شعب الإيمان · الخامس و الأربعون من شعب الإيمان ‹ وهو باب في إخلاص العمل لله عز و جل وترك الرياء · حديث 6805
6805 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أخبرني أبو النصر الفقيه نا الحارث بن محمد نا عبد الوهاب ح وأخبرنا أبو عبد الله الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ثنا يحيى بن أبي طالب ثنا عبد الوهاب بن عطاء أخبرني ابن جريج أخبرني يونس بن يوسف عن سليمان بن يسار قال : تفرق الناس عن أبي هريرة فقال له ناقل أخو الشام يا أبا هريرة حدثنا حديثا سمعته من رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن أول الناس يقضي فيه يوم القيامة رجل استشهد فأتي به فعرفه نعمه فعرفها فقال : ما علمت فيها ؟ قال : قاتلت في سبيلك حتى استشهدت قال : كذبت إنما أردت أن يقال فلان جريء فقد قيل فأمر به فحسب على وجهه حتى ألقي في النار ورجل تعلم العلم وقراءة القرآن فأتي به فعرفه نعمه فقال : ما عملت فيها ؟ قال : تعلمت العلم و قرأت القرآن وعلمته فيك قال : كذبت إنما أردت أن يقال : فلان عالم وفلان قارئ فقد قيل فأمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار ورجل أتاه الله من أنواع المال فأتي به فعرفه نعمه فعرفها فقال : ما عملت فيها ؟ قال : ما تركت من شئ تحب أن أنفق فيه إلا نفقت فيه لك قال : كذبت إنما أردت أن يقال فلان جواد فقد قيل فأمر به فسحب على وجهه حتى ألقي في النار أخرجه مسلم من حديث ابن جريج
ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو خبر دی ابو نصر فقیہ نے ان کو حارث بن محمد نے ان کو عبدالوہاب نے ’’ح‘‘ ۔ اور ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو العباس محمد بن یعقوب نے ان کو یحییٰ بن ابو طالب نے ان کو عبدالوہاب بن عطاء نے۔ ان کو خبر دی ابن جریج نے ان کو یونس بن یوسف نے ان کو سلیمان بن یسار نے وہ کہتے ہیں کہ لوگ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہاں سے اٹھ کر جا چکے تو ناقل اخی شام نے کہا اے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہمیں حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناہو، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا تھا کہ قیامت کے دن سب لوگوں سے پہلے جس کا فیصلہ کیا جائے گا وہ شخص ہو گا جو شہید کر دیا گیا تھا اسے لایا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے انعامات یاد دلائے گا وہ ان کو یاد کر لے گا اور پہچان لے گا۔ اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ ہم نے تجھے یہ نعمتیں دی تھیں اور تم نے ان نعمتوں کے مقابلے میں کیا کیا تھا ؟ وہ کہے گا کہ میں نے تیری راہ میں جہاد کیا تھا حتٰی کہ یہ شہید ہو گیا تھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم جھوٹ بولتے ہو بلکہ تم نے یہ ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں بہادر ہے اور وہ اسی وقت کہہ دیا گیا تھا اور حکم ہو گا اور دو منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ اور اس آدمی کو لایا جائے گا جس نے علم سیکھا تھا،اور قرآن کی قرأت سیکھی تھی اسے اللہ تعالیٰ اپنی نعمتیں یاد دلائیں گے وہ اس کی نعمتیں جان لے گا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم نے دنیا میں کیا عمل کیا تھا وہ کہے گا کہ میں نے علم سیکھاتھا اور قرآن کی قرأت سیکھی تھی اور میں نے اسے تیری رضا کے لئے سیکھایا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا جھوٹ بولا ہے تم نے تم نے یہ دارادہ کیا تھا کہ لوگ یہ کہیں فلاں عالم ہے، فلاں قاری ہے اور وہ دنیا میں کہہ دیا کیا تھا۔ پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اسے منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالا جائے گا۔ پھر اس بندے کو لایا جائے گا جس کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے مال عطا کئے تھے اللہ تعالیٰ اس کو اپنی نعمتیں یاد دلائیں گے و وان نعمتوں کو یاد کر لے گا اللہ تعالیٰ اس سے پوچھیں گے کہ تم نے دنیامیں کیا عمل کیا تھا۔ وہ کہے گا کہ میں نے تیری پسند کا کوئی مقام اور کوئی مصرف نہیں چھوڑا جہاں جہاں تو چاہتا ہے کہ خرچ کیا جائے میں نے ہر جگہ خرچ کیا تیرے لئے۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ تم نے جھوٹ بولا تم نے یہ ارادہ کیا تھا کہ یہ کہا جائے کہ فلاں بڑا سخی ہے اور وہ وہاں کہہ دیا گیا تھا لہٰذا اس کو منہ کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ان کو مسلم نے روایت کیا ہے حدیث بن جریج سے۔
حَدِيثًا ← له ناقل أخو الشام يا أبا هريرة ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← تَفَرَّقَ النَّاسُ ← سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، ← يُونُسَ بْنَ يُوسُفَ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← عَبْدُ الْوَھَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ← يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← عَبْدُ الْوَهَّابِ، ← الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← أبو النصر الفقيه ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ
Shuab ul Iman · Forty-fifth of the people of faith › It is the door to the sincerity of work to God Almighty and the abandonment of hypocrisy · Hadith 6805
