Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
جزء القراءة خلف الإمام للبخاري

Juzz Al Qurah Khlaf Imam Bukhari

by Imam Bukhari

306 Hadith10 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 45

45 - حَدَّثَنَا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: ثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: ثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَيُّمَا صَلاَةٍ لاَ يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ". قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: "قسمت الصَّلاَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي" (1) وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَنِي، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} قَالَ: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} قَالَ: يمَجَّدَنِي عَبْدِي أَوْ أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي. قَالَ سُفْيَانُ: أَنَا أَشُكُّ، فإِذَا قَالَ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} قَالَ: فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي قال: فإِذَا قَالَ {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} قَالَ: فَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، ولعبدي ما سألني {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} (2). قَالَ سُفْيَانُ: ذَهَبْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ سَنَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، فَكَانَ هَذَا مِنْ أَهَمِّ الْحَدِيثُ إِلَيَّ (3)، قد جاءنا به (4) الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنِ الْعَلاَءِ، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ فِي الْمَوْسِمِ فَجَعَلْتُ أَسْأَلُ عَنْهُ؟ فَأَتَيْتُ سُوقَ الْعَلَفِ، فَإِذَا أَنَا بِشَيْخٍ يَعْلِفُ جَمَلاً لَهُ نَوًى فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ تَعْرِفُ [17/ب] الْعَلاَءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: هُوَ أَبِي وَهُوَ مَرِيضٌ فَلَمْ أَلْقَهُ حَتَّى مَرَرْتُ بِالْمَدِينَةِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ؟، فَقَالَوا: هُوَ فِي الْبَيْتِ مَرِيضٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ عَلِيٌّ: أَرَى الْعَلاَءَ مَاتَ سَنَةَ ثِنْتَيْنِ وَثَلاَثِينَ. _حاشية_________ (1) جاء هنا في طبعة دار الصميعي: [نصفين]، ولم ترد هذه الزيادة في طبعتي مكتبة المنار، ومكتبة الإمام البخاري. (2) جاء هنا في طبعة مكتبة المنار: "قَالَ: هَذِهِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ"، ولم ترد هذه الزيادة في النسخة الخطية التركية، وطبعتي دار الصميعي، ومكتبة الإمام البخاري. (3) جاء هنا في طبعتي مكتبة المنار، ودار الصميعي: [فرحا]، ولم ترد هذه الزيادة في طبعة مكتبة الإمام البخاري. (4) قوله: "قد جاءنا به"، من طبعتي دار الصميعي، ومكتبة الإمام البخاري. وأما في طبعة مكتبة المنار فجاء: "فرحا بأنه عن الحسن بن عمارة".

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں علی ( بن عبداللہ بن جعفر المدینی) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں سفیان ( بن عیینہ ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب الحرقی نے حدیث بیان کی ، وہ اپنے ابا (عبدالرحمٰن بن یعقوب ) سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نماز میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص (باطل) ہے۔ وہ ناقص (باطل) ہے۔ وہ ناقص (باطل) ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دی ہے اور بندہ جو سوال کرے گا وہ اسے ملے گا۔ پس جب بندہ کہتا ہے (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ) تو ( اللہ ) فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی اور جب (بندہ) کہتا ہے: ( اَلـرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْمِ) (اللہ) فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تمجید یا ثنا بیان کی، سفیان (بن عیینہ) نے کہا: (تمجید یا ثنا) میں مجھے شک ہے اور جب کہتا ہے: (مَـــــــالـِکِ يَـوْمِ الدِّيْنِ) (الله) فرماتا ہے: میرے بندے نے اپنے امور میرے سپرد کئے اور جب کہتا ہے: (إِیَّـــاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ)تو (اللہ) فرماتا ہے: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، پھر جب کہتا ہے (اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ o صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ) (تو اللہ) فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور بندہ جو مانگے گا اسےدوں گا۔ سفیان ( بن عیینہ ) نے کہا: میں ستائیس (۱۲۷ھ ) کو مدینہ گیا تو یہ حدیث میرے لیے انتہائی خوشی کا باعث تھی کیونکہ ( میرے پاس، پہلے ) یہ حسن بن عمارہ عن العلاء کی سند سے تھی۔ تو میں مکہ ، حج کے موسم میں آیا۔ تو میں اس ( علاء بن عبدالرحمٰن ) کے بارے میں پوچھنے لگا۔ پھر میں چارے کے بازار ( گھاس منڈی ) میں آیا۔ دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی اپنے اونٹ کو کھجور کی گٹھلیاں کھلا رہا ہے۔ میں نے اس سے کہا: آپ پر اللہ رحم کرے۔ کیا ، آپ علاء بن عبدالرحمٰن کو جانتے ہیں؟ اس نے کہا: وہ میرے والد ہیں اور بیمار ہیں۔ پس میری ان سے ملاقات نہ ہو سکی حتیٰ کہ میں مدینہ آیا تو اس کے بارے میں پوچھا، تو ( بتانے والے نے) کہا کہ وہ گھر میں بیمار ہے۔ پھر میں ان کے پاس گیا تو اس حدیث کے بارے میں پوچھا۔ علی ( بن عبداللہ المدینی) نے کہا: میرا خیال ہے کہ علاء بتیس (۱۳۲ھ) میں فوت ہوئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَلِيٍّ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 45

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 46

46 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ صَلَّى صَلاَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ (1) غَيْرُ تَمَامٍ". فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: فَإِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الإِمَامِ قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي ثُمَّ قَالَ: "اقْرَأْ بِهَا يَا فَارِسِيُّ فِي نَفْسِكَ" فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: "قُسِمَتِ الصَّلاَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَؤُوا يَقُولُ الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} يَقُولُ (اللَّهُ) (2): "حَمِدَنِي عَبْدِي"، يَقُولُ الْعَبْدُ [18/أ] {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} يَقُولُ (اللَّهُ) (2): "أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي"، يَقُولُ الْعَبْدُ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} يَقُولُ اللَّهُ: "مَجَّدَنِي عَبْدِي" (3)، يَقُولُ (الْعَبْدُ) (4) {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} فَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ. يَقُولُ الْعَبْدُ {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} فَهَؤُلاَءِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ. _حاشية_________ (1) قوله: "فَهِيَ خِدَاجٌ"، مكررة ثلاث مرات في طبعة دار الصميعي، والمثبت من طبعتي مكتبة الإمام البخاري، ومكتبة المنار. (2) مابين القوسين من الطبعة الهندية، وطبعتي دار الصميعي، ومكتبة المنار. ولم يرد في النسخة الخطية، وطبعة مكتبة الإمام البخاري. (3) في النسخة الخطية، وطبعتي مكتبة الإمام البخاري، ومكتبة المنار، زيادة هنا: [وهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي]. ولم ترد هذه الزيادة في الطبعة الهندية، وطبعة دار الصميعي. (4) مابين القوسين من الطبعة الهندية، وطبعتي دار الصميعي، ومكتبة المنار. ولم يرد في النسخة الخطية، وطبعة مكتبة الإمام البخاري.

ہمیں محمود ( بن اسحاق ) نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں عبداللہ بن مسلمہ (القعنبی ) نے حدیث بیان کی ، وہ ( امام) مالک ( بن انس) سے، وہ علاء بن عبدالرحمٰن ( بن یعقوب سے بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے ہشام بن زہرہ کے غلام ابوالسائب کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایسی نماز پڑھے جس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھے وہ نماز ناقص (باطل) ہے، وہ ناقص (باطل) ہے، پوری نہیں ہے۔ پس میں ( راوی ) نے کہا: اے ابوہریرہ ! بے شک بعض اوقات میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں ، کہا : انہوں نے میرے بازو کو جھٹکا دیا، پھر فرمایا: اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ نے فرمایا: میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آوھی (آدھی) تقسیم کر دی ہے۔ آدھی میرے لیے اور آدھی میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے نے جو سوال کیا وہ اسے ملے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھو ، جب بندہ کہتا ہے : (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ) تو اللہ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری حمد بیان کی ، بندہ کہتا ہے: ( اَلـرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْمِ) اللہ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری تعریف بیان کی۔ بندہ کہتا ہے: (مَـــــــالـِکِ يَـوْمِ الدِّيْنِ) اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تمجید (بزرگی) بیان کی۔ بندہ کہتا ہے: (إِیَّـــاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ)تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرا بندہ جو مانگے گا اسے ملے گا۔ بندہ کہتا ہے: (اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ) تو یہ بندے کے لیے ہیں اور بندہ جو سوال کرے گا اسے ملے گا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 46

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 47

47 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ، ثَنَا عياش، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَي الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيُّ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ، مَوْلَى ابن زُهْرَةَ (1)، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ صَلَّى صَلاَةً لاَ يَقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ، ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ ثم هي خداج غَيْرُ تَمَامٍ ثَلاَثًا". فقُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يا أبا هريرة إِذَا كُنْتُ مَعَ الإِمَامِ وَهُوَ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: وَيْلَكَ يَا فَارِسِيُّ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: "قسِمَتِ الصَّلاَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ"، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَؤُوا فَإِذَا قَالَ [18/ب] الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} قَالَ الله: "حَمِدَنِي عَبْدِي"، فإِذَا قَالَ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} قَالَ: "أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي"، فإِذَا قَالَ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} قَالَ: "مَجَّدَنِي عَبْدِي"، قال: فهذا لي، وَإِذَا قَالَ: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ * اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} فَهِيَ لَهُ. _حاشية_________ (1) قوله: "ابن زهرة"، من طبعة مكتبة الإمام البخاري، وفي طبعة مكتبة المنار: "بني زهرة". وفي طبعة دار الصميعي: "أبي زهرة".

ہمیں محمود ( بن اسحاق ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں ( عیاش ) ( بن الولید ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں عبدالاعلیٰ ( بن عبدالاعلیٰ السامی ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں محمد بن اسحاق ( بن یسار) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں علاء بن عبدالرحمٰن بن يعقوب الحرقی نے حدیث بیان کی ، وہ بنو زہرہ کے غلام ابوالسائب سے ، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کوئی نماز پڑھے اور اس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھے تو وہ ناقص (باطل) ہے۔ پھر وہ ناقص ( باطل) ہے ، پوری نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین دفعہ فرمائی۔ میں نے کہا: اے ابو ہریرۃرضی اللہ عنہ ! میں اس وقت کیا کروں جب میں امام کے ساتھ ہوتا ہوں اور وہ قراءت جہر سے کر رہا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: تیرے لیے خرابی ہے اے فارسی ! اپنے دل میں اسے (سراً خفیہ آواز سے) پڑھ۔ پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان (آدھی آدھی) تقسیم کر دی ہے اور بندہ جو سوال کرے گا اسے ملے گا۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ پڑھو، پس جب بنده (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ)کہتا ہے،تو (اللہ) فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی اور جب ( اَلـرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْمِ) کہتا ہے، (اللہ) فرماتا ہے: مجھ پر میرے بندے نے ثنا کہی اور جب (مَـــــــالـِکِ يَـوْمِ الدِّيْنِ) کہتا ہے،(اللہ) فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تمجید ( بزرگی) بیان کی اور جب (إِیَّـــاکَ نَعْبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ oاِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ o صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ) کہتا ہے تو وہ اس کے لیے ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي السَّائِبِ، مَوْلَى ابن زُهْرَةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عَيَّاشٌ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 47

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 48

48 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عبيد الله، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: "مَنْ صَلَّى صَلاَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ". فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الإِمَامِ، فَغَمَزَ أَبُو هُرَيْرَةَ ذِرَاعِي، وَقَالَ: يَا ابْنَ الْفَارِسِيِّ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ عز وجل: "قسمَتِ الصَّلاَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ل19/أ] اقْرَؤُوا: يَقُولُ الْعَبْدُ: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} يَقُولُ اللَّهُ: "حَمِدَنِي عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ". ويَقُولُ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}. فيَقُولُ: "أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ" , يَقُولُ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ}. يَقُولُ اللَّهُ: "مَجَّدَنِي عَبْدِي"، وهذه الآية بيني وبين عبدي نصفين يَقُولُ: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ * اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} فهَذِهِ لعبدي ولعبدي مَا سَأَلَ".

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں محمد بن عبید (المحاربی) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں (عبدالعزیز) بن ابی حازم نے حدیث بیان کی ، وہ علاء بن عبدالرحمٰن ( بن یعقوب ) سے ، وہ اپنے ابا ( عبد الرحمٰن بن یعقوب) سے وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا : جو شخص ایسی نماز پڑھے جس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھے تو وہ ناقص ( باطل ) ہے پوری نہیں ہے۔ پس میں نے کہا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ! بے شک میں بعض اوقات امام کے پیچھے ہوتا ہوں؟ تو ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) نے میرا بازو ( زور سے) دبا دیا اور کہا: اے فارسی زادے! اسے اپنے دل میں (سراً) پڑھ۔ پس بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ فرماتا ہے: میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آدھی (آدھی) تقسیم کر دی ہے ، آدھی میرے لیے اور آدھی میرے بندے کے لیے ہے اور بندہ جو مانگے گا وہ اس کے لیے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھو، بندہ کہتا ہے: (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ) تو الله فرماتا ہے میرے بندے نے میری حمد بیان کی اور بندہ جو مانگے گا اسے ملے گا اور (بندہ ) کہتا ہے: ( اَلـرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْمِ) تو ( اللہ ) فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف بیان کی اور بندہ جو مانگے گا اسے ملے گا اور بندہ کہتا ہے: (مَـــــــالـِکِ يَـوْمِ الدِّيْنِ) اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تمجید (بزرگی) بیان کی اور (بندہ) کہتا ہے: (اِیَّـــاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ) یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ادھی (آدھی) ہے اور (بندہ) کہتا ہے (اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ) یہ میرے بندے کے لیے ہے اور بندہ جو مانگے گا وہ اسے ملے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 48

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 49

49 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ ثَنَا مَحْمُودٌ قَالَ ثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ ثَنَا ابْنُ جَرِيحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الْعَلاَءُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو السَّائِبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِهَذَا.

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی [کہا: ہمیں محمود (بن غیلان ) نے حدیث بیان کی] کہا: ہمیں عبدالرزاق (بن ہمام الصنعانی) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں (عبدالملک بن عبدالعزیز ) ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا: مجھے علاء بن عبد الرحمٰن بن یعقوب نے حدیث بیان کی ، کہا: مجھے عبداللہ بن ہشام بن زہرہ کے غلام ابوالسائب نے حدیث بیان کی ، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ بِهَذَا. ← أَبُو السَّائِبِ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، ← الْعَلَاءِ ← ابْنُ جَرِیحٍ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← مَحْمُودٌ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 49

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 50

50 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ، ثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عن أبي هريرة، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ صَلَّى صَلاَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ".

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں قتیبہ( بن سعید ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں اسماعیل ( بن جعفر بن ابی کثیر) نے حدیث بیان کی، وہ علاء (بن عبدالرحمٰن بن یعقوب) سے، وہ اپنے ابا (عبدالرحمٰن بن یعقوب) سے ،وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ایسی نماز پڑھے جس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھے تو وہ ناقص (باطل) ہے۔ پس وہ ناقص (باطل) ہے۔ پوری نہیں ہے۔“

النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← إِسْمَاعِيلُ ← قُتَيْبَةُ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 50

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 51

51 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ [19/ب] قَالَ، ثَنَا أُمَيَّةُ، قَالَ: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

ہمیں محمود( بن اسحاق ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں امیہ (بن خالد ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں یزید بن زریع نے حدیث بیان کی ، وہ روح بن القاسم ہے، وہ علاء ( بن عبدالرحمٰن) سے، وہ اپنے ابا (عبدالرحمٰن بن یعقوب ) ہے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایسی ہی حدیث بیان کرتے ہیں۔

النَّبِيِّ نَحْوَهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةَ ← الْبُخَارِيُّ [19/ب] ← مَحْمُودٌ،

Hadith 51

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 52

52 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: ثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ صَلَّى صَلاَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ غَيْرُ تَمَامٍ". فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: إِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الإِمَامِ، فَقَالَ: اقْرَأْ بِهَا يَا فَارِسِيُّ فِي نَفْسِكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَقُولُ اللَّهُ عز وجل قسمَتِ الصَّلاَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نصفين فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ فَيَقْرَأُ عَبْدِي فيقول: {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ}. فَيَقُولُ اللَّهُ: "حَمِدَنِي عَبْدِي"، فَيَقُولُ: {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ}. فَيَقُولُ اللَّهُ: "أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي"، فَيَقُولُ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} فَيَقُولُ اللَّهُ: "مَجَّدَنِي عَبْدِي" وَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي {إِيَّاكَ نَعْبُدُ} إِلَى آخِرِ السُّورَةِ".

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں عبدالعزیز بن عبداللہ ( بن یحییٰ بن عمرو بن اویس الاویسى المدنی) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں (عبدالعزیز بن محمد ) الدراوردی نے حدیث بیان کی ، وہ علاء ( بن عبدالرحمٰن ) سے، وہ اپنے ابا (عبدالرحمٰن بن یعقوب) سے ، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایسی نماز پڑھے جس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھے تو وہ ناقص (باطل) ہے، پس وہ ناقص ( باطل) ہے۔ مکمل نہیں ہے۔ تو میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میں کبھی کبھار امام کے پیچھے ہوتا ہوں تو انہوں نے کہا: اے فارسی! اسے اپنے دل میں (سراً) پڑھ ۔ پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: اللہ فرماتا ہے: میں نے نماز ، اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دی ہے۔ آدھی میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے ہے اور بندہ جو مانگے گا اسے ملے گا اور میرا بندہ جب پڑھتا ہے: (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ) تو اللہ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری حمد بیان کی، پھر وہ کہتا ہے ( اَلـرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْمِ) تو اللہ فرماتا ہے : مجھ پر میرے بندے نے ثنا کہی۔ پھر وہ کہتا ہے: (مَـــــــالـِکِ يَـوْمِ الدِّيْنِ) تو اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تمجید (بزرگی) بیان کی اور یہ آیت میرے اور میرے بندے کے (درمیان ہے) آخر سورت تک۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← الدَّرَاوَرْدِيُّ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللهِ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 52

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 54

54 - حَدَّثَنَا [20/أ] مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، أَوْ عَمَّنْ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "قَالَ اللَّهُ عز وجل: قَسَمْتُ الصَّلاَةَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي" نَحْوَهُ.

ہمیں محمود ( بن اسحاق ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبداللہ بن محمد بن عبداللہ بن جعفر الجعفى المسندی ابوجعفر) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں سفیان (بن عیینہ) نے حدیث بیان کی ، وہ علاء ( بن عبدالرحمٰن ) سے، وہ اپنے ابا ( عبدالرحمٰن بن يعقوب) سے یا اس سے جس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ہے۔ (یعنی ابوالسائب ) بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دی ہے ( اور ) اسی طرح حدیث بیان کی۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبِيهِ، أَوْ عَمَّنْ ← الْعَلَاءِ ← سُفْيَانَ، ← عَبْدُ اللَّهِ ← الْبُخَارِيِّ ← [20/أ] مَحْمُودُ

Hadith 54

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 55

55 - حدثنا محمود، عَنِ الْعَلاَءِ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَيُّمَا صَلاَةٍ لاَ يُقْرَأُ فِيهَا بأم الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ".

ہمیں محمود ( بن اسحاق ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: اور علاء (ابن عبدالرحمٰن بن یعقوب ) سے روایت ہے وہ جس سے بیان کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں۔ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نماز میں ( بھی ) سورۂ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص (باطل) ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← الْعَلاَءِ، عَمَّنْ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 55

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 56

56 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ، ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، سَمِعَ ابْنَ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَحْمُودٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ".

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابونعیم (الفضل بن دکین الکوفی) نے حدیث بیان کی ، انہوں نے ( سفیان) ابن عیینہ سے (اسے) سنا ، وہ ( محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ بن شہاب ) الزہری سے، وہ محمود ( بن الربیع رضی اللہ عنہ) سے، وہ عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔

"لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ". ← النَّبِيِّ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مَحْمُودٌ، ← الزُّهْرِيِّ، ← ابْنُ عُيَيْنَةَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 56

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 57

57 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ ثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "صَلَّى الظُّهْرَ بِأَصْحَابِهِ فَقَالَ: "أَيُّكُمْ قَرَأَ بسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى؟ " فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " (قَدْ عَرَفْتُ) (1) أَنَّ رَجُلاً خَالَجَنِيهَا". قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ: كَأَنَّهُ كَرِهَهُ قَالَ: لَوْ كَرِهَهُ لَنَهَانَا عَنْهُ. [ل20/ب]. _حاشية_________ (1) ما بين القوسين من الطبعة الهندية، وطبعة دار الصميعي، وطبعة مكتبة المنار، ومصادر التخريج. وسقط من النسخة الخطية التركية، ولم يستدركه محقق طبعة مكتبة الإمام البخاري.

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں عمرو بن مرزوق ( الباہلی ابوعثمان البصری) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں شعبہ ( بن الحجاج) نے حدیث بیان کی ، وہ قتادہ ( بن دعامہ) سے ، وہ زرارہ( بن اوفی العامری) سے ، وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دفعہ) اپنے صحابہ ( رضی اللہ عنہم) کو ظہر کی نماز پڑھائی تو فرمایا: تم میں سے کس نے (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلٰى) (والی سورت پڑھی ہے؟ ایک آدمی نے کہا: میں نے (پڑھی ہے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے سمجھ لیا تھا کہ کوئی آدمی اسے مجھ سے چھین رہا ہے۔ شعبہ نے کہا: میں نے قتادہ سے کہا : گویا کہ آپ نے اسے ناپسند کیا، تو ( قتادہ نے) کہا: اگر آپ اسے ناپسند فرماتے تو ہمیں (مسلمانوں کو) اس سے منع فرما دیتے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زُرَارَةَ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 57

chevron_left Previous
1234
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter