Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Thursday, Jumada I 5, 1448 AH · Oct 15, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics
جزء القراءة خلف الإمام للبخاري

Juzz Al Qurah Khlaf Imam Bukhari

by Imam Bukhari

306 Hadith10 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

Chapters

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 109

109 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ، قَالَ: ثَنَا عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، قَالَ: ثَنَا يُونُسُ، قَالَ: ثَنَا ابْنُ إِسْحَاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي الأَعْرَجُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: "لاَ يُجْزِيكَ إِلاَّ أَنْ تُدْرِكَ الإِمَامَ قَائِمًا قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ".

ہمیں محمود(بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں عبداللہ بن صالح (کاتب اللیث) نے حدیث بیان کی ، کہا: مجھے لیث (بن سعد) نے حدیث بیان کی کہا: مجھے جعفر بن ربیعہ نے حدیث بیان کی ، وہ عبد الرحمٰن بن ہرمز (الاعرج) سے بیان کرتے ہیں کہ ابوسعید (الخدری) رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سورۂ فاتحہ پڑھے بغیر تم میں سے کوئی بھی رکوع نہ کرے۔

"لاَ يُجْزِيكَ إِلاَّ أَنْ تُدْرِكَ الإِمَامَ قَائِمًا قَبْلَ أَنْ يَرْكَعَ". ← أَبَا هُرَيْرَةَ ← الْأَعْرَجِ ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← يُونُسَ ← عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 109

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 110

110 - حَدَّثَنَا مَحْمُودُ، ثَنَا الْبُخَارِيُّ، قَالَ: ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: "لاَ يَرْكَعْ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَقْرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ".

(امام) بخاری نے فرمایا کہ عائشہ ( رضی اللہ عنہا) اس طرح فرماتی تھیں اور علی بن عبداللہ (بن جعفر المدینی) نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے جو قراءت خلف الامام کی فرضیت کے قائل نہیں تھے انہوں نے رکوع کی رکعت کو جائز قرار دیا ہے۔ ان میں سے (عبدالله) بن مسعود، زید بن ثابت اور ابن عمر (رضی اللہ عنہم) ہیں لیکن جو قراءت کے قائل تھے (تو وہ اس رکعت کے قائل نہیں ہیں) بے شک ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے فارسی اپنے دل میں پڑھ اور فرمایا کہ امام کو حالتِ قیام میں پانے کے بغیر رکعت کو شمار نہ کر۔

أَبُو سَعِيدٍ: "لاَ يَرْكَعْ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَقْرَأَ بِأُمِّ الْقُرْآنِ". ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هُرْمُزَ، ← جَعْفَرِ بْنِ رَبِیعَۃَ، ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 110

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 111

111 - قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ ذَلِكَ.

الْبُخَارِيُّ: وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَقُولُ ذَلِكَ.

Hadith 111

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 112

112 - وَقَالَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: إِنَّمَا أَجَازَ إِدْرَاكَ الرُّكُوعِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ لَمْ يَرَوُا "الْقِرَاءَةَ [27/ب] خَلْفَ الإِمَامِ" مِنْهُمُ ابْنُ مَسْعُودٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَابْنُ عُمَرَ، فَأَمَّا مَنْ رَأَى الْقِرَاءَةَ، فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: اقْرَأْ بِهَا فِي نَفْسِكَ يَا فَارِسِيُّ وَقَالَ: لاَ يعْتَدَّ بِهَا حَتَّى يدْرِكَ الإِمَامَ قَائِمًا.

اور موسیٰ (بن اسماعیل ابوسلمہ) نے کہا: ہمیں ہمام ( بن یحییٰ) نے حدیث بیان کی ، وہ زیاد (بن حسان الباہلی) الاعلم سے ، وہ حسن (البصری) سے، وہ ابوبکرہ (تفیع رضی اللہ عنہ ) سے بیان کرتے ہیں کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (نماز میں) پہنچے اور آپ رکوع میں تھے تو انہوں نے صف میں ملنے سے پہلے (ہی) رکوع کر لیا۔ پس انہوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تیری حرص زیادہ کرے اور پھر ایسا نہ کرنا۔

ابْنُ عُمَرَ، فَأَمَّا مَنْ رَأَى الْقِرَاءَةَ، فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، ← زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ،

Hadith 112

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 113

113 - وَقَالَ مُوسَى: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنِ الأَعْلَمِ -وَهُوَ زِيَادٌ- عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَاكِعٌ فَرَكَعَ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى الصَّفِّ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "زَادَكَ اللَّهُ حِرْصًا وَلاَ تَعُدْ". قَالَ الْبُخَارِيُّ: فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَعُودَ لِمَا نَهَى النَّبِيُّ صلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ، وَلَيْسَ فِي جَوَابِهِ أَنَّهُ اعْتَدَّ بِالرُّكُوعِ دون الْقِيَامِ، وَالْقِيَامُ فَرْضٌ فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ، قَالَ اللَّهُ عز وجل {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} (البقرة) وَقَالَ {إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلاَةِ} (المائدة)،

بخاری نے کہا: کسی آدمی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ ایسا کام دوبارہ کرے جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کیا ہے اور آپ کے جواب میں یہ بات نہیں ہے کہ انہوں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ) نے قیام کے بغیر ہی رکوع کو شمار کر لیا تھا اور (حالانکہ) کتاب و سنت سے قیام کا فرض (ہونا ثابت) ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور اللہ کے لیے عاجزی سے کھڑے ہو جاؤ‘‘ اور (دوسری) جگہ فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔“

أَبِي بَكْرَةَ ← الْحَسَنِ، ← الأَعْلَمِ وَهُوَ زِيَادٌ، ← هَمَّامٌ، ← مُوسَى

Hadith 113

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 114

114 - وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَلِّ قَائِمًا فَإِنْ لَمْ تَسْتَطِعْ فَقَاعِدًا".

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کھڑے ہو کر نماز پڑھ، پس اگر تو اس کی طاقت نہ رکھے تو پھر بیٹھ کر پڑھ۔

Hadith 114

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 115

115 - وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، مُعَارِضًا لِها رَواه الأَعْرَجُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَلَيْسَ هَذَا مِمَّنْ يعتمد عَلَى حِفْظِهِ [28/أ] إِذَا خَالَفَ مَنْ لَيْسَ بِدُونِهِ، وَإن كَانَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مِمَّنْ يحتمل فِي بَعْضِ حديثه (1).

اور ابراہیم نے عبدالرحمٰن بن اسحاق (المدنی) سے، اس نے (سعید بن ابی سعيد) المقبري سے، اس نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے (عبدالرحمٰن بن ہرمز) الاعرج کی ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ( دیکھئے ۱۳۱ تا ۱۳۳) کے مخالف (قول) بیان کیا ہے اور یہ (عبدالرحمٰن مذکور) ایسا شخص نہیں ہے کہ اس کے حافظے پر اعتماد کیا جائے (بشرطیکہ) جب اس کی مخالفت کرنے والا اس سے کمتر نہ ہو اور (یہ) عبدالرحمٰن بعض ( روایتوں) میں قابلِ برداشت ہے۔

أَبِي هُرَيْرَةَ، مُعَارِضًا لِها رَواه الأَعْرَجُ، ← الْمَقْبُرِيِّ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ← إِبْرَاهِيمَ،

Hadith 115

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 116

116 - [وَ] قَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: سَأَلْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَلَمْ يُحْمَدْ. مَعَ أَنَّهُ لاَ يُعْرَفُ لَهُ بِالْمَدِينَةِ تِلْمِيذٌ، إِلاَّ (أَنَّ) مُوسَى الزَّمْعِيَّ، رَوَى عَنْهُ أَشْيَاءَ، فِي عِدَّةٍ مِنْهَا اضْطِرَابٌ؟. _حاشية_________ (1) في طبعة مكتبة الإمام البخاري: "فِي بَعْضِ حديثه ويخالف". والمثبت من طبعتي دار الصميعي، ومكتبة المنار.

اسماعیل بن ابراہیم (عرف ابن علیہ) نے کہا: میں نے مدینے والوں سے عبدالرحمٰن (بن اسحاق) کے بارے میں پوچھا تو اس کی تعریف نہ کی گئی۔ ساتھ اس کے کہ مدینے میں موسیٰ (بن یعقوب) الزمعی کے علاوہ اس کا کوئی شاگرد معروف نہیں ہے، اس نے اس سے (کئی) چیزیں بیان کی ہیں جن میں (کافی) اضطراب ہے اور عبدالرحمٰن (مذکور) نے محمد بن مسلم بن عبیداللہ الزہری سے، انہوں نے سالم (بن عبداللہ بن عمر) سے، انہوں نے اپنے ابا (عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے بیان کیا کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور اذان کا ارادہ کیا (راوی نے) لمبی حدیث بیان کی اور (حالانکہ) یہ روایت زہری کے بہت سے شاگردوں مثلًا یونس (بن یزید الایلی)، (محمد) بن اسحاق (بن یسار) نے (زہری) عن سعید عن عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی سند سے بیان کی ہے اور یہی صحیح ہے۔ اگرچہ یہ روایت مرسل ہے۔

إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ: سَأَلْتُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ ← و،

Hadith 116

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 117

117 - وَرَوَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، هَمَّه الأَذَانِ ... بِطُولِهِ. وَرَوَى هَذَا عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ مِنْهُمْ: يُونُسُ، وَابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَإِنْ كَانَ مُرْسَلاً.

عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ، وَهَذَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَإِنْ كَانَ مُرْسَلاً. ← سَعِيدٌ، ← ابْنِ إِسْحَاقَ، ← رَوَى هَذَا عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِ الزُّهْرِيِّ مِنْهُمْ: يُونُسُ، ← لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ الْمَدِينَةَ، هَمَّه الأَذَانِ بِطُولِهِ. ← أَبِيهِ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← وَرَوَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ،

Hadith 117

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 118

118 - قَالَ ابْنُ جَرِيجٍ: أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ يَتَحَيَّنُونَ الصَّلاَةَ، وقَالَ بَعْضُهُمُ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ بُوقًا، فَقَالَ عُمَرُ: أَوَلاَ تَبْعَثُونَ رَجُلاً يُنَادِي بِالصَّلاَةِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَةِ. وَهَذَا خِلاَفُ مَا ذَكَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.

اور (عبدالملک بن عبدالعزیز) بن جریج نے کہا: مجھے نافع (مولیٰ ابن عمر) نے حدیث بیان کی ، وہ (عبداللہ) بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ مسلمان جب مدینہ آئے تو اکٹھے ہو کر (وقت کے) اندازے سے نماز پڑھ لیتے تھے تو بعض (لوگوں) نے کہا: ناقوس (بجانا) مقرر کر لو۔ اور بعض نے کہا: سینگ بنا لو۔ پھر عمر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا: تم کوئی آدمی مقرر کیوں نہیں کر لیتے جو نماز کے لیے منادی کرے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بلال! اٹھ اور نماز کے لیے منادی کر (یعنی اذان دے)۔ عبدالرحمٰن (بن اسحاق) نے زہری عن سالم عن ابن عمر کی سند سے جو روایت بیان کی ہے۔ یہ ( درج بالا) روایت اس کے خلاف ہے اور عبدالرحمٰن (مذکور) نے (محمد بن مسلم بن عبیداللہ) الزہری عن سعيد عن ابی ہريرہ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے روایت کیا کہ جب تم اذان سنو تو اسی طرح کہو جس طرح مؤذن کہتا ہے اور یہ (حدیث) مالک (بن انس) معمر (بن راشبد) اور یونس (بن یزید الأیلی) وغیرہم سے مشہور و متواتر ہے وہ (سب) زہری عن عطاء بن یزید ( اللیثی) عن ابی سعید (الخدری)عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سند سے بیان کرتے ہیں۔

ابْنِ عُمَرَ ← سَالِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ← النَّبِيُّ يَا بِلاَلُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلاَةِ. وَهَذَا خِلاَفُ مَا ← عُمَرُ: أَوَلاَ تَبْعَثُونَ رَجُلاً يُنَادِي بِالصَّلاَةِ؟ ← بَعْضُهُمْ: بَلْ بُوقًا، ← بَعْضُهُمُ: اتَّخِذُوا نَاقُوسًا، ← ابْنِ عُمَرَ، كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ يَتَحَيَّنُونَ الصَّلاَةَ، ← نَافِعٍ ← ابْنُ جُرَيْجٍ،

Hadith 118

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 119

119،

Hadith 119

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ هَلْ يُقْرَأُ بِأَكْثَرَ مِنْ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ خَلْفَ الإِمَامِ · حديث 120

120 - وَرَوَى أَيْضًا [28/ب] عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ. وَهَذَا مُسْتَفِيضٌ عَنْ مَالِكٍ، وَيُونُسَ، وَمَعْمَرٍ، وَغَيْرِهِمْ

مَالِكٍ، وَيُونُسَ، وَمَعْمَرٍ، وَغَيْرِهِمْ ← وَهَذَا مُسْتَفِيضٌ ← النَّبِيِّ إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٌ، ← الزُّهْرِيِّ، ← وَرَوَى أَيْضًا [28/ب] عَبْدُ الرَّحْمَنِ،

Hadith 120

chevron_left Previous
1…101112…22
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter