جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ لاَ يُجْهَرُ خَلْفَ الإِمَامِ بِالْقِرَاءَةِ. · حديث 217
217 - حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ، قَالَ: ثَنَا يَحْيَى بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَنا عبيد اللَّهِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ، فَلَمَّا قَضَى صَلاَتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: "أَتَقْرَؤُونَ فِي صَلاَتِكُمْ وَالإِمَامُ يَقْرَأُ؟ " فَسَكَتُوا، فَقَالَهَا: "ثَلاَثَ مَرَّاتٍ"، فَقَالَ قَائِلٌ أَوْ قَائِلُونَ: إِنَّا لَنَفْعَلُ؟ قَالَ: "فَلاَ تَفْعَلُوا لْيَقْرَأْ أَحَدُكُمْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ".
ہمیں محمود( بن اسحاق) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں یحییٰ بن یوسف (الزمی) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عبیداللہ (بن عمرو الرقی) نے حدیث بیان کی،وہ ایوب (بن ابی تمیمہ السختیانی) سے، وہ ابوقلابہ (عبداللہ بن زید الجرمی) سے، وہ انس (بن مالک)رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کو نماز پڑھائی۔ پھر جب آپ نے نماز پوری کی (تو) ان کی طرف چہرہ کر کے فرمایا: کیا تم اپنی نماز میں قرأت کرتے ہو جب امام قراءت کر رہا ہوتا ہے؟ پس وہ خاموش رہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سوال تین دفعہ کیا۔ ایک آدمی یا کئی لوگوں نے کہا: بے شک ہم ایسا کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پس ایسا نہ کرو اور تم میں سے ہر آدمی کو سورۂ فاتحہ اپنے دل میں (سراً) پڑھنی چاہیے۔
أَنَسٍ، ← أَبِي قِلَابَةَ، ← أَيُّوبَ، ← عُبَيْدِ اللَّهِ ← يَحْيَی بْنُ يُوسُفَ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،
Hadith 217
