Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
جزء القراءة خلف الإمام للبخاري

Juzz Al Qurah Khlaf Imam Bukhari

by Imam Bukhari

306 Hadith10 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 61

61 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ ثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ ثَنَا حَمَّادٌ، قَالَ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عمرو، عَنْ أَبِي [21/أ] سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَوْلَهُ.

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں موسیٰ بن اسماعیل (التبوذکی) نے حدیث بیان کی کہا، ہمیں حماد (بن سلمہ) نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بن عمرو ( بن علقہ اللیثی) نے حدیث بیان کی ، کہا: وہ ابوسلمہ سے، وہ ابوہریرہ ( رضی اللہ عنہ) سے ان کا قول ( کہ ہر نماز جس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص ہے ) بیان کرتے ہیں۔

أبي هُرَيْرَة قَوْله ← أَبِي [21/أ] سَلَمَةَ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← حَمَّادٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 61

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 62

62 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ، قال ثَنَا الْبُخَارِيُّ، قَالَ حَدَّثَنَا (1) عَبْدَانُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "هَلْ يُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَنْ يَجِدَ عِنْدَهُمْ ثَلاَثَ خَلِفَاتٍ عِظَامًا سِمَانًا" قُلْنَا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "فَثَلاَثُ آيَاتٍ يَقْرَأهن فِي صَلاتِهِ خَيرٌ لَهُ مِنْهُنَّ". _حاشية_________ (1) سقط قوله: "حدثنا"، من طبعة دار الصميعي، وهو ثابت في طبعتي مكتبة الإمام البخاري، ومكتبة المنار.

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں عبدان (عبداللہ بن عثمان بن جبلہ) نے حدیث بیان کی ، وہ ابوحمزہ ( محمد بن میمون السکری) سے، وہ (سلیمان بن میران ) الاعمش سے ، وہ ابوصالح ( ذکوان) سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر آئے تو وہاں تین موٹی تازی اونٹنیاں پائے؟۔۔۔۔۔ ہم نے کہا: جی ہاں، اللہ کے رسول!، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین آیتیں جو پڑھی جاتی ہیں ان کے برابر ہیں۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← اَبِیْ صَالِحٍ ← الْاَعْمَشِ ← أَبِي حَمْزَةَ، ← عَبْدَانُ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 62

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 63

63 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ، ثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلاً، صَلَّى خَلْفَ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَرَأَ بسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى فَلَمَّا سلم (1) قَالَ: "أَيُّكُمُ الْقَارِئُ بِسَبِّحْ؟ " فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا، فَقَالَ: "قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا". __ حاشية __ (1) في الطبعة الهندية، وطبعة مكتبة المنار: "فلما "فَرَغَ". والمثبت من طبعتي دار الصميعي، ومكتبة الإمام البخاري.

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث سنائی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں سلیمان بن حرب نے حدیث سنائی، کہا: ہمیں شعبہ (بن الحجاج) نے حدیث بیان کی، وہ قتادہ (بن دعامہ) سے، وہ زرارہ بن اوفیٰ سے ، وہ عمران بن حصین (رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ بے شک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھی(تو) (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلٰى) ( جہر سے) پڑھی۔ جب آپ (نماز سے) فارغ ہوئے تو فرمایا: تم میں سے (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلٰى) پڑھنے والا کون ہے؟ تو لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: میں ہوں، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ تم میں سے کوئی اسے (نماز میں) مجھ سے چھین رہا ہے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 63

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 64

64 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ، ثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ "يَلْبَسُ الْخَزَّ".

ہمیں محمود(بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں مسدد (بن مسرہد) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں ابوعوانہ (الوضاح بن عبداللہ الیشکری) نے حدیث بیان کی ، وہ قتادہ ان دعامہ سے ، وہ زرارہ (بن اوفیٰ) سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں نے عمران بن حصین ( رضی اللہ عنہ) کو ریشمی لباس پہنتے ہوئے دیکھا ہے۔

رأيت عمران بن حصين يلبس الخز ← زُرَارَةَ ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← مُسَدَّدٌ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 64

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 65

65 - حَدَّثَنَا [21/ب] مَحْمُودُ، قال ثَنَا الْبُخَارِيُّ، قَالَ ثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ حَدَّثَنَا حماد، عن قَتَادَةُ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى صَلاَتَيِ الْعِشَاءِ فَقَالَ: "أَيُّكُمْ قَرَأَ بِسَبِّحْ اسم ربك الأعلى"، فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ: "عَرَفْتُ أَنَّ رَجُلاً خَالَجَنِيهَا".

ہمیں محمود(بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں موسیٰ بن اسماعیل (التبوذکی) نے حدیث بیان کی ، کہا : [ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث بیان کی ، کہا ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی] وہ زرارہ (بن اوفیٰ) سے ،وہ عمران بن حصین ( رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی تو فرمایا: تم میں سے کس نے (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلٰى) پڑھی ہے؟ تو ایک آدمی نے کہا: میں نے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے پتا چل گیا تھا کہ کوئی آدمی میرے ساتھ (قراءت میں) منازعت کر رہا ہے۔

"عَرَفْتُ أَنَّ رَجُلاً خَالَجَنِيهَا". ← رَجُلٌ: ← أَيُّكُمْ قَرَأَ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ← صَلَّى النَّبِيُّ إِحْدَى صَلاَتَيِ الْعِشَاءِ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زُرَارَةَ ← قَتَادَةَ ← حَمَّادٌ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْبُخَارِيِّ ← [26/ب] مَحْمُودُ

Hadith 65

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 66

66 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ ثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ ثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ وَقَضَى الصَّلاَةَ قَالَ: "أَيُّكُمْ قَرَأَ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ (الأَعْلَى)؟ " قَالَ: فُلاَنٌ. قَالَ: " (قَدْ) (1) ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنيهَا (2) ".

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں ابونعیم (الفضل بن دکین الکوفی) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوعوانہ (الوضاح بن عبداللہ) نے حدیث بیان کی ، وہ قتادہ (بن دعامہ) سے ، وہ زرارہ بن اوفیٰ سے، وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا اور نماز پوری کی (تو) فرمایا: تم میں سے کسی نے (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلٰى) پڑھا ہے؟ کہا گیا: فلاں نے (یہ سورت) پڑھی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا گمان تھا کہ تم میں سے کوئی میرے ساتھ منازعت (چھینا جھپٹی) کر رہا ہے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← أَبُو عَوَانَةَ، ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 66

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 67

67 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ: ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، "أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَرَأَ بـ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. __حاشية________ (1) ما بين القوسين من الطبعة الهندية، وطبعة دار الصميعي، وطبعة مكتبة المنار. ولم يرد في النسخة الخطية التركية، وطبعة مكتبة الإمام البخاري. (2) تحرف في طبعة دار الصميعي إلى: "خَالَجَينهَا"، والمثبت عن النسخة الخطية، والطبعة الهندية، وطبعة مكتبة المنار، وطبعة مكتبة الإمام البخاري.

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں ابوالولید (ہشام بن عبدالملک الطیالسی) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، وہ قتادہ سے ، وہ زرارہ بن اوفی سے ، وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ: ”بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی ۔ پس (حالتِ نماز میں) ایک آدمی آیا تو اس نے (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلٰى) (والى سورت) پڑھی۔ پھر (راوی نے) اس جیسی حدیث ذکر کی ہے۔

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 67

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 68

68 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ ثَنَا مُسَدَّدٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ شُعْبَةَ، [22/أ] عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قال: صلى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [بِهِمُ] الظُّهْرَ فَقَرَأَ رَجُلٌ بِسَبِّحْ فَلَمَّا فَرَغَ فقَالَ: "أَيُّكُمُ الْقَارِئُ؟ " قَالَ رَجُلٌ: أَنَا قَالَ: "قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ أَحَدَكُمْ خَالَجَنيهَا (1) ". __حاشية________ (1) تحرف في طبعة دار الصميعي إلى: "خَالَجَينهَا"، والمثبت عن النسخة الخطية، والطبعة الهندية، وطبعة مكتبة المنار، وطبعة مكتبة الإمام البخاري.

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں مسدد بن (مسرہد) نے حدیث بیان کی ، وہ یحییٰ (بن سعید القطان) سے ، وہ شعبہ (بن الحاج) سے ، وہ قتادہ (بن دعامہ) سے، وہ زرارہ بن اوفیٰ سے ، وہ عمران بن حصین (رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی تو ایک آدمی نے (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلٰى) (والی سورت) پڑھی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے (تو) فرمایا: ”تم میں سے (یہ سورت) پڑھنے والا کون ہے؟‘‘ ایک آدمی نے کہا: میں ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مجھے گمان تھا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے منازعت کر رہا ہے۔“

"قَدْ ظَنَنْتُ ← رَجُلٌ: ← «أَيُّكُمُ الْقَارِئُ؟» ← صلى النَّبِيَّ الظُّهْرَ فَقَرَأَ رَجُلٌ بِسَبِّحْ فَلَمَّا فَرَغَ ← عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زُرَارَةَ ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 68

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 69

69 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ ثَنَا خَلِيفَةُ، قَالَ ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ ثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، "أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ الظُّهْرِ فَلَمَّا انْفَتَلَ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: "أَيُّكُمْ قَرَأَ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى"؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ: "قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا".

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں خلیفہ (بن خیاط) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یزید بن زریع نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں سعید (بن ابی عروبہ) نے حدیث بیان کی ، وہ قتادہ (بن دعامہ) سے، وہ زرارہ بن اوفیٰ سے، وہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے (فارغ ہوئے تو) لوگوں کی طرف رخ پھیرا تو فرمایا: تم میں سے کس نے (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلٰى) پڑھی ہے؟ ایک آدمی نے کہا میں نے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مجھے معلوم ہو گیا تھا کہ تم میں سے کوئی میرے ساتھ منازعت کر رہا ہے۔‘‘

عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ← زُرَارَةَ ← قَتَادَةَ ← سَعِيدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← خَلِيفَةُ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 69

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 70

70 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ ثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ ثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ مِنْ صَلاَةٍ جهر فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: "هَلْ قَرَأَ مَعِيَ أَحَدٌ مِنْكُمْ آنِفًا"؟ فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا، فَقَالَ: "إِنِّي أَقُولُ مَالِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ"؟.

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں اسماعیل (بن ابی اویس) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں مالک (بن انس) نے حدیث بیان کی ، وہ (محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ) بن شہاب ( الزہری) سے، وہ( عمارہ یا عمار) ابن اکیمہ اللیثی سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک نماز سے فارغ ہوئے جس میں قراءت جہر سے کی جاتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میرے ساتھ ابھی، تم میں سے کسی نے (فاتحہ کے علاوہ) قراءت کی ہے؟ ایک آدمی نے کہا: میں نے (کی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”میں بھی کہتا ہوں کہ کیوں مجھ سے قرآن چھینا جا رہا ہے؟“

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ أُکَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مَالِكٍ، ← إِسْمَاعِيلُ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 70

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 71

71 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يوسف، قَالَ: حَدَّثَنَي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قال: سَمِعْتُ ابْنَ أُكَيْمَةَ اللَّيْثِيَّ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، [22/ب] يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاَةً جَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ -وَلاَ أَعْلَمُ إِلاَّ أَنَّهُ قَالَ: صَلاَةَ الْفَجْرِ- فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَقَالَ: "هَلْ قَرَأَ مَعِيَ أَحَدٌ مِنْكُمْ؟ " قُلْنَا: نَعَمْ قَالَ: "أَلاَ إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ؟ " قَالَ: فَانْتَهَى النَّاسُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِيمَا جَهَرَ فِيهِ الإِمَامُ وَقَرَؤُوا فِي أَنْفُسِهِمْ سِرًّا فِيمَا لاَ يَجْهَرُ فِيهِ الإِمَامُ. قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَوْلُهُ: فَانْتَهَى النَّاسُ مِنْ كَلاَمِ الزُّهْرِيِّ، وَقَدْ بَيَّنَهُ لِي الْحَسَنُ بْنُ صَبَاحٍ، قَالَ: ثَنَا مُبَشِّرٌ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَاتَّعَظَ الْمُسْلِمُونَ بِذَلِكَ فَلَمْ يَكُونُوا يَقْرَؤونَ فِيمَا جُهِرَ. وَقَالَ مَالِكٌ: قَالَ رَبِيعَةُ، لِلزُّهْرِيِّ: إِذَا حَدَّثْتَ عن النبي - صلى الله عليه وسلم - فَبَيِّنْ كَلاَمَكَ مِنْ كَلاَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ. وَسَلَّمَ.

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں عبداللہ بن محمد (المسندی) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں لیث (بن سعد) نے حدیث بیان کی ، کہا: مجھے یونس (بن یزید الایلی) نے حدیث بیان کی ، وہ (محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن عبداللہ) بن شہاب (الزہری) سے روایت کرتے ہیں (انہوں نے کہا) میں نے ابن اکیمہ اللیثی کو سنا، وہ سعید بن المسیب کے سامنے حدیث بیان کر رہے تھے (ابن اکیمہ ) کہہ رہے تھے کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک نماز پڑھائی جس میں قراءت جہر سے کی جاتی ہے۔ مجھے صرف یہی معلوم ہے کہ انہوں نے صبح کی نماز کا کہا تھا۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نماز سے) فارغ ہوئے۔ تو لوگوں کی طرف رخ کر کے فرمایا: کیا میرے ساتھ تم میں سے کسی نے پڑھا ہے؟ ہم نے کہا: جی ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خبر دار میں کہتا ہوں کہ کیوں میرے ساتھ قرآن میں منازعت کی جا رہی ہے۔ (راوی نے) کہا پس جس (نماز) میں امام جہر سے پڑھتا ہے ، لوگ (فاتحہ کے علاوہ) قراءت سے رک گئے اور جس میں امام جہر سے نہیں پڑھتا تو لوگ اپنے دل میں (فاتحہ کے علاوہ) سرا ًپڑھنے لگے۔ بخاری نے کہا: اور راوی کا قول کہ لوگ رک گئے، زہری کا کلام ہے۔ یہ بات مجھے حسن بن صباح نے بتائی ہے، کہا: ہمیں مبشر ( بن اسماعیل الحلبی) نے حدیث بیان کی ،وہ ( عبدالرحمٰن بن عمرو) الاوزاعی سے بیان کرتے ہیں کہ زہری نے کہا ، پس مسلمانوں نے اس سے نصیحت پکڑی، پھر وہ جہری نمازوں میں (سورۂ فاتحہ سے زیادہ) قراءت نہیں کرتے تھے۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، ← ابْنِ أُکَيْمَةَ اللَّيْثِيِّ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 71

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 72

72 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ، ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ ثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ أُكَيْمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاَةً يجهر (1) فِيهَا، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ: "مَنْ قَرَأَ مَعِيَ؟ "، قَالَ رَجُلٌ: أَنَا، قَالَ: "إِنِّي أَقُولُ مَا لِي أُنَازَعُ الْقُرْآنَ"؟. _حاشية_________ (1) في طبعة مكتبة المنار: "جهر". والمثبت من طبعتي دار الصميعي، ومكتبة الإمام البخاري.

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں ابوالولید (ہشام بن عبدالملک الطیالسی) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں لیث (بن سعد) نے حدیث بیان کی ، وہ (محمد بن مسلم بن عبیداللہ) الزہری سے ، وہ ابن اکیمہ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہری قراءت کی ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز پوری فرمائی (تو) کہا: میرے ساتھ کس نے پڑھا ہے؟ ایک آدمی نے کہا: میں نے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کہتا ہوں کہ کیوں میرے ساتھ قرآن میں منازعت کی جا رہی ہے۔

رَجُلٌ: ← "مَنْ قَرَأَ مَعِيَ؟ ← صَلَّى النَّبِيُّ صَلاَةً يجهر فِيهَا، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← ابْنِ أُكيمَةَ ← الزُّهْرِيِّ، ← اللَّيْثُ ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 72

chevron_left Previous
1…678…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter