جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 22
22 - وَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [7/ب] "يَقْرَأُ فِي الأَرْبَعِ". - وَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنْ لَمْ يَقْرَأْ فِي الأَرْبَعِ جَازَتْ صَلاَتُهُ. وَهَذَا خِلاَفُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ". فَإِنِ احْتَجَّ وَقَالَ: قَالَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لاَ صَلاَةَ"، وَلَمْ يَقُلْ: "لاَ تجْزِىء"، قِيلَ لَهُ: إِنَّ الْخَبَرَ إِذَا جَاءَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحُكْمُهُ عَلَى اسْمِهِ، وَعَلَى الْجُمْلَةِ، حَتَّى يَجِيء ثُنْيَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (1).
اگر وہ حجتیں کرے اور کہے : ’’نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لاصلوٰۃ (نماز نہیں) کہا ہے ’’لا يجزئ‘‘ ( جائز نہیں) نہیں کیا‘‘ تو اسے کہا جائے، بے شک جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (صحیح سند کے ساتھ ) حدیث آ جائے تو اس کا حکم اس کے ( عام ) نام پر اور فی الجملہ ( عموم پر) رہے گا ، حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ( خاص ) بیان آ جائے (تو تخصیص کر لی جائے گی) جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ سورۂ فاتحہ کے بغیر نماز جائز نہیں ہے۔
أَبُو قَتَادَةَ: كَانَ النَّبِيُّ "يَقْرَأُ فِي الأَرْبَعِ".
Hadith 22
