Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
جزء القراءة خلف الإمام للبخاري

Juzz Al Qurah Khlaf Imam Bukhari

by Imam Bukhari

306 Hadith10 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ باب وجوب قراءة فاتحة الكتاب في كل ركعة · حديث 10

10 - حدثنا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: ثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: "تجْزِي بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ف إِنْ زَادَ فَهُوَ خَيْرٌ".

ہمیں محمود( بن اسحاق الخزاعی) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں محمد بن یوسف ( البخاری البیکندی) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں سفیان (بن عیینہ ) نے حدیث بیان کی ، وہ (عبدالملک بن عبد العزیز ) ابن جریج سے ، وہ عطاء (بن ابی رباح ) سے، وہ ( سیدنا )ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: سورۂ فاتحہ (پڑھنے) کے ساتھ نماز جائز ( ہو جاتی) ہے اور اگر ( فاتحہ سے) زیادہ پڑھے تو بہتر ہے۔

"تجْزِي بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ف إِنْ زَادَ فَهُوَ خَيْرٌ". ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← ابْنُ جُرَيْجٍ، ← سُفْيَانَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 10

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ باب وجوب قراءة فاتحة الكتاب في كل ركعة · حديث 11

11 - حدثنا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، قَالَ: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، قَالَ: ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنَي يَحْيَى بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "كُلُّ صَلاَةٍ لاَ يُقْرَأُ فِيهَا فَهِيَ [5/ب] خِدَاجٌ". وقَالَ الْبُخَارِيُّ: وَزَادَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ "بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ".

ہمیں محمود( بن اسحاق ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں محمد بن عبدالله الرقاشی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا: ہمیں یزید بن زریع نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں محمد بن اسحاق ( بن یسار) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں یحییٰ بن عباد ( بن عبداللہ بن الزبیر) نے حدیث بیان کی ، وہ اپنے ابا سے، وہ ( سیدہ) عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں ، انہوں نے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ہر نماز جس میں (سورۂ فاتحہ کی ) قراءت نہ کی جائے وہ ناقص (وباطل) ہے۔ (بخاری نے کہا) اور [اس حدیث میں] یزید بن ہارون نے فاتحۃ الکتاب کے الفاظ ( بھی ) بیان کئے ہیں۔ (یعنی قراءت سے مراد فاتحہ کی قراءت ہے )۔

الْبُخَارِيُّ: وَزَادَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ← "كُلُّ صَلاَةٍ لاَ يُقْرَأُ فِيهَا فَهِيَ [5/ب] خِدَاجٌ". ← رَسُولِ اللَّهِ ← عَائِشَةَ ← أَبِيهِ ← يَحْيَى بْنُ عَبَّاد؛ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 11

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ باب وجوب قراءة فاتحة الكتاب في كل ركعة · حديث 12

12 - حدثنا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: ثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: ثَنَا أَبَانُ، قَالَ: ثَنَا عَامِرٌ الأَحْوَلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "كُلُّ صَلاَةٍ لَمْ يُقْرَأْ فِيهَا بِأُمِّ الْكِتَابِ فَهِيَ مُخَدَّجَةٌ".

ہمیں محمود ( بن اسحاق الخزاعی) نے حدیث بیان کی کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں موسیٰ بن اسماعیل ( ابوسلمہ التبوذکی المنقری ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں ابان بن یزید ( العطار ) نے حدیث بیان کی، کہا : ہمیں عامر (بن عبدالواحد ) الاحول (البصری) نے حدیث بیان کی ، وہ عمرو بن شعیب ( بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص) سے، وہ اپنے ابا (شعیب بن محمد ) سے، وہ اپنے دادا ( سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما) سے روایت بیان کرتے ہیں کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نماز جس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص (یعنی باطل) ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← عَامِرٌ الْأَحْوَلُ، ← أَبَانُ، ← مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 12

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ باب وجوب قراءة فاتحة الكتاب في كل ركعة · حديث 13

13 - حدثنا محمود، قال: حدثنا البخاري، قال: ثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "مَنْ صَلَّى فلَمْ (1) يَقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَهِيَ خِدَاجٌ ثَلاَثًا غَيْرَ تَمَامٍ". قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ إِنِّي أَكُونُ وَرَاءَ الإِمَامِ؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: يَا ابْنَ الْفَارِسِيِّ اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ، عز وجل: "قسمت الصَّلاَة بَيْنِي وَبَيْنَ عَبْدِي نِصْفَيْنِ، فَنِصْفُهَا لي وَنِصْفُهَا لِعَبْدِي، وَلِعَبْدِي مَا سَأَلَ". قَالَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَءُوا يَقُولُ [6/أ] الْعَبْدُ {الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} فيَقُولُ اللَّهُ: "حَمِدَنِي عَبْدِي"، يَقُولُ (الْعَبْدُ) (2) {الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ} يَقُولُ اللَّهُ: "أَثْنَى عَلَيَّ عَبْدِي"، يَقُولُ (الْعَبْدُ) (2): {مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ} يَقُولُ (اللَّهُ) (2): "مَجَّدَنِي عَبْدِي هَذَا لِي"، يقول (العبد) (2) {إياك نعبد وإياك نستعين} يقول الله: "فهذه الآية بيني وبين عبدي نصفين"، وإذا قال العبد: {اهدنا الصراط المستقيم} إلى آخر السورة (فهذا) (2) لعبدي ولعبدي ما سأل (3).

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ،کہا: ہمیں امیہ بن خالد نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں یزید بن زریع نے حدیث بیان کی ، وہ روح بن القاسم سے ، وہ علاء (بن عبدالرحمٰن بن یعقوب) سے ،وہ اپنے ابا( عبدالرحمٰن بن یعقوب) سے ، وہ (سیدنا) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نماز پڑھے اور (اس میں ) سورۂ فاتحہ نہ پڑھے وہ (نماز) ناقص (یعنی باطل ) ہے۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرمائی ، مکمل نہیں ہے۔ میں نے کہا: اے ابوہریره رضی اللہ عنہ ! میں امام کے پیچھے ( بھی ) ہوتا ہوں (یعنی جب میں امام کے پیچھے نماز پڑھتا ہوں)؟ تو ابوہریرہ نے فرمایا: اے فارسی زادے ! اسے اپنے دل میں ( ہونٹ ہلاتے ہوئے خفیہ آواز سے) پڑھ (اور مزید سن لے کہ) میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نماز آدھی آدھی تقسیم کر دی ہے پس آدھی میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے نے جو مانگا اسے دیا جائے گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پڑھو ( جب) بندہ کہتا ہے (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ) الله فرماتا ہے : میرے بندے نے میری حمد کی ، بندہ کہتا ہے ( اَلـرَّحْـمٰنِ الرَّحِيْمِ)الله فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تعریف بیان کی۔ بندہ کہتا ہے (مَـــــــالـِکِ يَـوْمِ الدِّيْنِ) الله فرماتا ہے: میرے بندے نے میری تمجید کی (یعنی بزرگی بیان کی)یہ میرے لیے ہے، بندہ کہتا ہے (إِیَّـــاکَ نَعْبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ) تو اللہ فرماتا ہے یہ آیت میرے اور میرے بندے کے در میان آدھی آدھی ہے اور جب بندہ کہتا ہے (اِهْدِنَا الصِّرَاطَ) سورت کے آخر تک ( تو اللہ) فرماتا ہے: یہ میرے بندے کے لیے ہے اور میرے بندے نے جو مانگا ہے اسے دیا جائے گا۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ← يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ← أُمَيَّةُ بْنُ خَالِدٍ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 13

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ باب وجوب قراءة فاتحة الكتاب في كل ركعة · حديث 14

14 - حدثنا محمود، قال: حدثنا البخاري (1)، قال: ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قال: ثنا همام عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: "أَمَرَنَا نَبِيُّنَا أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ".

ہمیں محمود ( بن اسحاق ) نے یہ حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بخاری نے یہ حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں ابوالولید ہشام ( بن عبد الملک الطیالسی ) نے یہ حدیث بیان کی ( وہ ہمام بن یحییٰ سے ) وہ قتادہ ( بن دعامہ ) سے، وہ ابونضره (المنذر بن مالک البصری) سے، وہ ابوسعید ( سعد بن مالک الخدری رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: ہمیں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نماز میں ) سورۂ فاتحہ اور جو میسر ہو، پڑھنے کا حکم دیا ہے۔

أَمَرَنَا نَبِيُّنَا أَنْ نَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا تَيَسَّرَ ← اَبِیْ سَعِیْدٍ ← أَبِي نَضْرَةَ ← قَتَادَةَ ← هَمَّامٌ، ← أَبُو الْوَلِيدِ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 14

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ باب وجوب قراءة فاتحة الكتاب في كل ركعة · حديث 15

15 - حدثنا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: ثَنَا مُوسَى، قَالَ: ثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ قَيْسٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ مَيْمُونٍ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: "فِي كُلِّ صَلاَةٍ يُقْرَأُ فَمَا أَسْمَعَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَسْمَعْنَاكَمْ، وَمَا أَخْفَى عَلَيْنَا أَخْفَيْنَا عَلَيْكُمْ".

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے (یہ) حدیث بیان کی ،کہا: ہمیں بخاری نے (یہ) حدیث بیان کی، کہا : ہمیں موسیٰ (بن اسماعیل التبوذکی ، ابوسلمہ ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں حماد (بن سلمہ ) نے قیس ( بن سعد ) اور عمارہ بن میمون اور حبیب بن الشہید ( تینوں ) سے حدیث بیان کی ، وہ عطاء ( بن ابی رباح) سے ، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا:’’ہر نماز میں قراءت کی جاتی ہے ۔پس نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں (جہراً) جو سنایا ہے۔ ہم تمہیں (جہراً) سناتے ہیں اور جو آپ نے مخفی رکھا (یعنی آہستہ پڑھا ) ہم (اسے ) آپ پر مخفی رکھتے ہیں۔ (یعنی آہستہ پڑھتے ہیں )‘‘

أَبِي هُرَيْرَةَ، ← عَطَاءٍ، ← قَيْسٍ، وَعُمَارَةَ بْنِ مَيْمُونٍ، وَحَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ، ← حَمَّادٌ، ← مُوسَى ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 15

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ باب وجوب قراءة فاتحة الكتاب في كل ركعة · حديث 16

16 - حدثنا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: ثَنَا هِلاَلُ بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: ثَنَا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السُّلَعِيُّ، قَالَ: ثَنَا حُسَيْنٌ [6/ب] الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "كُلُّ صَلاَةٍ لاَ يُقْرَأُ فِيهَا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فَهِيَ خِدَاجٌ فهي خداج".

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں ہلال بن بشر نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں یوسف بن یعقوب السلعی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حسین (بن ذکوان ) المعلم نے حدیث بیان کی ، وہ عمرو بن شعیب ( بن محمد بن عبداللہ بن عمرو بن العاص) سے ،وہ اپنے ابا (شعیب بن محمد ) سے، وہ اپنے دادا ( عبداللہ بن عمرو بن العاص ) سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر نماز جس میں سورۂ فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص (یعنی باطل) ہے۔

جَدِّهِ، ← أَبِيهِ ← عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ← حُسَيْنٌ [6/ب] الْمُعَلِّمُ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ السُّلَعِيُّ، ← هِلَالُ بْنُ بِشْرٍ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 16

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ باب وجوب قراءة فاتحة الكتاب في كل ركعة · حديث 17

17 - حدثنا محمود، ثنا البخاري، قال: ثَنَا مُوسَى، قَالَ: ثَنَا دَاوُدُ بْنِ أَبِي الْفُرَاتُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: "فِي كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ، وَلَوْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ"، فَمَا أَعْلَنَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَحْنُ نُعْلِنُهُ وَمَا أَسَرَّ فَنَحْنُ نُسِرُّهُ.

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں موسیٰ ( بن اسماعیل التبوذکی ) نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں داؤد بن ابی الفرات نے حدیث بیان کی ، وہ ابراہیم ( بن میمون ) الصائغ سے، وہ عطاء ( بن ابی رباح ) سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ ہر نماز میں قراءت (فرض ) ہے ۔اگرچہ (صرف) سورۂ فاتحہ کے ساتھ (ہی) ہو۔ پس ہمیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو علانیہ سنایا ہم تمہیں علانیہ سناتے ہیں اور جو آپ نے سراً ( یعنی دل میں ،خفیہ) پڑھا ہم اسے سراً پڑھتے ہیں۔

عَطَاءٍ، ← إِبْرَاهِيمَ الصَّائِغِ ← دَاوٗدَ بْنِ اَبِیْ الْفُرَاتِ ← مُوسَى ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 17

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ باب وجوب قراءة فاتحة الكتاب في كل ركعة · حديث 18

18 - حَدَّثَنَا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: ثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، قَالَ: ثَنَا مُعَاوِيَةُ، عَنْ أَبِي الزاهِرِيَّةِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَفِي كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ؟ قَالَ: "نَعَمْ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ: وَجَبَتْ هَذِهِ.

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں عبداللہ بن محمد ( المسندی ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بشر بن السری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں معاویہ ( بن صالح الحضرمی ) نے حدیث بیان کی ، وہ ابوالزاہریہ (حدیر بن کریب الحمصی ) سے ، وہ کثیر بن مرہ الحضرمی سے روایت بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے ابوالدرداء ( عویمر بن عجلان ) رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا، کیا ہر نماز میں قراءت (فرض) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں‘‘ تو ایک انصاری صحابی (رضی اللہ عنہ) نے کہا: یہ (سورۂ فاتحہ ) واجب ( یعنی فرض) ہو گئی ہے۔

"نَعَمْ"، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ: وَجَبَتْ هَذِهِ. ← سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ أَفِي كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ؟ ← أَبَا الدَّرْدَاءِ، ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، ← أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، ← مُعَاوِيَةَ، ← بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، ← عَبْدُ اللہِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 18

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ باب وجوب قراءة فاتحة الكتاب في كل ركعة · حديث 19

19 - حدثنا محمود، قال: ثنا البخاري، قال: ثَنَا عَلِيٌّ، قَالَ: ثَنَا زيد، قَالَ: ثَنَا مُعَاوِيَةُ، قَالَ: ثَنَا [7/أ] أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ، قَالَ: ثَنَا كَثِيرِ بْنُ مُرَّةَ، سَمِعَ أَبَا الدَّرْدَاءِ سأل النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفِي كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ؟ قَالَ: "نَعَمْ".

ہمیں محمود ( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں علی ( بن عبداللہ بن جعفر المدینی ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں زید ( بن حباب ) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں معاویہ ( بن صالح الحضرمی) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں ابو الزاہریہ ( حدیر بن کریب الحمصی) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں کثیر بن مرہ نے حدیث بیان کی ،انہوں نے ابوالدرداء ( عویمر بن عجلان رضی اللہ عنہ) کو (فرماتے ہوئے ) سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا :”کیا ہر نماز میں قراءت (فرض ) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ’’جی ہاں !‘‘

نَعَمْ ← أَبَا الدَّرْدَاءِ سأل النَّبِيُّ أَفِي كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ؟ ← كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ← [7/أ] أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ، ← مُعَاوِيَةَ، ← زيد1 ← عَلِيٍّ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 19

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 20

وَأَدْنَى مَا يُجْزِىء مِنَ القرآن قَالَ الْبُخَارِيُّ رحمه الله: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ} قَالَ الله تعالى: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنْ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا}. قَالَ الله تعالى: {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا}. - قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هَذِهِ فِي الْمَكْتُوبَةِ وَالْخُطْبَةِ.

بخاری نے کہا: اللہ عزوجل نے فرمایا: پس جو اس میں سے میسر ( آسان( ہو پڑھو، ( اور فرمایا( : اور صبح کا قرآن ، بے شک صبح کے قرآن کا مشاہدہ کیا جاتا ہے (یعنی فرشتے یہ قرآن سننے کے لیے حاضر ہوتے ہیں، (اور فرمایا) اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے سنو اور خاموش ہو جاؤ، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ (آیت) فرض (نماز) اور (جمعہ کے( خطبے (کے بارے( میں ہے اور ابو الدرداء (عویمر بن عجلان رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کیا ہر نماز میں قراءت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں ! انصار میں سے ایک آدمی بولا ، ( قراءت ) واجب (یعنی فرض( ہوگئی۔

ابْنُ عَبَّاسٍ: هَذِهِ فِي الْمَكْتُوبَةِ وَالْخُطْبَةِ. ← الله تعالى: {وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَأَنْصِتُوا}. ← الله تعالى: {وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنْ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا}. ← اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ} ← الْبُخَارِيِّ ← وَأَدْنَى مَا يُجْزِىء مِنَ القرآن

Hadith 20

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 21

21 - وَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفِي كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ؟ قَالَ: "نَعَمْ". قَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ: وَجَبَتْ. - قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَتَوَاتُرُ الْخَبَرِ عَنْ النبي اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بأُمِّ الْقُرْآنِ" (1). - وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: تجْزِيهِ آيَةً آيَةً فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ بِالْفَارِسِيَّةِ، وَلاَ يَقْرَأُ فِي الأُخْرَيَيْنِ.

بخاری نے کہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر حدیث آئی ہے کہ سورۂ فاتحہ کی قراءت کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ پہلی دو رکعتوں میں ایک ایک آیت ، فارسی زبان میں ( پڑھ دینا ) جائز ہے اور آخری دو رکعتوں میں نہ پڑھنا جائز ہے اور ابو قتادہ (الانصاری رضی اللہ عنہ) نے فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاروں رکعتوں میں قراءت کرتے تھے اور بعض کہتے ہیں اگر چاروں ( رکعتوں) میں نہ پڑھے تو اس کی نماز جائز ہے اور ( حالانکہ اس کی) یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کہ ’’سورۂ فاتحہ کے بغیر نما زنہیں ہوتی“ کے خلاف ہے۔

النبي اللَّهِ "لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بأُمِّ الْقُرْآنِ" ← الْبُخَارِيُّ: وَتَوَاتُرُ الْخَبَرِ ← رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ: وَجَبَتْ. ← نَعَمْ ← أَبُو الدَّرْدَاءِ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ أَفِي كُلِّ صَلاَةٍ قِرَاءَةٌ؟

Hadith 21

chevron_left Previous
1234…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter