جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 202
202 - حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ، قَالَ: وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ أَبِي حَازمٍ، عَنِ الْعَلاَءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَاقْرَأْ بِهَا وَاسْبُقْهُ، فَإِنَّهُ إِذَا قَالَ {وَلاَ الضَّالِّينَ} قَالَتِ الْمَلاَئِكَةُ: آمِينَ، فمَنْ وَافَقَ ذَلِكَ قَمْنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَهُمْ.
ہمیں محمود ( بن اسحاق) حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی، کہا: اور مجھے محمد بن عبیداللہ ( بن محمد بن زید بن ابی زيد القرشی الاموی ابوثابت) نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں (عبدالعزیز) بن ابی حازم نے حدیث بیان کی، وہ علاء (بن عبدالرحمٰن) سے، وہ اپنے (ابا عبدالرحمٰن بن یعقوب) سے، وہ ابوہریرہ ( رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں کہ جب امام سورۂ فاتحہ پڑھے تو تو اسے پڑھ اور امام سے پہلے ختم کر لے، پس بے شک وہ جب ولا الضالین کہتا ہے، فرشتے آمین کہتے ہیں، جس کی آمین اس سے مل گئی تو وہ اس کے زیادہ مستحق ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے۔
الْمَلاَئِكَةُ: آمِينَ، فمَنْ وَافَقَ ذَلِكَ قَمْنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَهُمْ. ← {وَلاَ الضَّالِّينَ} ← إِذَا قَرَأَ الإِمَامُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ فَاقْرَأْ بِهَا وَاسْبُقْهُ، فَإِنَّهُ إِذَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← أَبِيهِ ← الْعَلَاءِ ← ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، ← وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،
Hadith 202
