Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
شعب الإيمان

Shuab ul Iman

by Imam Baihaqee

11,260 Hadith471 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 73

73 - أخبرنا أبو محمد المؤملي أنبأ أبو عثمان البصري ثنا محمد بن عبد الوهاب نا يعلى بن عبيد ثنا الأعمش عن شقيق عن سلمة بن سبرة قال : خطبنا معاذ فذكره و في هذا أنه يخاطب بذلك و لم يعين به شخصا و قد رجع في آخر الحديث إلى الاستثناء في دخول الجنة فقال : إني لأطمع

ہمیں خبر دی ہے ابو محمد موملی نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو عثمان بصری نے وہ کہتے ہیں ہمیں بات بتائی ہے محمد بن عبدالوہاب نے کہ خبر دی ہے یعلی بن عبید نے کہ ہمیں بات بتائی ہے اعمش نے شفیق سے انہوں نے سلمہ بن سبرہ سے وہ کہتے ہیں حضرت معاذ نے ہمیں خطبہ دیا ۔ پھر اس نے پورا خطبہ ذکر کیا۔ ( جو پہلے ذکر ہو چکا ہے ) حضرت معاذ کے خطبہ میں یہ بات ہے کہ وہ اس میں جماعت کو مخاطب کرتے ہیں کسی شخص معین یعنی خاص شخص کو نہیں ۔ مگر دوران بات استثناء کی طرف رجوع کرتے ہیں دخول جنت کے بارے میں اور یوں کہتے ہیں ۔ انی لاطمع کہ میں امید کرتا ہوں۔

سَلَمَةَ بْنِ سَبْرَةَ ← شَقِيقٍ، ← الْاَعْمَشِ ← يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أبو محمد المؤملي أنبأ أبو عثمان البصري

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 73

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 74

74 - و أخبرنا أبو عبد الله بن عبد الله الديري أنبأ أبو حامد الخسروجردي ثنا داود بن الحسين الخسوجردي ثنا حميد بن زنجويه ثنا أبو شيخ الحراني ثنا محمد بن سلمة عن محمد بن إسحاق عن سعيد بن يسار قال : بلغ عمر بن الخطاب رضي الله عنه أن رجلا يزعم أنه مؤمن فكتب إلى أميره أن ابعثه إلي فلما قدم عليه قال : أنت الذي تزعم أنك مؤمن ؟ قال : نعم والله يا أمير المؤمنين ! قال : ويحك ! و مم ذاك ؟ قال : أولم تكونوا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم أصنافا : مشرك و منافق و مؤمن فمن أيهم كنت ؟ قال : فمد عمر يده إليه معرفة لما قال حتى أخذ بيده

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ بن عبداللہ السدیری نے وہ کہتے ہیں ابو حامد خسرو گردی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے داؤد بن حسین خسرو گردی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بتائی ہے حمید بن زنجویہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو شیخ حرانی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن سلمہ نے محمد بن اسحٰق سے انہوں نے سعید بن یسار سے انہوں نے کہا : حضرت عمر بن خطاب کو اطلاع پہنچی کہ ایک آدمی کو یہ زعم ہے کہ وہ مومن ہے آپ نے اس کے گورنر کو لکھا کہ اسے میرے پاس بھیجو جب وہ آیا تو آپ نے اس سے پوچھا کہ تو ہی دعویٰ کرتا ہے کہ تو مومن ہے اس نے کہا اللہ کی قسم ہاں اے امیر المومومنین ۔ آپ نے فرمایا تیرا ستیاناس ہو یہ کس وجہ سے ہے ؟ اس نے کہا کیا آپ لوگ رسول اللہ کے ساتھ تھے تو تین قسم نہیں تھے ؟ مشرک منافق اور مومن تو آپ ان میں کون سی قسم میں تھے ۔ حضرت عمر نے ی سمجھتے ہوئے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے پکڑنے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا یہاں تک آپ نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔

بَلَغَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ← سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ1، ← أَبُو شَيْخٍ الْحَرَّانِيُّ ← حُمَيْدُ بْنُ زَنْجُوَيْهِ ← داود بن الحسين الخسوجردي ← أبو عبد الله بن عبد الله الديري أنبأ أبو حامد الخسروجردي ← و،

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 74

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 75

75 - و بإسناده حدثنا حميد بن زنجويه ثنا هشام بن عمار ثنا صدقة بن خالد ثنا عثمان بن الأسود قال : قلت لعطاء بن أبي رباح : الرجل يقول : لا أدري أمؤمن أنا أم لا ؟ قال : سبحان الله ! قال الله تعالى : { الذين يؤمنون بالغيب } فهو الغيب فمن آمن بالغيب فهو مؤمن بالله قال الإمام الحافظ أبو بكر البيهقي ـ رحمه الله ـ فهذا الذي روينا من إطلاق معاذ و ما روي مرسلا من تصويب عمر و قول عطاء في تسمية من آمن بالله و برسوله بالمؤمن يرجع إلى الحال قال الحليمي : رحمه الله تعالى ـ : لا ينبغي للمؤمن أن يمتنع من تسمية نفسه مؤمنا في الحال لأجل ما يخشاه من سوء العاقبة ـ نعوذ بالله منه ـ لأن ذلك و إن وقع و حبط ما قدم من إيمانه فليس ينقلب الموجود منه معدوما من أصله و إنما يحبط أجره و يبطل ثوابه و بسط الكلام في شرح ذلك و أما من أنكر من السلف إطلاق اسم الإيمان فالموضع الذي يليق به ما قال : أن يقول الواحد : أنا مؤمن و أعيش مؤمنا و أموت مؤمنا و ألقى الله مؤمنا و لا يستثني كان و لذلك قال ابن مسعود : قل إني في الجنة لأن من مات مؤمنا كان في الجنة و ليس كل من كان مؤمنا ساعة من عمره أو يوما أو سنة كان في الجنة فعلمنا أن عبد الله إنما قال هذا لمن اتكل على إيمانه فقطع بأنه مؤمن مطلق في عامة أحواله و أوقاته فلا يعيش إلا مؤمنا و لا يموت إلا مؤمنا و لم يكل أمره إلى الله عز و جل فأما قول المؤمن : أنا الآن مؤمن فليس مما ينكر و إنما يصح الاستثناء إذا كان الخبر عن المستقبل خاصة فيكون المعنى أرجو أن يمن علي بالتثبيت و لا يسلبني هدايته بعد أن آتانيها قال : و للاستثناء موضع آخر يصح فيه و يحسن و هو أن يرد على كمال الإيمان لا على أصله و أسه كما روي أن رجلا سأل قتادة : أمؤمن أنت ؟ فقال : أما أنا فأؤمن بالله و ملائكته و بكتبه و برسله و بالبعث بعد الموت و بالقدر خيره و شره أما الصفة التي ذكرها الله عز و جل : { إنما المؤمنون الذين إذا ذكر الله وجلت قلوبهم } قرأ الآيات إلى قوله { أولئك هم المؤمنون حقا لهم درجات عند ربهم و مغفرة و رزق كريم } فلا أدري أنا منهم أو لا فقد أبان قتادة أنه قد آمن الإيمان الذي يبعده عن الكفر و لكنه لا يدري استكمل الأوصاف التي حكى الله تعالى بها قوما من المؤمنين فأوجب لهم بها المغفرة و الدرجات و كان ذلك مشككا منه في الاستكمال الذي يوجب له الدرجات لا في مجانية الكفر الذي يقسط عنه العذاب فمن وضع الاستثناء في أحد هذين الموضعين فليس من الشكاك قال الحافظ أبو بكر البيهقي ـ رحمه الله : و قد روينا معنى هذا عن الحسن البصري

اپنی اسناد کے ساتھ ہمیں حدیث بیان کی ہے حمید بن زنجویہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ہشام بن عمار نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے صدقہ بن خالد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بتائی ہے عثمان بن اسود نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے عطا بن ابی رباح سے کہا ایک آدمی یہ کہتا ہے میں نہیں جانتا کہ میں مومن ہوں یا نہیں انہوں نے فرمایا سبحان اللہ ، اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں ۔ الذین یومنون با لغیب ( بقرہ ۳) اللہ غیب ہے جو شخص غیب کے ساتھ ایمان رکھتا ہے وہ اللہ کے ساتھ ایمان رکھنے والا ہے ۔ امام حافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا یہ ہے وہ جو ہم نے حضرت معآز رضی اللہ عنہ کے خطبہ سے روایت کیا ہے اور یہ ہے وہ جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تصویب اوردرست قرار دینے کے بارے میں مرسلا مروی ہے ۔ اور حضرت عطاء کا قول اس شخص کے بارے میں جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ ایمان رکھتا ہے وہ مومن ہے یعنی اس بات کی طرف راجع ہے کہ فی الحال مومن ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خاتمہ اور انجام کے خرابی کے خوف فی الحال بھی اپنے آپ کو مومن کہنے سے رک جانا اور باز آ جانا کسی بھی مومن کے لئے مناسب نہیں ہے اس لئے کہ اگر خدانخواستہ یہ بات ہو جائے اور جو ایمان وہ مقدم کر چکا وہ ضائع ہو بھی جائے تو اب جو ایمان موجود ہے یہ بالکل معدوم تو نہیں ہو جائے گا ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اس کا اجر ضائع ہو گا اور ثواب باطل ہو گا۔ مومن کے نام کے اطلاق کا انکار سلف میں سے جس نے بھی کیا ہے تو اس کا بھی ایک مقام ہے جو اس کے لائق ہے اور شایان شان ہے اور وہ وہی ہے جو شیخ حلیمی نے کہا کہ مثلا کوئی شخص کہتا ہے کہ میں مومن ہوں ۔ اور مومن رہوں گا ۔ اور مومن ہی مروں گا۔ اور اللہ کو مومن ہی ملوں گا۔ انشاء اللہ بالکل نہیں کہتا۔ اسی لئے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا ۔ بلکہ کہہ دے کہ میں جنت میں جاؤں گا اس لئے کہ جو شخص ایمان کی حالت میں مر گیا وہ جنت میں ہوگا۔ حالانکہ ہر وہ شخص جو اپنی زندگی کا ایک لخطہ یا ایک دن یا ایک سال مومن تھا وہ جنت میں نہیں ہوگا۔ تو اس سے ہم یہ سمجھے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود نے یہ بات اس شخص کے بارے میں کہی تھی جو اپنے ایمان پر تکیہ اور بھروسہ کر رہا تھا لہذا انہوں نے یقین کر لیا کہ وہ اپنے عام حالات اور عام اوقات میں مطلقا مومن ہے وہ مومن ہی جئے گا اور مومن ہی مرے گا ، اپنے معاملے کو اس نے اللہ کے حوالے نہیں کیا۔ بہر حال کسی مومن کا یہ قول کرنا کہ میں اس وقت مومن ہوں یہ وہ قول ہے جس کو غلط نہیں کہا جا سکتا استثناء کرنا یعنی انشاء اللہ کہنا اس وقت صحیح ہوتا ہے جب مستقبل کے بارے میں خصوصاً خبر ہو اس وقت مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں اللہ کی بارگاہ میں امید کرتا ہوں کہ وہ ایمان پر مجھے پکا رکھنے کا احسان فرمائیں گے اور اپنی عطا کردہ ہدایت مجھ سے نہیں چھینیں گے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ استثناء کرنے اور انشاء اللہ کہنے کے لئے ایک مقام اور ہے جہاں وہ صحیح ہے اور بہت بہتر ہے وہ یہ ہے کہ اس کو نہ ایمان کے کمال کی طرف راجع کیا جائے نہ ہی اس کی اصلی اور بنیاد پر مثال کے طور پر جیسے ایک آدمی نے حضرت قتادہ سے سوال کیا امومن انت ؟ کیا آپ مومن ہیں حضرت قتادہ نے ( جواب میں یہ نہیں کہا کہ میں مومن ہوں بلکہ یہ ) کہا بہر حال میں اللہ کے ساتھ ایمان رکھتا ہوں ، اور اس کے فرشتوں ، اس کی کتابوں اس کے رسولوں کے ساتھ اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کے ساتھ اور اچھی و بری تقدیر پر ۔ باقی رہی مومن کی وہ صفت اللہ تعالیٰ نے جس کا ذکر سورۃ انفال میں فرمایا ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ میں ان میں ہوں یا نہیں ہوں ۔ پھر انہوں نے وہ آیات تلاوت کیں ( جن کا مفہوم یہ ہے ) مومن وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ کا ذکر اتا ہے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں اور جب ان پر اللہ کی آیات تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ ان کا یمان زیادہ کر دیتی ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں ۔ مومن وہ لوگ ہیں جو نماز کی پابندی کرتے ہیں زکٰوۃ ادا کرتے ہیں ہم نے جو انہیں رزق دیا ہے خرچ کرتے وہی لوگ سچھے مومن ہیں ان کے لئے ان کے رب کے ہاں درجے اور مغفرت اور عزت والا رزق ہے ۔ میں نہیں جانتا کہ میں ان میں سے ہوں یا نہیں ۔ حضرت قتادہ نے واضح فرمایا کہ وہ ایسا یمان لائے ہیں جو اسے کفر سے دور کرتا ہے مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ انہوں نے وہ اوصاف و صفات مکمل کر لی ہیں ؟ جو اللہ تعالیٰ نے مومن قوم کے لئے بیان فرمائی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مغفرت اور درجات واجب فرمائے ہیں ۔ یہ بات غیر یقینی تھی ان کے لئے ایمان کی تکمیل کے وہ صفات جس کے لئے درجات واجب ہوتے ہیں وہ حاصل کر سکے ہیں یا نہیں ۔ اس بات میں شک انہیں نہیں تھا کہ ایمان پر ہوتے ہوئے کفر کی کیفیت سے بالکل دور ہیں ۔ جس سے عذاب ساقط ہو جاتا ہے ۔ جو شخص مذکورہ دونوں جگہوں میں سے کسی ایک موقع پر استثناء یعنی انشاء اللہ کہتا ہے وہ شک کرنے والا نہیں ہے ۔ غافظ ابو بکر بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ہم نے یہی مفہوم حسن بصری سے بھی روایت کیا ہے ۔

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 75

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 76

76 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو أحمد الحافظ ثنا أبو العباس محمد بن شاذان الهاشمي ثنا أحمد بن نصر المقري الزاهد ثنا عبد الله بن عبد الجبار الحمصي ثنا بقية بن الوليد عن تمام بن نجيح قال : سأل رجل الحسن البصري عن الإيمان فقال : الإيمان إيمانان فإن كنت تسألني عن الإيمان بالله و ملائكته و كتبه و رسله و الجنة و النار و البعث و الحساب فأنا مؤمن و إن كنت تسألني عن قول الله عز و جل : { إنما المؤمنون الذين إذا ذكر الله وجلت قلوبهم } الآيات قرأ إلى { أولئك هم المؤمنون حقا } فو الله ما أدري أنا منهم أو لا

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے مجھے حدیث بیان کی ہے ابو احمد حافظ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو العباس محمد شاذان ہاشمی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے احمد بن نصر مقبری زاہد نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبداللہ بن عبدالجبار حمصی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے بقیہ بن ولید نے تمام بن نحیح سے وہ کہتے ہیں ایک آدمی نے حسن بصری سے ایمان کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا ایمان دو ہیں اگر تم مجھ سے ایمان باللہ یعنی اللہ کے ساتھ ایمان اس کے فرشتوں اس کی کتابوں اس کے رسولوں ، جنت ، جہنم ، مر کر دوبارہ اٹھانا۔ حساب و کتاب کے بارے میں پوچھتے ہو تو میں اس مذکورہ معنی اور مفہوم میں مومن ہوں ۔ اور اگر آپ کا سوال ہے اس ایمان کے بارے میں جس ایمان کے حاصل ہونے کے لئے یہ صفات اللہ نے بیان کی ہیں کہ مومن وہ لوگ ہیں جب اللہ کا ذکر کرتا ہے تو وہ ڈر جاتا ہے ۔ حضرت حسن بصری نے یہ آیات اولئک ھم المومنون حقا تک پڑھیں۔ ( انفال ۳) تو اللہ کی قسم میں بھی نہیں جانتا کہ میں ان میں سے ہوں یا نہیں ہوں ۔

تمام بن نجيح ← بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْحِمْصِيُّ، ← أحمد بن نصر المقري الزاهد ← أبو العباس محمد بن شاذان الهاشمي ← أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 76

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الاستثناء في الإيمان · حديث 77

77 - أخبرنا أبو منصور الفقيه أنبأ أبو أحمد بن إسحاق الحافظ قال سمعت أبا العباس الثقفي يقول : سمعت قتيبة بن سعيد يقول : هذا قول الأئمة المؤخوذ في الإسلام و السنة بقولهم فذكر الحكاية قال : و الإيمان يتفاضل و الإيمان قول و عمل و نية و الصلاة من الإيمان و الزكاة من الإيمان و الحج من الإيمان و إماطة الأذى عن الطريق من الإيمان و نقول : الناس عندنا مؤمنون بالاسم الذي سماهم الله في الإقرار و الحدود و المواريث و لا نقول : حقا و لا نقول : عند الله و لا نقول : كإيمان جبريل و ميكائيل فإن إيمانهم متقبل قال الإمام الحافظ البيهقي ـ رحمه الله : و روينا عن وكيع أنه قال : كان سفيان الثوري يقول : أنا مؤمن و أهل القبلة كلهم مؤمنون في النكاح والدية و المواريث و لا يقول : أنا مؤمن عند الله عز و جل و المراد بهذا ـ والله أعلم ـ أن الله عز و جل يعلم إلى ما يصير أمره في المستقبل و هو لا يعلم فيكل الأمر فيما لا يعلم إلى عالمه و يخبر عما هو عليه في الحال ـ و بالله تعالى التوفيق

ہمیں خبر دی ہے ابو منصور فقیہ نے خبر دی ہے ابو احمد بن اسحٰق حافظ نے وہ کہتے ہیں اس نے ابو العباس ثقفی سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے قتبیہ بن سعید سے سنا وہ فرماتے تھے یہی قول ہے جو سنت اور ائمہ اسلام سے ماخوذ ہے پھر انہوں نے حکایت کی اور فرمایا ۔ کہ ایمان زیادتی کو قبول کرتا ہے اور ایمان قول عمل اور نیت کا نام ہے ۔ نماز ایمان میں سے ہیں ۔ زکوٰۃ ایمان میں سے ہے ۔ حج ایمان میں سے ہے ۔ راستہ سے تکلیف دینے والی چیز دور کرنا ایمان میں سے ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ لوگ ہمارے نزدیک اس نام کے ساتھ مومن ہیں جو اللہ نے ان کا نام رکھا ( یعنی سورۃ حج میں ھو سما کم المسلمین اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے ) وہ مومن ہیں ۔ اقرار میں اور حدود میں ۔ وراثتوں اور ہم نہیں کہتے سچھے مومن ہیں اور یہ بھی نہیں کہتے کہ عند اللہ مومن ہیں ور یہ بھی نہیں کہتے کہ جبرائیل اور میکائیل کے ایمان کی طرح ( ہے ہمارا ایمان ) اس لئے کہ ان دونوں کا ایمان مقبول ہے ۔ امام حافظ بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہم نے حضرت وکیع سے نقل کیا ہے کہ انہوںنے کہا کہ سفیان ثوری فرمایا کرتے تھے ۔ سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے : میں مومن ہوں ۔ اور اہل قبلہ سارے مومن ہیں نکاح میں ۔ خون بہا دینے میں میراث میں ۔ یہ نہیں کہتے تھے کہ میں اللہ کے نزدیک مومن ہوں ۔ اس سے مراد واللہ اعلم ۔ یہ ہے کہ اللہ عزوجل جانتے ہیں کہ اس کا معاملہ مستقبل میں کیا ہوگا؟ اور ہو نہیں جانتا تو جو چیز معلوم نہیں اس کا معامہ اس کے جاننے والی ذات کے سپرد ہو گا۔ لہذا وہ اس کی خبر دیتے تھے جس حالت پر وہ فی الحال تھے توفیق کی عنایت اللہ کی طرف سے ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ۔ ( و اذقال ابراھیم لا بیہ و قومہ اننی براء مما تعبدون الا الذی فطرنی فانہ ، سیدھین ، و جعلھا کلۃ باقیۃ فی عقبہ ) ( زحزف ۲۶-۲۷) ( وہ وقت قابل ذکر ہے ) جب ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد اور اپنی قوم سے کہا بے شک میں ان سے بیزار ہوں جن کی تم عبادت کرتے ہو سوائے اس ذات کے جس نے مجھے پیدا کیا بس وہی مجھے راہ دیکھائے گا۔ اور بنا دیا اس کو ایک باقی رہنے والی بات ان کی اولاد میں تانکہ وہ رجوع رہیں ۔ یہ بھی کہا کیا کہ اس سے مراد لا الہ الا اللہ کا قول ہے ۔ اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے روایت کر چکے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ( امرت ان اقاتل الناس حتی یقولو الا الہ الا اللہ فاذا قالوا ھا عصموا منی دماء ھم و اموالھم الا بحقھا و حسابھم علی اللہ ) میں حکم دیا گیا ہو ک لوگوں جہاد کرتا رہوں یہاں تک کہ وہ کہنے لگ جائیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔ جب وہ یہ کہیں تو وہ اپنے خون اور مال مجھ سے محفوظ کر لیں گے اور حساب و کتاب ان کا اللہ کے ذمہ ہوگا۔

قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ← أبا العباس الثقفي ← أبو منصور الفقيه أنبأ أبو أحمد بن إسحاق الحافظ

Shuab ul Iman · Book › The section of exception in faith · Hadith 77

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب ألفاظ الإيمان ـ · حديث 78

78 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنبأ حاجب بن أحمد الطوسي ثنا عبد الرحيم بن منيب ثنا جرير بن عبد الحميد أنبأ سهيل بن أبي صالح عن أبيه عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأعطين الراية غدا رجلا يحب الله و رسوله يفتح الله عليه قال سهيل : أحسبه خيبر قال عمر : فما أحببت الإمارة قط حتى يومئذ فدعا عليا فبعثه ثم قال : اذهب فقاتل حتى يفتح الله عليك و لا تلتفت قال علي رضي الله عنه : على ماذا أقاتل الناس ؟ قال : قاتلهم حتى يشهدوا أنبأ لا إله إلا الله و أن محمدا عبده و رسوله فإذا فعلوا ذلك فقد عصموا منكم دماءهم و أموالهم إلا بحقها و حسابهم على الله عز و جل أخرجه مسلم في الصحيح من وجه آخر عن سهيل

ہمیں خبر دی ابو طاہر فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے حاجب بن احمد طوسی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبدالرحیم بن منیب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے جریر بن عبدالحمید نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے سہیل بن ابی صالح نے اپنے باپ سے انہوں نے حضرت ابو ہریرہ سے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( لا عطین الرایۃ غدار جلا یحب اللہ و رسولہ یفتح اللہ علیہ ) میں صبح جہاد کا جھنڈا ضرور ایک آدمی کو دوں گا جو اللہ و رسول سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح دیں گے ۔ سہیل فرماتے ہیں میرا خیال ہے وہ خیبر کا موقع تھا۔ حضرت عمر نے فرمایا : میں امارت کو کبھی پسند نہیں کرتا تھا یہاں تک کہ اس دن ( ضرور شک کیا ) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں امیر مقرر فرمایا ۔ حضرت علی فرماتے ہیں میں کس بات پر لوگوں سے قتال کروں ؟ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا ۔ لوگوں سے جہاد کر حتی کہ وہ شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہٰں اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم اللہ کے بندے اور رسول ہیں اگر وہ یہ کریں تو انہوں نے تم سے بچا لیا اپنے خون کو اور مالوں کو مگر اس کے حق ساتھ اور ان کا حساب اللہ پر ہے امام مسلم نے اپنی صحیح میں اس کو دوسرے طریق سے سہیل سے روایت کیا ہے ۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← جرير بن عبد الحميد أنبأ سهيل بن أبي صالح ← عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ← أبو طاهر الفقيه أنبأ حاجب بن أحمد الطوسي

Shuab ul Iman · Book › Chapter Words of Faith - · Hadith 78

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب ألفاظ الإيمان ـ · حديث 79

79 - و فيما أنبأني أبو عبد الله الحافظ إجازة أنبأ أبو العباس الأصم أنبأ الربيع قال : قال الشافعي ـ رحمه الله تعالى ـ : الإقرار بالإيمان وجهان فمن كان من أهل الأوثان و من لا دين له يدعي أنه دين نبوة فإذا شهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا عبده و رسوله فقد أقر بالإيمان و متى رجع عنه قتل و من كان على دين اليهودية و النصرانية فهؤلاء يدعو دين موسى و عيسى عليهما الصلاة و السلام و قد بدلوا منه و قد أخذ عليهم فيه الإيمان بمحمد رسول الله صلى الله عليه و سلم فكفروا بترك الإيمان به و اتباع دينه مع ما كفروا به من الكذب على الله قبله فقد قيل لي إن فيهم من هو مقيم على دينه يشهد أن لا إله إلا الله و يشهد أن محمدا رسول الله و يقول لم يبعث إلينا فإن كان فيهم أحد هكذا فقال أحد منهم : أشهد أن لا إله إلا الله و أن محمدا رسول الله لم يكن هذا مستكمل الإقرار بالإيمان حتى يقول : و إن دين محمد حق أو فرض و أبرأ مما خالف دين محمد صلى الله عليه و سلم أو دين الإسلام فإذا قال هذا فقد استكمل الإقرار بالإيمان و بسط الكلام فيه و على قياس هذا فكل من تلفظ بكلام محتمل لم يكن ذلك منه صريح إقرار بالإيمان حتى يأتي بما يخرجه عن حد الاحتمال و قد بسط الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ الكلام في شرحه و قد ينعقد الإيمان بغير القول المعروف إذا أتى بما يؤدي معناه و ما ذكرنا من الآية دلالة على ذلك قال البيهقي ـ رحمه الله : و قد روينا في حديث المقداد بن الأسود أنه قال : يا رسول الله ! أرأيت إن لقيت رجلا من الكفار فقاتلني فضرب إحدى يدي بالسيف فقطعها ثم لاذ مني بشجرة فقال : أسلمت لله أقتله يا رسول الله ! بعد أن قالها ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تقتله فقلت يا رسول الله ! إنه قطع يدي ثم قال ذلك بعد أقتله ؟ فقال : لا تقتله فإن قتلته فإنه بمنزلتك قبل أن تقتله و إنك بمنزلته قبل أن يقول الكلمة التي قال

مجھے خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے خبر دی ہے ابو العباس اصعم نے خبر دی ہے ربیع نے وہ کہتے ہیں ۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ۔ ایمان کے اقرار کی دو وجوہ ہیں ۔ جو شخص بت پرست ہے اور جو بے دین ہے اور دین نبوی کا دعویدار ہے ۔ جب وہ شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے بندے اور رسول ہیں ۔ بس اس نے ایمان کا اقرار کر لیا جب اس اقرار سے پھر جائے قتل کر دیا جائے گا۔ اور جو شخص دین یہودیت اور نصرانیت پر ہے یہ لوگ دین موسیٰ اور عیسی علیہا السلام کے دعویدار ہیں حالانکہ وہ اس میں تبدیلی کر چکے ہیں ۔ حالانکہ ان کی کتاب میں ان سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ ایمان کا عہد لیا جا چکا مگر وہ ان کے ساتھ ترک ایمان کی وجہ سے کفر کر چکے ہیں محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے ساتھ کفر کے باوجود اس کے دین کی اتباع یہ اللہ پر جھوٹ ہے ۔ مجھ سے کہا گیا ہے کہ ان لوگوں میں وہ بھی ہیں جو دین محمد پر قائم ہیں لا الہ الا اللہ کی شہادت دیتے ہیں اور اس بات کی شہادت بھی محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کے رسول ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے لئے کوئی رسول نہیں بھیجا جائے گا۔ بالفرض اگر ان میں کوئی ایسا ہو اور ان میں سے کوئی ایک یہ کہے اشھدان لا الہ الا اللہ و ان محمد الرسول اللہ ، تو صرف کہنے سے وہ شخص ایمان کے اقرار کا مکمل کرنے والا نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ یہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کا دین حق ہے یا فرض ہے اور اظہار برات کرے اس سب کچھ سے جو دین محمد کے خلاف ہے یا دین اسلام کے خلاف ہے جب وہ یہ کہے بس وہ ایمان کا اقرار مکمل کر لیا امام شافعی نے اس میں تفصیل سے کلام کیا ہے ۔ اس مذکورہ تفصیل پر قیاس کرتے ہوئے ہر وہ شخص جو احتمال رکھنے والے کلام کا تلفظ کرے تو ی اس کی طرف سے ایمان کا صریح اقرار نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ اسی کلام کا تلفظ کرے جو اس کو احتمال کی حد سے نکال دے ۔ شیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے اس کی شرح کرتے ہوئے مفصل کلام کیا ہے ۔ کبھی مشہور قول لا الہ الا اللہ کے بغیر بھی ایمان منعقد و جاتا ہے جب ایسے الفاظ لے آئے جن سے معروف قول کا مفہوم ادا کر دے ہم نے جو آیت ذکر کی ہے اس میں اس پر دلالت موجود ہے ۔ حالانکہ تحقیق ہم روایت کر چکہے ہیں مقداد بن اسود کی حدیث میں کہ انہوں نے کہا یا رسول اللہ آپ کیا فرماتے ہیں اگر میں کسی کافر سے ٹکراؤں وہ مجھ سے قتال کر لے اور تلوار میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالے پھر وہ بھاگ کر مجھ سے کسی درخت کے ساتھ پناہ لے لے اور یہ کہے کہ میں اللہ کے لئے اسلام لایا ہوں کیا اس کے یہ کہنے کے بعد میں اس کو قتل کر دوں ؟ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا اس کو تو قتل نہ کر۔ میں نے کہا یا رسول اللہ وہ تو میرا ہاتھ کاٹ چکا ہو گا۔ اس کے بعد یہ کہہ رہا ہو گا کیا میں اسے قتل کر دوں ۔ حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا تو اس کو قتل نہ کر ۔ اگر تم نے اسے قتل کیا تو وہ ترے اس مقام پر ہوگا جس مقام تو اس کو قتل کرنے سے قبل تھا ۔ اور تو اس کے اس مقام پر ہوگا جس پر وہ کلمہ پڑھنے سے قبل تھا۔

أبو عبد الله الحافظ إجازة أنبأ أبو العباس الأصم أنبأ الربيع ← و فيما

Shuab ul Iman · Book › Chapter Words of Faith - · Hadith 79

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب ألفاظ الإيمان ـ · حديث 80

80 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر بن إسحاق الفقيه نا أحمد بن إبراهيم بن ملحان ثنا ابن بكير ثنا الليث عن ابن شهاب عن عطاء بن يزيد الليثي عن عبيد الله بن عدي بن الخيار عن المقداد بن الأسود : أنه قال يا رسول الله ! فذكره أخرجاه في الصحيح و روينا في حديث عقبة بن مالك في قصة شبيهة بقصة المقداد غير أنه قال : فقال إني مسلم فذكر ما كان من النبي صلى الله عليه و سلم من إعراضه عن قاتله و قوله : إن الله أبى علي من قتل مؤمنا

ہمیں اس کی خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر بن اسٰحق فقیہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں بات بیان کی ہے احمد بن ابراہیم نے بن ملحان نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے ابن بکیر نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے لیث نے ابن شہاب سے انہوں نے عطا بن یزید لیثی سے انہوں نے عبداللہ بن عدی بن خیار سے انہوں نے مقداد بن اسود سے انہوں نے کہا یا رسول اللہ ۔۔۔ پھر اسی مذکورہ حدیث کو ذکر کیا۔ بخاری ، مسلم نے اس کو اپنی اپنی صحیح میں نقل کیا ہے ۔ اور ہم نے روایت کیا ہے عقبہ بن مالک کی حدیث میں شبیہہ کی قصہ میں مقداد کے قصے کے ساتھ علاوہ ازیں انہوں نے یہ کہا انی مسلم جب کہ میں مسلمان بھی ہوں ۔ پھر آگے اس سے وہی ذکر کیا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی طرف سے اعراض منقول تھااس کے قاتل سے اور آپ کا یہ فرمان بھی کہ : ( ان اللہ ابی علی من قتل مومنا ) بے شک اللہ نے مجھ پر انکا کیا ہے اس شخص کی مغفرت سے جو شخص کسی مومن کو قتل کرے ۔

الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ أَنَّهُ ← عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ، ← عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← اللَّيْثُ ← ابْنُ بُکَيْرٍ ← أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو بكر بن إسحاق الفقيه

Shuab ul Iman · Book › Chapter Words of Faith - · Hadith 80

شعب الإيمان · کتاب ‹ فصل فيمن كفر مسلما · حديث 81

81 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الوليد الفقيه أنبأ الحسن بن سفيان ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا محمد بن بشر و عبد الله بن نمير قالا ثنا عبيد الله بن عمر عن نافع عن ابن عمر : أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا كفر الرجل أخاه فقد باء بها أحدهما رواه مسلم في الصحيح عن أبي بكر بن أبي شيبة و في رواية عبد الله بن دينار عن ابن عمر : إن كان كما قال و إلا رجعت إليه قال الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ : إذا قال ذلك مسلم لمسلم فهذا على وجهين إن أراد أن الدين الذي يعتقده كفر كفر بذلك و إن أراد أنه كافر في الباطن و لكنه يظهر الإيمان نفاقا لم يكفر و إن لم يرد شيئا لم يكفر أن ظاهره أنه رماه بما لا يعلم في نفسه مثله قال : البيهقي ـ رحمه الله : قد روينا عن عمر بن الخطاب ـ رضي الله تعالى عنه ـ أنه قال : في حاطب بن أبي بلتعة حين خان رسول الله صلى الله عليه و سلم بالكتابة إلى مكة : دعني أضرب عنق هذا المنافق فسماه عمر منافقا و لم يكن منافقا فقد صدقه النبي صلى الله عليه و سلم فيما أخبر عن نفسه و لم يصر به عمر كافرا لأنه أكفره بالتأويل و كان ما ذهب إليه عمر محتمل

ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حافظ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو الولید فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے حسن بن سفیان نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو بکر بن اابی شبیہ نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے محمد بن بشران اور عبداللہ بن نمیر نے دونوں کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے عبید اللہ بن عمر نے نافع سے انہوں نے حضرت ابن عمر سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( اذا کفر الرجل اخاہ فقد باء بھا احدھما ) جب کوئی آدمی اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہتا ہے تو دونوں میں سے ایک اس کفر کے ساتھ رجو کرتا ہے ( یعنی ایک ضرور اس کا مصداق ہو جاتا ہے ) ۔ مسلم نے اس کو اپنی صحیح میں ابو بکر بن ابی شیبہ سے روایت کیا ہے ۔ عبداللہ بن دینار کی ایک روایت میں ابن عمر سے مروی ہے ۔ ( ان کان کما قال و الا رجعت الیہ ) اگر وہ شخص ایسا ہے جیسے کہ اس نے کہا تو ( ٹھیک ہے ) اور نہ کفر کہنے والے کی طرف لوٹتا ہے ۔ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا یہ بات جبکوئی مسلمان مسلمان کے بارے میں کہتا ہے تو یہ دو وجوہ پر ہوتا ہے ۔ اگر کہنے والے کی مراد یہ ہو کہ وہ دین جس کا یہ معتقد ہے وہ کفر ہے تو یہ کہنے والا خود کافر ہو جاتا ہے اور اگر اس کی مراد یہ ہوتی ہے کہ و ہ باطنی طور پر کافر ہے لیکن ظاہری طور پر بطور منافقت ایمان کا اظہار کرتا ہے تو کہنے والا کافر نہیں ہو گا اور اگر کسی بات کا ارادہ نہ کرے تب بھی کافر نہیں ہو گا۔ اس لئے کہ اس کا ظاہر یہ ہے کہ اس نے اس کو تمہت لگائی ہے اس چیز کے بارے میں جس کو وہ فی نفسہ خود نہیں جانتا۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ہم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے حاطب بن ابی بلتعہ کے بارے میں اس وقت کہا تھا جب انہوں نے مکہ خط بھیج کر رسول اللہ کا راز افشا کیا تھا۔ ( دعنی اضرب عنق ھذا المنافق ) چھوڑ ئیے مجھے میں اس منافق کی گردن مار دوں ۔ حضرت عمر نے اس کو منافق قرار دیا تھا جب کہ وہ درحقیقت منافق نہیں تھے حضور صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے اس کی تصدیق فرمائی تھی اس کی اس بات کے بارے میں جو اس نے اپنی ذات کے بارے میں خبر د تھی ۔ اور حضرت عمر اس کی وجہ سے کافر نہیں ہوئے تھے ۔ اس لئے کہ انہوں نے حاطب کو کفر کی نسبت ناویل کے ساتھ کی تھی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا موقف وہ تھا جس احتمال تھا۔

ابْنِ عُمَرَ ← نَافِعٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ← محمد بن بشر و عبد الله بن نمير ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← أبو عبد الله الحافظ أنبأ أبو الوليد الفقيه أنبأ الحسن بن سفيان

Shuab ul Iman · Book › Separation of those who disbelieve a Muslim · Hadith 81

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في إيمان المقلد و المرتاب · حديث 82

82 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقرئ أنبأ الحسن بن محمد بن إسحاق أنبأ يوسف بن يعقوب ثنا نصر بن علي ثنا وهب بن جرير ثنا أبي عن محمد بن إسحاق حدثني الزهري عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام و عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود و عن عروة بن الزبير رضي الله عنه و صلب الحديث عن أبي بكر بن عبد الرحمن عن أم سلمة ـ زوج النبي صلى الله عليه و سلم ـ قالت : أن النبي صلى الله عليه و سلم ـ لما فتن أصحابه بمكة ـ أشار عليهم أن يلحقوا بأرض الحبشة ـ فذكر الحديث بطوله إلى أن قال : فكلمه جعفر ـ يعني النجاشي قال : كنا على دينهم ـ يعني دين أهل مكة ـ حتى بعث الله عز و جل فينا رسولا نعرف نسبه و صدقه و عفافه فدعانا إلى أن نعبد الله وحده و لا نشرك به شيئا و نخلع ما يعبد قومنا و غيرهم من دونه و أمرنا بالمعروف و نهانا عن المنكر و أمرنا بالصلاة و الصيام و الصدقة و صلة الرحم و كل ما يعرف من الأخلاق الحسنة و تلا علينا تنزيلا جاءه من الله عز و جل لا يشبهه شيء غيره فصدقناه و آمنا به و عرفنا أن ما جاء به هو الحق من عند الله عز و جل قال : ففارقنا عند ذلك قومنا و آذونا و فتنونا فلما بلغ منا ما يكره و لم نقدر على الامتناع أمرنا نبينا صلى الله عليه و سلم بالخروج إلى بلادك اختيارا لك على من سواك لتمنعنا منهم فقال النجاشي : هل معكم مما أنزل عليه شيء تقرأونه علي ؟ قال جعفر : نعم فقرأ { كهيعص } فلما قرأها بكى النجاشي حتى أخضل لحيته و بكت أساقفته حتى أخضلوا مصاحفهم و قال النجاشي : إن هذا الكلام و الكلام الذي جاء به عيسى ليخرجان من مشكاة واحدة

ہمیں خبر دی ابو الحسین علی بن محمد مقری نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے حسن بن محمد بن اسحٰق نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے یوسف بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے نصر بن علی نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے وہب بن جریر نے وہ کہتے ہیں ہمیں بیان کیا ہے میرے باپ نے محمد بن اسحق سے وہ کہتے ہیں مجھے حدیث بیان کی ہے زہری نے ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام سے انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اور حدیث بیان کی ہے انہوں نے ابو بکر بن حارث بن ہشام سے انہوں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے اور حدیث بیان کی ہے انہوں نے ابو بکر بن عبدالرحمن سے انہوں نے ام سلمہ زوجہ رسول سے فرماتی ہیں کہ اہل مکہ نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کو پریشان کیا ۔ اور اس کے اصحاب بھی پریشان ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے انہیں ارض حبشہ کی طرف چلے جانے کا اشارہ دیا۔ پھر انہوں نے لمبی حدیث ذکر کی ہے ۔ یہاں تک کہ فرمایا ۔ کہ نجاشی ( شا حبشہ ) نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے بات کی اور حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا ۔ ہم ان کے دین پر تھے یعنی اہل مکہ کے دین پر۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے اندر ایک رسول بھیجا ہم جس کا نسب پہچانتے ہیں اور اس کی سچائی ، اس کی پاک دامنی پہچانتے ہیں ۔ اس نے ہمیں یہ دعوت دی کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی شئی کو شریک نہ کریں ۔ اور ہماری قوم اور دیگر لوگ جو اللہ کے سوا عبادت کرتے ہم وہ سب کچھ چھوڑ دیں ۔ اس رسول نے ہمیں اچھائی اور نیکی کرنے کا حکم دیا ۔ برائی سے ہمیں روکا ہمیں نماز کا حکم دیا۔ روزہ کے رکھنے اور صدقہ کرنے کا حکم دیا ۔ صلہ رحمی کرنے کا حکم دیا۔ اور اخلاق حسنہ کی تمام اقدار کا حکم دیا۔ اور ہمارے سامنے اس نے قرآن کی تلاوت کی جسے وہ اللہ کی طرف سے لائے ہیں جس کے مشابہ کوئی شئی نہیں ہے ۔ ہم نے اس رسول کی تصدیق کی اور اس کو سچا مان لیا ہے ۔ اور ہم اس کے ساتھ ایمان لے آئے ہیں ۔ اور ہم نے پہچان لیا ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ اللہ عزوجل کی طرف سے حق سچ ہے ۔ اس کے بعد ہماری قوم نے ہم سے بائیکاٹ کر لیا ہے اور ہمیں ایذا اور آزمائش سے دو چار کر دیا ہے جب ہمیں اتنا ستایا گیا جس کی برداشت کی ہمارے اندر سکت نہ تھی تو ہم نے ہمارے نبی نے تمہارے ملک کی طرف نکل جانے اور ہجرت کر جانے کا حکم دیا ہے ۔ آپ کو انہوں نے آپ کے ما سوا پر ترجیح دی ہے تانکہ آپ ہمیں ان کے مظالم سے نجات دلائیں ۔ نجاشی نے پوچھا کیا تمہارے پاس اس کتاب میں سے کچھ ہے جو ان پر نازل ہوئی ہے تانکہ تم میرے سامنے اس میں سے کچھ پڑھو۔ حضرت جعفر نے جواب دیا ۔ ہاں ہے چنانچہ انہوں نے سورہ مریم ان کے سامنے پڑھی۔ حضرت جعفر کی تلاوت کے بعد نجاشی رو پڑے ۔ یہاں تک کہ روتے روتے اس کی داڑھی بھیگ گئی اور اس کے ارکان سلطنت بھی رو پڑے اور ان کے صحیفے بھیگ گئے ۔ پھر نجاشی نے کہا بے شک یہ کلام اور وہ کلام جو عیسیٰ علیہ السلام لائے تھے ایک ہی منبع سے نکلے ہیں ۔

أم سلمة زوج النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِی بکْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← عروة بن الزبير و صلب الحديث ← عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود و ← أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام و ← الزُّهْرِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبِي ← وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ← نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ

Shuab ul Iman · Book › The door to say in the faith of the imitator and the suspicious · Hadith 82

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في إيمان المقلد و المرتاب · حديث 83

83 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى قالا أنا أبو العباس محمد بن يعقوب نا العباس بن محمد الدوري ثنا فضيل بن عبد الوهاب ثنا شريك عن سماك عن أبي ظبيان عن ابن عباس قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم قال : بم كنت نبيا ؟ قال : أرأيت إن دعوت شيئا من هذه النخلة فأجابني تؤمن بي ؟ قال : نعم فدعاه فأجابه فآمن به و أسلم و كذا رواه محمد بن سعيد بن الأصبهاني عن شريك و أتم من هذا و رواه أيضا عن الأعمش عن أبي ظبيان و قد ذكرنا شواهد هذا في كتاب دلائل النبوة و ذكرنا فيه من إيمان من آمن حين وقف على صدق النبي صلى الله عليه و سلم و معجزته ما يكشف عن صحة ما قاله الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ

ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے اور محمد بن موسیٰ نے دونوں نے کہا ہمیں خبر دی ہے ابو العباس محمد بن یعقوب نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے عباس بن محمد دوری نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے فضیل بن عبدالوہاب نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے شریک نے سماک سے انہوں نے ابو ضبیان سے انہوں نے ابن عباس سے وہ کہتے ہیں ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا ۔ آپ کیونکر نبی بن گئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا یہ بتا کہ اگر میں ان کھجوروں میں سے کسی کو بلاؤں اور وہ میری بات مان لے تو تم مجھ پر ایمان لے آؤ گے ؟ بولا ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے ایک کھجور کے درخت کو بلایا ۔ کھجور نے آپ کی بات مان لی ۔ پھر وہ شخص یہ معجزہ دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم پر ایمان لے آیا اور اسلام لے آیا ۔ اس حدیث کو محمد بن سعید اصفہانی نے اسی طرح روایت کیا ہے شریک سے جو اس سے زیادہ مکمل ہے اور اس کو اعمش ابیض بیان سے بھی روایت کیا ہے ۔ ہم نے اپنی کتاب دلائل النبوۃ میں اس کے کئی شواہد ذکر کئے ہیں ۔ اور ہم نے اس شخص کا ایمان ذکر کیا ہے ۔ جو اس وقت ایمان لایا جب وہ نبی کریم کی سچائی پر واقف ہو گیا اور آپ کے معجزے پر جس سے آپ کے فرمان کی سچائی کھل جاتی ہے ۔

أَرَأَيْتَ ← بم كنت نبيا ← جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه و سلم ← ابْنِ عَبَّاسٍ، ← أَبِي ظَبْيَانَ، ← سِمَاكٍ، ← شَرِيکٍ ← فُضَيْلُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ← أبو عبد الله الحافظ و محمد بن موسى

Shuab ul Iman · Book › The door to say in the faith of the imitator and the suspicious · Hadith 83

شعب الإيمان · کتاب ‹ باب القول في إيمان المقلد و المرتاب · حديث 84

84 - أخبرنا أبو طاهر الفقيه أنبأ أبو بكر محمد بن الحسين القطان أنبأ أحمد بن يوسف السلمي ثنا محمد بن يوسف الفريابي ثنا سفيان عن جعفر بن برقان عن عمر بن عبد العزيز ـ رضي الله عنه أنه سأله رجل من شيء من الأهواء فقال : عليك بدين الأعرابي و الغلام في الكتاب واله عمن سواه قال الإمام البيهقي ـ رحمه الله ـ : و هذا الذي قاله عمر بن عبد العزيز قاله غيره من السلف ـ في النهي عن الخوض في مسائل الكلام ـ فإنما هو لأنهم رأوا أنه لا يحتاج إليه لتبيين صحة الدين في أصله إذ كان رسول الله إنما بعث مؤيدا بالحجج فكانت مشاهدتها للذين شاهدوها و بلاغها المستفيض و من بلغه كافيا في إثبات التوحيد و النبوة معا عن غيرها و لم يأمنوا أن يوسع الناس في علم الكلام و أن يكون فيهم من لا يكمل عقله و يضعف رأيه فيرتبك في بعض ضلالة الضالين و شبه الملحدين و لا يستطيع منها مخرجا كالرجل الضعيف غير الماهر بالسباحة إذا وقع في ماء غامر قوي لم يؤمن أن يغرق فيه و لا يقدر على التخلص منه و لم ينهوا عن علم الكلام لأن عينه مذموم أو غير مفيد و كيف يكون العلم الذي يتوصل به إلى معرفة الله عز و جل وعلم صفاته و معرفة رسله و الفرق بين النبي الصادق و بين المتنبئ الكاذب عليه مذموما أو مرغوبا عنه ؟ و لكنهم لإشفاقهم على الضعفاء لئلا يبلغوا ما يريدون منه فيضلوا نهوا عن الاشتغال به ثم بسط الحليمي ـ رحمه الله تعالى ـ الكلام في التحريض على تعلمه إعدادا لأعداء الله عز و جل و قال غيره في نهيهم عن ذلك إنما هو لأن السلف من أهل السنة و الجماعة كانوا يكتفون بمعجزات الرسل صلوات الله عليهم على الوجه الذي بينا و إنما يشتغل في زمانهم بعلم الكلام أهل الأهواء فكانوا ينهون عن الاشتغال بكلام أهل الأهواء ثم إن أهل الأهواء كانوا يدعون على أهل السنة أن مذاهبهم في الأصول تخالف المعقول فقيض الله تعالى جماعة منهم للاشتغال بالنظر و الاستدلال حتى تبحروا فيه و بينوا بالدلائل النيرة و الحجج الباهرة أن مذاهب أهل السنة توافق المعقول كما هي موافقة لظاهر الكتاب و السنة إلا أن الإيجاب يكون بالكتاب و السنة فيما يجوز في العقل أن يكون غير واجب دون العقل و قد كان من السلف من يشرع في علم الكلام و يرد به على أهل الأهواء

ہمیں خبر دی ہے ابو طاہر فقیہ نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے ابو بکر محمد بن حسین قطان نے وہ کہتے ہیں خبر دی ہے احمد بن یوسف سلمی نے وہ کہتے ہیں ۔ حدیث بیان کی ہے محمد بن یوسف فریابی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے سفیان نے جعفر بن برقان نے عمر بن عبدالعزیز سے کہ ایک آدمی نے ان سے کھجور کی بابت سوال کیا ۔ تو انہوں نے فرمایا : ( علیک بدین الا عرابی و الغلام فی الکتاب و الہ عمن سواہ ) لازم پکڑو دیہاتی کا ایمان اور لڑکے کا ایمان کتاب میں اور چھوڑے دے اس کو جو اس کے سوا ہے ۔ امام بیہقی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا یہ ہے وہ جو عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا اور ان کے سوا سلف نے علم کلام کے مسائل میں غور کرنے سے نہی کے بارے میں یہ اس لئے کہا کہ انہوں نے دیکھا سمجھا کہ مسائل کلام میں گھسنے کی ضرورت اور احتیاج نہیں ہے دین کی صحت کی تبین اور توضیح کے لئے ۔ اس لئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم دلائل و براہین کے ساتھ تائید یافتہ بنا کر بھیجے گئے تھے اور ان صحیح براہین کا مشاہدہ انہیں لوگوں کے لئے تھا جنہوں نے ان کا مشاہدہ کیا اور ان کا مکمل پیغام اور وہ لوگ جن کو وہ بھیجا وہ ایک ساتھ اثبات توحید و نبوۃ کے لئے کافی وافی تھا دوسری چیزوں کی نسبت سے انہوں نے امن اور سلامتی نہیں سمجھی کہ لوگ علم کلام میں فراخی پیدا کریں اور لوگوں میں وہ شخص بھی ہوگا جس کی عقل کامل نہ ہوگی اور رائے کمزور ہو گی لہذا بعض گمراہوں کی گمراہی کے جال میں پھنس جائے گا اور بے دینوں کے شبہات میں اور اس سے نکلنے کی استطاعت بھی نہ رکھے گا جیسے کمزور آدمی جو تیرنے میں ماہر نہ ہو جب گہرے پانی میں گر جائے غرق ہونے سے محفوظ نہیں ہوتا اور اس سے چھٹکارے پر قدرت بھی نہیں رکھتا ۔ اور علم کلام سے منع بھی نہیں کیا کہ ذاتی طور پر وہ مذمومو ہے یا غیر مفید ہے ۔ اور وہ علم کیسے مذموم اور تامل نفرت ہو سکتا ہے ؟ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی معرفت تک رسائی حاصل کی جائے اور اللہ کی صفات کے علم اور اس کے رسولوں کی معرفت حاصل کی جائے اور سچے نبی اور جھوٹے نبوت کے دعویدار ہیں جس کے ذریعے فرق کیا جائے ۔ لیکن کمزوروں پر ان کے ڈر نے اور شفقت کرنے کی وجہ سے منع کیا تانکہ ایسا نہ ہو کہ وہ جو چاہتے ہیں علم کلام سے وہاں تک نہ پہنچ سکیں اور گمراہ ہو جائیں ۔ لہذا اس علم کے ساتھ اشتعال سے روکا اور منع کیا ہے ۔ سیخ حلیمی رحمتہ اللہ علیہ نے اللہ کے دشمنوں کے خلاف تیاری کرنے کے لئے علم کلام سیکھنے پر ابھارنے اور برا نگخیتہ کرنے کے لئے تفصیلی بحث کی ہے ۔ شیخ حلیمی کے علاوہ بعض اہل علم کا لوگوں کو علم کلام میں اشتعال سے روکنے کی وجہ یہ ہے کہ اہل السنت و الجماعت کے اسلاف رسولوں کے معجزات کے ساتھ اکتفا کرتے تھے جس طریقے سے ہم بیان کر چکے ہیں ۔ سلف اہل السنت کے زمانے میں علم کلام کے ساتھ اہل بدعت اشتعال رکھتے تھے ۔ لہذا اہل السنت اہل بدعت کے کلام کے ساتھ اشتعال رکھنے و مصروف ہونے سے منع کرتے تھے پھر اس پر طرہ یہ کہ اہل بدعت اس بات کے دعویدار تھے کہ اہل السنت کے مذہب اپنے اصول میں عقل کے خلاف ہیں ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں میں سے ایک جماعت کو غور و فکر کرنے اور استدلال کے لئے مقرر فرما دیا انہوں نے کلام میں مہارت حاصل کی اور روشن دلائل اور حجت باہرہ کے ساتھ بیان کر دیا کہ اہل السنت کے مسالک عقل کے موافق ہیں مخالف نہیں ہیں جیسے کہ وہ ظاہر کتاب و سنت کے موافق ہیں ۔ صرف فرق اس قدر ہے کہ ہر چیز کا اثبات و ایجاب کتاب و سنت سے ہوتا ہے ان امور میں بھی جن میں عقلا جائز ہے کہ غیر واجب ہوں ۔ عقل سے اثبات و ایجاب نہیں ہوتا۔ یہ پکی بات ہے کہ سلف میں وہ لوگ بھی تھے جو علم کلام میں مہارت حاصل کرتے اور اس کے ذریعے اہل بدعت کا رد کرتے تھے ۔

عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ،

Shuab ul Iman · Book › The door to say in the faith of the imitator and the suspicious · Hadith 84

chevron_left Previous
1…678…11
Next chevron_right
All Chapters
1. Book
    1. Chapter mentioning the hadith that was mentioned in the people of faith2. The chapter of evidence that ratification by the heart and acknowledgment by the tongue is the root of faith, and that both are a condition of transferring disbelief when no disability3. Chapter of evidence that obedience are all faith4. Chapter of evidence that faith and Islam at all are two expressions of one religion5. The door to say about the increase and decrease in faith, and the differentiation of people of faith in their faith6. The section of exception in faith7. Chapter Words of Faith -8. Separation of those who disbelieve a Muslim9. The door to say in the faith of the imitator and the suspicious10. The door to say about whoever is a believer in the faith of others11. Chapter of the saying about whoever has valid faith or not12. The door to pray to Islam13. The first of the people of faith and it is a chapter in belief in God Almighty14. Chapter on knowledge of God Almighty and knowledge of his attributes and names15. Asami, the verb adjectives16. Chapter in referring to the edges of evidence in the knowledge of God Almighty in the event of the world
2. The second of the people of faith
    17. And it is a section on faith. God sends, may God’s prayers be upon them, in general18. Chapter (On the knowledge of angels)
3. Fourth of the people of faith
    19. And it is a chapter on faith in the Qur’an that was revealed to our Prophet Muhammad, may God’s prayers and peace be upon him, and all other books revealed to the prophets, may God’s prayers be upon them all
20. He mentioned the hadith of the Qur’an collection
4. Fifth from the people of faith
    21. And it is a chapter on the fact that fate is good and bad from God Almighty
5. Sixth of the people of faith
    22. And it is a door to belief in the Last Day
6. Seventh of the people of faith
    23. It is a section on belief in resurrection and resurrection after death
7. The eighth of the people of faith
    24. And it is a door to crowding people after they are sent from their graves to the position that was shown to them from the ground25. Separation26. A chapter on explaining the major sins, the minor sins and the immoralities27. A chapter on the people of the Qiblah who have major sins. If they fulfill the Resurrection without repentance, give it28. Chapter about what God transcends his servants and does not take them aside from him and as mercy29. Chapter on how the first life ends and the next life begins, and the description of the Day of Resurrection30. Separation31. Separation32. A chapter on the meaning of the words of God Almighty: “The angels and the soul limped to Him on a day of fifty thousand years.”
8. Ninth of the people of faith
    33. And it is the door that the abode of the believers and their shelter is Paradise, the abode of the unbelievers, and their shelter is Hell34. Chapter in his saying, Almighty and Majestic - {Forbek, let us put them together and the demons, and then let us bring them around Hell cadaver * Then let us quit from all Shiites, which of them is stronger over the Most Merciful.35. A chapter on the redemption of the believer36. Chapter in the owners of customs37. Season38. Chapter on the torment of the grave
9. Tenth of the people of faith
    39. And it is a door to the love of God Almighty - God Almighty said: {Among the people are those who take peers besides God, who love them like God, and those who believe more love God.40. The meanings of love41. Chapter in perpetuating the remembrance of God Almighty42. The second chapter deals with the effects and news mentioned in the remembrance of God Almighty43. And it is a chapter on fear of God Almighty - {It is only that Satan fears his guardians, so do not fear them. And you are afraid if you are believers.44. Separation
10. Twelfth of the people of faith
    45. Chapter on hope from God Almighty and it contains chapters46. Season47. Chapter II48. Mentioning chapters in supplication that you need to know
11. Thirteenth of the people of faith
    49. And it is the door to trust in God Almighty and to submit to His command in everything
12. Fourteenth of the people of faith
    50. And it is a door in the love of the Prophet, may God bless him and grant him peace51. A merit in the honor of his origin and the purity of his birth, may God bless him and grant him peace52. Chapter in his names, may God bless him and grant him peace53. Chapter - In praising God Almighty to mention Muhammad, may God bless him and grant him peace, before he created it54. Chapter on the creation and creation of the Messenger, may God bless him and grant him peace55. Chapter in the statement of the Prophet, may God bless him and grant him peace, eloquence56. Chapter in the hunchbacks of the Prophet, may God bless him and grant him peace, on his nation and his compassion for them57. A chapter on the asceticism of the Prophet, may God bless him and grant him peace, and his patience over the hardships of our religion58. A chapter on the innocence of our Prophet, may God bless him and grant him peace, in Prophethood