Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
جزء القراءة خلف الإمام للبخاري

Juzz Al Qurah Khlaf Imam Bukhari

by Imam Bukhari

306 Hadith10 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 36

36 - حدثنا محمود، قال: ثنا البخاري، ثَنَا [ل15 / أ] عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، قال: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "مَنْ صَلَّى صَلاَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ".

ہمیں محمود ( بن اسحاق ) نے حدیث بیان کی ، کہا :ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں عبداللہ بن منیر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے یزید بن ہارون کو (فرماتے ہوئے) سنا: ہمیں محمد بن اسحاق (بن یسار) نے حدیث بیان کی، وہ یحییٰ بن عباد بن عبداللہ بن الزبیر سے، وہ اپنے ابا (عباد بن عبداللہ بن الزبیر) سے،وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں ،انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ایسی نماز پڑھے جس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھے تو وہ ناقص (باطل) ہے۔ پھر فرمایا: وہ ناقص (باطل) ہے۔

رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ← [ل15 أ] عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 36

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 37

37 - حدثنا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: ثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: ثَنَا النَّضْرُ، قَالَ: ثَنَا عِكْرِمَةُ، قَالَ: ثنا عَمْرُو بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عن أبيه، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "تَقْرَؤُونَ خَلْفِي"؟ قَالُوا: نَعَمْ إِنَّا لَنَهذه هَذًّا قَالَ: "فَلاَ تَفْعَلُوا إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ".

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا :ہمیں شجاع بن الولید ( ابواللیث البخاری) نے حدیث بیان کی ، کہا :ہمیں نضر ( بن محمد الیمامی) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں عکرمہ (بن عمار) نے حدیث بیان کی ، کہا: مجھ سے عمرو بن سعد نے حدیث بیان کی ، وہ عمرو بن شعیب سے، ( وہ اپنے ابا شعیب بن محمد سے ) ، وہ اپنے دادا ( عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :تم میرے پیچھے قراءت کرتے ہو؟ انہوں ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) نے کہا: جی ہاں ، ہم جلدی جلدی قراءت کر لیتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۂ فاتحہ کے علاوہ کچھ بھی نہ پڑھو۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَمْرِو بْنِ سَعْدٍ، ← عِكْرِمَةَ، ← النَّضْرُ ← شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 37

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 38

38 - حدثنا محمود، قال: ثنا البخاري، حدثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: "صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلاَةً جَهَرَ فِيهَا"، فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ، فَقَالَ: "لاَ يَقْرَأَنَّ أَحَدُكُمْ وَالإِمَامُ يَقْرَأُ [إِلاَّ بِأُمِّ] (1) الْقُرْآنِ". _حاشية_________ (1) ما بين الحاصرتين سقط من النسخة الخطية التركية، واستدركه محققو طبعات: دار الصميعي، ومكتبة الإمام البخاري، ومكتبة المنار، من الطيعة الهندية، وسائر طرق الحديث.

ہمیں محمود( بن اسحاق ) نے حدیث بیان کی ، کہا :ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا :ہمیں احمد بن خالد نے حدیث بیان کی ، کہا :ہمیں محمد بن اسحاق ( بن یسار) نے حدیث بیان کی ، وہ مکحول ( الشامی) سے ، وہ محمود بن الربیع ( رضی اللہ عنہ) سے، وہ عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے روایت بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز پڑھائی۔ جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونچی آواز سے قراءت فرمائی تو ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (جہراً) قراءت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام قراءت کر رہا ہو تو تم میں سے کوئی آدمی (بھی)سورۂ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھے۔

صَلَّى النَّبِي صَلَاةَ جَهَرَ فِيهَا فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← مَكْحُولٌ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 38

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 39

39 - حَدَّثَنَا محمود، قال: حدثنا البخاري، حَدَّثَنَا هِشَامُ، ثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، قال: ثَنَا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، عَنْ حرام بْنِ حَكِيمٍ، وَمَكْحُولٍ، عَنْ ابْنِ أبي رَبِيعَةَ الأَنْصَارِيِّ، [ل15/ب] عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَكَانَ عَلَى إِيلِيَا فَأَبْطَأَ عُبَادَةُ عَنْ صَلاَةِ الصُّبْحِ، فَأَقَامَ أَبُو نُعَيْمٍ الصَّلاَةَ، وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ أَذَّنَ بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ، فَجِئْتُ مَعَ عُبَادَةَ، حَتَّى صَفَّ النَّاسُ، وَأَبُو نُعَيْمٍ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ، فَقَرَأَ عُبَادَةُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، حَتَّى فَهِمْتُهَا (1) مِنْهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ: سَمِعْتُكَ تَقْرَأُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، فَقَالَ: نَعَمْ "صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ الصَّلَوَاتِ الَّتِي يُجْهَرُ فِيهَا بِالْقُرْآنِ (2)، فَقَالَ: "لاَ يَقْرَأَنَّ أحدٌ منكم (3) إِذَا جهرتُ بِالْقِرَاءَةِ إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ". _حاشية_________ (1) في طبعة دار الصميعي: "حَتَّى فَهِمْتُهَا [سمعتها] "، والمثبت من النسخة الخطية التركية، وطبعتي مكتبة الإمام البخاري، ومكتبة المنار. (2) في طبعة دار الصميعي: [بأم القرآن]، والمثبت من النسخة الخطية التركية، وطبعتي مكتبة الإمام البخاري، ومكتبة المنار. (3) في طبعة دار الصميعي، والطبعة الهندية: "أَحَدُكُمْ"، والمثبت من النسخة الخطية التركية، وطبعتي مكتبة الإمام البخاري، ومكتبة المنار.

ہمیں محمود( بن اسحاق ) نے حدیث بیان کی ، کہا :ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ( مجھے ہشام بن عمار نے حدیث بیان کی ، کہا : )ہمیں صدقہ بن خالد نے حدیث بیان کی، ہمیں زید بن واقد نے حدیث بیان کی ، وہ ( حرام ) بن حکیم اور مکحول (الشامی) سے ،وہ (ابن) ربیعۃ الانصاری سے، وہ عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ وہ ایلیاء ( شام کے ایک مقام ) میں تھے۔ ایک دن عبادہ (رضی اللہ عنہ) کسی وجہ سے صبح کی نماز میں دیر سے پہنچے تو ابونعیم ( مؤذن ) نے اقامت کہہ کر نماز ( پڑھانی) شروع کر دی۔ یہ ( ابونعیم ) وہ شخص ہیں جنہوں نے بیت المقدس میں سب سے پہلے اذان کہی تھی۔ پس میں نافع (بن محمود بن ربیعۃ الانصاری) اور عبادہ (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ آیا لوگوں نے صفیں بنا لی تھیں اور ابونعیم رحمۃاللہ علیہ اونچی قراءت کر رہے تھے تو عبادہ رضی اللہ عنہ نے سورۂ فاتحہ پڑھی، حتی کہ میں نے اچھی طرح اسے سمجھ لیا ۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا: میں نے آپ کو سورۂ فاتحہ پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ (اس کی آپ کے پاس کیا دلیل ہے؟) آپ نے فرمایا: جی ہاں، ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض نمازوں میں سے وہ نماز پڑھائی تھی جس میں اونچی قراءت کی جاتی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب قراءت اونچی آواز سے ہو رہی ہو تو کوئی آدمی ( بھی ) سورۂ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھے۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَكَانَ عَلَى إِيلِيَا فَأَبْطَأَ عُبَادَةُ ← ابْنِ أبي رَبِيعَةَ الأَنْصَارِيِّ، ← حرَام بْنِ حَكِيمٍ وَمَكْحُولٍ ← زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ ← صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ← هِشَامٍ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 39

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 40

40 - حَدَّثَنَا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: ثَنَا عُتْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِهِ: "تَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ إِذَا كُنْتُمْ مَعِيَ فِي الصَّلاَةِ"؟ قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَهُذُّه هَذًّا قَالَ: "فَلاَ تَفْعَلُوا إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ".

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں عتبہ بن سعید نے حدیث بیان کی ، وہ اسماعیل ( بن عیاش ) سے، وہ ( امام عبدالرحمٰن بن عمرو، ابو عمرو ) الاوزاعی سے، وہ عمرو بن شعیب سے، وہ اپنے والد (شعیب بن محمد) سے، وہ عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ (رضی اللہ عنہم) کو فرمایا: کیا تم میرے ساتھ نماز میں قرآن پڑھتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! ہم جلدی جلدی پڑھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۂ فاتحہ کے علاوہ کچھ نہ پڑھو۔

عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← الْاَوْزَاعِیُّ ← إِسْمَاعِيلُ ← عُتْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 40

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 41

41 - حَدَّثَنَا محمود، قال: ثنا البخاري، ثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: أنَا خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَائِشَةَ، عَن من شَهِدَ ذَلكَ قَالَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [ل16/أ] فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ قَالَ: "أَتَقْرَؤُونَ وَالإِمَامُ يَقْرَأُ"؟ قَالُوا: إِنَّا لَنَفْعَلُ قَالَ: "فَلاَ تَفْعَلُوا إِلاَّ أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُكم فَاتِحَةَ (1) الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ". _حاشية_________ (1) في طبعة دار الصميعي، ومكتبة المنار، والطبعة الهندية: "بِفَاتِحَةِ"، والمثبت من النسخة الخطية التركية، وطبعة مكتبة الإمام البخاري، ومسند الإمام أحمد (21097)، من طريق خالد، به.

ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا ہمیں عبدان (عبداللہ بن عثمان) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں یزید بن زریع نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں خالد (الخداء) نے حدیث بیان کی ، وہ ابوقلابہ (عبداللہ بن زید الجرمی) سے ، وہ محمد بن ابی عائشہ سے، وہ اس ( صحابی رضی اللہ عنہ) سے روایت بیان کرتے ہیں جو ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس) حاضر تھے۔ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے (تو) فرمایا: کیا تم (اس وقت) پڑھتے ہو جب امام پڑھ رہا ہوتا ہے؟ تو انہوں (صحابہ ) نے کہا: جی ہاں ہم ایسا (ہی) کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ ( بھی ) نہ کرو ، سوائے اس کے کہ تم میں سے ہر آدمی اپنے دل میں (یعنی سراً) سورۂ فاتحہ پڑھے۔

لَنَفْعَلُ ← «أَتَقْرَؤُونَ وَالْإِمَامُ يَقْرَأُ؟» ← صَلَّى النَّبِيُّ [ل16/أ] فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ ← من شَهِدَ ذَلكَ ← مُحَمَّدُ بْنُ اَبِیْ عَائِشَۃَ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← خَالِدٌ، ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← عَبْدَانُ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 41

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 42

42 - حَدَّثَنَا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: ثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: ثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلاَلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: دَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "إِنَّمَا الصَّلاَةُ لِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ وَلِذْكِرِ اللَّهِ، وَلِحَاجَةِ الْمَرْءِ إِلَى رَبِّهِ، فَإِذَا كُنْتَ فِيهَا فَلْيَكُنْ ذَاكَ شَأْنَكَ".

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں یحییٰ بن صالح نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں فلیح ( بن سلیمان) نے حدیث بیان کی، وہ ہلال (ابن ابی میمونہ ) سے، وہ عطاء بن یسار سے،وہ معاویہ بن الحکم السلمی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا کر فرمایا: بے شک نماز میں صرف قراءتِ قرآن ، اللہ کا ذکر اور بندے کی اپنے رب کے سامنے ضرورت (یعنی دعائیں ) ہوتی ہیں۔ جب تو نماز میں ہو تو یہی کیا کر۔

دَعَانِي النَّبِيُّ ← مُعَاوِيَةُ بْنُ الْحَكَمِ السُّلَمِيُّ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالٍ، ← فُلَيْحٌ، ← يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 42

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 43

43 - حَدَّثَنَا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: ثَنَا مُوسَى، قَالَ: ثَنَا أَبَانُ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى، أن هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونة، حَدَّثَهُ أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ الْحَكَمِ حَدَّثَهُ قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "إِنَّ هَذِهِ الصَّلاَةَ لاَ يَصْلُحُ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ كَلاَمِ النَّاسِ، إِنَّمَا هِيَ التَّكْبِيرُ وَالتَّسْبِيحُ وَالتَّحْمِيدُ وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ" أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں موسیٰ ( بن اسماعیل التبوذکی ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں ابان ( بن یزید العطار) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی ، انہیں ہلال بن ابی میمونہ نے حدیث بیان کی، بے شک اسے عطاء بن یسار نے حدیث بیان کی، بے شک اسے معاویہ بن الحکم ( رضی اللہ عنہ) نے حدیث بیان کی ، کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( آپ کے پیچھے) نماز پڑھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اس نماز میں لوگوں کی باتوں میں سے کوئی چیز جائز نہیں ہے۔ یہ تو صرف تکبیر، تسبیح، تحمید ( حمد و ثنا) اور قراءت قرآن کا نام ہے۔ ( راوی کہتا ہے کہ ) یا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ ← أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ الْحَكَمِ ← أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ← يَحْيَى، أن هِلاَلِ بْنِ أَبِي مَيْمُونة، ← أَبَانُ، ← مُوسَى ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 43

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 44

44 - حَدَّثَنَا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: ثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى، عَنِ الْحَجَّاجِ الصَّوَّافِ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى، عَنْ هِلاَلٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى [ل16/ب] اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَطَسَ رَجُلٌ فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ، فَرَمَانِي الْقَوْمُ بِأَبْصَارِهِمْ، فَقُلْتُ: وَا ثُكْلَ أُمَّاهُ مَا شَأْنِي؟ فَجَعَلُوا يَضْرِبُونَ بِأَيْدِيهِمْ عَلَى أَفْخَاذِهِمْ فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ يُصْمِتُونِي، فَلَمَّا صَلَّى بِأَبِي هو وَأُمِّي مَا ضَرَّبَنِي، وَلاَ كَهَرَنِي، وَلاَ سَبَّنِي، فَقَالَ: "إِنَّ الصَّلاَةَ لاَ يَحِلُّ فِيهَا مِنْ كَلاَمِ النَّاسِ (1)، إِنَّمَا هِيَ التَّسْبِيحُ وَالتَّكْبِيرُ، وَقِرَاءَةُ الْقُرْآنِ"، أو َكَمَا قَالَ: قُلْتُ: انا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، وَمِنَّا قَوْمٌ يَأْتُونَ الْكُهَّانَ. قَالَ: "فَلاَ تَأْتُوهم"، قُلْتُ: وَيَتَطَيَّرُونَ قَالَ: "ذَلكَ شَيْءٌ يَجِدُونَهُ فِي صُدُورِهِمْ، فَلاَ تصدقهم (2) "، قُلْتُ: وَيَخُطُّونَ قَالَ: "كَانَ نَبِيُّ يَخُطُّ فَمَنْ وَافَقَ خَطَّهُ فَذَاكَ". قُلْتُ: جَارِيَةٌ لي تَرْعَى غَنَمًا لِي قَبْلَ أُحُدٍ، وَالْجَوَّانِيَّةِ، إِذا طلعت (3) فَإِذَا الذِّئْبُ قَدْ ذَهَبَ بِشَاةٍ وَأَنَا مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ فصَكَكْتُهَا صَكَّةً فَعَظُمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَلاَ أَعْتِقُهَا؟ قَالَ: "ائْتِنِي بِهَا"، فَجِئْتُ بِهَا، فَقَالَ: "أَيْنَ اللَّهُ؟ " قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ: "مَنْ أَنَا"؟ [ل17/أ] قَالَتْ: رَسُولُ اللَّهِ (4)، قَالَ: "اعْتِقْهَا فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ". _حاشية_________ (1) هكذا في النسخة الخطية، وطبعة دار الصميعي، وطبعة مكتبة المنار. وأما في طبعة مكتبة الإمام البخاري: "لاَ يَحِلُّ فِيهَا شيء مِنْ كَلاَمِ النَّاسِ". (2) قوله: "تصدقهم"، من طبعتي دار الصميعي، وطبعة مكتبة المنار. وأما في طبعة مكتبة الإمام البخاري: "يَصُدَّنَّهُم". (3) قوله: "إِذا طلعت"، من طبعة مكتبة الإمام البخاري، وفي طبعة دار الصميعي: "إذ اطلعت"، وفي طبعة مكتبة المنار: "إذ طلعت". (4) في طبعة دار الصميعي، وطبعة مكتبة المنار، والطبعة الهندية: "قَالَتْ: أنت رَسُولُ اللَّهِ"، والمثبت من النسخة الخطية التركية، وطبعة مكتبة الإمام البخاري.

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں مسدد (بن مسرہد ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں یحییٰ (بن سعید القطان ) نے حدیث بیان کی ، وہ حجاج ( الصواف) سے بیان کرتے ہیں، کہا: ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی ، وہ ہلال ( بن ابی میمونہ ) سے ، وہ عطاء بن یسار سے ، وہ معاویہ بن الحکم رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی کو چھینک آئی تو میں نے ( حالت نماز میں ہی ) کہا: یرحمک اللّٰه (اللہ تجھ پر رحم کرے) لوگ میری طرف (غصیلی) نگاہوں سے گھورنے لگے۔ تو میں نے کہا ۔ ہائے اس کی ماں روئے۔ مجھے کیا ہوا ہے؟ (یہ لوگ مجھے کیوں دیکھ رہے ہیں؟) لوگ اپنی رانوں پر ہاتھ مارنے لگے تو میں سمجھ گیا کہ وہ مجھے چپ کرانا چاہتے ہیں (لہٰذا میں چپ ہو گیا) پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھ لی تو میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نہ مارا ،نہ جھڑکا اور نہ برا بھلا کہا، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نماز میں لوگوں کی باتوں میں سے کوئی چیز بھی حلال نہیں ہے، یہ تو تسبیح، تکبیر اور قراءت قرآن کا نام ہے یا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میں نے کہا: ہم لوگ جاہلیت سے تازے تازے ( اسلام میں) آئے ہیں اور ہم میں بعض لوگ کاہنوں کے پاس جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ( کاہنوں کے پاس) نہ جاؤ۔ میں نے کہا : وہ بدشگونی کے قائل ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ چیز وہ اپنے دلوں میں (بغیر کسی دلیل کے) پاتے ہیں۔ انہیں بدشگونی نہیں کرنی چاہیے۔ میں نے کہا: وہ خط کھینچتے (یعنی زائچہ نکالتے) ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک نبی ( دانیال عَلیْہِ السَّلام) خط کھینچتے تھے جس کا خط ان کے خط کے موافق ہو جاتا ہے تو اسی طرح ہے۔ (ورنہ نہیں) میں نے کہا: ایک لونڈی میری بکریاں احد اور جوانیہ کی طرف چرایا کرتی تھی۔ ایک دن وہ چڑھی تو دیکھا کہ ایک بھیڑیا ایک بکری اٹھا لے گیا ہے۔ میں ( بھی ) آومی ہوں جس طرح لوگ افسوس کرتے ہیں مجھے بھی افسوس ہوا۔ تو میں نے لونڈی کو (شدید ) تھپڑ مارا۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑی ( بری ) لگی۔ تو میں نے کہا کیا میں اسے آزاد نہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے میرے پاس لے آؤ ، تو میں اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس لونڈی سے ) فرمایا : اللہ کہاں ہے؟ اس نے کہا: آسمانوں پر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں کون ہوں؟ اس نے کہا : آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے آزاد کر دو، بے شک یہ مومنہ ہے۔

مُعَاويَةَ بْنِ الْحَكَمِ ← عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ← هِلَالٍ، ← يَحْيَى ← الْحَجَّاجُ الصَّوَّافُ ← يَحْيَى ← مُسَدَّدٌ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 44

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 45

45 - حَدَّثَنَا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: ثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: ثَنَا الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَيُّمَا صَلاَةٍ لاَ يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ". قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: "قسمت الصَّلاَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي" (1) وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَنِي، فَإِذَا قَالَ الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} قَالَ: حَمِدَنِي عَبْدِي، وَإِذَا قَالَ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} قَالَ: يمَجَّدَنِي عَبْدِي أَوْ أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي. قَالَ سُفْيَانُ: أَنَا أَشُكُّ، فإِذَا قَالَ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} قَالَ: فَوَّضَ إِلَيَّ عَبْدِي قال: فإِذَا قَالَ {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} قَالَ: فَهَذِهِ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي، ولعبدي ما سألني {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} (2). قَالَ سُفْيَانُ: ذَهَبْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ سَنَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، فَكَانَ هَذَا مِنْ أَهَمِّ الْحَدِيثُ إِلَيَّ (3)، قد جاءنا به (4) الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، عَنِ الْعَلاَءِ، فَقَدِمْتُ مَكَّةَ فِي الْمَوْسِمِ فَجَعَلْتُ أَسْأَلُ عَنْهُ؟ فَأَتَيْتُ سُوقَ الْعَلَفِ، فَإِذَا أَنَا بِشَيْخٍ يَعْلِفُ جَمَلاً لَهُ نَوًى فَقُلْتُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ تَعْرِفُ [17/ب] الْعَلاَءَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: هُوَ أَبِي وَهُوَ مَرِيضٌ فَلَمْ أَلْقَهُ حَتَّى مَرَرْتُ بِالْمَدِينَةِ، فَسَأَلْتُ عَنْهُ؟، فَقَالَوا: هُوَ فِي الْبَيْتِ مَرِيضٌ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ عَلِيٌّ: أَرَى الْعَلاَءَ مَاتَ سَنَةَ ثِنْتَيْنِ وَثَلاَثِينَ. _حاشية_________ (1) جاء هنا في طبعة دار الصميعي: [نصفين]، ولم ترد هذه الزيادة في طبعتي مكتبة المنار، ومكتبة الإمام البخاري. (2) جاء هنا في طبعة مكتبة المنار: "قَالَ: هَذِهِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ"، ولم ترد هذه الزيادة في النسخة الخطية التركية، وطبعتي دار الصميعي، ومكتبة الإمام البخاري. (3) جاء هنا في طبعتي مكتبة المنار، ودار الصميعي: [فرحا]، ولم ترد هذه الزيادة في طبعة مكتبة الإمام البخاري. (4) قوله: "قد جاءنا به"، من طبعتي دار الصميعي، ومكتبة الإمام البخاري. وأما في طبعة مكتبة المنار فجاء: "فرحا بأنه عن الحسن بن عمارة".

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں علی ( بن عبداللہ بن جعفر المدینی) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں سفیان ( بن عیینہ ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب الحرقی نے حدیث بیان کی ، وہ اپنے ابا (عبدالرحمٰن بن یعقوب ) سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نماز میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص (باطل) ہے۔ وہ ناقص (باطل) ہے۔ وہ ناقص (باطل) ہے ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان تقسیم کر دی ہے اور بندہ جو سوال کرے گا وہ اسے ملے گا۔ پس جب بندہ کہتا ہے (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ) تو ( اللہ ) فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی اور جب (بندہ) کہتا ہے: ( اَلـرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْمِ) (اللہ) فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تمجید یا ثنا بیان کی، سفیان (بن عیینہ) نے کہا: (تمجید یا ثنا) میں مجھے شک ہے اور جب کہتا ہے: (مَـــــــالـِکِ يَـوْمِ الدِّيْنِ) (الله) فرماتا ہے: میرے بندے نے اپنے امور میرے سپرد کئے اور جب کہتا ہے: (إِیَّـــاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ)تو (اللہ) فرماتا ہے: یہ میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے، پھر جب کہتا ہے (اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ o صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ) (تو اللہ) فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور بندہ جو مانگے گا اسےدوں گا۔ سفیان ( بن عیینہ ) نے کہا: میں ستائیس (۱۲۷ھ ) کو مدینہ گیا تو یہ حدیث میرے لیے انتہائی خوشی کا باعث تھی کیونکہ ( میرے پاس، پہلے ) یہ حسن بن عمارہ عن العلاء کی سند سے تھی۔ تو میں مکہ ، حج کے موسم میں آیا۔ تو میں اس ( علاء بن عبدالرحمٰن ) کے بارے میں پوچھنے لگا۔ پھر میں چارے کے بازار ( گھاس منڈی ) میں آیا۔ دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی اپنے اونٹ کو کھجور کی گٹھلیاں کھلا رہا ہے۔ میں نے اس سے کہا: آپ پر اللہ رحم کرے۔ کیا ، آپ علاء بن عبدالرحمٰن کو جانتے ہیں؟ اس نے کہا: وہ میرے والد ہیں اور بیمار ہیں۔ پس میری ان سے ملاقات نہ ہو سکی حتیٰ کہ میں مدینہ آیا تو اس کے بارے میں پوچھا، تو ( بتانے والے نے) کہا کہ وہ گھر میں بیمار ہے۔ پھر میں ان کے پاس گیا تو اس حدیث کے بارے میں پوچھا۔ علی ( بن عبداللہ المدینی) نے کہا: میرا خیال ہے کہ علاء بتیس (۱۳۲ھ) میں فوت ہوئے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← عَلِيٍّ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 45

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 46

46 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا السَّائِبِ، مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ صَلَّى صَلاَةً لَمْ يَقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ، فَهِيَ خِدَاجٌ (1) غَيْرُ تَمَامٍ". فَقُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: فَإِنِّي أَكُونُ أَحْيَانًا وَرَاءَ الإِمَامِ قَالَ: فَغَمَزَ ذِرَاعِي ثُمَّ قَالَ: "اقْرَأْ بِهَا يَا فَارِسِيُّ فِي نَفْسِكَ" فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: "قُسِمَتِ الصَّلاَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ فَنِصْفُهَا لِي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَؤُوا يَقُولُ الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} يَقُولُ (اللَّهُ) (2): "حَمِدَنِي عَبْدِي"، يَقُولُ الْعَبْدُ [18/أ] {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} يَقُولُ (اللَّهُ) (2): "أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي"، يَقُولُ الْعَبْدُ {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} يَقُولُ اللَّهُ: "مَجَّدَنِي عَبْدِي" (3)، يَقُولُ (الْعَبْدُ) (4) {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ} فَهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ. يَقُولُ الْعَبْدُ {اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} فَهَؤُلاَءِ لِعَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ. _حاشية_________ (1) قوله: "فَهِيَ خِدَاجٌ"، مكررة ثلاث مرات في طبعة دار الصميعي، والمثبت من طبعتي مكتبة الإمام البخاري، ومكتبة المنار. (2) مابين القوسين من الطبعة الهندية، وطبعتي دار الصميعي، ومكتبة المنار. ولم يرد في النسخة الخطية، وطبعة مكتبة الإمام البخاري. (3) في النسخة الخطية، وطبعتي مكتبة الإمام البخاري، ومكتبة المنار، زيادة هنا: [وهَذِهِ الآيَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي]. ولم ترد هذه الزيادة في الطبعة الهندية، وطبعة دار الصميعي. (4) مابين القوسين من الطبعة الهندية، وطبعتي دار الصميعي، ومكتبة المنار. ولم يرد في النسخة الخطية، وطبعة مكتبة الإمام البخاري.

ہمیں محمود ( بن اسحاق ) نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں عبداللہ بن مسلمہ (القعنبی ) نے حدیث بیان کی ، وہ ( امام) مالک ( بن انس) سے، وہ علاء بن عبدالرحمٰن ( بن یعقوب سے بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے ہشام بن زہرہ کے غلام ابوالسائب کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ایسی نماز پڑھے جس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھے وہ نماز ناقص (باطل) ہے، وہ ناقص (باطل) ہے، پوری نہیں ہے۔ پس میں ( راوی ) نے کہا: اے ابوہریرہ ! بے شک بعض اوقات میں امام کے پیچھے ہوتا ہوں ، کہا : انہوں نے میرے بازو کو جھٹکا دیا، پھر فرمایا: اے فارسی! اسے اپنے دل میں پڑھ ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ نے فرمایا: میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان آوھی (آدھی) تقسیم کر دی ہے۔ آدھی میرے لیے اور آدھی میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے نے جو سوال کیا وہ اسے ملے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھو ، جب بندہ کہتا ہے : (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ) تو اللہ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری حمد بیان کی ، بندہ کہتا ہے: ( اَلـرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْمِ) اللہ فرماتا ہے : میرے بندے نے میری تعریف بیان کی۔ بندہ کہتا ہے: (مَـــــــالـِکِ يَـوْمِ الدِّيْنِ) اللہ فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تمجید (بزرگی) بیان کی۔ بندہ کہتا ہے: (إِیَّـــاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ)تو یہ آیت میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرا بندہ جو مانگے گا اسے ملے گا۔ بندہ کہتا ہے: (اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ) تو یہ بندے کے لیے ہیں اور بندہ جو سوال کرے گا اسے ملے گا۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبَا السَّائِبِ مَوْلَى هِشَامِ بْنِ زُهْرَةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ ← مَالِكٍ، ← عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 46

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 47

47 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ قَالَ، ثَنَا عياش، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَي الْعَلاَءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيُّ، عَنْ أَبِي السَّائِبِ، مَوْلَى ابن زُهْرَةَ (1)، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ صَلَّى صَلاَةً لاَ يَقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ، ثُمَّ هِيَ خِدَاجٌ ثم هي خداج غَيْرُ تَمَامٍ ثَلاَثًا". فقُلْتُ: كَيْفَ أَصْنَعُ يا أبا هريرة إِذَا كُنْتُ مَعَ الإِمَامِ وَهُوَ يَجْهَرُ بِالْقِرَاءَةِ؟ قَالَ: وَيْلَكَ يَا فَارِسِيُّ، اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: "قسِمَتِ الصَّلاَةُ بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ"، ثُمَّ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: اقْرَؤُوا فَإِذَا قَالَ [18/ب] الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} قَالَ الله: "حَمِدَنِي عَبْدِي"، فإِذَا قَالَ {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} قَالَ: "أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي"، فإِذَا قَالَ: {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} قَالَ: "مَجَّدَنِي عَبْدِي"، قال: فهذا لي، وَإِذَا قَالَ: {إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ * اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ * صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلاَ الضَّالِّينَ} فَهِيَ لَهُ. _حاشية_________ (1) قوله: "ابن زهرة"، من طبعة مكتبة الإمام البخاري، وفي طبعة مكتبة المنار: "بني زهرة". وفي طبعة دار الصميعي: "أبي زهرة".

ہمیں محمود ( بن اسحاق ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں ( عیاش ) ( بن الولید ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں عبدالاعلیٰ ( بن عبدالاعلیٰ السامی ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں محمد بن اسحاق ( بن یسار) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں علاء بن عبدالرحمٰن بن يعقوب الحرقی نے حدیث بیان کی ، وہ بنو زہرہ کے غلام ابوالسائب سے ، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کوئی نماز پڑھے اور اس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھے تو وہ ناقص (باطل) ہے۔ پھر وہ ناقص ( باطل) ہے ، پوری نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین دفعہ فرمائی۔ میں نے کہا: اے ابو ہریرۃرضی اللہ عنہ ! میں اس وقت کیا کروں جب میں امام کے ساتھ ہوتا ہوں اور وہ قراءت جہر سے کر رہا ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا: تیرے لیے خرابی ہے اے فارسی ! اپنے دل میں اسے (سراً خفیہ آواز سے) پڑھ۔ پس میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے نماز اپنے اور اپنے بندے کے درمیان (آدھی آدھی) تقسیم کر دی ہے اور بندہ جو سوال کرے گا اسے ملے گا۔ پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ پڑھو، پس جب بنده (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ)کہتا ہے،تو (اللہ) فرماتا ہے: میرے بندے نے میری حمد بیان کی اور جب ( اَلـرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْمِ) کہتا ہے، (اللہ) فرماتا ہے: مجھ پر میرے بندے نے ثنا کہی اور جب (مَـــــــالـِکِ يَـوْمِ الدِّيْنِ) کہتا ہے،(اللہ) فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تمجید ( بزرگی) بیان کی اور جب (إِیَّـــاکَ نَعْبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ oاِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْمَ o صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّآلِّيْنَ) کہتا ہے تو وہ اس کے لیے ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِي السَّائِبِ، مَوْلَى ابن زُهْرَةَ ← الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ الْحُرَقِيِّ، ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← عَيَّاشٌ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 47

chevron_left Previous
1…456…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter