جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 175
175 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ، وَيُرْوَى: عَنْ عَلْقَمَةَ وَنَحْوِهِ، إِنْ قَرَأَ فِي الأُخْرَيَيْنِ وَلَمْ يَقْرَأْ فِي الأُولَيَيْنِ أَجْزَأَهُ. وَيُرْوَى أَيْضًا عَنْهُمْ أَنَّهُمْ مَحَوْا فَاتِحَةَ الْكِتَابِ مِنَ الْمُصْحَفِ. وهَذَا الاخْتِلاَفَ من أَهْلِ الصَّلاَةِ أَنَّ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، وَسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَقُّ أَنْ يتبع.
ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی، کہا: علقمہ وغیرہ سے مروی ہے کہ اگر آخری دو رکعتوں میں پڑھے اور پہلی دو رکعتوں میں نہ پڑھے تو نماز جائز ہے اور ان سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے (اپنے) قرآن (کے نسخے) سے سورۂ فاتحہ کو مٹا دیا تھا اور اس بات میں نماز پڑھنے والوں (یعنی مسلمانوں) کا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ سورۂ فاتحہ قرآن میں سے ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اس کے زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۂ فاتحہ ہی السبع المثانی ہے۔
الْبُخَارِيُّ: وَيُرْوَى ← مَحْمُودٌ،
Hadith 175
