Website under construction. Please refrain from using any material for references or verification.

ویب سائٹ زیرِ تعمیر ہے۔ براہِ کرم حوالہ جات یا تصدیق کے لیے کسی بھی مواد کے استعمال سے گریز کریں۔

Wednesday, Jumada I 4, 1448 AH · Oct 14, 2026

Preserving the Prophetic ﷺ tradition for every generation

favorite Support This Mission
logo

Hadith e Nabvi

    SearchBooksTopicsNarratorsTerminologyAbout
person Sign in

About

  • Our Mission
  • Contact

Resources

  • FAQ
  • Book Catalog
  • Narrator Database
  • Topics

Contribute

  • Become a Translator
  • Report an Error
  • Donate

Learn

  • Terminology
  • Science of Hadith
  • Need of Hadith
  • Authority of Hadith

© 2026 Hadith Nabvi Platform · A project by Learning SoulsHadith e Nabawai (PBUH)
homeHomesearchSearchmenu_bookBooksgroupsNarratorstopicTopics

الكفر

Kufr

  • Kufr
  • کفر

3011 hadiths

شعب الإيمان · السابع والأربعون من شعب الإيمان ‹ فصل في الطبع على القلب أو الرين · حديث 7224

7223 - حدثنا أبو سعد الماليني أنا أبو الفتح المظفر بن أحمد نا محمد بن الحسن الأصبهاني سمعت سهل بن عبد الله يقول : الجاهل ميت والناسي نائم والعاصي سكران والمصر هالك سمعت أبا عبد الرحمن السلمي يقول : قرأت بخظ أبي جعفر بن حمدان قال أبو حفص : المعاصي بريد الكفر كما أن الحمى بريد الموت أخبرنا أبو عبد الله الحافظ حدثني أبو سعيد المؤذن نا أبو الفضل الجوهري نا محمد بن عبد الوهاب سمعت علي بن عثام يقول : قال الفضيل إذا لم تستطع الصلاة والصوم فاعلم أنك مكبل يعني بالذنوب

ہمیں خبر دی ابو سعد مالینی نے ان کو ابو الفتح مظفر بن احمد نے ان کو محمد بن حسن اصفہانی نے انہوں نے سنا سہل بن عبداللہ سے وہ کہتے ہیں کہ جاہل میت ہے۔ اور بھولنے والا نیند کرنے والا ہے۔ اور گناہ کرنے والا نشے والا ہے۔ گناہوں پر اڑنے والا تباہ ہونے والا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا ابو عبدالرحمٰن سلمی سے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر بن حمدان سے سنا کہ کہا ابو حفص نے کہ معاصی کفر کے پیغام رساں ہیں جیسے بخار موت کا پیغام رساں ہے۔ ہمیں خبر دی ابو عبداللہ حافظ نے ان کو ابو سعید مؤذن نے ان کو ابو الفضل جوہری نے ان کو محمد بن عبدالوہاب نے وہ کہتے ہیں کہ میں نے سناعلی بن عثام سے وہ کہتے ہیں کہ جب تم نماز روزے کی توفیق نہ پاؤ تو تم یقین جان لو کہ تم گناہوں کی قید میں قیدی ہو گئے ہو۔

الفضيل إذا لم تستطع الصلاة والصوم فاعلم أنك مكبل يعني بالذنوب ← عَلِيُّ بْنُ عَثَّامٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، ← أبو الفضل الجوهري ← أبو سعيد المؤذن ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ ← أبو حفص المعاصي بريد الكفر كما أن الحمى بريد الموت ← بخظ أبي جعفر بن حمدان ← أبا عبد الرحمن السلمي ← الجاهل ميت والناسي نائم والعاصي سكران والمصر هالك ← سَهْلَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، ← محمد بن الحسن الأصبهاني ← أبو الفتح المظفر بن أحمد ← أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ

Shuab ul Iman · Forty-seventh of the people of faith › Chapter in printing on the heart or the rain · Hadith 7224

شعب الإيمان · الستون من شعب الإيمان ‹ قصة إبراهيم في المعانقة في الثالث والثلاثين من التاريخ · حديث 9003

9003 - أخبرنا أبو الحسن علي بن محمد المقري قال : أنا الحسن بن محمد بن إسحاق قال : نا يوسف بن يعقوب قال : نا عمرو بن مرزوق قال : أنا شعبة عن قتادة عن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ثلاث من كن فيه وجد بهن حلاوة الإيمان من كان الله و رسوله أحب إليه مما سواهما و أن يقذف في النار أحب إليه من أن يرجع في الكفر بعد أن أنقذه الله منه و أن يحب الرجل العبد لا يحبه إلا لله أخرجاه في الصحيح من حديث شعبة

ہمیں خبر دی ابوالحسن علی بن محمد مقری نے ، ان کو حسن بن محمد بن اسحاق نے ان کو یوسف بن یعقوب نے ،ان کو عمرو بن مرزوق نے ان کو شعبہ نے ان کو قتادہ نے ان کو انس نے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین خصلتیں ایسی ہیں جس کے اندر ہوں وہ ایمان کی مٹھاس پالیتا ہے۔ جس کے نزدیک اللہ اور اللہ کا رسول ماسوائے زیادہ محبوب ہو اور کفر کی طرف لوٹ جانے سے اس کو آگ میں جل جانا زیادہ محبوب ہو اس کے بعد کہ اللہ نے جب اس کو اس سے بچالیا ہے ۔ اور یہ کہ وہ بندہ کسی بندے سے محبت کرے محض اللہ کی رضا کے لئے۔ بخاری ومسلم نے اس کو صحیح میں روایت کیا ہے حدیث شعبہ سے ۔

أَنَسٍ، ← قَتَادَةَ ← شُعْبَةُ، ← عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ← يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ

Shuab ul Iman · Sixty people of faith › The story of Abraham in the embrace in the thirty-third of history · Hadith 9003

شعب الإيمان · السادس و الستون من شعب الإيمان ‹ و هو باب في مباعدة الكفار و المفسدين و الغلظة عليهم · حديث 9370

9371 - أخبرنا السيد أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي رحمه الله أنا عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي نا عبد الله بن هاشم بن حيان الطوسي نا سفيان بن عيينة ح و أخبرنا أبو محمد عبد الله بن يوسف الأصبهاني أنا أبو سعيد أحمد بن محمد بن زياد البصري نا الحسن بن محمد بن الصباح الزعفراني نا عبد الجبار نا سفيان سمعناه من عمرو يقول : أخبرني حسن بن محمد أخبرني عبيد الله بن رافع و هو كاتب علي قال : سمعت عليا رضي الله عنه يقول : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم أنا و الزبير و المقداد قال : انطلقوا حتى تأتوا روضة خاخ فإن بها ظعينة معها كتاب فخذوه منها فانطلقنا تعادي بنا خيلنا حتى أتينا الروضة فإذا نحن بالظعينة فقلنا لها أخرجي الكتاب فقالت : ما معي من كتاب فقلنا : لتخرجن الكتاب أو لتلقين الثياب فأخرجته من عقاصها فأتينا به رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا فيه من حاطب بن أبي بلتعة إلى ناس من قريش من المشركين من أهل مكة يخبرهم ببعض أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما هذا يا حاطب ؟ فقال : يا رسول الله لا تعجل علي إني كنت امرأ ملصقا في قريش و لم أكن من أنفسهم و كان معك من المهاجرين لهم قرابات بمكة يحمون قرابتهم و أهليهم و لم يكن لي قرابة أحمي بها أهلي فأحببت إذ فاتني ذلك من النسب أن أتخذ عندهم يدا يحمون بها قرابتي و أهلي و الله يا رسول الله ما فعلت ذلك ارتدادا عن ديني و لا أرضى بالكفر بعد الإسلام فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن هذا قد صدقكم فقال عمر بن الخطاب : يا رسول الله دعني أضرب عنق هذا المنافق فقال : إنه شهد بدرا و ما يدريك لعل الله قد اطلع على أهل بدر فقال : اعملوا ما شئتم فإني قد غفرت لكم و أنزل فيه { يا أيها الذين آمنوا لا تتخذوا عدوي و عدوكم أولياء } الآية

ہمیں خبر دی سید ابو الحسن محمد بن حسین علوی رحمہ اللہ نے ان کو عبداللہ بن محمد بن حسن شرقی نے ان کو عبداللہ بن ہاشم بن حیان طوسی نے ان کو سفیان بن عیینہ نے ح اور ہمیں خبر دی ابو محمد عبداللہ بن یوسف اصفہانی نے ان کو ابو سعید احمد بن محمد بن زیاد بصری نے ان کو حسن بن محمد بن صباح زعفرانی نے ان کو عبدالجبار نے ان کو سفیان نے ہم نے اس کو سنا ہے عمرو سے وہ ک ہتے ہیں مجھے خبر دی حسن بن محمد نے وہ کہتے ہیں کہ مجھے خبر دی عبید اللہ بن رافع نے وہ حضرت علی کے منشی تھے وہ کہتے ہیں میں نے سنا حضرت علی المرتضیٰ سے فرماتے تھے کہ رسول اللہ نے مجھے اور زبیر کو اور مقداد کو روانہ فرمایا اور فرمایا کہ تم لوگ چلتے رہو یہاں تک کہ مقام روضتہ خاخ پر پہنچ جاؤ وہاں ایک عورت ہو گی اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس سے لے کر آؤ ہم روانہ ہوئے گھوڑ ے ہمیں اڑا کر لے گئے۔ حتیٰ کہ ہم لوگ روضتہ خاخ پر پہنچ گئے ہم نے دیکھا وہاں پر ایک عورت محو سفر تھی ہم نے اس سے کہا تمہارے پاس جو خط ہے وہ ہمارے حوالے کردو۔ سا نے کہا کہ میرے پاس کوئی خط نہیں ہے ۔ ہم نے کہا یا تو آپ ہمیں خط دے دیں ورنہ آپ کپڑے اتاریں۔ لہذا میں نے وہ خط اس کی چٹیا میں سے برآمد کر لیا ہم وہ خط رسول اللہﷺ کے پاس لے کر آئے جب دیکھا تو معلوم ہوا کہ حضرت حاطب بن ابو بلتعہ کی طرف سے خط تھا قریش کے بعض لوگوں کی طرف اہل مکہ کے مشرکین میں سے جس میں وہ ان کو رسول اللہﷺ کے بعض راز اور امور کے بارے میں خبر دے رہے تھے۔ رسول اللہﷺ نے حاطب کو بلا کر پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ اے حاطب۔ اس نے کہا یا رسول اللہ میرے بارے میں آپ کوئی جلدی کاف یصلہ نہ کیجئے میں ایسا آدمی ہوں جو قریشد کے ساتھ قریبی میل جول رکھتا تھا جب کہ میں قریشی نہیں تھا۔ آپ کے پاس جتنے مہاجرین ہیں ان کی مکے میں رشتے داریاں ہیں وہ اپنے قرابت داروں کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کے گھر والوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ میری واہں کوئی قرابت داری نہیں ہے جس کی وجہ سے میرے گھر والوں کی وہ حٖفاظت کریں یا میں اپنے گھر والوں کی حفاظت کا سامان کر سکوں لہذا میں نے یہ چاہا ہے کہ جب یہ چیز مجھ سے فوت ہو گئی ہے کہ میرا کوئی ان سے نسبتی تعلق نہیں ہے تو کم از کم میں ان پر کوئی احسان ہی کروں جس کی وجہ سے وہ میری قرابت کا اور میرے گھر انے کا خیال کریں۔ یا رسول اللہ یہ کام میں نے محض اسی لئے کیا ہے حدانخواستہ دین سے مرتد ہو کر نہیں کیا اور نہ ہی میں اسدلام لانے کے بعد کفر پر راضی ہو سکتا ہوں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا بے شک اس نے تم لوگوں سے یہ سچ بولا ہے ۔ حضرت عمر خطاب نے کہا یا رسول اللہﷺ میں اس منافق کی گردن مارتا ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمادیا بے شک وہ شخص جنگ بدر میں شریک ہوا تھا تمہیں کیا معلوم شاید کہ اللہ تعالیٰ نے اہل بدر کو جھانک کر فرمایا تھا اے اہل بدر آج کے بعد تم جو چاہو عمل کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے اور یہ آیت نازل ہوئی تھی ۔ اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔

و الزبير و المقداد ← بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم ← عَلِيًّا ← عبيد الله بن رافع و هو كاتب علي ← حسن بن محمد ← سفيان سمعناه من عمرو ← عَبْدُ الْجَبَّارِ، ← الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ← أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ الْبَصْرِيُّ، ← أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ ← و، ← سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ← عبد الله بن هاشم بن حيان الطوسي ← عبد الله بن محمد بن الحسن الشرقي ← السيد أبو الحسن محمد بن الحسين العلوي

Shuab ul Iman · Sixty-sixth of the people of faith › And it is a section on separating the infidels and the corrupt, and rugging them · Hadith 9370

شعب الإيمان · الباب السادس و العشرون من شعب الإيمان ـ ‹ و هو باب في الجهاد · حديث 4235

4235 - أخبرنا أبو عبد الله الحافظ نا حمزة بن العباس العقبي نا العباس بن محمد الدوري نا يعقوب بن إبراهيم بن سعد نا أبي عن صالح بن كيسان قال : قال أبو عبد الرحمن سمعت أبا هريرة يقول : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : حرم على عينين أن تنالهما النار عين بكت من خشية الله و عين باتت تحرس الإسلام و أهله من أهل الكفر

ہمیں خبر دی ابوعبداللہ حافظ نے ان کو حمزہ بن عباس عقبیٰ نے ان کو عباس بن محمد دوری نے ان کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے ان کو ابوصالح بن کیسان نے وہ کہتے ہیں کہ ابوعبدالرحمٰن نے کہا کہ میں نے سنا ابوہریرہ سے وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دو آنکھوں پر حرام ہے کہ ان دونوں کو جہنم کی آگ پہنچ سکے ایک وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روتی ہے۔ اور دوسری وہ آنکھ جو اسلام کی حفاظت کرتے ہوئے رات کو جاگتی ہے۔ خصوصاً اس وقت جب کہ اس کے گھر والے بھی اہل کفر میں سے ہوں۔

أَبَا هُرَيْرَةَ ← أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ← صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، ← أَبِي ← يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ← الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ← حَمْزَةُ بْنُ العَبَّاس الْعَقَبِيُّ ← أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ

Shuab ul Iman · Chapter Twenty Six of the People of Faith › And it is the door in jihad · Hadith 4235

شعب الإيمان · السابع و السبعون من شعب الإيمان ‹ فصل في ترك تتبع عورات المسلمين و في قبول عذرهم سوى ما تقدم في الأبواب قبله · حديث 11199

11199 - و بإسناده قال حمدون القصار : إقبلوا إخوانكم بالإيمان و ردوهم بالكفر فإن الله عز و جل أوقع ما بين هذين في مشيئته فقال : { إن الله لا يغفر أن يشرك به و يغفر ما دون ذلك لمن يشاء }

اور اپنی اسناد کے ساتھ انہوں نے کہا ہے ۔ حمدون قصار نے کہا کہ اپنے بھائیوں کے ایمان کو قبول کرو اور ان کے کفر کو رد کر دو بے شک اللہ تعالی ٰنے واقع کر دیا ہے اس کو جو ان دونوں کے درمیان ہے۔ اپنی مشیت میں۔ چنانچہ ارشاد فرمایا ان الله لا يغفر ان يشرك به ويغفر ما دون ذالك لمن يشاء۔ بے شک اللہ تعالیٰ شرک کو معاف نہیں کرتا اور شرک کے ماسوا گناہ جس کے لئے چاہتا ہے معاف کر دیتا ہے۔

Shuab ul Iman · The seventy-seventh of the people of faith › A chapter on letting Muslims follow the shame of Muslims and accepting their excuses except for what was previously mentioned in the chapters before it · Hadith 11199

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 799

799 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، جَارُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ , حَدَّثَنَا أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ , حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ الْمِنْهَالِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ إِلَّا تَرْكُ الصَّلَاةِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ هُدْبَةَ إِلَّا أَبُو هَمَّامٌ، تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ الْبَغْدَادِيُّ

محمد بن موسیٰ بن حماد البریری سے مروی حدیث ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بندے اور کفر کے درمیان فرق صرف نماز چھوڑنے کا ہے ۔ اس حدیث کو بدبہ سے صرف ابو حمام نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں محمد بن فرد بغدادی منفرد ہیں ۔

جَابِرٍ ← أَبِي سُفْيَانَ ← الْاَعْمَشِ ← هُدْبَةُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ← أَبُو هَمَّامٍ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، ← مُحَمَّدُ بْنُ الْفَرَجِ، جَارُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ← مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ حَمَّادٍ الْبَرْبَرِيُّ

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 799

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْمِيمِ ‹ مَنِ اسْمُهُ مُحَمَّدٌ · حديث 880

880 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ مُطَيَّبٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا مَعْرُوفٌ أَبُو الْخَطَّابِ، عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ: لَمَّا أَسْلَمْتُ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي: «اغْتَسِلْ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاحْلِقْ عَنْكَ شَعَرَ الْكُفْرِ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ تَفَرَّدَ بِهِ مَنْصُورُ بْنُ عَمَّارٍ

محمد بن ادریس بن مطیب المصیصی سے مروی حدیث ، حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں نے اسلام قبول کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا آپ نے مجھے فرمایا پانی اور بیری کے ساتھ غسل کرو اور اپنے جسم سے کفر کے بالوں کو اتار دو ۔ یہ حدیث واثلہ بن اسقع سے صرف اسی اسناد کے ہمراہ مروی ہے اور ان سے روایت کرنے میں منصور بن عمار منفرد ہیں ۔

لِي: «اغْتَسِلْ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَاحْلِقْ عَنْكَ شَعَرَ الْكُفْرِ» لَمْ يَرْوِهِ ← وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ: لَمَّا أَسْلَمْتُ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ← مَعْرُوفٌ أَبُو الْخَطَّابِ، ← أَبِي ← سليم بن منصور بن عمار، ← مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ بْنِ مُطَيَّبٍ الْمِصِّيصِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 880

المعجم الصغیر للطبرانی · بَابُ الْحِاءِ ‹ مَنِ اسْمُهُ الْحَسَنُ · حديث 374

374 - حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَكَّارٍ الْعَلَّافُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: «لَيْسَ بَيْنَ الْعَبْدِ وَبَيْنَ الْكُفْرِ إِلَّا تَرَكَ الصَّلَاةَ» لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَمْرٍو إِلَّا حَمَّادٌ تَفَرَّدَ بِهِ أَبُو الرَّبِيعِ

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بندے اور کفر کے درمیان صرف نماز کا فرق ہے ۔ اس حدیث کو عمرو سے صرف حماد نے روایت کیا ہے اور ان سے روایت کرنے میں ابو لربیع منفرد ہیں ۔

جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: ← عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ← حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ← أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ← الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَكَّارٍ الْعَلَّافُ الْبَصْرِيُّ،

Al Muajam Al Sagheer Tibrani · Book › Chapter · Hadith 374

المعجم الکبیر للطبرانی · باب ‹ سن الزبير بن العوام ووفاته وأخباره رضي الله عنه · حديث 240

239 - حدثنا أبو يزيد القراطيسي ثنا أسد بن موسى ثنا عبد الله بن وهب ثنا الليث بن سعد عن أبي الأسود قال Y أسلم الزبير بن العوام وهو ابن ثمان سنين وهاجر وهو ابن ثمان عشرة وكان عم الزبير يعلق الزبير في حصير ويدخن عليه بالنار وهو يقول : ارجع إلى الكفر فيقول الزبير لا أكفر أبدا

حضرت ابو اسود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ 18 سال کی عمر میں اسلام لائے تھے اور آپ کی ہجرت کے وقت 18 کے تھے ، حضرت زبیر کے چچا آپ کو چٹائی میں بند کر کے لٹکا دیتے ، اس پر آگ لگاتے اور کہتے : کفر کی طرف لوٹ آ! حضرت زبیر فرماتے : میں کبھی بھی کفر کی طرف نہیں جاؤں گا۔

أَبِي الْأَسْوَدِ ← اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ← عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ ← أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ← أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 240

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الألف ‹ وما أسند أسامة بن زيد رضي الله عنه · حديث 416

413 - حدثنا إبراهيم بن سويد الشبامي أنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن علي بن حسين عن عمرو بن عثمان عن أسامة بن زيد قال Y قلت : يا رسول الله أين منزلنا غدا ؟ قال : ( وهل ترك لنا عقيل من دار أو رباع ؟ منزلنا بخيف بني كنانة حيث تقاسمت قريش على الكفر )

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کل ہم کہاں رہیں گے ؟ آپ نے فرمایا : کیا عقیل نے ہمارے لیے گھر چھوڑا ہے ؟ ہمارا ٹھکانہ بنی کنانہ کے پہاڑ پر ہوگا، یہاں قریش کفر پر تقسیم ہوئے تھے ۔

قُلْتُ ← أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ← عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، ← عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُوَيْدٍ الشِّبَامِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 416

المعجم الکبیر للطبرانی · باب التاء ‹ ما أسند تميم الداري · حديث 1274

1273 - حدثنا الحسين بن إسحاق التستري و أحمد بن المعلى الدمشقي قالا ثنا هشام بن عمار ثنا يحيى بن حمزة ثنا عبد العزيز بن عمر بن عبد العزيز قال سمعت عبد الله بن موهب يحدث عمر بن عبد العزيز عن قبيصة بن ذؤيب عن تميم الداري Y قال قلت : يا رسول الله ما السنة في رجل من أهل الكفر يسلم على يدي رجل من المسلمين ؟ قال : ( هو أولى الناس بمحياه ومماته )

حضرت تمیم الداری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کی: یا رسو ل اللہ ! سنت کیا ہے؟ اس کے بارے میں جو آدمی کفر میں ہو ' وہ مسلمانوں میں سے کسی آدمی کے ہاتھ پر مسلمان ہوا ہے ۔ آپ نے فرمایا : وہ اس کی زندگی اور موت کے سامان کا زیادہ حق دار ہے۔

قُلْتُ ← تَمِيمٍ الدَّارِيِّ، ← قَبِيصَةَ بْنِ ذُؤَيْبٍ: ← عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ← عبد الله بن موهب ← عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ← يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، ← هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ← الحسين بن إسحاق التستري و أحمد بن المعلى الدمشقي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1274

المعجم الکبیر للطبرانی · باب التاء ‹ ما أسند تميم الداري · حديث 1281

1280 - حدثنا علي بن سعيد الرازي أخبرني محمد بن أيوب بن عافية بن أيوب حدثني جدي حدثني معاوية بن صالح ان أبا يحيى سليم ابن عارم الخبائري حدثه عن تميم الداري Y أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ( ليبلغن هذا الدين ما بلغ الليل حتى يدخل بيت المدر وبيت الوبر حتى يعز الله به الإسلام ويذل الكفار ) قال تميم : قد عرفت ذلك في أهل بيتي قد أصاب من أسلم منهم الخير والشرف والعز وأصاب من ثبت منهم على الكفر الذل والصغار والجزية

حضرت تمیم الداری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یہ دین ضرور پہنچے گا جہاں تک رات پہنچتی ہے ' یہاں تک کہ مدر اور وبر کے گھر داخل ہو گا' اس اسلام کے ذریعے اللہ عزت دے گا اور کفر کو ذلیل کرے گا۔ حضرت تمیم فرماتے ہیں : میں نے اپنے گھر والوں میں پہچان لیا اسلام لانے سے ان کی خیر 'عزت' بلندی' جو کفر پر ڈٹے رہے وہ ذلیل اور خوار ہوئے اور جزیہ لیا گیا۔

تَمِيمٍ الدَّارِيِّ أَنَّهُ ← معاوية بن صالح ان أبا يحيى سليم ابن عارم الخبائري ← جَدِّي، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ بْنِ عَافِيَةَ بْنِ أَيُّوبَ، ← عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1281

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الثاء ‹ 162 - ثعلبة بن سعية · حديث 1389

1388 - حدثنا محمد بن عبد الله ثنا أبو كريب ثنا يونس بن بكير عن محمد بن إسحاق حدثني محمد بن أبي محمد مولى زيد بن ثابت حدثني سعيد بن جبير أو عكرمة عن ابن عباس رضي الله عنهما Y قال لما أسلم عبد الله بن سلام و ثعلبة بن سعية و أسد بن عبيد ومن أسلم من يهود فآمنوا وصدقوا ورغبوا في الإسلام قالت أحبار يهود أهل الكفر : ما آمن بمحمد ولا تبعه إلا شرارنا ولو كانوا من خيارنا ما تركوا دين آبائهم فأنزل الله عز و جل في ذلك من قولهم ( { ليسوا سواء من أهل الكتاب } ) إلى قوله ( { من الصالحين } )

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن سلام اور ثعلبہ بن سعیہ اور اسد بن عبید ' یہود کے جو لوگ اسلام لائے' پس وہ پکے مؤمن بنے' س چل دل سے تصدیق کی اور اسلام میں رغبت کی' یہود کے ایک کفر والے گروہ نے کہا: محمد پر ایمان لانے والے اور پیروی کرنے والے شرارتی لوگ ہیں ' اگر ہم سے بہتر ہوتے تو اپنے آباء کا دین نہ چھوڑتے۔ اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی: " اہل کتاب میں سے برابر نہ ہوتے۔۔۔۔۔ صالحین تک"۔

ابْنِ عَبَّاسٍ، ← سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، أَوْ عِكْرِمَةَ، ← مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ← مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ← يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ ← أَبُو كُرَيْبٍ، ← مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1389

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الحاء ‹ 276 - الحارث بن مالك بن برصاء الليثي وهو الحارث بن مالك بن قيس بن عويذ بن عبد الله بن جابر بن عبد مناة بن شجع بن عامر بن ليث بن بكر بن عبد مناة بن كنانة · حديث 3339

3338 - حدثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا زكريا عن الشعبي Y عن الحارث بن مالك قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فتح مكة يقول : لا تغزى بعد هذا اليوم أبدا قال سفيان تفسيره : على الكفر

حضرت حارث بن مالک بن برصاء رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ کے دن فرماتے ہوئے سنا : آج کے بعد قیامت کے دن تک کبھی بھی مکہ پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ حضرت سفیان اس حدیث کی تفسیر کرتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کفر کی بناء پر۔

سُفْيَانُ «تَفْسِيرُهُ عَلَى الْكُفْرِ» ← لا تغزى بعد هذا اليوم أبدا ← رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم فتح مكة ← الْحَارِثِ بْنِ مَالِكٍ، ← الشَّعْبِيِّ، ← زَکَرِیَّا، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← بِشْرُ بْنُ مُوسَى

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 3339

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ باب 2 · حديث 1521

1520 - حدثنا إسحاق بن ابراهيم الدبري أنا عبد الرزاق أنا معمر عن الزهري عن محمد ن جبير بن مطعم عن أبيه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول Y ( إن لي أسماء أنا أحمد وأنا محمد وأنا الماحي الذي يمحو بي الكفر وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي وأنا العاقب ) قال قلت للزهري وما العاقب ؟ قال : الذي ليس بعده نبي صلى الله عليه و سلم

حضرت محمد بن جیر بن مطعم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :میرے نام یہ ہیں :میرا نام احمد (بہت زیادہ تعریف کرنے والا )اور محمد (جس کی تعریف کی جائے )اور ماحی میرے ذریعے کفر ختم کیا اور حاشر(وہ ہوتا ہے کہ لوگ سارے قیامت کے دن میرے قدموں کے پاس اکھٹے ہوں گے)اور عاقب معمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زہری سے عرض کی عاقب کا معنی کیا ہے ؟فرمایا :جس کے بعد کوئی نبی نہ ہو۔

قُلْتُ لِلزُّهْرِيِّ وَمَا الْعَاقِبُ ← الْعَاقِبُ ← الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمِي ← الماحي الذي يمحو بي الكفر ← مُحَمَّدٍ ← أَحْمَدُ، ← إن لي أسماء ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← محمد ن جبير بن مطعم ← الزُّهْرِيِّ، ← مَعْمَرٌ، ← عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ← إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1521

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ باب 2 · حديث 1522

1521 - حدثنا عبد الرحمن بن جابر البختري الطائي ثنا بشر بن شعيب بن أبي حمزة عن أبيه عن الزهري أخبرني محمد بن جبير عن أبيه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول Y ( إن لي خمسة أسماء أنا أحمد وأنا محمد وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي وأنا العاقب )

حضرت محمد بن جیر بن مطعم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :میرے نام یہ ہیں :میرا نام احمد (بہت زیادہ تعریف کرنے والا )اور محمد (جس کی تعریف کی جائے )اور ماحی میرے ذریعے کفر ختم کیا اور حاشر (وہ ہوتا ہے کہ لوگ سارے قیامت کے دن میرے قدموں کے پاس اکھٹے ہوں گے)اور میں عاقب ہوں۔

الْعَاقِبُ ← الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمِي ← الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْکُفْرَ ← مُحَمَّدٍ ← أَحْمَدُ، ← أن لي خمسة أسماء ← رسول الله صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← أَبِيهِ ← بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، ← عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جَابِرٍ الْبَخْتَرِيُّ الطَّائِيُّ

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1522

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ باب 2 · حديث 1523

1522 - حدثنا أبو مسلم الكشي ثنا القعنبي و إبراهيم بن بشار الرمادي ( ح ) وحدثا بشر بن موسى ثنا الحميدي قالوا ثنا سفيان ثنا الزهري حدثني محمد بن جبير بن مطعم عن أبيه قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم Y ( إن لي أسماء أنا محمد وأنا أحمد وأنا الماحي الذي يمحى بي الكفر وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي وأنا العاقب الذي لا نبي بعده )

حضرت محمد بن جیر بن مطعم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :میرے نام یہ ہیں :میرا نام احمد (بہت زیادہ تعریف کرنے والا )اور محمد (جس کی تعریف کی جائے )اور ماحی میرے ذریعے کفر ختم کیا اور حاشر (وہ ہوتا ہے کہ لوگ سارے قیامت کے دن میرے قدموں کے پاس اکھٹے ہوں گے)اور میں عاقب ہوں ،میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُفْيَانَ، ← الْحُمَيْدِيُّ، ← وحدثا بشر بن موسى ← القعنبي و إبراهيم بن بشار الرمادي ← أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1523

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ باب 2 · حديث 1524

1523 - حدثنا مطلب بن شعيب الأزدي ثنا عبد الله بن صالح حدثني الليث حدثني عقيل عن ابن شهاب أخبرني مجمد بن جبير بن مطعم عن رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه قال Y ( إن لي أسماء أنا محمد وأنا أحمد وأنا الماحي الذي يمحو الله بي الكفر وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي وأنا العاقب الذي لا نبي بعدي )

حضرت محمد بن جیر بن مطعم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :میرے نام یہ ہیں :میرا نام احمد (بہت زیادہ تعریف کرنے والا )اور محمد (جس کی تعریف کی جائے )اور ماحی میرے ذریعے کفر ختم کیا اور حاشر (وہ ہوتا ہے کہ لوگ سارے قیامت کے دن میرے قدموں کے پاس اکھٹے ہوں گے)اور میں عاقب ہوں ،میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

العاقب الذي لا نبي بعدي ← الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَی قَدَمِي ← الْمَاحِي الَّذِي يَمْحُو اللَّهُ بِيَ الْکُفْرَ ← أَحْمَدُ، ← مُحَمَّدٍ ← إن لي أسماء ← رسول الله صلى الله عليه و سلم أنه ← مجمد بن جبير بن مطعم ← ابْنِ شِهَابٍ، ← عَقِیلٍ ← اللَّيْثُ ← عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ ← مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1524

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ باب 2 · حديث 1525

1524 - حدثنا يوسف القاضي و أحمد بن داود المكي قالا ثنا محمد بن كثير ثنا سليمان بن كثير عن الزهري عن محمد بن جبير بن مطعم عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم Y قال : ( إن لي أسماء أنا محمد وأنا أحمد وأنا الماحي الذي أمحو الكفر وأنا الحاشر الذي أحشر النااس على قدمي وأنا العاقب الذي لا نبي بعدي )

حضرت محمد بن جیر بن مطعم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :میرے نام یہ ہیں :میرا نام احمد (بہت زیادہ تعریف کرنے والا )اور محمد (جس کی تعریف کی جائے )اور ماحی میرے ذریعے کفر ختم کیا اور حاشر (وہ ہوتا ہے کہ لوگ سارے قیامت کے دن میرے قدموں کے پاس اکھٹے ہوں گے)اور میں عاقب ہوں ،میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

العاقب الذي لا نبي بعدي ← الحاشر الذي أحشر النااس على قدمي ← الماحي الذي أمحو الكفر ← أَحْمَدُ، ← مُحَمَّدٍ ← إن لي أسماء ← النبي صلى الله عليه و سلم ← أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← الزُّهْرِيِّ، ← سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، ← مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ← يوسف القاضي و أحمد بن داود المكي

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1525

المعجم الکبیر للطبرانی · باب الجيم ‹ باب 2 · حديث 1526

1525 - حدثنا إسماعيل بن الحسن الخفاف المصري ثنا أحمد بن صالح ثنا ابن وهب أخبرني يونس عن ابن شهاب عن محمد بن جبير بن مطعم عن أبيه Y أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ( إن لي أسماء أنا محمد وأنا أحمد وأنا الماحي الذي يمحى بي الكفر وأنا الحاشر الذي يحشر الناس على قدمي وأنا العاقب ) والعاقب الذي ليس بعده أحد ةوقد سماه الله رؤوفا رحيما

حضرت محمد بن جیر بن مطعم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :میرے نام یہ ہیں :میرا نام احمد (بہت زیادہ تعریف کرنے والا )اور محمد (جس کی تعریف کی جائے )اور ماحی میرے ذریعے کفر ختم کیا اور حاشر (وہ ہوتا ہے کہ لوگ سارے قیامت کے دن میرے قدموں کے پاس اکھٹے ہوں گے)اور میں عاقب ہوں ،میرے بعد کوئی نبی نہیں۔اللہ نے مجھے رؤف اور رحیم جیسے نام دیے ہیں۔

أَبِيهِ ← مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ← ابْنِ شِهَابٍ، ← يُونُسَ ← ابْنُ وَهْبٍ، ← أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ← إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ،

Al Muajam Al Kabir Tibrani · Book › Chapter · Hadith 1526

chevron_left Previous
1…131415…151
Next chevron_right