جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ باب وجوب قراءة فاتحة الكتاب في كل ركعة · حديث 13
13 - حدثنا محمود، قال: حدثنا البخاري، قال: ثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ صَلَّى فلَمْ (1) يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ ثَلاَثًا غَيْرَ تَمَامٍ". قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: يَا ابْنَ الْفَارِسِيِّ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ، عز وجل: "قسمت الصَّلاَة بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، فَنِصْفُهَا لي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ". قَالَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَءُوا يَقُولُ [6/أ] الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} فيَقُولُ اللَّهُ: "حَمِدَنِي عَبْدِي"، يَقُولُ (الْعَبْدُ) (2) {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} يَقُولُ اللَّهُ: "أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي"، يَقُولُ (الْعَبْدُ) (2): {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} يَقُولُ (اللَّهُ) (2): "مَجَّدَنِي عَبْدِي هَذَا لِي"، يقول (العبد) (2) {إياك نعبد وإياك نستعين} يقول الله: "فهذه الآية بيني وبين عبدي نصفين"، وإذا قال العبد: {اهدنا الصراط المستقيم} إلى آخر السورة (فهذا) (2) لعبدي ولعبدي ما سأل (3).
ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ،کہا: ہمیں امیہ بن خالد نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں یزید بن زریع نے حدیث بیان کی ، وہ روح بن القاسم سے ، وہ علاء (بن عبدالرحمٰن بن یعقوب) سے ،وہ اپنے ابا( عبدالرحمٰن بن یعقوب) سے ، وہ (سیدنا) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز پڑھے اور (اس میں ) سورۂ فاتحہ نہ پڑھے وہ (نماز) ناقص (یعنی باطل ) ہے۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرمائی ، مکمل نہیں ہے۔ میں نے کہا: اے ابوہریره رضی اللہ عنہ ! میں امام کے پیچھے ( بھی ) ہوتا ہوں (یعنی جب میں امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں)؟ تو ابوہریرہ نے فرمایا: اے فارسی زادے ! اسے اپنے دل میں ( ہونٹ ہلاتے ہوئے خفیہ آواز سے) پڑھ (اور مزید سن لے کہ) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نماز آدھی آدھی تقسیم کر دی ہے پس آدھی میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے نے جو مانگا اسے دیا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھو ( جب) بندہ کہتا ہے (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ) الله فرماتا ہے : میرے بندے نے میری حمد کی ، بندہ کہتا ہے ( اَلـرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْمِ)الله فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف بیان کی۔ بندہ کہتا ہے (مَـــــــالـِکِ يَـوْمِ الدِّيْنِ) الله فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تمجید کی (یعنی بزرگی بیان کی)یہ میرے لیے ہے، بندہ کہتا ہے (إِیَّـــاکَ نَعْبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ) تو اللہ فرماتا ہے یہ آیت میرے اور میرے بندے کے در میان آدھی آدھی ہے اور جب بندہ کہتا ہے (اِهْدِنَا الصِّرَاطَ) سورت کے آخر تک ( تو اللہ) فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ہے اسے دیا جائے گا۔
أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،
Hadith 13
