جزء القراءة خلف الإمام للبخاري · کتاب ‹ بَابُ وُجُوبِ الْقِرَاءَةِ لِلإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ · حديث 25
قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَرَوَى الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ جَابِرٍ (1)، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جابر، عن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلاَ يُدرى (2) أَسَمِعَ جَابِرٌ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ؟ وَذُكِرَ عَنْ عُبَادَة بْنِ الصَّامِتِ، وَعَبْد اللَّه بْنِ عَمْرو (3): صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاَةَ الْفَجْرِ فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ فَقَالَ: "لاَ يَقْرَأْنَّ أَحَدُكُمْ وَالإِمَامُ يَقْرَأُ إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ". فَلَوْ ثَبُتَ الْخَبَرَ أن كِلاَهُمَا لَكَانَ هَذَا مُسْتَثْنًى مِنَ الأَوَّلِ لِقَوْلِهِ: "لاَ يَقْرَأَنَّ أحدكم إِلاَّ بِأُمِّ القرآن". وَقَوْلِهِ: "مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ" جُمْلَةٌ. وَقَوْلِهِ: "إِلاَّ بِأُمِّ الْقُرْآنِ" مُسْتَثْنًى مِنَ الْجُمْلَةِ كَقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "جُعِلَتْ لِي الأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا". ثُمَّ قَالَ فِي أَحَادِيثَ أُخر: "إِلاَّ الْمَقْبَرَةَ"، وَمَا اسْتِثْنَاهُ مِنَ "الأَرْضِ"، وَالْمُسْتَثْنَى خَارِجٌ مِنَ الْجُمْلَةِ، وَكَذَلِكَ "فَاتِحَةُ الْكِتَابِ" خَارِجٌ مِنْ قَوْلِهِ: [9/أ] "مَنْ كَانَ لَهُ إِمَامٌ فَقِرَاءَةُ الإِمَامِ لَهُ قِرَاءَةٌ" مَعَ انْقِطَاعِهِ. وَقِيلَ لَهُ: اتَّفَقَ أَهْلُ الْعِلْمِ وَأَنْتَمُ أَنَّهُ لاَ يَحْتَمِلُ الإِمَامُ فَرْضًا عَنِ الْقَوْمِ ثُمَّ قُلْتُمُ: الْقِرَاءَةُ فَرِيضَةٌ وَيُحْتَمَلُ الإِمَامُ هَذَا الْفَرْضَ عَنِ الْقَوْمِ فِيمَا جَهَرَ الإِمَامُ أَوْ لَمْ يَجْهَرْ، وَلاَ يَحْتَمِلُ الإِمَامُ شَيْئًا مِنَ السُّنَنِ نَحْوَ الثَّنَاءِ وَالتَّسْبِيحِ والتحية (1) فَجَعَلْتُمُ الْفَرْضَ أَهْوَنَ مِنَ التَّطَوُّعِ؟، وَالْقِيَاسُ عِنْدَكَ أَنْ لاَ يُقَاسَ الْفَرْضُ بِالتَّطَوُّعِ، وَأَن لا يُجْعَلَ الْفَرْضُ أَهْوَنَ مِنَ التَّطَوُّعِ، وَأَنْ يُقَاسَ الْفَرْضُ أَوِ الْفَرَعُ بِالْفَرْضِ إِذَا كَانَ مِنْ نَحْوِهِ، فَلَوْ قِسْتَ الْقِرَاءَةَ بِالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالتَّشَهُّدِ إِذَا كَانَتْ هَذِهِ كُلُّهَا فَرْض، ثُمَّ اخْتَلَفُوا فِي فَرْضٍ مِنْهَا كَانَ أَوْلَى عِنْدَ مَنْ يَرَى الْقِيَاسَ أَنْ يَقِيسُوا الْفَرْضَ أَوْ الْفَرْعَ بِالْفَرْضِ.
اور امام بخاری نے کہا: اور حسن بن صالح نے جابر ( بن یزید الجعفی ) سے ، اس نے ابوالزبیر ( محمد بن مسلم بن تدرس المکی) سے، اس نے جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے( یہ روایت مـن كـان لـه إمـام الخ) بیان کی ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ یہ روایت جابر (الجعفی) نے ابوالزبیر ( المکی ) سے سنی ہے یا نہیں۔ عبادہ بن الصامت اور عبداللہ بن عمرو ( رضی اللہ عنہما) سے مذکور ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی تو ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے قراءت کی ، پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب امام پڑھ رہا ہو تو تم میں سے کوئی بھی قراءت نہ کرے سوائے سورۂ فاتحہ کے۔ اگر (یہ) دونوں حدیثیں من كان له إمام اور الابـأم القـرآن ثابت ہیں تو ’’کوئی بھی قراءت نہ کرے سوائے سورۂ فاتحہ کے‘‘ کی وجہ سے مستثنیٰ ہو جائے گی۔ حدیث ’’جس کا امام ہو تو امام کی قراءت اس کی قراءت ہے‘‘ مجمل ہے اور حدیث ’’إلابام القرآن‘‘ اس مجمل سے مستثنیٰ ہے۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے: میرے لیے (ساری) زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے۔ پھر دوسری احادیث میں ”سوائے مقبرہ (قبرستان) کے‘‘ اور دوسری استثنائی حالتیں ہیں۔ جس کا استثناء کر دیا جائے وہ مجمل (اور عموم) سے خارج ہوتا ہے۔ اس طرح سورۂ فاتحہ (بھی) حدیث ’’مـن كـان لـه إمـام فقراءة الإمام له قراءة‘‘(کے عموم) سے خارج ہے۔ باوجود اس کے کہ یہ روایت منقطع (وضعیف) ہے۔ اسے کہا جاتا ہے کہ (اہل حق کے) علماء کا اور تمہارا اس پر اتفاق ہے کہ امام جہر کرے یا نہ کرے وہ لوگوں پر فرض کو (خود) اٹھا نہیں لیتا اور نہ سنتوں میں سے مثلًا ثنا ،تسبیح و تحمید میں سے کسی کا حامل ہوسکتا ہے ۔ تم نے فرض کو نفل سے ( بھی ) کم بتا دیا ہے۔ تیرے نزدیک قیاس یہ ہے کہ فرض کو نفل سے نہ ناپا جائے اور یہ کہ فرض کو نفل سے کم نہ قرار دیا جائے۔ فرض یا اس کی قسم کو اسی جیسی قسم کے ساتھ قیاس کیا جائے۔ اگر تو قراءت کا قیاس رکوع ، سجود اور تشہد سے کرتا کیونکہ یہ سب فرض ہیں (تو کتنا ہی اچھا ہوتا ) ۔ پھر ان میں سے کسی فرض کے بارے میں اختلاف ہو جاتا یہ اس سے بہتر تھا کہ قیاس ماننے والے فرض یا فرض کی قسم کا قیاس ،فرض یا اس کی قسم سے کرتے۔
عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، صَلَّى النَّبِيُّ صَلَاةَ الْفَجْرِ فَقَرَأَ رَجُلٌ خَلْفَهُ ← عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ← جَابِرٍ ← أَبِي الزُّبَيْرِ ← جَابِرٍ ← الْبُخَارِيُّ: وَرَوَى الْحَسَنُ بْنُ صَالِحٍ،
Hadith 25
