Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in
جزء القراءة خلف الإمام للبخاري

Juzz Al Qurah Khlaf Imam Bukhari

by Imam Bukhari

306 Hadith10 Chapters
Read Book arrow_right_alt
IntroductionChaptersHadithsNarratorsAuto Biography

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

Chapters

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25.24

َرَوَى سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَوْلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قال: قَالَ لِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: اقْرَأْ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الإمام. - وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِثْلَهُ

اور سفیان بن حسین نے ( محمد بن مسلم بن عبیداللہ بن شہاب ) الزہری سے، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے غلام سے روایت کیا کہ مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ( الانصاری ) نے فرمایا: ظہر و عصر میں امام کے پیچھے پڑھ اور سفیان بن حسین نے روایت کیا کہ ( عبداللہ) ابن الزبیر ( رضی اللہ عنہما) نے اسی طرح کہا ہے۔

ابْنِ الزُّبَيْرِ مِثْلَهُ. ← لِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: اقْرَأْ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ خَلْفَ الإمام. ← مَوْلَى جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ← الزُّهْرِيِّ، ← َرَوَى سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ،

Hadith 25.24

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25.25

وَقَالَ لَنَا أَبُو نُعَيْمٍ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الْحَسْنَاءِ (2)، قال: ثَنَا أَبُو الْعَالِيَةِ، وسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ بِمَكَّةَ: أَقْرَأُ فِي الصَّلاَةِ؟ قَالَ: إِنِّي لأَسْتَحِي مِنْ رَبِّ هَذِهِ الْبنْيَةِ أَنْ أُصَلِّيَ صَلاَةً لاَ أَقْرَأُ فِيهَا وَلَوْ بِأُمِّ الْكِتَابِ

ہمیں ابونعیم (الفضل بن دکین الکوفی) نے بتایا کہ ہمیں حسن بن ابی الحسناء (ابوسہل البصرى القواس) نے حدیث بیان کی: ہمیں ابو العالیہ (البراء البصری) نے حدیث بیان کی، پس میں نے (عبدالله) بن عمر (رضی اللہ عنہما) سے مکہ میں پوچھا: کیا میں نماز میں قراءت کروں؟ انہوں نے فرمایا: میں اس گھر کے رب سے حیا کرتا ہوں کہ میں ایسی نماز پڑھوں جس میں قراءت نہ کروں اگرچہ (صرف ) سورۂ فاتحہ ہی کیوں نہ ہو۔

أَبُو الْعَالِيَةِ، وسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ بِمَكَّةَ: أَقْرَأُ فِي الصَّلاَةِ؟ ← الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسْنَاءِ ← لنا أبو نعيم

Hadith 25.25

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25.26

وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الرَّازِيُّ: أَنَا أَبُو جَعْفَرٍ، عَنْ يَحْيَى الْبَكَّاءِ، سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ عَنِ الْقِرَاءَةِ، خَلْفَ الإِمَامِ فَقَالَ: مَا كَانُوا يَرَوْنَ بَأْسًا أَنْ يَقْرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ فِي نَفْسِهِ

عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن سعد الرازی نے کہا: ہمیں ابوجعفر الرازی (عیسیٰ بن ماہان ) نے خبر دی ، وہ یحییٰ ( بن مسلم ) البکاء سے روایت کرتے ہی۔ ابن عمر ( رضی اللہ عنہما) سے قراءت خلف الامام کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: لوگ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ آدمی دل میں ( سراً ، خفیہ آواز سے) سورۂ فاتحہ پڑھے۔

الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ ← يَحْيَى الْبَكَّاءِ، سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ ← أبو جعفر ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ الرَّازِيُّ:

Hadith 25.26

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 32.1

- وَقَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ: إِذَا نَسِيَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ "لاَ يعتد بتِلْكَ الرَّكْعَةُ".

اور (اسماعیل بن ابراہیم عرف ) ابن علیہ نے لیث ( بن ابی سلیم) سے بیان کیا، وہ مجاہد ( بن جبر ) سے بیان کرتے ہیں : اگر کوئی شخص سورۂ فاتحہ بھول جائے تو وہ رکعت شمار نہ کرے۔

مُجَاهِدٍ: إِذَا نَسِيَ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ "لاَ يعتد بتِلْكَ الرَّكْعَةُ". ← لَيْثٌ، ← وَقَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ

Hadith 32.1

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 71.1

وَقَالَ مَالِكٌ: قَالَ رَبِيعَةُ، لِلزُّهْرِيِّ: إِذَا حَدَّثْتَ عن النبي - صلى الله عليه وسلم - فَبَيِّنْ كَلاَمَكَ مِنْ كَلاَمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ. وَسَلَّمَ

اور مالک (بن انس) نے کہا: ربیعہ(بن ابی عبدالرحمٰن) نے (محمد بن مسلم) الزہری کو کہا: جب آپ حدیث بیان کریں تو اپنے کلام کو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام سے (علیحدہ کر کے) بیان کیا کریں۔

النبي فَبَيِّنْ كَلاَمَكَ مِنْ كَلاَمِ النَّبِيِّ ← رَبِيعَةُ، لِلزُّهْرِيِّ: إِذَا ← وَقَالَ مَالِكٌ:

Hadith 71.1

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 133.1

وَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ، يَقُولُ: مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَمِيرُ الْمُحَدِّثِينَ لِحِفْظِهِ - وَرَوَى عَنْهُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ إِدْرِيسَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، وَابْنُ عُلَيَّةَ، وَعَبْدُ الْوَارِثِ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَكَذَلِكَ احْتَمَلَهُ أَحْمَدُ، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَعَامَّةُ أَهْلِ الْعِلْمِ.

اور عبید بن یعیش نے کہا: ہمیں یونس بن بکیر نے حدیث بیان کی ، کہا: میں نے(امام) شعبہ(بن الحجاج) کو فرماتے ہوئے سنا کہ محمد بن اسحاق (بن یسار) اپنے حافظے کی وجہ سے امیر المحدثین ہے۔ اس سے (سفیان بن سعيد) الثوری، (عبداللہ) بن ادریس، حماد بن زید، یزید بن زریع، (اسماعیل بن ابراہیم عرف) ابن علیہ، عبدالوارث (بن سعید) اور(عبداللہ) ابن المبارک (وغیرہم) نے روایت بیان کی ہے۔ اسے (امام) احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین اور عام اہلِ علم نے متحمل (یعنی حسن الحدیث ) قرار دیا ہے۔

شُعْبَةُ، ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← عُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ

Hadith 133.1

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 134.1

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ قال: ثَنَا الْبُخَارِيُّ، قَالَ: ثَنَا آدَمُ، قَالَ حَدَّثَنَا (1) ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، ثَنَا سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أُمُّ الْقُرْآنِ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ".

ہمیں محمود (بن اسحاق) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں بخاری نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں آدم (بن ابی ایاس) نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں(محمد بن عبدالرحمٰن) بن ابی ذئب نے حدیث بیان کی ، کہا: ہمیں سعید المقبری نے حدیث بیان کی ،وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۂ فاتحہ السبع المثانی اور قرآن عظیم ہے۔

"أُمُّ الْقُرْآنِ هِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ". ← النَّبِيِّ ← أَبِي هُرَيْرَةَ، ← سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، ← ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ← آدَمُ، ← الْبُخَارِيِّ ← مَحْمُودٌ،

Hadith 134.1

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 134.2

قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَالَّذِي زَادَ مَكْحُولٌ، وحرام بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَرَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ عُبَادَةَ، فَهُوَ تَبَعٌ لِمَا رَوَى الزُّهْرِيُّ، لِأَنَّ الزُّهْرِيَّ قَالَ: حَدَّثَنَي مَحْمُودٌ، أَنَّ عُبَادَةَ أخبره، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهَؤُلاَءِ: لَمْ يَذْكُرُوا أَنَّهُمْ سَمِعُوا مِنْ مَحْمُودٍ. فَإِنِ احْتَجَّ مُحْتَجٌّ، فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي تَكَلَّمَ أَنْ لاَ يُعْتَدَّ بإدراك الرُّكُوعِ بَعْدَ قِرَاءَةٍ، فَيَزْعُمُ أَنَّ هَؤُلاَءِ: لَيْسُوا مِنْ أَهْلِ النَّظَرِ؟. قِيلَ لَهُ: إِنَّ بَعْضَ [30/ب] مُدَّعِي الإِجْمَاعَ، جَعَلُوا اتِّفَاقَهُمْ مَعَ مَنْ زَعَمَ أَنَ الرَّضَاعَ إِلَى حَوْلَيْنِ وَنِصْفٍ، وَهَذَا خِلاَفُ نَصِّ كَلاَمِ اللَّهِ، قَالَ اللَّهُ: {حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ} (البقرة). وَيَزْعُمُ أَنَّ الْخِنْزِيرَ الْبَرِّيَّ لاَ بَأْسَ بِهِ. وَيَرَى السَّيْفَ عَلَى الأُمَّةِ. وَيَزْعُمُ أَنَّ أَمْرَ اللَّهِ مِنْ قَبْلُ، وَمِنْ بَعْدُ مَخْلُوقٌ، فَلاَ يَرَى الصَّلاَةَ دِينًا لله. فَجَعَلهم هَذَا، وَأَشْبَاهَهُ اتِّفَاقًا، وَالَّذِي يَعْتَمِدُ عَلَى قَوْلِ الرَّسُولِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ: "أَنْ لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ"

بخاری نے کہا اور مکحول (الشامی) حرام بن معاویہ اور رجاء بن حيوة عن محمود بن الربيع ( رضی اللہ عنہ) عن عباده ( بن الصامت رضی اللہ عنہ) کی سند سے جو الفاظ زیادہ بیان کئے ہیں وہ زہری کی روایت کے تابع ہیں۔ کیونکہ (محمد بن مسلم بن عبیداللہ) الزہری نے کہا: ہمیں محمود (بن ربیع رضی اللہ عنہ ) نے حدیث بیان کی کہ بے شک عبادہ رضی اللہ عنہ نے انہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی اور انہوں ( مکحول، حرام اور رجاء) نے محمود (بن ربیع رضی اللہ عنہ) سے سننے کا ذکر نہیں کیا۔ اگر کوئی حجت باز یہ حجت پکڑے کہ جس نے یہ کلام کیا ہے کہ قراءت کے بغیر رکوع (والی رکعت) کا اعتبار نہیں ہے، تو اس کے زعم میں یہ (کلام کرنے والا) اہل نظر میں سے نہیں ہے۔ اسے کہا جاتا ہے کہ بعض مدعین اجماع نے اپنا اتفاق اس شخص کے ساتھ بنا رکھا ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ (مطلقہ پر بچے کو) دودھ پلانے کی مدت اڑھائی سال ہے۔ حالانکہ یہ بات اللہ کے کلام کے (سراسر) بر خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جو شخص رضاعت پوری کرانا چاہتا ہو تو (اس کی مطلقہ بیوی) دو سال دودھ پلائے اور یہ شخص خنزیر کو حلال سمجھتا ہے اور مسلمانوں کے قتلِ عام کے جواز کا قائل ہے اور یہ دعویٰ رکھتا ہے کہ اللہ کا حکم (امر) پہلے اور بعد میں (سب) مخلوق ہے۔ یہ شخص نماز کو دین نہیں سمجھتا۔... تم لوگوں نے اس اور اس جیسے لوگوں کی بات کو اتفاق بنا دیا ہے اور قابل اعتماد تو قولِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ سورۂ فاتحہ کے بغیر نما زنہیں ہوتی۔

مَحْمُودٌ، ← عُبَادَةَ، فَهُوَ تَبَعٌ لِمَا رَوَى الزُّهْرِيُّ، لِأَنَّ الزُّهْرِيَّ ← مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ، ← رَجَاءِ بْنِ حَيْوَةَ، ← حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ ← الْبُخَارِيُّ: وَالَّذِي زَادَ مَكْحُولٌ،

Hadith 134.2

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 134.3

وَمَا فَسَّرَ أَبُو هُرَيْرَةَ، وَأَبُو سَعِيدٍ: "لاَ يَرْكَعَ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَقْرَأَ بفَاتِحَةَ الْكِتَابِ". - وَأَهْلُ الصَّلاَةِ مُجْتَمِعُونَ فِي بِلاَدِ الإِسْلاَمِ، فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ عَلَى قِرَاءَةِ أُمِّ الْكِتَابِ، وَقَالَ اللَّهُ: {فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ}. فَهَؤُلاَءِ أَوْلَى بالاتفاق، مِمَّنْ أَبَاحُوا أَعْرَاضَكُمْ وَالأَنْفُسَ، وَالأَمْوَالَ وَغَيْرَهَا، فَلْيُنْصِفِ الْمُسْتَحْسِنُ الْمُدَّعِي للعِلْمَ خُرَافَةً إِذْ يُسويهم فِي إِجْمَاعِهِ بِانْفِرَادِهِمْ، وينفي الْمُشْتَهِرِينَ بِالذب عَنِ الْعُلُومِ بِاسْتِقْبَاحِهِ (1). وَقِيلَ له: أنَّهُ يُكَبِّرُ [31/أ] إِذَا جَاءَ إِلَى الإِمَامِ وَهُوَ يَقْرَأُ وَلاَ يَلْتَفِتُ إِلَى قِرَاءَةِ الإِمَامِ لِأَنَّهُ فَرْضٌ فَكَذَلِكَ فَرْضُ الْقِرَاءَةِ لاَ يدع بِحَالٍ الإِمَامِ. فإِنْ نَسِيَ صَلاَةَ الْعَصْرِ أَوْ غَيْرَهَا حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى، وَالإِمَامُ فِي قِرَاءَةِ الْمَغْرِبِ وَلَمْ يَسْتمعْ إِلَى قِرَاءَةِ الإِمَامِ فَقَدْ تَمَّتْ صَلاَتُهُ

ابوہریرہ اور ابوسعید (الخدری رضی اللہ عنہما) نے جو تفسیر بیان کی ہے کہ فاتحہ پڑھے بغیر کسی کو بھی رکوع نہیں کرنا چاہیے اور مسلم ممالک میں (تمام) نماز پڑھنے والے، دن ہو یا رات سورۂ فاتحہ (نماز میں) پڑھنے پر متفق ہیں اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: پس اس (قرآن) میں سے جو میسر ہو پڑھو۔ تو یہ اثبات کے پڑھو۔ تو یہ اثبات کے زیادہ مستحق ہیں، ان کے بجائے جنہوں نے تمہاری عزتیں، جانیں اور اموال وغیرہ مباح قرار دے رکھے ہیں۔ پس انصاف کیجئے کہ جو مدعی علم (ان) خرافات کو اچھا سمجھتا ہے اور اپنی انفرادیت والے اجماع میں انہیں بھلا دیا ہے اور جو برے علوم کی وجہ سے گناہ میں مشہور ہے (کیا یہ اہل حق کے برابر ہو سکتا ہے) اور کہا جاتا ہے کہ جب وہ (نماز کے لیے) آتا ہے اور امام (جہری) قراءت کر رہا ہوتا ہے تو وہ تکبیر (اللہ اکبر) کہتا ہے اور امام کی قراءت کی طرف التفات نہیں کرتا، کیونکہ یہ (تکبیر) فرض ہے تو اسی طرح قراءت (فاتحہ) فرض ہے۔ وہ امام کے حال کا تابع نہیں ہوگا اور اگر وہ عصر وغیرہ کی نماز بھول جائے اور سورج غروب ہو چکا ہو، پھر (یاد آنے پر) وہ نماز پڑھے اور امام مغرب کی قراءت کر رہا ہو تو اس کی نماز (عصر) پوری ہو جائے گی (اگرچہ) وہ امام کی قراءت (بغور) سن نہیں رہا تھا۔

أَبُو سَعِيدٍ: "لاَ يَرْكَعَ أَحَدُكُمْ حَتَّى يَقْرَأَ بفَاتِحَةَ الْكِتَابِ". ← وَمَا فَسَّرَ أَبُو هُرَيْرَةَ،

Hadith 134.3

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 134.4

، لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ نَسِيَ صَلاَةً أَوْ نَامَ عَنْهَا، فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَ [هَا]

اس کی دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث ہے کہ جو شخص نماز بھول جائے یا سو یا رہ جائے تو جب اسے یاد آئے وہ یہ نماز پڑھ لے۔

هَا ← لِقَوْلِ النَّبِيِّ "مَنْ نَسِيَ صَلاَةً أَوْ نَامَ عَنْهَا، فَلْيُصَلِّ إِذَا

Hadith 134.4

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 134.5

وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لاَ صَلاَةَ إِلاَّ بِقِرَاءَةٍ"، فَأَوْجَبَ الأَمْرَيْنِ فِي كِلَيْهِمَا لاَ يَدَعُ الْفَرْضُ لحَالِ الِاسْتِمَاعِ.

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قراءت کے بغیر (کوئی) نماز نہیں ہوتی۔ تو (اللہ نے) دونوں کام فرض کئے ہیں۔ لہٰذا حالتِ استماع میں ان دونوں کاموں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

Hadith 134.5

جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 134.6

فَإِنِ احْتَجَّ فَقَالَ: قَالَ اللَّهُ عز وجل: {فَاسْتَمِعُوا لَهُ} (الأعراف). فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَقْرَأَ خَلْفَ الإِمَامِ وَنَفَى سَكَتَاتِ الإِمَامِ. قِيلَ لَهُ: ذُكِرَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَنَّ هَذَا فِي الصَّلاَةِ وإِذَا خَطَبَ الإِمَامُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ.

اگر کوئی شخص (یہ) حجت پکڑے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: پس کان لگا کر اسے سنو۔ لہٰذا کسی آدمی کو امام کے پیچھے نہیں پڑھنا چاہیے اور سکتاتِ امام کی نفی کرے تو اسے کہا جا تا ہے کہ ابن عباس ( رضی اللہ عنہما) اور سعید بن جبیر سے مذکور ہے کہ یہ (آیت) نماز کے بارے میں ہے (اور) جب امام جمعہ کے دن خطبہ دے۔

فَإِنِ احْتَجَّ

Hadith 134.6

chevron_left Previous
12345
Next chevron_right
All Chapters
0. Book
    0. Chapter
1. Book
    1. Chapter2. Chapter3. Chapter4. Chapter5. Chapter6. Chapter7. Chapter