جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 45
45 - حَدَّثَنَا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: ثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: ثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَيُّمَا صَلاَةٍ لاَ يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ". قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: "قسمت الصَّلاَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي" (1) وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَنِي، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} قَالَ: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} قَالَ: يمَجَّدَنِي عَبْدِي أَوْ أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي. قَالَ سُفْيَانُ: أَنَا أَشُكُّ، فإِذَا قَالَ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} قَالَ: فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي قال: فإِذَا قَالَ {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} قَالَ: فَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، ولعبدي ما سألني {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} (2). قَالَ سُفْيَانُ: ذَهَبْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ سَنَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، فَكَانَ هَذَا مِنْ أَهَمِّ الْحَدِيثُ إِلَيَّ (3)، قد جاءنا به (4) الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنِ الْعَلاَءِ، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ فِي الْمَوْسِمِ فَجَعَلْتُ أَسْأَلُ عَنْهُ؟ فَأَتَيْتُ سُوقَ الْعَلَفِ، فَإِذَا أَنَا بِشَيْخٍ يَعْلِفُ جَمَلاً لَهُ نَوًى فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ تَعْرِفُ [17/ب] الْعَلاَءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: هُوَ أَبِي وَهُوَ مَرِيضٌ فَلَمْ أَلْقَهُ حَتَّى مَرَرْتُ بِالْمَدِينَةِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ؟، فَقَالَوا: هُوَ فِي الْبَيْتِ مَرِيضٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ عَلِيٌّ: أَرَى الْعَلاَءَ مَاتَ سَنَةَ ثِنْتَيْنِ وَثَلاَثِينَ. _حاشية_________ (1) جاء هنا في طبعة دار الصميعي: [نصفين]، ولم ترد هذه الزيادة في طبعتي مكتبة المنار، ومكتبة الإمام البخاري. (2) جاء هنا في طبعة مكتبة المنار: "قَالَ: هَذِهِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ"، ولم ترد هذه الزيادة في النسخة الخطية التركية، وطبعتي دار الصميعي، ومكتبة الإمام البخاري. (3) جاء هنا في طبعتي مكتبة المنار، ودار الصميعي: [فرحا]، ولم ترد هذه الزيادة في طبعة مكتبة الإمام البخاري. (4) قوله: "قد جاءنا به"، من طبعتي دار الصميعي، ومكتبة الإمام البخاري. وأما في طبعة مكتبة المنار فجاء: "فرحا بأنه عن الحسن بن عمارة".
ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں علی ( بن عبداللہ بن جعفر المدینی) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں سفیان ( بن عیینہ ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب الحرقی نے حدیث بیان کی ، وہ اپنے ابا (عبدالرحمٰن بن یعقوب ) سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نماز میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص (باطل) ہے۔ وہ ناقص (باطل) ہے۔ وہ ناقص (باطل) ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دی ہے اور بندہ جو سوال کرے گا وہ اسے ملے گا۔ پس جب بندہ کہتا ہے (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ) تو ( اللہ ) فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی اور جب (بندہ) کہتا ہے: ( اَلـرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْمِ) (اللہ) فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تمجید یا ثنا بیان کی، سفیان (بن عیینہ) نے کہا: (تمجید یا ثنا) میں مجھے شک ہے اور جب کہتا ہے: (مَـــــــالـِکِ يَـوْمِ الدِّيْنِ) (الله) فرماتا ہے: میرے بندے نے اپنے امور میرے سپرد کئے اور جب کہتا ہے: (إِیَّـــاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ)تو (اللہ) فرماتا ہے: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، پھر جب کہتا ہے (اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ o صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ) (تو اللہ) فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور بندہ جو مانگے گا اسےدوں گا۔ سفیان ( بن عیینہ ) نے کہا: میں ستائیس (۱۲۷ھ ) کو مدینہ گیا تو یہ حدیث میرے لیے انتہائی خوشی کا باعث تھی کیونکہ ( میرے پاس، پہلے ) یہ حسن بن عمارہ عن العلاء کی سند سے تھی۔ تو میں مکہ ، حج کے موسم میں آیا۔ تو میں اس ( علاء بن عبدالرحمٰن ) کے بارے میں پوچھنے لگا۔ پھر میں چارے کے بازار ( گھاس منڈی ) میں آیا۔ دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی اپنے اونٹ کو کھجور کی گٹھلیاں کھلا رہا ہے۔ میں نے اس سے کہا: آپ پر اللہ رحم کرے۔ کیا ، آپ علاء بن عبدالرحمٰن کو جانتے ہیں؟ اس نے کہا: وہ میرے والد ہیں اور بیمار ہیں۔ پس میری ان سے ملاقات نہ ہو سکی حتیٰ کہ میں مدینہ آیا تو اس کے بارے میں پوچھا، تو ( بتانے والے نے) کہا کہ وہ گھر میں بیمار ہے۔ پھر میں ان کے پاس گیا تو اس حدیث کے بارے میں پوچھا۔ علی ( بن عبداللہ المدینی) نے کہا: میرا خیال ہے کہ علاء بتیس (۱۳۲ھ) میں فوت ہوئے۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَلِيٍّ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،
Hadith 45
