرْضَاهَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ فَإِنَّ عَلَيْهِ إِثْمُ مَنْ عَمِلَ بِهَا مِنَ النَّاسِ لَا يَنْقُصُ ذَلِكَ مِنْ آثَامِ النَّاسِ شَيْئًا

علی بن احمد بن عبدان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن عبید نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن ہیشم الشعرانی نے ہمیں خبر دی کہا ابن ابو اویس نے ہم سے بیان کیا یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف پلٹے اور کہا: ابو القاسم عبدالرحمٰن بن عبیداللہ بن عبداللہ الحرفی نے بغداد میں ہمیں خبر دی کہا احمد بن سلیمان الفقیہ نے ہم سے بیان کیا کہا اسماعیل بن اسحاق نے ہم سے بیان کیا کہا ابن ابو اویس نے ہم سے بیان کیا کہا مجھ سے کثیر بن عبداللہ نے بیان کیا وہ اپنے باپ سے وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں بے شک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حرفی کی روایت میں کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’ جس نے میری سنت کو زندہ کیا جو میرے بعد مٹ گئی تھی تو جو بھی لوگوں میں سے اس پر عمل کرے گا تو اس کے اجر کی مثل اس(زندہ کرنے والے) کو اجر ملے گا اور لوگوں کے اجروں میں کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی اور جس نے کوئی بدعت ایجاد کی جس سے اللہ اور اس کے رسول راضی نہیں تو لوگوں میں سے جو بھی اس پر عمل کرے گا اس کا گناہ اس ایجاد کرنے والے پر ہو گا اورلوگوں کے گناہوں میں کچھ بھی کمی نہیں کی جائے گی‘‘۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← إسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْفَقِيهُ ← أبو القاسم عبد الرحمن بن عبيد الله بن عبد الله الحرفي ببغداد ← ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ← أحمد بن الهيثم الشعراني ← أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ ← عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 218

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 219

أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنا أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ , حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى , ثنا الْحُمَيْدِيُّ , ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أنا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ , ثنا الْقَاسِمُ بْنُ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيُّ , عَنْ رَجُلٍ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ، أَتَى أَبَا ذَرٍّ بِمِنًى فَسَمِعَهُ يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا نُغْلَبَ عَلَى أَنْ نَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ وَنُعَلِّمَ النَّاسَ السُّنَنَ قَالَ الشَّيْخُ: وَإِذَا لَزِمَ اتِّبَاعُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا سَنَّ وَكَانَ لُزُومُهُ فَرْضًا بَاقِيًا فَلَا سَبِيلَ إِلَى اتِّبَاعِ سُنَّتِهِ إِلَّا بَعْدَ مَعْرِفَتِهَا وَلَا سَبِيلَ لَنَا إِلَى مَعْرِفَتِهَا إِلَّا بِقُبُولِ خَبَرِ الصَّادقِ عَنْهُ لَزِمَ قُبُولُهُ لِيُمْكِنَنَا مُتَابَعَتَهُ وَلِذَلِكَ أَمَرَ بِتَعْلِيمَهَا وَالدُّعَاءِ إِلَيْهَا وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ

امت کو کب تک غلبہ رہے گا: ابو سعید یحییٰ بن محمد بن یحییٰ الاسفرائینی نے ہمیں خبر دی کہا ابو بحر البر بہاری نے ہمیں خبر دی کہا بشر بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے حمیدی نے بیان کیا کہا یزید بن ہارون نے ہم سے بیان کیا کہا عوام بن حوشب نے ہمیں خبر دی کہا قاسم بن عوف الشیبانی نے ہم سے بیان کیا وہ ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں اس نے قاسم بن عوف سے بیان کیا کہ وہ منی میں حضرت ابوذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا تو آپ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ ہم پر غلبہ نہیں کیا جائے گا اس شرط پر کہ ہم نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں اور لوگوں کوسنن کی تعلیم دیں۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے کی پیروی کرنا لازم ہو گیا تو یہ لزوم فرض ہو گیا جو باقی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی طرف راستہ اس کی معرفت کے بعد ہی ہے اور ہمارے لیے اسکی معرفت کا راستہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی خبر صادق کو قبول کرنے میں ہی ہے تو اس خبر صادق کو قبول کرنا ہم پر لازم ہو گیا تاکہ ہمارےلیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی متابعت ہو سکے اسی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تعلیم کا حکم دیا اور اس کی طرف بلایا۔ اور توفیق تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔

الْمُنْكَرِ وَنُعَلِّمَ النَّاسَ السُّنَنَ ← أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ أَنْ لَا نُغْلَبَ عَلَى أَنْ نَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَنَنْهَى ← أَنَّهُ، أَتَى أَبَا ذَرٍّ بِمِنًى فَسَمِعَهُ ← رَجُلٌ: ← الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ الشَّيْبَانِيِّ، ← الْعَوَّامِ بْنِ حَوْشَبٍ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى ← أَبُو بَحْرٍ الْبَرْبَهَارِيُّ ← أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفَرَايِينِيُّ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 219

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 220

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ , أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي , ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , ثنا شُعْبَةُ , عَنْ مُخَارِقٍ , عَنْ طَارِقٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَأَحْسَنُ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَرُّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا , وَإِنَّ الشَّقِيَّ مَنْ شَقِيَ فِي بَطْنِ أَمِّهِ، وَإِنَّ السَّعِيدَ مَنْ وُعِظَ بِغَيْرِهِ فَاتَّبِعُوا وَلَا تَبْتَدِعُوا، رَوَاهُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ مُخْتَصَرًا قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَاتَّبِعُوا وَلَا تَبْتَدِعُوا فَقَدْ كُفِيتُمْ

ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا ابو جعفر الرزاز ہمیں خبر دی کہ محمد ابن عبیداللہ بن المنادی نے ہم سے بیان کیا کہا وہب بن جریر نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا وہ مخارق سے وہ طارق سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: بہترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور بہترین ہدایت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہدایت ہے اور برے امور نئے ایجادکردہ امور ہیں اور شقی وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں شقی ہوا اور سعادت مند وہ ہے جس نے دوسروں کو نصیحت کی تو تم سنت کی پیروی کرو بدعتی نہ بننا ! اسے ابو عبدالرحمٰن السلمی نے مختصراً روایت کیا کہا کہ حضرت عبداللہ نے فرمایا: تم سنت کی پیروی کرو بدعتی نہ بننا تو تمہیں یہی کافی ہے۔

عبد الله بن مسعود أنه ← طَارِقٍ ← مُخَارِقٍ ← شُعْبَةُ، ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي، ← أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 220

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 221

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ الْفَزَارِيُّ , حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى , ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَفَرَّقَتِ الْيَهُودُ عَلَى إِحْدَى وَسَبْعِينَ، وَالنَّصَارَى مِثْلَ ذَلِكَ، وَتَفْتَرِقُ أُمَّتِي عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ فِرْقَةً وَرُوِيَ مَعْنَاهُ فِي حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ وَغَيْرِهِ. وَقَدْ ذَكَرْنَا فِي كِتَابِ الْمَدْخَلِ وَغَيْرِهِ أَنَّ الْخِلَافَ الْمَذْمُومَ مَا خُولِفَ فِيهِ كِتَابٌ أَوْ سُنَّةٌ صَحِيحَةٌ أَوْ إِجْمَاعٌ، أَوْ مَا فِي مَعْنَى وَاحِدٍ مِنْ هَؤُلَاءِ وَذَلِكَ كَخِلَافِ مَنْ خَالَفَ أَهْلَ السُّنَّةِ فِيمَا أَشَرْنَا إِلَيْهِ فِي هَذَا الْكِتَابِ، فَقَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ {وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ} [آل عمران: 105] وَقَدْ جَاءَ الْكِتَابُ ثُمَّ السُّنَّةُ ثُمَّ إِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ بِإِثْبَاتِ مَا أَثْبَتْنَاهُ مِنْ صِفَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرُؤْيَتِهِ وَشَفَاعَةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِ ذَلِكَ، فَمَنْ نَفَاهُ وَاخْتَلَفَ فِيهِ كَانَ ذَلِكَ اخْتِلَافًا بَعْدَ مَجِيءِ الْبَيِّنَةِ، وَرَدُّ مَنْ رَدَّ مَا وَرَدَ فِيهِ مِنَ السُّنَّةِ الثَّابِتَةِ جَهَالَةٌ مِنْهُ بِلُزُومِهِ اتِّبَاعَ مَا بَلَغَهُ مِنْهُ، وَتَأْوِيلُ مَنْ تَأَوَّلَ مَا وَرَدَ فِيهِ مِنَ الْكِتَابِ غَيْرُ سَائِغٍ فِي الشَّرِيعَةِ، فَلَا وَجْهَ لِتَرْكِ الظَّاهِرِ إِلَّا بِمِثْلِهِ أَوْ بِمَا هُوَ أَقْوَى مِنْهُ وَاللَّهُ يَعْصِمُنَا مِنْ ذَلِكَ بِرَحْمَتِهِ، وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ اخْتِلَافُ هَؤُلَاءِ وَأَمْثَالِهِمْ أُرِيدَ بِمَا رُوِّينَا فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ وَالَّذِي يُؤَكِّدُهُ مَا رُوِيَ فِي حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَنَّهُ قَالَ: كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً، وَهِيَ الْجَمَاعَةُ. وَفِي حَدِيثِ عَمْرِو [ص:234] بْنِ عَوْفٍ: إِلَّا وَاحِدَةً الْإِسْلَامُ وَجَمَاعَتُهُمْ. وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: إِلَّا وَاحِدَةً، مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي. وَإِنَّمَا اجْتَمَعَ أَصْحَابُهُ عَلَى مَسَائِلِ الْأُصُولِ فَإِنَّهُ لَمْ يُرْوَ عَنْ وَاحِدٍ مِنْهُمْ خِلَافُ مَا أَشَرْنَا إِلَيْهِ فِي هَذَا الْكِتَابِ، فَأَمَّا مَسَائِلُ الْفُرُوعِ فَمَا لَيْسَ فِيهِ نَصُّ كِتَابٍ وَلَا نَصُّ سُنَّةٍ فَقَدِ اجْتَمَعُوا عَلَى بَعْضِهِ وَاخْتَلَفُوا فِي بَعْضِهِ، فَمَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ لَيْسَ لِأَحَدٍ مُخَالَفَتُهُمْ فِيهِ، وَمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ فَصَاحِبُ الشَّرْعِ هُوَ الَّذِي سَوَّغَ لَهُمْ هَذَا النَّوْعَ مِنَ الِاخْتِلَافِ حَيْثُ أَمَرَهُمْ بِالِاسْتِنْبَاطِ وَبَالَاجْتِهَادِ مَعَ عِلْمِهِ بِأَنَّ ذَلِكَ يَخْتَلِفُ، وَجَعَلَ لِلْمُصِيبِ مِنْهُمْ أَجْرَيْنِ وَلِلْمُخْطِئِ مِنْهُمْ أَجْرًا وَاحِدًا، وَذَلِكَ عَلَى مَا يُحْتَمَلُ مِنَ الَاجْتِهَادِ، وَرَفَعَ عَنْهُ مَا أَخْطَأَ فِيهِ

الحافظ ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو العباس قاسم بن قاسم السیاری نے مرو میں ہمیں خبر دی کہا ابو الموجہ الفزاری نے ہم سے بیان کیا کہا یوسف بن عیسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ فضل بن عیسیٰ نے ہم سے بیان کیا وہ محمد بن عمرو سے راوی کہا مجھ سے ابو سلمہ نے بیان کیا وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ یہود اکہتر(71) فرقوں میں بٹ گئے اور نصاری بھی اسی کی مثل اور میری امت تہتر(73) فرقوں میں بٹ جائے گی‘‘۔ اسی کے معنی میں حضرت معاویہ وغیرہ رضی اللہ عنہم کی حدیث روایت کی گئی ہے۔ ہم نے کتاب المدخل وغیرہ میں ذکر کیا ہے کہ وہ اختلاف مذموم ہے جس میں کتاب یا سنت یا اجماع کی مخالفت کی گئی ہو یا ان میں سے کسی کے معنی میں جو ہے اس کی مخالفت کی گئی ہو یہ اس خلاف کی طرح ہے جس نے اہل سنت سے خلاف کیا ان امور میں جن کی طرف ہم نے اس کتاب میں اشارہ کیا ہے۔ بلاشبہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے : وَلَا تَکُوْنُوْاَ کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْ مِنْ بَعْدِ مَا جَآءَ ھُمُ الْبَیِّنٰتِ (آل عمران:105) ترجمہ: اور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑ گئی بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آ چکی تھیں۔ اور کتاب وسنت پر اجماع صحابہ میں ان امور کے اثبات میں آیا ہے جنہیں ہم نے اللہ تعالیٰ کی صفات ، اس کے دیدار اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت وغیرہ میں ثابت کیا ہے تو جس نے اس کی نفی کی اور اس میں اختلاف کیا تو یہ اختلاف واضح دلیل آنے کے بعد ہو گا اور جس نے اسے رد کیا اس نے اس بارے میں وارد شدہ سنت ثابتہ کو رد کیا اس سے جہالت کی وجہ سے جو اس تک پہنچا اس کے اتباع کے لزوم کی وجہ سے اور جس میں(صریح) کتاب اللہ آئی ہیں اس میں تاویل کرنے والے کی تاویل کرنا شریعت میں جائز نہیں ہے لہٰذا ظاہر قرآن کو چھوڑنے کی کوئی صورت نہیں مگر اسی کی مثل(دلیل) کیساتھ یا اس سے زیادہ قوی(دلیل) کیساتھ۔اللہ تعالیٰٰ ہمیں اپنی رحمت کیساتھ اس سے محفوظ رکھے۔ ان لوگوں اور ان کی مثل لوگوں کے اختلاف کو تشبیہ دے کر یہی مرادلیا گیا ہے اس روایت میں جسے ہم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں روایت کیا اور یہ بات حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث سے مؤکد ہو جاتی ہے اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’کُلُّھَا فِی النَّارِ اِلَّا وَاحِدَۃً وَھِیَ الْجَمَاعَۃُ ‘‘ وہ سارے فرقے جہنم میں ہوں گے سوائے ایک کے اور وہ جماعت ہے۔ اور حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے : ’’اِلَّا وَاحِدَۃً الْاِسْلَامُ وَجَمَاعَتُھُمْ ‘‘ مگر اسلام کا ایک اور ان کی جماعت۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے: ’’اِلَّا وَاحِدَۃً مَا اَنَا عَلَیْہِ وَاَصْحَابِی ‘‘ مگر ایک فرقہ یہہ وہ ہے جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقے پر ہو گا۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مسائل اصول پر جمع ہو گئے ان میں سے کسی ایک سے بھی سکے خلاف مروی نہیں جس کی طرف ہم نے اس کتاب(مدخل) میں اشارہ کیا۔ رہا معاملہ مسائل فروع کا تو اس بارے میں نہ تو قرآن کی کوئی نص ہے نہ سنت کی تو بعض فروعی مسائل میں صحابہ اکٹھے ہو گئے اور بعض میں اختلاف کیا اور جن مسائل پر اکٹھے ہوئے ان میں کسی ایک نے بھی ان کی مخالفت نہیں کی اور نہ ہی اس میں اختلاف کیا تو صاحب شرع صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس نوع کے اختلاف کی انہیں اجازت دی ہے کیونکہ انہیں استنباط واجتہاد کا حکم دیا باوجود اس کے کہ آپ جانتے تھے کہ وہ اس میں اختلاف کریں گے اور ان کے مصیب(درستگی پر پہنچے والے) کے لیے دواجر ہیں اور خطا کرنے والے کے لیے ایک اجر ہے یہ اس بناء پر ہے کہ اس میں اجتہاد کا احتمال ہے اور اس میں جس سے خطاہوئی اس سے گناہ اٹھا دیا گیا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبُو سَلَمَةَ ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی ← يُوسُفُ بْنُ عِيسَی ← أبو الموجه الفَزَارِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 221

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ الِاعْتِصَامِ بِالسُّنَّةِ وَاجْتِنَابِ الْبِدْعَةِ · حديث 222

أَخْبَرَنَا السَّيِّدُ أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنِ الشَّرْقِيُّ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الْأَزْهَرِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ , وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا حَكَمَ الْحَاكِمُ فَاجْتَهَدَ فَأَصَابَ كَانَ لَهُ أَجْرَانِ فَإِنِ اجْتَهَدَ فَأَخْطَأَ كَانَ لَهُ أَجْرٌ. قَالَ الشَّيْخُ: فَهَذَا النَّوْعُ مِنَ الِاخْتِلَافِ غَيْرُ مَا ذَمَّ اللَّهُ تَعَالَى وَذَمَّهُ رَسُولُهُ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا رُوِّينَا، وَكَانَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَجْعَلُ هَؤُلَاءِ الْمُخْتَلِفِينَ فِي مَعْنَى الْمُجْتَمِعِينَ حَيْثُ إِنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ أَدَّى مَا كُلِّفَ مِنَ الَاجْتِهَادِ وَلَمْ يُخَالِفْ كِتَابًا وَلَا سُنَّةً قَائِمَةً بَلَغَتْهُ وَلَا إِجْمَاعًا وَلَا قِيَاسًا صَحِيحًا عِنْدَهُ، إِنَّمَا نَظَرَ فِي الْقِيَاسِ فَأَدَّاهُ إِلَى غَيْرِ مَا أَدَّى إِلَيْهِ [ص:235] صَاحِبَهُ، كَمَا أَدَّاهُ التَّوَجُّهُ إِلَى الْبَيْتِ بِدَلَائِلِ النُّجُومِ وَغَيْرِهَا إِلَى غَيْرِ مَا أَدَّى إِلَيْهِ صَاحِبَهُ، فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ يَكُونُ مُؤَدِّيًا فِي الظَّاهِرِ مَا كُلِّفَ وَيَرْفَعُ عَنْهُ إِثْمَ مَا غَابَ عَنْهُ أَوْ أَخْطَأَهُ مِنَ التَّأْوِيلِ الصَّحِيحِ أَوِ السُّنَّةِ الصَّحِيحَةِ أَوِ الْقِيَاسِ الصَّحِيحِ إِذْ لَمْ يُكَلَّفْ عِلْمَ الْغَيْبِ، فَمَنْ سَلَكَ مِنَ فُقَهَاءِ الْأَمْصَارِ سَبِيلَ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ فِيمَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ وَاخْتَلَفُوا فِيهِ كَانُوا كَالْفِرْقَةِ الْوَاحِدَةِ وَهِيَ الْفِرْقَةُ النَّاجِيَةُ الَّتِي أَشَارَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكُلٌّ مِنْهُمْ أَخَذَ بِوَثِيقَةٍ فِيمَا يَرَى فِيمَا تَبِعَ فِيهِ مِنَ الْكِتَابِ أَوِ السُّنَّةِ أَوِ الْإِجْمَاعِ وَبِاللَّهِ التَّوْفِيقُ وَأَمَّا تَخْلِيدُ مَنْ عَدَاهُمْ مِنْ أَهْلِ الْبِدَعِ فِي النَّارِ فَهُوَ مَبْنِيٌّ عَلَى تَكْفِيرِهِمْ فَمَنْ لَمْ يُكَفِّرْهُمْ أَجْرَاهُمْ بِالْخُرُوجِ مِنَ النَّارِ بِأَصْلِ الْإِيمَانِ مَجْرَى الْفُسَّاقِ الْمُسْلِمِينَ، وَحَمَلَ الْخَبَرَ عَلَى تَعْذِيبِهِمْ بِالنَّارِ مُدَّةً مِنَ الزَّمَانِ دُونَ الْأَبَدِ، وَاحْتَجَّ فِي تَرْكِ الْقَوْلِ بِتَكْفِيرِهِمْ بِقَوْلِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «تفْتَرِقُ أُمَّتِي» , فَجَعَلَ الْجَمِيعَ مَعَ افْتِرَاقِهِمْ مِنْ أُمَّتِهِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ

مجتہد کی خطاء میں بھی ثواب ہے: سید ابو الحسن محمد بن حسین العلوی نے ہمیں خبر دی کہا ابو حامد ابن الشرقی نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن یحییٰ اور ابو الازہر اور عبدالرحمٰن بن بشر اور احمد بن یوسف نے ہم سے بیان کیا سب نے کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا کہا ہمیں معمر نے خبر دی وہ سفیان سے وہ یحییٰ بن سعید سے وہ ابو بکر بن عمرو بن حزم سے وہ ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’جب حاکم حکم میں اجتہاد کرتا ہے تو درستگی کو پہنچے تو اس کے لیے دو اجر ہیں پھر اگر اجتہاد میں خطا کرے تو اس کے لیے ایک اجر ہے‘‘۔ امام بیہقی رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس نوع کے اختلاف کے متعلق اللہ تعالیٰ نے اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مذمت نہیں کی جن کے بارے میں ہم نے روایت کیا اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ ان اختلاف کرنے والوں کو اکٹھا ہونے والوں کے معنی میں قرار دیتے تھے وہ یوں کہ ان میں سے ہر ایک نے اتناہی اجتہاد کیا جتنے اجتہاد کا وہ مکلف تھا اور اس نے کتاب کی مخالفت کی نہ سنت قائمہ کی جو اس تک پہنچی ہے اور نہ اجماع کی اور نہ ہی قیاس کی جو اسکے نزدیک صحیح ہے اس نے صرف قیاس میں غور وفکر کی تو وہ اس تک پہنچا جس تک اس کا صاحب نہیں پہنچا جیسا کہ اس کی توجہ گھر کی طرف پہنچی ستاروں وغیرہ کی دلیلوں سے جس کی طرف اس کا صاحب نہ پہنچ سکا پس ان میں سے ہر ایک ظاہر میں اتنی مقدار میں پہنچنے والا ہوا جس کا وہ مکلف بنایا گیا تھا اور اس کا گناہ اس سے اٹھا دیا جاتا ہے جو اس سے پوشیدہ رہا یا اس نے تاویل صحیح سے خطا کی یا سنت صحیحہ یا قیاس صحیح پوشیدہ رہا کیونکہ وہ غیب کے علم کا مکلف نہیں بنایا گیا شہروں کے فقہاء میں سے جو صحابہ و تابعین کے راستے پر چلا ان امور میں جن میں ان کا اجماع ہو چکا یا جن میں ان کا اختلاف ہوا وہ سارے ایک ہی فرقہ کی طرح ہیں اور یہی نجات پانے والا فرقہ ہے جس کی طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اشارہ کیا پس مجتہدین میں سے ہر ایک نے اسے اختیار کیا جو اس کے رائے میں معتمد تھا جس میں ان کے نزدیک کتاب یا سنت یا اجتماع کی اتباع تھی۔ وباللہ التوفیق! اور اس فرقہ ناجیہ کے علاوہ اہل بدعت کا جہنم میں ہمیشہ رہنا تو یہ ان کی تکفیر پر مبنی ہے تو جس نے انہیں کافر قرار نہیں دیا اس نے انہیں فساق مسلمانوں کے قائم مقام رکھا کہ وہ اصل ایمان کی وجہ سے(بالآخر) جہنم سے نکلیں گے اور ان کے جہنم میں عذاب کی حدیث کو ایک زمانے کی مدت پر محمول کیا ہمیشگی عذاب پر نہیں اور ان کی تکفیر کو چھوڑ نے میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان سے دلیل لی’’تفترق امتی ‘‘ یعنی میری امت فرقوں میں بٹ جائے گی تو ان کے فرقوں میں بٹنے کے باوجود سب کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی امت قرار دیا۔ واللہ اعلم !

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← أَبِي بَكْرِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، ← يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ← سُفْيَانَ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَأَبُو الْأَزْهَرِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ وَأَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ← أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy · Hadith 222

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ أَهْلِ الْبِدَعِ وَمُكَالَمَتِهِمْ · حديث 223

أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ , أَخْبَرَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ , أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ , ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ الْهُذَلِيِّ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ شَرِيكٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ الْحَضْرَمِيِّ , عَنْ رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْقَدَرِ وَلَا تُفَاتِحُوهُمْ

اہل بدعت کے پاس بیٹھنے سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا: ابو طاہر الفقیہ نے ہمیں خبر ان البصری نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن عبدالوہاب نے ہم سے بیان کیا کہا عبداللہ بن یزید المقری نے ہم سے بیان کیا کہا سعید بن ابو ایوب نے ہم سے بیان کیا وہ عطاء بن دینار ہذلی سے وہ حکیم بن شریک سے وہ یحییٰ بن میمون الخضرمی سے وہ ربیعہ الجرثی سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” قدریہ کیساتھ نہ تم بیٹھو اور ندان سے کلام کا آغاز کرو!‘‘۔

عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← رَبِيعَةَ الْجُرَشِيِّ ← یَّحْیَی بْنِ مَیْمُوْنِ الْحَضْرَمِیِّ ← حَکِیْمِ بْنِ شَرِیْکٍ ← عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ الْهُذَلِيِّ؛ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them · Hadith 223

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ أَهْلِ الْبِدَعِ وَمُكَالَمَتِهِمْ · حديث 224

أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ , أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ , ثنا أَبُو دَاوُدَ , ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ , قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ: حَدَّثَنِي بِمِنًى , عَنْ أَبِيهِ , عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِنْ مَرِضُوا فَلَا تَعُودُوهُمْ، وَإِنْ مَاتُوا فَلَا تَشْهَدُوهُمْ وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ [ص:237] عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ قَوْلِهِ. وَرُوِيَ عَنْ حُذَيْفَةَ وَجَابِرٍ وَأَبِي هُرَيْرَةَ مَرْفُوعًا، وَإِنَّمَا سُمُّوا قَدَرِيَّةً؛ لِأَنَّهُمْ أَثْبَتُوا الْقَدَرَ لِأَنْفُسِهِمْ، وَنَفَوْهُ عَنِ اللَّهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى، وَنَفَوْا عَنْهُ خَلْقَ أَفْعَالِهِمْ وَأَثْبَتُوهُ لِأَنْفُسِهِمْ فَصَارُوا بِإِضَافَةِ بَعْضِ الْخَلْقِ إِلَيْهِ دُونَ بَعْضٍ مُضَاهِينَ لِلْمَجُوسِ فِي قَوْلِهِمْ بِالْأَصْلَيْنِ النُّورِ وَالظُّلْمَةِ وَأَنَّ الْخَيْرَ مِنْ فِعْلِ النُّورِ وَالشَّرَّ مِنْ فِعْلِ الظُّلْمَةِ

قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں: ابو علی الروذ باری نے ہمیں خبر دی کہا ابو بکر بن داسہ نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے ابو داؤد نے بیان کیا کہا موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہا عبدالعزیز بن ابو حازم نے مجھ سے منی میں بیان کیا وہ اپنے باپ سے وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’ قدریہ اس امت کے مجوسی ہیں اگر وہ بیمار ہو جائیں تو تم ان کی عیادت نہ کرنا اگر مر جائیں تو تم ان کے جنازے میں نہ حاضر نہ ہونا‘‘۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک اور طریق سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول روایت کیا گیا اور حضرت حذیفہ ، حضرت جابر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے مرفوعاً روایت کی گئی۔ قدریہ کی وجہ تسمیہ اور مجوسیوں کی مشابہت کی وجہ : انہوں نے ان کا نام قدریہ اس لیے رکھا کیونکہ انہوں نے اپنے لیے تقدیر کو ثابت کیا اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے تقدیر کی نفی کی اور اللہ تعالیٰ سے لوگوں کے افعال کی تخلیق کی نفی کی اور انہیں اپنے لیے ثابت کیا تو وہ بعض تخلیق کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے والے ہو گئے نہ کہ بعض تو یہ مجوسیوں کے مشابہ ہو گئے جو دو اصول نور اور ظلمت کا قول کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خیر فعل نور سے ہے اور شرفعل ظلمت سے ہے۔

«الْقَدَرِيَّةُ مَجُوسُ هَذِهِ الْأُمَّةِ ← ابْنِ عُمَرَ ← أَبِيهِ ← بِمِنًى، ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← أَبُو دَاوُدَ، ← أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ← أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them · Hadith 224

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ أَهْلِ الْبِدَعِ وَمُكَالَمَتِهِمْ · حديث 225

أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطَّابَرَانِيُّ بِهَا أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ثنا هَارُونُ بْنُ مُوسَى , ثنا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ , (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَيْهَقِيُّ , أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ , ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ , ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ , عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الدِّمَشْقِيِّ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُصَيْنٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا وَفِي أُمَّتِهِ قَدَرِيَّةٌ وَمُرْجِئَةٌ يُشَوِّشُونَ عَلَيْهِ أَمْرَ أُمَّتِهِ أَلَا وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ لَعَنَ الْقَدَرِيَّةَ وَالْمُرْجِئَةَ عَلَى لِسَانِ سَبْعِينَ نَبِيًّا [ص:238]. وَرَوَاهُ أَيْضًا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شِهَابِ بْنِ خِرَاشٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوٍ مِنْ مَعْنَاهُ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ , أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , ثنا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ , ثنا سُوَيْدٌ، فَذَكَرَهُ.

ستر نبیوں کی زبانی قدریہ اور مرجئہ پر لعنت کی گئی : ابو نصر محمد بن احمد بن اسماعیل الطابرانی نے طاہران میں ہمیں خبر دی کہا ابو نصر محمد بن محمد بن يوسف الفقیہ نے املاء کرواتے ہوئے ہمیں خبر دی کہا ہارون بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہا حمید بن زنجویہ نے ہم سے بیان کیا۔ یہاں سے امام بیہقی دوسری سند کی طرف منتقل ہوئے اور کہا: ابو عبداللہ حسین بن عبداللہ البیہقی نے ہمیں خبر دی کہا ابوحامد احمد بن محمد بن حسین بیہقی نے ہمیں خبر دی کہا داؤد بن حسین بیہقی نے ہم سے بیان کیا کہا حمید بن زنجویہ نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا کہا ہم سے بقیہ بن ولید نے بیان کیا وہ ابو العلاء دمشقی سے وہ محمد بن جحادہ سے وہ یزید بن حصین سے وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں آپ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس بھی نبی کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اس کی امت میں قدریہ اور مرجئہ ہو گئے وہ ان پر ان کی امت کے معاملے کو تشویش میں ڈالتے ہیں خبر دار! اللہ تعالیٰ نے ستر نبیوں کی زبانی قدریہ اور مرجئہ پر لعنت کی ہے‘‘۔ اور اس کو سعید بن سوید نے روایت کیا وہ شہاب بن خراش سے وہ محمد بن زیاد سے وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہے وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی معنی کی مثل روایت کرتے ہیں۔ علی بن احمد بن عبدان نے ہمیں خبر دی کہا احمد بن عبیداللہ نے ہمیں خبر دی کہا عمر بن حفص السد وی نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے سوید نے بیان کیا پھر یہ روایت ذکر کی۔

مُّعَاذِ بْنِ جَبَلِ ← يزيد بن حصين ← مُحَمَّدِ بْنِ جُحَادَةَ ← أبي العلاء الدمشقي ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← أبو حامد أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَيْهَقِيُّ ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← هَارُونُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ إِمْلَاءً، ← أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أحمد بن إِسْمَاعِيلَ الطَّابَرَانِيُّ بِهَا

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them · Hadith 225

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ أَهْلِ الْبِدَعِ وَمُكَالَمَتِهِمْ · حديث 226

أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ , ثنا أَبُو مُوسَى هَارُونُ بْنُ مُوسَى بْنِ كَثِيرٍ الزَّاهِدُ، ثنا أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، وَعَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَا، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ نِزَارٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صِنْفَانِ مِنْ أُمَّتِي لَيْسَ لَهُمَا فِي الْإِسْلَامِ نَصِيبٌ: الْمُرْجِئَةُ وَالْقَدَرِيَّةُ. قَالَ أَبُو عُمَرَ سَأَلْتُ وَكِيعًا عَنِ الْمُرْجِئَةِ فَقَالَ: الَّذِينَ يَقُولُونَ: الْإِيمَانُ قَوْلٌ. هَذَا يُعَدُّ فِي أَفْرَادِ نِزَارِ بْنِ حَيَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ وَقَدْ أَخْرَجَهُ أَبُو عِيسَى التِّرْمِذِيُّ فِي كِتَابِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، عَنْ سَلَّامِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ

مرجئہ اور قدریہ کا ایمان سے کیا حصہ ہے؟: ابو نصر محمد بن احمد بن اسماعیل الطوسی نے ہمیں خبر دی کہا ابو النضر الفقیہ نے ہم سے بیان کیا کہا ابو موسی ٰبارون بن موسیٰ بن کثیر الزاہد نے ہم سے بیان کیا کہا ہم سے ابو عمرو الضریر اور علی بن سلمہ نے بیان کیا دونوں نے کہا ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا وہ علی بن نزار سے وہ اپنے باپ سے وہ مکرمہ سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’میری امت کے دو قسموں کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے وہ مرجئہ اور قدریہ ہیں‘‘۔ابو عمر نے کہا میں نے وکیع سے مرجئہ کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرمایا: وہ کہتے ہیں : ایمان قول ہے۔ اس کو نزار بن حیان از مکرمہ کے افراد میں شمار کیا جاتا ہے اور ابو عیسیٰ الترمذی نے اپنی کتاب میں محمد بن رافع سے روایت کیا وہ محمد بن بشر سے وہ سلام بن ابو عمرہ سے وہ مکرمہ سے راوی ہیں۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← أَبِيهِ ← عَلِيِّ بْنِ نِزَارٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ← أَبُو عُمَرَ الضَّرِيرُ، وَعَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ، ← أَبُو مُوسَى هَارُونُ بْنُ مُوسَى بْنِ كَثِيرٍ الزَّاهِدُ، ← أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ← أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الطُّوسِيُّ،

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them · Hadith 226

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ أَهْلِ الْبِدَعِ وَمُكَالَمَتِهِمْ · حديث 227

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ قَالَ: لَا تُجَالِسُوا أَهْلَ الْأَهْوَاءِ فَإِنِّي لَا آمَنُ أَنْ يَغْمِسُوكُمْ فِي ضَلَالَتِهِمْ أَوْ يَلْبِسُوا عَلَيْكُمْ بَعْضَ مَا تَعْرِفُونَ

اہل بدعت کے پاس نہ بیٹھو: ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصبہانی نے ہمیں خبر دی کہا ہمیں ابو سعید بن اعرابی نے ہمیں خبر دی کہا ہم سے حسین بن محمد الزعفرانی نے بیان کیا کہا عبدالوہاب بن عبدالمجید نے ہم سے بیان کیا وہ ایوب سے وہ ابو قلابہ سے راوی آپ نے کہا تم اہل بدعت سے مجالست اختیار نہ کرو کیونکہ میں اس بات سے امان میں نہیں ہوں کہ وہ تمہیں اپنی گمراہیوں میں ڈبود یں یا بعض جو چیزیں تم جانتے ہوان میں تمہیں شک میں ڈال دیں۔

أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ← أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them · Hadith 227

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ أَهْلِ الْبِدَعِ وَمُكَالَمَتِهِمْ · حديث 228

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ , أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ , ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ , ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ , ثنا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُصْعَبَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: لَا تُجَالِسُوا مَفْتُونًا فَإِنَّهُ لَنْ يُخْطِئَكَ مِنْهُ إِحْدَى خَصْلَتَيْنِ: إِمَّا أَنْ يَفْتِنَكَ فَتُتَابِعَهُ , أَوْ يُؤْذِيَكَ قَبْلَ أَنْ تُفَارِقَهُ

فتنے میں مبتلا شخص کے پاس بیٹھنے کا نقصان : ابو الحسین بن بشران نے ہمیں خبر دی کہا اسماعیل بن محمد الصفار نے ہمیں خبر دی کہا محمد بن اسحاق الصغانی نے ہم سے بیان کیا کہا یعلی بن عبید نے ہم سے بیان کیا کہا سفیان ابن دینار نے ہم سے بیان کیا کہا میں نے مصعب بن سعد کو کہتے ہوئے سنا: جو فتنے میں مبتلا ہو اس کے پاس نہ بیٹھو کیونکہ اس کی دو خصلتوں میں ایک ہرگز تجھ سے خطا نہیں ہو گی یا تو تجھے فتنے میں ڈالے گا تو تم اس کی پیروی کرنے لگ جاؤ گے یا قبل اس سے کہ تو اس سے جدا ہو وہ مجھے ایذا پہنچائے۔

مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، ← سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ← أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them · Hadith 228

الاعتقاد والهداية إلى سبيل الرشاد · کتاب ‹ بَابُ النَّهْيِ عَنْ مُجَالَسَةِ أَهْلِ الْبِدَعِ وَمُكَالَمَتِهِمْ · حديث 229

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ , حَدَّثَنِي أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ , ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّابُونِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سُلَيْمَانَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّافِعِيَّ، يَقُولُ: الْمِرَاءُ فِي الْعِلْمِ يُقْسِي الْقَلْبَ , وَيُورِثُ الضَّغَائِنَ

علم میں جھگڑے کا نقصان: ابو عبداللہ نے ہمیں خبر دی کہا ابو زرعہ الرازی نے مجھ سے بیان کیا کہا احمد بن محمد الصابونی نے ہم سے بیان کیا کہا میں نے ربیع بن سلیمان کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے امام شافعی کو کہتے ہوئے سنا: علم میں جھگڑا دل سخت کرتا ہے اور کینہ پیدا کرتا ہے۔

الْمِرَاءُ فِي الْعِلْمِ يُقْسِي الْقَلْبَ وَيُورِثُ الضَّغَائِنَ ← الشَّافِعِیُّ ← الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ← أحمد بن محمد الصابوني ← أَبُو زُرْعَةَ الرَّازِيُّ، ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Al Etaqad w Al Hidayah Ilah Sabeel Al Reshad · Book › Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them · Hadith 229

chevron_left Previous
1…171819…30
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    3. The door of the names of Allah and His attributes attributed His names Almighty exalted God Almighty said: {And Allah the Most Beautiful Names, invite them and leave who is notably in the names Sadzon what they do} [norms: 180], and said: {Say claimed God4. Chapter on the meanings of names that we have narrated by means of brevity5. Chapter for self-description, adjective, verb6. Chapter: Remembrance of verses and news mentioned in the attributes that the righteous deserve to be glorified and glorified by himself except for what we mentioned in the chapter7. The chapter on the mention of verses and news mentioned in the attributes of superfluous ones8. Chapter on Recalling Verses and News Came in the Proof of the Attribute of a Face, Hands and an Eye9. Chapter on stating the form of the verb10. The chapter on saying in the Qur’an11. Chapter of saying in the straight case12. Chapter of the saying in affirming the vision of God, glory and glory in the Hereafter13. Chapter on Saying on Faith in Destiny14. The chapter on saying in the creation of verbs15. Chapter on saying about guidance and misguidance16. Chapter on the saying about the actions of a servant taking place according to the will of God, glory and majesty17. Chapter on the saying of children that they are born due to the nature of Islam18. Chapter of saying in the future and in the future19. The chapter on words in faith20. Chapter on the words of those committing major commands21. Chapter on intercession and the invalidity of the saying of those who say to immortalize the believers in Hell22. The door of faith Tell him what, the Messenger of Allah peace be upon him in the angels of God and his books and his messengers and resurrection after death and the account balance and Heaven and Hell and they Makhluguetan Mdan to their parents and tell h
23. Chapter of faith in the torment of the grave We seek refuge with God from the torment of the grave and from the torment of the fire
24. Chapter of observing the Sunnah and avoiding heresy
25. Chapter forbidding sitting with people of innovation and calling them
26. Chapter: The Governor does not take into account the matter of the flock
27. The door to obedience to rulers, to the necessity of congregation, to denial of the denounced by his tongue or to his hatred of his heart and patience in his heart
28. Chapter: Knowing what the believers are entrusted with reasoning, doing, and giving from themselves, their money, and their dependence on them
29. Chapter on Saying Proof of the Prophethood of Muhammed the Al-Mustafa, may God bless him and grant him peace
30. Season:
31. Chapter on the words of dignities of guardians
32. Chapter about the Companions of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family, and my satisfaction with them
33. Chapter of Saying About the People of the House of the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, his family and his wives
34. Chapter of naming the ten people for whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, testified about what was narrated in Heaven
35. Chapter of naming the caliphs whom the Messenger of God, may God’s prayers and peace be upon him, had warned against their succession after him and over the period of time
36. Door alert the Messenger of Allah peace be upon him on the succession of Abu Bakr after him, and the statement in the book of significance to the health of his Imamate and the Imamate after him from the Caliphs
37. Chapter of the Muslims meeting on the pledge of allegiance to Abu Bakr al-Siddiq and their restriction of his imamate
38. Chapter: Abi Bakr Omar Ibn Al-Khattab, may God be pleased with them
39. Chapter of the depreciation of Othman bin Affan, may God be pleased with him
40. Chapter: Abi al-Hassan’s Istiklaf Ali ibn Abi Talib ibn Abd al-Muttalib ibn Hashem, may God be pleased with him