Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الكفر

Kufr

  • Kufr
  • کفر

3011 hadiths

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ باب 2 · حديث 1527

1526 - حدثنا عبيد بن غنام ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ( ح ) وثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا عثمان بن أبي شيبة قالا ثنا يزيد ابن هارون أنا سفيان بن حسين عن الزهري عن محمد بن جبير بن مطعم عن أبيه Y قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( إن لي أسماء أنا محمد وأنا أحمد وأنا الماحي يمحو الله بي الكفر و الحاشر يحشر الناس على قدمي والعاقب ) فسألت سفيان : ما العاقب ؟ قال : آخر الأنبياء

حضرت محمد بن جیر بن مطعم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :میرے نام یہ ہیں :میرا نام احمد (بہت زیادہ تعریف کرنے والا )اور محمد (جس کی تعریف کی جائے )اور ماحی میرے ذریعے کفر ختم کیا اور حاشر (وہ ہوتا ہے کہ لوگ سارے قیامت کے دن میرے قدموں کے پاس اکھٹے ہوں گے)اور میں عاقب ہوں،میں نے سوال کیا :عاقب کا معنی کیا ہے؟انہوں نے فرمایا :آخری نبی ! میر ے بعد کوئی نبی نہیں ۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ← يَزِيدُ ابْن هَارُونَ ← عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ← وثنا الحسين بن إسحاق التستري ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1527

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ باب 2 · حديث 1530

1529 - حدثنا الحسن بن أحمد بن الطيب الصنعاني ثنا محمد بن عبد الرحيم بن شروس ثنا مالك بن أنس عن ابن شهاب عن محمد بن جبير بن مطعم عن أبيه Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( إن لي خمسة أسماء أنا محمد وأنا أحمد وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر و أنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي وأنا العاقب )

حضرت محمد بن جیر بن مطعم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :میرےپانچ نام یہ ہیں :میرا نام احمد (بہت زیادہ تعریف کرنے والا )اور محمد (جس کی تعریف کی جائے )اور ماحی( میرے ذریعے کفر ختم کیا )اور حاشر (وہ ہوتا ہے کہ لوگ سارے قیامت کے دن میرے قدموں کے پاس اکھٹے ہوں گے)اور میں عاقب ہوں۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← مالک بن أنس ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ شَرُوسٍ ← الحسن بن أحمد بن الطيب الصنعاني

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1530

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ باب 2 · حديث 1533

1532 - حدثنا أحمد بن محمد بن نافع المصري الطحان ثنا أحمد بن صالح Y قال وجدت في كتاب بالمدينة عن عبد العزيز بن محمد الدراوردي و إبراهيم بن محمد بن عبد العزيز بن عمر بن عبد الرحمن بن عوف عن محمد ابن صالح التمار عن ابن شهاب عن محمد بن جبير بن مطعم عن أبيه قال : قال أبو جهل بن هشام حين قدم مكة منصرفه عن حمزة : يا معشر قريش إن محمدا قد نزل يثرب وأرسل طلائعه وإنما يريد أن يصيب منكم شيئا فاحذروا أن تمروا طريقه وأن تقاربوه فإنه كالأسد الضاري إنه حنق عليكم نفيتموه نفي القردان على المناسم والله إن له لسحرة ما رأيته قط ولا أحد من أصحابه إلا رأيت معهم الشياطين وإنكم قد عرفتم عداوة ابني قيلة فهو عدو استعان بعدو فقال له مطعم بن عدي : يا أبا الحكم والله ما رأيت أحدا أصدق لسانا ولا أصدق موعدا من أخيكم الذي طردتم فإذا فعلتم الذي فعلتم فكونوا أكف الناس عنه فقال أبو سفيان بن الحارث : كونوا أشد ما كنتم عليه فإن ابني قيلة إن ظفروا بكم لم يرقبوا فيكم إلا ولا ذمة وإن أطعتموني ألحمتموهم خبر كنانة أو يخرجوا محمدا صلى الله عليه و سلم من بين أظهرهم فيكون وحيدا مطرودا وأما ابنا قيلة فوالله ما هما وأهل دهلك في المذلة إلا سواء وسأكفيكم حدهم وقال : ( سأمنح جانبا مني غليظا ... على ما كان من قرب وبعد ) ( رجال الخزرجية أهل ذل ... إذا ما كان هزل بعد جد ) فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : ( والذي نفسي بيده لأقتلنهم ولأصلبنهم ولأهدينهم وهم كارهون إني رحمة بعثني الله عز وجحل ولا يتوفاني حتى يظهر الله دينه لي خمسة أسماء أنا محمد وأحمد وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر وأنا الحاشر يحشر الناس على يدي وأنا العاقب ) قال أحمد بن صالح أرجو أن يكون الحديث صحيحا

حضرت محمد بن مطعم بن جبیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ،وہ فرماتے ہیں :ابو جہل بن ہشام جب حمزہ سے ہٹ کر مکہ آیا تو اس نے کہا :اے قریشیو!بے شک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یثرب سے اتر چکے ہیں ،اس نے اپنی خبریں بھیجی ہیں ،بس وہ چاہتا ہے کہ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے ،اس طرف سے گزرنا چھوڑ دو حتی کہ اس کے قریب تک نہ جاؤ ،کیونکہ وہ شکار کرنے والے شیر کی مانند ہے ،وہ تمھارے گلے گھونٹ دے گا،تم اس سے اس طرح دور رہو ،جس طرح بندر راستوں سے دور ہوتے ہیں ،قسم بخدا !اس کے پاس بہت بڑا جادو ہے ،میں نے اسے کھبی نہیں دیکھا اور نہ ا س کے صحابہ کو دیکھا ہے،مگر ان کے ساتھ شیطان ہوتے ہیں اور یقیناً قیلہ کے بیٹوں کی دشمنی کو تم نے پہچان لیا ہے ،پس وہ دشمن ہے اور دشمن سے مدد مانگی ہے ۔تو حضرت مطعم بن عدی نے اسے دو بدو مخاطب کرکے کہا :اے ابو الحکم ! قسم بخدا ! میں نے تمھارے بھائی سے زیادہ سچی زبان والا او رسچے وعدے والا کوئی نہیں دیکھا ،جس کو تم نے اپنے سے دور کردیا ہے،پس اس سے پہلے تم نے جو کیا ،پس اب تم لوگوں کو اسے تکلیف دینے سے روکنے والے بن جاؤ ،تو ابو سفیان بن حارث نے کہا (بلکہ )پہلے سے زیاد ہ ان پر سخت ہو جاؤ ،کیونکہ قیلہ کے بیٹے اگر ان پر کامیاب ہوگئے تو وہ تمھارے اندر کسی عہد و پیمان کو نہیں دیکھیں گے ،اگر تم نے مجھے فرمانبرداری کا ثبوت دیا ،یعنی میری بات مانی تو تم ان کو کنانہ کی خبر دو گے ،پس وہ اکیلے ہوں گے،ہر طرف سے نکال دیے گئے ہوں گے ،پس جہاں تک قیلہ کے دونوں بیٹوں کی بات ہے توقسم بخدا ! وہ دونوں اور دھلک والے،ذلت میں برابر ہیں ۔میں ان کی بات بتاتا ہوں ،تمہیں کافی ہو جائے گی ۔اور کہا (بحرو افر)"عنقریب میں دور و نزدیک سے اسے سختی کروں گا ،قبیلہ خزرج کے لوگ بھی ذلیل ہیں ،کبھی سنجیدہ ہوتے ہیں ،کبھی مذاق کرتے ہیں"۔پس یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس کی قسم ! میں ضرور اسے قتل کروں گا ،انہیں سولی دوں گا اور انہیں ہدایت دوں گا اس حال میں کہ وہ ناپسند کرنے والے ہوں گے ،بے شک میں اللہ کی رحمت ہوں ،مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے ،وہ مجھے اس وقت تک موت نہیں دے گا جب تک اس کا دین غالب نہ ہو جائے ۔میرے پانچ نام ہیں :میں محمد اور احمد ہوں ،میں ماحی ہوں یعنی وہ جس کے ذریعے اللہ کفر کو مٹائے گا ،میں حاشر ہوں ،میرے دونوں ہاتھو ں پر لوگوں کا حشر ہو گا ،میں عاقب ہوں ،حضرت احمد بن صالح نے فرمایا :مجھے امید ہے کہ یہ حدیث صحیح ہو گی۔

أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَافِعٍ الْمِصْرِيُّ الطَّحَّانُ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1533

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ ومن غرائب حديث جابر بن عبد الله رضي الله عنه · حديث 1751

1750 - حدثنا خير بن عرفة المصري ثنا عروة بن مروان الرقي ثنا عبيد الله بن عمرو عن عبد الله بن محمد بن عقيل عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه Y قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أنا أحمد وأنا محمد وأنا الحاشر الذي أحشر الناس على قدمي وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر فإذا كان يوم القيامة لواء الحمد معي وكنت إمام المرسلين وصاحب شفاعتهم )

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرا نام احمد اور محمد اور حاشر ہے ،حاشر وہ ہے جس کے قدموں پر تمام لوگوں کو اکھٹا کیا جائے گا،میرا نام ماحی ہے ،ماحی نام اس وجہ سے ہےکہ میرے ذریعے کفر ختم کیا جائے گا،جب قیامت کادن ہو گا تو حمد کا جھنڈا میرے پاس ہو گا ،میں رسولوں کا امام اور ان کی شفاعت کا مالک ہوں گے۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، ← عروة بن مروان الرقي، ← خَيْرُ بْنُ عَرَفَةَ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1751

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 11 · حديث 8957

8940 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى ثنا المسعودي عن القاسم عن عبد الله و الحسن بن سعد عن عبد الرحمن بن عبد الله قال Y قيل لعبد الله : إن الله عز و جل يكثر ذكر الصلاة { الذين هم على صلاتهم يحافظون } و { الذين هم على صلاتهم دائمون } فقال عبد الله : ذلك لمواقيتها قلنا : ما كنا نراه إلا تركها قال : فإن تركها الكفر

حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس نے نماز نہیں پڑھی ‘ اس کا کوئی دین نہیں ہے ۔

فإن تركها الكفر ← عبد الله ذلك لمواقيتها قلنا ما كنا نراه إلا تركها ← الصلاة الذين هم على صلاتهم يحافظون و الذين هم على صلاتهم دائمون ← قيل لعبد الله إن الله عز و جل يكثر ← عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ← عبد الله و الحسن بن سعد ← الْقَاسِمِ، ← الْمَسْعُودِيِّ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 8957

المعجم الکبیر للطبرانی · باب القاف ‹ قتادة أبو هاشم الرهاوي · حديث 15689

20 - حدثنا محمد بن النضر الازدي ثنا أحمد بن عبد الملك بن واقد الحراني ثنا قتادة بن الفضل بن قتادة الرهاوي عن أبيه حدثني عم أبي هاشم بن قتادة الرهاوي عن أبيه قال Y أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأسلمت فقال لي : ( يا قتادة اغتسل بماء وسدر واحلق عنك شعر الكفر وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يأمر من أسلم أن يختتن وكان ابن ثمانين سنة

حضرت ابو ہاشم بن قتادہ الرہاوی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کے پا س آیا میں نے آپ کو سلام کیا آپ نےمجھے فرمایا: اے قتادہ ! بیری کے پتوں مین اُبلے ہوئے پانی سے غسل کر اور کندھے والے بال کٹوا اور حضور ﷺ کی عادت تھی کہ جو مسلمان ہوتا آپ اس کو ختنے کرنے کا حکم دیتے اس وقت ان کی عمر اسی سال تھی ۔

أتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأسلمت ← أَبِيهِ ← عم أبي هاشم بن قتادة الرهاوي ← أَبِيهِ ← قتادة بن الفضل بن قتادة الرهاوي ← أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ وَاقِدٍ الْحَرَّانِيُّ ← مُحَمَّدُ بْنُ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15689

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الكاف ‹ ابن كعب بن مالك عن أبيه الزهري عن ابن كعب · حديث 15764

95 - حدثنا عبيد بن غنام الكوفي ثنا أبو بكر بن أبي شيبة ثنا خالد بن مخلد حدثني عبد الرحمن بن عبد العزيز الانصاري حدثني ابن شهاب حدثني عبد الرحمن بن عبد الله بن كعب بن مالك [ عن عبد الله بن كعب ] عن أبيه كعب قال Y إن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما هم ببني الاصفر يغزوهم جلى للناس أمرهم وكان قلما أراد غزوة الا ورى بغيرها عنها حتى كانت تلك الغزوة فاستقبل حرا شديدا وسفرا بعيدا وعدوا جديدا فكشف للناس الوجه الذي خرج بهم إليهم ليتأهبوا في ذلك أهبة عدوهم فتجهز رسول الله صلى الله عليه و سلم وتجهز الناس معه وطفقت أعدو لا تجهز فأرجع ولم أقض شيئا حتى فزع الناس وقيل أن رسول الله صلى الله عليه و سلم غاد وخارج إلى وجهه فقلت أتجهز بعده بيوم أو يومين ثم أدركهم وعندي راحلتان وما اجتمعت عندي راحلتان قط قبلهما فانا قادر في نفسي قوي بعدتي فما زلت أغدو بعده فأرجع ولم أقض شيئا حتى أمعن القوم وأسرعوا وطفقت أغدو للحديث ويشغلني الرجال فأجمعت القعود حتى سبقني القوم وطفقت أغدو فلا أرى الا رجلا ممن عذر الله جل اسمه أو رجل مغموص في النفاق ويحزنني ذلك فطفقت أعد العذر لرسول الله صلى الله عليه و سلم إذا جاء وأهيء الكلام وقدر لرسول الله صلى الله عليه و سلم أن لا يذكرني حتى نزل تبوكا فقال للناس وهو جالس بتبوك : ( ما فعل كعب بن مالك ؟ ) فقام إليه رجل من قومي فقال : شغله برداه والنظر في عطفيه فتكلم رجل آخر فقال : والله يا رسول الله إن علمنا الا خيرا فصمت رسول الله صلى الله عليه و سلم : فلما قيل أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قدم زاح عني الباطل وما كنت أجمع من الكذب والعذر وعرفت أنه لن ينجيني منه إلا الصدق فأجمعت صدقه وصبح رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة فقدم فغدوت إليه فإذا هو في الناس جالس في المسجد وكان قلما نظر إلي دعاني فقال : ( هلم يا كعب ما خلفك عني ؟ ) وتبسم تبسم المغضب قلت يا رسول الله لا عذر لي ما كنت قط أقوى ولا أيسر مني حين تخلفت عنك وقد جاء المخلفون يخلفون فيقبل منهم ويستغفر لهم ويكل سرائرهم في ذلك إلى الله عز و جل فلما صدقه قال : ( أما هذا فقد صدق فقم حتى يقضي الله فيك ما هو قاض ) فقمت فقام إلي رجل من بني سلمة فقال : والله ما صنعت شيئا إن كان لكافيك من ذنبك الذي أذنبت استغفار رسول الله صلى الله عليه و سلم لك كما صنع ذلك بغيرك فقد قبل منهم عذرهم واستغفر لهم فما زالوا يلومونني حتى تمنيت أن أرجع فأكذب نفسي ثم قلت لهم هل قال هذه المقالة أحد واعتذر بمثل ما اعتذرت به أحد ؟ قالوا نعم قلت من ؟ قالوا هلال بن أمية الواقفي و ربيعة بن مرارة العمري فذكروا لي رجلين صالحين قد شهدا بدرا قد اعتذرا بمثل الذي اعتذرت وقيل لهما مثل الذي قيل لك ونهى رسول الله صلى الله عليه و سلم عن كلامنا فطفقنا نغدو في الناس ولا يكلمنا أحد كلمة ولا يسلم علينا ولا يرد علينا سلامنا حتى إذا دنت أربعون ليلة جاءنا رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أن اعتزلوا نساءكم ) فأما هلال بن أمية فجاءت امرأته إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : ( إنه شيخ ضعيف بصره فهل تكره أن أصنع له طعاما ؟ قال : ( لا ولكن لا يقربنك ) قالت : والله ما به من حركة إلى شيء والله ما زال يبكي إذ كان من أمره ما كان إلى يومه هذا قال : فقال لي أهلي : لو استأذنت رسول الله صلى الله عليه و سلم كما استأذنت امرأة هلال بن أمية أن تخدمه قال : فقلت والله ما استأذنه فيها وما أدري ما يقول رسول الله صلى الله عليه و سلم أن استأذنته وهو شيخ كبير وأنا شاب فقلت لامرأتي : الحقي بأهلك حتى يقضي الله ما هو قاض وطفقنا نمشي في الناس ولا يكلمنا أحد ولا يرد علينا سلام فأقبلت حتى تسورت جدارا لابن عمي في حائطه فسلمت عليه فما حرك شفتيه يرد علي السلام فقلت أنشدك بالله أتعلم أني أحب الله ورسوله ؟ فما كلمني كلمة ثم عدت فلم يكلمني ثم عدت فلم يكلمني حتى إذا كلمت الرابعة أو الثالثة قال : الله ورسوله أعلم فرجعت وأني لا مشي في السوق وإذا الناس يشيرون إلي بأيديهم فإذا نبطي من نبط الشام يسأل عني فجعلوا يشيرون له الي حتى جاءني فدفع إلي كتابا من بعض قومي بالشام : قد بلغنا ما صنع بك صاحبك وجفوته عنك فالحق بنا وان الله عز و جل لم يجعلك بدار هوان ولا دار مضيعة نواسيك في أموالنا قال : قلت أنا لله في طمع في أهل الكفر فتيممت له تنورا فسجرته لها فو الله أنا لعلى تلك الحال التي ذكر الله تعالى قد ضاقت علينا الارض بما رحبت وضاقت علينا أنفسنا صباحية ليلة منذ نهي عن كلامنا أنزلت التوبة على رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم آذن رسول الله صلى الله عليه و سلم علينا حين صلى الفجر فذهب الناس يبشرونا وركض رجل إلى فرس أو سعى ساع من أسلم فأوفى على الجبل وكان الصوت أسرع من الفرس فنادى يا كعب بن مالك أبشر فخررت ساجدا وعرفت أن قد جاء الفرج فلما جاءني الذي سمعت صوته دفعت له ثوبين بشراه والله ما أملك يومئذ ثوبين غيرهما واستعرت ثوبين فخرجت قبل رسول الله صلى الله عليه و سلم فتلقاني الناس فوجا فوجا يهنئوني بتوبة الله علي حتى دخلت المسجد فقام إلي طلحة بن عبيد الله يهرول حتى صافحني وهنأني ما قام إلي رجل من المهاجرين غيره فكان كعب يعرف ذلك لطلحة ثم أقبلت حتى وقفت على رسول الله صلى الله عليه و سلم كأن وجهه قطعة قمر وكان إذا سر استنار وجهه لذلك فناداني : ( هلم يا كعب بشر بخير يوم مر عليك منذ ولدتك أمك ) قال : قلت أمن عند الله أم من عندك ؟ قال : لا بل من عند الله أنكم صدقتم الله فصدقكم قال : قلت فإن من توبتي إليه أن أخرج من مالي صدقة إلى الله وإلى رسوله قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ( أمسك عليك بعض مالك ) قلت : أمسك سهمي بخيبر قال كعب : فو الله ما أبلى الله رجلا في صدق الحديث ما أبلاني

حضرت کعب فرماتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نے بنو اصغر سے جنگ کرنے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں کو اس کی بڑی اہمیت دلائی اور اسے بڑا قرار دیا کم کبھی ایسا ہوا تھا آپ ﷺ جنگ کا ارادہ فرماتے تو اسے دوسروں سے چھپاتے یہاں تک کہ اس غزوہ کی باری آئی سخت گرمی استقبال کر رہی تھی سفر بھی دُورکا تھا اور دشمن بھی نیا تھا۔ پس آپ ﷺ نے لوگوں کے سامنے اس وجہ سے پردہ ہٹا دیا جس کی بنیاد پر اپ ﷺ ان سے جنگ کر رہےت ھے تاکہ لوگ اس کے مطابق تیاری کر لیں پس رسول کریم ﷺ نے بھی سازو سامان تیار کیااور آپ ﷺ کے ساتھ دوسرے لوگوں نے بھی شامان تیار کیا میں صبح کرنے لگا کہ میں تیاری کروں پس لوٹ اتا لیکن میں نے کوئی چی زپوری نہ ک ی حتیٰ کہ لوگ گھبرائے اور کہا گیا کہر سول کریمﷺ جانے والے ہیں اور اپنی سمت نکلنےو الے ہیں۔ میں نے سوچا کہ آ پ کے ایک یا دو دن بعد تیاری کر لوں گا پھر میں انہیں پالوں گا جبکہ میرے پاس دو سواریاں تھیں حالانکہ میرے پاس کبھی اس سے پہلے دو سواریاں اکھٹی نہیں ہوئی تھیں میں اپنے آپ میں پوری قدرت رکھنے والا تھا طاقتور تھا صحت مند تھا خوب مال کا مالک تھا اس کے بعد میں اسی کشمکش میں رہا کہ صبح بازار جا کر سامان لے آؤں گا لیکن کوئی چیز پوری نہ کر سکا حتیٰ کہ قوم مجھ سے بہت دوری چلی گئی اور جلدی نکل گئی صبح میں باتوں میں لگ گیا اور لوگ مجھے مصروف کرنے لگے میں بیٹھ گیا حتیٰ کہ قوم مجھ سے آگے نکل گئی اور بہت دور چلی گئی ۔ میں سبح کرتا تو دیکھتا کہ چند معذور آدمی یا منافین موجود ہیں یہ بات مجھے بہت پریشان کرتی اب میں رسول کریم ﷺ کی واپسی پر آپ کے سامنے پیش کرنے کیلئے عزر ڈھونڈنے لگا۔ اللہ کا کرنا ایسا ہو اکہ تبوک پہنچنے تک آپﷺ نے میرا ذکر تک نہ کیا جب تبوک کے مقام پر اُترے تو لوگوں سے فرمایا: کعب بن مالک کو کیا ہوا؟ اس حال میں کہ آپ تبوک میں بیٹھے تھے ۔ میری قوم سے ایک آدمی نے کھڑا ہو کر عرض کی : اسے اس کے مال و جمال نے مصروف کر دیا اور اپنی دونوں جانبوں میں نظر کرنے نے یعنی اترانے اور غرور کرنے نے ۔ پس ایک اور آدمی نے کلام کیا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! بخدا! ہم تو ان کے حوالےس ے خیر ہی جانتے ہیں۔ رسول کریم ﷺ خاموش رہے پس جب بات کہی گئی کہ رسول اللہﷺ بخیرت تشریف لائے ہیں تو مجھ سے باطل کے اندھیرے یکسر چھٹ گئے میں جھوٹ اور عذر کو جمع کرنے والا نہ تھا میں نے اچھی طرح پہچان لیا کہ سچ ہی مجھے ( دونو جہانوں م یں) نجات دے گا۔ پس میں نے سچ کو ہی اپنے دل میں جگہ دی رسول کریم ﷺ نے مدینہ میں صبح کی پس آپ ﷺ تشریف لائے تو میں بھی صبح آپ کی خدمت میں حاضر ہو گیا میری نگاہ پڑی تو آپ ﷺ مسجد کے اندر لوگوں کے درمیان برا جمان تھے آپ ﷺ نے کم ہی کبھی میری طرف دیکھا تھا آپ ﷺ نے مجھے بلا کر فرمایا: اے کعب ! آؤ! تجھے کس چیز نے مجھ سے پیچھے رہنے دیا؟ اور ایسے تبسم فرمایا جس طرح ایک ناراض آدمی ہنستا ہے میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی عذر نہیں ہے میں اتنا طاقتور اور خوشحال کبھی نہیں ہوا جب آپ سے پیچھےر ہ گیا حالانکہ پیچھے رہ جانے والے آکر قسمیں کھا رہے تھے پس ان کے عذر قبول کر کے معاف فرما رہے تھے اور ان کے دلوں کے حال اللہ کے سپرد فرما رہے تھے پس جب سچ بول دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: بہر حال اس نے تو سچ بول دیا ہے پس آپ اُٹھ جائیں یہاں تک کہ تیرے بارے اللہ کوئی فیصلہ فرمائے جو بھی فرمائے۔ پس میں اُٹھا تو بنو سلمہ کا ایک آدمی بھی اُٹھا اور مجھے کہا: آپ نے کوئی بڑا گنا ہ تو نہیں کیا۔ بخدا! جو چھوٹا سا گناہ تُو نے کیاہے اس کی معافی کیلئے رسول کریم ﷺ کا ایک بار استغفار کرنا ہی کافی تھا جیسے آپ ﷺ نے دوسروں کیلئے استغفار کیا( آپ نے دیکھا نہیں) تیرے علاوہ ان کے عذر رسول کریم ﷺ نے قبول کر کے ان کی مغفرت کی دعا کی ہے پس مسلسل وہ مجھے ملامت پہ ملامت کرتے رہے حتیٰ کہ ایک بار میں نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ واپس جا کر اپنے آپ کو جھٹلا دیتا ہوں پھر میں نے ان سے کہا: اچھا تم مجھے یہ بتاؤ! جو بات میں نے کی ہے وہ کسی اور نے بھی کی ہے اور کسی اور نے بھی اس طرح معذرت کی جیسے میں نے کی ہے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ! میں نے کہا: وہ کون ہے ؟ انہوں نے کہا: وہ ہلال بن امیہ وقفی اور ربیعہ بن مرارہ عمری ہیں۔ پس ان لوگوں نے دو ایسے نیک آدمیوں کا ذکر کیا جو بدر میں حاضر ہوئے ۔ انہوں نے بھی میری طرح ہی معذرت کی ان دونوں سے وہی بات فرمائی گئی جو تیرے سے فرمائی گئی ۔ ہم سے کلام کرنے سے رسول کریم ﷺ نے روک دیا ہم لوگوں میں صبح جاتے تو کوئی ایک بھی ہم سے کلام نہ کرتا نہ کوئی ہم پر سلام کرتا نہ ہمارے سلام کا جواب دیتا۔ حتیٰ کہ جب چالیس راتیں گزرنے کے قریب ہوئیں تو رسول کریم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے کہ ہم اپنی بیویوں سے جدائی اختیار کر لیں۔ پس حضرت ہلال بن امیہ کی بیوی نےر سول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی : وہ بوڑھے اور کمزور نظر آدمی ہیں کیا ان کی خاطر میں کھانا وگیرہ پکاؤں تو آپ ناراض تو نہیں ہوں گے ؟ فرمایا: نہیں ! لیکن وہ تجھ سے قرابت نہ کرے ۔ اس نے عرض کی : بخدا! وہ بے حس و بے حرکت ہیں بخدا! وہ مسلسل روتے ہی رہتےت ہیں جس دن یہ معاملہ ہوا اس دن سے آج کے اس دن تک ۔ حضرت کعب فرماتے ہیں: مجھ سے میری بیوی نے کہا: اگر چاہیں تو آپ بھی رسول رکریم ﷺ سے اجازت مانگ لیں جس طرح حضرت ہلال بن امیہ کہ بیوی نے اجازت مانگ لی کہو ہ ان کی خدمت کرے ۔ فرماتے ہیں کہ میں نے دل میں کہا: بخدا! میں اس بارے میں اجازت نہیں مانگوں گا اور مجھے معلوم بھی نہیں کہ رسول کریم ﷺ کیا فرمائیں حالانکہ وہ بوڑھے آدمی ہیں اور میں جوان ہوں۔ پس میں نے اپنی بیوی سے کہا: اپنے میکے چلی جا حتیٰ کہ اللہ فیصلہ فرمائے جو فرمائے ۔ میں لوگوں کے اندر چلنے لگا جبکہ ہم سے کلام کرنےو الا کوئی نہ تھا اور نہ ہی ہمارے سلام کا جواب دیتے پس میں جا کر اپنے چچا زاد بھائی کے باغ کی دیوار پھاند کر اندر داخل ہوا میں نے اس پر سلام کیاتو میرے سلام کے جواب کی خاطر اس کے ہونٹوں نے حرکت تک نہ کی میں نے اس سے کہا : کیا تُو جانتا ہے کہ میں اللہ و رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں؟ پس اس نے کوئی بات نہ کی ۔ میں نے پھر کہا: لیکن ا س نے مجھ سے بات نہ کی پھر ایک بار میں نے کہا لیکن اس نے مجھ سے بات نہ کی حتیٰ کہ جب چوتھی یا تیسری بار مکمل ہوئی تو اس نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جانتا ہے میں واپس لوٹا بازار میں لوگوں کے اندر چل رہا تھا لوگ میری جانب اشارے کر رہے تھے اپنے ہاتھوں سے اچانک میری نگاہ پڑی تو ایک آدمی تھا جس کا تعلق شام کے نبطوں سے تھا وہ میرے بارے پوچھ رہا تھا۔ لوگ میری طرف اشارہ کر کے اس کو بتا رہے تھے یہاں تک کہ وہ میرے پاس آگیا اس نے شام میں رہنے والی میری قوم کے ایک آدمی کا خط مجھے دیا اس میں لکھا تھا تحقیق ہمیں یہ بات پہنچی ہے جو تیرے دوست نے تیرے ساتھ کی ہے اور جو ظلم برتاہے تو ہم سے مل جا! اللہ تجھے ذلت اور ضائع ہونے کی جگہ میں نہیں رکھے گا ہم تیری غمگساری کریں گے اپنے مالوں میں۔ فرماتے ہیں: کافر لوگ جتنا بھئ لالچ کر لیں میں تو اللہ کیلئے ہوں پس میں نے اس کیلئے تنور جلایا اور اس خط کو اس میں ڈال دیا بخدا! ہم اسی حالت پر تھے جس کا تذکرہ اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ہم پر تنگ ہوئی تھی اور ہماری اپنی جانیں ہم پر تنگ ہو گئی تھیں جب سے رسول کریم ﷺ نے ہم سے کلام کرنے سے منع فرمایا تھا یا ایک رات کی سبح کو رسول کریم ﷺ پر ہماری توبہ نازل کر دی گئی پھر رسول کریم ﷺ نے ہمیں صبح کی نماز پرھنے کے بعد آگاہ فرمایا( اس میں بھی حکمت تھی) پس لوگ ہمیں مبارک دینے لگے ایک آدمی نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی یا بنو اسلم کا ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا پس وہ بالکل پہاڑ پر آگیا اس کی آواز گھوڑے کی رفتار سے تیز تھی ( گھوڑا ابھی نہیں پہنچا تھا جبکہ اس کی آواز پہلے پہنچ گئی ) اس نے نداء دی : اے کعب بن مالک ! تجھے بشارت ہو! پس اس کی بات سن کر میں سجدے میں گر گیا اور میں پہچان گیا کہ کشادگی آگئی ( اور تنگی ختم ہو گئی) پس وہ آدمی اس کی آواز میں نے سنی تھی جب وہ میرے پاس آیا تو میں نے خوشخبری کے بدلے اپنے دونوں کپڑے سے دے دئیے قسم بخدا! اس دن میں صرف ان دو کپڑوں کا مالک تھا ان کے علاوہ میرے پاس کپڑے نہ تھے میں نے دو کپڑے ادھار لیے پس میں رسول کریم ﷺ کی طرف نکلا لوگ گروہ درگروہ مجھ سے ملاقات کر رہے تھے وہ مجھے مبارک دئیے جا رہے تھے کہ اللہ نے میری توبہ قبول کی ہے ۔ حتیٰ کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو حضرت طلحہ دوڑ کر میری طرف آئے مصافحہ کر کے مجھے مبارک دی مہاجرین میں سے ان کے علاوہ کوئی آدمی اُٹھ کر میری طرف نہ ایا۔ ( راوی کا بیان ہے :) حضرت کعب یہ بات حضرت طلحہ کیلئے پہچانتے تھے پھر میں آگے بڑھ کر رسول کریم ﷺ کے پاس جا کھڑا ہوا آپ ﷺ کا چہرہ گویا چاند کا ٹکڑا ہے آپ ﷺ جب بھی خوش ہوتے تو آپ ﷺ کا چہرہ نور علیٰ نور ہوتا۔ پس آپﷺ نے مجھے بلند آواز سے پکار کر کہا: اے کعب! میرے پاس آؤ! اس بہترین دن کی تجھے مبارک ہو جو تجھ پر گزرا ہے جب سے تیری ماں نے تجے جنا۔ فرماتے ہیں: میں نے عرض کی : کیا اللہ کی طرف ست یا آپ کی طرف سے ؟ فرمایا: نہیں! بلکہ اللہ کی طرف سے ۔ پس تم نے اللہ کیلئے سچ بولا اللہ نے تمہارے سچ کی تائید فرما دی۔ فرماتے ہیں: میں نے کہا کیونکہ اللہ نے میری توبہ قبول فرمائی ہیں میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول ! کو دیتا ہوں۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: اپنا مال کچھ رکھ لے میں نے عرض کی : خیبر والا حصہ رکھ لیتا ہوں۔ حضرت کعب فرماتے ہیں: بخدا! بات کی سچائی میں اللہ تعالیٰ نے کسی فرد بشر کی اس طرح آزمائش نہ فرمائی ہو گی جس طرح میری فرمائی ۔

أَبِيهِ کَعْبٍ ← عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الأَنْصَارِيُّ ← خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ← أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ← عبيد بن غنام الكوفي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 15764

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 11 · حديث 9116

9098 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا أبو نعيم ثنا شريك عن السدي عن أبي الضحى عن مسروق عن عبد الله Y أنه سئل عن السحت قال : الرشا قيل في الحكم ؟ قال : ذاك الكفر

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سحت سےمراد دین میں رشوت ہے۔

ذَاكَ الْكُفْرُ ← الرِّشَا. قِيلَ: فِي الْحُكْمِ؟ ← السُّحْتِ ← عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ سُئِلَ ← مَسْرُوقٍ ← أَبِي الضُّحَى، ← السُّدِّيِّ ← شَرِيکٍ ← أَبُو نُعَيْمٍ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9116

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب 11 · حديث 9119

9101 - حدثنا عبد الله بن محمد بن سعيد بن أبي مريم ثنا محمد بن يوسف الفريابي ثنا إسرائيل عن حكيم بن جبير عن سالم بن أبي الجعد عن مسروق Y قال : سألت ابن مسعود عن الرشا في الحكم ؟ قال : ذلك الكفر

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ”اے ہمارے رب! جو شخص ہمارے سامنے یہ عذاب لایا ہے اسے آگ میں دو گنا عذاب دے“ کی تفسیر کی کہ اس سے مراد یہ ہے کہ بچھو اور سانپ زیادہ کر دے۔

«ذَلِكَ الْكُفْرُ» ← الرشا في الحكم ← سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ← مَسْرُوقٍ ← سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، ← حكيم بن جبير ← اِسْرَائِیْلُ ← مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 9119

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الخاء ‹ 395 - خفاف بن إيماء بن رحضة الغفاري وهو خفاف بن إيماء بن رحضة بن قحلان بن حارثة بن غفار · حديث 4175

4174 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا حجاج بن إبراهيم الأزرق ثنا إسماعيل بن جعفر عن محمد بن عمرو عن خالد بن عبد الله بن حرملة عن الحارث بن خفاف بن إيماء قال Y قال خفاف بن إيماء : ركع رسول الله صلى الله عليه و سلم ثم رفع رأسه فقال : غفار غفر الله لها وأسلم سالمها الله : وعصية عصت الله ورسوله اللهم العن بني لحيان ورعلا وذكوان ثم إنه وقع ساجدا قال خفاف : فجعلت لعنة الكفرة من أجل ذلك

حضرت خفاف بن ایماء بن رحضہ الغفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں نمازِ فجر پڑھاتے، آخری رکعت کے رکوع سے سر اُٹھاتے تو یہ دعا کرتے:اللہ کی لعنت ہو لحیان اور رعل، ذکوان اور عصیہ قبیلہ والوں پر جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نا فرمانی کی، اللہ عزوجل قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے اور قبیلہ غفار کو اللہ بخشے،پھرآپ سجدہ میں گئے۔ حضرت خفاف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کافروں پر اسی وجہ سے لعنت کی گئی ہے۔

الحارث بن خفاف بن إيماء ← خالد بن عبد الله بن حرملة ← مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ← اِسْمَاعِیْلُ بْنُ جَعْفَرٍ ← حَجَّاجُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَزْرَقُ، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4175

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الراء ‹ 436 - رفاعة بن رافع الزرقي الأنصاري عقبي بدري · حديث 4551

4549 - حدثنا إبراهيم بن دحيم الدمشقي ثنا أبي ( ح ) وحدثنا عبد الله بن أحمد حنبل ثنا داود بن عمر الضبي ( ح ) وحدثنا عبد الرحمن بن سلم الرازي ثنا سهل بن عثمان قالوا ثنا مروان بن معاوية ثنا عبد الواحد بن أيمن عن عبيد بن رفاعة الزرقي عن أبيه قال Y لما كان يوم أحد وانكفأ المشركون قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : استووا حتى أثني على ربي قال : فصاروا خلفه صفوفا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللهم لك الحمد كله لا قابض لما بسطت ولا باسط لما قبضت ولا هادي لما أضللت ولا مضل لمن هديت ولا مقرب لما باعدت ولا مباعد لما قربت ولا معطي لما منعت ولا مانع لما أعطيت اللهم ابسط علينا من بركاتك ورحمتك وفضلك ورزقك اللهم إني أسألك النعمي المقيم يوم العيلة والأمن يوم الخوف اللهم عائذ بك من شر ما أعطيتنا وشر ما منعت منا اللهم توفنا مسلمين وألحقنا بالصالحين غير خزايا ولا مفتونين اللهم قاتل الكفرة الذين يصدون عن سبيلك ويكذبون رسلك اللهم قاتل الكفرة الذين أوتوا الكتاب إله الحق

حضرت عبید بن رفا عہ الزرقی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب اُحد کا دن تھا تو مشرکین بھاگے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سیدھے رہو، میں اپنے رب کی تعریف کر لوں، سارے صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے رہے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ دعا کی : " اللھم لک الحمد،الیٰ آخرہٖ"۔

لَمَّا کَانَ یَوْمُ أُحُدِ وَانْکَفَأَ الْمُشْرِکُوْنَ ← أَبِيهِ ← عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الزُّرَقِيِّ، ← عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ ← مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ← سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ← وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمٍ الرَّازِيُّ، ← داود بن عمر الضبي ← وحدثنا عبد الله بن أحمد حنبل ← أَبِي ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمِ الدِّمَشْقِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 4551

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ جميلة بنت أبي سلول الأنصارية امرأة ثابت بن قيس بن شماس · حديث 20560

541 - حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل والحسين بن إسحاق التستري قالاثنا عبيد الله بن عمر القواريري ثنا عبد الأعلى ثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن عكرمة عن ابن عباس أن جميلة بنت [ أبي بن ] سلول Y أتت النبي صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله إني لاأعتب على ثابت بن قيس في خلق ولادين ولكني لاأطيقه بغضا وأكره الكفر في الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تردين عليه حديقته ؟ قالت : نعم فأمره النبي صلى الله عليه و سلم أن يأخذ منها ما ساق إليها ولايزداد

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت جمیلہ بنت ابی بن سلوک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آ کر کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ( اپنے شوہر ) حضرت ثابت بن قیس کے اخلاق اور دین پر اعتراض نہیں کرتی جو بغض ( ان کے حوالے سے میرے دل میں ) ہے ، اسے نکالنے کی طاقت نہیں رکھتی اور اسلام میں کفر ، مجھے نا پسند ہے ( یعنی بیوی کا شوہر کو ناپسند کرنا ، کفر ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کیا تو اس کا باغ ( جو اس نے تجھے مہر میں دیا ) اسے واپس کر دے گی ؟ عرض کی : ہاں ! پس نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ثابت کو حکم دیا کہ وہ کمی و زیادتی کے بغیر اس سے لے لیں ( اور اسے طلاق دے دیں ) ۔

عِكْرِمَةَ، ← قَتَادَةَ ← سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، ← عَبْدُ الْأَعْلَى ← الحسين بن إسحاق التستري قالاثنا عبيد الله بن عمر القواريري ← عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20560

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ جميلة بنت أبي سلول الأنصارية امرأة ثابت بن قيس بن شماس · حديث 20561

542 - حدثنا يحيى بن معاذ التستري ثنا عيسى بن شاذان ثنا حفص بن عمر الضرير ثنا حماد بن سلمة عن ثابت البناني و أيوب السختياني عن عكرمة عن ابن عباس أن جميلة بنت [ أبي بن ] سلول Y أتت رسول الله صلى الله عليه و سلم فقالت : يا رسول الله ما أعتب على ثابت في خلق ولادين ولكن أكره الكفر في الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : تردين عليه حديقته ؟ قالت : نعم فردت عليه وفرق رسول الله صلى الله عليه و سلم بينهما

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت جمیلہ بنت ابی بن سلوک نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آ کر کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ( اپنے شوہر ) حضرت ثابت بن قیس کے اخلاق اور دین پر اعتراض نہیں کرتی جو بغض ( ان کے حوالے سے میرے دل میں ) ہے ، اسے نکالنے کی طاقت نہیں رکھتی اور اسلام میں کفر مجھے نا پسند ہے ( یعنی بیوی کا شوہر کو نا پسند کرنا ، کفر ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا : کیا تو اس کا باغ ( جو اس نے تجھے مہر میں دیا ) اسے واپس کر دے گی ؟ عرض کی : ہاں ! پس حضرت جمیلہ نے انہیں لوٹا دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان جدائی کر دی ۔ حضرت جمیلہ بنت ثابت بن ابوافلح انصاری حضرت عمر بن خطاب کی بیوی تھیں ( وہ یہاں مراد نہیں ہیں ) ۔

عِكْرِمَةَ، ← ثابت البناني و أيوب السختياني ← حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ← حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الضَّرِيرُ، ← عِيسَى بْنُ شَاذَانَ ← يَحْيَى بْنُ مُعَاذٍ التُّسْتَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 20561

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ باب · حديث 10277

10257 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري ثنا إسحاق بن بهلول الأنباري ثناب محمد السلمي عن موسى بن مطير عن عاصم بن أبي النجود عن زر بن حبيش عن عبد الله بن مسعود قال Y لما كان يوم بدر وجاؤوا بالأسارى دعا رسول الله صلى الله عليه و سلم أبا بكر فقال : ماترى في هؤلاء ؟ قال : يا رسول الله قومك إن قتلتهم دخلوا النار وإن أخذت فداءهم فمن أسلم كان لنا عضدا ومن أبى أخذنا فداءه قال : ما ترى يا عمر ؟ قال : ارى أن تعرضهم فتضرب أعناقهم فهؤلاء أئمة الكفر وقادة الكفر والله ما رضوا أن أخرجونا حتى كانوا أول العرب غزانا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا أبا بكر إنما مثلك مثل إبراهيم عليه السلام حين قال { فمن تبعني فإنه مني ومن عصاني فإنك غفور رحيم } وأما أنت يا عمر فمثلك مثل نوح حين قال { رب لا تذر على الأرض من الكافرين ديارا }

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں قیدی لائے گئے‘ آپ نے ان کے بارے میں لوگوں سے مشورہ کیا تو حضرت عبداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے دشمنوں نے آپ کو جھٹلایا‘ تکلیف دی‘ آپ کو (مکہ سے) نکالا اور آپ سے مقاتلہ کیا‘ آپ زیادہ لکڑیوں والی وادی میں ہیں‘ بہت ساری لکڑیاں اکٹھی کریں‘ ان کو آگ لگائیں۔ اس کے بعد اُنہوں نے زائدہ کی حدیث جیسی حدیث ذکر کی ہے مگر اُنہوں نے عبداللہ بن رواحہ کی جگہ عبداللہ بن حبش کا ذکر کیا اور درست بھی عبداللہ بن حبش ہے۔

عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ← زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ← عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، ← مُوسَى بْنُ مُطَيْرٍ، ← إسحاق بن بهلول الأنباري ثناب محمد السلمي ← الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10277

المعجم الکبیر للطبرانی · باب اللام ‹ هند بن الحارث الخثعمية أم عبد الله بن شداد عن أم الفضل · حديث 21155

43 - حدثنا محمد بن نصر الصائغ البغدادي ثنا إبراهيم بن حمزة الزبيري ثنا عبد العزيز بن أبي حازم عن يزيد بن الهاد قال : حدثتني هند بنت الحارث الخثعمية امرأة عبد الله بن شداد Y عن أم الفضل أم عبد الله بن عباس عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال ليلة بمكة من الليل فقال : ( اللهم هل بلغت ؟ ) ثلاث مرات فقام عمر بن الخطاب فقال : اللهم نعم فحرصت ونصحت وجهدت فأصيح فقال : ( ليظهرن الإيمان حتى يرد الكفر إلى موطنه وليخوضن البحار بالإسلام وليأتين على الناس زمان يتعلمون فيه القرآن فيتعلمونه ويقرؤونه ثم يقولون : قد قرأنا وعلمنا فمن ذا الذي هو خير منا فهل في أولئك وضر ؟ ) قالوا : لا يا رسول الله ومن أولئك ؟ قال : ( أولئك وقود النار )

حضرت اُم فضل اُم عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں رات کو کھڑے ہوئے ، عرض کی: اے اللہ ! کیا میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا ہے ! تین مرتبہ عرض کی، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کی : جی ہاں! آپ حریص تھے ، آپ نے نصیحت کی، آپ نے کوشش کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: ایمان غالب آئے گا یہاں تک کہ کفر اپنی جگہ واپس آئے گا ، اسلام کی بہار ہوگی ، لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس وقت لوگ قرآن سیکھیں گے، وہ سیکھیں گے اور پڑھائیں گے ، پھر کہیں گے : ہم نے قرآن پڑھا اور ہم نے جان لیا، ہم سے بہتر کون ہے۔ انہوں نے عرض کی : یار سول اللہ ! نہیں ! ان لوگوں کا انجام کیا ہوگا ؟ فرمایا: ایسے لوگ جہنم کا ایندھن ہوں گے ۔

یَزِیْدُ بْنُ الْھَادِ ← عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، ← مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ الصَّائِغُ الْبَغْدَادِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 21155

المعجم الکبیر للطبرانی · باب العین ‹ عبيد الله بن عبد الله عن ابن عباس · حديث 10752

10732 - حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا داود بن عمرو الضبي ثنا عبد الرحمن أبي الزناد عن أبيه عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة عن ابن عباس قال Y غن الله عز و جل أنزل ( ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الكافرون الظالمون الفاسقون ) قال ابن عباس : أنزلها في طائفتين من اليهود وكانت أحدهما قد قهرت الأخرى في الجاهلية حتى ارتضوا واصطلحوا على أن كل قتيل قتلته العزيزة من الذليلة فديته خمسون وسقا وكل قتيل قتلته الذليلة من العزيزة فديته مئة وسق فكانوا على ذلك حتى قد رسول الله صلى الله عليه و سلم فدلت الطائفتان لحكم رسول الله صلى الله عليه و سلم ورسوله الله صلى الله عليه و سلم يومئذ لم يظهر عليهم ولم يوطئهما وهو الصلح فقتلت الذليلة من العزيزة قتيلا وهل كان هذا قط دينهما واحد ونسبهما واحد دية بعضهما نصف دية بعض إنما أعطيناكم هذا ضيما منكم لنا وفرقا منكم فلما إذ قدم محمد صلى الله عليه و سلم فلا نعطيكم ذلك فكادت الحرب تهيج بينهما ثم ارتضوا على أن جعلوا رسول الله صلى الله عليه و سلم بينهم ففكرت العزيزة فقالت : والله ما محمد بمعطيكم منهم ضعف ما يعطيهم منكم ولقد صدقوا ما أعطونا هذا إلا ضيما وقهرا لهم فدسوا إلى محمد صلى الله عليه و سلم من يخبر لكم رأيه فإن أعطاكم ما تريدون حكمتموه وإن لم يعطكموه حذرتموه فلم تحكموه فدسوا إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم ناسا من المنافقين يختبروا لهم رأي رسول الله صلى الله عليه و سلم فلما جاؤوا رسول الله صلى الله عليه و سلم أخبر الله رسوله بأمرهم كله وماذا أرادوا فأنزل الله عز و جل يا أيها الرسول { ولا يحزنك الذين يسارعون في الكفر } إلى قوله { ومن لم يحكم بما أنزل الله فأولئك هم الفاسقون } ثم قال : فيهم والله أنزلت و إياهم عنى الله

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانۂ مبارک میں چاند کے دوٹکڑے ہوئے تھے۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ← أَبِيهِ ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ أَبِي الزِّنَادِ، ← دَاوُدُ بْنُ عَمْرٍو الضَّبِّيُّ، ← عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 10752

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 539 - سعد بن تميم أبو بلال السكوني كان ينزل الشام بدمشق · حديث 5469

5462 - حدثنا محمد بن أبي حاتم المروزي ثنا حبان بن موسى ثنا ابن المبارك عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر عن بلال بن سعد عن أبيه قال Y قال النبي صلى الله عليه و سلم : ( أين بنوك ؟ ) قلت : هاهم أولاء قال : ( فائتني بهم ) فأمرت أهلي فألبستهم قمصا بيضاء ثم أتيته بهم فقال : ( اللهم إني أعيذهم بك من الكفر والضلالة ومن الفقر الذي يصيب بني آدم )

حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےفرمایا: تمہارے بیٹے کہاں ہیں؟ میں نے عرض کی: وہ یہاں ہیں‘ آپ نے فرمایا: انہیں میرے پاس لاؤ! میں نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا‘ میں نے انہیں سفید قمیص پہنائی‘ آپ نے دعا کی: اے اللہ! میں ان کے لیے کفر اور گمراہی سے پناہ مانگتا ہوں اور ایسی محتاجی کہ جو انسان کو ملے گی۔

أَبِيهِ ← بِلَالِ بْنِ سَعْدٍ، ← عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، ← ابْنُ الْمُبَارَكِ، ← حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ← محمد بن أبي حاتم المروزي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5469

المعجم الکبیر للطبرانی · باب السين ‹ 556 - سعد مولى أبي بكر رضي الله عنه كان ينزل البصرة · حديث 5506

5497 - حدثنا علي بن عبدالعزيز ثنا عمر بن عبدالوهاب ثنا عامر ابن صالح عن أبيه عن الحسن قال قال سعد Y كنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم الله صلى الله عليه و سلم في مسيرة ومعناشيء من تمر فقال لي صفوان أطعمني هذا التمر فقلت : انه تمر قليل ولست آمن أن يدعو به فاذا نزلوا أكلت معهم فقال : أطعمني فقد أهلكني الجوع وذكرما بلغ منه فأبيت ذلك عليه فعرقب الراحلة التى عليها التمر فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه و سلم الله صلى الله عليه و سلم فقال : ( قولوا لصفوان فليذهب ) قال : فلم يبت تلك الليلة يطوف على أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم الله صلى الله عليه و سلم فأتى عليا رضي الله عنه فقال : أين أذهب ؟ أذهب إلى الكفر ؟ فأتى علي النبي صلى الله عليه و سلم صلى الله عليه و سلم وأخبره بذلك فقال ( قولوا لصفوان فليلتحق )

حضرت حسن فرماتے ہیں کہ حضرت سعد نے فرمایا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے‘ ہمارے پاس تھوڑی سی کھجوریں تھیں‘ صفوان نے مجھے کہا: مجھے یہ کھجور کھلاؤ! میں نے عرض کی کھجور تھوڑی ہے ‘ میں ان کو بلوانے کا یقین نہیں رکھتا‘ جب وہ اتریں تو آپ ان کے ساتھ مل کر کھا لینا‘ آپ نے فرمایا: مجھے کھلاؤ‘ بھوک مجھے ہلاک کر رہی ہے‘ اس کا ذکر کیا جو آپ کو پہنچا‘ میں نے اس کا انکار کیا‘ اس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں جس پر کھجوریں تھیں‘ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: صفوان سے کہو کہ وہ جائے‘ اس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب پرکسی نے چکر نہیں لگایا۔ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا : میں کہاں جاؤں؟ کیا میں کفر کی طرف چلا جاؤں؟ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے‘ آپ کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا: صفوان کو کہو‘ ان کے ساتھ مل جائے۔

الْحَسَنِ، ← أَبِيهِ ← عامر ابن صالح ← عمر بن عبدالوهاب ← علی بن عبدالعزیز،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 5506

المعجم الکبیر للطبرانی · بقية الميم ‹ معاذ بن أنس الجهني · حديث 17149

394 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى ثنا ابن لهيعة عن زبان بن فائد عن سهل بن معاذ بن أنس عن أبيه Y عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الجفاء كل الجفاء والكفر والنفاق من سمع منادي الله ينادي بالصلاة ويدعو الى الفلاح فلا يجيبه

حضرت سہل بن معاذ بن انس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بدبختی ساری بدبختی ہے اور کفر اور نفاق ہے‘ جس نے اذان کی آواز سنی‘ جب نمازی کے لیے بلایا جائے اور وہ کامیابی کے لیے بلائے‘ وہ جواب نہ دے (یہ بدبختی ہے)۔

منادي الله ينادي بالصلاة ويدعو الى الفلاح فلا يجيبه ← الْجَفَاء كُلُّ الْجَفَاءِ، والْكُفْر والنِّفَاقُ: مَنْ ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← سَهْلِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، ← زَبَّانَ بْنِ فَائِدٍ، ← ابْنُ لَهِيعَةَ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 17149

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الواو ‹ معروف أبو الخطاب عن واثلة · حديث 18048

199 - حدثنا محمد بن إدريس عن مطيب المصيصي قال ثنا سليم بن منصور بن عمار ثنا أبي عن معروف أبي الخطاب عن واثلة بن الأسقع قال Y لما أسلمت أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فقال لي : اذهب فاغتسل بماء وسدر وألق عنك شعر الكفر

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں اسلام لایا تو میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں آیا‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا: جاؤ! بیری کے پتوں میں اُبلے ہوئے پانی سے غسل کرو اور حالتِ کفر والے بال کاٹو۔

لما أسلمت أتيت النبي صلى الله عليه و سلم ← وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ، ← معروف أبي الخطاب ← أَبِي ← سليم بن منصور بن عمار، ← مطيب المصيصي ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ:

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 18048

chevron_left Previous
1…141516…151
Next chevron_right