شعب الإيمان · کتاب ‹ باب الدليل على أن الطاعات كلها إيمان · حديث 13
13 - أخبرنا أبو عبد الله الحسين بن عبد الله البيهقي المسديدي فما قرأت عليه من أصله بخسروجرد قال : أنبأ أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي نا داود بن الحسين البيهقي ثنا حميد بن زنجويه النسوي حدثنا أبو شيخ الحراني ثنا موسى بن أعين عن ليث عن عمرو بن مرة عن معاوية بن سويد ـ قال : أراه قال : ـ عن أبيه ـ الشك من أبي شيخ ـ قال : كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه و سلم يوما نتحدث فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتدرون أي عرى الإيمان أوثق ؟ فقالوا : الصلاة فقال : إن الصلاة لحسنة و ما هي بها فقالوا : الجهاد فقال : إن الجهاد لحسن و ما هو به فقالوا : الحج فقال : إن الحج لحسن و ليس به فقالوا : الصيام فقال : الصيام لحسن و ليس به فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أوثق عرى الإيمان أن تحب لله و تبغض له و رواه جرير بن عبد الحميد عن ليث بن أبي سليم عن عمرو بن مرة عن معاوية بن سويد بن مقرن عن البراء بن عازب عن النبي صلى الله عليه و سلم
ہمیں خبر دی ہے ابو عبداللہ حسین بن عبداللہ بیہقی مسدیدی نے اس صال کیتاب سے جو میں نے خسرو گرد کے ساتھ ان کے سامنے پڑھی تھی انہوں نے فرمایا خبر دی ہے ابو احمد بن محمد حسین بیہقی نے وہ کہتے ہیں ہمیں خبر دی ہے داؤد بن حسین بیہقی نے انہوں نے کہا ہمیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ۔ حمید بن زنجویہ نسوی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے ابو شیخ خرانی نے وہ کہتے ہیں ہمیں حدیث بیان کی ہے موسیٰ بن ایمن نے لیث سے انہوں نے عمرو بن مرہ سے انہوں نے معاویہ بن سوید سے انہوں نے کہا میں اسے دیکھا فرما رہے تھے اپنے والد سے شک ابو شیخ کی طرف سے ہے وہ فرماتے ہیں ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی مجلس میں ایک روز بیٹھے تھے آپ صلی اللہ علیہ و الہ وسلم نے فرمایا : ( اتدرون ای عری الا یمان اوثق ؟ ) کیا تم لوگ جانتے ہو ایمان کا مضبوط ترین کڑا کون سا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا ۔ الصلوٰۃ ، نماز مضبوط کڑا ہے ۔ آپ نے فرمایا : ( ان الصلوٰۃ لحسنۃ و ما ھی بھا ) نماز تو بے شک ضرور اچھی ہے لیکن وہ نہیں ۔ صحابہ نے جواب دیا الجہاد ۔ جہاد ، آپ نے فرمایا جہاد تو ضرور اچھا ہے ۔ لیکن وہ نہیں لوگوں نے کہا حج آپ نے فرمایا ضرور حج اچھی چیز ہے لیکن وہ نہیں لوگوں نے کہا روزہ سے آپ نے فرمایا روزے ضرور اہم ہیں مگر وہ نہیں پھر آپ نے خود وضاحت فرمائی : ( اوثق العریٰ الا یمان ان تحب للہ و تبغض لہ ) کہ ایمان کا مضبوط ترین کڑا یہ ہے کہ تو کسی سے محبت کرے تو اللہ کے لئے اور ناپسند کرے تو اللہ کے لئے ۔ جریر بن عبدالحمید نے اس کو روایت کیا ہے لیث بن ابی سلیم سے انہوں نے عمرو بن مرہ سےانہوں نے معاویہ بن سوید بن مقرون سے انہوں نے براء بن عازب سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم سے ۔
الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← ليث بن أبي سليم ← الصيام لحسن و ليس به ← الصِّيَامِ ← إن الحج لحسن و ليس به ← الْحَجِّ ← إن الجهاد لحسن و ما هو به ← الْجِهَادُ ← إن الصلاة لحسنة و ما هي بها ← الصَّلَاةِ ← كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه و سلم يوما نتحدث ← أَبِيهِ الشَّكُّ مِنْ أَبِي شَيْخٍ ← أُرَاهُ ← مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ ← عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ← لَيْثٌ، ← مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، ← أَبُو شَيْخٍ الْحَرَّانِيُّ ← حميد بن زنجويه النسوي ← دَاوُدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْبَيْهَقِيُّ ← أنبأ أبو حامد أحمد بن محمد بن الحسين البيهقي ← عليه من أصله بخسروجرد ← أبو عبد الله الحسين بن عبد الله البيهقي المسديدي فما
Shuab ul Iman · Book › Chapter of evidence that obedience are all faith · Hadith 13
